74.1K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

“مٹل پتہ کروایا تم نے کہ سجاول شاہ آجکل کہاں پر ہے۔اور وہ آجکل کیا نیا گل کھلا رہا ہیں۔اُس طوائف کا تو پتہ اُسے ہر گز نہیں چلنا چاہئیے۔”
شازم نے کل ہی مٹل کو سجاول شاہ کے بارے میں پتہ کرنے کے لیے کہا تھا۔مٹل جب آج حویلی پہنچا تو اُس نے اپنے ایک ملازم کو اُسے اپنے پاس بلانے کے لئے کہا۔اور جب مٹل اُس کے روم میں اُسے سلام کرتے ہوئے اندر داخل ہوا تو وہ اُس کے سلام کا جواب دیتے ہوئے اُس سے پوچھنے لگا۔
“نہیں سائیں پتہ نہیں چلا کہ وہ کہاں چلے گئے ہیں۔آپ زرناب بائی کی فکر مت کریں بوا مائی کو میں نے اُس پر نظر رکھنے کا کہا ہے۔اور وہ اِس وقت سخت تکلیف میں اُسے خبر نہیں دے سکے گی‌۔کیونکہ بوا مائی نے کم اُسے مارا نہیں ہے۔جو وہ سجاول شاہ کو فون کرنے کی غلطی کر بیٹھے۔”
مٹل نے اپنی نظریں جھکاتے ہوئے کہا۔
“ایک کام کروں تم الماس بائی کا پتہ کروں۔کہ وہ اب پہلے سے بہتر ہے۔یا نہیں اور اگر وہ کومے سے باہر نکلی ہے۔تو اُسے اور اُسکی چھوٹی بیٹی زر کو تھر والے فارم ہاؤس میں لے کر آؤں۔جہاں زرناب بائی کو میں نے قید کیا ہے۔”
اُسے حکم دیتے ہوئے وہ کہنے لگا۔تو مٹل نے اُسکے حکم پر سر ہلاتے ہوئے باہر کی جانب بڑھنے لگا۔تو وہ اپنے جیب سے موبائل نکال کر سامنے کھڑکی کی جانب بڑھا۔
“ہاں سرمد کیا ہوا تم کیوں بار بار مجھے کال کر رہے ہو۔کیا کوئی مسلہ ہے۔جو تمہیں بے چین کر رہا ہے۔اور تم مجھے پاگلوں کی طرح کال پر کال کیے جا رہے ہوں؟؟
وہ کھڑکی کے سامنے کھڑے ہو کر باہر سر سبز لان کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔تو دوسری جانب سرمد نے خفگی سے کہا۔
“یار تم تو بہت ہی بڑے بے مروت انسان نکلے۔میرا احسان یاد کرنے کے بجائے تم مجھے کہہ رہے ہو۔کہ میں نے تمہیں کیوں فون کیا ہے۔؟
مصنوعی غصیلی آواز پر شازم کے ہونٹ مسکرانے لگے تھے۔اور دوسری جانب سرمد اُس کی خاموشی پر مزید چڑ کر بولا۔
“یار میں نے تمہیں فون اِس لیے کیا ہے۔تاکہ تم وہیں غلطی مت کروں جس کی وجہ سے تمہیں بھابھی نے جیل پہنچایا تھا۔اگر اِس بار ایسا کچھ ہوا تو میں تمہیں بچانے نہیں آؤں گا۔”
سرمد اُسے سمجھاتے ہوئے کہنے لگا۔شازم جو اُسے سن رہا تھا۔۔۔۔اُسکی آخری بات چڑ کر کہنے پر مجبورأ وہ زور سے قہقہہ لگا اٹھا تھا۔
“ہوں تو تم نے اِسی لیے مجھے کال کیا ہے۔کہ میں اُسے کچھ مت کرو۔نہ سرمد یہ اب ناممکن ہے۔تمہاری بھابھی نے خود مجھے مجبور کیا ہے۔یہ سب کرنے کو۔اب وہ چاہ کر بھی مجھ سے نہیں بچ سکتی۔”
