74.1K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

“دل تم میری بات کیوں نہیں سمجھ رہی یہ لوگ تمہیں تباہ کرنا چاہتے ہیں۔اور تم مت سمجھنا کہ میں تمہیں اِن کے بیچ اکیلا چھوڑ کر یہاں سے چلا جاؤ گا۔”
دلکش کے آگے کھڑے ہوتے ہی شازم نے سخت لہجے میں کہا۔تو دلکش نے غصے سے شازم کو اپنے سامنے کھڑے دیکھا تو وہ اُسے سخت نظروں سے گھورنے لگی۔
“تباہ یہ نہیں سائیں تم کرنا چاہتے ہو مجھے۔۔تم تو مجھ سے آپنے ماں باپ کے قتل کی وجہ سے بدلا لینا چاہتے ہو۔تو پھر یہ میرے اپنے وہ کیوں مجھے تباہ کرنا چاہتے ہیں۔”
وہ اپنے ہاتھ سے اُس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولی۔شازم اُسے خود سے اتنا بدظن دیکھ کر اُسے حسن پر سخت غصہ آیا۔
“نہیں دل تمہارے دادا نے نہیں مارا انہیں۔ اور جس نے بھی میرے رشتوں کو مجھ سے چھینا ہے نا۔میں انہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔مگر اِس وقت میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں۔اور تم میرے جینے کی وجہ بن چکے ہو۔ تو پھر میں تمہیں ان گھٹیا لوگوں کی وجہ سے کیوں کھو دو۔”
شازم نے محبت سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔دلکش تیزی سے آگے بڑھ کر روم کا دروازہ کھولے اُسے اپنی سخت نظروں سے گھورتے ہوئے دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔
“شازم سائیں اب آپ کو سچائی پتہ چل گئی ہے ناں۔کہ میرے دادا آپ کے ماں باپ اور بہن کے قاتل نہیں ہیں۔تو اب میں آپ کی قیدی نہیں ہوں۔سو آپ جو میری زندگی میں طوفان کی طرح آئے تھے ناں۔اب اتنی ہی خاموشی سے میرے گھر سے چلے جائے۔”
دلکش نے دروازہ سے باہر اشارہ کرتے ہوئے کہا۔تو شازم آگے بڑھا اور اُسے نرمی سے دونوں کندھوں سے تھام کر اپنی نظریں اُسکی نظروں سے ملائے کہنے لگا۔
“تم میری قیدی کل بھی تھی۔آج بھی ہو۔
اور ہمیشہ سے رہوں گی۔تمہیں مجھ سے اور میرے عشق کی قید سے اتنی آسانی سے رہائی نہیں ملے گی۔”دلِ جانم۔”
شازم اُس کے دونوں گالوں پر پیار سے اپنا ہاتھ پھیرتے ہوئے مسکرا کر بولا۔دلکش غصے سے اپنے چہرے پر رکھے اُس کے ہاتھ سختی سے جھٹک کر روم سے باہر نکل گئی۔شازم وہیں کھڑا اُسے آپنی نظروں سے دور ہوتا ہوا مسکراتے ہوئے دیکھنے لگا۔
“اب چلوں شازم سائیں۔ دلکش کی زندگی میں طوفان لانے والے اُن دونوں انسان کو آس کا دہشت دیکھانے بہت موقع دیا میں نے ان دونوں کو مگر ان دونوں نے اب کی بار میری دلکش کو نقصان پہنچانے کا سوچا تھا۔اب میں انہیں کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔
وہ نفرت سے اُن دونوں کو سوچتے ہوئے کہنے لگا۔


“حسن میاں تم اتنی جلدی اٹھ بھی گئے ابھی تو۔”
زرناب بائی بولتے ہوئے اپنے فلیٹ کے خوبصورت لاؤنج میں داخل ہوئی،سامنے صوفے پر قہر کی صورت بنے شازم سائیں کو آرام سے بیٹھے دیکھ وہ وہی ٹھہر گئی تھی۔
“ابھی تو کیا بائی ہاں میں بھی تو جانو تم اِس دوغلے انسان کے ساتھ یہاں کیا کر رہی ہوں۔۔اور تمہارے وہ عاشق صاحب کو پتہ ہے۔اس بارے میں کہ تم اسے دھوکہ دے رہی ہوں۔”
تمسخرانہ مسکان ہونٹوں پر سجائے وہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر سامنے حیرت کی مورت بنے زرناب بائی سے کہنے لگا۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو۔اور حسن وہ کہاں ہے۔تم نے اُسے کہاں چھپایا ہے۔بتاؤ ورنہ تمہارے ساتھ بہت برا ہوگا۔”
