Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafrat e Ishq (Episode 01)

Nafrat e Ishq by Mahra Shah

” السلام علیکم بی جان “۔۔اس نے نیچے آتے ہوئے بی جان کو گلے لگا کر سلام کیا ۔۔

” وعلیکم السلام میرا بچہ اٹھ گیا ناشتہ لگا دوں ” ۔۔بی جان اسے پیار کرتی ہوئی بولیں۔۔۔

” بابا کہاں ہیں اور ہم بابا کے ہاتھ سے ناشتہ کریں گے “۔۔۔وہ اپنے بابا کے روم کی طرف گئی ۔۔

” بابا ناشتہ کروائیں بہت بھوک لگی ہے “۔۔۔وہ اندر آتی معصومیت سے بولی ۔۔حیات صاحب کو اپنے بیٹی پر بہت پیار آیا ۔۔ایک ہی تو بیٹی تھی انکی جو اب انکی پوری دنیا تھی ۔۔

” اس لئے کہتے ہیں ہم آپ کھانا کھانے میں نخرے نہ کریں اتنی سی میری جان دیکھے خود کو کتنی کمزور ہوگئی ہیں میری بیٹی ” ۔۔۔وہ خفگی سے بولے کیوں کے وہ کھانے میں بہت نخرے کرتی تھی اور کھاتی بھی نہیں تھی اتنا وہ کبھی کبھی بہت پریشان ہو جاتے تھے اپنی بیٹی کی اس عادت سے بہت ناز و نخروں سے پالا تھا انہوں نے وہ بدلے ہوئے موسم سے بھی کبھی بیمار پڑھ جاتی تھی کبھی تو بی جان بھی کہتی تھی اتنے لاڈ مت کرو کے کبھی اسکے لئے مشکل ہو جائے ۔۔۔اب یہ تو وقت بتاۓ گا اسکے نصیب میں کیا لکھا ہے ۔۔۔

” افف بابا ہم سے نہیں کھایا جاتا اتنا اور بس ایک دن نہیں کھاتے پر دوسرے دن کھاتے ہیں نہ ” ۔۔۔وہ باپ کے گلے لگ کر لاڈ سے کہہ رہی تھی ۔۔۔

” ایسے نہیں کرتے نہ میری جان پھر آپکی طبیت بھی خراب ہو جاتی ہے نہ “۔۔۔وہ اسے اپنے ساتھ لیکے نیچے آگئے ۔۔

” انعل بیٹا آپ اب خود کھانا بھی سیکھ لیں آپ بڑی ہوگئی ہیں اب “۔۔۔بی جان نے سمجھاتے ہوئے کہا ۔۔

” ہاہاہا بی جان ابھی تو میری جان بہت چھوٹی ہے سیکھ لے گی “۔۔حیات صاحب ہنس کر بولے ۔۔

ہمیں نہیں آتا اور نہ ہی سیکھنا ہیں آپ بابا ہیں نہ میرے لئے بس ہمیں آپ لوگوں کے ہاتھ سے کھانا ہے ۔۔۔انعل منہ بنا کر بولی ۔۔اسے کھانا نہیں آتا تھا بچپن سے حیات صاحب یا بی جان نے ہی ہمیشہ اسے کھلایا تھا اسنے کبھی اپنے ہاتھ سے نہیں کھایا اور اب تو اسے بلکل بھی کھانا نہیں آتا تھا اپنے ہاتھ سے اسکول کالج میں بھی وہ نہیں کھاتی تھی یا کبھی اسکی دوست اسے کھلا دیتی تھی ۔۔بی جان کو اسکی اس عادت سے ڈر لگتا تھا کل کو وہ دوسرے گھر جاکے کیا کرے گی ۔۔۔

” یہ تھی انعل حیات ۔۔ایک ہی لاڈلی بیٹی حیات صاحب کی انعل کے پیدا ہوتے ہی حیات صاحب لنڈن چلے گئے تھے انہوں نے بی جان کو تب سے رکھ لیا تھا ان دونوں کی جان تھی انعل میں ۔۔۔ انعل اٹھارہ سال کی تھی معصوم سی لڑکی تھی ۔۔۔

