Noo E Man By Sumyia Baloch Readelle50183 Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
“یہ کیا بے ہودگی ہے۔۔۔۔؟؟
دلکش اُسے گھورتے ہوئے سخت غصیلی آواز میں بولی۔شازم جو دروازے کے بیچوں بیچ کھڑا اپنی سخت نظریں اُس کے کندھوں پر رکھے حسن کے ہاتھوں پر ڈالے غصے سے کھڑا تھا
“اِسے بے ہودگی نہیں ڈارلنگ۔۔نظر رکھنا کہتے ہیں۔۔۔جو میں اپنی ہونی والی بیوی پر رکھ رہا ہوں۔۔۔۔۔اور تم سالے تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے گھر میں کھڑے ہو کر میری ہی عزت پر اپنی گندی نظریں رکھنے کی ہاں۔۔۔زلیل کمینے انسان میں کہتا ہو،چھوڑو اُسے ورنہ آج میں تمہیں جان سے مار دونگا۔”
ضبط سے سرخ چہرہ لیے دروازے کے ہینڈل پر دباؤ بڑھاتے ہوئے وہ زور سے دھاڑ اٹھا۔حسن اور دلکش اُسکی غصیلی آواز سن کر کانپ اٹھے تھے۔
“شازم سائیں زبان سنبھال کر بات کروں۔۔۔۔۔۔تم ہم دونوں کے پاک رشتے کو اپنی گندی ذہنیت کے حساب سے نام مت دو.”
دلکش غصے میں آ کر آگے بڑھی اور سختی سے اُسے کالر سے جھکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے شدید غصے سے کہنے لگی۔
“ہوں اچھا تو تم دونوں کا اگر اتنا ہی پاک اور صاف ستھرا رشتہ تھا۔۔۔۔۔۔تو تم دونوں کیوں اتنے بے قرار ہوگئے تھے،ایک دوسرے کو دیکھ کر،اور اتنی بھی کیا جلدی تھیں،یہاں آنے کی تھوڑی دیر وہاں میرے سامنے کھڑے ہو کر اپنے اِس پیار و محبت کا مظاہرہ مجھے بھی کروا دیتے۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ میں تم دونوں کی جیت پر تم لوگوں کو ایک میڈل دیتا۔”
حسن کو سخت نظروں سے گھورتے ہوئے وہ دلکش سے بولا۔تو دلکش اُسکی گھٹیا بات پر پیچ و تاب کھا کر رہ گئیں۔
“بکواس بند کرو۔۔۔۔۔۔اپنی سید شازم علی شاہ۔۔۔۔۔۔۔۔بہت سن لیا میں نے تمہاری بکواس اب اور نہیں۔۔۔حسن بھائی مجھے اب یہاں ایک منٹ بھی نہیں رہنا،چلے یہاں سے ورنہ آج اِس شخص کا میرے ہاتھوں خون ہو جائے گا۔”
دلکش نفرت سے اُسے دیکھتے ہوئے حسن سے کہنے لگی۔جو ان دونوں کو ہی دیکھ رہا تھا۔
“ہاں چلوں دلکش ویسے بھی۔۔۔۔۔۔۔میں تمہیں لینے کے لیے آیا تھا۔۔۔۔۔۔اور میں جب تک زندہ ہو یہ شخص تم سے زبردستی نہیں کر سکتا،اور اگر اس نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو یہ حوالات کے پیچھے ہوگا۔۔”
حسن نے اُسے طنزیہ نظروں سے دیکھا اور آگے چل کر دلکش کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔تو شازم اُسکی اِس حرکت پر غصے سے پاگل ہونے لگا۔
“دلکش بی بی۔۔۔ابھی تو میں تمہیں یہاں سے خاموشی سے جانے کی اجازت دے رہا ہوں۔۔۔۔مگر یاد رکھنا بہت جلد میں تمہیں یہاں واپس لے کر آؤں گا۔”
سختی سے مٹھیاں بھینچ کر وہ سخت لہجے میں کہہ کر اُن دونوں کو گھورنے لگا۔۔اُسکا لہجہ خطرناک حد تک سنجیدگی لیے ہوئے تھا۔
“کیوں۔۔۔میں چاه کر بھی اُسے اپنے دماغ سے نہیں نکال پا رہا۔۔کیوں۔۔۔۔۔؟؟
دلکش کو یہاں سے گئے دو دن ہوئے تھے۔۔لیکن یہ دو دن اُسے دو سال کے برابر لگ رہی تھیں۔اِسی وجہ سے اُسکی یاد اُسے پاگل کیے جا رہی تھی۔پہلے تو وہ اُس کی یادوں سے اور اُس سے بھاگ رہا تھا۔۔۔آج جب وہ اُس کے روم میں اُسکا نام لیتے ہوئے اندر داخل ہوا۔۔تو اُسے وہاں نہ پا کر بے قراری سے وہاں سے نکل کر وہ سیدھا اپنے روم میں پہنچ کر سامنے ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھا۔۔۔۔۔اور اپنی ضبط سے سرخ ہوتی نظریں سامنے شیشے پر گاڑتے ہوئے غصے سے چیختے ہوئے خود سے کہنے لگا۔
“یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ۔یہ احساس کیونکر مجھے پاگل کر رہی ہیں۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔کیوں میں اُس کو کسی کے ساتھ نہیں دیکھنا چاہتا۔کیوں۔۔۔۔مجھے اُسکا کسی کو چھونا اچھا نہیں لگا۔۔وائے۔؟؟؟
وہ جنونی انداز میں سامنے شیشے پر نظر آتے اپنے عکس کو دیکھ کر غصے سے مخاطب ہوا۔۔۔۔یکدم اُسے وہ منظر یاد آنے لگا۔جب دلکش کے کندھوں پر اُس شخص نے اشتیاق سے اپنا ہاتھ رکھا تھا۔یہ منظر اُسے پاگل کرنے کے لیے کافی تھا۔
“کمینے انسان۔۔۔۔۔۔تم نے اُسے چھو کر اپنی قبر خود اپنے ہاتھوں کوڈی ہیں۔۔۔تمہیں تو میں ایسی سزا دونگا۔۔جو تم نے اپنے خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا۔”
اپنی غصیلی نظریں سامنے شیشے پر مرکوز کر کے وہ سخت لہجے میں کہہ کر آگے بڑھا اور جنونیت سے اپنا ہاتھ شیشے پر زور سے دے مارا۔۔۔۔۔۔تو شیشہ ایک ہی ضرب میں چھناکے کے ساتھ ٹوٹ کر نیچے زمین پر بھکڑتا چلا گیا۔
“دلکش بی بی۔میرے دل میں یہ جان لیوا احساس ڈال کر تم نے اپنے لیے اچھا نہیں کیا ہے۔۔۔کیونکہ تم میری نفرت کو تو برداشت کر سکتی ہو۔۔۔۔۔مگر یہ سب کچھ کبھی نہیں میں اِس معاملے میں بہت ہی سخت قسم کا جنونی انسان ہوں۔”
اب کی بار دلکش کو یاد کرتے اُس کے لب اُس احساسات کو سوچتے ہوئے یکدم سے مسکرا اٹھے۔۔۔۔۔اِس احساس کی وجہ سے آج وہ دلکش کو نفرت کے رشتے سے نہیں بلکہ ایک الگ رشتے سے سوچنے لگا تھا۔
“شازم بیٹا آج ہم لوگ آپ کے رشتے کے لیے سید ارباز شاہ کے گھر جا رہے ہیں۔اگر آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہے۔تو آپ ہمارے ساتھ آ سکتے ہیں۔”
شازم علی شاہ جو بڑے ہی خوشگوار موڈ میں ہاجرہ بی بی کے روم میں داخل ہوا تو انہیں چادر اوڑھے دیکھ کر اُنہیں سلام کرتے ہوئے اُس نے ان سے پوچھا۔اُنہوں نے بے نیازی سے کہا۔اور اُن کی یہ بے نیازی اُسے شوکڈ زدہ کر گئیں۔
“واٹ۔۔۔؟؟
وہ شدید حیرانی سے بیڈ سے اٹھا،اور اُن کے دونوں ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہنے لگا۔
“دیکھیں ماں پہلی کی بات اور تھی۔۔۔اور اب تو میں دلکش کے بغیر بالکل بھی نہیں رہ سکتا۔۔۔۔ہاں میں مانتا ہو کہ میں پہلے دلکش سے بے انتہا نفرت کرتا تھا۔مگر اب معاملہ میرے دل کا ہے۔۔۔اور آپ مجھے اچھے سے جانتی ہے۔اگر میں جسے جنون کی حد چاہتا ہو۔تو اُسے ہر حال میں حاصل کر کے رہتا ہوں۔”
اُسکا مضبوط لہجہ اور جنونیت دیکھ کر ہاجرہ بی بی کو یکدم سے دلکش کے لیے فکر مندی ہونے لگیں۔کیونکہ وہ اپنے ضدی اور اکڑو بیٹے سے اچھی طرح واقف تھی۔۔۔۔۔دلکش نے اگر اس سے شادی کرنے سے انکار کر دیا تو وہ اُسکی مرضی کے بغیر بھی اُسے حاصل کرنے سے نہیں گھبرائے گا۔
“شازم علی شاہ تمہاری شادی ہوگی۔تو صرف سید ارباز شاه کی بیٹی سے۔اور اگر تم نے اُس لڑکی کو زبردستی اپنے نکاح میں لیا ناں۔تو تمہارا اِس حویلی سے اور ہم سے اُسی دن رشتہ ختم ہو جائے گا۔اپنے پرانے رشتے بچانا چاہتے ہو،یا اُس دو ٹکے کی لڑکی کے ساتھ نیا رشتہ بنانا،فیصلہ تمہارے ہاتھوں پر ہے۔”
اُنہیں نے دلکش کے لیے نا چاہ کر بھی اپنا لہجہ تلخ کرنا پڑا کیونکہ وہ جانتی تھیں۔ کہ وہ چاہے کچھ بھی ہو جائے اپنی ماں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔
“اماں آپ کو جو کرنا ہے۔آپ جا کر کریں۔مگر یاد رکھیے گا۔کہ میں اُس لڑکی کو نکاح کے بعد وہ محبت نہیں دے سکوں گا۔جس کی وہ حقدار ہوگی۔۔۔۔۔۔کیونکہ مجھ پر صرف دلکش کا حق تھا۔۔۔۔اور ہمیشہ رہے گا۔۔۔اور میری پہلی بیوی دلکش ہی بنے گی۔۔۔۔۔آپکی پسند کی لڑکی اور سید خاندان کی خاندانی بہو سے پہلے میں دلکش سے نکاح کروں گا۔یہ بات آپ ضرور اپنی خاندانی بہو کو بتا ئیے گا۔۔”
شازم غصے سے اپنی مٹھیاں کھسنے لگا۔۔۔اُسے یہ سوچ کر بے چینی کے ساتھ اپنے اردگرد سبھی چیزوں پر تاؤ آنے لگا تھا۔کہ اُس کی دلکش کو اُسکی ماں ہی اُس سے چھین رہی تھیں۔
“کیا ہوا تمہیں شازم عرف آس سائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک منٹ کہیں تمہیں بھی میری طرح عشق کا بخار تو نہیں ہوا۔۔مجھے تو تم سے ہوا تھا۔اُس دن جس دن تم نے اُس چڑیل کو چنا تھا۔۔اور لگتا ہے۔تمہیں تمہاری اپنی اُس سویٹ ہارٹ سوری میرا مطلب،اپنی رکھیل سے۔۔”
زرناب نے اُس کا راستہ روکا اور بے باکی سے اُس کے کندھوں پر اپنی کہنی رکھتے ہوئے کہا۔وہ جو غصے سے ہاجرہ بی بی کے روم سے نکل کر اپنے روم کی جانب بڑھ رہا تھا۔اُس کی حرکت پر۔۔۔۔اور دلکش کے بارے میں اُس عورت کے منہ سے گھٹیا لفظ سن کر غصے سے پاگل ہو کر نفرت سے آگے بڑھا اور اُسے گردن سے پکڑتے ہوئے غضبناک لہجے میں کہنے لگا۔
“اُس دن دلکش کے لیے میرے دل میں نفرت ہونے کے باوجود بھی اُس کے لئے میں یہ لفظ برداشت نہیں کر سکا تھا۔تو آج مجھے اُس سے بے پناه محبت ہے۔تو میں یہ غلیظ لفظ کیسے برداشت کر سکتا ہوں،گھٹیا عورت۔”
گردن پر دباؤ بڑھا کر وہ درشت لہجے میں بولا۔۔۔۔۔تو زرناب بائی اُس کی سخت گرفت میں تڑپنے لگی تھیں۔
“چھ۔۔چھوڑو۔۔۔۔مجھے۔پلیز۔۔۔؟؟
زرناب بائی نے کھانس کر تڑپتے ہوئے اپنا ہاتھ اُسکی سخت گرفت کو کم کرنے کے لیے اُس کے ہاتھوں پر رکھا۔مگر گرفت نرم ہونے کے بجائے بڑھنے لگی تھیں۔
“ضرور چھوڑوں گا۔۔مگر اوپر جانے کے لیے۔۔۔۔کیونکہ بائی تم نے آس کی محبت کو گھٹیا نام دیا ہے۔۔۔اور شازم تو تمہیں معاف ضرور کرتا۔۔مگر آس نہیں تم نے اِس درندے کو جھاگا کر اچھا نہیں کیا۔۔۔”
جنونی اور سخت لہجے میں کہہ کر اُس نے اُسکی گردن پر گرفت خطرناک حد تک مضبوط کر دی جس کے باعث زرناب کی آنکھیں باہر آنے لگی تھیں۔
“چھوڑ جنگلی انسان میری زر کو۔۔۔”
سجاول شاہ جو زرناب کو پوری حویلی میں ڈھونڈ رہا تھا۔اُسے شازم شاہ کی گرفت میں تڑپتے ہوئے خود کو بچانے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی۔اُسے اس حال میں دیکھ کر سجاول غصے سے اُن کی جانب بڑھتے ہوئے زرناب کو اُسکی سخت گرفت سے آزاد کرواتے ہوئے بولا۔
“آؤں تم بھی سجاول شاہ آج میں تم دونوں کے ناپاک وجود کو اپنی حویلی سے سیدھا قبرستان میں بھیجوں گا۔”
شازم نفرت سے سجاول شاہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔تو سجاول شاہ اُس کی بات پر خوفزدہ ہوگیا۔
جاری ہے۔
