74.1K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

“یہ تم آنکھیں پھاڑے کیا دیکھ رہے ہوں۔؟؟
وہ خاموشی سے اپنا ایک ہاتھ ٹھوڑی پر رکھے اور ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے صوفے پر بیٹھا اُس کے چہرے کو بغور دیکھ رہا تھا۔کہ اُس کے سوال پر اپنا دوسرا ہاتھ آگے بڑھا کر اُس کے چہرے پر آئے اُن آوارہ لٹوں کو کان پیچھے کرتے ہوئے بولا۔جو اُسے اُس وقت اپنے سب سے بڑے رقیب معلوم ہو رہے تھے۔
“دل ڈارلنگ۔میں کب سے یہ دیکھ رہا ہوں۔کہ تم مجھے غصے میں زیادہ پیاری لگتی ہوں۔یا پھر روتے ہوئے۔”
شازم اُس کے چہرے کو نظروں کے ایثار میں لیتے ہوئے بولا۔تو دلکش نے اُسے اپنی سخت نظروں سے گھوری سے نوازتے ہوئے دیکھا۔
“ہوں۔تو تم اب چاہتے ہو۔کہ میں روؤں۔واہ بہت خوب۔مگر اِس بار میں نہیں تم روؤں گے۔اور یہ آج ہی سے ہوگا۔۔۔سو مسٹر سائیں۔ویٹ اینڈ واچ۔”
دلکش اُس کے مقابل آ کر صوفے کے ہتے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتی ہوئی جھک کر اُسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پرسرار لہجے میں بولی۔
شازم نے اُس کی بات پر مسکرا کر اُسے اپنے اوپر گرایا۔اور پھر وہ اُس کے دونوں ہاتھ پیچھے اُسکی کمر پر لے جا کر اپنے ایک ہاتھ کی مدد سے اُس نے آپنی ٹائی اتاری۔
اور پھر وہ سختی سے اُسے دونوں ہاتھوں سے باندھ کر اُسے دیکھنے لگا۔جو اُس حرکت پر اُس کے سینے کے اوپر گری اُسے گھور رہی تھی۔
“ڈارلنگ آج تک میں نے کسی کو بھی یہ حق نہیں دیا۔کہ وہ مجھے یعنی سید شازم علی شاہ کو رُلا سکے۔ لیکن میں یہ حق آج اور ابھی سے اپنی مسسز کو دینا چاہتا ہوں۔کہ وہ جس طرح چاہے مجھے رُلا سکتی ہے۔مجھے منظور ہے۔”
شازم نے اُس کی کمر پر اپنے دونوں ہاتھ عمائل کرتے مسکرا کر کہا۔تو دلکش اُس کی قربت پر شرم سے سرخ ہوتی اپنی نظریں نیچے جھکانے پر مجبور ہو گئی تھی۔
“مسٹر سائیں باہر آپ کے لئے ایک سرپرائز ہے۔اور یہ سرپرائز شاید آپکی زندگی کو بدل دے۔”
دلکش خود کو سنبھال کر اُسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولی۔تو شازم نے غور سے اُس کے چہرے پر کچھ تلاشنا چاہا۔مگر وہاں سنجیدگی کے علاؤہ اُسے کچھ نظر نہیں آیا۔تو وہ اُس کے ہاتھوں کو آزاد کرتے ہوئے کہنے لگا۔
“دیکھتے ہیں۔کہ میری بیوی نے مجھے کیا سرپرائز دیا ہے۔”
شازم نے اپنے قدم باہر کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔تو دلکش اُس کہ خوشی سے دمکتے ہوئے چہرے پر اپنی جلتی نظریں ڈال کر دیکھنے لگی۔
“سید شازم علی شاہ آپ ہی ہوں۔؟؟
شازم نے جب دروازہ کھولا تو سامنے پولیس آفیسر کے دو تین نوجوانوں کو کھڑے دیکھا تو وہ حیرانی سے پیچھے مڑ کر دلکش کو دیکھنے لگا۔جو استہزاء نظروں سے اُسے دیکھ رہی تھی۔
“جی میں ہی ہوں۔”
شازم آفیسر کو دیکھتے ہوئے بولا۔تو آفیسر نے پیچھے کھڑے اپنے جونئیر کو اشارہ کیا تو وہ آگے بڑھا اور اُس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی پہنانے لگا۔
“یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔؟؟
شازم نے غصے سے آفیسر کو دیکھتے ہوئے کہا۔تو آفیسر نے اُسے اپنی سخت نظروں سے وارننگ دیا۔
“مسٹر ایک تو تم نے اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھایا اور اوپر سے ڈھٹائی تو دیکھوں ایک پولیس آفیسر سے بدتمیزی کر رہے ہوں۔”
آفیسر نے غصے سے اُسے گھورتے ہوئے کہا۔تو شازم نے حیرت سے دلکش کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔۔جو اپنا منہ نیچے کیے شاید مسکرا رہی تھی۔
“آفیسر یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔میں تو عورت پر تشدد کرنے والوں کو کم ظرفی سمجھتا ہوں۔تو میں بھلا کیونکر یہ گھٹیا کام کروں گا۔مجھے لگتا ہے کہ آپ سے کسی نے غلط بیانی کی ہوگی۔”
شازم نے آفیسر کو دیکھتے ہوئے کہا۔تو دلکش نے تیزی سے اُن کی جانب بڑھتے ہوئے روتے ہوئے اپنے ہاتھ جو اُس نے اُن لوگوں سے نظریں بچا کر بڑی ہی ہوشیاری سے اُسی ٹائی سے باندھے جو کچھ دیر پہلے شازم نے اُس کے ہاتھ باندھے تھے۔
“آفیسر اگر میں نے آپ سے غلط بیانی کیا تھا۔تو پھر یہ سب کیا ہے۔پوچھیے اِس سے۔کہ یہ کیوں مجھے اِس نے اپنی ٹائی سے باندھا ہوا ہے۔اِس نے مجھے یہاں اپنے فلیٹ میں لاتے ہی مجھ پر تشدد کرنا شروع کر دیا تھا۔
اور آفیسر میں نے آپ کو کانٹیکٹ اُس وقت کیا جب یہ نشے میں دھت اپنے کمرے میں سویا ہوا تھا۔یہ نشے کی حالت میں ایک وحشی انسان بن جاتا ہے۔اور یہ پھر مجھ پر بہت زیادہ ظلم کرتا ہے۔”
غمگین صورت بنا کر وہ شدت سے روتے ہوئے بولی تو شازم اُس کی دھڑلے سے جھوٹ پر غصے کے مارے تھرا اٹھا۔
“دلکش یہ کیا کہہ رہی ہوں۔میں تم سے محبت کرتا ہوں۔نفرت نہیں۔تو میں بھلا کیوں یہ نیچ حرکت کروں گا۔ڈیم اٹ۔”
اُسے گھورتے ہوئے وہ سخت لہجے میں کہنے لگا۔
“ابے اوئے مجنوں کی اولاد مجھے تمہارے اِن سندر آنکھوں سے صاف نظر آ رہا ہے۔کہ تمہیں اپنی بیوی سے کتنا پیار ہے۔چل تھانے۔تجھے بتاتا ہوں۔کہ عورت پر ہاتھ اٹھانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔”
آفیسر کے اشارے پر جونئیر آفیسر نوجوان نے آگے بڑھ کر اُسے پکڑتے ہوئے کہا۔تو شازم دلکش کے مسکراتے چہرے کو وارننگ دیتی نگاہوں سے گھورنے لگا۔


“سرمد صاحب آپ یہاں۔خیریت تو ہے نا۔؟؟
آفیسر نے سرمد کو وہاں دیکھا۔ تو جلدی سے وہ ادب سے اپنی جگہ سے کھڑے ہو کر اُس کے لیے کرسی پیش کرتے ہوئے کہنے لگا۔تو سرمد نے اُسے گھورا۔
“آفیسر فیاض الحسن جس شخص کو تم نے اپنی حراست میں لیا ہے ناں۔وہ میرا جگری دوست ہے۔میرا بھائی ہے۔آفیسر تمہاری ہمت کیسے ہوئی اُسے آریسٹ کرنے کی ہاں۔؟؟
سرمد نے سنجیدہ نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے تیز لہجے میں کہا۔تو آفیسر اُس کی بات پر ڈر کر اُسے دیکھنے لگا۔
“سرمد صاحب مجھے معاف کر دے۔مجھے سچ میں بالکل بھی پتہ نہیں تھا۔کہ وہ شخص آپ کا دوست ہے۔اگر مجھے پتہ ہوتا۔تو میں اُسے اُسکی غلطی ہونے کے باوجود بھی آریسٹ نہیں کرتا۔”
آفیسر نے اپنے ہاتھ گھبراہٹ کے عالم میں آگے بڑھ کر اُس کے پیروں پر رکھتے ہوئے کہا۔تو اُس نے اُسے سخت نظروں سے گھورا تو آفیسر جلدی سے پیچھے ہوتے ہی اُسے دیکھنے لگا۔
“آفیسر اگر اُس نے غلطی کیا ہوتا ناں۔تو میں یہاں اِس وقت اُسے کبھی بھی بچانے کے لیے نہ آتا۔کیونکہ میں ظالموں کو کبھی بھی معاف نہیں کرتا۔
چاہے وہ میرا بھائی یا دوست ہی کیوں نہ ہو۔مگر مجھے پتہ ہے۔کہ میرا دوست اپنے ساتھ تو ظلم کر سکتا ہے۔لیکن وہ شخص اپنے جان سے پیارے انسان کو تکلیف پہنچانا تو دور تکلیف دینے کا سوچنا بھی گناہ سمجھتا ہے۔”
سرمد نے پہلی بار مسکرا کر شازم کے بارے میں کہا۔تو آفیسر نے اُسے مسکراتے دیکھ کر سکون بھری سانس خارج کرتے ہوئے کہا۔
“سرمد صاحب۔آپ کہیے تو میں ابھی اِسی وقت آپ کے دوست کو ضمانت پر رہا کرتا ہوں۔”
سرمد کو دیکھتے ہوئے آفیسر نے کہا۔تو سرمد اُسے سنجیدہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
“آفیسر یہ اتنا آسان نہیں ہے۔آپ میرے دوست کو اچھے سے نہیں جانتے وہ اپنی ضد کا بہت پکا ہے۔جب تک وہ شخص اپنا کیس واپس نہیں لے گا۔وہ اس پولیس اسٹیشن کے جیل میں سڑنا تو پسند کرے گا۔مگر باہر نکلنا۔کبھی بھی نہیں۔”
سرمد کہتے ہی اٹھا اور اُن سلاکوں کی جانب بڑھا جہاں وہ قید تھا۔


“دلکش اچھا نہیں کیا تم نے میرے ساتھ۔بالکل بھی اچھا نہیں کیا۔میں تمہیں اِن سب کے لیے کبھی بھی معاف نہیں کروں گا۔”
شازم دیوار پر دلکش کے اسکیچ کو تیز نظروں سے گھورتے ہوئے بولا۔جو کہ اُس نے یہاں آتے ہیں۔مشکل سے۔اور منت سماجت کرکے ایک آفیسر سے آئل اسپرے منگوا کر بنایا تھا۔
“تم میری محبت کا مزاق بنا رہی تھی۔اور میں پاگل۔ سمجھ بیٹھا۔کہ تم مجھے تھنگ کرنے کے لیے یہ سب کر رہی ہوں۔۔لیکن اِس بار تم نے یہ سب کر کے میرے ایگو کو ہرٹ کیا ہے۔اور میں یہ بات کبھی بھی نہیں بھولوں گا۔”
جنونی انداز میں وہ سامنے دیوار پر اُس کے اسکیچ پر مکا مارتے ہوئے کہنے لگا۔
“شازم یار تم یہ کیا کر رہے ہو۔تمہیں چوٹ لگ سکتی ہیں۔کول بڈی۔جسٹ ریلکس۔”
سرمد جو کب سے وہاں کھڑا اُس کی باتیں سن رہا تھا۔اُس نے آگے بڑھ کر اُسے پکارا تو اُسکی پکار پر اُس کے تیزی سے چلتے ہاتھ وہیں فضا پر رک گئے۔
“سرمد اُس چوٹ کا کیا جو اُس نے میرے دل پر لگایا۔اور یار وہ بالشت بھر کی لڑکی۔مجھے کیوں محبت سے نفرت کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔وہ نہیں جانتی۔کہ میری نفرت محبت سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ وہ مجھے اِن شعلوں میں دھکیل کر وحشی بننے پر کیوں اکسا رہی ہے۔”
غصے سے اُسکا خون کھول رہا تھا۔ سرمد کو اُسے اِس حالت میں دیکھ کر اُس سے خوف محسوس ہونے لگا۔
“شازم بھابھی ناسمجھ ہے۔اور تم ایسا کچھ بھی نہیں کروں گے۔ان کے ساتھ۔وہ پہلے سے ہی تم سے بدگمان تھی۔تمہارے قہر کو سہہ کر اور زیادہ تم سے بدگمان ہو جائے گی۔”
سرمد نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔تو وہ غصے سے دیوار پر ہاتھ مار کر دلکش کی تصویر کو دیکھنے لگا۔
“نہیں سرمد میں نے اپنی محبت کی وجہ سے اُس لڑکی کا بہت لحاظ کیا تھا۔اور بدلے میں اُس چھوٹی سی لڑکی نے مجھے کیا دیا۔اذیت۔صرف اور صرف اذیت۔”
سرخ آنکھیں اُس کی تصویر پر گاڑتے ہوئے وہ سخت لہجے میں کہنے لگا۔
جاری ہے۔