شازم اب کے سنجیدگی سے بولا تھا۔تو اُسکی بات پر سرمد نے ان دونوں کے بارے میں تاسف سے سوچا۔کہ اِن دونوں کا کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔


“الماس بائی میں نے تمہیں یہاں اِس لیے بلایا ہے۔تاکہ تمہیں تمہاری بیٹی کی حرکتوں کے بارے میں اگاہ کر سکو۔اور تمہیں تمہاری بیٹیوں کو اِس گاؤں سے نکل جانے کے لیے کہوں۔اب اگر تم اور تمہاری بیٹیاں مجھے دوباره اِس گاؤں میں نظر آئی نا۔تو تم لوگوں کے لیے بہتر نہیں ہوگا۔”
سفید کاٹن کے قمیص شلوار میں ملبوس اپنے مضبوط کاٹھی پر سندھی اجرک ڈالے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے وہ صوفے پر بیٹھا غصے سے سامنے کانپتی الماس بائی کو دیکھ رہا تھا۔جو سندھ کی جانی مانی ایک طوائف زادی تھی۔
“معافی شازم سائیں ہم سے بہت بڑی غلطی ہوگئی،جو ہم لالچ میں آ کر آپکی اپنی بیٹیوں پر نظر نا رکھ سکے
ہم ابھی اور اِسی وقت اپنی بیٹیوں کو لے کر گاؤں سے چلے جاتے۔مگر میری بڑی بیٹی وہ پتہ نہیں کہا چلی گئی ہے ۔”
الماس بائی نے آگے بڑھ کر آپنے کانپتے ہوئے ہاتھ اُس کے پیروں پر رکھے رو کر گڑگڑاتے ہوۓ کہنے لگی۔تو اُس نے سنجیدگی سے سامنے کھڑے مٹل کو اشاره کیا۔مٹل غصے سے آگے بڑھا اور الماس بائی کو کھینچ کر اُس سے دور کرنے لگا۔
“بائی تمہاری بیٹی میری قید میں ہے۔اگر وہ سدھر گئی ہے ۔تو میں اُسے تمہارے ساتھ بھیجتا ہو۔اور اگر وہ سدھرنا نہیں چاہتی تو میں اُسے ختم کر دونگا۔”
وہ اُس عورت کی بے بسی کو مکمل نظر انداز کرتے ہوۓ سرد لہجے میں بولا، تو الماس بائی جو آنسو بہا رہی تھی۔اُسے ساکت ہو کر دیکھنے لگی۔
“سائیں ایسا مت کریں میں اپنی بیٹی کو لے کر یہاں سے بہت دور چلی جاتی ہو۔آپ خدا را اُسے چھوڑ دیں۔”
بائی نے روتے ہوۓ کہا۔ تو شازم غصے سے اُسے گھورتے ہوئے مٹل سے کہنے لگا۔
“مٹل اِس بے غیرت اور بدچلن عورت کے ساتھ اِس کے پورے خاندان کو بڑے عزت کے ساتھ ہمارے گاؤں سے نکال باہر کر دو،لیکن مٹل اُس سے پہلے تم اِسکی بیٹی کو دیکھنا کے وہ سدھرنا چاہتی ہے۔کہ نہیں اگر سدھرنا نہیں چاہتی تو اُسے مار دوں۔تاکہ ہماری آنے والی نسل اِن کی بے حیائی سے محفوظ رہ سکے۔”
وہ تیکھے چتونوں سے الماس بائی کو گھورتے ہوۓ اپنے سندھی زبان میں کہنے لگا۔تو مٹل اُس کے حکم پر آگے بڑھا اور الماس بائی کو کندھوں سے پکڑ کر باہر کی جانب بڑھنے لگا۔


“بیٹی یہ تم کیا کر رہی ہو ۔وہاں نو کروں کے کواٹر کی جانب کیوں جا رہی ہو ۔وہاں صرف ہمارے ملازم رہتے ہیں۔؟؟
