Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafrat e Ishq (Last Episode)

Nafrat e Ishq by Mahra Shah

بھائی صاحب کچھ پتا چلا انعل کہاں ہے پتا نہیں کب میری آنکھ لگ گئی وہ کیسے گئی کچھ نہیں پتا ۔۔ بی جان نث پریشانی کے عالم میں کہا تھا ۔۔

” ہاں میں نے داريان سے پوچھا کال کر کے اسنے کہا انعل اسکے ساتھ ہے پتا نہیں وہ کیا چاہتا ہے کیوں میری معصوم بچی کی جان کے پیچھے پڑا ہے اتنی سزا تو دے چکا ہے وہ ہمیں اور کتنا تڑپآئے گا بی جان اپنی معصوم سی بچی کو کبھی افف تک نہیں ہونے دیا آج زندگی نے اسے کیسے موڑ پر لا کر کھڑا کردیا ہے وہ بہت سمجھدار والی باتیں کرنے لگی ہے کب بڑی ہوگئی پتا ہی نہیں چلا میں اسکی آنکھوں میں آنسوں نہیں دیکھ سکتا بی جان انعم کی بددعا لگی ہے مجھے آج تک سکون سے نہیں سویا میں آج اپنی بیٹی کی اپنے بچے کے لئے تڑپتا دیکھ کر انعم کی تکلیف کا اندازہ ہو رہا ہے حیدر کے صبر دکھ کا پتا چل رہا ہے میں بہت برا ہوں میں نے بہت سے لوگوں کی زندگی برباد کردی اور آج دیکھو زندگی مجھ سے بدلہ لے رہی ہے مقافات عمل تو دینا پڑتا ہے نہ ۔۔۔!! حیات صاحب اپنی غلطی گناہ پر رو رہے تھے آج یہ زندگی ہے یہ دنیا ہے یہاں جو گناہ کرو گے اسکا حصاب اسی دنیا میں دے کر جانا پڑتا ہے ۔۔

★★★★

” ڈیڈڈڈ ۔۔۔ ارے کیا ہوا آرام سے ۔۔۔؟ جعفری صاحب زید کا چلا کر پکارنا پسند نہیں آیا تھا وہ اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔۔

” تم یہ سب تم نے کیا ہے نہ بغیرت انسان تجھے اگر اس سے دشمنی تھی تو اسے لیتا اس معصوم کو کیوں مارا بولووو ۔۔۔؟ زید غصے شدت میں دھاڑا تھا اس کمینے انسان پر رشید جو اسکے باپ کے ساتھ بیٹھا شراب سے آج اپنا جشن منا رہا تھا ڈی اے سے بدلہ لینے کا ۔۔۔

” تجھے کیوں آگ لگی ہے وہ تو تیرا بھی دشمن تھا نہ اور اسنے میرے بھائی کو مارا تو کیا میں اسے ایسے چھوڑ دیتا بول میں نے بھی اسکی کمزوری پر وار کیا اسنے مجھے تڑپایا تھا اب وہ تڑپے گا پوری زندگی ۔۔۔ رشید اپنا شیطانی قہقہہ لگا کر ہنسا تھا زید غصے میں اسے مارنے کو لپکا تھا کے اسکے آدمیوں نے اسے پکڑ لیا تھا جعفری صاحب نے اپنے بیٹے کے جنون کو ناگواری سے دیکھا تھا ۔۔۔

” تو کیا سمجھتا ہے اب تیری زندگی میں سکون ہوگا اب تو تیری بربادی شروع ہوئی ہے سالے اب دیکھ تیرے ساتھ کیا کرتے ہیں ہم ۔۔۔ زید کی سرخ نظروں میں انتقام نفرت تھی ۔۔۔

