74.1K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

“الماس بائی بہت سنا ہے۔میں نے تمہارے بارے میں،اور آج اتفاقأ میرا جام شورو میں اپنے کسی ضروری کام کے سلسلے میں آنا ہوا تو میں نے سوچا کیوں نہ تمہارے کوٹھے پر بھی حاضری لگا لوں،اس طرح مجھے تمہارا دیدار بھی نصیب ہو جائے گا۔”
وہ سامنے لگی ایک طوائف کی تصویر کو بغور دیکھ رہا تھا جب اپنے پیچھے قدموں کی آواز سن کر وہ پلٹے بنا کہنے لگا۔
الماس بائی جو کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔سامنے دیوار کی جانب رخ کیے کھڑے شخص کو تعجب سے دیکھنے لگی۔
“آپ کی تعریف۔؟
الماس بائی نے پان چباتے ہوئے کہا۔اُسکی بات پر وہ اُس کی جانب پلٹا۔الماس بائی اُس کے پلٹتے ہی اُس کے چہرے کو دیکھ کر ساکت رہ گئی تھی۔
کیونکہ آج تک اُس نے اِس کوٹھے پر جتنے بھی مرد دیکھے تھے۔وہ اُن سب مردوں میں سے الگ لگا تھا ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ آج تک اُس جیسے یونانی دیوتا کو اُس نے اپنی پوری جوانی میں بھی نہیں دیکھا تھا۔
“تعریف۔”
اُس نے خباثت سے اپنی ٹھوڑی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کچھ سوچا۔
“الماس بائی کوٹھے میں ہم جیسے آنے والے آوارہ مردوں کو میرے خیال سے تمہاری زبان میں گاہک کہتے ہونگے اور اِس معاشرے کے لوگوں کی زبان میں ہم لوگوں کو بے غیرت،عیاش،بدقماش اور بدکردار کے نام سے پہچانتے ہیں۔کیوں ٹھیک کہا نا میں نے بائی۔”
اُس نے اپنے قدم بائی کے عین مقابل روک کر اُسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے تمسخرانہ انداز میں کہا۔
“اس کا مطلب صاحب تم یہاں۔”
“بائی بڑی تیز ہو تم۔۔ جلدی سے سمجھ گئی۔میری طلب کو کہ میں یہاں کیوں آیا ہوں۔”
اپنے مضبوط کندھوں پر رکھی سندھی اجرک کو درست کرتے ہوئے وہ سامنے رکھے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھتے ہوئے معنی خیزی سے کہنے لگا۔
“صاحب ابھی آپکی طلب پوری کرنے کے لیے میں یہاں کی نایاب سے نایاب لڑکیاں آپ کی خدمت میں پیش کرواتی ہوں۔”
بائی نے کمینگی سے آنکھ مارتے ہوئے کہا۔
“بائی نایاب نام نہیں صرف لڑکی ہونی چاہیے یاد رہے۔ورنہ آپکا یہ جو خوبصورت امیج ہے نا میری نظروں میں وہ گر جائے گا اور پھر اگر کسی کی امیج میری نظروں میں گرتی ہے نا، تو میں اُس کو اِس پوری دنیا کے کسی بھی کونے میں چین سے جینے بھی نہیں دیتا۔”
اُس نے اپنی نظریں سامنے بائی کے میک اپ زدہ چہرے پر مرکوز کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
“نہیں صاحب آپ فکر مت کریں۔اِس وقت ہمارے کوٹھے میں ایسے خوبصورت دو ہیرے ہیں، جو مجھے لگتا ہے کہ صرف آپ کے لیے ہی بنے ہیں۔زری گل جاؤ اور جا کر زرناب بائی اور اُس لڑکی کو لے کر آؤ”
الماس بائی نے اُس سے کہہ کر اپنی بیٹی کو آواز دیتے ہوئے کہا۔
“آس صاحب۔۔۔۔۔!!
وہ صوفے پر آرام دہ انداز میں بیٹھا اپنے فون پر کسی کو میسج کر رہا تھا۔الماس بائی کی آواز پر اپنا سر اوپر اٹھا کر سامنے کمرے کے بیچ میں کھڑی ان دو خوبصورت لڑکیوں کی جانب دیکھنے لگا۔
“صاحب یہ رہے اِس کوٹھے کے وہ خوبصورت ہیرے جو آج اپنی بخت پر نازاں ہوں گے۔کیونکہ آج اُن کو آپ کے ساتھ خوبصورت وقت گزارنا کا موقع مل رہا ہے.”
