Noo E Man By Sumyia Baloch Readelle50183 Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
شازم بیٹا آپ کی شادی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔تو صرف میری پسند کی لڑکی سے،اور اگر آپ نے دلکش بیٹی سے زبردستی شادی کرنے کی کوشش کی تو سمجھ لینا،کہ آپ اپنی ماں کو کھو چکے ہیں۔۔۔”
شازم ڈائننگ ہال میں داخل ہوتے ہی سامنے کرسی پر بیٹھی ہاجرہ ماں کے ہاتھوں کو محبت سے چھوم کر اپنی آنکھوں سے لگائے وہ اپنا سر ان کے آگے جھکا کر نیچے اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا،تو انہوں نے اپنا ہاتھ اُس کے سر پر رکھتے ہوئے کہا۔
“اماں میں کسی اور لڑکی سے شادی ہر گز نہیں کروں گا۔۔کیونکہ دلکش میری زندگی ہے۔۔۔اور بھلا میں اُسے کیسے دھوکہ دے سکتا ہوں۔”
وہ دلکش کو آپنی نظروں کے سامنے دیکھ کر ڈرامائی انداز میں بولا۔۔۔۔تو دلکش اُس جھوٹے فریبی اور مکار شخص کو تیز نظروں سے گھور کر دیکھنے لگی۔
“شازم بیٹا میں مانتی ہو۔۔۔۔آپ دلکش بیٹی کو بہت زیادہ چاہتے ہیں۔مگر دلکش بیٹی آپ کو نہیں چاہتی۔اور بیٹا جب آپ کی محبت آپ کے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی۔تو میرے بچے یہ زور زبردستی کرنے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔بلکہ آپ یہ سب کر کے اپنی محبت کی نظروں میں خود کو گرا رہے ہیں۔۔۔”
ہاجرہ بی بی اُسے سمجھاتے ہوئے بولیں۔
“اماں، میں دلکش کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہوں،چاہے وہ سہی ہو۔۔۔۔یا پھر غلط مجھے اُس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔اور اگر مجھے دلکش کی نظروں میں گرنا بھی پڑا ناں، تو میں وہ بھی کر گزروں گا۔”
وہ اُس پر آپنی نظریں جما کر مضبوط لہجے میں بولا۔۔۔تو دلکش اُسے اپنی جانب تھکتے پاکر سخت نفرت سے اُسے گھور کر دیکھنے لگی۔
“نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔شازم بیٹا تم دلکش بیٹی کے ساتھ زبردستی سے شادی نہیں کرو گے،اور اگر آپ نے ایسا کیا تو میں بھول جاؤ گی کہ تم میرے بیٹے ہوں۔۔”
ہاجرہ ماں غصے سے اٹھتے ہوئے بولی۔۔تو شازم آگے بڑھ کر اُنہیں نرمی سے تھام کے محبت سے واپس کرسی پر بیٹھا کر دلکش کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
“اماں شادی تو میں آپکی پسند کی لڑکی سے بھی کرنے کے لیے تیار ہو۔۔۔۔۔۔۔اور ویسے بھی اسلام میں چار شادیوں کی اجازت ہے۔۔۔۔۔ایک آپکی پسند کی ہی سہی مگر میں شادی ضرور کروں گا،اور رہی دلکش کو چھوڑنے کی بات وہ میں مر کر بھی نہیں کروں گا۔۔”
وہ دلکش کو اپنی نظروں کے ایثار میں لے کر بولا۔
“بس۔۔۔بہت ہوگیا شازم سائیں۔۔میں جو کب سے تمہاری بکواس سن رہی ہو نا۔۔۔۔۔تو تم یہ مت سمجھنا کہ میں تم سے ڈر گئیں۔۔۔۔۔میں نا ہی آج ڈروں گی تم سے،اور نا ہی کل سمجھے تم۔”
دلکش عین اُس کے مقابل کھڑے ہو کر شدید غضبناک لہجے میں بولی۔شازم اُسے اپنے مقابل کھڑے دیکھ کر آگے بڑھا اور اُسے کندھوں سے پکڑ کر اپنی نظریں اُن غصیلی نظروں میں گاڑے سخت لہجے میں کہنے لگا۔
“جَانم تم مجھ سے ضرور ڈروں گی۔۔۔اور یہ بہت جلد ہوگا۔۔اور جب تم مجھ سے خوفزدہ ہوگی نا۔۔۔۔تب میں تمہیں ایک تحفہ دونگا۔۔۔۔۔زندگی کا سب سے برا اور خوفناک تحفہ جو تمہارے لیے سب سے زیادہ برا ثابت ہوگا۔”https://www.facebook.com/groups/202122441684609/?ref=share
