74.1K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

“کتنا چاہا تھا۔میں نے تمہیں۔یہاں تک کہ میں آپنے آپ تک کو بھولا بیٹھا تھا۔مجھے اگر کسی چیز کا ہوش تھا۔تو وہ صرف تم سے عشق کرنا۔تمہیں بے انتہا دیوانوں کی طرح چاہنا۔اور تم نے بدلے میں مجھے کیا دیا۔بے تحاشا نفرت۔”
سختی سے اُس کے جبڑے سے پکڑے شعلہ اگلتی نگاہیں اُس کے چہرے پر گاڑے غم و غصّے سے بولا تھا۔دلکش نے آج اُسے پہلی بار اتنے غصے میں دیکھا تو وہ ڈر کے مارے بری طرح سے کانپنے لگی تھی۔
“اب تمہیں میری ایک ایک اذیت کا حساب دینا ہوگا۔کل رات جو تمہاری وجہ سے میں اُس غلیظ سلاکوں کے پیچھے گزار کر آیا ہو ناں۔وہ میں کبھی بھول نہیں سکوں گا۔”
غصے سے سرخ انگارا ہوتی آنکھیں اُس کے خوف اور پسینے سے شرابور چہرے پر گاڑے نفرت انگیز لہجے میں بولا۔تو اُسکے نفرت سے کہنے پر دلکش کی آنکھیں دہشت کے مارے پھیلنے لگیں۔
“میں جو پہلے سے اتنا بکھرا ہوا تھا۔ تم نے میرے حصے میں یہ رسوائیاں دے کر مجھے ٹوڑ کر رکھ دیا۔
کیوں کیا تم نے ایسا ہاں کیوں۔کس بات کا بدلا لیا ہے۔ تم نے مجھ سے دلکش بی بی.؟؟
ازیت اور غصے کی وجہ سے سرخ ہوتی نگاہیں وہ اُس کی جانب اٹھاتے ہوئے بولا تھا۔دلکش جو ساکت نظریں لیے اُسے دیکھ رہی تھی،تکلیف کے مارے رونے لگی۔
“کوئی فائدہ نہیں مس دلکش اب اِن آنسوؤں کا۔کیونکہ اب مجھے اِن آنسوؤں سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔یہ دل اب تمہارے لیے صرف سنگدل بن چکا ہے۔اِس دل میں اب صرف تمہارے لیے نفرت ہے۔بے تحاشا نفرت۔اب تم پچھتاؤ گی۔بہت زیادہ۔کہ کیونکر تم نے مجھے خود سے نفرت کرنے پر مجبور کردیا ہے۔”
بے دردی سے اُسکے چہرے کو دبوچ کر وہ نفرت سے بول رہا تھا۔کہ اچانک سے دلکش نے اپنے دانت اسکے ہاتھ پر گاڑ دیے۔
“محبت تم سے مائے فٹ۔میں اور تم سے محبت۔ارے میں تو تمہیں اپنے نفرت کے بھی قابل نہ سمجھوں۔اور کیا کہہ رہے تھے تم۔کہ میں پچھتاؤ گی۔پچھتاؤ گے تو اب تم جنگلی انسان۔جب تم خود کو ٹی وی کی سرخیوں میں دیکھو گے۔”
اپنا کچھ لمحے پہلے والا سارا خوف بھلائے وہ نفرت سے بولی۔کہ شازم اُسکی بات پر خود کو انگاروں پر جلتا ہوا محسوس کرنے لگا۔
“بہت شوق ہے ناں۔تمہیں مجھے خبروں کی سرخیوں میں دیکھنے کا۔تو ٹھیک ہے۔۔ابھی اِسی وقت ساری ٹی وی چینلز کی سرخیوں میں ہماری خبریں چلے گی۔”
اُسے اپنی جانب کھینچ کر شدید غصے سے خود سے لگا کر وہ خطرناک حد تک سرد لہجے میں بولا تھا۔کہ دلکش اُسکے سخت گرفت اور اُسکی قربت سے بلبلا کر رہ گئیں تھی۔


“یہ پریس کانفرنس جو آج میں نے رکھی ہے۔وہ اپنی سیاسی زندگی کی وجہ سے نہیں۔بلکہ اپنی نجی زندگی کی وجہ سے رکھا ہے۔آپ لوگ جو چاہے مجھ سے سوال پوچھ سکتے ہیں۔
چونکہ آج کل ووٹ ہونے والے تھے۔تو وہ اپنے دادا کو تکلیف پہنچانے کے لئے سیاست میں جانا چاہتا تھا۔
تاکہ وہ اُنہیں تھنگ کر سکے ۔اسی وجہ سے وہ آجکل ٹی وی میں زیادہ تر نظر آتا تھا۔آج اُس نے اتنی افراتفری میں میڈیا والوں کے لیے ایک اہم پریس کانفرنس رکھا تھا۔کہ سبھی میڈیا والے بیٹھے اُس کے اہم پریس کانفرنس رکھنے کی وجہ کی بابت بے چینی سے جاننے کی کوشش میں وہ سب اُس سے سوال کرنے لگے تو اُس نے اتنا کہہ کر انہیں چپ کروا دیا تھا۔
