Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716

Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor NovelR50716 Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 10

331K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rabba Qismat Mein Rona Kun Likha by Ayat Noor Episode 10

رات کا پچھلا پهر شروع هو چکا تھا… لیکن نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی… وه کھڑکی میں کھڑی دور نظر آتے چاند کو دیکھ رهی تھی…
چاند کی آخری تاریخیں چل رهی تھیں اس لیے اب وه گھٹ کر آدگا ره گیا تھا… چاند… اس بات کی عکاسی کرتا چاند که هر زوال کو عروج ملتا هے اور پھر عروج کو زوال بھی ضرور آتا هے… کھڑکی میں یوں کھڑے هو کر چاند کو گھنٹوں تکنا اس کا من پسند مشغله تھا… آج بھی وه اسی مشغلے میں مصروف تھی لیکن ذهن کهیں اور الجھا تھا… خوابوں میں رهنے والی اس معصوم سے لڑکی کو دنیا کی حقیقتوں نے اور اپنے ساتھ هونے والے عجیب و غریب واقعات نے دنگ کر دیا تھا … ایسا بھی هوتا هے بھلا… کوئ بے وجه کسی سے اتنی نفرت کیسے کر سکتا هے… نفرت میں اتنا جنونی کیسی هو سکتا هے… اس نے اذیت سے سوچتے هوۓ اپنی کلائ کو دیکھا… اس کلائ کو جسے اس شخص نے اپنی جنونیت میں تقریبا مسل کر رکھ دیا تھا… اسے لگا جیسے اسکی کلائ کا وه حصه پھر سے سلگ اٹھا هو… آنکھوں میں پھر سے پانی جمع هونے لگا تھا… اس سے کوئ نفرت کرتا تھا… شدید نفرت… یه احساس هی بے چین کرنے کو کافی تھا… وه اضطراب کی کیفیت میں تھی اس وقت… الجھی بکھری سی… مختلف سوچوں سے لڑتی…
اگر وه شخص اس قدر شدید نفرت کرتا تھا اس سے… تو پھر هر جگه آ کر اسے موت کے منه سے بچاتا کیوں تھا… جس سے نفرت کی جاتی هے… اسے تو مرنے کیلیے چھوڑ دیا جاتا هے… پھر بھلا یه کیسی نفرت تھی جس میں وه اپنی جان پر کھیل کر اس کا محافظ بنا تھا… اسے موت کے منه سے چھین کر لے آتا تھا… وه خود سے هی الجھ رهی تھی… لیکن الجھن کا کوئ ایک بھی سرا هاتھ نه آ رها تھا جس سے وه اس پهیلی کو سلجھا پاتی… بے بسی سے اس نے سر کو دونوں هاتھوں سے تھام لیا…
“کیا کوئ مزاق کر رہا ہے میرے ساتھ… ؟کیسا مزاق ہے یہ… ” اس نے سوچا..
دل عجیب سے دکھ و کرب سے بھرا ہوا تھا… عجیب سا خوف تھا… ذہن مختلف سوچوں سے بھرا ہوا تھا.. کہ اچانک چھم سے ایک منظر اس کی آنکھوں میں آن بسا..
اس کے قریب, بے حد قریب, نیلی آنکھیں.. اتنے قریب تھا وہ اس کے کہ وہ ہاتھ سے ان آنکھوں کو چھو سکتی تھی.. شادی کا وہ گھر. مہندی کی وہ رات اسے ایک بار پھر یاد آئ تھی.. وہ ان آنکھوں کو چھو سکتی تھی جن کو وہ خوابوں میں بارہا انگلیوں کی پوروں سے محسوس کر چکی تھی.. وہ خوابوں سا حسین شحص اس کے سامنے تھا.. زندگی میں پہلی بار اس کے سامنے اس کے خیالوں کی تعبیر جیسا شخص اس نے دیکھا تھا..
سونا کو وہ آج پھر بری طرح یاد آیا.. “کیا وہ حسین اتفاق پھر سے نہیں ہو سکتا.. ؟” اس نے ایسے تمنا کی کہ سامنے نظر آتا چاند بھی اس پر ہنسنے لگا, جیسے کہہ رہا ہو .. کہ پاگل لڑکی چاند کی تمنا کر رہی ہو کہ وہ آسمانوں سے اتر کر تمہارے روبرو آ جاۓ ؟
سونا نے آنکھیں بند کر لیں.. چھم سے اس کی آنکھوں میں وہ نیلی آنکھیں ابھریں . سونا انہیں دیکھتی رہی. آنکھیں موندے.. لمحے گزرتے گئے.. دل سکون سے بھرتا گیا..
وہ ڈر, وہ خوف, وہ آ ج ہوا حادثہ.. سب بھولنے لگے اسے.. یاد رہیں تو بس … دو نیلی آنکھیں..
••••••
سکندر آفس سے نکلا… اور گاڑی کا رخ شاپنگ مال کی جانب موڑا… اب اسے پریشے کے پاس جانا تھا…. وه اس سے ناراض هوتی تو سکندر کو بھی ایک پل کیلیے قرار نهیں ملتا تھا… اس لیے اب اسے منانے کے ارادے سے نکلا تھا…راستے میں اس نے بار بار پریشے کا نمبر ڈائل کیا… لیکن پریشے نے موبائیل سوئچ آف کر دیا تھا… ایک جگه گاڑی روک کر اس نے ایک سرخ گلاب لیا… اور پھر گاڑی آگے بڑھا دی..
شاپنگ مال کے سامنے بنے اس ریسٹورنٹ کا دروازه کھول کر وه اندر داخل هو… اردگرد نگاهیں دوڑا کر پریشے کو ڈھونڈنا چاها… لیکن اس کی نگاهیں ناکام لوٹیں… “کهیں ناراض هو کر یهاں سے چلی تو نهیں گئ…فون بھی بند کر رکھا هے …” اس نے پریشانی سے سوچا اور پیشانی مسلی… واپسی کیلیے مڑنے والا تھا جب اس کی نظر بائیں جانب کونے کی ٹیبل پر پڑی…وهاں سامنے ایک لڑکا بیٹھا نظر آ رها تھا… جبکه اسکے مقابل شولڈر کٹ بالوں والی لڑکی براجمان تھی… لڑکی کی سکندر کی جانب پشت تھی اور سکندر اسکا چهره نهیں دیکھ پایا تھا… سکندر کو اسکے بالوں سے پریشے کا گماں هوا…
دونوں بھت بے تکلفی سے باتیں کر رهے تھے…جیسے برسوں سے شناسائ هو… یه کون هو سکتا هے بھلا… سکندر نے حیرت سے سوچا… پریشے نے اسے یہی بتایا تھا که وه اس دنیا میں اکیلی هے… اسکا کوئ بھی نهیں… ماں باپ بچپن میں هی ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں چل بسے… رشته داروں نے اسے بوجھ سمجھ کر زمانے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا… وه خود جاب کرتی هے اور اپنی ضروریات ذندگی کو پورا کرتی هے… بھت سی مشکلات اور تنهائ سے بھری ذندگی کزاری هے اس نے…. سکندر سوچوں میں الجھا اس ٹیبل کی جانب بڑھا.. “اسلام و علیکم… ” قریب جانے پر وه جان گیا تھا که وه پریشے هی هے… تبھی سلام کیا تھا… اس کے سلام کرنے پر دونوں چونک کر اسکی جانب دیکھنے لگے… ایک لمحے کو دونوں کے چهروں پر پریشانی ابھری تھی… دونوں گڑ بڑاۓ تھے… پریشے کے چهرے کا رنگ بدلا تھا… اسے لگا اس کا سارا پلان, اب تک کی ساری محنت بے کار گئ… اسے امید نهیں تھی که سکندر اس کی خاطر یوں سب چھوڑ کر چلا آۓ گا… سکندر کے منه سے انکار سن کر اسکے دل کو تسلی هوئ تھی… اپنی دانست میں اسے سکندر سے ناراض هونے کا موقع مل گیا تھا… وه اس سے ناراض هوئ تا که کچھ دن اس سے جان چھڑا سکے… اس کے سامنے اس کے ساتھ خوش رهنے کی ایکٹنگ ضرور کرتی تھی لیکن حقیقی خوشی اسے سامنے بیٹھے اس شخص کے سنگ ملتی تھی جسے وہ چاهتی تھی… اور سکندر سے ناراضگی کی آڑ میں وہ اس سے دور ره کر کچھ دن سامنے موجود شخص کے سنگ رهنا چاهتی تھی… وه اکتا گئ تھی اس ڈرامے سے… لیکن سکندر کی اچانک آمد نے اسے پریشان کر کے رکھ دیا…
لمحے کے ہزارویں حصے میں اس نے چهرے کے تاثرات نارمل کیے اور خود کو کمپوز کرنے کی کوشش کی… چهرے پر خفگی سجائ… اور هولے سے سلام کا جواب دیا… جبکه دوسرے شخص نے بھی جلد هی خود کو سنبھالا… اٹھ کر گرمجوشی سے سکندر سے مصافحه کیا اور سلام کا جواب دیا… پھر اسے بیٹھنے کی پیشکش کی… سکندر نے چئیر پر بیٹھتے هوۓ پری کی طرف دیکھا… جس کے چهرے اور انداز سے هنوز خفگی جھلک رهی تھی… اسے سمجھ نهیں آ رها تھا که اس شخص کے سامنے پری سے کیسے بات کرے… تبھی اس شخص نے گلا کھنکار کر پری کو اپنی جانب متوجه کیا… “پریشے… همارا تعارف نهیں کرواؤ گی ان سے…¿¿¿” پریشے نے الجھن سے اسکی جانب دیکھا.. آنکھوں هی آنکھوں میں کوئ بات هوئ تھی… “سیم… یه سکندر هے… اور سکندر یه سیم هے… میرا کزن… یهاں اتفاقا مل گیا تو هم نے سوچا بیٹھ کر بات چیت کرتے هیں… ” پری نے بھت اطمینان سے جھوٹ بولا تھا… لهجے میں خفگی کا عنصر ابھی بھی موجود تھا… سکندر نے مسکرا کر سیم کی جانب دیکھا.. “نائس ٹو میٹ یو… ” رسمی سا جمله بولا تھا … “می ٹو…” سیم کے لهجے میں خوشگواریت تھی… پھر وہ اٹھ کھڑا هوا… “اوکے گائز… انجواۓ کریں ایک دوسرے کی کمپنی… میں چلتا هوں… ” اس نے بھرپور نظروں سے پری کو دیکھتے هوۓ کها تھا… “ارے کچھ دیر اور بیٹھیے …” سکندر نے تکلف سے کہا ورنه اسکا بھی دل چاه رها تھا که وه شخص جلد سے جلد یهاں سے چلا جاۓ… “هاهاها… مجھے آپ دونوں کے درمیان کباب میں هڈی بننے کا قطعی شوق نهیں…” وه هنسا تھا آنکھوں سے پری کو خفیف سا اشاره کیا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا چلا گیا… جاتے هوۓ اسکے لبوں پر فاتحانه سی مسکراهٹ تھی…