” وہ اب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا چپ چاپ سے اسکے بچے کا بتادو تمہارے لئے بھی فائدہ ہوگا سچ میں ڈیل کرلو میرے ساتھ مل کر اااہہ کمینے ۔۔۔ تیری تو تجھ جیسے کمینے کو زندہ ہونا نہیں چاہیے میں تجھے نہیں چھوڑوں گا جان سے مار دونگا تمہیں ۔۔۔؟ زید خود کو چھڑواتا ہوا دیوانہ وار رشید کو مار نے لگا انکے آدمی اسے چھڑوا رہے تھے ۔۔۔

★★★★

” مل گیا تمہیں سکون میرا سکون برباد کرکے اب تو خوش ہونا تم اپنی دنیا میں ۔۔ داريان بکھرا سا ہلیا لیے وہاں ایک قبر کے پاس بیٹھا اس قبر کو دیکھ رہا تھا جو گلاب کے چادر چڑھائی ہوئے سکون سے اسکی مہک میں تھی اس پتھر پر نام لکھا ہوا تھا ۔۔

” انعل بنت حیات شیرازی “

” کیوں کیا میرے ساتھ ایسا کیوں مجھے اکیلا چھوڑ کے چلی گئی تم کیوں مجھے بے سکون کردیا انعلللل پلیز واپس آجاؤ پلیز ۔۔۔؟ل داريان شدت سے روتے تڑپتے ہوئے اسے پکار رہا تھا جو سکون سے سو رہی تھی اپنی دنیا میں اور آج وہ تڑپ رہا تھا اسکی خاموش میں ۔۔

” تم نے کہا تھا اسے میری ضرورت ہے لیکن اسے میری نہیں تمہاری ضرورت تھی انعل اسے ابھی بھی تمہاری ضرورت ہے پلیز واپس آجاؤ ۔۔ داريان نے روتے ہوئے کہا اسے آج پتا چل رہا تھا وہ انعل کے بغیر ادھورا ہے ۔۔

” اسے تڑپا کر آج خود اس مقام پر ہو اسے تو تم نے مارا ہے تمہاری بےوفائی نے مارا ہے میرے نصیب میں وہ نہیں تھی لیکن تمہارے پاس تھی پر تم نے قدر نہیں کی تم نے اپنی نفرت میں اسے مار دیا ۔۔زید نے گلاب کے پھول اسکی قبر پر رکھتے ہوئے اس کو دیکھ کر کہا جس کی آنکھیں رونے سے بے حد سرخ ہو گی تھی وہ ٹوٹا ہوا ہارا ہوا انسان بے حد تھکا ہوا لگ رہا تھا زید نے پھر سے اس قبر کو دیکھا اسکی آنکھوں میں پانی آگیا تھا ۔۔۔

” پلیز بولو اسے واپس آجائے میں بہت تھک چکا ہوں مم ۔۔میں معافی مانگتا ہوں میں نے بہت غلط کیا اسکے ساتھ کبھی اسکے جذبات کی قدر نہیں کی پر میں سچ کہتا ہوں میں بے حد عشق کرتا ہوں اس سے میں کھبی بھی اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا ۔۔۔ داريان نم آواز میں بولتا اسکی قبر کو نظروں کے حصار میں لئے کہا تھا ۔۔

” جھوٹ مت بولو تکلیف میں تو تم اسے دیکھتے تھے پر اسکی کم نہیں کرتے تھے تکلیف مزید اضافہ کرتے تھے اسکی تکلیف میں کاش میں اسے کبھی نہ دیکھتا نہ ہی میرے عشق میں وہ جنون آتا یا پھر کاش تم اسکی زندگی میں نہیں آتے ۔۔ زید بے آواز آنسوں بہا رہا تھا ۔۔۔

” کاش ہم دونوں ہی اسکی زندگی میں نہیں آتے تو شاید آج وہ زندگی سے یوں ہار نہیں مانتی ۔۔۔داريان آج پچھتا رہا تھا وہ آج اسکے لئے تڑپ رہا تھا جو کبھی اسکے لئے تڑپتی تھی اسکے عشق میں مرتی تھی آج وہ دونوں اسکے عشق میں مر رہے تھے تڑپ رہے تھے ۔۔۔

