74.1K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

اصطبل میں موجود سفید رنگ کا خوبصورت عربی نسل کا گھوڑا۔۔۔۔۔جو اِس وقت پورے اصطبل میں غصے کے عالم میں اِدھر سے اُدھر
دوڑ رہا تھا اور وہاں کے سبھی نوکر گھبراہٹ کے باعث اُسے قابو کرنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہے تھے۔
“مٹل چھوٹے سائیں یہیں آ رہے ہیں۔”
شرفو کی نظریں سامنے سے آتے دراز قامت نوجوان پر پڑی تو وہ گھبرا کر مٹل کی جانب دیکھ کر کہنے لگا۔ مٹل بھی اسے دیکھ کر گھبراہٹ کا شکار ہو گیا تھا۔۔۔
“شرفو اب ہم کیا کریں گے۔سائیں تو ہمیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔”
مٹل بوکھلاہٹے ہوئے شرفو سے کہنے لگا۔جو اپنے غصیلی طبیعت کے مالک کو اپنے سامنے آتا ہوا دیکھ کافی پریشان لگ رہا تھا۔
“مٹل یہ یہاں ہو کیا رہا ہے اور یہ سلطان کیوں اس طرح بھاگ رہا ہے پورے اصطبل میں؟”
نوجوان نے وہاں پہنچ کر جب اپنے سفید گھوڑے کو غصے سے پورے اصطبل میں بھاگتے ہوئے دیکھا تو سامنے کھڑے مٹل کو دیکھ کر غصے سے اُسے مخاطب کرکے پوچھنے لگا۔
“وہ۔۔۔۔شازم سائیں،سلطان نے آپ کو دو دن سے دیکھا نہیں تھا۔اسی لیے وہ دو دن سے چڑچڑا سا ہوا ہے اور آج جب میں اُسے چارہ ڈالنے اندر گیا تو وہ غصے میں آتے ہی مجھ پر سارا چارہ پھینک کر خود باہر آ کر پورے اصطبل کے چکر کاٹنے لگا۔”
مٹل نے شرمندگی سے اپنا سر جھکاتے ہوئے کہا۔شازم نے تیز نظروں سے وہاں موجود سبھی ملازمین کو گھورا اور اپنے قدم آگے سلطان کی جانب بڑھائے جو کہ غصے سے اصطبل کے چکر کاٹ رہا تھا۔
“کول ڈاؤن! سلطان مائے پرنس،مائے بچہ۔جسٹ ریلیکس۔”
اُس نے آگے بڑھ کر بڑے احتیاط سے اُس گھوڑے کی لگام کو کھینچتے ہوئے اُسے اپنے عین مقابل کھڑا کر کے محبت سے کہا۔
“چھوٹے سائیں آپ آگے مت جائیں۔۔۔۔سس سلطان بہت غصے میں لگ رہا ہے، وہ آپکو نقصان پہنچا سکتا ہے۔”
مٹل اُسے گھوڑے کے آگے کھڑا دیکھ کر فکر مندی سے کہنے لگا لیکن شازم کو تو کوئی پرواہ ہی نہیں تھی۔
“مٹل میں نے تم لوگوں سے کتنی بار کہا ہے کہ سلطان کے آس پاس بھی مت آیا کرو مگر نہیں،تم لوگوں کو جان گنوانے کا شوق چڑھا ہے کہاں میری باتوں کا اثر ہوگا تم پر۔۔۔پاگل ماڻهو۔(پاگل انسان).”اُس نے مٹل کو اپنی سرد نگاہوں سے گھور کے طنزیہ لہجے میں کہا۔
“اور اگر میں اِسی طرح ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھا رہوں تو یہ اپنا سلطان پورے اصطبل کا ستیاناس کر دے۔”
