Noo E Man By Sumyia Baloch Readelle50183 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
“سید سجاول شاه لے کر جاؤ اپنی طوائف بیوی کو۔۔۔۔۔۔۔یہاں سے۔اور ہو سکے تو اُسے اُسکی اصل جگہ چھوڑ کر آؤں۔۔۔۔۔یہ شریف لوگوں کے ساتھ رہنے کے قابل نہیں ہے۔”
زرناب بائی کو غصے سے دور کھڑے سجاول کی جانب دکھا دیتے وہ نفرت سے کہنے لگا۔تو زرناب بائی تکلیف سے سرخ ہوتی اپنی نظریں اُس پر ڈالے کھڑی ہو کر اُسے نفرت سے دیکھنے لگی۔
“شازم سائیں طوائف تو تمہاری ماں گیتی آرا بھی تو تھی۔اپنے زمانے میں اپنی حُسن کی بجلیاں گرانے والی مہشور طوائف زادی۔اور اِس لحاظ سے تو تم بھی ایک طوائف زادے ہوئے۔”
اپنے ہونٹوں سے خون صاف کرتے زرناب بائی تمسخرانہ انداز میں کہنے لگی۔اُس کی بات پر غصے سے شازم کی رگیں تن گئی۔
“نہیں میری ماں ایک طوائف نہیں ہو سکتی تھیں۔سنا تم نے میری ماں ایک نیک عورت تھی۔
وہ ایک اچھی ماں ایک اچھی بیوی تھیں۔شازم اپنی قہر برساتی نگاہیں اُس کے چہرے پر ڈال کے غصے سے کہنے لگا۔
“شازم سائیں تمہارے کہنے سے یہ سچائی نہیں بدل سکتی۔ کیونکہ تمہارے باپ سے شادی کرنے سے پہلے تمہاری ماں ایک مہشور طوائف زادی تھیں۔”
زرناب بائی ضبط کے باعث اپنی مٹھیاں کھسے شازم کو طنزیہ نظروں سے دیکھتے بولی۔تو شازم کو یکدم سے خود سے گھن آنے لگی۔
“تمہاری ماں کو سخت نفرت تھی۔مردوں کو اپنے حُسن کے جلوے دیکھانے سے مگر تھی۔تو وہ ایک طوائف زادی ہی نا۔مجبورأ ہی سہی اُسے رقص تو کرنا پڑتا تھا۔”
زرناب نے آخری وار کرتے ہوئے اُسے طنزیہ نظروں سے دیکھا۔جو کہ اب خوبصورت مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجائے مسکرا رہا تھا۔
“کہا تھا نا بائی کہ میری ماں ایک نیک عورت تھیں۔اِسی لیے اُنہیں اپنی وه زندگی سے سخت نفرت تھی۔۔۔۔اور اُسی وجہ سے وہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ٹھہری تھیں۔”
وہ مسکراتے ہوئے زرناب بائی کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔تو زرناب بائی کو ایسا لگا جیسے وہ اپنی ماں کی بات نہیں بلکہ اُس پر طنز کر رہا ہو۔
“سلام چاچا۔کیسے ہیں آپ۔اور آپ کا بیٹا وہ حسن نظر نہیں آ رہا کہاں ہے وہ اگر وہ میری دل کے پاس ہے تو بھول جائے کہ آپ کا کوئی بیٹا بھی تھا۔اور ہاں لاسٹ میں میری دل وہ بھی تو مجھے نظر نہیں آ رہی کہاں ہے وہ۔۔۔۔۔۔میں اُسے اپنے ساتھ یہاں سے لے جانے کے لیے آیا ہوں۔”
عظیم میمن جو کے دلکش کا تایا تھا۔اُس نے دروازه کھول کر ناسمجھی سے سامنے کھڑے اجنبی نوجوان کو دیکھا۔جو مسکراتے ہوئے اُنہیں سامنے سے ہٹا کر گھر کے اندر داخل ہوا اور چھوٹے سے صحن میں رکھے ایک کرسی پر بیٹھتے ہوئے وہ سامنے ٹیبل پر اپنا پستول رکھ کر مزے سے کہنے لگا۔۔تو عظیم صاحب پستول کو دیکھ کر گھبڑاہٹ کے مارے وہیں کھڑے کے کھڑے رہ گئے تھے۔
“عظیم چاچا۔کیا آپ اپنے گھر میں آئے مہمانوں کو یہی عزت دیتے ہیں۔کچھ بھی نہیں پوچھتے آپ اُنہیں خیر میں مہمان نہیں بلکہ آپکا سوتیلا داماد ہو۔۔دلکش آپ کے سوتیلے بھائی کی بیٹی ہے ناں۔۔تو اِسی حساب سے میں آپکا سوتیلا داماد ہوا۔”
پستول اٹھا کر لوڈ کرتے ہوئے شازم سائیں نے عظیم صاحب کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔تو انہوں نے اپنے ماتھے پر آئے پسینے کو تیزی سے صاف کرتے ہوئے خوف سے اُسے دیکھا۔
“یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم۔اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی ہاں۔یہ میرا گھر ہے۔اور داماد بننے کا شوق تمہارا کبھی پورا نہیں ہوگا سمجھے تم۔”
حسن نے جب باہر شور سنا تو وہ اپنے روم سے نکل کر صحن کی جانب بڑھا۔شازم کو صحن میں کرسی پر ایزی انداز میں ٹیبل پر اپنے دونوں پاؤں رکھے بیٹھا ہوا دیکھا تو غصے سے اُس کے سامنے کھڑے ہو کر وہ اُسے کہنے لگا۔
“سالے صاحب۔آرام سے۔کہیں غصے میں آ کر میں آپ کے بھیجے میں اپنے پستول کی ساری گولیاں نا آتار دوں۔”
شازم پستول ٹیبل سے اٹھا کر اپنا سنجیده چہرے حسن کے غصے سے سرخ ہوتے چہرے پر ڈال کر وہ خطرناک لہجے میں بولا۔تو عظیم صاحب نے تیزی سے آگے بڑھ کر اپنے بیٹے کو کھینچ کر اُس روم کی جانب بڑھے تھے۔
“بیٹا کیا کر رہے ہوں۔دیکھا نہیں تم نے اُس شخص کے پاس پستول ہیں۔۔اور اُس کی باتوں سے مجھے ایسا لگ رہا ہے۔جیسے اگر اُسے دلکش نہیں ملی تو وہ اِس گھر کو برباد کر کے رکھ دے گا۔”
حسن کے روم میں پہنچ کر انہوں نے تیزی سے دروازه بند کر کے حسن کی جانب پلٹ کر گھبراتے ہوئے کہنے لگے۔تو حسن اُن کی بات پر غصے سے کہنے لگا۔
“ابا تمہارے خیال سے وہ جنگلی انسان ہمیں برباد کریں گا۔ہمیں۔۔یہ ناممکن ہے۔کیونکہ یہ شہر ہے۔اُس کا گاؤں نہیں جہاں وہ آرام سے اپنی میں کرتا رہتا ہے۔یہاں میں صرف قانون کرتی ہے۔ہمارے اور اُس کے جیسے عام شہری نہیں۔”
حسن نے تنفر سے اُسکا نام لیتے ہوئے عظیم صاحب سے کہا۔ انہوں نے پرسکون سانسس خارج کرتے ہوئے روم سے باہر نکل کر سامنے شازم کو طنزیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔جو سامنے پستول ہاتھ میں پکڑے اِنہیں ہی دیکھ رہا تھا۔
“عظیم صاحب تم تو سمجھدار ہوں۔تو پھر کیوں اپنے اِس کم عقل بیٹے کی باتوں پر آ رہے ہوں۔یہ شہر کی قانون میرا نا کل کچھ بگاڑ سکی تھیں اور نہ ہی آج بگاڑے گی۔عظیم صاحب پیسہ آج کل پیسے کی زبان بہت زیادہ چلتی ہے۔”
وہ حسن کو استہزایہ مسکراہٹ پاس کرتے ہوئے عظیم صاحب سے مخاطب ہوا۔جو کہ اب اُس کی باتوں سے پریشان ہو اٹھے تھے۔
“تم چاہے کچھ بھی کر لوں مگر دلکش تمہارے ساتھ کبھی بھی نہیں جائے گی۔وہ تمہاری شکل تک دیکھنا پسند نہیں کرتی تمہارے ساتھ رہنا تو دور کی بات ہے۔”
حسن نے تنفر سے اُسے گھورتے ہوئے کہا۔
“پہلی بات دلکش کا نام آج کے بعد اپنے منہ سے مت نکلنا اور اب سے دلکش کو صرف یہ چہرہ دیکھنا پڑے گا ساری زندگی چاہے خوشی سے یا نفرت سے۔مگر دیکھنا تو اُسے مجھے ہی پڑے گا۔اور اگر تم ہمارے درمیان آنے کی کوشش کروں گے۔تو مر جاؤ گے۔”
شازم اٹھا اور چند قدم چل کر حسن کے سامنے کھڑے ہو کر پستول اُس کے ماتھے پر رکھ کر کہنے لگا۔
“چاچا بہت ٹائم لگایا تم لوگوں نے جلدی سے بتا دو کے میری دلکش کہا ہے۔ورنہ آج کے بعد تمہیں دنیا بے اولاد کے نام سے پہچانے گی۔”
عظیم صاحب کی جانب دیکھتے ہوئے وہ کہنے لگا۔تو وہ اپنے بیٹے کے ماتھے پر پستول رکھے دیکھ تیزی سے بولے۔
“وہ پاس ہی کے ایک اسکول میں پڑھاتی ہے۔”
ان کے کہنے پر اُس نے حسن کو استہزایہ نظروں سے دیکھا اور پستول جیب میں رکھتے ہوئے کہنے لگا۔