” انسان زندہ ہے تو اسکی قدر نہیں جب چلا جائے تو اسکا مقام پتا چلتا ہے زندہ ہے تو اسکی برائیاں ہے چلا جائے تو اسکی اچھائیاں سامنے آتی ہے کاش کے ہم زندہ لوگوں کی قدر کر سکتے کاش کے ہم انھیں وہ محبت پیار عزت مان دیتے جو ہم انکے چلے جانے کے بعد دیتے ہیں انعل پلیز مجھے معاف کردو میں نے تمہیں بہت ستایا ہیں کاش اس رات میں تمہارے پیچھے نہیں آتا کاش ۔۔۔ زید داريان جانتے تھے انکی دشمنی کتنی ہے وہ لوگ ان پر نظر رکھے ہوئے ہے جو بھی انکے قریب آتا تو انکی دشمنی کے بھیٹ چڑھ جاتا تھا اور آج انکی کمزوری انعل تھی جو انکے دشمن کے سامنے آگئی تھی زید داريان دونوں نے رشید کے بہت سے لوگوں کو مار دیا تھا ان سے ایک جنگ شروع ہوگئی تھی ان دونوں کی لیکن رشید وہاں سے کہیں بھاگ گیا تھا لیکن اسکے خون کے پیاسے ڈی اے زید آج تک اسے ڈھونڈ رہے تھے انکی گینگ میں سب کو پتا چل گیا تھا ڈی اے کو بیٹا ہوا ہے اور وہ اب اسکے بیٹے کو حاصل کرنا چاہتے تھے پر وہ کہاں تھا یہ صرف ڈی اے زید جانتے تھے جنہونے انعل سے وعدہ کیا تھا وہ اسکے بیٹے کو کچھ نہیں ہونے دینگے اور وہ آج اپنی معصومیت اپنے لاڈ اپنے عشق میں مار دی گئی تھی یا پھر شاید وہ مر کر بھی زندہ تھی ان دھڑکتے دلوں میں جن میں انکے لئے پیار عشق محبت عزت تھی وہ دونوں اسکی قبر کے آگے بیٹھے اسکی خاموش سن رہیں تھے وہ تڑپ رہے تھے اسے دیکھنے کے لئے انسے ملنے کے لئے پر دونوں نے بہت دیر کردی اپنی اچھائی دیکھانے میں اور اس معصوم کی جان لیلی نفرت میں ۔۔

★★★★

” کچھ سال بعد “

” بابا آپ کی طبیعت صحیح نہیں ہے ہمیں ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے چلیں اٹھیں ۔۔ بیراج نے اپنے بابا سے کہا جو اب طبیعت زیادہ خرابی کی وجہ سے بیڈ ریسٹ پر ہوگئے تھے ۔۔

” نہیں بیٹا مجھے کہیں نہیں جانا ۔۔۔۔ پلیز بابا صبر رکھیں دعا کریں چاچو کو سکون ملے ۔۔۔ کرتا ہوں بیٹا بس وہ حادثہ نہیں بھولتا اپنے بھائی کو کھو دیا اپنی جان سے پیاری بچی کو کھو دیا ہے پتا نہیں کیسے ہم سانس لے رہیں ہے ۔۔ حمدان صاحب نے نم آواز میں کہا وہ آج تک اپنے بھائی کی موت انعل کو نہیں بھلا پا رہے تھے ۔۔

” پتا نہیں ہمارے ساتھ کیا ہوا لیکن آپ دیکھنا جس نے بھی یہ کیا ہے وہ کبھی سکون میں نہیں رہے گا اسے بھی ایک دن سزا ملے گی ۔۔۔ بیراج نے نفرت میں کہا تھا ۔۔

” بابا بابا ۔۔۔ یس بابا کی جان کیا ہوا ۔۔۔ بابا ماما کو بولے نہ ہمیں آئس کریم نہیں لے کے دے رہی وہ ۔۔وہ چھہ سال کی گلابی سفید رنگ بھڑی بھڑی آنکھیں سلكی بال آگے سے ماتھے پر کٹ ہوئے گال پر ڈمپل پڑھتے تھے وہ بے حد کیوٹ بلیک فراک میں وہ بلکل چائینیز جیسے دیکھنے میں لگتی تھی کبھی کبھی دافیہ کو لگتا تھا اسکی بیٹی بدل تو نہیں گئی پھر بیراج کی گھوری سے چپ ہو جاتی تھی یہ ڈول دیکھنے والی بیراج دافیہ کی خوبصورت سی ڈول تھی ۔۔

” اوکے دادا کو دوائی دے کر چلتے ہیں آپکی ماما کی کلاس لینے ۔۔۔ ہاہاہا اوکے ۔۔بیراج اسے بولتا اپنے بابا کو دوائی دینے لگا وہ ڈول اپنے دادا سے باتیں کرنے لگی پھر ۔۔۔

” کیوں میری ڈول کو آئس کریم نہیں دے رہی آپ ۔۔ بیراج اسے گود میں اٹھاۓ روم میں آتے ہوئے کہا تھا دافیہ نے کپڑے سیٹ کرتے ہوئے انھیں دیکھا پھر مسکراتے ہوئے انکے پاس گئی ۔۔

” پھر سے آپ کی ڈول نے کمپلین کی ۔۔۔ نو ماما آپ ٹوپک چینج مت کریں پلیز ۔۔ وہ کیوٹ سی ڈول ایک ادا سے اپنی ماما کو کہا تھا بیراج نےمسکراتے ہوئے اسکا گال چوما ۔۔

” بیراج آپ نے اسے بہت سر پر چڑھایا ہے دیکھیں کیسے بات کرتی ہے اور آئس کریم کا بولا ہے نہ اس نے آپکو تو اس نے اپنی غلطی تو بتائی نہیں ہوگی ۔۔۔ دافیہ نے اپنی بیٹی کو گھورا ۔۔

” ماما بابا آپ ماما کو کنٹرول نہیں کرتے ہیں ۔۔ وہ اپنی ماں کو خفگی سے دیکھتے ہوئے اپنے بابا سے کہنے لگی تھی ۔۔

” یار دافیہ کیوں میری ڈول کو بولتی ہو کھانے دو نہ اسے جاؤ آپ بی جان سے بولے اپکوں دے گی اوکے گو ۔۔ بیراج اسے گود سے اتار کر بولا وہ مسکراتے ہوئے اپنی ماما کو دیکھتی آنکھیں بند کر کے کھولی پھر کیوٹ سا منہ بنا کر وہاں سے بھاگی تھی ۔۔

” یہ یہ دیکھیں کیسے منہ بنا کر گئی ہے اور آپ نے پھر سے اسے بھیج دیا آئس کریم کھانے ابھی کھا کر ختم کیا تھا دوسرا کھول رہی تھی تبھی روکا میں نے ایک دن میں دو آئس کریم کھا لیتی ہے پھر پیٹ خراب ہو جائے گا اور آپ ہے کے اسے سر پر چڑھاا رکھا ہے پتا نہیں کیوں غصہ دلاتے ہو دونوں ۔۔ دافیہ غصے میں بیراج کو ڈانٹ رہی تھی بیراج دلچسپی سے اسے دیکھتا ہوا آگے بڑھ تھا ۔۔

” ایک بات بتاؤں ۔۔۔ کیااا ۔۔ غصے میں بہت خوبصورت لگتی ہو یار سچ میں اایسا کیا کھاتی ہو ۔۔؟بیراج نے پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لیا تھا وہ ناراض تھی اس سے ۔۔

” میں نہیں آپ اور آپکی بیٹی کھاتے ہیں میرا دماغ ۔۔۔ اچھا یار اب کم لونگا اسکی سائیڈ آپکی زیادہ بس ۔۔ بیراج نے اسے اپنے سامنے کرتے ہوئے محبت سے کہا ۔۔۔

” ایسی بات نہیں ہے مجھے ڈر لگتا ہے ۔۔۔ کس سے ۔۔۔ ایک اور انعل سے جس طرح آپ اپنی ڈول کو بے حد لاڈ میں اسکی ہر ضد پوری کرتے ہیں اسے چوٹ لگنے سے پہلے ہی اسکا علاج کر لیتے ہیں اسکے آنسوں گرنے سے پہلے ہی اسے صاف کر دیتے ہیں ان سب چیزوں سے ڈرتی ہوں پلیز میں جانتی ہوں وہ آپکی جان ہے لیکن اسے چوٹ لگتی ہے تو اسے رونے دیں پہلے پھر اسکا علاج کریں وہ کوئی ضد کرتی ہے تو اس وقت وہ پوری مت کریں بعد میں اسکے لئے کچھ اچھا لے آئیں ۔۔۔ دافیہ بیراج کے سینے سے لگی نم آواز میں کہا تھا وہ انعل کا نصیب دیکھ کر بہت ڈر گئی تھی ایک اور انعل نہیں لانا چاہتی تھی اسکی بیٹی میں صرف انعل کی طرح بے حد معصومیت اسکا بولنے کا انداز آیا تھا جو شاید بیراج بی جان کی وجہ سے آیا اس میں ۔۔

” ایسا کچھ نہیں ہوگا میں اپنی بیٹی کو بہت مضبوط بناؤں گا اسے لڑنا سکھاؤں گا اچھے برے کی تمیز سکھاؤں گا وہ ایک بہت اچھی انسان بنے گی دیکھنا ہم دونوں مل کر اسکی ہمت افزائی کریں گے ۔۔!! بیراج نے مضبوط لہجے میں کہا تھا دافیہ مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا یا ۔۔۔

★★★★

” زافاااا ۔۔۔ کیا ہوا اتنا زور سے کیوں چلائے ۔۔۔حنان کی چیخ پر زافا بھاگتی ہوئی آئی تھی ۔۔

” یہ سوال کرنے سے پہلے وجہ بھی پوچھ لیا کرو ۔۔۔۔ ہاہاہا حان کیا تم پاگل تو نہیں ہو گئے وجہ پوچھی تو ہے کیوں چلائے ۔۔؟ حنان نے غصے میں کہا تھا زافا قہقہہ لگا کر اسے گھور کر پوچھا پھر ۔۔۔

” یہ میرے سامنے معصوم مت بنا کرو کتنی بار کہا ہے کام کے ٹائم مجھ سے مستی مت کیا کرو یار یہ دیکھو میری شرٹ کیوں جلائی تم نے ۔۔۔حنان نے گھورتے ہوئے غصے میں کہا اور اپنی جلی ہوئی شرٹ آگے کی زافا ایک نظر حنان کو دیکھتے ہوئے اس جلی ہوئی شرٹ کو دیکھا پھر ۔۔

” کیا ثبوت ہے میں نے جلائی ہے ۔۔۔ تو کیا اب میری معصوم بچوں پر الزام لگاؤ گی ۔۔۔!! حنان نے اسے آنکھیں دکھائی ۔۔

” ہاہاہا معصوم تم اور تمہارے بچے کیا سچ میں یہ معصوم لفظ کی بھی توہین ہوگی جو تم لوگوں پر بھی استعمال ہو اور ہاں دوبارہ اگر اپن کو گھورا تو یاد رکھنا میں کیا کروں گی ۔۔۔؟ زافا اسکے قریب آتے اسکا کالر پکڑ کر بولی پھر اسے ٹھیک کرتے ہوئے پیچھے ہوئی مسکراتے ہوئے وہاں سے باہر گئی ۔۔۔

” ڈیڈ آپ بھی موم سے بدلہ لے سکتے ہیں یہ اس طرح معصوم بن کر کھڑے ہونا اچھی بات نہیں اپنی جنگ خود لڑنی پڑتی ہیں ۔۔ زویا حنان کے پاس آکر افسوس سے اسے دیکھ کر کہا تھا حنان اپنی بیٹی کی بات سنتا شرمندہ ہوا اپنی بزدلی پر ۔۔

” ایسی کوئی بات نہیں ہے تمہاری موم ڈرتی ہے مجھے سے ۔۔۔ڈیڈ سیریسلی آپ مجھے کہہ رہے ہیں ۔۔!! دس سالہ زویا نے اپنے ڈیڈ کو چھوٹی آنکھیں کر کے کہا جس پر حنان کو بہت پیار آیا تھا ۔۔

” اوکے مائے پرنسس اب دیکھنا آپ کیسے بدلہ لیتا ہوں رکو تم ۔۔ حنان مسکراتے ہوئے بولتا زافا کے پاس گیا ۔۔۔

” ہاہاہا میرے موم ڈیڈ کتنے معصوم ہے افف چلو انکی لڑائی کی ویڈیو بناتے ہیں بعد میں سکون سے بیٹھ کر لڑائی دیکھوں گی ہاۓۓے کتنا سکون ملتا ہے پھڈا کروا کر ویلڈن زویا حنان ہاہاہا ۔۔۔!! زویا خود کو داد دیتے ہوئے کہا پھر انکی لڑائی کی آواز سنتی اپنا موبائل فون لیتی انکے پاس گئی وہ بچپن سے اپنے ماں باپ کا پیار محبت والا لڑائی جھگڑا دیکھتی ہوئی آئی تھی اسے بھی اب ان چیزوں میں مزہ آتا تھا حنان کی شرٹ جلا کر زافا پر الزام لگوا دیا تھا اب اسی بات کا مزہ لے رہی تھی ۔۔۔

★★★★

” کیا تم میرے ساتھ نہیں چلنا چاہتے ۔۔۔؟ داريان نے اپنے دس سالہ بیٹے سے پوچھا تھا وہ سفید رنگ گرے آنکھیں بھكرے ماتھے پر بال وہ اس عمر میں بھی بے حد خوبصورت تھا یہاں کے اسکول کی لڑکیاں بھی اس مر لائن مارتی تھی پر اسے لڑکیوں کی یہ بات بہت زہر لگتی تھی ۔۔

” نو ۔۔!! اسکی طرف سے صرف ایک جواب آیا بس وہ اسے دیکھ بھی نہیں رہا تھا باہر کھڑکی سے نیچے بچوں کو کھیلتا ہوا دیکھ رہا تھا وہ ایک بورڈنگ اسکول میں تھا داريان روز ملنے آتا تھا پر وہ شاید کسی بات سے ناراض تھا اس لئے زیادہ بات نہیں کرتا تھا ۔۔۔

” کیا تم ناراض ہو ۔۔۔؟ نو ۔۔۔! پھر بات کیوں نہیں کرتے ۔۔ بزی رہتا ہوں پڑھائی میں ۔۔!! یہاں خوش ہوں ۔۔ بہت ۔۔!! یہی رہنا چاہتے ہوں ۔۔ یس ۔۔!! کیا بنو گے ۔۔ وہی جو آپ نہیں ۔۔؟ داريان کو لگا وہ اپنا عکس دیکھ رہا ہو اور تھا بھی وہ بلکل اسکے جیسا دیکھتا تھا تھوڑا بہت وہ انعل کی طرح لگتا تھا بچپن میں وہ انعل جیسا تھا لیکن جیسے جیسے بڑا ہوتا جا رہا تھا بلکل داريان کی طرح سنجیدہ سخت مزاج اسکی اپنے باپ سے نہیں بنتی تھی داريان کو لگا شاید وہ اسے ٹائم نہیں دیتا اس لئے وہ کرتا ہے ایسے لیکن وہ اپنے بیٹے سے بہت محبت کرتا تھا اسکے پاس انعل کی یہی نشانی تھی جیسے دیکھ کر وہ آج تک زندہ تھا ان دونوں کو بچانے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا تھا اس نے اور آج دونوں ہی اس سے منہ موڑے ہوئے تھے ۔۔۔