گھوڑے کی لگام مضبوطی سے تھام کر وہ مٹل کو سختی سے کہنے لگا۔
” یہ آخری غلطی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم سب کی اِسی لیے میں تم لوگوں کو بخش رہا ہوں۔۔۔مگر میری بات کان کھول کر سنو سب،اب اگر تم میں سے کسی نے بھی غلطی کی نا تو میں سزا سب کو دوں گا۔”
اُس نے اپنی غصیلی آنکھیں خوف و دہشت سے سفید پڑتے اُن سب کے چہروں پر گاڑے سخت لہجے میں انہیں دھمکی دیتے ہوئے کہا۔
“معاف کر دیں ہمیں شازم سائیں۔ہماری وجہ سے سلطان کو اتنی تکلیف اُٹھانی پڑی۔اگر ہمیں تھوڑا سا بھی علم ہوتا کہ وہ آپکی غیر موجودگی کو اتنی شدت سے محسوس کر رہا ہے تو ہم آپ کو اُسی وقت فون کر دیتے۔”
مٹل نے اُسے گھوڑے کے اوپر سوار ہوتے ہوئے دیکھ کر کہا۔
“مٹل تمہیں پتہ ہے۔۔۔۔جب ہم جانور اور انسان پر لگام نہیں ڈالیں گے۔۔۔۔۔۔۔تو نقصان ہمارا ہی ہوگا۔جیسے ابھی میں نے سلطان پر لگام نا ڈالی ہوتی تو وہ مجھے ایک جھٹکے میں نقصان پہنچا سکتا تھا۔۔۔۔ٹھیک اُسی طرح اگر میں تم لوگوں پر لگام نا ڈالوں تو تم سب مجھے ایک ہی جھٹکے میں برباد کر کے رکھ دو گے۔”
وہ سنجیدگی سے سلطان کی پیٹھ پہ ہاتھ پھیر کر کہنے لگا جبکہ اُسکی بات پر مٹل سر جھکا کر رہ گیا۔
“سائیں ہمیں سرفراز سے پتہ چلا ہے کہ آج کل ہاجرہ اماں کی طبیعت بہت زیادہ خراب رہتی ہے۔۔۔۔اور ڈاکٹر نے بڑے سائیں کو بھی سختی سے تاکید کی ہے کہ انہیں دکھ اور پریشانی سے مکمل دور رکھا جائے،مگر سائیں وہ روز آپ کی یاد میں روتی رہتی ہیں۔”
مٹل کی بات پر وہ ضبط کے مارے اپنی مٹھیاں زور سے کسنے لگا۔مگر اُسی وقت اُس پر ایک جنون سوار ہوتے ہی وہ غصے سے اپنے ہاتھوں کو حرکت دے کر سلطان کا لگام کھینچنے لگا۔پہلے تو سلطان اُس کے اشارے پر ہنہنایا مگر پھر اپنے مالک کے حکم پر وہ اپنے قدم اصطبل کے داخلی دروازے کی جانب بڑھانے لگا۔مٹل اُسی طرح کھڑا دکھ بھری نگاہوں سے اُسے اپنی نظروں سے اوجھل ہوتے ہوئے دیکھ رہا تھا
💖————💖
“شازی اس کا مطلب تم نے اُنہیں معاف کر دیا ہے۔”؟
سرمد شازم سے پوچھ رہا تھا جو سامنے کسی بھی تاثر سے عاری چہرہ لئے گرل پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے دور سیاہ افق پہ نجانے کیا کھوج رہا تھا۔
“سرمد جب تک میری سانسیں چل رہی ہے ،میں تب تک اِنہیں معاف نہیں کروں گا،اُن کی غلطی۔۔نہیں،انہوں نے جو کیا تھا نا،اُسے میری نظروں میں گناہ کہتے ہیں،وہ نا جانے کتنے لوگوں کے قاتل ہیں سرمد،تو بھلا میں کیسے انہیں معاف کر سکتا ہوں۔۔!!!”
اُس نے ضبط سے سرخ ہوتی اپنی نظریں دور سیاه افق سے ہٹا کر سنجیدگی سے سرمد کی جانب دیکھتے ہوئے جنونی انداز میں کہا۔ سرمد نے سامنے ضبط سے گرل تھامے اُس چٹانوں کی طرح مضبوط نوجوان کی جانب دکھ سے دیکھا،جو کہ چار سالوں سے اپنے اندر نا جانے کتنی تکلیف اٹھائے پھر رہا تھا۔
“مگر یار تم اتنے سالوں بعد وہاں جا رہے ہو۔۔۔تو تمہارا اور ان کا سامنا تو ضرور ہوگا۔۔۔پھر وہ جو سب کچھ ہوا تھا یار۔ہوسکتا ہے وہ سب غلط فہمی کی بنا پر ہوا ہو۔”
سرمد نے اُسے سمجھانے کی ایک آخری کوشش کی مگر اس نے ہمیشہ کی طرح اپنا سر نفی میں ہلا دیا۔
“نہیں سرمد میں اپنی چھوٹی سی بہن ماروی کا خون میں لت پت وجود بھلا کیسے فراموش کر سکتا ہوں۔۔۔جس کی وجہ سے میں آج تک پرسکون نیند نہیں سو پاتا،اور کیسے اپنی ماں کی درد میں ڈوبی چیخیں میں بھول سکتا ہوں۔۔۔جو کہ بابا کی وفات کے بعد روز رات کو ہماری حویلی میں گونجتی تھیں۔۔۔۔،سرمد میں اِن سب میں قصور وار نہ ہوتے ہوئے بھی خود کو قصور وار تصور کرتا ہوں.”
اُس نے ضبط سے اپنی آنکھوں سے گرتے اشکوں کو بے دردی سے صاف کیا۔سرمد نے اپنی نم ہوتی آنکھیں اِس کے نم وجیہہ چہرے پر ڈالیں۔
“یار یہ بھی تو ہو سکتا ہے،کہ جو تم سوچ رہے ہو،وہ سب درست نہ ہو۔وہ سب بس تمہاری نظروں کا دھوکہ ہو.”
سرمد نے آگے بڑھ کر اُس کے مضبوط کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے اُسے سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ خود سر انسان کہاں کسی کی سنتا تھا۔جو اس کی سنتا۔
“نہیں سرمد نظروں کا دھوکہ انسان کو ایسے کرب میں مبتلا نہیں کرتا ایسا درد صرف سچائی ہی دیتی ہے۔”
اتنا کہہ کر شازم وہاں رکا نہیں بالکہ سرمد کو مزید بولنے کا موقع دیے بغیر وہاں سے چلا گیا۔
“خدا تمہیں سکون دے میرے دوست۔۔۔۔”
سرمد نے اسے جاتا دیکھ افسوس کے ساتھ کہا۔
💖————💖
جب لینڈ کروزر جام شورو کہ حدود میں داخل ہوئی۔۔۔۔تو ڈرائیونگ کرتے مٹل نے بیک ویو مرر سے شازم کو دیکھا۔۔۔۔جو گاڑی کے پچھلی سیٹ پر بیٹھا اپنی ٹھوڈی پر ہاتھ رکھے کافی سنجیدہ لگ رہا تھا۔
“سائیں آپ کو کچھ چاہیے تو نہیں کیونکہ ابھی سفر بہت رہتا ہے”
مٹل نے اپنی نظریں سامنے ڈرائیونگ پر مرکوز کرتے ہوئے اُسے مخاطب کر کے کہا۔
“مٹل تم صرف اپنی ڈرائیونگ پر توجہ دو۔۔۔۔۔۔۔ جام شورو کا راستہ بہت زیادہ خطرناک ہے اور میں یہاں پہلی بار تو نہیں آیا۔کہ مجھے کچھ پتہ نہ ہو.”
وہ اُسے سخت لہجے میں جھڑک کر کہنے لگا۔۔۔تو مٹل اُس کے سختی سے ڈپٹنے پر خاموشی سے سامنے دیکھتے ہوئے احتیاط سے ڈرائیونگ کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔اور وہ اپنے خوبصورت گاؤں کے منظر میں پھر سے کھو گیا۔
“مٹل کچھ بھی نہیں بدلا یہاں۔۔نہ ہی یہاں کے انسان اور نا ہی چرند پرند سب کچھ ویسا ہی تو ہے۔ جو میں چار سال پہلے یہاں چھوڑ کر گیا تھا۔یہ ٹوٹی پھوٹی پگ ڈنڈیاں،سر سبز کھیت۔جن پر میری بچپن کی بہت ساری یادیں جڑی ہوئی ہیں۔”
اُس نے سامنے نیم کے درخت پر چڑھتے بچوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“مٹل اِس ظالم دنیا میں،اگر میں کسی کو چاہتا ہوں تو وہ ہستی میری خالہ اماں ہے۔جن کی خوشی کے لیے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔یہاں تک کہ میں اُنکی خوشی کے لیے اپنی جان بھی دے سکتا ہوں۔اور یہ تو چھوٹی سی قربانی ہے،جو میں نے دی۔۔۔یہاں آ کر اپنا دردناک ماضی یاد کیا۔۔۔۔مگر جب مجھے خالہ اماں اپنی ممتا بھری آغوش میں لیں گی تو میں اپنا وہ درد ناک ماضی کو بھول جاؤں گا۔”
اُس نے مسکراتے ہوئے تصور میں اپنی خالہ اماں کے ردعمل کو سوچتے ہوئے کہا۔
وہ آج اپنے چار سال پہلے کے درد ناک ماضی کو بھولا کر اگر یہاں آیا تھا تو صرف اپنی خالہ اماں کے لیے۔اُس کے ماضی میں جو بھی ہوا تھا۔۔۔۔۔۔وہ اُسے یاد کرنا بھی نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔۔
“مٹل سائیڈ پر گاڑی روکو۔۔۔۔میں آج اتنے برسوں بعد اپنے گاؤں آیا ہوں۔۔تو میں اپنی کچھ خوبصورت یادیں تازہ کرنا چاہتا ہوں۔یہاں سے حویلی تک پیدل چل کر ۔”
اُس نے کافی سنجیدگی سے سائیڈ پر مٹل کو گاڑی روکنے کا حکم دیتے ہوئے کہا۔مٹل اُس کے حکم پر گاڑی سائیڈ پر پارک کر کے اُسکی جانب فکر مندی سے دیکھنے لگا۔شازم آنکھوں میں ایک انوکھی سی چمک لیے سامنے درخت پر چڑھتے کسانوں کے بچوں کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔
“بیٹا آپ سید علی شاہ کے بیٹے ہو نا.”
شازم گاڑی سے نکل کر اپنے سفید رنگ کے جوگرز ہاتھوں میں تھامے سامنے اُن شرارتی بچوں کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔کہ اپنے پیچھے ایک ضعیف اور کمزور آواز سن کر وہ فوراً سے پیچھے پلٹا۔سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ حیرت زدہ رہ گیا۔کیونکہ سامنے ایک لاغر وجود کے بابا کھڑے اُسے بڑی امید بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
“جی۔بابا۔پَر آپ کون ہیں؟میں آپ کو پہچان نہیں پا رہا۔”
اُس نے غور سے انہیں دیکھتے ہوئے پوچھا۔جبکہ جواب میں بزرگ نے اپنے ہاتھ اسکے سامنے جوڑ دیے۔
“بیٹا میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں۔۔۔خدا کے لئے آپ مم۔میری جوان اور معصوم پوتی کو اُن بے غیرت لوگوں کے چنگل سے بچائیں۔وہ حیوان میری معصوم پوتی کو جان سے مار دیں گے۔”
اُس بوڑھے شخص نے آگے بڑھ کر گڑگڑاتے ہوئے اپنے کمزور ہاتھ اُس کے قدموں پر رکھتے ہوئے روتے ہوئے کہا۔تو اُس نے اُن کی بات پر غصے سے اپنی مٹھیاں زور سے کسیں۔
“بابا ہوا کیا ہے اور آپکی پوتی وہ اِس وقت کہاں ہے۔؟
وہ اُنہیں سامنے نیم کے درخت کے نیچے چھاؤں میں رکھی چارپائیوں میں سے ایک چارپائی پر بیٹھاتے ہوئے پوچھنے لگا۔
“بیٹا میری معصوم پوتی کو رات کے دو بجے ہمارے گھر میں گھس کر میری نظروں کے سامنے سے وہ بے غیرت بے ضمیر درندے اُسے اٹھا کر الماس بائی کے کوٹھے پر لے گئے۔اور میں بوڑھا کمزور جان اپنی پوتی کو بھی نا بچا سکا۔میں صرف بے بس و لاچار کھڑا اُسے اُن بے غیرت لوگوں کے چنگل میں تڑپتا مچلتا ہوا دیکھتا رہ گیا تھا۔”
انہوں نے رو کر اپنے دونوں ضعیف ہاتھ اُس کے مضبوط ہاتھوں میں رکھتے ہوئے کہا۔تو اُس نے اپنا ضبط کھو کر آگے بڑھ کر سامنے کھڑے تناور درخت کی مضبوط ڈالی پر غصے اور جنون میں آ کر اپنا ہاتھ دے مارا اور پھر خاموشی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
💖————💖
“نہیں پہنو گی۔ میں یہ تمہارا لایا ہوا بے ہودہ لباس،سنا تم نے ۔”
اُس اپنے سامنے کھڑی الماس بائی کو ایک ہاف سلیس بلاؤز والا بے ہودہ لباس پکڑے دیکھا تو ضبط کے مارے وہ زور سے چیخ اٹھی۔
اُسکی زور دار چیخ سن کر الماس بائی نے اپنے ہاتھوں میں پکڑے اُس بے ہودہ لباس کو غصے سے دائیں جانب کھڑی اپنی بڑی بیٹی زرناب بائی کو تھامایا اور وہ خود اُسے اپنی تیکھی نظروں سے گھورنے لگی۔
“کیا کہا لڑکی تم نے کہ تم یہ لباس نہیں پہنو گی۔؟
وہ سختی سے اُسے بالوں سے پکڑ کر اُسکا چہرہ اوپر اٹھا کر غصے سے کہنے لگی۔
“آہ۔!
وہ تکلیف کے باعث زور سے چیخ اٹھی۔
“زرناب گل جاؤ اور جا کر اِس حرام زادی کے لیے ایک نیک دولہے کا بندوست کرو۔میں بھی تو دیکھوں یہ نیک پروین بی بی کتنی دیر تک خود کو یا اپنی عزت کو ہم سے بچاتی ہے۔”
وہ غصے سے اُسے گھور کر زرناب بائی کو حکم دیتے ہوئے کہنے لگی۔الماس بائی کی بات پر وہ پہلی بار اُن سے خوف محسوس کرنے لگی۔
“نہیں تم ایسا کچھ بھی نہیں کرو گی،اگر تم نے بائی ایسا کچھ بھی کرنے کا سوچا نا تو میں خود کو ختم کر لوں گی،۔سنا تم نے میں اپنی جان لے لوں گی۔”
اُس نے الماس بائی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر غصے کی زیادتی سے کہا۔
“شوق سے زہر کھا کر مر جانا چندہ رانی۔مگر میرا کام ختم ہونے کے بعد۔تمہیں جب تک میرے مطلب کا کوئی گاہک آ کر یہاں سے لے نہیں جاتا.تب تک میں تمہیں اتنی آسانی سے مرنے نہیں دوں گی۔”
الماس بائی نے آگے بڑھ کر اُسے سختی سے اُسکی ٹھوڈی سے پکڑا۔
“اماں حضور باہر ایک صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔”
اِس سے پہلے کے وہ اُسے اور تکلیف پہنچاتی کہ وہاں بلا توقف اُنکی چھوٹی بیٹی زری نے آ کر الماس بائی سے کہا۔
“کون ہے وہ؟”
الماس بائی نے دانت پیس کر سوال کیا۔
“کوئی آس ہے۔”
یہ نام سن کر الماس بائی حیرت سے زری کو دیکھتی رہ گئیں۔
💞💞💞💞💞💞💞