ہاجرہ اماں کو حیرت ہوئی اُسے دوبارہ حویلی میں دیکھ کر اور اِس وقت تو اِنہیں حیرت کا جھٹکا لگا اُنہوں نے جب اُسے ملازموں کے کواٹر کی جانب بڑھتے دیکھا تو وہ اپنی حیرت اُس پر ظاہر کرتے ہوۓ بولیں۔
” آنٹی میں بھی تو یہاں ایک نوکر کی حیثیت سے آئی تھی۔تو اُسے حساب سے میں آپکی ملازمہ ہوئی اور اگر آپ کو کچھ چاہیے ؟۔تو میں حاضر ہوں۔”
وہ اُنکی جانب سنجیدگی سے دیکھتے ہوۓ بولی تھی۔تو انہوں نے اُسے اتنا سنجیدہ دیکھا تو وہ آگے بڑھ کر اُس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگی ۔
“بیٹی مجھے پتہ ہے ۔شازم نے آپ کے ساتھ نکاح کیا ہے ۔اور میں مانتی ہو۔اُس نے آپ کے ساتھ جو پہلے کیا تھا۔وہ سب غلط تھا۔لیکن بیٹا اُسے بُرا کبھی مت سمجھنا وہ دل کا بہت ہی اچھا ہے۔اُس سے بدگمان کبھی بھی مت ہونا وہ تمہیں بہت چاہتا ہے۔اُس کا مان کبھی بھی مت ٹوٹنے دینا۔”
اُنہوں نے اُسکے دونوں گالوں پر ہاتھ رکھتے ہوۓ محبت اے کہا۔تو وہ آج پہلی بار اُس کے زکر سے چڑے بنا اپنا سر ہاں میں ہلانے لگی تھی۔
“دلکش تمہیں سائیں اپنے روم میں بلا رہے ہیں۔جاؤ اور ہاں یہ بھی انہیں دیں دینا کیونکہ اِس وقت وہ کافی پیتے ہیں ۔اور اُنہوں نے کہا ہے ۔کہ اب سے اُن کے سارے کام آپ کرے گی۔”
حویلی کی سب سے پرانی ملازمہ نجمہ نے وہاں آکر اُس کے ہاتھوں میں کافی کا مگ پکڑاتے ہوۓ کہا۔تو وہ ہاجرہ اماں نے نجمہ کو گھورتے ہوۓ کہا ۔
“نجمہ یہ تم کس لہجے میں ہماری بہو سے بات کر رہی ہو ۔وہ اِس گھر کی ملازمہ نہیں ہے ۔جو تم اُس سے اِس لہجے میں بات کر رہے ہو ۔”
ہاجرہ بی بی نے غصے سے کہا ۔تو نجمہ شرمندگی سے اپنا سر جکھاتے ہوۓ دلکش سے معافی مانگنے لگی۔
“کوئی بات نہیں نجمہ جب تک آپ کے شاہ سائیں مجھے اپنی بیوی تسلیم نہیں کرتے تب تک آپ مجھے اُسی طرح مخاطب کر کے بلاۓ۔لیکن ہاجرہ اماں اگر نجمہ مجھے اِس طرح میرا نام لے کر بلائے گی۔تو مجھے اچھا لگے گا۔کیونکہ وہ مجھ سے عمر میں بہت بڑی ہے۔اور سب سے بڑی بات وہ بھی ہماری طرح ایک انسان ہی ہیں۔اور اماں ویسے بھی یہاں کے سبھی ملازم محنت کر کے پیسہ کماتے ہیں۔تو یہ ہمارے ملازم ہو سکتے ہیں ۔مگر غلام نہیں۔”
دلکش نے سمجھداری سے کہہ کر اُن دونوں کی جانب دیکھا۔تو وہ دونوں اُسکی بات پر مسکراتے ہوۓ اُسے دیکھنے لگے۔ہاجرہ بی بی اپنے بیٹے کی پسند پر یکدم سے فخر محسوس کرنے لگی تھیں۔


“شاہ سائیں آپ نے مجھے بلایا تھا۔کیا کوئی ضروری کام ہے آپکو مجھ سے۔؟؟
روم میں نوک کرتے ہوۓ وہ اندر داخل ہو کر کہنے لگی۔وہ اپنی نظریں نیچے جھکائے روم کے بیچوں بیچ کھڑی اُسکے جواب کی منتظر کھڑی تھی۔شازم جو شاور لے کر ابھی بیڈ روم سے اٹیچ واش روم سے باہر نکلا تھا۔تو اُسے ہاتھوں میں کافی کا مگ پکڑے دیکھ کر وہ اُسکی جانب اپنے قدم بڑھانے لگا۔