الماس بائی نے دو خوبصورت لڑکیوں کو کمرے کے عین بیچ میں کھڑا کرتے ہوئے کہا۔تو وہ صوفے سے اٹھ کر کمرے کے بیچ کھڑی ان دونوں لڑکیوں کی جانب آہستہ سے بڑھنے لگا۔
“بائی ماننا پڑے گا۔تمہارے کوٹھے کی جس نے بھی تعریف میں زمین آسمان ایک کیا ہے نا۔تو سہی کیا ہے۔آج تک میں نے شہر میں اتنا حسن نہیں دیکھا ہوگا الماس بائی۔جو میں یہاں تمہارے کوٹھے پر دیکھ رہا ہوں۔”
زرناب بائی کی ٹھوڑی کو نرمی سے پکڑ کر وہ اوپر اٹھائے اُس کے خوبصورت چہرے پر اپنی نظریں ڈالتے ہوئے کہنے لگا۔ زرناب بائی نے اپنے سامنے کھڑے یونانی دیوتا سا حسن لیے شخص کو مہبوت ہو کر دیکھا۔
“صاحب آپ کی طرح کے حسین مرد کو بھی تو ہم نے آج سے پہلے اِس کوٹھے میں نہیں دیکھا۔”
الماس بائی نے اُس کے خوبصورت وجیہہ چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“ہاں اماں سہی کہا آپ نے ہمارا دل بھی تو آج انہیں دیکھ کر پہلی بار زور سے دھڑکا ہے۔”
زرناب بائی نے اپنا نازک ہاتھ اُس کے وجیہہ چہرے پر محبت سے پھیرتے ہوئے کہا۔ زرناب کی بے باک حرکت پر وہ زور سے قہقہہ لگا کر سامنے کھڑی دوسری لڑکی کی جانب بڑھا جو کہ خاموش کھڑی ضبط سے انکی باتیں سن رہی تھی۔
“بائی کیا یہ گوہر نایاب گونگی ہے۔جب سے آئی ہے۔تب سے کھڑی ہماری باتیں خاموشی سے سن رہی ہے ؟”
اُس نے اپنی انگلیاں اُس کے چہرے پر پھیرتے ہوئے کہا۔تو وہ اُسکا بے باک لمس اپنے چہرے پر محسوس کر کے اپنی سرخ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔
“نہیں صاحب بس یہ اِس دھندے میں ابھی نئی آئی ہے۔اس لئے ابھی اُسے بہت کچھ سیکھنا پڑے گا۔اور یہ اِس کوٹھے میں نایاب اِس لیے بھی ہے۔کیونکہ یہ ان چھوئی ہے۔ابھی تک یہ پاکیزہ دوشیزہ ہے۔”
بائی نے اُس لڑکی کو کٹیلی نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔
“آس صرف اس چیز کو حاصل کرتا ہے ۔جو پہلے کسی کی ملکیت نا ہوں۔الماس بائی تمہارے کوٹھے کی یہ خوبصورت اَن چھوئی دوشیزہ مجھے چاہیے اور میرے خیال سے یہ تمہاری زرناب بائی تو پہلے سے ہی بہت ساروں کی ملکیت رہ چکی ہوگی۔”
آس نے اس لڑکی کی نازک کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
“صاحب آپ کی خوشی میں ہم خوش۔زرناب گل ہو یا پھر دلکش دونوں ہی اِس کوٹھے کی شان ہیں۔دلکش کیا ہوا جو میری سگی بیٹی نہیں ہے۔مگر میں اُسے اپنی سگی بیٹیوں کی طرح چاہتی ہوں۔”
الماس بائی نے زرناب گل کا چہرہ سرخ ہوتے ہوئے دیکھ کر کہا۔تو زرناب گل نے غصے سے دلکش کو گھور کر اپنے قدم باہر کی جانب بڑھائے۔
“ہوں تو اس پری کا نام دلکش ہے۔”
اُس نے دلکش کے دلنشیں مکھڑے کی جانب دیکھ کر کہا۔
“الماس بائی، کیا آپ میری اِس خوبصورت شام کا حصہ بننا چاہتی ہیں جو آپ اب تک یہاں سے تشریف لے کر نہیں جا رہیں؟”
اُس نے بائی کو وہی کھڑے دیکھ کر طنزیہ لہجے میں کہا۔
“نہیں۔آس صاحب میں بھلا کیوں کباب میں ہڈی بننا پسند کروں گی۔”
بائی نے اپنے قدم کمرے کے داخلی دروازے کی جانب بڑھا کر کمینگی انداز میں کہا۔
“دیکھو مم۔میرے قریب مت آنا۔؟
دلکش اُسے اپنی طرف آتا ہوا دیکھ کر گھبراتے ہوئے کہنے لگی۔مگر فون کی ٹون بجتے سن کر وہ وہی رک گئی تھی۔
الماس بائی کے باہر نکلتے ہی آس نے ابھی اپنے قدم دلکش کی جانب بڑھائے ہی تھے کہ اُسکا سارا موڈ اُس کے فون کی ٹون نے خراب کر کے رکھ دیا۔
💖————💖
“کیا میں بد صورت ہوں،سجاول سائیں.؟
زرناب گل جو اُس وقت چھت پر رکھے جھولے پر سجاول کے سینے پر سر رکھے ہوئی تھی۔اُس نے پلٹ کر سجاول شاہ کے چہرے پر اپنا نازک ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
“جانِ سجاول آپ ہماری ان آنکھوں میں دیکھیں آپ کو پتہ چل جائے گا کہ آپ اِس دنیا کی حسین ترین لڑکی ہیں۔”
سجاول نے اُس کے ہاتھ کو پکڑ کر محبت سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا۔
“اِس کا مطلب سجاول سائیں آپ یہ کہنا چاہ رہے ہو کہ میں صرف آپ کی نظروں میں حسین ہوں۔اس پوری دنیا کو تو میں صرف ایک بد صورت اور غلیظ ترین شے لگتی ہوں۔”
اُس نے جنونی انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔تو سجاول شاہ نے اُسے حیرانی سے دیکھا۔کیونکہ آج سے پہلے اُس نے اس کا اس طرح کا ردعمل جو نہیں دیکھا تھا۔
“یہ خیال آپ کو آج کس نے دلایا ہے کہ آپ خوبصورت نہیں ۔”
“ہے ایک سنگ دل شخص جس نے اُس دلکش کو چن کر اچھا نہیں کیا۔”
زرناب گل نے نیچے جھک کر ایک گلاب کی پنکھڑی کو اٹھا کر شدتِ جنون سے مسلتے ہوئے کہا۔
“جانِ سجاول ! آپ کیوں اُس پنکھڑی کو مسل کر اپنی اِن خوبصورت نازک انگلیوں کو اِس کی نوکیلی کانٹوں سے زخمی کرنا چاہتی ہیں۔اُسے میرے حوالے کر دیں میں اُس سے آپ کی ایک ایک تکلیف کا بدلا لوں گا۔”
سجاول شاہ نے اُسے کمر سے پکڑ کر اپنے نزدیک کرتے ہوئے کہا۔
“نہیں سائیں آج پہلی بار میں نے شکست کا سامنا کیا ہے اور وہ بھی اُس دلکش کی وجہ سے۔اس لیے انتقام بھی میں اپنے طریقے سے لوں گی اُس چڑیل سے۔پھر چاہے اُس میں میرے ہاتھ ہی کیوں نہ زخمی ہو جائیں۔”
زرناب گل آہستگی سے اُس کی نرم گرفت سے نکل کر کہنے لگی۔
“تو یہ ہے جانِ سجاول. جس نے تمہاری بجائے اُس پنکھڑی کو چنا۔”
سجاول نے غور سے نیچے کاٹن کی سفید قمیض شلوار میں ملبوس شخص کو دیکھا جس کی پشت اُن دونوں کی جانب تھی۔
“ہاں یہی ہے۔ وہ پتھر دل شخص۔جس کو دیکھ کر آج زرناب بائی، زرناب نہیں بلکہ ایک داسی بننا چاہتی تھی۔مگر دلکش کے دلنشیں روپ نے اُسے اسکا ہونے پر مجبور کر دیا۔”
