Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716

Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 05

331K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 05

وه یونیورسٹی سے تھکی هوئ گھر لوٹی… اراده تھا که کھانا کھا کر فورا سو جاۓ گی… لاؤنج میں پهنچی تو گیسٹ روم سے باتوں کی آواز آ رهی تھی… ایک آواز تو اسکے بابا کی تھی لیکن ایک آواز اسکے لئے اجنبی تھی… وه حیران هوئ…” بابا اس ٹائم گھر… اس وقت تو انهیں آفس هونا چاهئیے… اور ساتھ یه کون هیں جو بابا سے اتنے فرینک انداز میں بات کر رهے هیں…” وه بڑبڑائ… اسکی حیرت بجا تھی که منزه کے والد رحمان صدیقی کے علاوه کبھی ان کے گھر کوئ آیا نهیں تھا… جن سے اسکے بابا اتنے دوستانه انداز میں گپ شپ کرتے… اور انکل رحمان تو دو دن سے دبئ میں تھے… تو پھر یه موصوف کون هیں… وه بیگ صوفه پر رکھ کر سوچتی هوئ گیسٹ روم تک آئ… دروازه کھلا تھا… اس نے کمرے میں جھانکا… تبھی عبدالهادی کی نگاه بھی اس کی طرف اٹھی تو وه مسکراۓ…
“ارے سونا… آؤ گڑیا…” اس کے بابا اٹھ کھڑے هوۓ تھے…سونا جھجکتی هوئ اندر داخل هوئ… بابا کے مقابل بابا سے عمر میں کچھ بڑا شخص بیٹھا تھا… وڈیروں سا حلیه… شلوار سوٹ میں ملبوس… کندھوں پر بڑی سی چادر لئے… بڑی بڑی مونچھوں والا… رعب دار سی شخصیت… اسکے بابا اور سامنے بیٹھے شخص کی شکلیں بھی کافی حد تک مماثلت رکھتی تھیں… سونا جو تھوڑا بھت اندازه تو هو گیا تھا که آنے والی شخصیت کون هیں… پھر بھی وه حیران اور کنفیوزڈ تھی… آهسته قدموں کے ساتھ چلتی هوئ وه عبدالهادی کے ساتھ جا کھڑی هوئ… دھیرے سے سلام کیا… اور سر جھکا گئ… اس شخص نے پیار بھری نظروں سے سونا کی طرف دیکھتے هوۓ اسکے سر پر هاتھ رکھا….
“بھائ جان… یه هے میری اکلوتی اور لاڈلی بیٹی… میری جان سونا…” عبدالهادی کے لهجے میں محبت کے ساتھ ساتھ ایک انوکھی سے خوشی بھی تھی جو آج سے پهلے سونا نے کبھی نهیں دیکھی تھی..
.”ماشاءالله هماری سونا کتنی بڑی هو گئ هے…اور خوبصورت بھی…” اس شخص کےلهجے میں میں مٹھاس تھی… عبدالهادی نے سونا کی طرف رخ کیا… “اور سونا… یه هیں تمهارے تایا جی… عبدالعزیز…گاؤں سے آۓ هیں… هم سے ملنے…” عبدالهادی کے لهجے میں بے تحاشا خوشی تھی اور آنکھوں میں روشنی…بالآخر اتنے سالوں بعد ان کے بڑے بھائ صاحب آ هی گۓ تھے ان سے ملنے…سارے گلے شکوے بھلا کر… سونا تذبذب میں تھی که اس موقع پر کیا بولے…زندگی میں پهلی بار اپنے کسی خون کے رشتے سے ملنا… اور وه بھی یوں اچانک…یه صورتحال اس کیلیے خاصی غیر متوقع تھی…
“سونا بیٹھو… بھائ صاحب آپ بھی تشریف رکھئے… بابا کو بھی لے آتے ساتھ…” عبدالهادی باری باری دونوں سے مخاطب هوۓ اور سونا جو اپنے پاس هی… اپنے ساتھ والے صوفه پر بٹھا لیا… ” تمهیں تو پتا هے … بابا سائیں اب بوڑھے هو گۓ هیں…بڑھاپے میں اتنا لمبا سفر نهیں کر سکتے تھے…اب انشاءالله تم همارے ساتھ حویلی چلو گے تو بابا سائیں سے بھی مل لینا…” عبدالعزیز گویا هوۓ… “جی جی ضرور کیوں نهیں…” عبدالهادی مسکراۓ…
“اور سونا بیٹا… کیسی هیں آپ…¿¿ کیا کر رهی هیں آجکل… کیا مصروفیات هیں هماری گڑیا کی…¿¿” عبدالعزیز نے خاموش بیٹھی سونا کی جانب رخ موڑا اور اسے بھی گفتگو میں شامل کرنا چاها… سونا دھیمے لھجے میھ انهیں اپنے بارے میں بتانے لگی…-
•••••
عبدالعزیز شام کو لے گۓ تھےان کے هاں سے… شام کا وقت تھا… سونا اور عبدالهادی اس وقت شام کی چاۓ پی رهے تھے… جب سونا ان سے مخاطب هوئ… “بابا… یه اچانک تایا جی کی آمد همارے هاں… سب خیریت هے ناں… ¿¿¿” اس کے لهجے میں الجھن تھی… “کیوں تمهیں ان کا آنا اچھا نهیں لگا کیا… ¿¿” وه سوالیه انداز میں گویا هوۓ… “نهیں بابا… ایسی بات نهیں هے… اچھا لگا … یوں اپنے کسی ریلیٹو سے ملنا… لیکن میں یه سوچ رهی تھی که اتنے سال تک وه لوگ آپ سے ملے نهیں…کبھی ایک کال تک نهیں کی…شکل تک دیکھنا گوارا نهیں تھا انهیں…آپ نے کتنی کوشش کی تھی ان سے تعلقات بحال کرنے کی… لیکن ناکام رهے… اور پھر ان کی طرف سے مایوس هو کر اپنی زندگی میں مگن هو گۓ… اور اب اتنے عرصے بعد… ایسے اچانک ان کا همارے هاں آنا… ملنا, باتیں کرنا… سب ناراضگی دور کرنا…یهاں تک که واپس اس گھر میں آنے کی دعوت دینا… کیا یه سب آپ کو عجیب نهیں لگا…” سونا نے چاۓ کا گھونٹ بھرا… عبدالهادی نے کچھ دیر توقف کیا… “هاں بیٹا… عجیب تو لگا… لیکن زیاده نهیں… خون میں بھت کشش هوتی هے…اور جیسے میں ان کیلیے بے چین تھا ویسے هی وه بھی مجھ سے کٹ کر بے چین ضرور رهتے هوں گے… اور ویسے بھی اب بابا سائیں بوڑھے هو گۓ هیں تو کیسے وه اپنے بیٹے سے جدا رهتے… خون هوں میں انکا… انهوں نے هی کها هو گا بھائ صاحب کو… تبھی وه هم سے ملنے آۓ هوں گے… بهر حال جو بھی هے… لیکن مجھے خوشی هے که انهوں نے پرانی سبھی رنجشوں کو بھلا دیا…” ان کی بات پر سونا خاموش هو گئ…
•••••••••
یه ایک لاؤنج کا منظر تھا…سکندر صوفه پر بیٹھا تھا…ایک ٹانگ نهیچے تھی جبکه دوسری ٹانگ کو دوهرا کر کے صوفه پر هی ٹکا رکھا تھا…هاتھ میں ریمورٹ تھا جس سے وه مسلسل چجنلز بدل رها تھا…ایک طرف دوسرا صوفه رکھا تھا جس پر ریحان نیم دراز تھا… صوفے کی بیک سے ٹیک لگاۓ… ٹانگیں لمبی کر کے سامنے پڑے ٹیبل پر ٹکا رکھی تھیں… اور مسلسل هنستا چلا جا رها تھا…بے تحاشا هنسنے کی وجه سے اسکی آنکھوں میں پانی آگیا… لیکن وه خود پر کنٹرول هی نه کر پا رها تھا…سکندر جو خجل سا اسکی هنسی کے رکنے کا انتظار کر رها تھا اسکے اتنا هنسنے پر اکتا کر ریمورٹ اٹھا لیا… پھر بھی ریحان چپ نهیں هوا تو سکندر نے خفگی سے اسے گھورا… اب وه ناراض هو سکتا تھا… یهی سوچ کر ریحان نے اپنی هنسی جو بریک لگاۓ… بھت زیاده هنسنے کی وجه سے اسکا چهرا سرخ هو رها تھا… اس نے سکندر کے پھولے هوۓ منه کو دیکھا اور پھر سے هنسنا