” ہاں کام تو ہے۔مگر تم اُسے کرنا اپنی توہین سمجھتی ہو۔تو اِس سے بہتر نہیں ہے۔کہ میں یہ کافی پی کر اپنی یہ حسرت پوری کر لوں۔”
وہ اُسے کمر سے پکڑ کر اپنی جانب کرتے ہوۓ بے باکی سے اُسکے ہونٹوں کی جانب دیکھتے ہوۓ بولا۔تو دلکش اُسکی بے باک نظریں اپنے ہونٹوں پر مرکوز ہوتے دیکھ کر شرم سے سرخ ہوتی وہ اُسکی گرفت سے نکلنے کی بھرپور کوشش کرنے لگی۔
“بے ہودہ انسان چھوڑو مجھے۔”
وہ اُسکی باہوں میں پھڑپھڑاتے ہوۓ غصے سے کہنے لگی۔لیکن شازم کہا اُسکی سن رہا تھا۔آج تو وہ اُسے بہت ہی بدلا ہوا لگ رہا تھا۔اُس شازم سے الگ جو وہ اُس سے نفرت کرتی تھی۔یہ تو اُسے اپنا اپنا سا لگ رہا تھا۔
“یہ لوں ڈارلنگ۔”
شازم نے اُسے چھوڑتے ہوئے کہا۔تو نیچے گرتے ہی اُسکا سارا سحر کہیں گم ہو کر رہ گیا۔
“یہ کیا کر دیا تم نے۔ تم میں زرا سی بھی تمیز ہے۔کہ نہیں۔بدتمیز انسان۔کوئی اِس طرح کرتا ہے۔کیا جو تم نے یہ حرکت کی جاہل انسان۔”
غصیلی نظروں سے گھورتی وہ تیز لہجے میں بولی۔تو شازم نے طنزیہ نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے نیچے جھک کر کہا۔
“مس دلکش میں بدتمیز جاہل جو کچھ بھی ہوں۔وہ صرف تمہارے لیے ہو۔اور کسی کے لیے بھی نہیں۔بے بی اور مجھے بننا بھی پسند نہیں ہے۔کسی کے لیے جاہل انسان۔”
اُس کے چہرے کو جکڑ کر وہ کمینگی سے کہنے لگا۔تو دلکش نے اپنا چہرہ غصے سے اُس سے چھڑاتے ہوئے کہا۔
“مسٹر شاه سائیں آپکو جو کام ہے۔وہ مجھے بتا دیں۔مجھے اور بھی بہت سارے کام ہے۔ابھی آپ کے لیے تو مجھے کھانا بھی بنانا ہے۔”
کھڑی ہو کر وہ سپاٹ لہجے میں کہنے لگی۔تو شازم نے اُسے مسکراتے ہوئے دیکھا اور کافی کا مگ اُسے دیتے ہوئے کہنے لگا۔
“بے بی کھانا بناتے وقت میرے کھانے میں ضرور زیر ملا دینا تاکہ تمہیں جلدی سے میرے قید سے آزادی مل جائے گی۔”
شازم نے طنزیہ انداز میں کہتے ہی اُسے دیکھا۔جو اُسے غصے سے گھور رہی تھی۔
“میں اتنی سنگدل نہیں ہوں۔کہ تمہاری طرح انتقام میں جل کر سب کچھ بھولا دونگی۔اور ایک بے گناه کی جان لے لونگی۔۔”
یہ کہہ کر اُس نے اپنے قدم روم سے باہر کی جانب بڑھائے۔تو شازم وہی کھڑا اُس کے لہجے کی نرمی کو محسوس کرنے لگا۔جو یہ بات کرتے ہوئے اُس نے اُسکے لہجے میں اپنے لئے محسوس کیا تھا۔
“دلکش بی بی یہ لہجے کہیں محبت کی جانب تو اشاره نہیں کر رہا۔اور اگر کر رہا ہے۔تو میں سب کچھ بھول کر تمہارے پاس واپس لوٹنا چاؤں گا۔”
اُسے جاتے ہوئے دیکھ کر وہ آہستگی سے خود سے کہنے لگا۔
جاری ہے۔