” کیا تم مجھ سے گلے نہیں ملو گے ۔۔۔ سوری میں لیٹ ہو رہا ہوں باۓ ۔۔۔ وہ بے رخی سے کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا تھا داريان نے گہرا سانس لیا اسے لگتا تھا اسے سزا مل رہی ہے ۔۔۔

” سنو تم سے زید جعفری ملنے آیا ہے ۔۔!! وہ ابھی اپنے باپ سے مل کر روم میں آیا تھا تھوڑی دیر بعد اسے پتا چلا داريان چلا گیا ہے ۔۔

” کیا سچ میں کہاں ہے وہ ۔۔؟ وہ بہت خوش ہوا زید کا سن کر ۔۔۔

” کیسے ہو ۔۔۔ بلکل ٹھیک آپ کیسے ہے اس بار لیٹ آئے ہے آپ ۔۔ وہ تھوڑی ناراضگی میں بولا تھا پر خوش تھا اسے یہاں دیکھ کر ۔۔

” تمہارا باپ یہاں آیا تھا وجہ ۔۔۔؟ وہ چاہتے تھے میں انکے ساتھ جاؤں ۔۔۔!! زید اسکے خوبصورت چہرے کو دیکھا جو اپنے باپ کے ذکر پر مر جھایا گیا تھا ۔۔

” پھر گئے کیوں نہیں ۔۔؟ میں انکے ساتھ نہیں رہنا چاہتا اور پلیز کیا ہماری بات کریں ۔۔ وہ بےزاری سے بولا زید مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلا یا پھر دونوں اپنی باتیں کرنے لگے تھے ۔۔۔

★★★★

” ااآہہہ ۔۔نن ۔۔نہیں ۔۔پپ ۔۔پلیز ۔۔ہہ ۔۔ہمارے ۔۔سس ۔۔ساتھ ایسا مت کرو پلیز نہیں ااآہہہ دد ۔۔!! شش ابھی تو کچھ کیا ہی نہیں اور اتنی جلدی جان نکل رہی ہے تمہاری میں بھی تو تڑپا ہوں نہ اب تمہاری باری میری جان ۔۔ وہ وجود اسے ڈرا کر اسکے قریب گیا تھا وہ چیخ رہی تھی چلا رہی تھی پر آج کوئی نہیں تھا اسے بچانے والا آج وہ اس درندے کے پاس تھی ۔۔

” آآہہ انعلللل نہیں ۔۔۔وہ شخص چیخ کر اٹھا خواب سے اسکا پورا وجود پسینے سے شرابور تھا اسکی دھڑکنے تیز رفتار سے چل رہی رہی وہ گھبرایا ہوا تھا ۔۔

” آآہہ کیوں ہو رہا ہے میرے ساتھ ایسا کیوں میرا پیچھا نہیں چھوڑتی وہ کیوں ۔۔؟ وہ دھاڑتے ہوئے اپنے بال نوچنے لگا تھا یہ خواب اتنے سالوں سے اسکے پیچھے تھا وہ اس رات کے بعد سویا ہی نہیں تھا ۔۔۔

زندگی کبھی ختم نہیں ہوتی ایک انسان کی کہانی ختم ہوتی ہے تو دوسرے کی شروع ہوتی ہے کسی کے مرنے سے کوئی مر نہیں جاتا بلکے اور جینا پڑتا ہے

پھر سے ملیں گے بہت جلد اگلے راز کے ساتھ ایک نئی نفرت انتقام عشق کے ساتھ ہر راز پر ایک پردہ ہوتا ہے اسکے پیچھے والا وہ وجود بے نقاب میں ایک راز ہوتا ہے کیا ہوا تھا اس رات جاننے کے لئے جوڑے رہیں مہرہ شاہ کے ساتھ بہت جلد ملیں گے اگلے سیزن میں انعل کی موت کے راز کے ساتھ ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کسی بھی کہانی کا اینڈ نہیں ہوتا کہانی چلتی رہتی ہے ایک کی اسکی موت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے تو دوسری جینے والے کے ساتھ شروع ہوتی ہے ۔۔

ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *