Noo E Man By Sumyia Baloch Readelle50183 Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
“مٹل دفعہ ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔!!!”
وہ اُسے بکھرے حلیے میں دیکھ کر غضبناک تیوری لیے اُس کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔مٹل کی وہاں موجودگی پا کر غصے سے پاگل ہو کر اُسے وہاں سے جانے کے لیے حکم دینے لگا۔۔۔۔جو دلکش کو اِس حلیے میں دیکھ کر اپنا سر شرمندگی کے باعث جھکائے کھڑا تھا۔
“شازم سائیں اُسے کیوں جانے کا کہہ رہے ہو۔۔۔۔تمہارے بعد تو اُس کی بھی باری ہے۔مجھے چھ۔!!”
دلکش اُس سے آگے کچھ اور بکواس کرتی اچانک شازم علی شاہ نے غصے میں آ کر آگے بڑھتے ہوئے اُس کے گال پر زور سے تھپڑ دے مارا دلکش جو اِس اچانک حملے کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھی۔وہ سیدھا منہ کے بل زمین پر گر کر اپنے سرخ گال پر ہاتھ رکھے ششدر رہ گئی۔
“بکواس بند کروں۔!!
اُسے بازؤوں سے سختی سے پکڑے اپنی قہر بھری نگاہوں سے گھورتے ہوئے بولا۔تو دلکش کو یکایک اُس سے خوف محسوس ہوا۔
“اس دن تم مجھ پر الزام لگا رہی تھی نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو سنو ہاں میں مارنا چاہتا تھا۔۔۔۔تمہارے دادا کو،جس کی وجہ سے میں نے اپنے ماں باپ اور بہن کو کھویا ہیں۔
مگر قدرت کا کھیل دیکھو کہ میرے ہاتھ اُس کے ناپاک خون سے بچ گئے،اور اُسے جس نے بھی مارا ہے نا،میں اُسے بھی نہیں چھوڑوں گا۔۔۔جان سے مار دوں گا، کیونکہ میں تمہارے مکار دادا کو موت سے بھی بدتر سزا دینے والا تھا۔۔۔۔۔۔خیر کوئی بات نہیں تم جو ہوں نا،بھرپائی کے لیے تو میں اُن کے ایک ایک گناه کا بدلا تمہیں تکلیف پہنچا کر لوں گا۔۔۔۔”
شازم علی شاہ اُس کے بازو کو اپنی سخت گرفت میں لے کر تیز آواز میں بولا۔
“تم جھوٹ بول رہے ہو،میرے دادا کسی کی جان نہیں لے سکتے،وہ تو ایک نیک انسان تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ جو کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے،تو بھلا تین لوگوں کی جان کیسے لیں سکتے ہیں۔”
دلکش اپنے سرخ گالوں پر ہاتھ رکھ کر اُسے اپنی تنفر بھری نگاہوں سے گھورتے ہوئے بولی،تو شازم شاہ کا دماغ اُس کی بات پر شدید غصے کے باعث گھوم کر رہ گیا۔۔۔۔
“دلکش بی بی جو چیز ہمیں سچائی نظر آتی ہیں نا،وہ اصل میں ہماری نظروں کا دھوکہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔اور جو غلط نظر آتا ہے نا،وہی سچ ہوتا ہے،ایک کڑا سچ جسے چاه کر بھی ہم بدل نہیں سکتے۔۔۔۔۔۔۔میرے دادا کے ساتھ مل کر تمہارے دادا نے میرے ماں باپ کے ساتھ میری معصوم چھوٹی بہن کو جان سے مارا ہیں۔۔مارنا تو وجاہت شاہ شاید مجھے بھی چاہتے تھے۔مگر ساری پراپرٹی میرے نام جو ہے،تو وہ کیسے مجھے مار سکتے ہیں۔”