شروع کر دیا… سکندر نے غصے سے ریمورٹ اسے دے مارا جسے اس نے پھرتی سے کیچ کر لیا… “ایسے دانت کیوں نکال رهے هو… کوئ لطیفه نهیں سنایا میں نے تمهیں…” وه چڑ گیا تھا… انداز خفگی سے بھر پور تھا… “آئ سوئیر… اس سے بڑا لطیفه میں نے آج تک نهیں سنا… جو تم نے کچھ دیر پهلے سنایا مجھے…” ریحان نے هنستے هوۓ کها… “یار… میرا مذاق تو مت اڑاؤ اب… میں پهلے هی اتنا پریشان هوں… اب تم هی بتاؤ… میں اور کیا کرتا…” اس نے بے بس سے انداز میں دونوں هاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنسایا…اور سیدھا هو کر بیٹھا…تبھی سفید یونیفارم میں ملبوس ملازم چاۓ کی ٹرالی دھکیلتا هوا اندر داخل هوا تو وه دونوں خاموش هو گۓ… ملازم چاۓ رکھ کر چلا گیا تو سکندر نے آدھا چمچ چینی ڈال کر چاۓ کا کپ ریحان کو تھمایا… اور دوسرے کپ میں ایک چمچ چینی ڈال کر اسے چمچ سے هلانے لگا… “تم نے هی تو کها تھا…که میں اسے پسند کرنے لگا هوں تو اسے پرپوز کر دوں تو ایسا هی کیا میں نے… اب وه اتنی خفا هو گی مجھے کیا معلوم تھا…” سکندر کا لهجه بچوں جیسا تھا…معصوم سا… اسکی بات پر ریحان کے چهرے پر مسکراهٹ آ گئ… اس نے چاۓ کا گھونٹ بھرا اور کپ کو میز پر رکھا… “دیکھ میرے بھائ… تمهیں یه کها تھا که اسے پرپوز کر دو… لیکن ایسے پرپوز کرو گے مجھے بالکل اندازه نهیں تھا… ارے یار … پرپوز کرنے کا بھی کوئ طریقه هوتا هے… یه تو نهیں کها تھا میں نے که هتھوڑے کی طرح جا کر اس کے سر پر پرپوزل دے مارو… جس طرح تم نے پرپوز کیا…. کوئ بھی لڑکی هوتی تو ایسے هی ری ایکٹ کرتی…” ریحان کا انداز سمجھانے والا تھا…
“اچھا تو “
“اچھا تو پھر اور کیسے پرپوز کرتے هیں… یار تم تو جانتے هی هو… میں لڑکیوں سے کتنا دور بھاگتا هوں… اب مجھے کیا معلوم لڑکیوں کو کیسے پرپوز کیا جاتا هے… وه کیسے پرپوزل ایکسیپٹ کرتی هیں… کیا چیزیں پسند کرتی هیں… اف … کن کاموں میں پھنس گیا میں…” سکندر نے بے بسی سے بالوں میں هاتھ پھیرا…
“دیکھ دوست… پرپوز کرنے کا یه طریقه هوتا هے که لڑکی کو کسی رومینٹک سی جگه پر بلایا جاۓ… ڈنر وغیره پر… پھر اسکی خوبصورتی میں زمین و آسمان کے قلابے ملاۓ جائیں… پھر سرخ گلاب بھت ادب سے اس کے سامنے پیش کیا جاۓ… اور پوچھا جاۓ… “ول یو میری می…¿¿¿” اور بس… لڑکی خوش… تم اسے ڈنر پر نهیں انوائٹ کر سکتے تھے تو کم از کم گلاب تو دے دیتے…بالکل نکمے هو تم تو…” ریحان نے اس کی عقل پر افسوس کیا تو سکندر بے خفگی سے اسکی جانب دیکھا… “میں وهاں ایک بزنس میٹنگ کے لیے گیا تھا … تو کیا گلاب هاتھ میں لیے گھومتا وهاں… اور پھر مجھے کیا معلوم تھا که وه وهاں ایسے اچانک مل.