74.1K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

“دل۔دلکش۔!!!
شازم علی شاہ جو اُس کی جانب اپنے قدم بڑھا رہا تھا،اُسے اپنا سر پکڑے دیکھ کر وہ تیزی سے اُس کی جانب بھاگا
اور اُسے نیچے گرنے سے بچانے لگا۔
“مٹل۔ یہاں آؤ جلدی۔”
وہ اُسے اپنے بازوؤں میں بھر کر زور سے مٹل کو آوازیں دینے لگا۔جو کے اُس کے کہنے پہ لنگر خانے میں کھڑا سب غریبوں میں لنگر تقسیم کر رہا تھا۔
“جی سائیں آپ نے مجھے بلایا۔”
مٹل نے وہاں پہنچ کر اُسے دیکھتے ہوئے کہا۔
“مٹل مجھے گاڑی کی چابی دو،اور تم حویلی فون کر کے گاڑی منگواو اور ہاجرہ اماں کو حویلی پہنچا کر سیدھا میرے تھر والے فارم ہاؤس میں آنا۔”
وہ دلکش کے چہرے کو اچھے سے اُس کی اجرک سے کور کرتے ہوئے مٹل سے کہنے لگا جس کی حیران نظریں اُس کے بازوؤں کی گرفت میں بے ہوش پڑے دلکش کے وجود کی جانب بڑھی۔
“سائیں!!! یہ دلکش بی بی یہاں اِس حالت میں۔”
مٹل نے اُس کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔تو وہ اُسے اپنی سرخ انگارا ہوتی نظروں سے گھورنے لگا۔
“مٹل گاڑی کی چابی۔”
شازم نے اپنی سرخ و سفید اور چوڑی ہتھیلی آگے بڑھاتے ہوئے اُسے سخت نگاہوں سے گھورا لہجہ ایک دم سےسرد ہوگیا۔۔۔۔
تو مٹل اُسکی سخت نظروں سے خائف ہوا اور فورا سے بیشتر اپنی جیب سے گاڑی کی چابی نکالی اور شازم کی جانب بڑھا دی۔۔۔۔
“اور مٹل دلکش کیوں یہاں اِس حالت میں ہمیں ملی ہے،تم پتہ کر کے تب فارم ہاؤس میں اپنے قدم رکھ سکتے ہو، پتہ چلانا کے ایسی کون سی وجہ ہے۔جو دلکش مجھے اچانک اپنے سامنے دیکھ کر اِس طرح سے پیش آئی ہے۔”
شازم نے اپنی انگلی اٹھا کر اُسے واضح لفظوں میں وارننگ دیتے ہوئے کہا۔تو مٹل سائیں کے وارننگ دینے پر اُسے اپنی وحشت زدہ نظروں سے دیکھنے لگا گھبراہٹ چہرے سے صاف واضح تھی


“اب اماں کی طبیعت کیسی ہے ڈاکٹر صاحب ۔”؟
زرناب گل جو کمرے کے وسط میں رکھے ہوئے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھی سامنے موجود بیڈ پر اپنی ماں کے بے حس و حرکت وجود کو سپاٹ نظروں سے دیکھتے ہوئے ٹریٹمنٹ کے لیے آئے ڈاکٹر رامیش سے پوچھنے لگی۔
“بائی آپ کی اماں ابھی پہلے سے کافی بہتر ہے۔۔۔۔۔۔مگر ہوسکتا ہے کہ ۔۔۔۔وہ دوباره۔۔؟
ڈاکٹر صاحب اپنے سامنے کھڑی گہرے نیلے مہندی ڈیزائنر چولی میں ملبوس اپنے چہرے پر خوبصورتی سے نیچرل میک اپ کیے زرناب بائی کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
“دوباره مطلب؟ آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں ڈاکٹر رامیش۔۔۔”
اُس نے ضبط کے باعث ڈاکٹر رامیش کی جانب دیکھتے ہوئے اُن سے پوچھا۔تو ڈاکٹر نے تاسف سے اُسے دیکھا۔
“دیکھے بائی میں جو بات آپ سے کہنے جا رہا ہوں نا۔۔۔۔۔اُسے آپ بڑے تحمل سے سنیے گا۔۔۔۔کیونکہ اُن کی حالت کو دیکھ کر نہیں لگ رہا۔۔۔۔کہ وہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکتی ہیں “
ڈاکٹر رامیش نے آگے بڑھ کر اُسے دیکھتے ہوئے کہا۔تو صوفے سے اٹھ کر اُس نے اپنے قدم بیڈ کی جانب بڑھائے۔
“اماں آپ کے زمین پر گرے ہوئے خون کے ہر اُس خطرے کا حساب آس صاحب کو دینا پڑے ہوگا۔۔۔۔جو اُس دلکش کی وجہ سے زمین پر گرے تھے.”
وہ بیڈ کے سامنے پہنچی اور جھک کر اُن کے بے حس وجود کی جانب دیکھا اور اُن کے بالوں پر پیار اور نرمی سے اپنا ہاتھ پھیرتے ہوئے ضبط سے کہنے لگی۔


وہ اپنی بھاری پلکیں بمشکل کھول کر اپنے اردگرد حیرانی سے دیکھنے لگی تو خود کو ایک اجنبی جگہ پر پا کر وہ خوف محسوس کرنے لگی۔
روم مکمل سندھی کلچرل کی اکاسی کر رہا تھا وہ جس بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی،اس کے کور پرخوبصورتی سے سندھی کڑھائی کی گئی تھی۔
“نن۔نہیں مجھے یہاں نہیں رہنا۔”
وہ ہڑبڑا کر بیڈ سے اٹھ کر سامنے روم کے دروازے کی جانب بڑھی تھی۔
“کہاں جاؤ گی اب تم کس کے پاس رہوں گی۔”
وہ شل دماغ کے ساتھ بری طرح سے دروازے کے ہینڈل کو کھولنے کی سر توڑ کوشش کر رہی تھی۔کہ اپنے پیچھے ایک گھمبیر مردانہ آواز سن کر تیزی سے پیچھے پلٹ کر دیکھنے لگی۔
“دلکش تمہارا تو اب اس دنیا میں کوئی بھی نہیں بچا،تم بے سہارا ہوئی ہو۔تو اب یہاں سے کہاں جاؤ گی۔؟
شازم علی شاہ جو سامنے ہی صوفے پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا ہوا تھا۔۔۔وہ اُس کے پلٹ کر دیکھنے پر صوفے سے اٹھا اور اُس کی جانب اپنے قدم بڑھا کر کہنے لگا۔
“جہاں بھی جاؤ تمہیں اس سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے سمجھے تم،اور میں بے سہارا ہوئی ہو…..تو وہ صرف تمہاری وجہ سے سنا تم نے شازم سائیں۔”
وہ دروازے سے اپنی پشت لگاتے ہوئے سختی سے کہنے لگی۔تو اُسکی بات پر شازم سائیں نے اُسے اپنی نافہم نظروں سے دیکھا۔اُسے دلکش کی یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔وہ بار بار کیوں اُس پر الزام لگا رہی تھی۔
“مطلب میں سمجھا نہیں دلکش۔۔۔۔۔تم کیا کہہ رہی ہوں۔۔۔۔تم میری وجہ سے بے سہارا ہوئی ہوں.؟”
وہ اُس کے عین سامنے کھڑے ہو کر آپنی حیران نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے سوال کرنے لگا۔تو دلکش اُس کے سوال پوچھنے پر اُسے سخت نفرت بھری نظروں سے دیکھنے لگی۔
“واہ شاہ صاحب واہ.!!
اُس نے اپنی غصیلی سرخ آنکھیں اُس کے وجیہہ چہرے پر گاڑتے ہوئے تالی بجاتے ہوئے سخت لہجے میں کہا۔
“بہت ہی اچھے ایکٹر ہیں آپ ماننا پڑے گا۔۔۔۔۔پہلے خود ہی رات کے وقت میرے گھر میں اپنے آدمیوں کو بھیجتے ہو۔۔۔اور وہ تمہارے کہنے پر مجھے اُس کوٹھے پر لے جاتے ہیں۔۔۔۔اور پھر تم وہاں کسی فلم ہیرو کی طرح مجھے بچا کر کوٹھے سے نکالتے ہو۔اور آخر میں جب تمہاری حوس پوری نہیں ہوئی تو تم نے اُس بوڑھے شخص کو مار دیا۔”
وہ اپنی غصے اور غم کی وجہ سے سرخ ہوتی آنکھیں اُس پر مرکوز کرتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگی۔۔۔تو شازم علی شاہ اُس کے الزام پر غصے سے اُسے دیکھنے لگا۔
” کیا بکواس کر رہی ہو۔”
شازم علی شاہ نے غصے سے غراتے ہوئے کہا۔
“یہ بکواس نہیں شاہ سائیں ایک حقیقت ہے۔جسے آپ اپنی مکار اور شاطر چالوں سے چھپا نہیں سکتے ہیں۔”
دلکش نے اپنی سرخ آنکھیں اُس کے چہرے پر ڈال کر نفرت انگیز سرد لہجے میں کہا۔
“دلکش شاید تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔۔میں بھلا اُنہیں کیسے اور کیوں مار سکتا ہوں۔”
شازم علی شاہ نے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کی مگر دلکش نے اُسکی بات پر اُسے نفرت سے دیکھا۔
“غلط فہمی تو سائیں ہمیں اُس وقت ہوا تھا۔جب میرے دادا نے تمہیں ایک نیک انسان سمجھ کر تم سے مدد مانگی۔اور بدلے میں تم نے کیا۔۔۔۔کیا، اُن کا بے رحمی سے قتل کروا دیا۔”
دلکش نے اُسے کراہت زدہ نظروں سے دیکھتے ہوئے بری طرح سے اُس کے کالر کو جھٹکا دے کر غصے سے کہا۔تو شازم نے نرمی سے اُس کے ہاتھ پکڑ کر اپنے کالر سے ہٹا کر کہا۔
“تو پھر ٹھیک ہے دلکش۔۔۔۔میں اب یہاں اُس وقت آؤں گا۔تب جب میں تمہاری نظروں میں بے گناہ ثابت ہوں گا۔۔۔۔”
شازم علی شاہ فیصلہ کن انداز میں کہہ کر اُسے سائیڈ پر کرتے ہوئے خود دروازے سے باہر نکلتا چلا گیا۔اُس کے باہر نکلتے ہی وہ اپنے دادا کو یاد کر کے نیچے زمین پر بیٹھ کر بری طرح سے زاروقطار رونے لگی۔


“سائیں آپ کب ہمارے اِس رشتے کو کوئی نام دیں گے۔”؟
زرناب گل جو کب سے دیوار سے پشت لگائے کھڑی تھی۔۔اُس کے گستاخیوں سے تنگ آتے ہی وہ بے اختیار اُسے پیچھے کی جانب دھکیل کر کہنے لگی،تو سجاول شاہ نے آگے بڑھ کر اپنا ایک ہاتھ دیوار پر رکھا اور دوسرا اُس کے خوبصورت چہرے پر رکھتے ہوئے اُسے اپنی شوخ نظروں سے دیکھنے لگا۔
“(منهنجي راڻي).میری رانی۔”
وہ اُس کے گالوں پر باری باری اپنے سلگتے ہونٹ رکھ کر بے باکی سے اُسے سندھی لہجے میں پیار سے کہنے لگا۔
