Noo E Man By Sumyia Baloch Readelle50183 Last updated: 27 August 2025
Rate this Novel
Noo E Maan
By Sumyia Baloch
"دل۔دلکش۔!!! شازم علی شاہ جو اُس کی جانب اپنے قدم بڑھا رہا تھا،اُسے اپنا سر پکڑے دیکھ کر وہ تیزی سے اُس کی جانب بھاگا اور اُسے نیچے گرنے سے بچانے لگا۔ "مٹل۔ یہاں آؤ جلدی۔" وہ اُسے اپنے بازوؤں میں بھر کر زور سے مٹل کو آوازیں دینے لگا۔جو کے اُس کے کہنے پہ لنگر خانے میں کھڑا سب غریبوں میں لنگر تقسیم کر رہا تھا۔ "جی سائیں آپ نے مجھے بلایا۔" مٹل نے وہاں پہنچ کر اُسے دیکھتے ہوئے کہا۔ "مٹل مجھے گاڑی کی چابی دو،اور تم حویلی فون کر کے گاڑی منگواو اور ہاجرہ اماں کو حویلی پہنچا کر سیدھا میرے تھر والے فارم ہاؤس میں آنا۔" وہ دلکش کے چہرے کو اچھے سے اُس کی اجرک سے کور کرتے ہوئے مٹل سے کہنے لگا جس کی حیران نظریں اُس کے بازوؤں کی گرفت میں بے ہوش پڑے دلکش کے وجود کی جانب بڑھی۔ "سائیں!!! یہ دلکش بی بی یہاں اِس حالت میں۔" مٹل نے اُس کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔تو وہ اُسے اپنی سرخ انگارا ہوتی نظروں سے گھورنے لگا۔ "مٹل گاڑی کی چابی۔" شازم نے اپنی سرخ و سفید اور چوڑی ہتھیلی آگے بڑھاتے ہوئے اُسے سخت نگاہوں سے گھورا لہجہ ایک دم سےسرد ہوگیا۔۔۔۔ تو مٹل اُسکی سخت نظروں سے خائف ہوا اور فورا سے بیشتر اپنی جیب سے گاڑی کی چابی نکالی اور شازم کی جانب بڑھا دی۔۔۔۔ "اور مٹل دلکش کیوں یہاں اِس حالت میں ہمیں ملی ہے،تم پتہ کر کے تب فارم ہاؤس میں اپنے قدم رکھ سکتے ہو، پتہ چلانا کے ایسی کون سی وجہ ہے۔جو دلکش مجھے اچانک اپنے سامنے دیکھ کر اِس طرح سے پیش آئی ہے۔" شازم نے اپنی انگلی اٹھا کر اُسے واضح لفظوں میں وارننگ دیتے ہوئے کہا۔تو مٹل سائیں کے وارننگ دینے پر اُسے اپنی وحشت زدہ نظروں سے دیکھنے لگا گھبراہٹ چہرے سے صاف واضح تھی _________________________________________________ "اب اماں کی طبیعت کیسی ہے ڈاکٹر صاحب ۔"؟ زرناب گل جو کمرے کے وسط میں رکھے ہوئے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھی سامنے موجود بیڈ پر اپنی ماں کے بے حس و حرکت وجود کو سپاٹ نظروں سے دیکھتے ہوئے ٹریٹمنٹ کے لیے آئے ڈاکٹر رامیش سے پوچھنے لگی۔ "بائی آپ کی اماں ابھی پہلے سے کافی بہتر ہے۔۔۔۔۔۔مگر ہوسکتا ہے کہ ۔۔۔۔وہ دوباره۔۔؟ ڈاکٹر صاحب اپنے سامنے کھڑی گہرے نیلے مہندی ڈیزائنر چولی میں ملبوس اپنے چہرے پر خوبصورتی سے نیچرل میک اپ کیے زرناب بائی کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔ "دوباره مطلب؟ آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں ڈاکٹر رامیش۔۔۔" اُس نے ضبط کے باعث ڈاکٹر رامیش کی جانب دیکھتے ہوئے اُن سے پوچھا۔تو ڈاکٹر نے تاسف سے اُسے دیکھا۔ "دیکھے بائی میں جو بات آپ سے کہنے جا رہا ہوں نا۔۔۔۔۔اُسے آپ بڑے تحمل سے سنیے گا۔۔۔۔کیونکہ اُن کی حالت کو دیکھ کر نہیں لگ رہا۔۔۔۔کہ وہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکتی ہیں " ڈاکٹر رامیش نے آگے بڑھ کر اُسے دیکھتے ہوئے کہا۔تو صوفے سے اٹھ کر اُس نے اپنے قدم بیڈ کی جانب بڑھائے۔ "اماں آپ کے زمین پر گرے ہوئے خون کے ہر اُس خطرے کا حساب آس صاحب کو دینا پڑے ہوگا۔۔۔۔جو اُس دلکش کی وجہ سے زمین پر گرے تھے." وہ بیڈ کے سامنے پہنچی اور جھک کر اُن کے بے حس وجود کی جانب دیکھا اور اُن کے بالوں پر پیار اور نرمی سے اپنا ہاتھ پھیرتے ہوئے ضبط سے کہنے لگی۔ ____________________________________________________
