Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafrat e Ishq (Episode 10)

Nafrat e Ishq by Mahra Shah

” سوری آپکو میری وجہ سے تکلیف ہوئی آپ کل سے یہاں ہے آپ پلیز گھر جاکے آرام کرلیں ۔۔” دافیہ نے بیراج سے کہا دادا کا آپریشن خیر سے ہو گیا تھا انھیں روم میں شفٹ کردیا تھا سب بیراج نے اچھے سے کرلیا تھا دافیہ بیراج کی بہت شکر گزار تھی وہ اسکی تھکن کا احساس کرتے ہوئے اسے گھر جانے کا بولی تھی ۔۔

” اوکے میں فریش ہو کر آتا ہوں تم اپنا اور دادا کا خیال رکھنا ۔۔” بیراج نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا ۔۔

” دافیہ کیسی ہو تمہارے دادا کی طبیعت کیسی ہے اب اتنا سب کچھ ہو گیا تم لوگوں نے مجھے کل کیوں نہیں بتایا ۔۔” شان آتے ہی شروع ہو گیا تھا ۔۔

” میں ٹھیک ہوں دادا کو ابھی تک ہوش نہیں آیا ہے دعا کریں وہ ٹھیک ہو جائے ۔۔” دافیہ اداسی سے کہا ۔۔

” میں چلتا ہوں اگر کسی بھی چیز کی ضرورت ہو کال کرنا ۔۔

تم آرام سے جاؤ میں ہوں اب یہاں میں ہوں جو بھی کام ہوگا مجھے بول دینا دافیہ ۔۔” شان نے بولنے پر بیراج کو غصے آیا جسے وہ ضبط کرتا ایک نظر دافیہ کو دیکھتا غصے اور جلن میں وہاں سے نکل گیا پتا نہیں کیوں اسے اب شان کا اسکے ساتھ اس طرح فری ہو کر بات کرنا اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔۔

” شان سر آپکو ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا انہوں نے میری کل سے بہت مدد کی ہے ۔۔” دافیہ کو بیراج کا اس طرح چلے جانا برا لگا ۔۔

” تم نے دیکھا نہیں وہ جیلس ہو رہا تھا میرے یہاں ہونے سے ۔۔” شان شرارت سے بولا دافیہ مسکرائی ۔۔

★★★★

” بی جان آپ بھی چلے گی نہ ہمارے ساتھ ہم اکیلے نہیں جائے گے ۔۔” انعل نے بی جان کی گود میں سر رکھ کر لاڈ میں کہا ۔۔

” ہر بیٹی کو اکیلے جانا ہوتا ہے میری جان آگے کی زندگی ہر لڑکی کے لئے بہت مشکل ہوتی ہے لیکن اسے خود سیکھنا ہوتا ہے وہ کیسے گزارے گی اپنی زندگی دکھ سکھ ہر تکلیف اسے اکیلے سہنی ہوتی ہے اپنے شوہر کی ہر بات ماننا اسکی عزت کرنا ہر بیوی کا فرض ہوتا ہے آپ بہت اچھی بیوی بننا بلکل اپنی ماں کی طرح ۔۔” بی جان بولتے ہوئے رک گئی ۔۔

” ماما جیسی بی جان وہ کیسی تھیں کیا میں بلکل انکے جیسی دکھتی ہوں ۔۔” انعل اپنی ماں کے ذکر پر خوش ہوتے بی جان سے انکی اور بھی باتیں پوچھنے لگی انعل ہمیشہ اپنے باپ سے کم اپنی ماں کا ذکر سنتی تھی بی جان کے منہ سے کبھی انکی بات نکل جاتی تھی تو انعل ان سے بہت سے سوال کرنے شروع ہو جاتی تھی ۔۔

” بی جان داريان اچھے ہے نہ وہ ہمارا خیال رکھیں گے نہ ۔۔” انعل نے امید سے کہا ۔۔

” ہاں بہت پیارہ بچہ ہے آپکا خیال کیوں نہیں رکھے گا آپ ہو ہی بہت پیاری لیکن اب آپ کھانا کھانے کا طریقہ ٹھیک سے سیکھ لیں وہاں ہم بابا تو نہیں ہونگے نہ داريان بھی کبھی کام سے باہر ہو تو کیا آپ بھوکی رہے گی اس لئے اپنے بہت سے کام آپ خود سیکھ لے ۔۔” بی جان نے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا وہ جانتی تھی انعل کے لئے آگے والی زندگی بہت مشکل ہے پر اسے کچھ تو سیکھنا تھا نہ ۔۔