“مسٹر شازم شاہ سنا ہے۔کل آپ کو کسی لڑکی نے جیل کی سیر کروانے کے لئے پولیس اسٹیشن بھیجا تھا۔وہ لڑکی کون تھی۔اور اسکا آپ کے ساتھ کیا رشتہ ہے۔”
میڈیا والوں کی جانب سے یہ سوال سن کر اُس نے ضبط سے اپنی مٹھیاں کھسے۔بظاہر وہ مسکرا کر ان کے جواب دے رہا تھا۔لیکن دل میں اُس کے انگارے جل رہے تھے۔
“آجکل ہر کوئی مجھ سے رشتا بنانے کی کوششوں میں ہیں۔ انہی میں سے یہ لڑکی بھی ہے۔جو یہ چاہتی ہے۔کہ میں اُس سے شادی کروں۔اور جب میں نے اُسے صاف لفظوں میں انکار کیا تو وہ اِن ہتھکنڈو پر اتر آئی۔مجھے بدنام کرنے کے لیے اُس نے مجھ پر گھٹیا الزام لگایا۔کہ میں نے اُس پر ہاتھ اٹھایا ہے۔”
دلکش جو ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی چائے پی رہی تھی۔کہ بوا نے وہاں آتے ہی ٹی وی کھولتے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
“بی بی جی یہ صاحب کیا بول رہے ہیں۔آپ کیا اُنکی بیوی نہیں ہے۔؟
بوا کے سوال پر اُس نے غصے سے ٹی وی اسکرین پر نظر آتے شازم کو دیکھا۔جو جھوٹ بولتے ہوئے اُسے اِس وقت سخت زہر لگ رہا تھا۔
“یہ شخص آخر چاہتا کیا ہے۔میں نے سوچا تھا کہ اُسے برباد کروں گی۔لیکن یہ شخص میرے خلاف اِس طرح کی گھٹیا بات میڈیا کے سامنے بڑے دھڑلے سے بول رہا ہے۔اُسکی اتنی ہمت۔”
ٹی وی اسکرین کو سخت نفرت بھری نگاه سے گھورتے ہوئے وہ بولی تھی۔
“کہاں پر ہے۔بوا ابھی یہ شخص۔ آج یہ شخص میرے ہاتھوں سے زندہ نہیں بچے گا۔”
غصیلی آواز میں کہہ کر وہ بوا سے پوچھنے لگی۔جو کہ اُسے غصے میں دیکھ کر جلدی سے باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگی۔
وہ بی بی بب۔باہر لان میں انہوں نے پریس کانفرنس رکھا ہے۔وہیں پر ہے صاب جی۔”
خوفزدہ ہو کر بوا اُس کے غصیلے تاثرات دیکھ کر بولی۔تو وہ سخت غصے سے باہر کی جانب بڑھتی چلی گئی تھیں۔


“یہ کیا بکواس کر رہے ہو۔تم سید شازم علی شاہ۔؟
دلکش میڈیا والوں کو نظر انداز کر کے شازم کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے اُسے تیز نظروں سے گھورتی ہوئی سخت لہجے میں بولنے لگی۔شازم نے اُسے وہاں دیکھا تو وہ اپنے جبڑے سختی سے بھینچنے لگا۔
“میڈم آپ شازم سر کو جانتے ہیں۔؟؟
سارے میڈیا والے خاموش کھڑے اُسے شازم کے اوپر چیختے چلاتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔یکدم سے انہوں نے آگے بڑھ کر اُس سے سوالوں پوچھنے لگے۔اس نے اُن سب کو اپنے سامنے مائک لیے کھڑے دیکھا تو وہ گھبراتے ہوئے اپنے قدم تیزی سے پیچھے کی جانب لینے لگی۔وہ پیچھے قدم لے رہی تھی۔کہ اپنے پیچھے کسی کو پاکر وہ خوفزدہ ہوتی اپنے پیچھے پلٹ کر سامنے دیکھنے لگی۔جہاں شازم زومعنی نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا۔
“میں نے کہا تھا ناں۔کہ بہت جلد میں تمہاری سرخیوں والی خواہش پوری کروں گا۔دیکھو آج ہم دونوں کے نام اِس وقت ٹی وی کی ہر سرخیوں میں ایک ساتھ نظر آ رہے ہیں۔فرق صرف اتنا ہے۔کہ ہم دونوں ایک ساتھ بدنام ہو رہے ہیں۔”
اُسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے بولا۔تو وہ اُسے نفرت سے دیکھنے لگی۔
“تم لوگوں کو ایک جھوٹی خبر کیا ملی۔ تم لوگ تو اسے مرچ مسالہ لگا کر عوام کے سامنے پیش کرنے نکل کھڑے ہوئے۔مگر یاد رکھنا تم سب لوگ پاکستانی قوم کو تو بے وقوف بنا سکتے ہو مگر مجھے نہیں۔”
انگلی اٹھائے تنفر سے کہتی اُنہیں سخت نظروں سے گھورنے لگی تھیں۔تو شازم اُسے کلائی سے پکڑ کر اپنے ساتھ گھر کے اندر اُسے لے جانے لگا۔
“چھوڑو میرا ہاتھ۔؟؟
وہ اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے اُسے گھر کی جانب لے کر جا رہا تھا۔ دلکش جو اُس کے ساتھ کھینچتی چلی جا رہی تھی۔وہ خود کو چڑھاتی ہوئی غصے سے کہہ رہی تھیں۔
“بیگم میڈیا والوں کے سامنے میرے ہمارے رشتے کی سچائی نہ بتانے پر لگتا ہے تم خوش نہیں ہو۔یا پھر مجھے لگ رہا ہے تمہیں تکلیف ہو رہی ہے مجھے اجنبی بنتے ہوئے دیکھ کر۔”
گھر میں داخل ہوتے ہی وہ اُسے اپنے سامنے کھڑا کرتے ہوئے کہنے بولنے لگا۔تو دلکش نے اپنے بازوؤں سہلاتے ہوئے اُسے غصے سے گھور کر دیکھا۔
“جلن مائے فٹ۔مین اور جیلس ہونگی۔نو نیور۔”
تنفر سے کہتی وہ اُسے سخت نظروں سے دیکھنے لگی۔ شازم اُسکی بات پر معنی خیزی سے مسکرانے لگا۔اُسے مسکراتے دیکھ کر وہ ناک بھوں چڑھاتے ہوئے اُسے دیکھنے لگی۔
“مانو یا نا مانو میڈم مگر آپ کو جلن تو ہوئی ہے۔اور یہ آپ کی نظروں سے مجھے پتہ چل رہا ہیں۔”اُسے دیکھتے ہوئے وہ بولا تھا۔تو دلکش اُسے نفرت سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔
“جلن نہیں نفرت محسوس ہو رہی ہے۔مجھے تم سے۔تم اتنے دوغلے گھٹیا انسان ہوں۔نکاح کر کے کہتے ہو۔کہ میرا اُس لڑکی کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں ہے۔”
نفرت انگیز سرد لہجے میں کہہ کر وہ اسے تیز نظروں سے دیکھنے لگی۔
“دوغلی انسان تو تم ہو۔مس دلکش۔یاد دلاؤ تمہیں وہ دن جب میں نے تمہارے سامنے تمہارے دادا کے قاتل کو کھڑا کیا تو بدلے میں تم نے مجھے کیا دیا وہی نفرت جو تم مجھ سے کرتی تھیں۔”
دونوں کندھوں سے پکڑے وہ اُسے جھنجھوڑ کر کہنے لگا۔تو دلکش درد کے باعث اپنی آنکھیں زور سے میچ کے رہ گئی تھی۔


“تم۔! اِس وقت میرے روم میں کیا کر رہے ہو۔؟؟
دلکش ابھی شاور لے کر باہر نکلی تھی کہ اُسے اپنے بیڈ پر نیم دراز دیکھ کر غصے سے آگ بگولا ہوتی سامنے کرسی پر ٹاول پھینکتے ہوئے تیز لہجے میں بولی۔ شازم نے اُسے سخت نظروں سے گھورا لیکن کہا کچھ نہیں۔
“میں کیا بکواس کر رہی ہو۔تم سے۔ جو تم نے میری باتوں کا جواب تک نہیں دیا۔؟وہ اُسے سخت نفرت سے گھورتی ہوئی بولی۔تو اُسکی بات پر وہ اُسے نفرت بھری نگاه سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
“تم نہیں آپ۔آپ کہہ کر بلایا کرو تم مجھے۔کیونکہ ہمارے یہاں اپنے سر کے سائیں کو نام سے بلانا سخت برا مانا جاتا ہے۔”
سخت وارن کرتی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولا۔تو اُس کے حکم پر وہ غصے سے تلملا کر رہ گئی تھی۔
“مجھے تم جیسے شخص کی ملازمہ تک بننا پسند نہیں۔کجا کے تمہاری بیوی۔اور میں اُس گاؤں کے لوگوں کے ساتھ ساتھ اُنکی رسم و رواج سے بھی شدید نفرت کرتی ہوں۔”
تنفر بھری نگاه سے اُسے دیکھتے وہ نفرت سے بولی۔تو شازم اُسکی بات سن کر غصے سے بیڈ سے اٹھا اور سخت تیوریاں چڑھائے اُسکی جانب بڑھنے لگا۔ دلکش اُسے سخت تیوریاں چڑھائے اپنی جانب بڑھتے دیکھ کر خوفزدہ ہوتے ہوئے اپنے قدم پیچھے کی جانب لینے لگی۔
“نفرت کسے کہتے ہیں دلکش بی بی یہ آج میں تمہیں اچھے سے بتاؤں گا۔”
اُس کے سر پر پہنچ کر غصے سے اُسے اپنی باہوں میں بھر کر وہ اُسے لیے روم سے باہر نکلا۔تو دلکش کا چہرہ اُسے باہر کی جانب بڑھتے دیکھ خوف سے زرد پڑنے لگا۔


“بیگم تمہاری اصلی جگہ اب سے یہی ہے۔”
حویلی پہنچتے ہی وہ اُسے اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے نوکروں کے کوارٹر میں پہنچا تو سیلن زدہ کمرے میں نظریں ڈوراتا وہ اُسکے شولڈر پر اپنا چہرہ رکھتے ہوئے کہنے لگا۔تو دلکش چاروں جانب دیکھتے ہوئے طنزیہ انداز میں مسکرانے لگی۔
“سید زادے تم شاید بھول رہے ہو۔کہ میں نے تمہاری طرح عیش وعشرت والی زندگی نہیں گزاری ہے۔کہ تمہارے اِس نوکروں کے کواٹر کو دیکھ کر میں ڈر جاؤ گی۔”
ہنستے ہوئے وہ اُس پر طنز کرنے لگی تھی۔تو شازم اُسکی بات سن کر خوبصورتی سے طنزیہ انداز میں مسکرانے لگا۔
“دلکش میڈم یہ جو تم تین ہفتے سے گزار رہی تھی۔وہ پھر کیا تھا۔وہ تو تمہاری اُس غربت والی زندگی سے تو الگ تھا ناں۔”
استہزاء نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے وہ کہنے لگا۔تو وہ پیچھے اکڑے ہوئے پلستر والی دیوار سے ٹیک لگاتے ہوئے کہنے لگی۔
“ہاں مجھے اچھے سے یاد ہے۔وہ برے دن اور میں تمہارے اِس احسان کو یہاں تمہاری نوکر بن کر جلد پورا کروں گی۔”
چیلنج کرتی نگاہوں سے اُسے دیکھتے ہوئے وہ کہنے لگی۔تو شازم بھی اُسے پرسرار نظروں سے دیکھنے لگا۔
“ویسے یہ کمرا ہم نے کبھی بھی اپنے نوکروں کو نہیں دیا تھا۔کیونکہ یہ کمرا کواٹر کا سب سے خراب کمرا ہیں۔یہاں تمہیں ہر قسم کے جانور ملے گے۔سانپ تو یہاں ضرور آتے رہتے ہیں۔”
وہ اُسے آخر میں ڈراتے ہوئے روم سے باہر نکلنے لگا۔مگر وہ سانپ کا نام سن کر اُس کی پیچھے بھاگتے ہوئے خوف کے مارے کہنے لگی۔
“کیا سچ میں یہاں سس۔سانپ آتے ہیں۔تم جھوٹ تو نہیں بول رہے ہو ناں۔؟؟
وہ اُس کے بازوؤں سے لگ کر خوفزدہ نظریں ادھر ادھر ڈورہا کر کہنے لگی۔تو شازم اُسے اپنے ساتھ لگے دیکھ نرمی سے اُسے خود سے الگ کرتے ہوئے کہنے لگا۔
“ہاں زہریلے سانپ مگر بیگم اب تمہیں اِنہیں سانپوں کے ساتھ رہنا پڑے گا۔کیونکہ تمہیں تو کسی سے ڈر نہیں لگتا تم تو یہ پہاڑ جیسی زندگی اکیلے سر کرنا چاہتی ہوں۔”
سنجیدگی سے کہتے ہی وہ اُسے سائیڈ پر کھڑا کرتے خود کواٹر سے باہر نکلنے کے لیے اپنے قدم آگے بڑھانے لگا۔ دلکش وہی کھڑی اُسے خود سے دور ہوتا ہوا دیکھنے لگی۔آج پہلی بار اُسے لگا کہ وہ اُس کے بغیر کچھ بھی نہیں تھی۔
جاری ہے۔