زرناب بائی غصے سے چند قدم چل کر اُس کے مقابل کھڑے ہو کر غصے سے بولی۔۔تو شازم نے اُسے طنز بھری نظروں سے دیکھا۔
“بائی تم اپنی فکر کروں۔اُس کی نہیں بہت برا ہونے والا ہے۔تمہارے ساتھ اور یہ غصہ سنبھال کر رکھنا آگے بہت کام آئے گا۔”
وہ اُسکی گھوریوں کو خاطر میں لائے بغیر کہنے لگا۔ زرناب بائی مشتعل ہو کر اُس پر ہاتھ اٹھانے والی تھی۔۔۔کہ شازم نے تیزی سے اُسکا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا اور اُسے نفرت سے دیکھنے لگا۔
“بائی تمہارے گناه پہلے سے ہی بہت زیادہ ہے۔اب یہ گناه کر کے تم اپنی زندگی کو دوزح تو نا بناؤ۔”
وہ نفرت سے اُسکی نازک ہاتھ کو زور سے مروڑ کر بولا۔تو زرناب بائی تکلیف کے احساس سے اپنی آنکھیں زور سے بند کر کے چیخ اٹھی تھی۔
“زرناب بائی تُمہیں نے حسن کے ساتھ مل کر دلکش کے دادا کو مارا ہے نا۔اور اگر ہاں۔تو کیوں تم نے ان کے قتل کا الزام مجھ پر لگایا۔کیوں تمہارے آدمیوں نے دلکش کے سامنے میرا نام لیا تھا۔”
شازم اُسے سخت نفرت بھری نگاه سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔تو زرناب بائی اُسکی بات پر ایک زوردار قہقہہ لگا اٹھی تھی۔
“شازم سائیں تم الماس بائی کو اتنی جلدی بھول گئے۔حیرت ہے۔
ابھی وہ کومے سے نہیں نکلی اور تم اُسے اتنی جلدی بھول بھی گئے۔وہ اِس حالت میں صرف تمہاری اُس دلکش کی وجہ سے ہیں۔اگر تم اُس دن اُسے بچانے نہ آتے تو شاید میری ماں اِس حالت میں آج بستر پر پڑی نہ ہوتی۔”
شازم اُس کے لہجے میں دلکش کے لیے نفرت دیکھ کر طنزیہ مسکان مسکا کر اُسے دیکھنے لگا۔
“نہیں بائی بہت اچھی طرح سے یاد ہے۔کہ اُسے کیسے میں نے کومے پر پہنچایا تھا۔اور اب تمہارا بھی یہی حال کروں گا۔”
اپنے جیب سے اپنی بندوق نکال کر وہ خطرناک لہجے میں بولا۔زرناب بائی اُس کو بندوق نکالتے دیکھ خوف سے کانپ اٹھی تھی۔


“خدا کے لئے چھوڑو مجھے پلیز ۔۔۔!!
وہ اُس وقت اِیک تین منزلہ عمارت کی چھت پر الٹا لٹکا زور سے چلا رہا تھا۔مگر وہاں ایسا کوئی بھی نہیں تھا۔جو اُسکی آواز سنتا۔
وہاں سب بے حسی سے کھڑے اُسے الٹے لٹکے ہوئے دیکھ رہے تھے۔مگر کسی میں ہمت نہیں تھی کہ وہ آگے بڑھ کر اُسے اپنے ظالم باس سے بچائے۔کیونکہ وہ سب اپنے باس کے غصے سے سخت ڈرتے تھے۔
“کیوں نہیں حسن صاحب آپ خواہش کرے اور ہم آپ کی خواہش پوری نہ کریں۔یہ تو ظلم ہوگا۔”
رسی کو نیچے کی طرف لے جاتے ہوئے وہ اپنی قہر برساتی نظریں اُس کے خوف کی وجہ سے کانپتے ہوئے وجود پہ گاڑ کر چباتے ہوئے بولا۔
“آہ۔نہیں۔پلیز مجھے معاف کر دو۔اور مجھے نیچے اتارو میں گر جاؤں گا۔پلیز۔”وہ زور سے روتے ہوئے کہنے لگا۔
تو وہ اُسے خوف زدہ دیکھ کر تمسخرانہ مسکان ہونٹوں پہ سجا کر مسکرانے لگا۔
“تمہیں پتہ ہے۔۔۔یہاں سے نیچے گر کر تم ایک ہی منٹ میں اوپر پہنچ جاؤ گے۔۔مگر میں تمہیں ایسی آسان موت بالکل بھی نہیں دونگا۔بہت حساب نکلتے ہیں۔میرا تمہاری طرف سے جیسے تمہیں ہر حال میں مجھے سود سمیت دینا ہوگا۔”
وہ اپنے کپ لنکس کو فولڈ کرکے اُسے سختی سے جبڑے سے پکڑ کر نفرت انگیز سرد لہجے میں کہنے لگا۔تو وہ تکلیف کی شدت برداشت نہ کر سکا اور اپنی آنکھیں بند کرنے لگا۔۔مگر وہ جلدی سے اُسے زور سے تھپڑ رسید کرتے اُسے دوبارہ ہوش میں لاتے ہوئے غصے سے کہنے لگا۔
“میں تمہیں اتنی آسانی سے موت کے گھاٹ نہیں اتاروں گا۔بلکہ تمہیں تڑپا کر تڑپا ماروں گا۔اور روز تمہیں ٹارچر کر کے میں تمہیں اذیت دونگا۔”
وہ سخت نظروں سے اُسے گھور کر خطرناک لہجے سے کہنے لگا۔
“شازم سائیں مجھے معاف کر دے مجھ سے غلطی ہوگئیں۔میں اُس طوائف کے کہنے پر دلکش کو برباد کرنے والا تھا۔اور اُسی کے کہنے پر میں نے اپنے دادا کو بھی مارا ہے۔اور اُس نے کہا تھا کہ الزام آپ پر لگایا جائے دلکش کے سامنے تاکہ وہ آپ سے بدگمان ہو جائے۔اور آپ سے نفرت کرنے پر مجبور ہو جائے۔”
حسن نے اُسے دیکھتے ہوئے تیزی سے کہا۔ شازم نے غصے سے آگے جھک کر اُسے سختی سے جبڑے سے پکڑ کر اُسے گھورتے ہوئے کہنے لگا۔
“پتہ ہے مجھے تم لوگوں کے کارنامے۔اور اُس طوائف کو تو میں نے اُس کے کیے گئے گناہوں کی سزا دے آیا ہوں بہت برا کیا ہے۔تم دونوں نے ہمارے ساتھ تو سزا بھی تم لوگوں کو اُسی حساب سے ملے گا۔”
وہ نفرت سے اُسے اوپر چھت پر کھینچ کر نیچے فرش پر پھینکتے ہوئے سخت لہجے میں کہنے لگا۔
“مگر اُس سے پہلے تم میرا ایک کام کروں گے۔۔۔۔۔تم اپنے گھر جا کر اُس دلہے کو اٹھا کر یہاں لے کر آؤں گے۔شاید میں اِسی خوشی میں تمہیں معاف کر دوں۔”
وہ اُس کے ماتھے پر بندوق کی نال رکھتے ہوئے اُسے آخری چانس دینے لگا۔حسن اتنی جلدی بچنے کی وجہ سے خوشی سے اُس کے پیروں کو پکڑتے ہوئے رو پڑا۔


دلکش سفید رنگ کے عروسی لباس میں ملبوس کوئی آسمان سے اتری ایک معصوم پری معلوم ہو رہی تھی۔
یہ سفید عروسی لباس اُس کے ہونے والے شوہر کی پسند کا تھا۔جو کہ اُس نے کل اُس کے لیے یہ کہہ کر بھیجا تھا۔کہ کل وہ نکاح کے وقت یہ لباس زیب تن کریں۔
“بیٹی اللّٰہ تمہاری یہ ازدواجی زندگی کو خوشیوں سے بھر دے۔اور آپ کے عم سفر آپ کو بہت سارا پیار دے آمین۔
عظیم صاحب آگے بڑھ کر محبت سے اُس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے اُسے بہت ساری دعاؤں سے نوازنے لگے تھے۔
“چاچا آپ فکر کیوں کر رہے ہیں۔آپ کی بیٹی کو آپکا داماد نکاح سے پہلے اتنا زیادہ چاہتا تھا۔تو نکاح کے بعد تو وہ اُسے چاہنے پر مجبور کر دے گا۔کیوں ڈارلنگ سہی کہہ نا میں نے۔”
دلکش اُس آواز پر اپنی نظریں سامنے پھیلی مردانہ ہتھیلی کو دیکھا۔۔وہ جو اُس کے سامنے اپنی ہتھیلی پھیلائے کھڑا تھا۔ اُس نے جھک کر اُس کے دونوں نازک ہاتھوں کو پکڑ کر اُسکی جانب دیکھا جو۔اُسکی لمس پر اپنی پلکیں جھکائے کھڑی تھی۔
“حیرت ہے۔ آج میری ڈیول کی زبان کیوں طنز کے تیر نہیں چلا رہی ہے۔جانم کیا یہ خاموشی کہیں عشق کی جانب تو اشارہ نہیں کر رہی ہے۔”
وہ اُسکی جھکی ہوئی پلکوں کو دیکھتے معنی خیز لہجے میں کہنے لگا۔تو دلکش اُس لہجے کو پہنچان کر یکدم سے اپنی نظریں اوپر اٹھا کر اُسے دیکھنے لگی۔
جو کہ سفید ڈنر سوٹ میں ملبوس اُس کے ہاتھوں کو تھامے کھڑا اُسے اپنی مخمور نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“تم۔۔؟؟
وہ غصے سے اپنے ہاتھوں میں پکڑے سفید فلاورز کے بکے کو زور سے اُس کے چہرے پر مارتے ہوئے کہنے لگی۔
“ہاں میں جانم تمہارا ہمسفر تمہاری زندگی اور تم مجھے جو نام دینا چاؤں گی۔۔۔نکاح کے بعد مجھے جی جان سے منظور ہے۔”
وہ اُسے شرارتی انداز میں آنکھ مار کر کہنے لگا ۔تو دلکش نے اُسے غصے سے گھورا ۔
جاری ہے۔