74.1K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

“تم خوش مت ہونا کے میں نے تمہاری سچائی تمہارے عاشق کے دادا سے چھپایا۔۔۔یہ سب میرے پلان کا ایک حصہ تھا،تم جو یہاں مجھے برباد کرنے کے لیے آئی تھی نا،مگر خود برباد ہوگی۔”
زرناب گل سیڑھیاں چڑھ رہی تھی۔اپنے پیچھے ایک سنجیدہ مردانہ آواز سنتے ہی پیچھے پلٹ کر دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ سامنے لاؤنج کے بیچوں بیچ کھڑا اُسے سنجیدہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“دیکھتے ہیں،سید شازم علی شاہ۔۔۔۔۔کون آباد ہوتا ہے۔۔۔۔۔اور کون برباد۔۔۔۔”
زرناب بائی کہہ کر چند قدم آگے چل کر عین اُس کے سامنے کھڑے ہوتے ہی اُسے چھونے کی غرض سے اپنے ہاتھ اُس کے چہرے کی جانب بڑھانے ہی والی تھی۔۔۔۔شازم علی شاہ دو قدم پیچھے ہٹ کر اُسے غصے میں آ کر دھمکی آمیز نگاہوں سے گھورنے لگا۔
“یہ غلطی کبھی بھی مت کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے اپنے ناپاک ہاتھوں سے چھونے کی ورنہ میں تمہارے ہاتھ کاٹ کر رکھ دونگا۔۔۔۔”
غصیلی آواز میں کہہ کر وہ اُسے اپنی حد یاد کروا گیا تھا۔
“شازم آپ کے ہاتھوں تو مجھے زہر بھی منظور ہے۔واللہ قاتل اتنا غضب کا خوبصورت ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو کون کافر مرنا نہیں چاہیے گا۔”
زرناب بائی بے باکی سے اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔ شازم نے اُسے سختی سے گھورتے ہوئے اپنے قدم اوپر اپنے روم کی جانب بڑھانے لگا۔


“ہاتھ چھوڑو میرا جنگلی انسان۔۔۔۔””
وہ اپنا ہاتھ اُس کے مضبوط شکنجے میں کھسے دیکھ غصے سے بولی۔تو شازم نے گرفت اور مضبوط کرتے ہوئے اُسے غور سے دیکھا۔
“جانِ شازم۔۔۔۔اب یہ ہاتھ بقول،تمہارے تمہارا یہ جنگلی،آدم خور درندہ عمر بھر کے لیے نہیں چھوڑے گا،اِس لیے بے کار میں تم اپنی انرجی ضائع مت کرو۔۔”
شازم اپنی قہر زده نگاہیں اُس کے چہرے پر ڈال کر زور سے اُسکی نازک کلائی کو مروڑ کر بولا۔تو دلکش اُس کی حرکت پر درد کے مارے بلبلا کر رہ گئیں تھی۔
“سہی کہا تم نے،تم ایک وحشی درندے ہو،جو ایک لڑکی پر ظلم کر کے اپنی انا کو تسکین پہنچانا چاہتے ہوں۔”
تکلیف کے باوجود بھی وہ اُس پر طنز کرنے سے بالکل بھی نا گھبرائی،تو شازم اُس کے نڈر انداز پر استہزایہ مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجا کر آگے بڑھا اور اُسے اپنے بازؤوں میں بھرتے ہوئے حویلی کے داخلی دروازے کی جانب بڑھنے لگا۔
“یہ کیا کر رہے ہو تم۔۔۔۔۔نیچے اتارو مجھے تمہیں سنائی نہیں دے رہا۔پاگل انسان کہ میں کیا کہہ رہی ہوں۔۔”
وہ اُس کے مضبوط کندھوں پر اپنا ہاتھ رکھے غصے اور شرم کے مارے سامنے کھڑے شخص کو دیکھتے ہوئے بولی،جو اُن دونوں کو اِس حال میں دیکھ کر سخت غصیلی نظروں سے شازم کی جانب دیکھ رہے تھے۔
“تمہاری یہ بے ہودگی یہاں پر نہیں چلے گی،سید شازم علی شاہ۔”
وجاہت شاہ سخت لہجے میں کہہ کر شازم شاہ کو گھورنے لگے جو اُنہیں دیکھ کر لاپرواہی سے حویلی کے اندر داخل ہو رہا تھا۔
“شازم علی شاہ تمہیں سنائی نہیں دے رہا میں کیا کہہ رہا ہوں۔۔۔؟؟
وہ اُس کے سامنے آتے ہی غضبناک لہجے میں بولے۔۔۔۔۔۔۔تو وہ غصے سے دلکش کو سامنے رکھے صوفے پر گراتے ہوئے اُن کی جانب مڑا۔
“وجاہت شاہ کہا تھا نا،کہ میں جب بھی شادی کروں گا۔۔۔تو سینہ تان کر کروں گا۔اور یہ لڑکی مجھے اپنے لیے بہت زیادہ پسند آئی۔۔کیونکہ یہ خاموشی سے مجھے اور میرے ہر ظلم و ستم کو برداشت کرنے کے لیے جو تیار ہوئی ہے۔۔۔۔اِسی لیے میں اُسے یہاں اٹھا کر لے آیا بڑی دھوم دھام سے شادی کرنے کے لیے۔۔۔۔اور ہاں مجھے آپ کی نہیں اپنے خاندان کی عزت بے انتہا عزیز ہیں،اِس لیے وجاہت سائیں آپکو اگر اپنی عزت بہت زیادہ عزیز ہے۔۔۔۔۔تو جائیں اور جا کر گاؤں کے لوگوں کو میری اور دلکش میمن کے نکاح کی دعوت اُن کے گھر دے کر آئے۔۔۔۔۔۔۔۔اور ہاں آپ کے پاس صرف ایک گھنٹہ ہے،اپنی عزت بچانے کے لیے۔۔۔۔”
اُن کے روبرو کھڑے ہو کر اُس نے بے نیازی سے کہا۔۔۔۔۔تو اُن کی نظریں اچانک ہی سامنے صوفے پر بیٹھی ہوئی دلکش کے چہرے پر خوشی کو تلاشنے لگیں۔۔،مگر وہ ناکام ہو کر پھر سے شازم کی جانب دیکھنے لگے۔
“غلط کر رہے ہو تم شازم۔۔۔۔۔۔اور جب تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگا نا،تب بہت دیر ہو چکی ہوگی،اور تم اُسے کھو دوں گے،جو تمہیں خود سے بھی زیادہ عزیز ہوگا۔۔۔”
ہاجرہ ماں لاؤنج میں آ کر دکھ سے اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔تو وہ اُنہیں اِس حالت میں وہاں کھڑے دیکھ کر تیزی سے اُن کی جانب بڑھنے لگا مگر اُنہوں نے اپنا ہاتھ فضا میں بلند کرتے اُسے وہیں روکتے ہوئے کہا۔
“شازم وہیں پر رک جاؤ۔۔۔۔”
وہ اُسے سختی سے کہہ کر دوسری جانب سامنے صوفے پر بیٹھی دلکش کو دیکھنے لگیں جو شازم کو غصے سے دیکھ رہی تھی۔
“بچی تم جب تک میرے پاس ہوں۔۔۔۔۔تو یہ تمہیں ہاتھ بھی لگانے کی کوشش نہیں کرے گا۔۔۔۔”
دلکش کو کہنے کے بعد وہ اُسے دیکھنے لگیں، جو اُن کی بات پر ضبط کے مارے اپنی مٹھیاں کھسنے لگا تھا۔


“چاچا سائیں آپ کیوں شازم بچے سے سچائی چھپانا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔خود کو کیوں اُس کی نظروں میں برا ثابت کر رہے ہیں،حلانکہ غلطی تو۔۔۔۔”
ہاجرہ بی بی رو کر اُن کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔جو اپنے روم کے دائیں جانب لگے شازم کی تصویر کو پیار سے دیکھ رہے تھے،وہ اُن کی بات پر تیزی سے اُن جانب مڑے۔
“نہیں ہاجرہ بیٹی یہ غلطی مت کرنا۔۔۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ شازم کو سب کچھ پتہ چلے،بیٹی وہ پہلے سے ہی اپنے تین رشتوں کو کھو چکا ہیں۔۔۔ابھی میرا بچہ مجھ سے بدگمان ہے،مگر میں نہیں چاہتا کہ وہ کچھ غلط کر بیٹھے۔۔۔”
وجاہت شاہ ڈرتے ہوئے کہنے لگے۔
“اور بیٹی غلطی چاہیے کسی بھی ہوں،تکلیف تو میرے بچے کو ہوگی۔۔۔یہ سچائی جان کر ،کہ اُس کی ماں۔۔۔۔۔”
اُس سے آگے لفظ اُن سے ادا نا ہو سکے آخر ایسا کونسا راز ہے جو وہ شازم سے چھپا رہے تھے۔


“یہ شازم سائیں اب کونسا نیا گیم کھیلنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔جو اُس دو ٹکے کی اپنی محبوبہ کو وہ یہاں زبردستی اٹھا کر لے آیا ہے۔۔۔”
زرناب بائی اپنے اور سجاول شاہ کے مشترکا روم میں غصے سے داخل ہوتے ہی کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔سجاول جو ابھی شاور لے کر واش روم سے باہر نکلا تھا۔۔۔۔اُسے غصے میں دیکھ کر اُس کی جانب بڑھنے لگا۔
“زر کیا ہوا،آپ اتنی غصے میں خیریت تو ہے ناں۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
سجاول شاہ نے اُسے پیچھے سے آ کر اپنی باہوں میں بھرتے ہوئے کہا۔تو اُس نے تیزی سے پیچھے پلٹ کر اُسے غصے سے گھور کر دیکھا۔
“تمہیں تو صرف کھانا اور کھا کر سونے کی لگی رہتی ہے۔۔۔۔۔ باقی باہر جو کچھ بھی ہو رہا ہے،اُس سے تو تمہارا کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے۔۔۔”
زرناب بائی غصے سے اُسے پیچھے بیڈ کی جانب دھکا دیتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“زر ہم موقع دینا چاہتے ہیں۔۔۔۔اپنے بھائی کو اپنی میں کرنے کا،مگر بہت جلد وہ میرے قدموں میں پڑا ہوا ایڑیاں رگڑتے ہوا ملے گا۔۔۔”
سجاول شاہ غصے سے سرخ چہرہ لیے زرناب کو ہاتھ بڑھا کر اپنے اوپر گراتے ہوئے اُس کے آواره لٹوں کو چھوتے ہوئے کہنے لگا۔


“جَانم تمہیں کیا لگا۔۔۔تم میرے قہر سے اتنی جلدی بچ جاؤ گی۔۔۔۔۔”اُسے اپنے چہرے پر ایک جان لیوا تپش کا احساس ہوا تو یکدم سے اُس کے پورے جسم میں کپکاہٹ سی طاری ہونے لگی۔
اپنے آس پاس کسی کی موجودگی کا احساس کرتے ہی وہ زور سے اپنی آنکھیں میچتے ہوئے دہشت کے مارے سختی سے بیڈ کی چادر کو پکڑنے لگیں۔
“مجھے پتہ ہے،یہ تم ہوں۔۔۔۔سید شازم علی شاہ۔۔۔۔؟؟؟
وہ اُس کی آواز پہچان کر تیزی سے اٹھی اور غصے سے اُسے زور سے پیچھے کی جانب دکھا دیتے نفرت سے کہنے لگی۔
“بہت خوب تم نے مجھے جلد ہی پہچان لیا۔۔۔۔حلانکہ مجھے لگ رہا تھا،کہ تم مجھے اِس اندھرے کمرے میں پہچان نہیں سکوں گی۔۔”
اُس کے دھکا لگنے کی وجہ سے وہ جو صوفے پر گرا تھا،وہیں بیٹھ کر اُسے اپنی قہر برپا کر دینے والی نظروں سے گھورتے ہوئے کہنے لگا۔
“تم جیسے درندے کو میں آنکھ بند کر کے بھی پہچان سکتی ہوں۔۔۔۔۔تمہیں کیا لگا تم اِس طرح یہاں آ کر مجھے ڈرا دھمکا کہ مجبور کروں گے۔۔تو سید شازم علی شاہ یہ تمہاری بھول ہے۔۔،کیونکہ دلکش نا کبھی کسی پر ظلم ہونے دے گی۔اور نا خود پر ہوتے ہوئے برداشت کرے گی۔۔۔۔۔۔۔۔بلکہ اُس ظلم کرنے والے ظالم کو جان سے مار دے گی۔۔۔”
وہ نفرت انگیز نگاہوں سے اُسے گھورتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔تو وہ تیزی سے صوفے سے اٹھا اور عین اُس کے روبرو کھڑے ہو کر اُسے اپنی جانب کھینچ کر استہزایہ نظروں سے اُسے دیکھنے لگا۔
“دیکھتے ہیں۔۔۔۔جانم کے تم کب تک مجھ سے اور میرے ڈر سے خود کو بچاؤں گی۔۔۔”
اُس کی کمر پر گرفت سخت کرتے ہوئے وہ تنفر بھری نگاہوں سے اُسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
جاری ہے۔