53.6K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

“آج اُس جنگلی انسان نے آخر اپنی اصلیت دکھا ہی دی۔یہ حرکت کر کے آخر وہ کیا ثابت کرنا چاہتا ہے۔مجھے ورغلانا چاہتا ہے۔تو یہ اُس کی خوش فہمی ہے۔میں کبھی نہ آؤ اُس پاگل انسان کی باتوں میں۔
اور اُس کی اتنی ہمت کے اُس نے میرا ہاتھ پکڑا میرا۔ڈھٹائی تو دیکھو وہ مجھ سے اپنی جھوٹی محبت کی باتیں کرنے لگا۔اگر اِسی طرح چلتا رہا نا۔تو میں کسی دن اُسے موت کے گھاٹ اتار دوں گی۔”
دلکش گھر میں داخل ہوتے ہی سیدھا اپنے روم میں جا کر غصے سے اپنا چادر اتارتے ہوئے سامنے ٹیبل پر رکھ کر دوپٹہ اوڑھتی بڑبڑاتی ہوئی باہر نکل کچن کی جانب بڑھی۔
حسن جو لاؤنج میں رکھے صوفے پر بیٹھا چائے پی رہا تھا۔اُسے زور سے بڑبڑاتے ہوئے دیکھ کر کپ سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوئے اٹھا اور اُس پیچھے کچن میں داخل ہو کر کہنے لگا۔
“کیا ہوا دلکش تم آج اتنے غصے میں خیر تو ہے۔۔کہیں پھر سے وہ شخص تمہیں نہیں مل گیا جو تم اپنا سارا غصہ ان بے چاروں پر اتار رہی ہوں۔
حسن نے ماحول کو ترو تازہ کرنے کے لیے مزاحیہ انداز میں کہا۔
حسن کی بات پر دلکش کے برتن مانجھتے ہاتھ رکے۔۔جو وہ بیسن کے سامنے کھڑی اپنا سارا غصہ وہ اِن گندے برتنوں پر نکال رہی تھی۔اُس کی بات پر اُس کے ہاتھ رکھے اور وہ پلٹ کر اُسے دیکھنے لگی۔۔تو حسن اُسے اپنی جانب اِس طرح
“اِس کا مطلب۔وہ جنگلی انسان یہاں بھی آیا تھا۔میری غیر موجودگی میں۔حسن بھائی کیا اُس بدتمیز شخص نے یہاں آ کر آپ لوگوں کے ساتھ کچھ برا تو نہیں کیا تھا ناں۔
غصے سے وہ اپنی مٹھیاں زور سے کھستے ہوئے بولی۔
“اور یہ پاگل سنکی انسان اتنا گرے گا مجھے اندازہ بالکل بھی نہیں تھا۔اب ہمیں جلد کچھ کرنا پڑے گا۔ورنہ یہ آپ لوگوں کو نقصان پہنچانے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔اور میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے آپ لوگ کسی مصیبت میں پڑے۔”
حسن اُسے اتنا پریشان دیکھ کمینگی انداز میں مسکرانے لگا۔ دلکش اپنی پریشانی میں اُس کے چہرے پر آئے کمینے پن کو دیکھ نا سکی تھیں۔


“حسن صاحب۔اب تمہارا کام ختم اور میرا شروع۔اب اُس بد زبان اور چالاک لڑکی کو کوئی بھی نہیں بچا سکتا۔طوائف زادی بننے سے۔
کوئی بھی نہیں۔
وہ اُس کا عاشق بھی نہیں۔کہا تھا نا۔کہ جب تم میرا یہ کام جلدی سے کروں گے۔وعدے کے مطابق میں تمہارے ساتھ ایک رات گزاروں گی۔میں تیار ہو تمہارے ساتھ رات گزارنے کے لیے۔مگر ایک شرط پر۔۔۔۔۔۔میں تمہارے ساتھ یہ حسین رات گزاروں گی۔
ویسے بھی میں اُس چوزے کے ساتھ رہ کر بہت زیادہ اکھٹا گئی ہوں۔مجھے وہ مزا نہیں ملتا اُس کے ساتھ حسن میاں۔۔جو تمہارے ساتھ ملا کرتا تھا۔اب تم اِس حسین شباب سے لطف اٹھانا چاہتے ہو یا نہیں یہ فیصلہ تمہارے ہاتھوں میں ہے۔”
زرناب بائی صوفے سے اٹھ کر بڑے ہی نزاکت سے ساڑھی کا پلو اپنے شولڈر پر درست کرتے ہوئے حسن کی للچائی نظروں میں گاڑتے ہوئے بولی۔حسن اُس کے سیاہ باریک اور ڈیپ گلے سے نظر آتے اُس کے حُسن کو اپنی گہری نگاہوں سے دیکھنے لگا۔
“بائی تم جو کہوں گی۔میں وہی کروں گا۔بس ایک بار کہہ کر تو دیکھیں۔”
حسن اُس پر سے اپنی نظریں ہٹائے بغیر کہنے لگا۔زرناب بائی کی نظریں اُس کی بات پر اوپر اٹھی تو اُسے اپنی جانب متوجہ دیکھ وہ زور سے قہقہہ لگانے لگیں۔
“ہاہاہاہا۔!!
“حسن میاں یہاں تک رسائی تم تب حاصل کروں گے۔جب تم مجھے اُس شخص سے ملاؤں گے۔جس کی قسمت اُس دلکش کے ساتھ چمکنے والی ہے۔”
زرناب بائی چند قدم آگے چل کر اُسے دونوں کندھوں سے پکڑتے ہوئے وہ اُس کے چہرے پر اپنا نازک ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی۔
“زرناب بائی یہ نکاح اصلی نکاح نہیں ہے۔تو پھر میں کہاں سے اصلی دلہا اٹھا کر لے آؤں۔اور کوئی بھی شریف آدمی ایسی لڑکی سے شادی کیوں کرنا چاہے گا۔جو طوائف زادی کے نام سے مہشور ہونے والی ہے۔”
حسن کہتے ساتھ ہی زور سے اُس کے نازک کمر پہ اپنا ایک ہاتھ رکھ کر دوسرے سے اس کی ساڑھی کا پلو شولڈر سے ہٹا کر اُسے مخمور آنکھوں سے دیکھنے لگا۔جو اُس سے لگی اسے مسکرا کر دیکھ رہی تھیں۔
کہتے ہیں کہ کسی کی فطرت کبھی بدل نہیں سکتی۔۔۔پھر چاہے اس انسان کو موقع ہی کیوں نا ملا ہو خود کو بدلنے کا۔مگر جس کی فطرت میں فریب دینا ہو۔
وہ کبھی بھی نہیں بدل سکتا۔ اسی لیے ایک پاک رشتے میں بندھنے کے باوجود بھی وہ اپنی اصل کی جانب لوٹنا چاہتی تھی۔


“دلکش بیٹی ہم جو کچھ بھی کر رہے ہیں۔آپ کو اُس ظالم شخص سے بچانے کے لیے۔۔یہ بہت ضروری ہے۔اگر آپ کسی اور کے نکاح میں ہونگی۔تب وہ چالاک انسان آپ کا پیچھا چھوڑ دیں گا۔”
وہ مایوں کے پیلے جوڑے میں ملبوس اپنے روم میں بیٹھی اپنے اُس انجان ہمسفر کے بارے میں سوچ رہی تھی۔جسے آج تک اُس نے دیکھا تک نہیں تھا۔
اور وہ اُس کے مایوں کے جوڑے میں ملبوس اپنی نئی آنے والی زندگی کے متعلق سوچ رہی تھی۔کہ نجانے وہ کیسا ہوگا۔پتہ نہیں اسکا مزاج کیسا ہوگا۔وہ انہیں سوچوں میں گم تھی۔کہ عظیم چاچا کی آواز پر اپنا چہرہ اوپر اٹھا کر وہ انہیں دیکھنے لگی جو روم میں داخل ہو کر کہنے لگے تھے۔
“لیکن چاچا کیا یہ سب کرنا بہت ضروری ہے۔۔۔ہم شادی کے علاؤہ بھی کچھ اور سوچ سکتے ہیں۔۔۔مجھے ڈر ہے چاچا۔وہ سنکی شخص کچھ غلط نا کر دے۔کیونکہ وہ شخص بہت ہی جنونی ہے۔”
دلکش اُنہیں دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔تو اُنہوں نے اُس کے پریشان چہرے کی جانب دیکھا اور آگے چل کر بیڈ کے سامنے کھڑے ہو کر اُس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اُسے تسلی دیتے ہوئے کہنے لگے۔
“بیٹا آپ اُس کی فکر نہ کریں۔حسن ہے نا۔وہ اُسے دیکھ لیں گا۔اور ویسے بھی آپ کا نکاح جس کے ساتھ ہو رہا ہے۔۔۔۔وہ پاگل شخص اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔”
عظیم صاحب نے دلکش کی جانب دیکھتے فخریہ انداز میں اپنے پسند کیے شخص کے بارے کہا۔لیکن دلکش کو پھر بھی ایک وہم ہو رہا تھا کہ کچھ تو ضرور ہونے والا ہے جو اُس کے لیے بالکل بھی اچھا نہیں۔
“چاچا مجھے بہت بے چینی محسوس ہو رہی ہے۔۔۔۔۔جیسے میرے ساتھ کچھ برا ہونے والا ہے۔۔۔۔۔اور حسن بھائی وہ کہا ہے۔۔۔۔۔۔۔آپ پلیز اُنہیں بلائے۔۔مجھے اُن سے کچھ کہنا ہے۔”
وہ گھبراہٹ کے عالم میں بیڈ سے اتر کر اپنا زدر آنچل سنبھالتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے بولی۔


“دلکش کی شادی تم یہ کیا بکواس کر رہے ہوں۔میں نے وہاں تمہیں نظر رکھنے کے لیے بھیجا تھا۔نہ کہ مجھے اِس طرح کے خبر سنانے کے لیے۔”
شازم اپنی بلیک بی این ڈبلیو کار کے سامنے کھڑا فون کان سے لگائے دوسری جانب کی بات سن رہا تھا۔دوسری جانب موجود شخص کے منہ سے دلکش کی شادی کا سن کر اپنے آپے سے باہر نکل کر چیختے ہوئے کہنے لگا۔
“سر مجھے یہ نکاح نہیں بلکہ کچھ اور معاملہ لگ رہا ہے۔جو کے دلکش بی بی کے لئے بالکل اچھا نہیں ہے۔۔یہ لوگ مجھے اچھے نہیں لگ رہے ہیں۔”
شازم کا دوسری جانب کی بات پر کار کا دروازہ کھولتے ہوئے اُس کے ہاتھ رکے۔
“مطلب ایسا کیا دیکھ لیا۔تم نے وہاں جو میری دلکش کے لیے خطرہ ہے۔۔۔اور اگر ایسی بات ہے۔تو میں اُس بڈھے کے ساتھ اُس حسن میاں کو بالکل بھی نہیں چھوڑوں گا۔”
کار پر زور سے مکا مارتے ہوئے شازم نے غصے سے کہا۔


دلکش مہندی رنگ کے خوبصورت جوڑے میں ملبوس آئینے کے سامنے بیٹھی اپنے ہاتھوں میں پہنے گجروں کو مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔کہ اچانک سے کمرے میں مکمل آندھرا ہوا تو وہ خوف کے مارے خود میں سمٹنے لگی۔
“آہ۔ہ۔ہ۔ہ۔!!
وہ کرسی پر دونوں پاؤں اوپر رکھے اکڑوں بیٹھی تھیں۔اپنے چہرے پر کسی کی گرم سانسوں کی تپش محسوس ہوتے ہی خوف سے چیختے ہوئے وہ جا کر پیچھے ڈریسنگ ٹیبل سے لگ کر بری طرح سے رونے لگی۔
“کون۔۔۔؟؟
کمرے میں اندھیرے کی وجہ وہ اُس شخص کو دیکھ نہیں پا رہی تھی۔ گھبرا کے وہ اُس سے پوچھنے لگی۔جو اُس کے ہاتھوں میں لگی مہندی کی خوشبو سے بیخود سا ہو کر اپنے لب اُسکی ہتھیلی پر رکھ کر اُسے کانپنے پر مجبور کر گیا تھا۔
“تمہارا سب کچھ میری جان۔”
اپنے لب اب اُس کے ہاتھوں سے ہٹا کر وہ شخص گھمبیر آواز میں کہنے لگا۔تو دلکش اُس گھمبیر آواز کو سن کر غصے سے اپنے ہاتھ کھینچ کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
“تم۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی ہاں۔..؟؟
وہ تیزی سے پیچھے ہوتے ہی غصے سے چیخ کر کہنے لگی۔تو شازم مسکراتے ہوئے اپنے اور اُس کے درمیان میں دیوار بنے کرسی کو پیچھے کی طرف اچھال کر ڈریسنگ ٹیبل پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے اُس کے وجود سے اُٹھتے ابٹن کی خوشبو کو محسوس کرنے لگا۔
“جانم تم تھکتی نہیں ہو مجھ سے اتنا نفرت کرتے۔میں تو تھک گیا تھا۔تم سے نفرت کرتے ہوئے۔اور آج اِس نفرت کو بھول کر میں پھر سے آپنی محبت کا اظہار کرنے یہاں دوبارہ آیا ہوں۔”
شازم ایک ہاتھ ڈریسنگ ٹیبل پر اور دوسرا اُس کے چہرے پر رکھے محبت سے بولا۔
“اگر مجھے دوسری زندگی بھی ملی نا۔تو تب بھی میں تم سے نفرت کرنا نہیں چھوڑو گی۔بلکہ میرے دل میں تمہارے لیے نفرت اور بڑھے گی۔”
وہ نفرت انگیز سرد لہجے میں کہہ کر اُسے پیچھے دکھا دے کر آگے کی جانب بڑھنے لگی۔شازم نے غصے سے آگے بڑھ کر اُسے کلائی سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا۔
“دلِ جانم تم سمجھتی کیا ہو خود کو میں جو آج تک کسی کے پیچھے اتنا خؤار نہیں ہوا تھا۔جو تمہارے لیے ہو رہا ہوں۔صرف اپنی محبت کی وجہ سے۔ورنہ کب کا میں تمہیں اٹھا کر تم سے زبردستی نکاح کر لیتا۔”
وہ غصے سے اپنی پکڑ اُسکی کمر پر تیز کرتے ہوئے کہنے لگا۔تو دلکش اُس کی سخت پکڑ پر درد کے باعث بلبلا اٹھی تھی۔