وہ اُس کا بازو سختی سے دبوچے خشونت بھری لہجے میں بولا۔دلکش کو اُسکی سخت انگلیاں اپنی بازو میں دھنستی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔تکلیف کے باعث اُس کی سیاه آنکھوں سے آنسو تھے کے بہتے ہی چلے جا رہے تھے۔
“چھ۔چھوڑے مجھے درد ہو رہا ہے۔۔”
دلکش اُسکی سخت گرفت پر درد کے مارے بلبلا اٹھی تھی۔
“تکلیف تو مجھے بھی ہو رہا ہے،دلکش بی بی آپنوں کو کھو کر،اور اِس تکلیف کو میں کم ضرور کروں گا،یہ جو میرے دل میں بدلے کی آگ بھڑک رہی ہے نا،مس دلکش میمن وہ تمہیں روز تکلیف دے کر ضرور ٹھنڈی پڑ جائے گی۔۔۔۔”
وہ اُس کے بازو پر اپنی گرفت کو اور سخت کرتے ہوئے شدید نفرت سے بولا۔۔۔۔تو دلکش اُسکی گرفت کو سخت پڑتا دیکھ تکلیف کے احساس سے اپنی آنکھیں موند گئیں تھی۔
“شازم سائیں تم مجھے برباد کرنا چاہتے ہو۔۔۔۔۔مگر تم شاید بھول رہے ہوں۔۔کہ اِس بار تمہارے سامنے کوئی معصوم لڑکی نہیں۔۔۔دلکش میمن کھڑی ہیں۔۔۔۔۔جس کو تم چھونے کی کیا سوچنے کی بھی غلطی نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔”
شازم علی شاہ کے وہاں سے جانے کے بعد دلکش سامنے رکھی کرسیوں میں سے ایک کرسی پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھ کر اپنے سرخ ہونٹوں پر ہاتھ رکھے دہشت کے مارے اپنے آنے والے برے وقت کا سوچ کر کانپ اٹھی۔۔مگر پھر ایک سوچ کے آتے ہی وہ خود کو مضبوط تصور کرنے لگی۔
“دلکش بی بی۔۔۔۔۔۔یہ کھانا آپ کے لیے شازم سائیں نے بھیجا ہے۔۔۔۔۔۔اور اُنہوں نے مجھے سختی سے کہا ہے۔۔کہ جب تک آپ کھانا ختم نہیں کریں گی۔۔۔۔۔۔میں وہی پر کھڑی رہوں۔۔۔”
بوا مائی اُس کے سامنے ٹیبل پر کھانے کی پلیٹ رکھتے ہوئے بولی۔تو دلکش نے اُنہیں دیکھا جو سامنے سر جھکائے شاید اُس کہ جواب کی منتظر کھڑی تھیں۔
“مائی مجھ سے اکیلے میں بالکل بھی کھانا کھایا نہیں جاتا۔۔۔۔۔۔ایسا کریں آپ بھی میرے ساتھ آکر کھانا کھا لیں۔۔۔”
دلکش اُنہیں سامنے رکھی دوسری کرسی پر بیٹھنے کا اشاره کرتے ہوئے بولی۔تو بوا مائی نے اُسے حیرانی سے دیکھا۔۔
“بوا مائی….میں آپ کے مالک کی طرح بالکل بھی سڑیل اکڑو مزاج کی نہیں ہو۔۔آپ مجھے تو ایسے دیکھ رہی ہیں۔۔جیسے میں آپ کے سائیں کی طرح ایک عجوبہ ہو، دوسری دنیا سے آئی ہوئی کوئی عجیب و غریب مخلوق،جو اِس دنیا میں آ کر گم ہوگئی ہیں۔۔مجھے تو ایسا لگتا ہے۔۔کہ وہ سڑیل سائیں گرمیوں کے موسم میں بھی ٹھنڈے پانی کے بجائے گرم پانی سے شاور لیتا ہوگا۔۔۔”
دلکش اُسے اپنی سوچوں میں لا کر اپنے منہ کے زاویے بگاڑ کر طنزیہ انداز میں بولی۔۔۔تو بوا مائی اُسکی بے توکی بات پر اپنے کندھے اُچکا کہ کرسی پر بیٹھ کر اُسے دیکھنے لگیں۔
“آس سائیں تیاری کرنا اپنی بربادی کا۔۔کیونکہ میں آ گئی ہوں ۔۔۔۔تمہاری زندگی میں زہر گھولنے کے لیے۔۔”
زرناب گل سجاول شاہ کے ہاتھوں میں ہاتھ دیے اپنے قدم سامنے کھڑے عالیشان حویلی کی راہداری میں بنے خوبصورت سفید ماربل کے ستونوں پر رکھ کر سوچنے لگی۔۔
“زر آپ رک کیوں گئی،چلے اندر چل کر سب کو سرپرائز دیتے ہیں۔۔”
سجاول شاہ اُسے خود سے لگا کر معنی خیزی سے بولا۔تو زرناب گل اُسکی بات پر مسکرا کے اُسے دیکھنے لگی۔
“آ جاؤ۔۔۔۔۔میرے سٺو ڀاء (پیارے بھائی)میں کب سے تمہارا ہی تو انتظار کر رہا تھا۔۔۔کہ کب آئے گے۔۔۔۔میرے بھائی صاحب اپنی طوائف بیوی کے ساتھ۔۔۔”
دونوں خوشگوار تاثرات چہرے پر سجائے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے حویلی کے اندر داخل ہو رہے تھے۔۔۔شازم شاہ کی تمسخرانہ آواز سن کر وہیں دروازے کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے شازم علی شاہ کو حیرت سے دیکھنے لگے جو اُن کی جانب طنزیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔
“شازم علی شاہ۔۔۔۔اب اگر تم نے زر کو طوائف کہا نا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا سمجھے تم۔۔۔۔۔۔”
سجاول شاہ غصے سے سرخ اپنی نظریں سامنے کھڑے شازم علی شاہ کے تمسخر اڑاتے چہرے پر مرکوز کرتے سخت لہجے میں بولا۔۔
“سجاول زولفقار شاہ۔۔۔۔۔ تم سے تو برا انسان میں نے آج تک اپنے گوٹھ میں کیا پورے سندھ میں نہیں دیکھا۔۔۔۔تم نے آج اپنی بے غیرتی کا پکا ثبوت اِس فحاشہ بازاری عورت کو اپنے خاندان کی عزت بنا کر دے دیا۔۔۔۔۔۔۔۔اور ویسے بھی اگر میں اِسے طوائف نہیں کہوں گا۔۔۔۔تو سائیں اُسکی شان میں گستاخی ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔۔کیوں ٹھیک کہا نا میں نے زرناب بائی۔۔۔۔”
شازم علی شاہ نے چند قدموں کا فاصلہ عبور کرتے عین اُس کے مقابل کھڑے ہو کر اپنی گردن ترچھی کر کے زرناب بائی کے میک اپ زدہ چہرے کو بغور دیکھ کر طنزیہ انداز میں کہا۔۔
“شازم سائیں مانا کے ہم ایک طوائف زادی ہے۔۔۔۔۔مگر وہ جو آج کل تھر میں آپ کے فارم ہاؤس پر آپکی دن رات خدمتیں کرتی رہتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔وہ تو پھر آپکی رکھیل ہوئی ناں۔۔۔۔۔”
زرناب بائی جو کب سے خاموشی سے کھڑی ضبط کے باعث اپنی مٹھیاں زور سے بند کیے ہوئے تھیں۔۔۔طنزیہ انداز میں مسکرا کر دلکش کے بارے میں انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے بولی۔
آج پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ شازم اپنے دشمن کے بارے میں اتنے گھٹیا الفاظ سن کر یکدم سے اپنے آپے سے باہر ہوگیا تھا۔
“بکواس بند کرو اپنی۔۔۔اور بائی آج تو تم نے اپنی گندی زبان سے اُسکا نام لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر یاد رکھنا اگر دوبارہ تم نے اُس کے لیے ایسے گھٹیا الفاظ استعمال کیے نا۔۔۔۔۔تو تمہارے ساتھ تمہارے عاشق کی بھی گردن تائی اماں کو گاؤں کی سڑک پر کٹا ہوا ملے گا۔۔”
اُس کے دل میں بھلے ہی دلکش کے لیے نفرت اور غصے کے جزبات ہی کیوں نہ ہوں،مگر دوسروں کے منہ سے اپنے دشمن کے بارے میں اِس طرح کے گھٹیا الفاظ وہ بالکل برداشت نہیں کر سکتا تھا۔۔۔زرناب بائی کو گردن سے پکڑے جنونی انداز میں کہنے لگا۔۔۔تو زرناب بائی اُسکی پکڑ اپنی گردن پر سخت ہوتے دیکھ خوف سے سفید پڑنے لگی۔
“یہ کیا ہو رہا ہے یہاں،اور یہ کیوں اتنا شور مچایا ہوا ہے، تم دونوں نے….؟؟؟
سید وجاہت شاہ وہاں آ کر اپنے دونوں پوتوں کو غصے سے گھورتے ہوئے کہنے لگے۔
“دادا سائیں آپ ہی کی کمی تھی،جو آپ نے یہاں آ کر ختم کر دیا۔۔۔۔اِن سے ملیے یہ ہیں،آپکی نئی نویلی بہو۔
شازم علی شاہ جو طنزیہ انداز میں بولے جا رہا تھا۔ اُسکی چلتی زبان کو سید وجاہت شاہ کے زور دار تھپڑ نے بریک لگا دیا۔
“بس اِسی کی کمی رہ گئیں تھی۔۔۔۔۔۔۔جو آج اپنے انتقام کی آگ میں جل کر شازم علی شاہ تم نے پورا کر لیا، یہ سوچے سمجھے بغیر۔۔۔۔کہ ہم سب کے سامنے کیسے اپنا سر فخر سے اٹھا کر چلے گے۔۔۔”
دکھ سے اپنی بوڑھی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے وہ بولے۔۔۔تو اُس نے سجاول شاہ کو گھورا جو زرناب بائی کے ساتھ کھڑا اُسے اپنی طنزیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“ویٹ دادا سائیں۔۔۔۔۔۔یہ کارنامہ میرا نہیں آپ کے اِس لاڈلے پوتے سجاول شاہ کا ہے۔۔۔۔۔۔ہاں اگر کبھی مجھے یہ کارنامہ انجام دینا بھی پڑا،تو میں سب کے سامنے اپنا سینہ تان کر انجام دونگا۔۔۔۔ناکہ آپ کے اِس بچے کی طرح چوری چھپے کروں گا۔۔”
شازم علی شاہ تمسخرانہ نظروں سے سجاول زولفقار شاہ کو دیکھتے ہوئے بولا۔
“کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
وجاہت شاہ نے حیرت سے سجاول شاہ کی جانب دیکھا۔
“وہ۔۔۔۔۔۔۔دادا سائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!”
سجاول شاہ گھبراہٹ کے عالم میں بس اتنا کہہ سکا۔تو شازم نے آگے بڑھ کر اُسے آنکھ مارتے ہوئے کہا۔
“سجاول سائیں چلوں تمہاری شادی کی خوشی میں ہم سب کھانا کھاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ہوا اگر میں اپنے بھائی کی شادی کے پکوانوں سے محروم ہو گیا۔۔۔۔۔میں ابھی کچھ آڈر کر کے منگواتا ہو…”
وہ جو اپنے فون پر سندھ کے مہشور ہوٹل کا نمبر ڈائل کر رہا تھا۔۔۔وجاہت شاہ آگے بڑھ کر غصے سے اُس کے ہاتھوں سے فون چھین کر دور اچالتے ہوئے سخت لہجے میں بولنے لگے۔
“ہر وقت مزاق اچھی نہیں ہوتی شازم علی شاہ۔۔۔اور تمہاری جرآت کیسی ہوئی یہ سب کرنے کے بعد یہاں آنے کی ہاں۔۔۔؟؟
اُسے سختی سے ڈپٹنے کے بعد اُنہوں نے اپنا رخ دوسری جانب خوف سے سفید چہرہ لیے کھڑے سجاول شاہ کی جانب موڑ کر سخت غصیلے لہجے میں کہا۔تو سجاول شاہ اُن کی غصیلی آنکھیں دیکھ کر خوف سے کپکپانے لگا۔
“آپ لوگ اپنا جھگڑا جاری رکھے۔۔۔۔۔۔۔میں یہ دادا پوتے والا ڈراما وہاں ڈائننگ ٹیبل پر جا کر کھانا کھاتے ہوئے دیکھ لوں گا۔۔”
وہ اُنہیں ڈائننگ ہال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا۔تو وجاہت شاہ اُسے سخت نظروں سے گھورنے لگے۔۔
جاری ہے۔