” اوکے پھر آپ ہمیں سیکھا دے لیکن کھانا نہیں بناۓ گے وہ اچھا نہیں لگتا کام ۔۔” انعل نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔

★★★★

” اتنا سب کچھ ہو گیا اور تمنے کچھ بتایا ہی نہیں اب کیسے ہوگی اتنی جلدی تیاری ۔۔” حنان افسوس سے بولا ۔۔

” اب اگر تمہیں اپنی بیوی سے فرصت مل گئی ہو تو کام پر دھیان دو زید چپ بیٹھنے والوں میں سے نہیں ہے اب جو بھی کرنا ہے جلدی کرنا ہوگا ٹائم نہیں ہے میرے پاس میں زیادہ ٹائم پاکستان نہیں رہ سکتا ۔۔” ڈی اے نے غصے سے ساری چیزیں ٹیبل سے نیچے گرا دی ۔۔

” تم جاؤ عفان سے بات کرو ۔۔ڈی اے نے حکم دیا ۔۔

” اس کمینے سے بات کرنی پڑے گی اب مجھے جو ہر وقت میرے خون کا پیاسا ہے ۔۔” حنان غصے میں بڑبڑاتا ہوا باہر گیا ۔۔

” ہیلو ۔۔” ڈی اے فون پر نام دیکھتا ضبط کرتا فون اٹھایا ۔۔

” یہ کیا ہو رہا ہے تمہارے زید کے بیچ تم لوگ پھر سے شروع ہو گئے ہو ۔۔” زید کے ڈیڈ کی فون پر غصے بھری آواز گونجی ۔۔

” آپ اپنے بیٹے کو سمجھا دیں یہ میرا بدلہ ہے اسکے بیچ میں وہ نہ آئے ورنہ اس بار اسکے لئے اچھا نہیں ہوگا ۔۔” ڈی اے غصے کی شدت سے بولا ۔۔

” میں زید کو سمجھا چکا ہوں لیکن تم بھی سنثبل کر کرو اپنا کام مجھے اب تم دونوں کے بیچ کوئی لڑائی جھگڑا نہیں چاہئیے ورنہ اسکا انجام تم دونوں کے لئے برا ہوگا ۔۔” دوسری طرف بے حد غصے سے فون کاٹ دیا ۔۔

” ڈیم اٹ زید تم میرے راستے میں آؤ گے تو میں تمہیں اس بار زندہ نہیں چھوڑونگا ۔۔” ڈی اے غصے کی شدت سے سامنے آئینے میں پنچ مارا اسکے ہاتھ سے تیزی سے خون بہنے لگا ۔۔

★★★★

” یہ تو بہت خوشی کی بات ہے اللّه پاک ہماری بچی کا نصیب بہت اچھا کریں آمین ۔۔” حمدان صاحب بہت خوش ہوئے انعل کے لئے انھیں آج ہی حیات صاحب نے بتایا وہ باہر گئے ہوئے تھے آج آتے ہی انھیں خوش خبری ملی ۔۔

” مجھے بھی اس میں کوئی کمی نہیں دکھتی اچھا ہے وہ اور ہماری انی کو بھی خوش رکھیں گا ہماری لئے یہی بہت ہے ۔۔” بیراج نے بھی اپنی رائے دی ۔۔

” سب ماشاءاللّٰه سے بہت خوش ہے اس رشتے سے بس ہماری بچی کو کسی کی نظر نہ لگے ۔۔” بی جان نے خوشی سے کہا ۔۔

★★★★

” فائنلی بات بن گئی پھر کیا ڈسائیڈ کیا کب بنو گے دلہے صاحب ۔۔” عفان نے شرارت سے کہا ۔۔

” تھینک یو یار یہ سب تمہاری مدد سے ہوا ہے ورنہ تھوڑا مشکل تھا ۔۔” داريان عفان کے گلے لگتے ہوئے اسکا احسان مانا ۔۔

” اب آگے کا کیا پلین ہے کیسے برباد کرو گے حیات شیرازی کو ۔۔” عفان اسکے آگے پلین جاننے کو بےتاب تھا ۔۔

” اسکی بربادی تو اب شروع ہوگی بس ایک بار اسکی زندگی چھین لوں اسکے بعد تو وہ خود ہی مر جائے گا ۔۔” داريان خان سپاٹ لہجے میں بولا ۔۔

” فائنلی ٹریلر ختم ہوا اب پوری فلم دیکھنے کو ملے گی ویسے اس ڈی اے کا اینڈ کیا ہے وہ مر جائے گا یہ بچ جائے گا ۔۔” عفان الھج سا گیا تھا ۔۔

” اسکی کہانی اتنی جلدی ختم نہیں ہوگی ابھی تو اسکی شروعات ہے آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا ۔۔” داريان خان خوبصورت مسکراہٹ سے بولا تھا ۔۔

Daryan Haider khan is back

★★★★

” حانننن گاڑی روکو ۔۔” زافا کی چیخ سے حنان گھبراتا سائیڈ پر گاڑی روکتا غصے سے زافا کو گھورا ۔۔

” پاگل لڑکی اگر آکسیڈنٹ ہو جاتا تو اس طرح کون چلا تا ہے ۔۔” حنان غصہ ہوا زافا پر ۔۔

” اپن چلاتی ہے اور تم اترو میں چلاؤنگی اپن کی گاڑی ہے اور اپن کو ہی نہیں چلانی آتی ۔۔” زافا غصے سے گھور تے ہوئے کہا ۔۔

” تم مجھے شدید پاگل کرنا چاہتی ہو اور میں تمہیں شریف بندہ دکھتا ہوں جو ایسا کرنے دونگا ۔۔” حنان نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا ۔۔

” یہ تو اپن سے بہتر کون جانتا ہے تم کتنے شریف ہوں چپ چاپ سے ہٹو ورنہ اپن تیرے کو چلانے نہیں دیگی اتنا تو جانتے ہونا اپنی پیاری بیوی کو ۔۔” زافا نے ایک آنکھ دبا تے ہوئے کہا ۔۔

“میری قسمت میں بھی یہی چورنی لکھی تھی چڑیل ۔۔” حنان بڑبڑاتا ہوا باہر نکلا جانتا تھا وہ نہیں مانے گی ۔۔

آرام سے چلانا جیسے کہتا ہوں ویسا کرو ورنہ دونوں کی لاش ملے گی سب کو کل ۔۔” دونوں اپنی جگہ سنبھلتے ہوئے بیٹھے ۔۔

” یہ کام تمہیں پہلے ہی مجھے سیکھا دینا چاہیے تھا دیر تو ابھی بھی نہیں ہوئی اب پیار سے سیکھاؤ ۔۔” زافا نے ایکسائیڈٹ ہوتے ہوئے کہا ۔۔

” آہ آرام سے چڑیل ۔۔” حنان کی چیخ نکل گئی اسکی تیز رفتار سے چلاتے ہوئے دونوں لڑتے جگڑتے کبھی گاڑی کو آرام سے تو کھبٹی تیز رفتار سے چلاتے ہوئے مزے کر رہے تھے زافا کو حنان کی حالت پر بہت ہنسی آرہی تھی حنان بھی اسے دھمکی دے رہا تھا ۔۔

★★★★

” کیوں آرہے ہوں میرے راستے میں کیا چاہتے ہو تم ۔۔” ڈی اے سامنے بیٹھے زید سے غصے میں بولا ۔۔

” غلط بات کر رہے ہو یار میں نہیں تم آرہے ہوں اور وہ لڑکی مجھے پسند ہے میں اسے محبت کرنے لگا ہوں مجھے نہیں پتا تم اس لڑکی کو کیسے جانتے ہو کیوں اسکے پیچھے ہو لیکن اب وہ میری نظروں میں آگئی ہے تو اسکا اور میرا پیچھا چھوڑ دو ڈی اے صاحب ۔۔” زید نے غصے سنجیدگی سے کہا ۔۔

” تم بہت غلط فہمی میں جیتے ہوں زید جعفری میرے ساتھ کھیلنا چاہتے ہو تو دماغ سے کھیلو دل سے نہیں جنگ محبت سے نہیں نفرت سے جیتی جاتی ہے تمہیں ایک موقع دیتا ہوں حاصل کر سکتے ہو تو کرکے دکھائو اسے اگر ہار گئے تو ایک لاحاصل محبت میں جیتے رہنا ۔۔” ڈی اے نے طنزیہ مسکراہٹ سے اسے چیلنج دیا تھا ۔۔

” واہ کمال ہو گیا مسٹر ڈی اے کو بھی عشق ہو گیا ہے وہ بھی میری محبت سے دیکھتے ہیں پھر کون لاحاصل رہتا ہے اور ہاں ایک بات محبت کی بازی دل سے کھیلی جاتی ہے دماغ سے نہیں ۔۔” زید نے بھی چیلنجنگ مسکراہٹ دی ۔۔

” بازی چاہے محبت کی ہو یا عشق کی دل لگانے سے صرف بربادی ہوگی اور اگر دماغ لگاؤ گے تو دونوں جیت بھی جاؤ گے یاد رکھنا یہ ڈی اے کے الفاظ ہے ۔۔” ڈی اے اسے غصہ دلاتا ہوا وہاں سے تیزی سے نکل گیا ۔۔

” میں تمہیں اسے جیتنے کبھی نہیں دونگا ۔۔” زید غصے میں سگریٹ کا گہرا کش لینے لگا ۔۔

★★★★

” ہہ۔۔ہلو۔۔بب۔۔بیراج سر دد ۔۔دادا کی طبیت خراب ہوگئی ہے ڈاکٹر کچھ ٹھیک سے نہیں بتا رہیں ہے مم ۔۔میں کیا کروں ۔۔” دافیہ روتے ہوئے اٹک کر بیراج کو فون پر بتا رہی تھی ۔۔

” شش تم رونا بند کروں کچھ نہیں ہوگا دعا کروں میں آتا ہوں ۔۔” دوسری طرف بیراج جلدی سے گھر سے نکلا پورے راستے وہ فون پر اسے تسلی دیتا رہا تھا ۔۔

” کیا ہوا تھا دادا کہاں ہے ۔۔” بیراج بھاگتے ہوئے سیدھا اسکے پاس آیا تھا ۔۔

” پپ ۔۔پتا ۔۔نن ۔۔نہیں کّک ۔۔کیا ہوا اچانک سے انکی طبیعت خراب ہوگئی وہ ٹھیک سے ہوش میں بھی نہیں آئے تھے انہوں نے مجھ سے بات کرنی چاہی پر وہ کر نہیں پا رہے تھے ۔۔” دافیہ روتے ہوئے اٹک اٹک کر بتا رہی تھی اسے ۔۔

” اچھا تم رونا بند کرو دعا کرو انکے لئے سب ٹھیک ہوگا میں ڈاکٹر سے بات کرتا ہوں ۔۔” بیراج اسے سمجھاتے ہوئے کہتا آگے بڑھا ڈاکٹر روم سے نکلتے ہوئے آرہے تھے سامنے دافیہ بھی اسی طرح بھاگی ۔۔

” ڈ ۔ڈاکٹر مم ۔۔میرے دادا کیسے ہے ووہ ٹھیک تو ہو جائے گے نہ ۔۔” دافیہ امید بری نظروں سے ڈاکٹر سے کہتے اسکے جواب کے انتظار میں تھی اسکا دل بہت زور سے دھک دھک کر رہا تھا ۔۔

” آئم سوری ہم نے پوری کوشش کی پر انکا ہارٹ بہت کمزور تھا وہ ریکوری نہیں کر پا رہے تھے ۔۔” ڈاکٹر معذرت کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے لیکن دافیہ اپنی جگا ساکت بن کر رہ گی اسکے کان میں بار بار ڈاکٹر کے الفاظ گونج رہے تھے آئم سوری اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا بیراج اسے ہلا کر کچھ کہ رہا تھا لیکن اسکا دماغ سن ہو گیا تھا اسے خود نہیں بتا چل رہا تھا وہ کہاں ہے ۔۔