“اب ہماری ملاقات سالے صاحب میری اور تمہاری بہن دلکش کے نکاح کے وقت ہوگی۔۔۔۔جس کی ساری تیاری تمہیں کرنی ہوگی۔پیسوں کی فکر مت کروں میں دے دونگا۔۔”
شازم نے مسکراتے ہوئے انہیں دیکھتے ہوئے کہا۔
اسکول کے باہر کھڑا وہ کب سے اپنی دلکش کا انتظار کر رہا تھا۔اُس سے ملنے کی خوشی اِس وقت اُس کے چہرے پر نظر آ رہی تھی۔اسکول کی چھتی ہوتے ہی بہت سارے بچے اسکول کے گیٹ سے باہر نکلنے لگے تو وہ سائیڈ پر ہو کر دلکش کا بے چینی سے انتظار کرنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد وہ اُسے باہر نکلتی ہوئی نظر آئی تو وہ تیزی سے اُسکی جانب بڑھا اور اُسے کھینچ کر سامنے لگے بڑے سے درخت کی جانب لے جا کر اُسے درخت کے ساتھ پن کر کے اُسے محو ہو کر دیکھنے لگا
“یہ۔۔۔کیا کر رہے ہو۔۔۔۔تم۔۔۔۔۔۔؟؟
اپنے دونوں ہاتھ اُس کے سینے پر رکھے گھبڑاہٹ کے مارے وہ اُسے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔جو اُس کے چہرے میں محو اُسے کمر سے پکڑے بے خودی سے اپنا ایک ہاتھ اُس کے چہرے پر نرمی سے پھیر رہا تھا۔
“دلکش میں نے سنا ہے،کہ کسی کا پہلا دیدار جب دنیا بھلا دے تو اسے پہلی نظر کا پیار یا’ لو ایٹ فرسٹ سائٹ’ کہتے ہیں۔جب آپ نے کسی کو ایک نظر دیکھا اور ایسا لگا کہ اگر یہ انسان آپکی زندگی میں نہ آیا تو سب کچھ بیکار ہے۔مگر ہمارا معاملہ سب سے الگ ہے۔۔کیونکہ نا ہمیں پہلی نظر میں دیکھ کر ایک دوسرے کے لیے جزبات جاگ اٹھے تھے۔۔۔ہمارے درمیان صرف نفرت کا رشتہ تھا۔”
اپنے دونوں ہاتھ اب کہ اُس کے کندھوں پر رکھے وہ جذب کے عالم میں بولا۔
دلکش اُس کی بات جو تعامل سے سن رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔وہ اُس کے منہ سے محبت لفظ سن کر یکدم سے استہزایہ انداز میں مسکرا کر اُسے دیکھنے لگی۔
“شازم سائیں تمہیں محبت لفظ کے معنی بھی پتہ ہے۔۔۔جو تم مجھ سے محبت کی باتیں کر رہے ہو۔۔”
دلکش اُسے دیکھتے ہوئے طنزیہ انداز میں بولی۔تو شازم اُس کی بات پر نرمی سے اُس کے گالوں کو چھو کر کہنے لگا۔
“دلکش محبت مجھے نہیں پتہ کہ اس کا اصل معنی کیا ہے۔کیا یہ وہ احساس تو نہیں۔۔۔۔۔جو تمہیں دیکھ کر خوشی کا احساس میرے دل میں جھاگا دیتی ہے؟ہاں میرے خیال سے اِسے ہی پیار کہتے ہیں؟
وہ دلکش کے چہرے پر آئے لٹوں کو چھو کر جزبات کی آنچ میں بہہ کر کہنے لگا۔اُس سے پہلے کہ وہ اپنے جذبوں کی رو میں بہک کر کوئی غلطی کر بیٹھ تھا۔۔۔۔۔۔دلکش گھبڑاہٹ کے باعث اُس کے سینے پر اپنے ہاتھ رکھ کر اُسے خود سے دور کرتے ہوئے اپنی بے قابو ہوتی سانسسوں کو بحال کرنے لگی۔
“تم جیسے شخص کے دل میں کسی لڑکی کے لیے محبت جیسا جزبا کبھی بھی نہیں ہو سکتا۔اُس کے لیے حوس ہو سکتی ہے۔مگر محبت نہیں۔۔”
دلکش اپنے ڈھرکنوں کی شور کو نظر انداز کر کے غصے سے کہنے لگی۔شازم اپنی محبت کی یوں توہین دیکھ ضبط سے اپنی مٹھیاں کھسنے لگا۔
“بکواس بند کروں۔تم میرے خزبات کی اس طرح توہین نہیں کر سکتی۔میں محبت کرتا ہوں۔تم سے بے پناه محبت۔۔۔تم نے سوچ بھی کیسے لیا۔۔۔۔۔۔کہ میں تمہارے بارے میں اِس طرح سوچتا ہوں۔”
غصے سے اُسے دونوں کندھوں سے پکڑے وہ جنونی انداز میں چیختے ہوئے بولا۔تو دلکش کو لگا جیسے اُسکی انگلیاں اُس کے بازوؤں میں دھنستی چلی جا رہی ہوں۔
جاری ہے۔