“آج اِس رات کو اور بھی حسین بناتے ہیں جانِ من۔۔۔۔اور پھر کل صبح اپنے اِس دو سال کے رشتے کو آمر بنانے کے لیے ہم دونوں شاہ حویلی چلتے ہیں جانِ سجاول۔۔اِنہیں ہارٹ اٹیک دینے کے لیے۔”
سجاول شاہ اُس کے چٹیا میں مقید لمبے بالوں کو آہستگی سے کھولتے ہوئے نشے کے باعث سرخ ہوتی اپنی شرابی آنکھیں اُس کے خوبصورت چہرے پر ڈال کر معنی خیزی سے کہنے لگا۔
“شاہ صاحب اب آپ پٹری سے اترنے کی بات کر رہے ہیں۔۔۔جو کے ابھی ناممکن ہے۔۔۔۔۔۔۔ہم آپ کو ابھی ایسا کچھ بھی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔۔۔۔۔۔۔جب تک آپ ہمیں اپنے ماں باپ سے یہ کہہ کر نہیں ملواتے کے ہم آپکی بیوی ہے۔”
زرناب گل ناگواری سے اُسے شرٹ لیس دیکھ کر سختی سے کہنے لگی۔تو سجاول شاہ نے بے اختیار ہی اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اپنی جانب کھینچتے ہوئے اُسے اپنے چوڑے سینے سے لگا کر خاموشی سے کھڑا وہ اُس کے وجود کی مہک کو اپنے دل میں اتارنے لگا۔
“شاہ صاحب۔”
زرناب گل بے بسی سے اُسکا نام سرگوشی میں لے اٹھی۔تو سجاول شاہ نے اُسے نرمی سے خود سے الگ کرتے ہوئے اُسے بغور دیکھا۔جو اُس کے فراق سینے پر اپنے نازک ہاتھ رکھے اُسے ہی غور سے دیکھ رہی تھی۔
“شاہ کی جان کیا بات ہے۔۔۔۔آپ اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہے۔”؟
اُس کی ٹھوڑی اوپر اٹھا کر سجاول شاہ نے محبت سے کہا۔
“شاہ صاحب! کیا آپ کے گھر والے مجھے قبول کرے گے۔یہ جان کر بھی کے میں ایک۔”ششش۔” اِس سے پہلے کہ وہ اپنے منہ سے اپنے لیے لفظ طوائف نکالتی سجاول شاہ نے اُس کے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے اُسے چپ کروایا۔
“جانِ سجاول آپ کا نام میرے ساتھ جڑا ہے۔تو اب سب آپ کو میرے نام سے جانے گے۔۔۔اگر کسی نے آپ کے لیے یہ لفظ نکالا نا۔تو سجاول شاہ اُسے بری موت دے گا۔”
سجاول شاہ نے اُسے گلے سے لگاتے ہوئے جنونی انداز میں کہا۔تو زرناب گل نے اُس کی جنونیت دیکھ کر بے ساختہ شاطرانہ انداز میں مسکراتے ہوئے اپنے ہاتھ اُس کی پشت پر لپیٹ کر اپنا چہرہ اُس کے سینے سے لگا گئیں۔


“مٹل کہاں مر گئے ہوں تم۔؟ جلدی یہاں آؤں……….”
سورج کی تیز کرنیں ٹیرس کی جالی سے ہوتی ہوئی اندر فرش پر اور اُس کے وجیہہ چہرے پر پڑ رہی تھی،مگر وہ اپنے ہوش میں کہاں تھا جو اِس تپش کو محسوس کرتا وہ تو دلکش کے بارے میں سوچ رہا تھا۔اِس کے الزام کے بارے میں سوچ رہا تھا مگر کوئی سرا تھا کہ اُس کے ہاتھ میں نہیں آ رہا تھا۔آخر تھک ہار کر اُس نے وہاں سے کھڑے ہو کر اپنے قدم سیڑھیوں کی جانب بڑھا کر غصے سے مٹل کو آوازیں دی.
“جی سائیں آپ نے بلایا……….؟”
مٹل اُس کی آواز سن کر ہڑبڑی میں وہاں آ کر اپنی نظریں جھکا کر اُس سے پوچھنے لگا.
“مٹل کھانا کھا لیا ہے دلکش نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟”
غصے کے باوجود بھی اُسے دلکش کا خیال تھا، وہ بے اختیار ہی مٹل سے اُس کے بارے میں فکر مندی سے پوچھنے لگا، تو مٹل نے اپنی حیران نظروں سے اُسے دیکھا جو تھوڑی دیر پہلے غصے سے اُس کے روم سے نکلا تھا اور اب فکر مندی سے اُس کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔
“مٹل! کچھ پوچھا میں نے تم سے کیا دلکش نے کھانا کھایا ہے یا نہیں……..؟”
وہ اُسے حیرانگی سے اپنی جانب تکتا پا کر اُسے سخت نگاہ سے گھورتے ہوئے غصے سے اپنی بات ڈورہا کے پوچھنے لگا۔تو مٹل نے اُسے سخت غصے میں دیکھ تیزی سے اپنا سر نفی میں ہلایا….
“کیا مطلب اُس نے ابھی تک کچھ نہیں کھایا،اور مٹل تم نے مجھے یہ بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا……کہ اُس نے ابھی تک کچھ کھایا نہیں ہے‌………”
شازم علی شاہ نے غضبناک نظروں سے مٹل کو گھور کر کہا۔۔
“شازم سائیں وہ جب میں بی بی کو کھانا دینے اُن کے روم میں گیا۔۔۔۔تو میں نے دیکھا کہ بی بی فرش پر بے ہوش پڑی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو میں نے آپ کے خوف سے جلدی سے بوا مائی کو اُن کے روم میں بھیجا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور خود باہر مائی کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر تھوڑی ہی دیر بعد مجھے آپ کی آواز سنائی دی……..!!!!”
مٹل گھبراہٹ کے باعث اپنی وحشت زده نظریں نیچے جھکاتے ہوئے کہنے لگا۔
“کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟” شازم علی شاہ نے اُسکی جانب حیرانی سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“مٹل تم یہ بات مجھے اب بتا رہے ہو….اب وہ کیسی ہے۔۔۔۔۔ٹھیک تو ہے نا۔۔۔۔۔۔۔اور تم نے ڈاکٹر کو بلایا ہے یا نہیں۔۔۔‌؟؟؟”
وہ پریشان ہو کر تیزی سے مٹل سے پوچھنے لگا۔۔۔اُسے سخت گھبرایا ہوا دیکھ کر مٹل کو تعجب ہونے لگا۔
“جی سائیں وہ اب پہلے سے بہتر ہے۔۔۔۔آپ فکر مت کریں بوا مائی ہے نا اُن کے پاس۔۔۔۔۔۔وہ بہت ہی اچھے سے دلکش بی بی کا خیال رکھیں گی……!!!”
مٹل نے اُس کے پریشان چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔۔تو وہ ہاں میں اپنا سر ہلا کر خود کو کسی حد تک پرسکون کر چکا تھا۔
“سید شازم علی شاہ۔۔۔۔۔؟؟”
وہ اپنے پیچھے ایک غصیلی اور خوبصورت نسوانی آواز سن کر تیزی سے پیچھے پلٹ کر دیکھنے لگا۔تو اپنے سامنے دلکش کو کھڑے دیکھ کر وہ شاکڈ رہ گیا۔
جس حلیے میں وہ اُن دونوں کے سامنے بے باکی سے کھڑی تھی۔۔وہ حلیہ سید شازم علی شاہ سے بالکل بھی برداشت نا ہوسکا۔اور وہ شدید غصے میں آ کر تیزی سے اُس کی جانب بڑھا۔
جاری ہے۔