Noo E Man By Sumyia Baloch Readelle50183 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
“تُمہیں کیا لگا سید وجاہت شاہ تم اِس طرح بھاگ کر اپنے آپ کو ہم سے بچاؤ گے۔؟؟
سید وجاہت شاہ جو کرسی پر بے بسی کے عالم میں رسیوں سے باندھا ہوا تھا۔اُسکے نفرت سے کہنے پر اُنہوں نے درد سے سرخ ہوتی اپنی نظریں سامنے کھڑی ہاجرہ بی بی کی جانب اٹھا کر اُنہیں بے بسی سے دیکھنے لگے۔
“کیا کمی رہ گئیں تھی،ہاجرہ بی بی ہم سے جو کہ آپ ہمارے بچوں کے ساتھ اِس طرح کر رہی ہے۔؟؟
اُنہوں درد بھری نگاہوں سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا۔تو وہ اُنکی بات پر تمسخرانہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔
“چاچا سائیں یاد ہے ناں آپ کو کہ آپ نے ہمارے بابا سائیں کہ وفات کے بعد ہمارے سر پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کیا کہا تھا۔؟یاد نہیں آ رہا نہ آپ کو،ہوں میں تو بھول ہی گئیں تھی کہ آپکو بھلا کیسے یاد ہوگا،آپ تو اُس وقت اپنی نئی نویلی بہو کو دیکھ کر مجھے بھول گئے تھے،کہ آپکی ایک بھتیجی بھی ہے۔جو آپ کے بیٹے کی منگ ہے،مگر آپکو تو بس اتنا یاد تھا،کہ آپکا بیٹا خوش ہے،اپنی بیوی کے ساتھ تو بھاڑ میں جائے آپ کی بھیجتی اُس سے آپکو کیا۔کتنا چاہتی تھیں،میں سید علی شاہ کو اور آپ لوگوں نے مجھے کیا دیا دھوکہ۔”
ضبط کے مارے وہ انہیں دیکھتے بولی۔تو انہوں نے اُسے دیکھا جو اپنے انتقام میں اندھی سب کچھ رشتے ناطے بھلائے بیٹھے ہوئی تھی۔
“ہاجرہ بی بی تم نے میرے بیٹے اور بہو پوتی کے ساتھ تو برا کیا ہے۔لیکن اب میں تُمہیں اپنے پوتے کے ساتھ برا کرنے نہیں دونگا۔تم تو اپنے انتقام میں یہ تک بھول گئی ہو،کہ میں تمہارے باپ کا بھائی ہو۔”
غصے سے اُنکی آنکھیں سرخ تھی۔جسے دیکھ کر ہاجرہ تمسخرانہ مسکان چہرے پر سجا کر کہنے لگی۔
“کوئی فائدہ نہیں وجاہت حسین شاہ تم اپنے پوتے کو نہیں بچا سکتے،وہ اور اُسکی بیوی آج شہر کے لئے نکلے گے۔لیکن وہ لوگ شہر نہیں سیدھا قبرستان پہنچے گے۔”
اُسکی بات پر وجاہت شاہ فریز ہو کر رہ گئے تھے۔اور اُنہیں شاکڈ دیکھ کر ہاجرہ نے زوردار قہقہہ لگاتے ہوئے اُن کے سر پر زور سے ضرب لگاتے ہوئے اُس نے انہیں بے ہوش کیا۔
💕💕💕💕💕💕
“شاہ آپ ابھی تک مجھ سے خفا ہے۔؟؟
وہ آنکھیں مایوسی سے اُسکے خوبرو چہرے پر ڈال کر بولی۔شازم جو ڈرائیو کر رہا تھا۔اُس نے خاموشی سے اُسے دیکھا اور پھر سے اپنی ساری توجہ سامنے سڑک پر مرکوز کر دیا۔
“شاہ آپ اِس طرح غصے میں مجھے بالکل بھی اچھے نہیں لگتے،بلکہ آپ ہنستے ہوئے مجھے اپنے سے لگتے ہیں۔پلیز آپ یہ خفگی چھوڑ کر ایک بار صرف ایک بار مجھے دیکھ کر مسکرائے تو میں سمجھوں گی،کہ آپ نے مجھے معاف کر
دیا ہے۔مم۔میں بہت شرمندہ ہوں۔اپنے اِس دن کے رویے پر آپ کو اپنا سمجھ کر بھی میں نے آپ کو اجنبی کر دیا تھا۔”
وہ اسٹیئرنگ پر رکھے اُسکے ہاتھ پر اپنا نازک ہاتھ رکھ کر خوبصورت آسودہ مسکان اپنے ہونٹوں پر سجا کر بولی۔تو شازم نے غصے سے اپنے دوسرے ہاتھ سے اُسکا نازک ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا۔
“تمارے یہ آپ جناب سے کام نہیں چلے گا،اورمجھے بٹر لگانے کی ضرورت بھی نہیں ہے،کیونکہ میں اب پگھلنے والوں میں سے نہیں ہو۔”
اُسے تیز نظروں سے گھورتے ہوئے بولا۔کہ اُس کے سنگدلی سے کہنے پر اُسکی آنکھوں سے آنسوں گالوں پر بہنے لگے تھے۔
“میں نے غلطی نہیں گناہ کیا ہیں،اپنے شوہر کو بہت زیادہ تنگ کرکے اُسے تکلیف پہنچا اذیت دے کر جس کی سزا مجھے،شاہ آپ کی خفگی کی صورت میں مل رہا ہے۔”
وہ روتے ہوئے اپنا چہرہ نیچے جھکا کر کہنے لگی۔تو شازم اُسکے رونے پر جلدی سے گاڑی سائیڈ پر روکے آگے کو جھک کر اُسکا چہرہ اوپر اٹھا کر نرمی سے بولنے لگا۔
“دلکش یہ انا انسان کی زندگی کو برباد کر کے رکھ دیتی ہے۔اور انسان جب اپنا اہم رشتہ اِس انا کے پیچھے گنواتا ہے ناں تب اُس انسان کو عقل آتی ہیں،کہ وہ اِس انا کی وجہ سے کیا کچھ کھو چکا ہے۔”
اُسکے دونوں گالوں کو نرمی سے سہلاتے ہوئے بولا تھا۔دلکش نے اُسے نم آنکھوں سے دیکھا جو کہ اُسکے چہرے کو محبت سے دیکھ رہا تھا۔
“آہہہہہ۔”
وہ دونوں ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے تھے۔کہ تبھی شازم کو اپنے سینے میں ایک چبن سی محسوس ہونے لگی۔تو وہ اُسے گاڑی سے باہر نکل کر سامنے درخت کی جانب اپنے قدم بڑھانے لگا۔
“شاہ۔”
دلکش اُسے گاڑی سے باہر اترتے ہوئے دیکھ رہی تھی،کہ اُسکے سفید قمیص پر خون دیکھ کر وہ تڑپ کر اُسکا نام پکارتے ہوئے تیزی سے گاڑی سے باہر نکلتے ہی اُسکی جانب بڑھی۔
“دل چلی جاؤ تم یہاں سے مجھے لگ رہا ہے،کہ مجھ پر یہ فائر سائیلنسر لگی پستول سے کیا گیا ہے،ہمارا دشمن یہی کہیں چھپا ہوا ہے۔”
سینے پر ہاتھ رکھتے وہ نیچے زمین پر گرتے ہی ضبط سے اپنے لبوں کو بھینچ کر کہنے لگا۔دلکش نے روتے اُسے دیکھا جو نیچے زمین پر گرا ضبط سے اپنے لبوں کو بھینچ کہ وہ تکلیف سے اپنے سینے سے بہتے خون کو بہنے سے بچانے کے لیے سختی سے اپنا ہاتھ رکھے ہوئے تھا۔
“نہیں شاه میں اِس حال میں آپکو ہر گز نہیں چھوڑو گی۔”
دلکش اُسکے چہرے کو پکڑ کر شدت سے روتے ہوئے بولی۔تو شازم نے تکلیف سے سرخ ہوتی نظریں اُس کے چہرے پر ڈال کر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور اُسکے چہرے پر اپنا ہاتھ رکھ کر وہ اُسے محبت سے دیکھنے لگا۔
“نن۔نہیں شاه آنکھیں بند مت کرنا پلیز نہیں۔۔”
دلکش نے اُسکے گالوں کو زور سے تھپتھپاتے ہوئے کہا۔تو شازم جو آنکھیں بند کر رہا تھا اُس نے اپنی آنکھیں بمشکل کھولی کہ پیچھے کھڑے شخص کو دیکھ وہ دلکش کو اپنے آگے سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگا،لیکن بہت دیر ہو چکی تھی وہ شخص آگے بڑھا اور زور سے دلکش کے سر پر کسی چیز سے وار کرتے اُس نے اسے بے ہوش کیا۔
💕💕💕💕💕💕
“مٹل کیا ہوا تم اتنے گھبرائے ہوئے کیوں لگ رہے ہوں۔؟؟
ہاجرہ بی بی اور اسوہ شاہ کال کوٹھری سے جہاں انہوں نے وجاہت حسین شاہ کو چھپایا ہوا تھا وہاں سے آ کر وہ لوگ لاؤنج میں بیٹھے چائے پے رہے تھے اور اپنے اگلے پلان کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔کہ مٹل کو گھبراتے ہوئے باہر کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھ کر وہ دونوں حیرانی سے اس سے پوچھنے لگے۔
“وہ ہاجرہ بی بی شازم سائیں اور دلکش بی بی پر کسی نے جان لیوا حملہ کیا ہے۔میں ہاسپٹل کے لیے نکل رہا ہوں۔”
مٹل نے پریشانی سے اُنہیں دیکھتے ہوئے کہا۔تو وہ دونوں یہ خبر سن کر اپنے دل میں خوشی محسوس کرنے لگے،لیکن ہاجرہ بی بی نے اپنے جذبات سنبھال کر ایک ماں کا رول پلے کرتے ہوئے مصنوعی آنسو اپنی آنکھوں میں پر لا کر بولی۔
“کک۔کیا ہوا ہے میرا بیٹا تو ٹھیک ہے ناں۔؟؟
اسوہ شاہ کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ اپنے لہجے میں پریشانی سمو کر بولی،تو اسوہ ذولفقار شاہ اُسکی ایکٹنگ پر اُسے داد دینے لگی۔
“اسوہ بی بی آپ ہاجرہ بی بی کو سنبھالے اُنکی طبیعت بگڑ سکتی ہیں۔”
مٹل نے گھبراتے ہوئے اسوہ شاہ کو کہا۔تو اسوہ شاہ نے اُسے دیکھا جو اب وجاہت حسین شاہ کے روم کی جانب بڑھ رہا تھا۔
“ڈراما کوئین اب جا اُسے روک ورنہ اگر تمہارے بیٹے کے اِس چمچے کو ہماری اصلیت پتہ چل گئی نہ تو یہ ہمیں اپنے مالک سے پہلے اوپر پہنچا دے گا۔”
اسوہ ذولفقار شاہ نے بیزاری سے اُسے دور کرتے ہوئے کہا،تو ہاجرہ نے زوردار چیخ کر کہا۔
“آہہہ اسوہ میرا بچہ مجھے میرے بچے کے پاس لیں چلوں ابھی پتہ نہیں میرا بیٹا کیسا ہوگا اور دلکش بیٹی پتہ
نہیں کیسی ہوگی۔؟؟
وہ نیچے زمین پر گر کر روتے ہوئے کہنے لگی،مٹل جو وجاہت شاہ کے روم کی جانب جا رہا تھا۔اُسکی آواز پر وہیں کھڑا اُسے دیکھنے لگا۔
“ہاجرہ بی بی آپ فکر مت کرے سائیں اور بی بی جلد ٹھیک ہو کر گھر آ جائے گے،بلکہ میں اُنہیں لیں کہ آپ کے پاس آؤں گا۔”
مٹل نے ادب سے اپنا سر جھکا کر کہا،تو اسوہ شاہ نے ہاجرہ کو مسکراتے ہوئے دیکھا جسے کہہ رہی ہوں سائیں کے دشمن یہ کبھی بھی ہونے نہیں دے گا۔
💕💕💕💕💕
“تم نے پتہ لگایا یہ کس کا کام ہے،کیونکہ میرے آدمیوں نے مجھے کہا ہے۔کہ یہ انکا کام نہیں ہے،تو آخر یہ کون ہے جو شازم کا جانی دشمن ہے۔”
ہاجرہ نے اسوہ شاہ کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا،تو اسوہ شاہ نے تنفر سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا
“ڈائن تم ہو اور پوچھ مجھ سے رہی ہوں،مجھے کیا پتہ کہ تمہارے اُس نقلی بیٹے کو اور اُسکی بیوی کو کس نے گولیاں ماری ہے اور اگر اتنا ہی شوق ہے،تو جا اور جا کر پتہ لگاؤ،کہ اُنہیں کس نے مارنے کی کوشش کی ہے۔ویسے تم کیوں پتہ لگا رہی ہوں۔جس نے مارا ہے۔ہمارا کام اور آسان کر دیا ہے۔”
اسوہ ذولفقار شاہ کی بات پر وہ اپنا سر ہلاتے ہوئے کہنے لگی۔
ٹھیک کہہ رہی ہوں،مگر اسوہ شازم مضبوط اعصاب کا مالک ہے،اپنی موت سے لڑ کر بھی آ جائے گا،اِس حویلی میں اور میں اُسے دوبارہ اِس حویلی میں نہیں چاہتی ہوں۔
ہاجرہ نفرت انگیز لہجے شازم کے بارے میں سنگدلی سے کہنے لگی۔تو اسوہ شاہ اُسے سخت نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“تو اب کیا کرنا ہے۔؟؟
سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے وہ پوچھنے لگی،تو ہاجرہ فضا میں اپنی نظریں ڈوراتے ہوئے بولی۔
“دعا کروں کہ وہ کومے میں چلا جائے،وہ کومے میں چلا جائے گا اور پھر ہم ایک ڈاکٹر کو اپنے ساتھ ملا کر اُسے غلط دوائیوں کی مدد سے موت کی وادی میں پہنچا دے گے۔”
وہ شاطرانہ انداز میں مسکراتے ہوئے بولی،تو اسوہ شاہ نے اُسے مسکراتی ہوئی نظروں سے دیکھا۔
💕💕💕💕💕
“اماں حضور وہ آپ کے شوہر کا بھتیجا بچ گیا یا مر گیا سالا بہت اونچی اڑان بھر رہا تھا،سالے کو میں نے بہت اچھا سبق سیکھایا مجھ سے ٹکر لینے کی کوشش کر رہا تھا۔”
سجاول شاہ دوسرے دن چھپ کہ سے حویلی میں داخل ہوتے ہی سیدھا اپنی ماں کے پاس پہنچا تو اسوہ شاہ نے جب اُسے اپنے روم میں دیکھا تو آگے بڑھ کر وہ
اُسکے سینے سے لگ کر روتے ہوئے اُسکے اتنے دنوں غائب رہنے کے بارے میں پوچھنے لگی کہ وہ اتنے دنوں کہاں تھا۔اسوہ شاہ کے پوچھنے پر وہ غصے سے کہنے لگا۔
“کیا بیٹا یہ سب تم نے کیا ہے۔اُسے اور اُسکی بیوی کو تم نے مارا ہے۔چلوں جو بھی تم نے کیا اچھا کیا وہ ذلیل انسان مر تو جائے گا،اور اگر نہیں مرا تو ہم اُسے مار دے گے۔”
وہ نفرت سے کہنے لگی،تو سجاول شاہ نے حیرت سے اُنکی جانب دیکھا۔
“مطلب اماں حضور آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے،جو شازم کا جانی دشمن ہے۔جو اُسے خوش دیکھنا نہیں چاہتا اور وہ اُسی حویلی میں موجود ہے۔”
سجاول شاہ نے کہا،تو اسوہ شاہ مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلانے لگی۔
“ہاں میرے بچے وہ ہم سے بھی کئی زیادہ نفرت کرتا ہے اُس شازم سے اور وہ کوئی اور نہیں اُسکی اپنی ہے۔”
اپنے پیچھے آواز سن کر وہ دونوں یکدم سے پلٹ کر پیچھے دیکھنے لگے،جہاں ہاجرہ اپنے چہرے پر سخت تاثرات سجائے کھڑی تھی۔
“ہاجرہ بی بی آپ۔؟؟
سجاول شاہ کو جھٹکا لگا اُسے بالکل بھی یقین نہیں ہو رہا تھا کہ وہ شازم کے لیے اپنے دل میں نفرت رکھتی ہیں۔
“ہاں میں اور یہ نفرت اُسکی ماں کی وجہ سے میرے دل میں پیدا ہوئی ہیں۔جو کبھی ختم نہ ہونے کے لئے اتنی
نفرت کرتی ہوں۔میں اُس سے کہ میرا دل چاہتا ہے کہ
میں اُسے جان سے مار دوں۔”
نفرت انگیز لہجے میں کہہ کر وہ سجاول کی جانب دیکھنے لگی جو کہ ابھی تک ساکت کھڑا انہیں دیکھ رہا تھا۔
“خیر جو بھی ہے۔لیکن ابھی اِن سب باتوں کو چھوڑ کر ہمیں اپنے پلان پر توجہ دینی چاہیے تاکہ وہ زندہ ہو کر یہاں دوبارہ ہماری زندگی میں نہ آئے۔اُس بڈھے کو ہم
آج ہی اُسے اُسکے اصل ٹھکانے پہنچانا ہے۔اور اُسکے
بیٹے کو بھی۔”
اسوہ شاہ کو دیکھتے ہوئے وہ سخت لہجے میں کہنے لگی۔تو سجاول شاہ نے اپنی حیرت کو مٹا کر اُن دونوں کی جانب دیکھا جو اب آگے کا لائحہ عمل طے کر رہی تھی کہ آگے انہیں کیا کرنا ہے۔مگر وہ شاید بھول گئی تھی۔کہ آگے اُنہیں بہت بڑا دھچکا لگنے والا ہے۔مگر کس کی جانب سے یہ آنے والا وقت بتائے گا۔