“کیسی هو…¿¿¿” سکندر پریشے کی جانب متوجه هوا…پریشے نے اسے گھورا… “بھت خوش…” تیکھے لهجے میں جواب دیا گیا تھا.. “لگ تو نهیں رها… منه تو سوجا هوا هے… ” سکندر نے هلکے پھلکے لهجے میں کھتے هوۓ اسکا موڈ ٹھیک کرنا چاها… “تمهیں اس سے کیا… تمهیں کیا فرق پڑتا هے… کوئ مرے یا جیے.. تمھاری بلا سے…” پریشے کو غصه آ رها تھا… سکندر کی آمد کیوجه سے سیم کو جانا پڑا… وه کچھ اور وقت اسکے ساتھ گزارنا چاهتی تھی… “یار آ تو گیا هوں… کیا هو گیا هے… دیکھو تمهارے لیے میٹنگ بھی کینسل کر دی…پھر بھی خفا هو… ” اسکا لهجه بے بسی بھرا تھا… پری نے اسکی طرف سے رخ موڑ لیا… “تو…¿¿ نه آتے… جب پهلے انکار کر هی دیا تھا تو اب آ کر مجھ په احسان کرنے کی کیا ضرورت تھی…” وه کسی طور ماننے کو تیار نه تھی… “اچھا… آئم سوری… ” سکندر نے غلطی نه هوتے هوۓ بھی معافی مانگی تھی… وه اس لڑکی کو کھونا نهیں چاهتا تھا… بے خبر تھا اس بات سے که کھویا تو انهیں جاتا هو جو آپ کے هوں… جو کبھی آپ کے تھے هی نهیں اسے بھلا کیا کھونا… “تم لڑکے نا هوتے هی ایسے هو… جب تک لڑکی راضی نهیں هوتی اسکے پیچھے پیچھے پھرتے هو… اسکی منتیں کرتے هو… اور جب لڑکی کو پٹا لیا… دیکھ لیا که اسکا دل پسیج گیا هے… تب لاپرواهی برتنے لگتے هو…” اس نے سکندر پر چوٹ کرتے هوۓ کها تھا… “پری…اپنے لیے ایسے گھٹیا لفظ استعمال مت کرو… ” سکندر کے لهجے میں تنبیه تھی… اسے لفظ پٹا لیا پر غصه آیا تھا اس لیے لهجه تیز هو گیا… “هونهه…” پریشے نے منه پھیرا… سکندر بے بس سا اسے دیکھے گیا… پھر وه اپنی جگه سے اٹھا…
آهسته آهسته چلتا هوا اسکی چئیر کے قریب آ کر نیچے بیٹھ گیا…اس بات کی پرواه کیے بغیر که اس کی اس حرکت پر ریسٹورنٹ میں موجود بھت سے لوگوں کی نظریں ان کی طرف اٹھی تھیں… لیکن سکندر صرف پریشے کی جانب متوجه تھا… “پری… آئم سوری… رئیلی سوری.. اینڈ آئ پرامس… آئنده ایسا کبھی نهیں هو گا… تمهیں کبھی شکایت کا موقع نهیں دوں گا…” اسکے لهجے میں بے چارگی تھی… لیکن سامنے بیٹھی لڑکی شاید پتھر دل تھی جو اب بھی نه پگھلی… اسے ایک نظر دیکھ کر پھر دوسری جانب دیکھنے لگی جیسے کچھ سنا هی نه هو… ” اچھا یار… کان پکڑ کے سوری… اب تو مان جاؤ پلیز…” وه شهزادوں کی سی آن بان والا شخص اس لڑکی کے سامنے بے بسی سے جھکا تھا… بھت سے لوگوں نے رشک اور حسد سے پریشے کو دیکھا تھا… کتنی خوش قسمت تھی وه… که جس کی معمولی سی ناراضگی پر وه وجیهه انسان یوں بے قرار تھا… لیکن پریشے پھر بھی کٹھور بنی رهی… “اے… ادھر دیکھو میری طرف…” سکندر نے کوٹ کی اندرونی جیب سے سرخ گلاب برآمد کیا… اور اسکے سامنے پیش کیا… “پلیز فار گو می…پلیز…” لهجے میں بھت آس بھری تھی…پری اسکی جانب دیکھنے لگی…پھر نخوت سے پھول کو پکڑا… انداز ایسا تھا جیسے بہت بڑا احسان کیا هو اس پر… “اوکے… جا کر اپنی سیٹ پر بیٹھو… سب هماری طرف هی دیکھ رهے هیں…” پریشے نے اردگرد دیکھتے هوۓ کها… لوگوں کے چھروں پر مسکراهٹ تھی اور وه دلچسپی سے انهیں دیکھ رهے تھے…
“تھینک گاڈ…” سکندر شکر ادا کرتا هو اٹھا… اور چئیر پر بیٹھا…اس لڑکی کی ناراضگی بھت بے بس کر دیتی تھی اسے… “هونهه… پهلے خود ناراض کرتے هو… پھر بھاگے چلے آتے هو منانے کیلیے… تو کیا بهتر نهیں که پہلے هی مان جایا کرو میری بات… اور پھر جناب آتے هیں ساتھ پھول.لے کر… جانتے هو نا.. میری کمزوری هےیه سرخ گلاب… انکیں دیکھ کر مجھ سے ناراض نهیں رها جاتا…” وه تیکھے لهجے میں گویا هوئ… سکندر اسکی بات پر مسکرا دیا… “هاں جیسے تم جانتی هو… که تمهاری ناراضگی میری کمزوری هے… تبھی بات بات پر ناراض هو کر میری جان نکالتی هو…” اسکا لهجه خوشگوار هو گیا تھا… دل میں سکون سا بھر گیا تھا پریشے کے مان جانے پر… “هاهاها… یه تو هے…” پریشے هنسی… “انهیں گرلز کے نخرے کها جاتا هے… اور پھر میں کیوں نه دکھاؤں نخرے… جب میرے پاس میرے نخرے اٹھانے والا هے..” وه اٹھلائ تھی… جبکه سکندر چمکتی آنکھوں سے اس کی خوبصورتی کو دیکھتا ره گیا…
•••••••
سونا بھت بور هو رهی تھی تبھی دونوں بچوں اور نادیه کی پرزور فرمائش پر اس وقت لان میں موجود تھی… بچے ان کے ساتھ کرکٹ کھیلنا چاهتے تھے… سونا کو هنسی آ رهی تھی که اتنی بڑی هو کر وه دونوں بچوں کے ساتھ کھیلیں گی… لیکن بالآخر بچوں کی خوشی کی خاطر وه ان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے پر آماده هو گئ تھی…نادیه اور فرح ایک طرف تھیں جبکه سونا اور طلحه دونوں پارٹنر دوسری ٹیم میں تھے… دونوں بچے چھوٹے بیٹ سے کھیل رهے تھے جبکه سونا اور نادیه بڑے بیٹ سے… سونا انجواۓ کر رهی تھی اس انوکھے سے کھیل کو… نادیه اور فرح کھیل چکی تھیں… ان کی ٹیم کی باری آئ تو طلحه صاحب جو سب سے زیاده شور مچا رهے تھے کرکٹ کےلیے پهلی بال پر هی آؤٹ هو گۓ… اب سونا کی باری تھی اور طلحه معصومانه انداز میں اسکی حوصله افزائ کر رها تھا.. سونا نے اس کے انداز پر مسکراهٹ دبائ… اور کھیلنے کو تیار کو گئ… نادیه نے باؤلنگ اسٹارٹ کی.. پهلی دونوں بالز مس هو گئیں… سونا نے کرکٹ دیکھی ضرور تھی لیکن پهلی بار بیٹ پکڑا تھا… اسے کھیلنا آ هی نهیں رها تھا… بچے بھی اس پر هنس رهے تھے… تیسری بال پر سونا نے آنکھیں بند کر کے بیٹ زور سے گھمایا… بال بیٹ سے ٹکرا کر هوا میں اچھلی تھی اور پھر لان کے ایک جانب حویلی کے ایک کمرے کی کھڑکی کو توڑتی هوئ کمرے میں جا گری… سب پھٹی نگاهوں سے سونا کو دیکھنے لگے… سونا نے آنکھیں کھولیں… ان کی نظروں کو خود پر مرکوز پایا تو ناسمجھی سے دیکھنے لگی… “کیا هوا…¿¿¿ ایسے بت بن کے کیوں کھڑے هو… ¿¿¿” سونا نے حیرت سے ان کے چهروں کے تاثرات ملاحظه کیے… “مر گۓ…” نادیه گرنے کے سے انداز میں گھاس پر هی بیٹھ گئ… ” هوا کیا… تم سب اتنے پریشان کیوں هو… بال کدھر هے…” سونا ابھی تک صورتحال کو سمجھ نهیں پائ تھی… “بال اس روم کی کھڑکی کو توڑ کر روم میں گر گئ هے…” فرح نے هاتھ سے اشاره کرتے هوۓ بتایا… لهجے میں خوف کا عنصر تھا… “تو کیا هوا… ایک کھڑکی ہی تو ٹوٹی هے… آپ لوگ کیوں اتنے پریشان هو .. ” سونا نے تسلی آمیز لهجے میں کها… “جاؤ طلحه… آپ بال لے کر آؤ…” سونا نے طلحه کو پچکارتے هوۓ کها… “میں…¿¿¿ کبھی نهیں… میں بالکل نهیں جاؤں گا…” آگے سے صاف انکار کیا گیا تھا… سونا نے حیرت سے اسے دیکھا… وه تو بھت فرمانبردار بچا تھا… پھر آج اسے کیا هوا…”کیوں…¿¿¿ کیوں نهیں جاؤ گے آپ…¿¿¿” سونا نےابرو اچکاۓ… “آپ جانتی هیں وه روم کسکا هے… ¿¿¿ چاچو کا… اور آج چاچو گھر میں هی هیں… مجھے ڈانٹ پڑ جاۓ گی… ” اس نے رونی صورت بنائ تھی… سونا اس کے قریب آ کر گھٹنوں کے بل اسکے سامنے بیٹھی… “اتنے پیارے پیارے بچوں کو بھی کوئ ڈانٹتا هے کیا… وه بھلا کیوں ڈانٹیں گے آ پ کو…وه تو بھت پیار کرتے هوں گے نا آپ سے… ¿¿¿” نرمی سے اسکے گال کو چھوا تھا… “هاں پیار بھی بھت کرتے هیں… جب بھی آتے هیں ڈھیر سارے کھلونے اور چاکلیٹس لاتے هیں همارے لیے… لیکن انهیں کوئ ڈسٹرب کرے یا کوئ ان کے روم میں جاۓ تو بھت غصه هوتے هیں… ڈانٹتے بھی هیں… ” طلحه نے معصومیت سے اسے بتایا… “چاچو هے یا جلاد.. بچوں کو ڈرا کر رکھا هوا هے… ” سونا نے سلگ کر کها تھا… تبھی نادیہ جو ان کی جانب هی چلی آ رهی تھی هنسی… “اے… کیا برائیاں هو رهی هیں میرے بھائ کی…” سونا بھی اسکے انداز پر شرارتی هوئ… “لو آ گئ بھائ کی چمچی…” “هاں تو… خبردار میرے عزیز از جان بھائ کے خلاف کچھ کها تو…” نادیه نے رعب دکھانے کی کوشش کی… “اپنے بھائ کی چمچی… هماری اتنی همت کهاں… که آپ کے بھائ کی شان میں گستاخی کریں… هم پر ایک عنایت کریں… جا کر اپنے عزیز از جان بھائ کے روم سے بال لا دیں…” سونا نے اسکی نقل اتارتے هوۓ کها..جس په وه بدکی تھی… “ناں بابا ناں… مجھ سے امید مت رکھنا…مجھے اپنی شامت نهیں بلوانی… جس نے شاٹ لگائ وهی جاۓ…مجھے تو معاف هی رکھو…” سونا نے حیرانگی سے اسے دیکھا… بچے تو بچے… نادیه بھی ڈرتی تھی اس کے روم میں جانے سے… “حد هو گئ… ایسا بھی کیا ہے اس کے روم میں جو سب یوں ڈر رهے هیں…” اسکے منه کے زاویے بگڑے تھے… پھر گھری سانس بھرتی اٹھ کھڑی هوئ… “اچھا چلو… میں نے پھینکی بال… میں هی لے کر آتی هوں… تم لوگوں کی طرح ڈرپوک نهیں هوں میں…” وه کهتی هوئ حویلی کے اندرونی حصه کی طرف بڑھ گئ… “هاں هاں جاؤ آپ… آپ تو مهمان هیں … آپ کو کچھ نهیں کهیں گے بھیا…” نادیه نے کها تھا اور وه تینوں وهیں بیٹھ کر اسکا انتظار کرنے لگے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *