Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafrat e Ishq (Episode 06)

Nafrat e Ishq by Mahra Shah

” چل جلدی سے تیار ہو جا مولوی صاحب آنے والے ہیں سن لڑکی جلدی سے تیار کر اس پاگل دلہن کو “۔۔ زافا کی ماں چھوٹے سے روم میں آتے ہی زافا کو ڈانٹنا شروع کردیا ۔۔

” دیکھ اماں تو میرے ساتھ بہت غلط کر رہی ہے پتا نہیں کس سے اپن کی شادی کر رہی ہے ایک بار بتا تو دے نہ کون ہے وہ کمینہ جس میں اتنی ہمت کہ وہ زافا طاہر سے شادی کرے گا “۔۔ زافا نے غصے میں کہا ۔۔

” شرم کر لڑکی ہونے والے شوہر کو گالی دیتے ہیں تجھے بتا دیتی تا کہ تو اس رشتے کو بھگا دیتی اس لئے میں نے کہا اس سے نکاح کر کے لے جائے اس سر درد کو ویسے ہی چوری کر کے مجھے بدنام کر رکھا ہے اب تیرا شوہر ہی تجھے سیدھا کریگا اور سن لڑکی تیار کر اگر نہ مانے تو مجھے بتانا ۔۔ اسکی ماں غصے میں کہتی باہر نکلی “۔۔ حنان نے اسکے لئے ایک خوبصورت سا سرخ جوڑا اور پالر والی بھیج دی تھی جو اب کب سے اس پاگل دلہن کو دیکھ رہی تھی اپنی ہی شادی سے بھاگنے کی پلاننگ کر رہی تھی ۔۔

” میم پلیز آپ چینج کرلے پھر مجھے آپکا میک اپ کرنا ہے “۔۔ وہ لڑکی آرام سے بولی ۔۔

” تجھے کس چیز کی جلدی ہے اور تجھے لگتا ہے اپن یہ سنگھار کرے گی وہ بھی اس کمینے کے لئے جسے دیکھا تک نہیں اور نکاح کرلو حد ہوگئی بھاگے گی اپن بھی نہیں اب دیکھے تو سہی ہے کون جو اپن سے پنگا لے رہا ہے “۔۔ زافا نے بھاگنے کا پلان کینسل کیا ۔۔

” میم تو آپ تیار ہوکر بھی تو انتظار کر سکتی ہے نہ “۔۔ اس لڑکی کو کیسے بھی کر کے اسے تیار کرنا تھا ورنہ حنان اسکا کیا حال کرتا وہ اچھے سے جانتی تھی اسنے دھمکی جو دے کر بھیجا تھا اسے ۔۔

” اپن کیوں تیار ہو کر اس کمینے کا انتظار کرے اپن کو نکاح کرنا ہی نہیں ہے بس آئے ایک بار ایسا حال کرکے بھیجو گی دوبارہ کسی سے شادی کرنے کا سوچے گا ہی نہیں “۔۔ زافا کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آئی ۔۔

” میم ایک اور بھی طریقہ ہے بدلہ لینے کا اور یقین مانے کہ وہ ضرور کامیاب بھی ہوگا “۔۔ اس لڑکی نے کچھ سوچ کر کہا ۔۔

” کیاا اور تم کیوں اپن کی مدد کریگی تجھے تو انہوں نے بھیجا ہے نہ کہیں انکا پلین تو نہیں “۔۔ زافا اسکو اوپر سے نیچے تک گھورا وہ لڑکی بوکھلا گئی ۔۔

” نہیں میم آپ یقین کریں بہت کام آئے گا میں نے بہت سی لڑکیوں کو دیکھا ہے جو شادی نہیں کرنا چاہتی پھر یا تو بھاگ جاتی ہے یا پھر تیار ہو کر سب کے سامنے انکار کرتی ہے انکی سب کے سامنے بیعزتی کرنا سچ میں میم تیار ہو کر آپ سب کے سامنے انکار کرینگی تو سوچیں کی کتنی بیعزتی ہوگی وہاں باقی آپ کو جیسے ٹھیک لگے میں تو بس آپکی مدد کرنا چاہتی تھی ایک لڑکی کا دکھ ایک لڑکی ہی سمجھ سکتی ہے “۔۔ اس لڑکی نے اتنا بول کر گہرا سانس لیا ۔۔

” چلو کر کے دیکھتے ہیں ویسے بھی نہ مانا تو مار کر بھاگ جاؤنگی اور ساتھ میں تمہیں بھی “۔۔ زافا کو اسکا پلین پسند آیا پر اسکو شک بھی ہوا اس لڑکی کی ہمدردی پر لیکن وہ جانتی تھی اگر اسکے ساتھ زبردستی کی تو وہ مار کر بھاگ جائے گی یہاں سے ۔۔

” سر کام ہو گیا “۔۔ اس لڑکی نے کان میں لگے بلوٹوتھ میں کسی سے کہا ۔۔

★★★★★★

” تمہیں نہیں لگتا تمہیں کسی کی زندگی برباد نہیں کرنی چاہیے “۔۔ ڈی اے نے اسے گھورتے ہوئے کہا جو سفید شلوار قمیض پہنے تیار کھڑا تھا ۔۔

” تمہیں نہیں لگتا تم مجھ سے جلیس ہو رہے ہوں کیوں کے میں تم سے پہلے شادی کر رہا ہوں “۔۔ حنان نے اپنی بتیسی نکالی ۔۔

” تم اپنے کام پر دھیان بہت کم دے رہے ہو اگر شادی کے بعد کام پر دھیان کم ہوا تو تمہاری بیوی کو بیوہ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا “۔۔ ڈی اے اسے وارننگ دیتا آگے بڑھ گیا ۔۔

” توبہ توبہ کرو ابھی مجھ غریب کی شادی ہوئی نہیں تو ایسی بد دعا دے رہے ہو ڈی اے تمہیں نہیں لگتا تمہیں میری شادی پر ہونا چاہیے “۔۔ حنان نے اسکی بد دعا پر غصے میں کہا پھر اسکے پیچھے گیا ۔۔

” تم چاہتے ہوں تمہاری شادی رک جائے ۔۔ اسے لے جاؤ جسے تمہاری بربادی دیکھنے کا بڑا شوق ہے “۔۔ ڈی اے نے اسٹڈی میں جاتے دروازہ بند کردیا حنان کچھ کہتا کے اسکے بند دروازے کو گھور کر اسکی بات پر سوچنے لگا گواہ تو اسے لے جانا تھا پھر وہ دشمن ہی سہی حنان سوچتے مسکرایا اور فون پر نمبر ملا نے لگا ۔۔

” بکو کیوں کال کی ہے “۔۔ دوسری طرف فون پر بیزار سی آواز آئی ۔۔

” تھوڑی دیر میں نکاح ہے میرا اڈریس بھیج رہاں ہوں پہنچ جانا لیٹ مت کرنا “۔۔ حنان نے بھی بیزار ہو کر کہا ۔۔

” دعوت دے رہے ہو یا کوئی احسان کر رہے ہو اور یا اچانک تیری قسمت کیسے پھوٹنے لگی اتنے فاسٹ تو ڈی اے بھی نہیں نکلا جتنا تو آگے بڑھ گیا ہے “۔۔ دوسری طرف زور سے قہقہہ لگا ۔۔

” وہ کیا ہے نہ تیرے جیسے کمینے کو کوئی منہ نہیں لگاتا نہ اس لئے جل رہا ہے میری کامیابی سے اور ہاں آجا میرے نکاح کے چھوارے کھانے کیا پتا میری قسمت سے تیری بھی کھل جائے “۔۔ حنان نے بھی دل جلا نے والا قہقہہ لگایا ۔۔

” چھوارے تو ضرور کھاؤنگا اسکے بعد بہت جلدی تیری بریانی بھی کھانی ہے بیٹا “۔۔ وہ طنزیہ بولتا فون بند کردیا ۔۔

” کمینہ سالہ مجال ہے کوئی میری خوشی میں خوش ہوں چل حنان سلطان تو خوش ہے تو پوری دنیا خوش ہے اب بس اپنی جنگلی بلی کو منانا ہے یار “۔۔ حنان خود سے کہتا شرارت سا مسکرایا۔۔

★★★★

” واہ میم آپ تو بہت خوبصورت پیاری لگ رہی ہیں سچ میں سر کے تو ہوش ہی اڑ جائے گے “۔۔ اس لڑکی نے اسکو خوبصورت سے سرخ جوڑے میں دیکھ کر دل سے کہا وہ واقع ہی بہت زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی ریڈ لہنگے پر گولڈن کام ہوا تھا اسکے چھوٹے بال آگے پیچھے ہوئے پڑے تھے بغیر میک اپ کے بھی وہ بہت پیاری لگ رہی تھی اسکی تعریف پر بھی اسنے کچھ نہیں کہا آکے چیئر پر بیٹھ گئی اسے صرف تیار ہو کر سب کے سامنے انکار کر کے اپنا بدلہ لینا تھا اس لڑکی نے اپنا کام شروع کیا ۔۔

” سنو لڑکی کیا میری بیٹی تیار “۔۔ زافا کی ماں روم میں آتے ہی کہا پر باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے سامنے زافا کو تیار دیکھتے ہی انکے منہ سے بے سکتا ماشاءالله نکلا ۔۔

” ماشاءاللّٰه یہ میری ہی بیٹی ہے نہ اتنی پیاری لگ رہی ہے کہیں میری ہی نظر نہ لگ جائے “۔۔ اسکی ماں نم آنکھوں سے اسکی نظر اتاری ۔۔

جو خوبصورت برائیڈل میک اپ میں بڑی سی گول نوز رنگ پہنے وہ بے انتہا خوبصورت لگ رہی تھی بالوں کا جوڑا بناۓ ہوئے اس پر سرخ ڈوپٹہ اوڑھے وہ بہت پیاری دلکش لگ رہی تھی آج وہ کہیں سے بھی نہیں لگی وہ کوئی چور ہے یا ہمیشہ لڑکوں جیسے کپڑے پہن کر گھومنے میں ہوتی تھی زافا اپنی ماں کے پیار پر حیرت سے انہیں دیکھا جو آج تک تو کبھی نہیں دیا اتنا اور آج شادی کر کے جائے گی اس لئے اتنا پیار مل رہا ہے وہ سوچتے ہوئے مسکرائی ۔۔

” اماں کیا تیرا داماد ابھی تک آیا نہیں کیا اپن اب اس بھاری کپڑوں میں تھک جائے گی یار بولا اسے بیعزت بھی کرنا ہے مم ۔۔ مطلب نکاح بھی ہونا ہے نہ ورنہ تو جانتی ہے لائٹ ہی نہیں ہمارے پاس اپن کا میک اپ خراب ہو جائے گا “۔۔ زافا نے تیزی میں بول کر گہرا سانس لیا اسے واقعی عادت نہیں تھی کبھی بھاری کپڑوں کی اور آج اسے گرمی ہو رہی تھی ۔۔۔

” میم آپ بیٹھ جائے میں اب جلتی ہوں آپکو مبارک ہوں بہت “۔۔ وہ لڑکی جلدی میں بول کر تیزی سے باہر نکلی کیا پتا وہ لڑکی سچ میں اسے کچھ کر نہ دے زافا بس اسکی پشت کو گھورتی رہی ۔۔

” چلو آؤ وہ لوگ آگئے ہے باہر مولوی صاحب بلا رہے ہیں “۔۔ اسکی ماں اسے اٹھا تے ہوئے کہا اور اسکا ڈوپٹہ کا گھوگٹ نکالا اور اس وقت زافا کا دل زور سے دھڑکا ۔۔

” دیکھ میں جانتی ہوں تو خوش نہیں ہے لیکن میرا یقین کر میں ماں ہوں تیری کبھی غلط فیصلہ نہیں کرونگی تم نوجوان لڑکی ہو میں تجھے اکیلے کہیں بھی بٹھکنے نہیں دے سکتی میں ہمیشہ کام پر چلی جاتی ہوں پر پیچھے تیری فکر مجھے کچھ کرنے نہیں دیتی ہر وقت یہی خیال رہتا ہے کون کریگا تیرے سے شادی ہم غریب اور تو میرے لاکھ منانا کرنے پر بھی چوری کرتی تھی مجھے بہت خوف رہتا تھا تمہارے لئے بہت ظالم لوگ رہتے ہے اس دنیا میں تو ابھی چھوٹی ہے جزباتی ہے نہیں سمجھتی لوگوں کی باتیں انکی غلیظ نگاہیں اپنے گھر خوش رہنا شوہر سے لڑنا مت میری عزت کی لاج رکھ لینا میرے تیرے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں ۔۔۔ اماں ایسا کیوں کہہ رہی ہے اپن تیرے کو اکیلے نہیں چھوڑ سکتا میرے علاوہ تیرا ہے کون اور مجھے ہی جدا کر رہی ہے مت کر ایسا اماں مجھے نہیں کرنی شادی ابھی کیوں ایسے واسطے دے رہی ہے جسے میں انکار بھی نہیں کر سکتی مت کر اثما ایسا “۔۔

دونوں ماں بیٹی ایک دوسرے کے گلے لگا کر رو رہی تھی زافا نے سوچ لیا تھا وہ باہر جاکے تماشا کرے گی پر اپنی ماں کے ہاتھ جوڑنے اسکے آگے اسے بےبس کردیا کیا وہ کر پائے گی اپنی ماں کی بیعزتی وہ اپنے دھک دھک دل کے ساتھ باہر آئی کیسی قسمت تھی اسکی اسے تو یہ بھی نہیں پتا اسکا ہمسفر ہے کون کیسا دیکھتا ہے اسکی ماں نے صوفے پر آکر بیٹھایا یا چھوٹا سا گھر تھا باہر کچھ چیئر ایک صوفہ رکھوایا تھا حنان نے زیادہ لوگ تھے نہیں حنان اپنے ساتھ ایک مولوی صاحب کو اور تین لوگوں کو لیکے آیا تھا جو ایک تو دوست تھا ایک گارڈ تو ایک دشمن ۔۔۔

” بسمہ اللہ کریں مولوی صاحب ” ۔۔ زافا کو اپنے قریب ایک بھاری مردانہ آواز آئی اسے لگا اسنے یہ آواز سنی ہے کہیں یہ سوچتے ہی اسکی دھڑکن تیز رفتار سے چلی اسنے ہمت کرتے ہوئے گرڈ موڑ کر دیکھنا چاہا تو جیسے سن ہوگئی وہ اپنی جگہ یہ تو وہ نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے زافا نے اپنی سوچ کو جھٹکا ۔۔

زافا طاہر آپ کو حنان سلطان اپنے نکاح میں قبول ہیں۔۔۔۔ مولوی صاحب نے قرآنی آیات پڑھ کر نکاح شروع کیا تھا اور تین بار پوچھا تھا ۔۔۔۔

” نہیں اپن کو یہ شوہر قبول نہیں اسے اپن کی بہت بار لڑائی ہوئی ہے اس لئے اپن اس شخص سے شادی نہیں کریگا اور پتا بھی ہے اپن کو تو یہ بھی نہیں پتا تھا کے میرا ہونے والا شوہر کون ہے پھر کیسے اپن اس کا دھوکہ بھولے ” ۔۔ زافا ایک دم دھڑکتے دل کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنا غصہ نکلا ایک طرف ماں کا ڈر بھی تھا کے پتا نہیں کیا کرے گی سب کے سامنے دوسری طرف اس شخص کی چالاقی پر بھی غصہ آیا ۔۔

” یہ کیا طریقہ ہے چپ کر کے بیٹھو اور قبول ہے کہوں ورنہ ۔۔

ورنہ کیا ہاں بولو گن نکال کے ڈراؤ گے مارنے کی دھمکی دوگے اپن کو سوچ بھی کیسے لیا اپن تیرے سے ڈرتی ہے ایک تو اپن سے دھوکے سے شادی کرنے آگیا ۔۔ زافا دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر لڑنے لگی جتنے بھی لوگ تھے منہ کھولے اس لڑکی کو دیکھ رہے تھے ان سب میں وہ ایک شخص سکون سے اسکی بربادی دیکھ رہا تھا اور اندر سے بہت خوش اسکی مسکراہٹ نے حنان کو اندر تک جلا دیا اس وقت حنان کو زافا کی بیوقوفی پر بہت غصہ آیا لیکن وہ تماشا نہیں کرنا چاہتا تھا اسکی ماں کے سامنے بس ایک بار نکاح ہو جائے پھر اچھے سے اسکو سیدھا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔

” اے لڑکی باولی ہوگئی ہے کیا شرم نہیں آتی اس طرح تماشا کرتے ہوئے سمجھا کے لائی تھی نہ کچھ مت کرنا میری عزت نہیں رکھنی آتی نہ تجھے “۔۔ اسکی ماں نے غصے میں اسکا بازو پکڑ کر قریب کان میں کہا ۔۔

اماں تو جانتی نہیں یہ بہت بڑا مافيا ڈون ہے تو کیسے ایسے انسان سے شادی کروا سکتی ہے اپنی بیٹی کی ۔۔ زافا نے دکھ سے اپنی ماں کو دیکھ کر کہا ۔۔

میں سب جانتی ہوں اور تو کون سا دودھ کی دھلی ہے چوری کرنا ایک چور ایک ڈون میں کون سا فرق ہوتا ہے اب چپ چاپ سے بیٹھ کر ہاں بول ورنہ یہی سب کے سامنے خود کو مار دونگی اور ہاں میری یہ دھمکی مت سمجھنا کر کے بھی دیکھا دونگی اگر اپنی ماں اور اپنے مرے ہوئے باپ کی عزت رکھنا چاہتی ہے تو بیٹھ کر ہاں بول ورنہ چلی جا یہاں سے میرا مرا ہوا منہ بھی مت دیکھنے آنا ۔۔ اسکی ماں نے غصے غم میں کہتے ہی آنسوں صاف کئے وہ تو انکی دھمکی پر ساکت رہ گئی وہ ایک نظر حنان کو نفرت سے دیکھتے ہوئے بیٹھ گئی اسے اپنی ماں سے بہت محبت تھی اسکے خاطر وہ جھک تو گی پر اسنے سوچ لیا تھا وہ حنان کو اب نہیں چھوڑے گی اپنی آنکھوں کی نمی کو اندر ہی بہنے دیا ۔۔

مولوی صاحب کے دوبارہ پوچھے پر اسنے اس بار بے دلی سے ہاں کہا اسے حنان کی یہ حرکت بہت زہر لگی تھی اسکے بعد مولوی صاحب نے حنان سے پوچھا ۔۔

” حنان سلطان آپ کو زافا طاہر اپنے نکاح میں قبول ہیں “۔۔ قبول ہے “۔۔۔ تینوں بار دل سے اقرار آیا حنان کی تو خوشی کی انتہا نہیں تھی جب سے اسکے خوبصورت سے سجے سنورے سراپے کو دیکھا ہے وہ تو اسکا دیوانہ ہو گیا تھا اسے تو زافا سے ملتے ہی پسند آئی پھر کب محبت سے عشق میں سفر ہوا اسے پتا ہی نہیں چلا اب اس سفر میں اسے زافا کو بھی لانا تھا اسکے آنکھوں میں اپنے لئے غصہ نفرت دیکھ چکا تھا ۔۔۔

دعا کے بعد ان سب میں مبارک باد کا سلسلا شروع ہوا زافا کی ماں اسے اندر لے گئی تھوڑا سمجھا سکے باکی سب حنان کو مبارک باد دینے لگے ۔۔

بربادی مبارک میرے دشمن ویسے تمہاری بیوی بہت پسند آئی مجھے چلو میری طرح کوئی اور بھی ہے جو تجھے سکون سے سونے اٹھنے بیٹھنے تک نہیں دیگا ۔۔۔ اس شخص نے طنزیہ قہقہے لگایا حنان نے غصے میں دیکھتے ہوئے سب کو فارغ کیا اور چلتا ہوا زافا کی ماں کے سامنے آیا دعا لینے لگا کچھ باتیں انکی سنی انہوں نے بہت سی دعا دی دونوں کو اور زافا کو رخصت کیا اسکے ساتھ زافا غصے میں چلتی ہوئے آئی اور گاڑی میں بیٹھ گئی حنان ایک گہری دلچسپ نظر سے اسکے ناراضگی والے انداز کو دیکھتا رہا ۔۔۔

★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★

” شراب پیو گے “۔۔ سامنے بیٹھے آدمی نے کہا ۔۔

” میں یہ حرام کی چیزوں کو ہاتھ نہیں لگاتا “۔۔ ڈی اے نے بیزاری سے آس پاس کے ماحول کو دیکھتے ہوئے کہا جو صرف بے شرمی کا منظر ہی دکھا رہا تھا ۔۔

” ہاہاہاہا کافی اچھا مذاق کرتے ہو حرام کی چیزوں کو ہاتھ نہیں لگاتے پر حرام جگہ پر آتے ہو کمال ہو ویسے “۔۔ اس آدمی نے مکروہ قہقہہ لگایا ۔۔

” وہ کیا ہے نہ کسی کو تو یہاں کی گندگی صاف کرنی ہے تو میں ہی صحیح ویسے سنا تو ہوگا میرے بارے میں کبھی “۔۔ ڈی اے نے اس کی طرف توجہ دی اس آدمی کو اسکی سرخ آنکھوں نے کانپنے پر مجبور کردیا ۔۔۔

” کّک ۔۔ کیا ۔۔تت ۔۔تم ۔۔ڈڈ ۔۔ڈی ۔۔اے ۔۔ہو”۔۔ وہ آدمی ایک دم سے وہاں سے اٹھ کر بھاگا ۔۔

” چچ غلط جگہ بھاگا ہے “۔۔ ڈی اے نے افسوس سے سر ہلایا اسے دیکھ کر وہاں سے اٹھ کر باہر نکل آیا اور اپنی جیب سے فون نکال کر اس پر میسج پڑھا اور مسکراتے ہوئے اس کلب کو دیکھا ۔۔

” زید جعفری بہت جلدی تمہارا کھیل ختم ہوگا “۔۔ ڈی اے نے مسکراتے ہوئے لائٹر جلایا ایک نظر کلب کے دروازے پر ڈالی اور اچانک سے آگ پھیلتی چلی گئی لوگ چیختے آگے پیچھے بھاگنے لگے کچھ لوگوں کو آگ نے اپنی لپٹ میں لے لیا ایک قیامت کا منظر بن گیا آگ بہت تیزی سے پھیلتی ہوئی جا رہی تھی جیسے کسی نے بہت اچھے سے کام کیا ہو ڈی اے کے ہونٹوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ آئی اور گاڑی آگے بڑھا دی ۔۔

یہ تھی زید جعفری کی بربادی کیا اب زید جعفری خاموش رہے گا یا اب ہوگا ایک جنگ کا اعلان۔۔۔۔۔۔

★★★★★

” یہ کھڑکی کس نے کھول دی ہم نے تو بند کی تھی “۔۔ انعل کی واش روم سے باہر آتے ہی سامنے کھلی کھڑکی پر نظر پڑی اور یاد کرنے لگی اسنے تو بند کی تھی پھر ہی واش روم میں گئی تھی پھر بی جان کا سوچتے ہی آگے بڑھی تھی کے اچانک رک گئی ۔۔۔

” یہ یہ لائٹ کیسے چلی گئی بب ۔۔بی جان ۔۔بب ۔۔بابا “۔۔ اچنک اندھیرے سے وہ خوف کھاتی دروازے تک بھاگی کھڑکی سے چاند کی روشنی پورے روم میں ہلکی پھیلی ہوئی تھی انعل کو محسوس ہوا کوئی ہے اسکے روم میں ایک تو اندھیرا دوسرا کسی کی موجودگی کا خوف آتے ہی وہ دروازے تک گئی ۔۔

” آاہہہہ ۔۔ بب “۔۔ انعل نے جیسے ہی دروازے کے لاک پر ہاتھ رکھا کسی نے تیزی میں آکے اسکا بازو پکڑتے دروازے سے لگایا اسکے بھاری ہاتھ نے اسکی چیخ حلق میں دبا دی انعل کی خوف سے آنکھیں پھیل گئی سامنے اس ماسک مین کو دیکھ کر سر پر ہڈ تھی چہرہ ماسک سے چھپا صرف وہ سرخ گرے آنکھیں تھی جنہیں انعل پہچانتے خوف سے کانپ گئی دل زور زور دھڑکنے لگا ۔۔

” شش شور نہیں ایک بھی آواز نہیں نکلے تمہاری “۔۔ اسنے جھک کر اسکے کان میں سرگوشی میں کہا ۔۔

اسکی دشت بھری آواز میں خوف سے انعل روتے ہوئے نہ میں سر ہلایا ۔۔۔

تم داريان کے ساتھ باہر کیوں گئی تھی کیا تم بھول گئی تم نے مجھے وعدہ کیا تھا نکاح کا ۔۔ ڈی اے نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا جو فل سفید سوٹ میں کھلے بال آنکھوں میں بے تحاشا معصومیت سے اسکے سامنے تھی وہ بے حد دلکش لگ رہی تھی ڈی اے کو ہمیشہ سے اسکی خوبصورتی معصومیت پر غصہ نفرت بے انتہا آتا تھا ۔۔

” ہہ۔۔ ہم ۔۔ نن ۔۔نہیں گئے تھے ۔۔وو ۔۔وہ ۔۔خود ۔۔آ آئے تھے لینے ۔۔بب ۔۔بابا نے کہا ۔۔جج ۔۔جاؤ اور ہم نے کب کہا آپ سے نکاح کا “۔۔ انعل نے روتے ہوئے صفائی دی پھر حیرت سے اسکی گرے آنکھوں میں دیکھا ۔۔

” اسکے عشق میں تم اپنا وعدہ بھی بھول گئی لٹل گرل دوبارہ اگر تم مجھے اسکے ساتھ دیکھی تو میں تمہارا وہ حال کرونگا کہ یاد رکھو گی اب گھر سے باہر قدم اٹھایا تو ٹانگے توڑ دونگا “۔۔ ڈی اے جھک کر کان میں سرگوشی میں کہتا اسکے بالوں میں ایک گہرا سانس لیکے پیچھے ہوا انعل تو سانس روکے کھڑی اسکی دھمکیاں سن رہی تھی اور سوچ رہی تھی اسنے کب وعدہ کیا نکاح کا اس سے بلکے اسنے تو کہا تھا وہ داريان سے محبت کرتی ہے پھر اس سے کیسے نکاح کریگی ۔۔

” ہم ہم بب۔۔بابا کو بتائیں گے “۔۔ انعل نے گھبراتے ہوئے کہا ۔۔

” کیا بتاؤ گی بیوقوف لڑکی “۔۔ ڈی اے نے جھک کر دونوں ہاتھ دروازے پر رکھ دیئے وہ اسکی قید میں سانس روکے کھڑی رہ گئی ۔۔

” بتاؤ کیا بولو گی ۔۔۔”

” آ ۔آپ ہمیں ہمیں مم ۔۔مار نا چاہتے ہے نہ پپ ۔۔پر کیوں ہم نے تو کچھ نہیں کیا ہے “۔۔ انعل معصومیت سے روتے ہوئے کہا ۔۔

” شش ابھی نہیں رونا ہے یہ سب تو بعد کے لئے رکھو صحیح کہا میں تمہیں مارنا چاہتا ہوں پر ابھی نہیں بہت جلد تمہیں اور تمہارے باپ کو تڑپا کر ماروں گا جیسے اسنے تڑپایا تھا اسی طرح وہ بھی تڑپے گا اب بہت جلد آؤنگا “۔۔ڈی اے نفرت سے کہتا اسکے بازؤں پر زور ڈالتا اسے تکلیف دیتے جیسے سکون سا ملا تھا اسکی آنکھوں میں خون اتر آیا اسکے سامنے ایک معصوم سا عکس لہرایا ۔۔

” چچ۔۔ چھوڑوے ۔۔ہہ ۔۔ہمیں ۔۔دد ۔۔درد ہو رہا ہے “۔۔ انعل ہچکیوں سے رو رہی تھی اس ظالم اسکی گرفت بہت مضبوط تھی اس نازک پری پر ۔۔

” شش کہا نہ رونا نہیں ابھی تو یہ درد بہت کم ہے میری جان بلکے یہ تو درد ہی نہیں درد تو وہ ہوگا جو بہت جلد تمہیں ملے گا اور تمہیں اتنی جلدی کیسے مار دوں ابھی تو شروعات ہے پھر ملیں گے انعل حیات “۔۔ وہ ایک نظر اسکے آنسوں بھرے چہرے پر ڈالتا اسکے بازوں پر زور دیتا پیچھے ہوا اور کھڑکی سے کود گیا ۔۔

” باباااا باباااا “۔۔ انعل روتی چیختی ہوئے نیچے بھاگی ۔۔

” ان میرا بچہ کیا ہوا “۔۔حیات صاحب اس کی چیخ سنتے روم سے بھاگتے ہوئے آئے بی جان بھی کچن سے باہر آئی وہ تینوں ہی گھر پر تھے بیراج اسکا باپ کسی میٹنگ سے باہر گئے ہوئے تھے ۔۔

“بب ۔۔بابا ۔۔بابا “۔۔ انعل حیات صاحب کے بازوں میں ہی جھول گئی بی جان حیات صاحب دونوں گھبرا گئے اسکے اس طرح چیخنے رونے بےہوش ہونے پر ۔۔

” انعل میرا بچہ کیا ہوا بھائی صاحب جلدی ڈاکٹر کو کال کریں پتا نہیں کیا ہوا میری بچی کو اللّه رحم فرما “۔۔ بی جان نے انعل کے بے ہوش وجود کو دیکھتے ہی رو پڑی حیات صاحب اسے اٹھاۓ اوپر روم میں لیکے گئے ۔۔

★★★★

” نہیں نہیں نہیں یہ نہیں ہو سکتا یہ نہیں ہو سکتا “۔۔ زید جعفری غصے میں پاگل ہوتا ہر چیز توڑ پھوڑ کر رہا تھا جب سے اسے خبر ملی تھی اسکے کلپ پر کسی نے آگ لگا دی ہے اسکا کروڑوں کا نقصان ہوا تھا ۔۔

” کہاں تھے تم سب کمینے بولو کہاں مرے پڑے تھے میرا کروڑوں کا نقصان ہو گیا جانتے ہو تم سب کتنا نقصان ہوا ہے میرا بولو “۔۔ وہ بے انتہا غصے میں تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے ۔۔

” یہ سب اس ڈی اے نے کیا ہوگا تم جانتے ہوں وہی ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اسکو ہی مسئلہ ہوتا ہے ہمارے ہر کام سے “۔۔ ظفر نے خوں خوار نظروں سے زید کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔

” ٹھااا ۔۔ زید یہ کیا کر رہے ہو “۔۔ ظفر نے آگے بڑھتے اسکے ہاتھ سے گن لی جو اپنے ہی ساتھیوں کا نشانہ لے رہا تھا وہ گارڈ خون سے لپٹے نیچے پڑے ہوئے تھے جن کو اپنے مالک سے وفاداری کے بعد یہ بدلہ ملا تھا ایسے بے رحم لوگوں کے پاس دل ہی کہاں ہوتا تھا ۔۔

” میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا ڈی اے ایسی تکلیف دونگا ساری زندگی یاد رکھو گے بہت کر چکے تم میرا نقصان اب میری باری “۔۔ زید جعفری نے دانت پیستے ہوئے کہا جیسے ان دانتوں میں ڈی اے کو چبا رہا ہو ۔۔

” مجھے اسکی پل پل کی رپورٹ چاہئیے اسکی کوئی کمزوری ڈھونڈو “۔۔ زید سرخ نظروں سے ظفر کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔

★★★★★

” چلو آؤ اپنے گھر چلو “۔۔حنان اسکے سائیڈ کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا ایک پل کو وہ اسکے خوبصورت سجے روپ میں کھو گیا زافا نے اسکی نظروں سے سرخ ہوتے دھڑکتے دل سے غصے میں کہا ۔۔

” اپن کو تیرے ساتھ کہیں نہیں جانا تم نے اپن کو دھوکہ دیا ہے اپن واپس اپنے گھر جائے گی “۔۔زافا غصے میں بولتی گاڑی سے باہر نکلی ۔۔

” یہ دھوکہ نہیں تھا میری جان زافی یہ محبت تھی میری جو تمہیں اپنا بنا کر پوری کردی “۔۔ حنان نے پیار سے اسکا ہاتھ پکڑا ۔۔

” نشہ تو نہیں کیا ہوا نہ اتنی جلدی تم کو اپن سے محبت بھی ہوگئی لیکن اپن کو یہ محبت پیار ویار پسند نہیں اب چھوڑ اپن کو گھر جانا ہے میری ماں اکیلی ہے وہ کیسے رہے گی “۔۔ غصے میں کہتی اپنا ہاتھ چھڑوا کر آگے بڑھی تھی کے حنان نے تیزی سے آگے بڑھ کر اسے گود میں اٹھایا ۔۔

” اندر چل کر سکون سے لڑتے ہیں “۔۔ حنان محبت سے کہتا اندر بڑھ گیا زافا تو شرم سے سرخ پڑ گئی ۔۔

” چھوڑو نیچے اتارو اپن تیری جان لیلے گی “۔۔

” اب تو یہ جان تمہاری ہی جب چاہے لیلو پر اتنی جلدی کیا ہے “۔۔ حنان سیدھا اسے روم میں لے آیا گھر میں کافی خاموشی تھی شاید کوئی نہیں تھا صرف گارڈ تھے جو اپنے کائونٹر پر تھے ڈی اے گھر پر نہیں تھا حنان نے سوچتے ہی سکون سے سانس لی ابھی اسے صرف اپنی جنگلی بلی کو سنبھالنا تھا ۔۔

” یہ دیکھوں مسز حنان ہماری خوبصورت سی جنت “۔۔حنان نے اسے نیچے اتر کر پورا سجا ہوا روم دکھایا جو خوبصورت سے گلابی لال پھولوں سے سجا ہوا تھا روم میں تازی گلاب کی خوشبوں پھیلی ہوئی تھی زافا تو منہ کھلے اتنے بڑے خوبصورت سے سجے روم کو دیکھنے میں گم تھی ہوش تو تب آیا جب پیچھے سے حنان نے اسے اپنے حصار میں لیا ۔۔

” کیسا لگا “۔۔حنان نے سرگوشی میں کہا ۔۔

” بہت پیارا ہے کیا یہ میرا کمرہ ہے یہ پورا گھر میرا ہے “۔۔زافا نے ایک دم سے خوشی سے چیخ کر کہا اسنے تو کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا اسکے پاس اتنا بڑا گھر ہوگا اور آج اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا ۔۔

” ہاں یہ سب ہمارا ہے اب تو خوش ہو نہ “۔۔ حنان نے اسے اپنے سامنے کرتے ہوئے کہا ۔۔

نہیں اپن ابی خوش نہیں میری ماں وہاں اکیلی ہے اور اپن اتنے بڑے گھر میں تو میں اسے بھی ساتھ لے آؤنگی پھر ہی یہی رہوں گی ورنہ اپن جا رہا ہے ۔۔ زافا نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھتے ہوئے کہا ۔۔

” نہیں ہے وہ اکیلی میں نے انکا انتظام کردیا ہے انہیں اچھی جگہ بھیجوا دیا ہے وہ اب وہاں سکون سے رہیں گی اچھا کھاۓ گی پیئے گی پہنے گی بس اب تم میرے ساتھ خوش رہو اور مجھے خوش رکھو “۔۔ حنان نے اسے قریب کرتے ہوئے کہا زافا کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا حنان کی باتیں اسکا محبت بھرا انداز اسے اپنے سحر میں لے رہا تھا ۔۔

” اہہہہ ظالم مارا کیوں “۔۔ حنان نے اسے قریب کیا تھا کے اچانک اسکے پیٹ پر زور سے ٹانگ ماردی زافا نے وہ دور ہوتے ہی کراہا ۔۔

” یہ تو کچھ نہیں ابھی تو اپن تیرے سے بدلے لے گی دھوکے سے شادی کی ہے اتنی جلدی اپن بھی نہیں بھولنے والی “۔۔ زافا نے گھورتے ہوئے کہا اور واش روم میں بند ہوگئی ۔۔

” کوئی مجھے خوش ہونے ہی نہیں دیتا کدھر جاؤ معصوم سا بندا ہوں اللّه تعالی کا احساس ہی نہیں کسی کو میرا “۔۔ حنان خود پر افسوس کرتے ہوئے واش روم کے بند دروازے کو گھورا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *