Noo E Man By Sumyia Baloch Readelle50183 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
“انہی آنکھوں سے تم نے میری دل کو اپنی گندی نظروں سے دیکھا تھا ناں۔؟؟
سختی سے اُسے اُسکے جبڑوں سے پکڑے اُس نے جنونی انداز میں کہا۔کہ سجاول کو ایسا لگا جیسے اُسکے جبڑے کی ہڈی اُسکی سخت گرفت سے ٹوٹ کر رہ گئیں ہو۔
“تم اِس آواره بد چلن لڑکی کی وجہ سے مجھے اپنے بھائی کو مار رہے ہو۔سید شازم علی شاہ۔”
غصے سے دلکش کی جانب پلٹ کر اُسے تیز نظروں سے گھور کر وہ شازم سے بولا۔کہ شازم اُس کے منہ سے دلکش کے لئے بدچلن سن کر اُسے سختی سے اُسکے گریبان سے پکڑ کر وہ اُسے اوپر اٹھاتے ہوئے غصیلی لہجے میں کہنے لگا۔
“کیا کہا تھا میں نے تھوڑی دیر پہلے تم سے خبیث انسان کہ تم نے اگر دوباره میری دلکش کے بارے میں ایسا کچھ کہا تو میں تُمہیں دوسری بار بولنے کے بھی قابل نہیں چھوڑو گا۔”
گریبان سے پکڑے وہ اُسے سرخ ہوتی نگاہوں سے سختی سے گھورتے ہوئے نفرت سے کہنے لگا۔
“یہ تم کیا کر رہے ہو۔چھوڑو میرے بیٹے کو پاگل لڑکے۔؟؟
اسوہ زولفقار شاه نے سجاول شاہ کی چیخ سنی تو وہ گھبرا کر کواٹر کی جانب تیزی سے بھاگی،اور جب وہاں پہنچی تو سامنے اپنے بیٹے کو شازم شاہ کے ہاتھوں بری طرح سے زدو کوب ہوتے دیکھ وہ تیزی سے اُنکی جانب بڑھتے ہوئے کہنے لگی۔
“چاچی آج آپ ہمارے درمیان آنے کی کوشش نہ کریں ورنہ اِس بے غیرت انسان کے ساتھ میں آپ کو بھی حویلی سے باہر نکال دونگا۔”
سختی سے اِنہیں وہیں روکتے ہوئے وہ کہنے لگا۔تو اسوہ شاہ اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر سجاول شاہ کی جانب بے چارگی سے دیکھا،جو بری طرح سے مار کھانے کی وجہ سے نیچے زمین پر پڑا بری طرح سے زخمی تھا۔
“نکل جاؤ یہاں سے خبیث انسان اس سے پہلے کہ جان لے لو تمہاری۔”
شازم نے اسے زور سے دروازے کی جانب دھکیل کر کہا تو وہ اسے موقع غنیمت جان کر وہاں سے تیزی سے باہر کی جانب بھاگا۔اس کے اور اسوہ شاہ کے جاتے ہی شازم سہم کر دیوار کے ساتھ لگی دلکش کی جانب مڑا جو خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی۔
“نن۔۔۔نہیں میں نے کچھ نہیں کیا تھا، وہ خود ہی۔۔۔”
دلکش نے اپنی گواہی دینی چاہی کہ کہیں شازم اسے ہی غلط نہ سمجھے لیکن شازم کی اگلی حرکت پر اسکی بولتی بند ہو گئی۔
اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر شازم نے اسے اپنی جانب کھینچتے ہوئے خود میں بھینچ لیا۔
“جانتا ہوں کہ تمہاری اِس میں کوئی خطا نہیں ہے دل خطا تو میری ہے کہ میں نے ہی تم سے دور رہ کر ان جیسے گھٹیا لوگوں کو تمہارے قریب آنے کا موقع دیا۔۔۔لیکن اب میں ایسا نہیں کرنے والا۔۔۔”
شازم کی بات پر دلکش کی دھڑکنیں بڑھ گئیں۔خوف اسکے پورے وجود پر طاری ہو چکا تھا۔
“شازم۔۔۔”
شازم نے اسے اپنی باہوں میں اٹھا لیا تو دلکش نے گھبرا کر اسے پکارا لیکن شازم اسکی کوئی بات سنے بغیر اسے لے کر بیڈ کی جانب بڑھ چکا تھا۔
“اب میں یہ دوری مٹا دوں گا دل تا کہ ہر کوئی جان لے کہ تمہارے اس وجود پر صرف اور صرف شازم شاہ کا حق ہے۔۔۔”
اتنا کہہ کر شازم اس پر جھکا اور نازک لبوں کو اپنی پر شدت گرفت میں جکڑ لیا۔دلکش مزاحمت کرنا چاہ رہی تھی اس سے دور جانا چاہ رہی تھی لیکن شازم کی گرفت بہت زیادہ مظبوط تھی۔
“شازم نہیں کریں۔۔۔”
شازم کے دور ہوتے ہی دلکش نے التجا کی لیکن شازم اسکی کوئی بات سنے بغیر اسے بیڈ پر لیٹا کر اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔
“شازم۔۔۔”
“بس دل اب بس میری جان تمہاری بہت من مانیاں برداشت کیں میں نے اب تم میری من مانیاں برداشت کرو۔”
اتنا کہہ کر شازم اس پر جھکتا چلا گیا اور دلکش کا سارا خوف ساری مزاحمت وہ خود میں سمیٹ چکا تھا۔اپنے ہر عمل سے شازم نے ثابت کیا تھا کہ دلکش اسکے لیے متاع جان ہے۔
رات آہستہ آہستہ سرک رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ دلکش کی ہر مزاحمت بھی۔ اپنے شوہر کی محبت کے سامنے وہ بری طرح سے ہار گئی تھی۔
❤️❤️❤️
“تُمہیں میں کتنا غلط سمجھتی تھی،مگر تم نے ثابت کر دیا کہ تم ایک اچھے انسان ہو،ایک چاہنے والے ہمسفر لیکن میں ہر وقت تم سے بدگمان رہی اب مم۔مجھے خود پر بہت غصہ آ رہا ہے،کہ میں کیوں تُمہیں غلط سمجھی۔”
اپنے بے حد قریب آنکھیں موندے اپنے چہرے پر بچوں کی سی معصومیت لیے سوئے شازم کو محبت سے دیکھتے وہ خود سے کہنے لگی۔کہ یکدم اُسے نجانے کیا سوجھی کے وہ بے اختیار اپنا ہاتھ آگے بڑھائے اُس کے ماتھے پر بھکرے بالوں کو درست کرنے لگی۔
“دل اگر تم میرے سونے کا فائدہ اٹھا رہی ہو تو غلط کر رہی ہوں، میں سوتے وقت بھی اپنی آنکھیں کھلی رکھتا ہوں۔اور تمہارے معملے میں تو سید شازم علی شاہ ان آنکھوں کو عمر بھر کی تھکاوٹ دے سکتا ہے لیکن تمہارے وجود سے غافل کبھی نہیں ہوسکتا نہ ممکن “
آنکھیں اُسی طرح بند کیے وہ سنجیدگی سے بولا تھا۔کہ دلکش اُس کی آواز پر اچانک سے اپنا ہاتھ ہٹا کر تھوڑے فاصلے پر ہو کر اپنی نظریں چُرانے لگی۔
“وہ مم۔میں۔”
بوکھلاہت کے باعث وہ بس اتنا بولی۔کہ اُسکی بوکھلاتی آواز سن کر شازم نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکے اور اپنے درمیان کا فاصلہ ختم کرتے ہوئے کہا۔
“دلِ جانم تم کیوں اظہار کرنے سے گھبرا رہی ہو۔اپنی محبت کا اعتراف کروں نا کہ کہ تُمہیں بھی اِس سنکی ضدی انسان سے بے پناه محبت ہے۔”
چہرے پر آئے لٹوں کو نرمی سے وہ اُسکے کانوں کے پیچھے کرکے محبت سے بولا۔تو اُسکے لمس پر اُسے اپنا دل زور سے ڈھرکتا ہوا محسوس ہوا۔
“نن۔نہیں۔۔”
دلکش خود کو اُسکی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کرتی ہوئی کہنے لگی۔تو شازم نے اپنی گرفت اور مضبوط کرتے ہوئے کہا۔
“کیوں نہیں دلکش تم چاہے انکار کر لوں لیکن تم بھی مجھ سے محبت کرتی ہو،کیونکہ یہ جو تُمہاری آنکھیں ہے ناں یہ خود ہی تمہاری مجھ سے محبت کو آشکار کر رہی ہے۔”
اُسکے آنکھوں کو چھو کہ وہ گھمبیر آواز بولا تھا۔کہ دلکش اُسکی حرکت پر بوکھلاتی ہوئی اپنی آنکھیں زور سے میچ کر رہ گئی تھی۔
“جھوٹ ہے یہ سب فریب ہے مم۔میں تم سے محبت نہیں کرتی ہو،ہاں میں پہلے تم سے چڑتی ضرور تھی۔لیکن میں
نے تم سے نفرت کبھی بھی نہیں کی تھیں،کیونکہ میرے پاس کوئی وجہ نہیں تھا،تم سے نفرت کرنے کا، ہاں مگر یہ ضرور ہوا ہے کہ میری تم سے چڑ تُمہاری اچھائی دیکھ کر ختم ہوگئی ہے۔”
اُسکے گرفت سے نکل کر وہ بیڈ سے اترتی ہوئی بولی۔ تو شازم اُسکی بات سن کر غصے سے بیڈ سے اٹھا اور دروازے کی جانب بڑھا اور دروازه کھول کر باہر نکلنے سے پہلے پلٹے بغیر سنجیدگی سے کہنے لگا۔
“یاد رکھنا دل یہ جو تمہاری انا ہے ناں،یہ کبھی بھی تُمہیں تمہارے من پسند انسان کو حاصل کرنے نہیں دے گی،کیونکہ یہ انائیں ہمیشہ انا پرست انسان کو رولتی ہیں۔۔۔جہاں انا ہو وہاں کبھی محبت پروان نہیں چڑھتی۔کیونکہ محبت صرف انکساری کا نام ہے،اور جھک جانے کا۔۔۔اور تم اپنی اِس نام نہاد انا کو کچل دو۔۔۔دل میں یا تو انا ڈیرہ ڈال سکتی ہے۔یا پھر محبت اور ایک انا پرست انسان کبھی بھی پرسکون نہیں رہتا،کیونکہ وہ اپنی انا کی تسکین کی خاطر محبتوں سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔۔”
اُسے سمجھاتے ہوئے وہ آگے بڑھا اور روم کا دروازه کھول کر روم سے باہر نکلا اور اُس کے باہر جاتے ہی دلکش روتے ہوئے سوچنے لگی کہ وہ جب بھی اُسکے قریب جانے کی کوشش کرتی ہیں۔تو کیوں ہر بار اُسکا یہ نام نہاد انا اُسے روکتی ہے۔
“اب نہیں بہت ہوگیا مم۔مجھے اُسی وقت پتہ چل گیا تھا کہ میں بھی تم سے بے پناہ محبت کرتی ہو شاه۔جب تم نے اُس بے غیرت انسان کو میرے روم میں بری نیت لیں کر آنے پر تم نے اُسے بری طرح سے مارا تھا،اُسی وقت مجھے اندازه ہوگیا تھا کہ تم ایک اچھے انسان ہو،لیکن میں جانتی ہو۔کہ تم مجھ سے بھی کئی گنا زیادہ محبت کرتے ہو۔تم اپنی جان تو دے سکتے ہو،مگر مجھے چاہنا کبھی نہیں چھوڑ سکتے ہوں۔”
وہ آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو صاف کرتے مسکراتے ہوئے بولی۔یہ جانے بغیر کہ آگے زندگی اُسکے ساتھ بہت برا کھیل کھیلنے والی ہیں۔
❤️❤️❤️
“سجاول سائیں تم یہاں میرا تماشا دیکھنے آئے ہو نہ کہ میں اِن سنگدل لوگوں کے درمیان یہاں کیسے زنده جی رہی ہو.؟؟
زرناب بائی تکلیف سے سرخ ہوتی اپنی نظریں سامنے ٹیبل پر رکھے شراب کی بوتل کو اٹھاتے سجاول پر ڈال کر بولی۔جو کہ شازم کو غصے سے یاد کرتے ہوئے شراب کی پیک پر پیک چڑھا رہا تھا۔
“زرناب بائی تُمہارے پاس ابھی بھی وقت ہے،اگر تم نے میرا ایک کام کیا تو میں تُمہیں یہاں سے نکالنے میں مدد کروں گا،صرف تُمہارے ہاں کرنے سے تم یہاں سے نکل سکتی ہوں۔”
سجاول نے شراب کا گلاس ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔تو زرناب بائی اُسکی بات پر طنزیہ انداز میں مسکرا کر اُسکے مقابل آ کر کھڑی ہو کر کہنے لگی۔
“سجاول شاه حیرت ہوتی ہے مجھے کہ تم کیسے سید زادے ہو،سید زادے تو تُمہاری طرح آواره نہیں ہوتے ہیں اور نا ہی ہوس پرست ہوتے اپنے کزن شازم علی شاہ کو ہی تم دیکھ لو،کہ ہماری پہلی ملاقات میں اُس نے یہ شراب کی بوتل کی جانب تک دیکھا نہیں تھا،اور ایک سجاول شاه،تم تو شراب ایسے پیتے ہوں جیسے یہ شراب نہیں پانی ہو۔”
وہ شراب کی بوتل کو سامنے دیوار پر بے دردی سے مارتے ہوئے بولی۔کہ سجاول شاه ایک دم اٹھ کر اُسے دیکھنے لگا۔جو کہ اب غصے سے اُسکی جانب بڑھ رہی تھی۔
“یہ تم کک۔کیا کر رہی ہوں۔؟؟
سرخ نظریں لیے زرناب بائی کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر سجاول شاہ نے خوفزدہ ہوتے ہوئے کہا۔
“وہی کر رہی ہوں۔جو مجھے بہت پہلے کر دینا چاہیے تھا۔تُم جیسے آواره انسان کو زنده رہنے کا کوئی حق نہیں ہے،جو ہم جیسی طوائف کی زندگی برباد کر سکتے ہیں،تو آگے چل کر تم جیسے لوگ کسی شریف زادی کی دنیا بھی اجاڑ سکتے ہوں۔اِس سے بہتر نہیں ہے،کہ میں تم جیسے گھٹیا انسان کو ہی ختم کر دو۔”
نفرت سے کہتے ہوئے وہ اُسکی جانب بڑھ رہی تھی۔کہ تبھی اچانک ہی وہاں اِس بار کا مالک اندر داخل ہوتے ہی اُس نے زرناب کو روکتے ہوئے سجاول شاه کی جانب سخت نظروں سے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں بولا۔
“یہ وہ چھوٹے سے کوٹھے کی طوائف نہیں ہیں،جو تم سجاول شاه اُس سے زبردستی کرنے کی کوشش کر رہے تھے،یہاں سب کچھ ہماری لڑکیوں کی مرضی سے ہوتا ہے۔”
زرناب بائی کو سامنے بیڈ پر بیٹھا کر وہ سخت نظروں سے سجاول شاہ کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
“اگر اپنی سلامتی چاہتے ہو،تو یہاں سے چلے جاؤ ورنہ یہاں کا رول تھوڑنے کی سزا تمہیں ملا نا تو وہ تُمہارے لئے اچھا نہیں ہوگا۔”
انگلی اٹھا کر وہ اُسے وارننگ دیتے ہوئے کہنے لگا۔
❤️❤️❤️
“کب تک تم اِسی طرح ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہوں گے،اگر کسی دن وہ لڑکی اُس لڑکے کو اڑا کر لیں گئی نا،تو بیٹھ کر افسوس مت کرنا کیونکہ ابھی تو اُسکی وجہ سے اُس شازم نے میرے بیٹے کو اِس حویلی سے باہر نکلا ہے،کل کلاں کو یہ لڑکی ہمیں بھی باہر نکال سکتی ہے۔”
اسوہ شاہ نے سامنے کرسی پر آرام سے بیٹھی ہاجرہ بی بی کی جانب دیکھتے ہوئے غصے سے کہا۔جو کہ نظریں دیوار پر مرکوز کیے کرسی پر بیٹھی ہوئی تھیں۔
“وہ بھی تو اِسی طرح آسمان میں اڑا کرتی تھیں،مگر پھر کیا ہوا اُسکے ساتھ اسوہ زولفقار شاہ،تُمہیں تو اچھے سے یاد ہوگا،کہ ہم نے کیسے مل کر اُسے آسمان سے نیچے زمین پر لا کر گرایا تھا۔”
ہاجرہ بی بی نے مکروہ مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجاتے ہوئے کہا۔تو اسوہ شاہ نے بے زاری سے اُسے دیکھا جو کہ شازم کو کتنے سالوں سے ایک اچھی ماں بن کر اُسے بے وقوف بنا رہی تھی۔
“اچھے سے یاد ہیں،اور یہ بھی پتہ ہے، کہ تم نے مجھے آج تک یہ نہیں بتایا کہ،تم نے کیوں اُس لڑکے کی اماں کو مارا ہے، دشمنی تو تمہاری اُسکے ابا کے ساتھ تھا،تو پھر تم نے کیوں اُسے ابھی تک زنده رکھا ہوا ہے۔اِن لوگوں سے چھپا کر۔”
اسوہ زولفقار شاه کی بات پر وہ غصے سے اٹھتے ہوئے کہنے لگی۔
“اپنی بکواس بند کروں جاہل عورت ورنہ میں تمہیں بھی تمہارے محبوب شوہر کے پاس پہنچا دونگی،تُمہیں پتہ ہے نا،کہ میں کتنی ظالم اور جابر عورت ہوں،میں ایک ایسی دائن ہو، جو بہت جلد اپنے بیٹے کو خود اپنے اِن ہاتھوں سے مارے گی،جن ہاتھوں نے اُسے بڑا کیا ہے،اور تم اسوہ شاہ کسی گنتی میں شمار نہیں ہوتی ہو،جو میں تمہیں بخشوں۔”
اُسے گردن سے پکڑے وہ سخت نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگیں۔تو کب سے باہر کھڑے اُنکی باتیں سنتے سید وجاہت شاہ کے ہاتھوں سے اپنے بیٹے کا نام سن کر موبائل نیچے زمین پر گرا جسکی آواز اندر اُن دونوں نے سنا تو
وہ گھبڑاہٹ کے مارے باہر کی جانب بڑھے۔
“جاہل عورت کہا تھا ناں،کہ اپنی زبان بند رکھنا دیکھ لیا اپنی زبان کھولنے کا نتیجہ اب اگر وہ بڈھا شازم کے پاس پہنچ گیا،تو جانتے ہو،وہ ہمارا کیا حال کرے گا،بھلے وہ اِس بڈھے سے چڑتا ہو،لیکن محبت وہ مجھ سے بھی کئی
زیادہ اِسی بڈھے سے کرتا ہے۔”
ہاجرہ بی بی نے سامنے سید وجاہت شاہ کی جانب نفرت سے دیکھتے اسوہ شاہ سے کہا جو کہ سامنے سید وجاہت شاہ کو بری طرح سے بھاگتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
