Noo E Man By Sumyia Baloch Readelle50183 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
“بابا نکاح شروع کریں مولوی صاحب کب سے انتظار کر رہے ہیں۔اور ہماری باتیں ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے۔”
حسن نے سامنے کھڑے شازم کی جانب دیکھتے ہوئے ڈر کر کہا۔تو عظیم صاحب نے شازم کو اشارہ کیا۔
تو وہ آگے بڑھا اور دلکش کے ہاتھوں کو تھام کر اپنے ساتھ سامنے خوبصورتی سے سجائے گئے اسٹیج کی جانب بڑھنے لگا۔دلکش اُسکی حرکت پر اُسے بری طرح سے گھور کر رہ گئی تھیں۔
“مولوی صاحب شروع کریں نکاح۔”
عظیم صاحب نے مولوی صاحب سے کہا۔تو مولوی صاحب نے سر ہلا دیا۔
“ایک منٹ مولوی صاحب۔سالے صاحب میری اجرک لے کر آؤں جو میں نے تمہیں دیا تھا۔”
شازم نے مولوی صاحب کو روک کر حسن کو اپنی اجرک لانے کا کہا۔حسن اُس کے حکم پر جلدی سے اپنے روم کی جانب بھاگا اور اُسکا اجرک لا کر اُسے ڈرتے ہوئے پکڑانے لگا۔
شازم اُسے خود سے خوفزدہ دیکھ طنزیہ انداز میں مسکرانے لگا۔
“عظیم چاچا ہمارے یہاں نکاح کے وقت دلہن کے سر پر دلہے کا چادر یا پھر اجرک پہنایا جاتا ہے۔ایک طرح سے یہ میرے خاندان کی ایک اہم رسم ہے۔”
شازم اپنی اجرک دلکش کے سر پر اوڑھا کر عظیم صاحب سے کہنے لگا۔تو عظیم صاحب نے اُس کی بات سن کر ہاں میں سر ہلایا اور مولوی صاحب کو اشارہ کیا۔
دلکش شہباز میمن ولد شہباز میمن آپ کا نکاح شازم علی ولد علی شاہ کے ساتھ حق مہر بائیس لاکھ روپے سکہ رائج الوقت ہونا طے پایا ہے۔ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔؟؟
مولوی صاحب کے الفاظ نے دلکش کے دل میں اُس شخص کے لیے اور نفرت بڑھا دی تھی اور اس نے خود سے عہد کیا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ اُسے ہر گز معاف نہیں کریں گی۔بھلے اُس نے اُس کے دادا کو معاف کر دیا ہو۔کہ انہوں نے اُس کے ماں باپ اور بہن کو نہیں مارا۔
مگر وہ اُسے کبھی بھی معاف نہیں کرے گی۔
کیونکہ ابھی تک اُس نے اُس کے دادا کے قاتل کو اُس کے سامنے جو کھڑا نہیں کیا تھا۔اُس نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا تھا۔
“قبول ہے۔”
دلکش کی آواز نے ماحول کے تناؤ کو کسی حد تک کم کیا۔تو مولوی صاحب نے دوسری بار پھر اپنے الفاظ دوہرائے۔
“قبول ہے۔”
اب کے وہ سر جھکائے نرمی سے مولوی صاحب کے سوال کا دوسری بار جواب قبول ہے دینے لگی۔
“قبول ہے۔”
تیسری بار مولوی صاحب کے پوچھنے پر وہ گھونگھٹ میں سے شازم کے خوشی سے دمکتے چہرے پر نفرت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔اور اُس کے قبول ہے بولنے پر عظیم صاحب نے آگے بڑھ کر اُس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے سب کو مبارکباد دی۔
اُس سے نکاح نامے پر دستخط لینے کے بعد مولوی صاحب شازم کی جانب بڑھے۔
شازم علی شاہ ولد علی شاہ آپ کا نکاح دلکش شہباز میمن ولد شہباز میمن کے ساتھ حق مہر بائیس لاکھ روپے سکہ رائج الوقت ہونا طے پایا ہے۔کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔؟؟
مولوی صاحب کے سوال پر شازم سائیں نے مسکان ہونٹوں پر سجائے سامنے اجرک سے گھونگھٹ لیے دلکش کی جانب دیکھا۔
“قبول ہے۔”
شازم مولوی صاحب کے سوال پر بولا۔اُسکی آنکھیں خوشی سے دہمک رہی تھی۔اِس وقت اُس کا روم روم خوشیوں سے جھوم رہا تھا۔
“قبول ہے۔”
مولوی صاحب کے دوسری بار دہرانے پر اُس نے محبت سے دلکش کو دیکھتے ہوئے کہا۔اب کے تیسری اور آخری بار مولوی صاحب نے اپنے الفاظ دہرائے۔
“قبول ہے۔”
اُس کے قبول ہے بولنے پر یکدم سے باہر ہوائی فائرنگ شروع ہوئی جس سے دلکش پہلے تو ڈری پھر ناگواری سے اُسے گھورنے لگی۔
“سالے صاحب کہاں۔؟؟
حسن جو سامنے بہت سے کھانوں کی ڈشز دیکھ کر آگے بڑھنے کے لیے اپنے قدم اُس ٹیبل کی جانب بڑھا رہا تھا۔ شازم کی آواز پر وہ کانپتے ہوئے وہیں رکھا اور اُس کے اگلے حکم کا انتظار کرنے لگا۔
“وہ مم۔مجھے بھوک لگ رہی تھی۔تو میں کچھ کھانے کے لیے یہاں آیا۔”
حسن نے اپنی نظریں جھکائے کپکپاتے ہوئے لہجے میں کہا۔تو شازم اُسکی بات سن کر استہزاء نظروں سے اُسے دیکھنے لگا۔
“سالے صاحب اگر تم ایک منٹ میں اُس دلہے کو میرے اُس فلیٹ پر نہیں پہنچاؤ گے۔۔تو یہ سویٹ ڈش تمہاری اور تمہارے ابا حضور کی آخری سویٹ ڈش ثابت ہوگی۔”
اُس نے آگے بڑھ کر ٹیبل سے ایک آئسکریم کپ اٹھا کر اُسے دیتے ہوئے پرُسرار انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔تو حسن نے جلدی سے وہ کپ تھام کر اپنا سر تیزی سے ہلایا۔
“مگر تم اُس دلہے کو لاؤ گے۔کہاں سے وہ تو اُس دنیا میں نہیں ہے۔”
شازم سائیں نے آرام سے اُسکی سماعتوں میں دھماکہ کیا۔شوکڈ کے باعث حسن کے ہاتھوں سے آئسکریم کپ نیچے گرا۔
“اب تم سالے صاحب اپنے پیچھے دیکھوں۔”
دور سب کے گھیرے میں کھڑی دلکش کو دیکھتے ہوئے شازم سنجیدگی سے اُس سے بولنے لگا۔تو حسن پیچھے کی جانب پلٹ کر خوف سے پھیلتی آنکھوں سے سامنے کھڑے اصلحہ برادران کو دیکھنے لگا۔
جو پیچھے کھڑے اُسے اور عظیم صاحب کو بری طرح سے گھور رہے تھے۔
“سائیں پلیز میرے بابا کو جانے دیں۔انہیں اِس بارے میں پتہ نہیں ہے۔کہ میں نے اُن کے بابا کو مارا ہے۔۔وہ بے قصور ہیں۔یہ سب میں نے اکیلے کیا ہے۔دلکش کو میں صرف زرناب بائی کو حاصل کرنے کے لیے۔طوائف بائی کی خواہش پر بنانا چاہتا تھا۔”
اُس کی بات پر شازم غصے سے آگے بڑھا اور اُسے گریبان سے پکڑ کر نفرت انگیز نظروں سے گھورتے ہوئے کہنے لگا۔
“میری دلکش کو طوائف بنانا چاہتا تھا ناں۔اب دیکھنے میں تمہارے ساتھ کرتا کیا ہوں۔”
شازم سائیں اُسے دیکھتے ہوئے نفرت بھرے لہجے میں کہنے لگا۔
“معزز گیسٹ حضرات آپ کو اِس شادی میں ہمارے سالے۔میرا مطلب سالی صاحبہ بور کرنے آ رہی ہے۔”
دلکش جو مضطرب ہو کر اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی۔اُس کی آواز سن کر وہ اپنی نظریں سامنے گھونگھٹ کیے کھڑی شخصیت کو تعجب سے دیکھنے لگی۔
“شازم بیٹا یہ کون ہے۔؟؟ اور دلکش کو یہ کیسی پہچانتی ہے۔؟؟”
عظیم صاحب نے آگے بڑھ کر شازم سے پوچھا تو اُس نے طنزیہ نظروں سے گھونگھٹ کے پیچھے چھپی شخصیت کو دیکھنے لگا۔
“عظیم چاچا۔ ہیں۔ایک گھٹیا انسان مگر اُسے ملانے سے پہلے یہ میرے کہنے پر ایک شاندار رقص کرے گا۔
اور مجھے پکا یقین ہے۔کہ یہ اُس بدنام جگہ پر جا کر سیکھ تو چکا ہوگا۔کہ کیسے رقص کرتے ہیں۔”
وہ اپنی سخت نظریں اُس کے شرمندگی سے کپکپاتے وجود پر ڈالے سرد لہجے میں بولا۔
“یہ کیا تماشا لگا کر لگایا ہے۔تم نے پاگل انسان پہلے تو تم نے میرے ساتھ دھوکے سے نکاح کیا اور اب یہ کون ہے۔اور اِس طرح تم کیوں اُس سے باتیں کر رہے ہو۔”
دلکش شازم کی باتیں سن رہی تھی اُس کے صبر کا پیمانہ جب لبریز ہوا۔ تو وہ غصے سے اسٹیج سے اتر کر اُس کی جانب بڑھ کر غصے سے سرخ ہوتی کہنے لگی۔
“دل میری جان۔کہا تھا ناں اُس دن میں نے۔کہ میں ایک دن تمہارے دادا کے قاتل کو تمہارے سامنے لا کھڑا کروں گا۔مگر میں نے یہ نہیں سوچا تھا۔کہ قاتل یہ گھٹیا انسان ہوگا۔”
نفرت انگیز سرد لہجے میں کہتے شازم نے آگے بڑھ کر اُس شخص کے سر سے چادر کھینچا۔تو اُس شخص کو دیکھ کر وہاں موجود سبھی لوگ شوکڈ رہ گئے۔
“حسن بھائی آپ۔”
دلکش شاک کے باعث اپنا ہاتھ منہ پر رکھتے ہوئے بولی۔تو حسن نے شرمندگی سے اپنا سر ہاں میں ہلا کر اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہنے لگا۔
“ہاں دلکش میں نے ہی دادا سائیں کو مارا ہے۔صرف ایک طوائف زادی کے لیے میں نے یہ سب کیا تھا۔۔اور اُسی کے کہنے پر میں نے اپنے آدمیوں کو کہا کہ وہ تمہارے سامنے شازم سائیں کا نام لے کے اُن کے کہنے پر انہیں مارا گیا ہے۔”
حسن نیچے کسی لٹے ہوئے جواری کی طرح بیٹھتے ہوئے رو کر کہنے لگا۔تو دلکش اُس بات سن کر بے اختیار چند قدم پیچھے ہٹتی چلی گئی۔
“نہیں یہ سچ نہیں ہے۔۔آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔”
وہ بے یقینی سے اپنا سر نفی میں ہلاتے ہوئے بولی۔تو عظیم صاحب نے آگے بڑھ کر زور سے حسن کے چہرے پر تھپڑ رسید کرتے ہوئے کہا۔
” یہ بات سن کر مجھے تم سے نفرت محسوس ہو رہی ہیں۔کہ تم میرے بیٹے ہوں۔تمہارا دل نہیں کانپ اٹھا اُس وقت اُنہیں مارتے ہوئے۔اب دیکھنا میں تمہارا کیا حال کرتا ہوں”
عظیم صاحب نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اُسے اٹھاتے ہوئے چیخ کر کہا۔
“چاچا اِسے آپ نہیں میں سزا دونگا۔؟یہ میرا بھی گناہگار ہے۔”
شازم نے نفرت سے کہتے ہوئے اُس کو اپنے آدمیوں کے حوالے کرتے ہوئے عظیم صاحب سے کہا۔
“بیگم تمہارے اِس خوبصورت چہرے پہ یہ سوگواریت بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا۔جانم تم مجھے لڑتی جھگڑتی اچھی لگتی ہوں۔”
شازم جب اُس کے روم میں داخل ہوا تو اُسے خاموش دیکھ کر وہ آگے بڑھا اور اُسے اپنے بازوؤں میں بھر کر اُس کے روم سے باہر نکلتے ہوئے بولنے لگا۔
“یہ تم کیا کر رہے ہو۔؟؟
دلکش جو اپنے ہی خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی۔وہ گھبرا کر اپنے آس پاس دیکھنے لگی۔تو وہ اردگرد کسی کو ناپاکر پرسکون سانسس خارج کرتے ہوئے وہ سخت غصے سے کہنے لگی۔
“جانم یہ رخصتی ہے۔اور جانم لڑکیاں اپنے سسرال میں زیادہ اچھی لگتی ہے۔میکہ میں نہیں۔اور دل ویسے بھی جہاں میں رہتا ہوں۔اب سے تمہیں وہیں میرے ساتھ رہنا پڑے گا۔”
شازم نے زومعنی نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا۔تو دلکش نے اُسے گھورا۔
“میں تمہیں اتنی آسانی سے معاف نہیں کروں گی۔سید شازم علی شاہ۔تم نے مجھے بہت ٹارچر کیا تھا۔میں اِنہیں کبھی بھولا نہیں سکتی۔اب میری باری ہے۔اور تمہیں میرے ٹارچر کو سہنا پڑے گا۔”
دلکش اُسے غصے سے گھورتے ہوئے تیز لہجے میں بولی۔تو شازم کے چہرے پر اُسکی بات سن کر ایک خوبصورت مسکراہٹ پھیل گئی جسے دیکھ کر وہ ایک لمحے کو مہبوت رہ گئی تھی۔
” کنٹرول دلکش خود کو سنبھالوں۔ اور کبھی بھی کمزور لمحوں کی گرفت میں مت آنا۔۔۔۔یہ تمہارا جانی دشمن ہے۔شوہر اُسے کبھی مت سمجھنا۔”
دوسرے ہی لمحے میں اُس نے خود کو سختی سے سرزنش کرتے ہوئے کہا۔
“ڈارلنگ کہیں مجھے زہر دینے کے لیے پلان تو نہیں بنا رہی ہوں۔”
شازم اُسے باہوں میں اٹھائے اپنی کار کی جانب بڑھتے ہوئے اُس سے کہنے لگا۔تو وہ اُسے طنزیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔
“ہاں یہی سوچ رہی تھی۔مگر پھر خیال آیا تم تو بہت بڑے وڈیرے ہو۔اگر میں نے تمہیں زیر دے کر مارا تو میری ساری زندگی جیل میں گزر جائے گی۔۔۔۔۔۔تو پھر میں نے سوچا کہ کیوں نہ تمہیں تمہارے انداز میں مارا جائے ٹارچر دے کر۔”
وہ بے اختیار ہی اپنا ہاتھ اُس کے شولڈر پر رکھتے ہوئے بولی۔تو اُسکی بات اور حرکت پر شازم سائیں نے ایک زور دار قہقہہ لگایا۔
“جانم میں تیار ہو۔تمہارے ہر ٹارچر کو سہنے کے لیے مگر بشرطیکہ وہ ساری ٹارچر تم محبت سے کروں گی۔”
شازم نے بے باکی سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا۔تو اُسکی بے باکی سے کہنے پر اُس کے گال شرم سے سرخ ہوتی چلی گئی تھی۔
جاری ہے۔