جاۓ گی… وه تو ایسے هی بلا اراده میری نظر اس پر پڑ گئ…اینڈ یو نو… اسے دیکھنے کے بعد مجھے کچھ سوجھتا هی نهیں… پھر مجھے یه ڈر تھا که وه آج ملی هے… نه جانے پھر ملے یا نهیں… اس لیے جا کر اسے سب باتیں کهه ڈالیں… اب تمهیں تو لڑکیوں کا کافی تجربه هے… لیکن میں تو اس سلسلے میں کچھ نهیں جانتا سو ایسا تو هونا هی تھا…” سکندر نے وضاحت دیتے هوۓ ساتھ اس پر بھی چوٹ کی تو وه هنس دیا… “ویسے اس لڑکی نے ٹھیک هی کها تھا … تمھارا دماغ خراب هے… تو کسی اچھے سے ڈاکٹر سے اپنا علاج کرواؤ… اور تمهارے لئے مجھ سے زیاده کوئ اور ڈاکٹر کیسے بیسٹ هو سکتا هے…” ریحان نے چاۓ کا کپ خالی کر کے میز پر رکھا… “”همم… لیکن یار اب کچھ سمجھ نهیں آ رها که کیا کروں…اسکی طرف سے صاف انکار ملا سننے کو… آج تک میں لڑکیوں کو انکار کرتا رها…اور ایک لڑکی ملی بھی تو وه مجھے انکار کر گئ…” سکندر کا منه لٹکا تھا…
هوۓ بے چین پهلی بار تم نے راز یه جانا…
محبت میں کوئ عاشق کیوں بن جاتا هے دیوانا…”
ریحان شرارت سے گنگنایا تو سکندر اسے گھوری سے نوازتا اٹھ کھڑا هو… انداز میں مایوسی تھی… وه اٹھ کر کھڑکی کی طرف چلا آیا اور نیچے جھانکنے لگا… سامنے صاف ستھرا لان نظر آ رها تھا… ریحان اسے دیکھ کر سنجیده هوا… “یار سمپل سی بات هے… وه تمهیں دیکھ کر امپریس نهیں هوئ تو تم اپنی پاور, اپنے رتبے, اپنے اسٹیٹس سے اسے امپریس کرو…جب اسے یه بات پتا چلے گی که نیو یارک کے ٹاپ بزنس مینز میں سے ایک نے دنیا کی ساری لڑکیوں کو چھوڑ کر اسے پسند کیا… اسے اپنے لیے چنا تو دیکھنا کیسے کھنچی چلی آۓ گی تمهاری طرف…” ریحان بھی اسکے برابر آن کھڑا هوا…اور سکندر کی جانب دیکھا…جوایک هاتھ کھڑکی کی چوکھٹ پر ٹکاۓ,دوسرا هاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے کھڑا بے مقصد سا باهر دیکھ رها تھا… ذهنی کشمکش چهرے سے بھی واضح تھی… پھر وه مڑا اور کھڑکی کی دیوار سے هی ٹیک لگا کر چھت کی طرف دیکھتے هوۓ پر سوچ انداز میں بولا… “نهیں یار…میں اسے اپنے اسٹیٹس, اپنی دولت کے بل پر حاصل نهیں کرنا چاهتا… میں اگر چاهوں تو اپنی پاور سے آج هی اس لڑکی کو اپنا بنا سکتا هوں…لیکن ایسا کرنا میری خواهش نهیں…آج تک جو چاها اسے دولت سے,پیسے سے خریدا…لیکن آج پهلی بار یه دولت میرے کسی کام کی نهیں… کیونک وه انسان هے… کوئ چیز نهیں… اور میں اسے اسکی مرضی, اسکی رضا کے اگینسٹ جا کر حاصل نهیں کرنا چاهتا… مجھے اس کے حوالے سے جو محسوس ہوا وه سب اسے بتا دیا…اب آگے اس کی مرضی…اگر میری قسمت میں هوئ تو مجھے ضرور ملے گی… ورنه میں جانوں اور میرا نصیب….” اس نے بات کو سمیٹ دیا تھا…
“پرفیکٹ تھنکنگ”…ریحان کو فخر هو تھا اسکی سوچ پر….
“باۓ دا وے… اس ماه جبین کا نام کیا هے… ” ریحان کو اب یه سوال پوچھنے کا یاد آیا تھا… “نهیں جانتا…” سکندر نے کندھے اچکاۓ…
“واٹ…¿¿¿ نواب زادے جن کے لیے مجنوں بنے پھر رهے هیں ان کا نام تک نهیں جانتے…” وه حیرت سے چلایا تھا… “یار موقع هی نهیں ملا… ” سکندر نے بے چارگی سے کها تو ریحان افسوس سے اسکی طرف دیکھ کر ره گیا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *