74.1K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

اپنے روم میں جانے سے پہلے وہ سیدھا خالہ ماں کے روم کی جانب بڑھا تھا۔پورے چار سال بعد وہ آج اپنی خالہ ماں کو دیکھے گا یہ خوشی اُس کے چہرے پر نور بن کر چمک رہی تھی۔
“اسلام و علیکم اماں کیسی ہیں آپ۔۔۔”
روم میں داخل ہو کر اُس نے محبت سے اُنہیں سلام کیا جو سامنے کرسی پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں۔
“ماءُ خيرات (ماں صدقے ) میرا بیٹا میرا شہزادہ شازی آیا ہے۔۔۔”
انہوں نے خوشی سے اُسے دیکھتے ہوئے محبت و شفقت سے کہا۔تو وہ چل کر اُن کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اُن کے دونوں کمزور ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں کی گرفت میں لے کر چومتے ہوئے اپنی پیشانی سے لگانے لگا۔
“اماں مجھے آپ کی بہت یاد آئی، بھلا کوئی ایسے کرتا ہے اپنے بیٹے کو اکیلا چھوڑ کر ہاں۔۔۔۔”
وہ اُن کے ہاتھ اُسی طرح اپنی پیشانی سے لگائے گلوگیر اور کپکپاتے ہوئے لہجے میں بولا۔
“میں بھی مجبور ہو گئی تھی میرے بچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ میں بھلا اپنے اتنے سٺا ۽ سهڻو پٽ (اچھے اور خوبصورت بیٹے) کو اکیلا چھوڑ سکتی ہوں۔”
انہوں نے شفقت سے اُس کے گھنے اور سلکی بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔تو وہ انکی بات پر ناراضگی سے وہاں سے اٹھ کر بیڈ کی جانب بڑھنے لگا۔
“شازی میرے بچے۔۔۔۔”
وہ جو بیڈ پر غصے سے بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔۔اُن کی آواز سن کر وہ اُنہیں دیکھنا لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو اپنا ہاتھ سینے پر رکھے زرد چہرہ لیے اُسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“ماں۔۔۔۔۔”
اپنی ساری ناراضگی بھلا کر وہ اُنکی جانب بھاگا اور اُنہیں اپنے مضبوط بازوؤں میں لیتے ہوئے بیڈ کی جانب بڑھ کر انہیں ہڑبڑی میں پکارنے لگا۔
“ماں آپ کو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔مم۔میں ابھی ڈاکٹر کو بلاتا ہوں۔۔۔آپ کو ٹھیک ہونا ہے اپنے شازی کے لیے۔۔۔۔”
وہ اُن کے ہاتھ پاؤں سہلاتے ہوئے ضبط سے سرخ ہوتی اپنی نظریں اُن کے زرد پڑتے چہرے پر ڈالتے ہوئے کہنے لگا۔
“مٹل، شرفو۔۔۔۔۔۔!!
اب وہ زور سے مٹل اور شرفو کو آوازیں دینے لگا۔
“یہ کیا شور مچایا ہوا ہے تم نے لڑکے۔۔۔۔۔۔اچھی خاصی نیند آ رہی تھی مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر نہیں تمہارے ہوتے ہوئے اب کہاں ہم چین کی نیند سو سکتے ہیں۔۔”
اسوہ ذولفقار شاہ وہاں آتے ہی بے زاری سے بولنے لگیں۔ اُن کی بے حسی پر وہ اُنہیں اپنی ضبط سے سرخ ہوتی نظروں سے بری طرح سے گھورنے لگا۔
“تائی اماں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر آپ کے اندر ایک فیصد بھی انسانیت باقی ہے تو خاموش رہیں۔۔۔۔مانا کے آپ کی نیند میری وجہ سے خراب ہوئی ہے۔۔۔۔۔مگر اِس وقت اِس بوڑھی عورت کو بھی آپ کی سخت ضرورت ہے۔۔۔۔لیکن آپ کو تو اپنی نیند پیاری ہے۔۔۔تو پھر آپ کو کہاں میں اور یہ بوڑھی عورت نظر آئے گی۔۔۔۔”
وہ غصے سے سرد لہجے میں بولا۔تو وہ اُسکی تیز آواز سن کر آج پہلی بار اُس سے خوف محسوس کرنے لگی تھیں۔
“سائیں ڈاکٹر صاحب۔۔”
مٹل نے وہاں آ کر کہا۔تو اس نے اضطراب کے عالم میں ڈاکٹر کو اندر آنے کا کہا اور اسوہ شاہ کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔


“مسٹر شازم علی شاہ اب وہ بالکل ٹھیک ہیں۔۔آپ پریشان نہ ہوں۔”
ڈاکٹر نے اُسے سامنے صوفے پر پریشانی سے بیٹھے دیکھا تو اُسے مطمئن کرتے ہوئے کہنے لگا۔
“ہا۔ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ نے کچھ کہا مجھ سے ڈاکٹر صاحب ۔۔؟
وہ چونک کر صوفے سے اٹھا اور اپنی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔
“شاہ صاحب۔۔۔۔۔ اب آپ کی ماں کی طبیعت پہلے سے کافی بہتر ہے۔۔۔”
ڈاکٹر صاحب نے پھر سے اپنی بات دہرائی ۔
“شکر رب کریم کا کہ وہ اب ٹھیک ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب اور کوئی پریشانی والی بات تو نہیں ہے نا.”
اُس نے ڈاکٹر کو خاموش کھڑے دیکھا تو پوچھے بنا نہ رہ سکا۔
“نہیں ایسی کوئی پریشانی والی بات نہیں ہے مگر مسٹر شاہ۔”
ڈاکٹر صاحب نے رک کر اُس کے سنجیدہ چہرے کی جانب دیکھا۔
“مگر کیا ڈاکٹر صاحب۔؟
اُس نے اپنی نظریں اُن پر مرکوز کرتے ہوئے پوچھا۔
“مسٹر شاہ اُنہیں۔۔ایسی کوئی بات اندر ہی اندر کھائے جا رہی ہے۔ایسا کوئی واقعہ جو انہیں بہت پریشان کر رہا ہے۔”
ڈاکٹر صاحب نے اپنے دونوں ہاتھوں کو آپس میں ملاتے ہوئے کہا۔
“کیا مطلب ڈاکٹر صاحب آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔۔میں سمجھا نہیں آپ کی بات۔۔۔”
اُس نے ناسمجھی سے ڈاکٹر کی جانب دیکھا۔
“مسٹر شاہ آپ جتنا ہو سکے۔۔۔۔۔اُنہیں خوش رکھا کریں۔اور کسی بھی ٹیشن سے اُنہیں دور رکھیں۔۔کیونکہ یہ اُن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔”
ڈاکٹر صاحب نے اپنا بیگ ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔تو شازم اُنہیں باہر چھوڑنے کے لیے مٹل کو اشارہ کرتے ہوئے ڈاکٹر کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
“آپ فکر مت کریں اب میں آیا ہوں نا تو وہ خوش رہیں گی۔کیونکہ اُن کی خوشی صرف مجھ میں ہے۔”
اُس نے محبت سے اُن کے بارے میں کہا۔


“اماں کیا درگاہ میں جانا ضروری ہے؟
شازم ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ کی گرفت میں لیے اُنہیں سڑھیوں سے اترنے میں مدد کرتے ہوئے پوچھنے لگا۔
جب سے اُس نے سنا تھا،اُسکی خالہ ماں نے اُس کی واپسی کے لیے کتنی ہی درگاہوں میں منت مانی تھی۔یہ جان کر اُسے اپنے اوپر بہت تاؤ آیا تھا۔کہ وہ کیوں اُنہیں سمجھ نہ سکا۔ اُن کو بھول کر اُس نے کیوں اپنے ماضی کو یاد رکھا۔
وہ مانتا تھا،کہ اولیاء کرام کے مزارات پر جانا برا نہیں۔۔البتہ مزارات پر اپنے نفع ونقصان کے لیے جانا اور ان کی روحوں کو اپنے افعال واحوال پر مطلع جان کر ان کی قبروں کے سامنے سجدہ کر کے عاجزی وانکساری ظاہر کرتے ہوئے مرادیں مانگنا جائز نہیں۔
“بیٹا مجھے پتہ ہے۔۔۔یہ سب آپ کو پسند نہیں ہے۔۔۔مگر میں بھی کیا کرتی۔۔میرا بچہ مجھ سے الگ تھا۔۔۔مانتی ہوں کہ تم میرے سگے بیٹے نہیں ہو۔۔مگر بیٹا میں نے تمہیں سگی اولاد کی طرح چاہا ہے۔۔۔”
اُنہوں نے لاؤنج میں پہنچ کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے اُس کے خوبرو چہرے کو اپنے کانپتے ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر محبت بھری نگاه سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“واہ کیا بات ہے۔”
اسوہ شاہ وہاں آتے ہی اُنہیں اپنی تضحیک بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔تو شازم اُن کی تمسخر اڑاتی آواز پر اپنی مٹھیاں ضبط کے باعث بھینچنے لگا۔
“سجاول بیٹا یہاں تو سھٹو ماء اور پٽ کی شاندار فلم چل رہی ہے۔۔”
اُنہوں نے طنزیہ نظروں سے شازم کی جانب دیکھتے ہوئے سجاول کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
“اماں چلیے ویسے بھی بہت لمبا سفر ہے سیون شریف کا اور اِن ماں بیٹوں کو تو میں آ کر اچھے سے بتاؤ گا ان دونوں کی اوقات۔”
شازم علی شاه اُنہیں سہارا دے کر صوفے سے اٹھا کر غصے سے اُن ماں بیٹے کی جانب دیکھتے ہوئے بولنے لگا۔
“بڑا آیا ہم کو ہماری اوقات یاد دلانے والا۔۔۔۔۔میرا نام بھی سجاول زولفقار شاه ہے۔اِس بار اُسے ایسی چوٹ دوں گا نا،کہ اُسکی روح بھی کانپ اٹھے گی۔”
اُن دونوں کو حویلی سے باہر نکلتے ہوئے دیکھ کر سجاول شاہ نے نفرت سے سوچا۔


“بیٹا تم باہر جاکر مٹل کے ساتھ غریبوں میں لنگر بانٹنا میں زرا یہاں کچھ دیر اور بیٹھنا چاہتی ہوں”
ہاجرہ اماں نے اُسے دیکھا جو سامنے چبوترے پر بیٹھے کبوتر کو دیکھ رہا تھا۔انہوں نے آگے بڑھ کر اُسے ہلاتے ہوئے کہا۔
“جی اماں۔”
شازم نے فرمابرداری سے اُن کے سامنے اپنا سر جھکاتے ہوئے نرمی سے کہا۔
“اللّٰہ تمہاری نیک خواہشات پوری کرے میرے بچے۔”
اُنہوں نے محبت سے اُس کے جھکے ہوئے سر پر نرمی سے ہاتھ رکھ کر اُسے ڈھیروں دعاؤں سے نوازا۔
“اماں چلتا ہوں،مٹل باہر میرا انتظار کر رہا ہوگا۔”
وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور اپنی جیب سے موبائل نکال کر مٹل کو میسج کرتے ہوئے اُن سے کہنے لگا۔
“ہاں بیٹا جاؤ۔میری فکر مت کرو۔۔۔۔اب ویسے بھی ظہر کی اذان ہونے والی ہے اور میں نماز ادا کرکے خود باہر آ جاؤں گی۔”
اُنہوں نے سامنے کھڑے بلند قامت کے اپنے بیٹے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔جو آج سیاہ قمیض شلوار پر براؤن رنگ کا کوٹ پہنے اپنے مضبوط کندھوں پر سندھی اجرک اوڑھے وجاہت کا شاہکار لگ رہا تھا۔


“بیٹا اللّٰہ تمہاری ساری جائز خواہشات پوری کرے.”
شازم علی شاہ مٹل کے ساتھ درگاہ کے لنگر خانے میں سب لوگوں کے بیچ میں کھڑا لنگر تقسیم کر رہا تھا۔۔۔۔۔ایک بوڑھی عورت نے آگے بڑھ کر اپنے کپکپاتے ہاتھ اُس کے سر پر رکھتے ہوئے کہا۔
“سائیں وہ۔”
وہ مجمے کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔مٹل کی آواز پر اُسے دیکھنے لگا جو کہ سامنے درگاہ کے داخلی دروازے کی جانب اشارہ کر رہا تھا۔جہاں سیاہ اجرک سے اپنے پورے وجود کو چھپائے ایک لڑکی اپنے اردگرد کو بھلائے شاید اپنے ہوش میں نہیں تھی۔
“مٹل جاؤ یہ اُسے دے آؤ۔”
اُس نے مٹل کو ایک پلیٹ پکڑاتے ہوئے کہا۔تو مٹل نے اُس کے ہاتھوں سے وہ پلیٹ لے کر اپنے قدم اُس لڑکی کی جانب بڑھائے اور وہ وہیں کھڑا اُس لڑکی کو دیکھنے لگا۔۔نجانے کیوں وہ لڑکی اُسے اُس وقت کسی کی یاد دلا گئی تھی۔
“بی بی۔”
مٹل نے وہاں پہنچ کر اُس لڑکی کو آواز دیا۔مگر ندارد وہ اُسی طرح سر جھکائے بیٹھی اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو غور سے دیکھ رہی تھی۔
“مٹل تم جاؤ باقی لوگوں کو لنگر تقسیم کرو۔”
اُن دونوں کے پاس پہنچ کر وہ مٹل سے کہنے لگا۔۔۔۔۔۔۔لیکن اُس کی نگاہیں ہنوز اُس لڑکی کے نقاب کے پیچھے چھپے چہرے پر مرکوز تھی۔
“بی بی یہ کھانا۔”
مٹل کے وہاں سے چلے جانے کے بعد شازم شاہ نے جھک کر اُس کے سامنے پلیٹ رکھتے ہوئے اُسے بغور دیکھتے ہوئے کہا۔
اُسکی آواز پر لڑکی نے اپنا جھکا سر یکدم سے اوپر اٹھایا اور اُسے غائب دماغی سے دیکھنے لگی۔۔۔۔شازم علی شاہ کو اُن خوبصورت آنکھوں کی جانب دیکھ کر نجانے کیوں دل میں ایک انجانا احساس اٹھتا ہوا محسوس ہوا۔
“نن۔۔نہیں چاہیئے مجھے چچ چلے جاؤ یہاں سے۔کچھ نہیں چاہیے اب مجھے تم سے کچھ بھی نہیں۔”
اپنی جگہ سے اٹھ کر وہ پاگلوں کی طرح چلاتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو شازم نے کھڑے ہو کر اُسے حیران نگاہوں سے دیکھا۔۔جس کی اجرک اٹھنے کے باعث اُس کے سر سے پھسل کر نیچے زمین پر گر گئی تھی۔
“تم ۔”
شازم علی شاہ اُس کے چہرے سے نقاب ہٹتے ہی حیران کن انداز میں کہہ کر اپنے قدم آہستہ سے اُس کی جانب بڑھانے لگا۔
“نہیں میرے پاس مت آنا تم۔سنا نہیں دور رہو مجھ سے۔”
وہ اُسے اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ کر زور سے چیخ اٹھی۔۔۔
جاری ہے