Noo E Man By Sumyia Baloch Readelle50183 Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
💝💝💝💝💝💝
“کون ہو تم لوگ اور ہمیں کیوں اِس طرح کھڑا کیا ہوا ہے۔؟
الماس بائی نے اپنے ہتھکڑی میں جھکڑے ہاتھوں کو سامنے کھڑے سیاہ لباس میں ملبوس اسلحہ سے لیس افراد کی جانب اٹھاتے ہوئے غصے سے کہا۔
“بائی تمہیں کیا لگا کہ سید شازم علی شاہ تمہارے کوٹھے میں گاہک کی حیثیت سے آئے گا۔”
شازم علی شاہ سیڑھیوں سے اتر کر سامنے پولیس آفیسر کے ساتھ کھڑے مٹل کو ریوالور تھاما کر انتہائی سنجیدگی سے کہنے لگا۔
“سید شازم علی شاہ۔”
الماس بائی نے حیرت سے اُسکا نام لیا۔
“سہی پہچانا بائی تم نے۔۔۔۔۔۔میرا نام سید شازم علی شاہ صرف اپنے دوستوں کے لیے۔۔۔۔۔۔۔اور اپنے دشمنوں کے لیے میں صرف ” آس ” ہوں۔”
شازم علی شاہ نے تیز نظروں سے بائی کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
“میری غلطی کیا ہے۔۔۔۔۔جو تمہارے آدمیوں نے مجھے اِس طرح باندھا ہے ہتھکڑیوں سے،آخر میں نے کیا کیا ہے۔۔۔۔۔؟
الماس بائی نے اپنی تیکھی نظروں سے سامنے کھڑے مٹل اور سیاہ کپڑوں میں ملبوس شخص کو گھورتے ہوئے کہا۔
“غلطی نہیں الماس بائی تم نے تو گناہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔وہ بھی میری غیر موجودگی میں میرے ہی گاؤں کی ایک شریف لڑکی کو تمہارے آدمیوں نے رات کے اندھیرے میں اُس کے گھر میں گھس کر تمہارے کہنے پر اُسے اغوا کیا تھا، کہ نہیں بائی جواب دوں۔۔۔مجھے صرف ہاں یا نا میں جواب چاہیے۔”
شازم علی شاہ نے کہہ کر سامنے کھڑے مٹل کو اشارہ کیا تو مٹل نے الماس بائی کے سر پر ریوالور رکھا۔
“ہاں سائیں مم۔میرے کہنے پر دلکش کو میرے آدمیوں نے اُس کے گھر سے اٹھایا تھا۔۔۔۔”
الماس بائی خوف کے عالم میں اپنے سر کے پیچھے ریوالور کو محسوس کرتے ہوئے لرزتے ہوئے کہنے لگی۔
“کیوں!! الماس بائی میں وجہ جان سکتا ہوں۔۔”
شازم نے سرد لہجے میں اُس سے پوچھا۔۔۔۔تو بائی اُسکی سرد آواز سن کر کانپنے لگی۔
“وہ صاحب بہت زیادہ خوبصورت ہے۔۔۔۔۔۔اِسی لیے میں نے سوچا کیوں نا اُسے اٹھا کر دو چار پیسے کما لوں۔۔۔”
الماس بائی نے کپکپاتے ہوئے کہا۔
“چند پیسوں کے لیے بائی۔۔۔۔تم نے ایک معصوم کی زندگی سے کھیلا۔۔۔۔۔”
شازم علی شاہ اُس کی بات پر اپنا ضبط کھو کر آگے بڑھا اور مٹل کے ہاتھوں سے ریوالور لے کر سخت غصے سے اُس کے پاؤں پر فائر کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“اماں۔۔۔۔!!!
زرناب گل اور زری نے جب فائر کی آواز سنی تو وہ دونوں بھاگتے ہوئے ہال کی جانب آئی تو سامنے گری درد کے باعث تڑپتی ہوئی اپنی ماں کو دیکھ کر وہ دونوں زور سے چیخ اٹھی تھی۔
“یہ کک، کیا۔۔۔۔۔۔۔۔کیا آپ نے ہماری اماں پر گولی چلایا ایک عورت پر گولی آپ کو شرم نہیں آئی گولی چلاتے ہوئے۔۔۔۔۔”
زرناب گل نے آگے بڑھ کر اُسے گریبان سے پکڑتے ہوئے چیخ کر کہا۔تو شازم علی شاہ نے غصے سے اُس کے ہاتھوں کو اپنے گریبان سے جھٹکا۔
“یہ عورت ہو کر دوسری عورت کا نہیں سوچ سکتی۔۔۔۔۔۔تو میں بھلا کیوں سوچتا گولی چلاتے وقت ہاں۔۔۔۔بتاؤ مجھے یہ ایک معصوم لڑکی کے ساتھ برا کر سکتی ہے۔۔۔۔۔۔تو میں کیوں اِس کے ساتھ برا نہیں کر سکتا۔”
شازم نے سرد لہجے میں کہہ کر الماس بائی کے تڑپتے وجود کو ہقارت سے دیکھا۔
“مٹل دلکش کو عزت کے ساتھ اُس کے گھر چھوڑ کر آؤں۔۔”
مٹل کی جانب دیکھتے ہوئے اُس نے کہا۔
“جو حکم چھوٹے سائیں۔۔”
مٹل نے تابعداری سے کہتے ہوئے اپنے قدم سیڑھیوں کی جانب بڑھائے تھے۔تو وہ سیاہ کپڑوں میں ملبوس شخص کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
“آفیسر میں جب تک نا کہوں تم بائی کو رہائی نہیں دوں گے۔۔۔پھر چاہیے اُس کے “چمچے ” ہی کیوں نا تھانے میں اُسے رہائی کروانے پہنچ جائے۔۔۔۔۔تم اُسے رہائی کسی بھی صورت نہیں دوں گے۔..”
شازم علی شاہ زرناب گل کو بغور دیکھتے ہوئے چمچے پر زور دیتے ہوئے بولا۔
“اے۔۔!! یہ کیا ابھی تک تم لوگوں نے ہمارے بچے کے لیے کھانا گرم نہیں کیا چريو (پاگل) کے اولادوں۔۔۔”
اسوہ ذولفقار شاہ کچن میں داخل ہو کر غصے سے چولہے کے سامنے کھڑی دو کم عمر ملازمین کو دیکھتے ہوئے سخت لہجے میں بولی۔
“معافی چاہتے ہیں، بڑی سائیں ہمیں ہاجرہ بی بی نے شازم سائیں کے لیے کھیر بنانے کے لیے کہا ہے۔۔۔”
ایک ملازمہ جو باؤل میں کھیر کے لیے خشک میوہ کاٹ رہی تھی ان سے کہنے لگی۔تو انہوں نے غصے سے اُسے گھورا۔
“تیاری تو ایسے کر رہی ہے۔اماں ہاجرہ جیسے کے حویلی میں شہزادہ سلیم آ رہا ہے۔”
اُنہوں نے استہزاء نظروں سے وہاں موجود سبھی ملازمین کو غصے سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“اماں ہم آپ کو اُس شہزادے سیلم کا ایک زبردست کارنامہ سنائے گے نا۔تو آپکا سارا غصہ ایک منٹ میں غائب ہو جائے گا۔۔”
کچن کے دروازے سے ٹیک لگائے کھڑے سجاول شاہ نے آگے بڑھ کر اپنی ماں کو کندھوں سے تھام کر باہر لے جاتے ہوئے کہا۔
“هيلو منهنجو خوبصورت جوان پٽ۔۔”
(ہائے میرا خوبصورت جوان بیٹا)..”
انہوں نے محبت سے سجاول شاہ کی پیشانی کو چومتے ہوئے اپنے سندھی زبان میں کہا۔
“کب سے آیا ہے۔۔مگر مجال ہے جو اُن سب کام چور کیڑوں کو میرے جوان پٽ کا تھوڑا سا بھی خیال ہو۔۔۔”
اُنہوں نے سامنے کچن میں کام کرتی ملازماؤں کو گھورتے ہوئے کہا۔
“اماں ہم نے کتنی بار کہا ہے۔۔۔۔آپ اپنا یہ ممتا بھرا پیار یہاں حویلی کے نوکرانیوں کے سامنے مت دکھایا کرے۔۔۔۔۔۔مجھے سخت زہر لگتا ہے۔۔۔۔۔۔آپکو اِس طرح پیار جتاتے ہوئے دیکھ کر۔۔۔”
سجاول شاہ نے ناراضگی سے اپنی پیشانی صاف کرتے ہوئے کہا۔
“اچھا بچے تم اُس شہزادے کے بارے میں کیا بتا رہے تھے۔اب تو وہ یہاں آیا ہے نا۔۔۔۔۔۔تو روز ہمیں اس صاحبزادے کا کوئی نا کوئی کارنامہ سننے کو ضرور ملا کرے گا۔۔”
انہوں نے نقوہت سے اپنے منہ کا زاویہ بگاڑ کر طنزیہ لہجے میں کہا۔۔
“اماں میں نے سنا ہے۔وہ شہزادہ سلیم جام شورو میں داخل ہوتے ہی اُس الماس بائی کے کوٹھے پر صرف زرناب بائی کو دیکھنے کے لیے گیا ہے۔۔۔۔”
سجاول شاہ نے بڑے مکاری سے سامنے سے آتے سید وجاہت حسین شاہ کو دیکھتے ہوئے مرچ مسالہ لگا کر اسوہ ذولفقار شاہ سے ایسے کہنے لگا جیسے وہ اُنہیں کوئی راز کی بات بتا رہا ہوں۔
“بیٹا ہم آپکا یہ احسان زندگی بھر نہیں چکا سکتے۔”
دلکش کے چھوٹے سے گھر کے آنگن میں رکھے چارپائی پر وہ بیٹھا چائے پی رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اچانک سے دلکش کے دادا نیچے بیٹھ کر اُس کے پیروں کو پکڑتے ہوئے روتے ہوئے بولا۔
“ارے یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔؟
سید شازم علی شاہ نے کپ سامنے کھڑے مٹل کو پکڑایا،اور خود جلدی سے نیچے جھک کر انہیں دونوں کندھوں سے تھام کر اوپر اٹھائے نرمی سے کہنے لگا۔
” کریم بابا یہ ایک احسان نہیں مجھ پر قرض تھا۔جو میرا اِس گاؤں کے اوپر تھا۔۔۔۔۔۔جسے میں چار سالوں تک اتار نا سکا تھا۔۔۔۔۔جو کے میں نے آج احسن طریقے سے اتار دیا ہے۔۔اور آپ اُسے کبھی بھی احسان نہیں سمجھے گے۔۔۔”
اُس نے اُن کے دونوں ہاتھ پکڑ کر نرمی سے چومتے ہوئے محبت سے کہا۔
وہیں دوسری جانب دلکش جو کب سے کچن کے دروازے پر کھڑی انہیں ہی دیکھ رہی تھی۔۔اُسے اس طرح اپنے دادا ابا کے ہاتھوں کو احترام سے چوم کر اپنی آنکھوں سے لگاتے ہوئے دیکھ کر حیران رہ گئیں۔
“اچھا کریم بابا اب میں چلتا ہوں۔۔۔۔۔۔وہاں حویلی میں میری ماں میرا کب سے انتظار کر رہی ہونگی۔۔۔۔”
اُس نے آگے بڑھ کر کہتے ہی محبت سے بابا کو گلے سے لگا کر کچھ ہرے نوٹ اُن کے جیب میں ایسے ڈالے جسکا انہیں اندازہ بھی نا ہو سکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر یہ منظر دلکش نے بڑی حیرانگی سے دیکھا۔
“آس بیٹا اتنی جلدی آپ جا رہے ہیں۔۔۔ رات کا کھانا کھا کر جاتے۔۔۔۔۔۔۔۔ہماری دلکش ڌيء (بیٹی) بہت اچھا کھانا بناتی ہیں۔۔۔۔۔”
کریم بابا نے محبت سے اُسے کہہ کر دلکش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“نہیں بابا پھر کبھی آ کر آپکی ڌيء کا کھانا بھی ٹیسٹ کر لے گے۔۔اور کریم بابا میرا نام آس صرف میرے دشمنوں کے لیے ہیں۔آپ کے لیے اور اپنی اماں کے لیے میں صرف شازم علی شاہ ہوں۔۔”
اُس نے سنجیدگی سے آپکی ڌيء پر زور دیتے ہوئے دلکش کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔تو دلکش اُسے اپنی جانب متوجہ ہوتے دیکھ جھٹ سے کچن کے اندر جا گھسی تھی۔
“وہ کیوں بیٹا آس تو امید کو کہتے ہیں۔۔اور آپ تو ہمارے لیے ایک امید کی روشنی بن کر آئے تھے۔۔۔۔تو بھلا کیوں آپ اپنے دشمنوں کی آس بننا چاہتے ہیں۔۔۔۔”
انہوں نے تعجب سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔تو وہ اُن کی بات پر محض خوبصورتی سے مسکرانے لگا۔
“بابا پھر کبھی آ کر آپ کو بتاؤ گا۔۔……کہ میں کیوں اپنے دشمنوں کے لیے آس بننا پسند کرتا ہوں۔۔۔”
اُس نے اپنے ہاتھ اُن کے کمزور ہاتھوں پر رکھتے ہوئے نرمی سے کہا۔اور مٹل کو گاڑی نکالنے کا اشارہ کرتے خود اپنے قدم آگے بڑھنے لگا۔
جب وہ کچن کے سامنے سے گزرا تو بے ارادہ ہی اُسکی نظریں کچن کی جانب بڑھی۔جہاں اُسے دلکش تو نظر نہیں آئی ہاں اُسکا زرد آنچل اُسے ضرور لہراتا ہوا نظر آیا۔
“وہیں پر رک جاؤ سید شازم علی شاہ۔۔”
شازم علی شاہ نے اپنے قدم حویلی کے اندر رکھے ہی تھے۔کہ وجاہت حسین شاہ کی غصیلی آواز سن کر وہ بے زاریت سے اپنے قدم وہی روکتے ہوئے انہیں دیکھنے لگا۔جو سامنے کھڑے اُسے غصے سے گھور رہے تھے۔
“آپ کو جو بھی بات کرنی ہے۔کل صبح کر لیجئے گا۔۔۔۔۔میں ابھی بہت تھکا ہوا ہوں۔اِس لیے میں ابھی آپ کے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔”
بے نیازی سے کہہ کر وہ اِنہیں مکمل نظر انداز کرتے ہوئے اپنے قدم آگے حویلی کے دروازے کی جانب بڑھانے لگا۔تو اُسکی بے نیازی دیکھ کر وجاہت حسین شاہ کو بہت تاؤ آیا۔
“مگر مجھے تم سے ابھی اور اِسی وقت بات کرنی ہے۔۔۔سنا تم نے سید شازم علی شاہ۔۔۔۔۔”
انہوں نے اُس کے روبرو کھڑے ہو کر غصے سے کہا۔
“اگر تم نے یہی سب کچھ کرنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو تم وہی رہ کر کرتے یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی تمہیں ہاں۔۔۔۔اگر تمہیں عیاشی کرنی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو تم وہی کراچی میں رہ کر اپنا یہ شوق پورا کرتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کم از کم تمہاری اِس حرکت سے یہاں ہمارا نام تو خراب نا ہوتا۔ “
انہوں نے اُسکی جانب سخت نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔تو وہ اُن کی سخت لہجے سے کہنے پر زور سے قہقہہ لگا اٹھا۔
“ہوں تو آپ کو بھی میرا کارنامہ پتہ چل گیا۔۔۔۔۔۔مگر جس نے آپ کو میرا یہ کارنامہ مرچ مسالہ لگا کر سنایا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔کیا آپ نے اُس عظیم شخص سے پوچھا۔۔۔۔کہ وہ وہاں بے غیرتوں کے پاس کرنے کیا آیا تھا۔”
اُس نے محظوظ کن انداز میں مسکراتے ہوئے سامنے اسوہ شاہ کے ساتھ کھڑے سجاول شاہ پر چوٹ کرتے ہوئے کہا۔
“سجاول شاہ کیا کہہ رہا ہے یہ۔۔۔۔؟
اُنہوں نے مڑ کر سجاول شاہ کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔تو وہ اتنی جلدی اپنے پکڑے جانے پر پہلوں بدلنے لگا۔
“وہ دادا سائیں مم۔میں۔۔”
سجاول شاہ سے گھبراہٹ میں بس اتنا کہا گیا۔
“سجاول سائیں تم رہنے دو تم سے کہا نہیں جائے گا۔۔۔۔۔۔میں خود بتاتا ہو۔نا دادا سائیں کو کہ تم وہاں کیا کرنے آئے تھے۔”
شازم علی شاہ اُسے چپ کرواتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔تو اُسکی بات پر سجاول شاہ گھبرا کر اسوہ زولفقار شاہ کی جانب دیکھنے لگا۔
“کیا رہنے دیں ہاں شہزادے صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم اِس طرح اپنی بات نہیں بدل سکتے سمجھے۔۔۔۔۔۔اور نا ہی میرے معصوم پٽ پر الزام لگا سکتے ہو۔”
اسوہ زلفقار شاہ آگے چل کر شازم علی شاہ کے عین سامنے کھڑے ہو کر غصے سے بولی۔
“تائی اماں۔۔۔۔۔ آپ اپنے اِس معصوم بھولے پٽ کو اسی کی طرح کے کسی معصوم لڑکی سے شادی کیوں نہیں کرواتی۔یہ بے چارہ ہمارا شریف سید زادہ روز کوٹھے کے چکر لگانے سے تو بچ جائے گا۔۔۔۔۔۔”
اُس نے طنز کے نشتر اسوہ شاہ پر اچھالتے ہوئے کہا۔تو اسوہ شاہ نے وجاہت حسین شاہ کی جانب دیکھا جو اب سجاول شاہ کو بری طرح سے گھور رہے تھے۔
“اچھا دادا سائیں اب رات بہت ہوگئی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلتا ہوں سونے کے لیے۔۔۔۔۔۔اور آپ بھی جا کر سو جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔اور ہاں زیادہ غصہ صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔”
اُس نے جمائی لیتے ہوئے آرام سے کہتے ہوئے اپنے قدم روم کی جانب بڑھانے سے پہلے وہ اُنہیں چھیرنا نہیں بھولا، اور وہ تینوں وہی کھڑے اُسے اپنی نظروں سے اوجھل ہوتا ہوا دیکھنے لگے۔
جاری ہے