کمر سے تھوڑے اوپر گھنے سلکی بال گلابی ہونٹ دودھیا رنگت چھوٹی سی ناک کالی آنکھی لمبی گھنی پلکیں وہ ایک خوبصورت حسین لڑکی تھی۔۔۔

★★★★★★★★★★★★

” یار تم ایسے کپڑے کیوں پہن کر آئی ہو ۔۔۔دیا اسکے کپڑے دیکھ کے ناگواری سے بولی ۔۔

” کیوں اس میں کیا برائی ہے اور یہ میرا کلچر ہے تو میں یہی کپڑے پہنوں گی “۔۔انعل نے فاخرہ سے کہا

شارٹ فراک وائٹ کلر کا کیپری پاجامہ ریڈ دوپٹہ دونوں ہاتھ میں لال چوڑیاں کھلے سلكی بال کمر تک وہ آج بےحد حسین لگ رہی تھی ۔۔

وہ اور اسکی کچھ دوست ریسٹورنٹ میں کھانا کھا رہی تھی اسکی دوستوں کو پسند نہیں ہوتے تھے اسکے کپڑے کیوں کے وہ یہاں لنڈن میں رہ کر بھی وہ ایسے کپڑے پہنتی تھی جو اسکی دوستوں کو نہیں پسند تھے اور وہ سب جینس شرٹ پہنتے تھے ایسا نہیں تھا کے انعل جینس شرٹ نہیں پہنتی تھی اگر وہ پہنتی تھی تو وہ لمبا کوٹ پہن کر نکلتی تھی پر اسے یہ کپڑے بہت پسند تھے شارٹ شرٹ کیپری پہننا اور اپنے ہاتھوں میں بھر بھر کے رنگوں والی چوڑیاں وہ ہمیشہ پاکستان سے اپنے بابا سے بول کر یہی منگواتی تھی ۔۔۔

” تم لوگ انجوائے کرو ہم واک کرنے جا رہے ہیں “۔۔وہ انگلش میں بول کر آگے بڑھ گئی ویسے بھی وہ انکے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہیں کھا سکتی تھی اسے عادت نہیں تھی خود کے ہاتھوں سے کھانے کی اسے ہمیشہ بی جان یا بابا کھلاتے تھے اور اگر کبھی دوستوں کے ساتھ باہر نکل آتی تو انکے ساتھ نہیں کھاتی تھی ۔۔

★★★★★★

” اااآہہہہ ” ۔۔بچاؤ بچاؤ کوئی ہے ہمارے پیچھے کتا ہیں ہم مر گئیں یہ جا نہیں رہا یہ تو اور پاس آرہا ہے بابااا۔۔۔۔انعل بھاگتی ہوئی مسلسل بول رہی تھی وہ بھاگتے ہوئے پیچھے ہی دیکھے جا رہی تھی کے۔۔۔

” آاآہہہ “۔۔ اچانک سامنے کسی سے زور دار ٹکرا ہوئی اور انعل بیچاری نیچے گر گئی۔۔

” اللّه ہمارا سر پھٹ گیا بابااا ” ۔۔۔انعل سر پکڑ کر نیچے ہے بیٹھ کے چلا رہی تھی سامنے والا واقعی کوئی پتھر تھا وہ نازک سے جان کہاں سے برداشت کر پاتی ۔۔۔۔

” بھواا بھواا “۔۔۔کتا قریب آکے چلا رہا تھا اسکو بھی جسی انعل سے بہت پرانا بدلہ لینا ہو ابھی تک اسکو دیکھ کے چلا رہا تھا ۔۔

” اللّه بابا پھر آگیا بچاؤ “۔۔انعل جلدی سے کھڑی ہوکے سامنے شخص کے پیچھے چپ گئی اسکی ہوڈی کو مضبوطی سے پکڑ لیا ۔۔

“سنو اسکو بھگا آؤ جلدی سے کب سے ہمارے پیچھے آرہا تھا اب تو یہ بھی تھک گیا ہے اور ہم بھی پر یہ مانے گا نہیں تم مطلب آپ بولو نہ اسکو جائے یہاں سے آپ نے مجھے ابھی گرا بھی دیا تھا اس کے بدلے یہ کام کردے ” ۔۔۔انعل معصوم بچوں کی طرح اسکو بولے جا رہی تھی جو خاموش کھڑا اسکو سن اور سامنے کتے کو گھور رہا تھا ۔۔

” آپ خاموش تماشائی کیوں بنے ہوئے ہیں اسکو بھگائیں نہ یا اللّه آپ گونگے ہے کیا “۔۔انعل اسکی خاموش سے چڑ گئی پھر سر پے ہاتھ مار کے بولی ۔۔۔کتا وہی کھڑا بھوک رہا تھا اور انعل اسکے پیچھے سے سر نکال کر بول رہی تھی ۔۔وہ اب اسکی طرف گھما ۔۔انعل دو قدم پیچھے ہوئی انعل نے اب غور کیا تھا اسکے چہرے پر ماسک تھا اسکی صرف آنکھیں دیکھ رہی تھی جو بہت خوبصورت تھی گرے کلر کی ان آنکھوں میں وحشت تھی وہ لال آنکھوں سے اس خوبصورت نازک حسینہ کو دیکھ رہا تھا انعل کا دل اب زور سے دھڑک رہا تھا اسے اب سامنے کھڑے شخص سے ڈر لگ رہا تھا وہ لوگ خالی سڑک پے تھے جہاں کوئی نہیں تھا ۔۔

” ہہ۔۔ہم یہاں نہیں آئے وو۔۔وہ کتا لیکے آیا تھا سچی ہہ ہم جھوٹ نہیں بولتے ۔۔۔انعل ڈر کو چھپاتے ہوئے بولی ۔۔۔

وہ ایک قدم آگے آیا انعل نے زور سے آنکھیں بند کرلی اور وہ اسکے سائیڈ سے نکل کے آگے بڑھ گیا انعل نے جب محسوس کیا یہاں کوئی نہیں تو ایک آنکھ کھول کے دیکھ پھر پوری طرح کھل کے دیکھا تو آگے پیچھے کوئی نہیں تھا اسکی اب ڈر سے جان نکل رہی تھی ۔۔

” تت۔۔تو۔۔کک۔۔کیا وو۔۔وہ۔۔بب۔۔بھوت۔۔تھا۔۔یا۔۔اللّه ۔۔نہیں بھاگو ۔۔۔انعل خود سے بول کے بھاگی کتہ تو کب کا جا چکا تھا اور وہ دور کھڑا اسکو بھاگتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔۔

★★★★★★

” تمہے لگتا ہے یہ سب کرنے سے وہ تمہارے قریب آ جاۓ گی ۔۔”وہ سنجیدگی سے بولا ۔۔

” اتنی جلدی نہیں ابھی تو شروعات ہے بہت جلدی وہ میرے پاس ہوگی پھر اسے پتا چلے گا درد کیا ہوتا ہے “۔۔وہ نفرت سے بولا۔۔۔

” ایسی بھی نفرت نہ کرو کے عشق ہو جاۓ یا پھر بہت کچھ برباد ہو جاۓ ۔۔۔وہ اسکی آنکھوں میں نفرت دیکھ کر بولا ۔۔اسکا جنون اسکی نفرت کبھی اسے بھی ڈرا دیتی تھی اب یہ تو وقت ہی بتاۓ گا کے نفرت عشق ہوگا یا ایک ایسی نفرت جو سب برباد کردے گی ۔۔

★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★

” کیا ہوا میرے بچے کو نیند نہیں آرہی۔۔۔” بی جان نے اسکے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔۔

” بی جان آپکو پتا ہے کل ایک کتا میرے پیچھے پڑ گیا تھا اور “۔۔۔۔ یا اللّه میری جان آپ ٹھیک ہے نہ ۔۔”اسکی بات بیچ میں کاٹتے بی جان پریشانی سے اسکے ہاتھ پاؤں دیکھ رہی تھی انعل کو ان پر بہت پیار آیا وہ ان دونوں کی جان تھی ۔۔

” اففف بی جان پہلے پوری بات سن لیا کریں نہ اور ہم بلکل ٹھیک ہے دیکھ لیں “۔۔۔انعل نے کھڑی ہو کر انھیں ٹھیک ہونے کا یقین دلایا ۔۔

” آپ نے میری جان نکال دی ۔۔”بی جان نے اسے گلے لگایا ۔۔

” اچھا نہ اب آگے سنیں کیا ہوا ۔۔۔” پھر پورا قصہ بی جان کو سنایا ۔۔

” میری جان ایسے کسی کے پاس نہیں جاتے اللّه نہ کرے اگر وہ کوئی برا آدمی ہوتا آپ سمجھ رہی ہیں نہ “۔۔۔بی جان نے سمجھاتے ہوئے کہا ۔۔

” افف بی جان وہ برے نہیں تھے پتا ہے انکی آنکھیں بہت خوبصورت تھی پر وہ سرخ بہت تھی شاید سوئے نہیں ہونگے “۔۔۔انعل اپنے ہی اندازے لگا رہی تھی ۔۔

بی جان اسکی باتیں سن کر بہت ڈر گئی تھی انکو انعل کے نصیب سے بہت ڈر لگا رہتا تھا وہ جانتی تھی وہ بہت معصوم ہے اسکو دنیا کی اتنی خبر نہیں ہے ۔۔۔

____________

” تم نے آج پھر چوری کی کتنی بار سمجھایا ہے یہ کام چھوڑ کیوں نہیں دیتی کیوں مجھے بد نام کرنا چاہتی ہو۔۔۔ماں غصے میں بول رہی تھی اپنی ڈھیٹ بیٹی کو ۔۔

” اماں بد نام نہ ہونگے تو کیا کوئی نام نہ ہوگا ۔۔اماااا “ابھی وہ کچھ اور کہتی اسکی ماں کی چپل سیدھا آکے اسے لگی ۔۔۔

” نکل جا یہاں سے کاش تو پیدا ہی نہ ہوتی پتا نہیں کن لوفر لوگوں کے ساتھ گھومتی ہے “۔۔۔اسکی ماں سر پکڑ کر بیٹھ گئی ۔۔

” دیکھ اماں غصہ چھوڑ اور یے پیسے لے کچھ اچھا بنا بہت بھوک لگی ہے “۔۔۔ اس نے وہ پیسے آگے بڑھ کر دینے چاہے۔۔۔

” دیکھ اماں میں چوری کوئی شوک سے نہیں کرتی مجبوری میں کرتی ہوں یہ سب کام تو جانتی ہے ہمارے پاس کوئی نہیں ہے کمانے والا نہ ابا نہ بھائی پھر ایک تو اور میں کیا کریں گیں اور نہ میں جوئی پڑھی لکھی ہوں جو کوئی بھی نوکری دیگا “۔۔۔ اس نے ماں کے پاس بیٹھ کر دکھ سے کہا ۔۔

دیکھ زافا میں کوئی کام دیکھ رہی ہوں نہ مل جاۓ گا پر اس طرح تو چوری کرتی رہے گئی تو کیا ہم امیر بن جائیں گے یاد رکھ ایک دن چور کا بھی آتا ہے سزا کا ۔۔۔اماں بول کر اندر چلی گئی ۔۔ یہ ایک چھوٹا سا ایک کمرے کا مکان تھا جس میں صرف دو لوگ رہتے تھے ماں بیٹی ۔۔

اتنی سزا کافی نہیں ہے کیا جو کھانے کو بھی کچھ نہیں ایک دن بھوکا سونا پڑتا ہے یہ میں تھوڑی بہت چوری کر کے آتی ہوں نہ اسی سے گھر چلتا ہے ہمارا اور تو روز کسی نہ کسی گھر جاتی ہے کام مانگنے اور کیا ملتا ہے جواب انکے پاس پہلے ہی بہت ملازم ہے اور کی ضرورت نہیں ۔۔۔زافا غصے میں بول کر گھر سے نکل گئی ۔۔۔

زافا بیس سال کی خوبصورت نین نکش والی لڑکی تھی بال کمر سے اوپر تھے قد میں وہ لمبی تھی جسے وہ اپنی عمر سے بڑی لگتی تھی ۔۔

________

” حنان پاکستان کی ٹکٹ بک کرواؤ ہم کل جا رہے ہیں ۔۔۔” وہ لیپ ٹپ پر تیزی سے انگلیاں چلا رہا تھا ۔۔

” پاکستان میں نے غلط تو نہیں سنا “۔۔۔ حنان نے حیرت سے کہا پھر اسکی سرخ آنکھوں میں دیکھا اور چپ ہو گیا ۔۔

” وہ لوگ بھی پاکستان جا رہے ہیں کل۔۔” حنان کہہ کر نکل گیا روم سے ۔۔

” انعل حیات بہت رہ لیا سکون سے اب تمہاری زندگی کا فیصلہ میں کرونگا ۔۔”وہ گھمبیر بھاری آواز میں بولا اسکے ہاتھ میں فون تھا جس پر انعل کی مسکراتی ہوئی تصویر تھی اور اسکی لال ہوتی آنکھوں اس پر ۔۔

★★★★★

” بابا ہم پاکستان کب جائیں گے ۔۔” دونوں صوفہ پر بیٹھے ہوئے تھے انعل کا سر انکے سینے پر تھا وہ لاڈ میں کہہ رہی تھی ۔۔

” میرا بچا اداس رہتا ہے اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے اب ہم پاکستان میں رہیں گیں میں نے اپنا سارا بزنس وہی سیٹ کردیا ہے “۔۔۔۔ کیا سچ میں بابا آپ نے کب کیا یہ سب اور ہمیں بتایا نہیں کیوں ۔۔۔انعل خوشی سے چلا اٹھی ۔۔۔

” میری جان یہاں بہت اداس تھی اس لئے بابا نے سوچا اپنی جان کی خوشی کے لئے ہم پاکستان جائیں گیں جہاں میرا بچا خوش وہاں بابا خوش ۔۔” حیات صاحب نے پیار سے اسے واپس اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا ۔۔

” بابا ہمیں پاکستان بہت اچھا لگتا ہے یہاں مزہ نہیں آتا اور ہم یہاں اپنے کلچر کے کپڑے پہنتے ہے اس پر بھی ہنستے ہیں ہمیں اچھا نہیں لگتا ہمین پاکستان میں دوست بنانی چاہیے اب ۔۔”انعل معصوم بچوں کی طرح بول رہی تھی اسکے پھولے ہوئے گال اسے اور بھی پیارے بنا رہے تھے حیات صاحب نے دل ہی دل میں اسکی نظر اتاری ۔۔۔

★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★

Welcome to Pakistan princess Anal Hayat ۔۔۔

حمدان صاحب نے انعل کو پیار سے گلے لگاتے ہوئے کہا ۔۔

” بڑے پاپا ہم نے آپکو بہت مس کیا یو نو واٹ ہم یہاں آپکے لئے ہی آئیں ہیں۔۔ انعل خوشی سے اپنے آنے کا بتا رہی تھی ۔۔

ہم جانتے ہیں ہمارا بچا صرف اپنے بڑے پاپا کے لئے آئیں ہیں اب گھر چلے اور بی جان آپ کیسی ہے ۔۔ سب لوگ ایئر پورٹ پر تھے اب گھر کے لئے نکل رہے تھے حمدانی صاحب حیات صاحب کے بڑے بھائی تھے ۔۔

” بیراج بھائی نہیں آئے ہمیں لینے ۔۔انعل نے ناراضگی سے کہا ۔۔

انکی آپ گھر چل کر خبر لینا ہم بھی ساتھ ہیں آپکے اوکے ۔۔ بڑے پاپا نے اسکی ناراضگی ختم کرنی چاہی ۔۔

★★★★★★★★★

Wellcome to Pakistan D.A

اسکے پارٹنر اسے لینے آئے تھے وہ ایک نظر حنان کو گھورتا ہوا آگے بڑھ گیا ۔۔

” تم لوگ کیوں آئے ہو اور کس نے بتایا ڈی اے پاکستان آرہا ہے “۔۔ حنان نے غصے میں کہا ۔۔

” ڈی اے پاکستان آئے اور کسی کو پتا بھی نہ چلے ایسا ہو سکتا ہے “۔۔ ظفر طنز یہ بولا ۔۔

” گھر چل کر بریانی کھانی ہے کیا اب دفع ہو جاؤ یہاں سے ورنہ D.A تیری بریانی بنا دے گا “۔۔ حنان طنز کرتا ہوا آگے بڑھ گیا ۔۔

” ہے رک واٹ دا ہیل “۔۔۔ حنان فون پر نمبر ملا کر آگے جا رہا تھا کہ کسی نے اسکے ہاتھ سے فون چھینا اور آگے بڑھ گیا حنان بھی چلاتا ہوا اسکے پیچھے بھاگا ۔۔

اسکی بیک سے لگ رہا تھا وہ کوئی لڑکی ہے لیکن کپڑے اسنے لڑکوں والے پہنے ہوئے تھے سر پر ہڈی تھی ۔۔

” پاکستان آتے ہی یے ویلکم ہوا ہے میرا اس چور کو تو میں نہیں چھوڑونگا بد نام کر رکھا ہے ملک کو “۔۔ حنان غصہ سے سرخ ہوتا اسکی طرح بھاگا دونو ہی آگے پیچھے تھے وہ ایک گلی میں چلی گئی حنان بھی اسکے پیچھے ہی بھاگا حنان نے اسکے قریب پہنچ کر ایک سیکنڈ میں اسکا بازو پکڑ کر اپنے سامنے کیا ۔۔

” آہہہ ۔۔وہ چیختی ہوئی سیدھا اسکے چوڑے سینے سے لگی ۔۔

” کمینے چور میرا فون ہی ملا تجھے ایک تو پہلے سے تھکا ہوا ہوں اوپر سے تم نے بھگا کر تھکا دیا “۔۔ حنان اسکے ہاتھ سے اپنا فون لیتے ہوئے کہا پھر اسکے چہرے پر نظر گئی تو وہ ایک پل کے لئے دیکھتا ساکت رہ گیا وہ تو لڑکی تھی اسکا سرخ چہرہ وہ گہرے گہرے سانس لے رہی تھی ۔۔

” کمینے کس کو بولا ہے اپن تیرا منہ توڑ دیگا کمینہ ہوگا تو تیرا پورا خاندان تیری ۔۔”

” ہیلو مس چورنی میرے خاندان کو کیوں گالیاں دے رہی ہو اور شرم نہیں آتی عورت ہو کر چوری کرتی ہو “۔۔۔ حنان کو تو اسکی باتیں سن کر ہی دماغ گھوم گیا اسکے منہ سے گالیاں اپنے اور خاندان والوں کے لئے سن کر اسے بیچ میں بولا غصے سے اسکے دونوں بازو پکڑ کر دیوار کے ساتھ پن کیا ۔۔

زافا کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا اسنے غلط آدمی پر ہاتھ صاف کیا ہے وہ لمبا چوڑا اسکے سامنے کھڑا سرخ آنکھوں سے اسکو گھور رہا تھا اسکے مردانہ ہاتھ اسکے بازو پر سخت گرفت مضبوط بنائے ہوئے تھے ۔۔پر وہ بھی زافا تھی کسی سے نہ ڈرنے والی ڈر تو اسے لگا پر خود کو سنبھالتی ہوئی اسکے سامنے کھڑی تھی ۔۔

” عورت کس کو بولا رے اور اپن چور ضرور ہے پر میں صرف پیسے چوری کرتی ہوں یہ فون اپن چوری نہیں کرتی وہ تیرے کو سائیڈ پر کرنا تھا یہ جو تو اپنی محبوبہ سے چپکا ہوا تھا نہ سامنے ایک بوڑھی عورت گاڑی چلا کے آرہی تھی اور اگر تو اڑ جاتا تو بیچاری اس عورت کو جیل جانا پڑتا جس نے کل ہی گاڑی چلانی سیکھی ہے ایک تو ان انگریزوں نے اپنا بوجج یہاں بھیج دیا ہے “۔۔ زافا نے غصے سے چلا کر کہا ۔۔

” تم نے مجھے سائیڈ پر کرنا ہوتا تو آواز دیتی یا پھر میرا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کرتی فون کیوں چھینا ۔۔” حنان نے اپنی سرخ آنکھوں سے اسکو گھورا ۔۔

” اپن کو یہ سزا اچھی لگی تو اپن نے دے دی اب چھوڑ میرے کو “۔۔زافا نے غصے میں کہا اور اپنا بازو چھڑوایا ۔۔

” تم واقع ایک چور ہو ۔۔” حنان کو یقین نہیں آیا۔۔۔

” نہیں اپن پرائم منسٹر ہے بول کیا کرے گا پاگل کمینہ ۔۔” زافا غصے میں بول کر آگے بڑھ گئی ۔۔

حنان حیران سے اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا کیا تھی یہ لڑکی اتنی بد تمیز اور بات کرنے کی تمیز تک نہیں تھی اس میں وہ کھڑا اسے سوچ رہا تھا جب اسکا فون بجا تو وہ ہوش میں آتا گہری سانس لیکے آگے بڑھ گیا ۔۔

★★★★★★★

سفید شلوار قمیض پر جیل سے سیٹ بال شہد رنگ آنکھیں ،سفید رنگت وہ خوبصورت نوجوان مرد اسکے سامنے کھڑا اسے منا رہا تھا ۔۔

” اچھا نا اب سوری بول رہے ہیں نہ ہم ۔۔وہ معصومیت سے بولا ۔۔

” ہمیں نہیں کرنی بات آپ ہم سے ملنے لندن بھی نہیں آئے اور آج ایئر پورٹ پر بھی نہیں آئے لینے ہم ناراض ہیں “۔۔ انعل ناراضگی سے منہ دوسری طرف کر لیا ۔۔

” اچھا پھر اسکی کیا سزا ملے گی بیراج شیرازی کو بتا دیجیۓ ۔۔”

” آپ مجھے آئس کریم کھلانے لیکے جائیں گے اور پاکستان گھوما آئیں گے اوکے پھر معافی ملے گی ۔۔” انعل نے سوچ کر کہا ۔۔

” اوکے یہ ویک میری پرنسیس انعل حیات کے نام اب خوش “۔۔ بیراج اسکی نارضگی ختم کرتے ہوئے کہا وہ خوشی سے ثابت میں سر ہلا یا ۔۔

” ایک ضروری کال ہے اٹھاؤں “۔۔ اوکے ۔۔بیراج انعل سے پوچھتا ہوا سائیڈ پر آگیا ۔۔

” ہان شان میں ون ویک بعد آؤ گا چاچو والے آئے ہیں تو یہ ویک انعل کو دیا ہے اس لئے تم انٹرویو لیلو مجھے تم پر یقین ہے “۔۔ بیراج فون پر شان کو سمجھاتے ہوئے کہا ۔۔

” بیراج بھائی آپ کہے نہ بابا سے آپ سب صرف آفس کی باتیں کرتے ہیں اب یہ ون ویک کوئی کام کی باتیں نہیں ہوگی اوکے “۔۔۔ انعل ناراضگی سے سب کو سمجھا تے ہوئے کہا ۔۔

” اوکے میڈم اب کوئی آفس کی بات نہیں کرے گا چلو کھانا لگ گیا ہوگا ویسے انعل کیا آپکو ابھی تک کھانا خود کھانا نہیں آتا “۔۔ بیراج اسے بی جان کے ہاتھوں سے کھانا کھاتے ہوئے دیکھ کر پوچھا ۔۔

” نہیں ہوتا ہم سے اور بی جان ہے نہ ہمیں کھلا نے کے لئے ۔۔” انعل لاڈ سے بی جان کے گلے لگا کر کہا سب اسکے بات پر ہنس دیے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *