Noo E Man By Sumyia Baloch Readelle50183 Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
“کک۔کون۔؟؟
اپنی آنکھیں بامشکل کھولتی زرناب بائی سامنے اندر داخل ہوتے شخص کو دیکھنے لگی۔جو روم کے اندر داخل ہوتے ہی آہستگی سے اُسکی جانب بڑھ رہا تھا۔
“زرناب بائی ویسے تو تمہارا دشمن ہو۔لیکن اگر تم چاہو تو میں زندگی یا پھر موت کا فرشتہ بھی بن سکتا ہوں۔”
اُس کے مقابل کھڑے ہو کر وہ اُسے دیکھتے ہوئے بولنے لگا۔تو زرناب بائی اُسکی آواز پر خوفزدگی سے اپنے ہاتھ کرسی کے ہتھے میں زور سے دبانے لگی۔
“سائیں مم۔مجھے معاف کر دو۔میں آپکی عمر بھر نوکر بننے کے لیے بھی تیار ہو۔اگر مجھے دلکش سے بھی معافی مانگنی پڑی نہ تو میں مانگنے کے لیے تیار ہو۔پلیز آپ ایک بار مجھے معاف کر دے۔”
زرناب بائی نے روتے ہوئے کہا۔تو شازم نے اُسے بغور دیکھا جو کہ اُسے سچ میں اپنے کیے پر شرمندہ لگ رہی تھی۔
“بائی اِس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔تمہیں صرف ایک کام کرنا پڑے گا۔تب میں تمہیں معاف کر دو گا۔”
شازم اپنی نظریں سامنے کرسی پر باندھے ہوئے اُسکے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔تو زرناب بائی نے حیرت سے اُس ظالم کو دیکھنے لگی جو اُسے اتنی جلدی معاف کر دیں گا اُسے یقین بالکل بھی نہیں آ رہا تھا۔اور آتا بھی کیسے۔جو کہ پہلے دن اُسکی ماں کو اُسکے گناہ کی وجہ سے گولی مار سکتا ہے۔تو اُسے اُسکے گناہ پر کیسے معاف کر سکتا ہے۔
“تم یہ مت سمجھنا کہ میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔نہیں بالکل بھی نہیں۔میں کبھی بھی گناہگار کو معاف نہیں کرتا۔تم صرف اپنی شرمندگی کی وجہ سے بچ گئیں۔لیکن سزا تو تمہیں پھر بھی ملے گی۔”
شازم نفرت کا جذبہ اپنے لفظوں میں سمو کے بولا۔تو زرناب بائی اُسکی بات سن کر زور زور سے کانپنے لگی۔
“سائیں آپ حکم کریں۔میں پوری کرنے کی کوشش۔”
اِس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی اُس سے پہلے شازم نے اُسکی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
“کوشش نہیں بائی۔کوشش ہرگز نہیں تمہیں وہیں کرنا پڑے گا۔جو میں تمہیں کہوں گا۔تمہیں یہ گاؤں چھوڑ کر شہر کے مہشور کوٹھے میں جا کر اُسی طرح کرنا پڑے گا۔جس طرح تم نے اپنے اماں کو دلکش کے اغوا کرنے کا مشورہ دیا تھا۔تاکہ تم لوگ اُس کے ذریعے دولت کما سکوں۔”
اُسے حقارت سے دیکھتے غصے سے بولا۔کہ زرناب کی آنکھیں شہر کے مہشور کوٹھے کے نام پر خوف سے پھیلتی گئیں۔کیونکہ وہ جس کوٹھے کے بارے میں کہہ رہا تھا۔وہ اُس جیسی طوائف کے لئے بھی خطرناک تھا۔وہاں کا ماحول اُن کے کوٹھے سے زیادہ آزادانہ تھا۔
“سجاول سائیں آپ یہاں۔کیا آپ کو کچھ چاہیے۔؟؟
نجمہ سجاول شاہ کو کچن کے دہلیز پر کھڑے دیکھ اُس سے پوچھنے لگی۔جو کہ دلکش کے حسین چہرے کو اپنی ہوس زدہ نظروں میں لیے اُسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔
“ایک کپ چائے مگر اُس نوکرانی کے سُندر ہاتھوں سے۔”
دلکش جو کب سے اپنے وجود پر اُسکی ہوس ناک نظریں ضبط سے برداشت کر رہی تھیں۔کہ اُسکے بے باکی سے کہنے پر وہ غصے سے اپنی مٹھیاں زور سے بھینچنے لگی۔
“جو حکم سائیں۔”
لفظوں کو سختی سے پیستے وہ بولی۔تو سجاول شاہ اُسکی آواز پر اپنی نظریں ایک بار پھر سے اُسکے سراپے پر گاڑتے ہوئے کہنے لگا۔
“میرے کمرے میں لے آنا لڑکی۔کیونکہ مجھے وہیں پر سب سے زیادہ پسند ہے پینا۔مطلب چائے پینا۔”
معنی خیزی سے مسکراتے ہوئے وہ اُس کے پیچھے کھڑے ہو کر اُسکے کانوں میں بے باکی سے شرگوشی کرتے ہوئے کہنے لگا۔تو دلکش نے ضبط سے کام لیا۔لیکن اُس گھٹیا انسان کو کہا کچھ نہیں۔
“نجمہ آپا یہ انسان اچھا ہوا اُن دنوں یہاں نہیں تھا۔۔۔ورنہ اپنے اِن ہی حرکتوں کی وجہ سے وہ میرے ہاتھوں فوت ہو جاتا۔”
اُس کے جاتے ہی وہ غصے سے سرخ ہوتی چائے کے لیے پانی چولے پر چڑھاتے ہوئے بولی۔تو نجمہ نے اُسے مسکراتے ہوئے دیکھتے ہوئے کہا۔
“آپ کو پتہ ہے۔آج آپ اِس وقت بالکل شازم سائیں کی طرح سجاول شاہ کے بارے میں اپنی نفرت کا اظہار کر رہی ہیں۔فرق صرف اتنا ہے۔کہ وہ اُن کے سامنے نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔اور آپ سجاول شاہ کے پیٹھ پیچھے۔”
نجمہ نے اُسے اپنی جانب کر کے پیار سے شازم کے بارے میں کہا۔تو دلکش اُن کی بات پر تیزی سے چائے کے لیے فریج سے دودھ نکالتے ہوئے کہنے لگی۔تو نجمہ شازم کی بات کو یوں نظر انداز کرنے پر اُسے گھورنے لگی۔
“نجمہ آپا اگر میں یہ چائے اُس بے غیرت انسان کے روم میں دیر سے لیں کر گئی نہ تو کوئی بعید نہیں کہ اُسکی جلاد اماں یہاں پر پہنچ جائیں۔آج ہی تو اماں کا لاڈلا بیٹا جو آیا ہے۔تو غصہ تو وہ ہم ملازموں پر ہی نکالے گی۔”
دلکش نے ناک بھوں چڑھاتے ہوئے کہا۔تو نجمہ اُسکی بات پر زور سے قہقہہ لگا اٹھی تھیں۔کیونکہ وہ اُسے اِس وقت بالکل شازم سائیں کی طرح لگ رہی تھیں۔
“سجاول سائیں یہ آپکی چائے ۔؟؟
اُس انسان کے روم میں داخل ہو کر وہ سنجیدگی سے سامنے ٹیبل پر مگ رکھتے ہوئے بولی۔سجاول جو الماری میں اپنے لئے شرٹ ڈھونڈ رہا تھا۔کہ اُس کی آواز پر اُس کے ہونٹوں پر زومعنی مسکراہٹ پھیلنے لگا۔جسے چھپا کر وہ پلٹا اور اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
“یہاں پر آنا زرا تم اور میرے لیے ایک سوٹ نکال کر استری کر کے مجھے دو۔مجھے ایک ضروری کام کے لئے کہیں جانا ہے۔؟
اُسکی نظریں بظاہر تو الماری پر مرکوز تھی۔مگر سارا دھیان اُسی کی جانب تھا۔دلکش جو بیزاری سے اُس کے جواب کی منتظر کھڑی تھی۔اُسکی بے تُکی بات پر وہ پہلے تو گھبرا کر اُسے دیکھتی رہ گئی تھی۔۔پھر خود کو سنبھال کر وہ آگے بڑھی۔اور الماری میں سے اُس کے لئے کپڑے دیکھنے لگی۔کہ اچانک اُسے اپنی گردن پر کسی کی گرم سانسیں محسوس ہونے لگی۔
“یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔؟؟
جھٹکے سے پیچھے مڑی تو اُسے اپنے پیچھے کھڑے دیکھ وہ گھبراہٹ کے عالم میں الماری سے جا لگی۔کہ سجاول شاہ جو اُسے خود سے گھبراتے دیکھ رہا تھا۔معنی خیز مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجا کر وہ اُس کے اوپر جھکنے لگا۔دلکش نے جب اُسے اپنے اوپر جھکتے ہوئے دیکھا۔تو وہ اُسے پیچھے کی جانب دھکیل کر خود خوف زدہ ہو کر روم سے باہر نکل کر اپنے کواٹر کی جانب بھاگنے لگی۔
“لڑکی تم مجھ سے نہیں بچ سکتی۔تمہارا شوہر۔بھی تُمہیں مجھ سے نہیں بچا سکتا۔اُس نے میری زرناب کو مجھ سے جدا کیا ہے ناں۔اب جب تک میں تُمہیں اُس سے جدا نہیں کروں گا۔مجھے چھین نہیں ملے گا۔”
سجاول شاہ نے نفرت سے شازم کو یاد کرتے ہوئے غصے سے چیختے ہوئے دلکش کو دیکھ کر کہنے لگا۔جو کہ روم سے کب کی باہر نکل چکی تھی۔
“دل۔۔سنو میری بات پلیز رک جاؤ جانم میری خاطر پلیز۔؟؟؟
ابھی حویلی میں داخل ہو کر اپنے قدم سیڑھیوں کی جانب بڑھانے ہی والا تھا۔کہ اچانک ہی اُسکی نظریں سامنےسجاول شاہ کے روم سے نکلتی دلکش پر جا ٹھہری جو کے اُسے کافی خوفزدہ نظر آ رہی تھی۔وہ یکدم سے اُسے پکارتے ہوئے اُسکی جانب بھاگا۔جو روتے ہوئے بھاگ رہی تھیں۔
“مجھے کچھ بھی نہیں سننا۔پلیز تم یہاں سے چلے جاؤ۔ فلحال تم مجھے اکیلا چھوڑ دو،اب میں تھک گئی ہو۔یہ سب سہتے سہتے۔اب اور نہیں۔سہہ سکتی میں۔اور تم مردوں نے آخر سمجھ کیا رکھا ہے ہاں۔کہ تم لوگ جب چاہو اپنے مفاد کے لئے ایک بے سہارا عورت سے کھیل کر اُسے استعمال کر کے اُسے توڑ مڑوڑ کر کسی کوڑے دان میں پھینک کر آؤ تاکہ عورت تم لوگوں کے خلاف آف تک نا کر سکے۔”
وہ اُسے سختی سے روکتے ہوئے نفرت سے کہنے لگی۔تو شازم اُس کی بات پر وہیں کھڑے ہو کر اُسے دیکھنے لگا۔جو سرخ آنکھیں لیے اُسے دیکھ رہی تھی۔
“دل میری جان بخدا میں نے تمہیں کبھی بھی اپنے مفاد کے لئے استعمال نہیں کیا ہے۔نا ہی آج اور نا ہی کل۔میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔اور میں کبھی بھی اپنے پیار کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔تو تکلیف کیسے پہنچا سکتا ہوں ۔”
آگے چل کر وہ اُسے اپنے سینے سے لگا کر محبت سے کہنے لگا۔تو دلکش اُس کے سینے سے لگ کر اُسکی شرٹ پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے بری طرح سے رونے لگی۔
“تم اگر مجھے اتنا ہی چاہتے ہو۔تو کیوں کیا میرے ساتھ تم نے ایسا کیوں مجھے تم نے اُس دن میڈیا والوں کے سامنے ذلیل کیا۔اور اگر یہ محبت ہے۔تو تمہارا نفرت کیسا ہوگا۔وہ بھی مجھے ابھی دکھا دو۔”
اُسکے سینے سے لگی کھڑی سختی سے اُسکے کندھوں پر دباؤ بڑھاتے ہوئیں وہ اُس سے شکوہ کرنے لگی۔تو شازم اُسکے شکوہ پر اُسے خود میں بھینچ کر کہنے لگا۔
“یہ دل جو پہلے ایک پتھر کا تھا۔لیکن دلکش یہ تمہارے ملنے کے بعد صرف تمہارا ہی ورد کرتا رہتا ہے۔بیشک تم میری اِن سانسوں سے بھی پوچھ لو کہ یہ بس تمہیں ہی محسوس کرتا ہے۔محبت تو پھر محبت ہے۔اور میری زندگی پھر چاہے تم مجھ سے ناراض ہو۔کیوں نہ تم مجھ سے بے رخی دکھاؤ۔ چیخو۔چلاؤ۔یا پھر خاموش ہو جاؤ۔یا مجھے بھول جاؤ۔مگر پھر بھی میری تم سے یہ محبت کم نہیں ہوگی۔”
وہ دونوں ہاتھوں کے پیالے میں اُسکا چہرہ لیے جذباتی انداز میں بولنے لگا۔کہ دلکش اُسکی بات سن کر کافی حیران رہ گئی۔کیونکہ آج اس نے دو طرح کے مردوں کا سامنا کیا تھا۔ایک ہوس کا شکار مرد اور دوسرا محبت سے پیش آنے والا مرد اور دلکش کو آج اپنے دل میں یہ اعتراف کرنا پڑا۔کہ اِس وقت اپنے سامنے کھڑے شخص کے محبت سے محبت ہو چکی ہے۔لیکن وہ اپنے جذبات اُس پہ ابھی بالکل بھی آشکار نہیں کرنا چاہتی تھیں۔وہ خود کو تھوڑا اور وقت دینا چاہتی تھی۔اپنے اِن جزبوں کو سمجھنے کے لئے۔وہ اِن لمحوں کو محسوس کرنا چاہتی تھی۔
سجاول شاہ تم رات کے اِس وقت یہاں میرے بیڈ روم میں کیا کر رہے ہو۔؟؟
وہ آپنی آنکھیں موندے سونے کی بھرپور کوشش کر رہیں تھی۔کہ یکدم سے اُسے اپنے چہرے پر کسی کی سانسوں کا احساس ہونے لگا،اُس نے آنکھیں کھول کر اپنے اوپر جھکے سجاول شاہ کو کو دیکھا،جو کہ بیڈ کے اوپر اپنے دونوں ہاتھ دائیں بائیں رکھے، اُس کے اوپر جھکا،اُسے اپنی سرخ نظروں سے گھور رہا تھا۔تو دلکش نے غصے سے اُسے پیچھے کی جانب دھکیلتے ہوئے نفرت انگیز لہجے میں کہا۔
“ہاہاہاہاہاہا.!!
زور دار قہقہہ لگاتے ہوئے سجاول شاہ نے اُسکی جانب دیکھا۔جو کہ اب کھڑی اُسے غصے سے دیکھ رہی تھی۔
“یہ تُمہیں کبوتروں کا ڈبہ بیڈ روم لگتا ہے۔شراب کے نشے میں دھت وہ بے ڈھنگے پن سے ہنستے ہوئے کہنے لگا۔
ششششش۔ اچھا یہ سب باتیں چھوڑو اور آؤ میرے ساتھ چلوں،آج تم نے اگر میری ایک خواہش پوری کر دی نہ تو میں تُمہیں اپنی رانی بنا کر رکھوں گا۔جیسے اُس زرناب کو رکھا تھا۔لیکن اُس نے (گالی) مجھے دھوکہ دیا۔بھاگ نکلی سالی اپنے یار کے ساتھ اور اگر تم نے بھی میرے ساتھ کچھ ایسا ویسا کیا نہ تو،یہ جو تمہاری سفید چمڑی ہے نا،میں اُس کو جلا دونگا۔”
سجاول لڑکھڑاتے ہوئے آگے بڑھ کر اُسکی کلائی کو دبوچ کر کہنے لگا۔تو دلکش کی تکلیف کے باعث چیخ نکل گئی،جسے روم کے باہر کھڑے شازم نے تڑپتے ہوئے سنا جو دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر وہاں اُسے ایک نظر دیکھنے کے لئے آیا تھا۔
“سجاول شاہ۔؟؟
اندر داخل ہوتے ہی جب اُس نے سجاول شاہ کو اپنی دلکش کے ساتھ زبردستی کرتے ہوئے دیکھا،تو یہ سب دیکھ کر یکدم سے اُسکا خون کھولنے لگا،وہ انتہائی غضبناک تیور لئے اُن کی جانب بڑھنے لگا۔
“بے غیرت انسان تُمہاری اتنی مجال کہ تم نے میری دل کو چھوا اور اُسے ڈرایا،اور تُمہیں کیا لگا،میں تمہیں کچھ بھی نہیں کہوں گا،اِسی طرح خاموشی سے یہ سب کچھ دیکھتا رہوں گا،جب تم نے میری دلکش کو اپنے روم میں بلا کر اُسے خوفزدہ کیا تھا ناں،ذلیل کمینے انسان تب ہی میں تمہارے اِن ارادوں سے آگاہ ہوگیا تھا۔”
گریبان سے پکڑ کر اُسے جنونی انداز میں اپنی ٹھوکروں پر رکھ کر وہ بری طرح سے اُسے مارنے لگا۔کہ سجاول شاہ کی چیخے سن کر دلکش خوفزدہ ہو کر پیچھے کی جانب بڑھنے لگی۔
“شازم تم اِس بے غیرت لڑکی کی وجہ سے۔”
اُسکے بے غیرت لڑکی کہنے پر وہ پاگلوں کی طرح اُسے مارنے لگا۔کہ درد کے مارے اُسکی چیخے اور بلند ہونے لگیں۔
“زبان سنبھال کر بات کرنا آئیندہ تم خبیث انسان ورنہ میں تمہیں بولنے کے قابل بھی نہیں چھوڑوں گا۔”
سخت غصے سے وہ اُس کے سینے پر اپنے پاؤں سے زور زور سے ضرب مارتے ہوئے کہنے لگا۔کہ اُسکی چیخے سارے روم میں پھیلنے لگی۔
جاری ہے۔