زرناب نے منڈیر پر اپنی گرفت سخت کرتے ہوئے کہا۔
لیکن سجاول شاہ کی رنگت آس کے چہرے پر نظر پڑتے ہی لٹھے کی مانند سفید پڑنے لگی۔
وہیں پر دوسری جانب آس جو کہ اپنے کسی ضروری فون کال کی وجہ سے باہر نکلا تھا۔بے ارادہ ہی اُسکی نظریں اوپر چھت پر اُن دونوں پر پڑی تو وہ سجاول شاہ کو دیکھ کر طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے اپنے قدم اندر کی جانب بڑھانے لگا۔
“زر یہ یہاں کیا کر رہا ہے۔اِسے یہاں نہیں ہونا چاہیے تھا۔”
سجاول نے گھبراتے ہوئے اپنا رخ دوسری جانب کرتے ہوئے کہا۔
“سائیں آپ کی رنگت اُسے دیکھ کر کیوں سفید پڑ رہی ہے۔کیا آپ اُسے جانتے ہیں؟”
زرناب بائی اُسے گھبرا کر اپنا چہرہ دوسری جانب کرتے ہوئے دیکھ کر حیرانگی سے اُس سے پوچھنے لگی لیکن وہ کسی بھی بات کا جواب دیے بغیر وہاں سے چلا گیا۔
💖————💖
“مم۔مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش مت کرنا۔ورنہ میں تمہیں جان سے مار دوں گی۔”
الماس بائی کے روم سے نکلتے ہی آس کے وجیہہ چہرے پر یکدم سے خطرناک تاثرات پھیلنے لگا۔۔۔۔۔جیسے دیکھ کر دلکش نے خوف سے اپنے قدم پیچھے بیڈ کی جانب بڑھا کر کہا۔
“خاموش ایک لفظ بھی اب اگر تمہارے منہ سے نکلا تو میں تمہاری جان بھی لے سکتا ہوں۔”
آس نے آگے بڑھ کر غصے سے اُسکی کمر پر اپنا مضبوط آہنی ہاتھ رکھ کر اُس کے کانپتے ہونٹوں پر اپنا دوسرا ہاتھ سختی سے جماتے ہوئے کہنے لگا۔
“عزت لینے سے اچھا ہے تم میری جان لے لو۔اِس طرح میں روز مرنے سے بچ جاؤں گی۔”
دلکش سامنے بیڈ پر گر کر اپنے بالوں کو بے دردی سے اپنی مٹھیوں میں بھر کر زور سے چیختے ہوئے کہنے لگی۔
“خاموش ایک لفظ بھی اب بکا تم نے، تو ریوالور کی ساری گولیاں تمہارے بھیجے میں اتار دوں گا سمجھی۔۔۔اور میں یہاں تمہاری عزت کا لٹیرا بن کر نہیں۔۔۔۔بلکہ محافظ بن کر آیا ہوں۔”
اُس کی بات پر اُس کے ماتھے پر بے حساب شکن نمودار ہوئے۔ اپنی جیب سے ریوالور نکال کر آس نے اُسے بے دردی سے بیڈ سے اٹھا کر غصے سے اُس کے ماتھے پر ریوالور رکھتے ہوئے کہا۔۔۔تو دلکش نے خوف سے سفید پڑتے چہرے کے ساتھ اپنے ماتھے پر رکھے ریوالور کو دیکھا۔
“تم سچ کہہ رہے ہو کیا تم مجھے کچھ بھی نہیں کرو گے اور اِس غلیظ جگہ سے مجھے نکال کر لے جاؤ گے نا؟
دلکش اس سے لگی حیرانگی سے پوچھنے لگی۔
“شازم سائیں دروازہ کھولیں ہم پولیس آفسر کے ساتھ آئے ہیں۔”
آس ابھی کچھ کہتا کہ کسی نے دروازہ زور سے پیٹتے ہوئے کہا۔
“جب تک میں تمہیں یہاں خود لینے کے لیے نہ آؤں۔۔۔۔تم باہر نہیں نکلو گی۔گوٹ اٹ۔”
آس نے اُسے خود سے الگ کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔تو وہ اُس کی بات پر اپنا سر ہاں میں ہلانے لگی۔
💖————💖
جاری ہے