اُس کے کندھوں پر اپنی انگلیاں سختی سے گاڑے وہ نفرت انگیز سرد لہجے میں بولا۔تو دلکش کے آنکھوں سے تکلیف کے مارے آنسو تواتر سے بہنے لگے۔
“یہ تم نے کیا لگا کر رکھا ہے۔۔۔۔ڈروں گی۔۔۔۔۔میں اور تم سے خوفزدہ ہونگی تو یہ تمہاری سب سے بڑی بھول ہے،نا میں تم سے آج ڈروں گی،اور نا ہی کل سنا تم نے سنکی انسان۔۔”
اُس کی سخت گرفت سے نکل کر وہ سخت لہجے میں کہہ کر اوپر اپنے روم کی جانب بھاگنے لگی تھی۔اور وہ مسکرا کر اُسے سیڑھیاں طے کرتے ہوئے دیکھنے لگا ________________________________
“کہاں چھپے ہو تم باہر نکلوں کمینے انسان۔۔۔؟؟
حویلی کے دروازے کو زور سے لاتھ مار کر کھولتے ہوئے ایک شخص اندر داخل ہوا اور غصیلی آواز میں چیخ کر کہنے لگا۔۔۔۔۔مٹل جو اُس کے پیچھے بھاگتے ہوئے آ رہا تھا۔۔وہ اُسے سختی سے پکڑ کر باہر کی طرف لے جانا لگا۔
“ایک منٹ مٹل۔۔”
شازم علی شاہ سیڑھیوں سے نیچے اترتے ہوئے سامنے وہ خود کو غصے سے گھورتے ہوئے شخص کو دیکھ کر مٹل سے بولا۔۔جو دروازے کے سامنے کھڑا اُس شخص کو قابو کر رہا تھا۔
“زلیل انسان بولوں کہاں چھپایا ہے۔۔۔۔تم نے میری دلکش کو بتا۔کہاں ہے وہ۔۔۔تم ایک جنگلی جانور ہو جو ایک عورت کو اُس کی مرضی کے بغیر تم نے اُسے زبردستی یہاں چھپا کے رکھا ہوا ہے۔۔۔”https://www.facebook.com/groups/202122441684609/?ref=share
اُس شخص کے منہ سے میری دلکش سن کر اُسکا دل کیا کہ سامنے کھڑے شخص کو گولیوں سے بھون کر رکھ دیں۔
“تم مجھے ہماری اِس پہلی ملاقات میں ایک آنکھ بھی نہیں بھائے۔۔۔۔۔۔۔اور اگر تم نہیں چاہتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ میں تمہیں یہاں سے سیدھا ہسپتال کی سیر کرواؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو تم میری جان کو باجی یا پھر بہن کہہ کر بلاؤ۔۔۔ورنہ دوسری صورت میں میرا یہ ہسپتال والا آفر ابھی تک اپنی جگہ پر قائم ہیں۔۔”وہ خود پر مشکل سے قابو پا کر یکدم سے طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے بولنے لگا۔
“یہ کیا طریقہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چھوڑے میرے کزن کو،اور تم جاہل انسان۔۔۔۔اپنے ملازم سے کہوں جلدی سے اِنہیں چھوڑے ورنہ میں تمہارے ساتھ تمہارے اِس کم عقل ملازم کو بھی جان سے مار ڈال دوں گی۔”
دلکش جو ہاجرہ ماں کے روم سے نکل کر اپنے روم کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔۔نیچے لاؤنج میں ایک عجیب شور سن کر وہ تیزی سے گیلری کی جانب بڑھی اور نیچے جھانک کر دیکھنے لگی،جہاں اُس گھمنڈی شخص کو اور اُس کے ملازم مٹل کو اور اُس کے گھیرے میں غصے سے مچلتے ہوئے حسن بھائی کو دیکھ کر وہ جلدی سے سیڑھیاں طے کر کے اُن کی جانب پہنچتے ہی غصے سے کہنے لگی۔https://www.facebook.com/groups/202122441684609/?ref=share
“دلِ جاَنم۔اگر میں اُسے اُسکی غلطیوں پر اوپر کی ٹکٹ کٹوانے کا مٹل کو حکم دے دوں تو کیسا رہے گا۔۔مجھے تو بہت اچھا لگے گا،اور اِس خبیث انسان سے ایک نہیں بلکہ دو غلطیاں ہوئیں ہے۔۔۔۔۔۔ایک یہاں میرے گھر میں حرام خوروں کی طرح دندنا کے آ کر مجھے غصہ دلاتے ہوئے اور دوسرا تمہیں میری دلکش کہہ کر۔۔۔۔جو مجھے بالکل بھی برداشت نہیں ہے۔۔۔”
وہ غصے سے پاگل ہو کر اُس شخص کی جانب بڑھا اور اُس کے اوپر جھکتے ہوئے جنونی انداز میں اُس پر مکوں اور تھپڑوں کی بوچھاڑ کرنے لگا۔
“بس بہت ہوگیا۔۔۔اب اور نہیں۔۔۔۔۔میں نہیں جانتی کے تم یہ سب کیوں کر رہے ہوں۔۔۔۔۔۔مگر اب بات میری فیملی کی ہے۔۔۔اور کوئی میری فیملی پر ظلم کرے یہ میں برداشت نہیں کر سکتی ہوں۔۔”
دلکش غصے میں آ کر آگے کی جانب جھکتے ہی اُسے پیچھے کی جانب دھکیلنے کی کوشش میں ہلکان ہوتے شدید نفرت سے بولی۔شازم اُس کے دھکے سے بالکل بھی نا ہلا وہ اُسی طرح حسن کے اوپر جھکا اُسے غصے سے گھورے جا رہا تھا۔
“یاد رکھنا دلکش میری جان اگر تم اپنی فیملی کی وجہ سے مجھ سے جدا ہوئی نا۔تو میں تمہارے ساتھ تمہارے سبھی لالچی خاندان کو برباد کر کے رکھ دوں گا۔۔”https://www.facebook.com/groups/202122441684609/?ref=share
شازم شاہ اپنی شہادت کی اُنگلی اُٹھا کر اُس کی نظروں سے نظریں ملائیں جنونی انداز میں بول کر اُسے فرصت کے عالم میں دیکھنے لگا۔۔۔۔جو اُس کی بات پر اب اضطراب کے عالم میں اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی۔
“حسن بھائی آپ ٹھیک تو ہیں۔۔اُس جنگلی انسان نے آپ کو بہت تکلیف پہنچائی اُورر آپ۔۔۔۔یہاں کیسے پہنچے اور چاچا چاچی وہ کہاں ہے…؟؟
دلکش اُس شخص کو اپنے ساتھ اُس کمرے میں لے کر آئی جہاں پر وہ اتنے دنوں سے رہ رہی تھی۔۔وہ پریشانی کے عالم میں آگے بڑھی اور اُسکی پیشانی کو چھوتے ہوئے فکر مندی سے بولی۔۔۔تو اُس شخص نے تیزی سے اُسے سائیڈ پر کر کے خود آگے بڑھتے ہوئے روم کا دروازہ لاک کیا اور پیچھے پلٹ کر اُسے محبت سے دیکھنے لگا۔
“دلکش میری بہن تمہیں پتہ ہے۔۔۔میں نے تمہیں کہا،کہا نہیں ڈھونڈا۔۔۔اور جب مجھے اِسی بیچ دادا سائیں کی موت کا پتہ چلا تو میں ٹوٹ کر رہ گیا۔۔۔۔۔اور پھر تمہارا خیال آیا تو میں شہر سے سیدھا یہاں گاؤں میں تمہیں ڈھونڈنے کے لیے آ گیا،مگر جب مجھے پتہ چلا کہ تم اِس گھمنڈی شخص کے قبضے میں ہو۔تو میں نے کسی چیز کی بھی پرواہ نہ کی اور میں یہاں تمہیں لینے کے لیے پہنچ گیا۔۔۔۔اور دلکش دادا کو کس نے قتل کیا ہے۔۔اور اگر اِس شخص نے اُنہیں مارا ہے ناں تو میں اِس شخص کو زندہ نہیں چھوڑا گا۔”
اُس شخص نے اُسے دونوں کندھوں سے پکڑے اپنے اتنے دنوں کی تڑپ اور اُسکی گم شدگی کے بارے میں بتانے لگا،اور آخر میں اُس کے لہجے میں شازم کے لیے بے انتہا نفرت دلکش نے بے ساختہ محسوس کیا۔
“ہاں حسن بھائی مجھے اور دادا کو جب اُس الماس بائی کی اصلیت کا پتہ چلا تو بہت دیر ہو چکی تھیں۔۔۔۔۔۔۔اُس گھٹیا عورت نے مجھے اپنے آدمیوں کے زریعے گھر سے اٹھوایا۔۔۔اور پھر مجھے بھی اپنے اُس بے ہودہ دھندے میں اُس نے لگانے کی کوشش کی مگر اُس سے پہلے کے وہ اپنے گھٹیا کام میں کامیاب ہوتی،اِس جنگلی انسان نے وہاں آ کر اپنا ڈراما شروع کر دیا۔اور بھیا یہ سب کچھ وہ اپنے انتقام لینے کی وجہ سے کر رہا ہیں۔”
دلکش اُنہیں بیڈ پر بٹھا کر آرام سے کہتے ہوئے اُن کے سامنے فرسٹ ایڈ باکس رکھنے لگی۔۔۔تبھی اچانک سے کسی نے روم کا دروازہ زور سے لاتھ مارتے ہوئے کھولا۔
جاری ہے۔