” دافیہ دافیہ ہوش میں آؤ سنبھالو خود کو ۔۔” بیراج نے اسے جھنجھورتے ہوئے کہا ۔۔

” آہہہہ نہیں نہیں میرے دادا کو کچھ نہیں ہوگا بب ۔۔بیراج سر اا ۔۔آپ نے کہا تھا نہ انھیں کچھ نہیں ہوگا پھر پھر یہ یہ لوگ جھوٹ بول رہیں ہے نہ پلیز بولے نہ یہ جھوٹ ہے ۔۔” دافیہ ہوش میں آتے ہی چلاتے ہوئے ہچکیوں سے رونے لگی وہ بہت چلاتی روتی جا رہی تھی بیراج نے بہت مشکل سے اسے سنبھالا تھا دافیہ روتے ہوئے بیہوش ہوگئی تھی اسکے لئے اپنے دادا کی موت کو قبول کرنا بہت مشکل تھا وہ ایک ہی تو اسکی پوری زندگی تھے جو آج اسے اکیلا چھوڑ کر چلے گئے بیراج نے اپنے گھر کال کرکے اپنے ڈیڈ کو بلالیا تھا ۔۔

★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★

” بی جان دافیہ نے کچھ کھایا ۔۔” بیراج نے پریشانی سے پوچھا کل اسے اسکی حالت بہت نازک تھی اس نے کچھ کھایا پیا نہیں تھا اسکی وجہ سے اسکی طبیعت خراب ہوگئی تھی تھوڑی دیر پہلے ہی اسے ہوش آیا تھا بیراج نے بی جان سے بولا اسے کچھ کھلا دے ایک دن ہو گیا تھا اسکے دادا کو گئے ہوئے سب کچھ بیراج نے کیا تھا اسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا تو اپنے ساتھ گھر لیکے آیا بی جان باقی سب اسکا بہت خیال رکھ رہے تھے انعل تو اسے روتا دیکھتے خود بھی رو پڑی تھی ۔۔

” نہیں بیٹا کچھ نہیں کھا رہی بہت سمجھا چکی ہوں جانے والوں کے ساتھ تو جایا نہیں کرتے خود کو زندہ رکھنا چاہیے یہ زندگی اس رب کی رحمت ہے اسکی امانت ہے اسکے ساتھ تو ہم کوئی ظلم نہیں کر سکتے نہ آپ سمجھائے انھیں کچھ کھا لے رو رو کر خود کا برا حال کرلیا ہے ۔۔” بی جان نے دکھ افسوس سے کہا ۔۔

” ٹھیک ہے میں دیکھتا ہوں آپ آرام کر لیں ۔۔” بیراج بی جان سے کھانے کی ٹرے لیتا اسکے روم کی جانب بڑھا ۔۔

بیراج جیسے روم میں داخل ہوا سامنے اسکو بکھری حالت میں دیکھا جو بیڈ سے ٹیک لگاۓ گھٹنوں میں سر رکھے رو رہی تھی بیراج گہری سانس لیتا کھانے کو ٹیبل پر رکھتا اسکے ساتھ جاکے بیٹھ گیا نیچے ۔۔

” یہ سب کرنے سے کیا وہ واپس آجائے گے نہیں بلکے تم انھیں تکلیف دے رہی ہو خود کو بھوکا پیاسا رکھ کر ۔۔” بیراج نے نرمی سے اسے سمجھایا ۔۔

” ایسا مت بولے میں نہیں وہ تکلیف دے گئے ہے وہ مجھے اکیلا چھوڑ گئے ہے کیا وہ نہیں جانتے تھے میرے پاس کچھ نہیں انکے علاوہ وہ سب کچھ تھے میرے لئے پھر بھی وہ مجھے اکیلا چھوڑ گئے نہ ۔۔” دافیہ شدت سے روتے ہوئے شکوہ کیا تھا ۔۔

” موت پر کسی کا اختیار نہیں ہوتا یہ بر حق ہے ہم انسان اسکی امانت ہے وہ جب چاہے لے سکتا ہے اللّه کی چیز تھی انہوں نے لے لی سوچو اگر وہ اور جیتے تو انھیں اور تکلیف ہوتی وہ جس کنڈیشن میں تھے جتنی تکلیف میں تھے اللّه پاک نے انھیں مزید تکلیف سے پہلے سکون دے دیا اللّه پاک تو ستر مائوں سے بھی زیادہ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے دیکھوں انہوں نے دادا کو مزید تکلیف سے بچھا لیا اب تم پلیز رونا بند کرو انکے آخرت کے لئے دعا کرو انکے لئے قرآن پاک پڑھو جس سے انھیں سکون ملے اور تم بھی کچھ کھا لو پلیز میری بات نہیں مانو گی ۔۔” بیراج نے بہت اچھے پیار سے اسے سمجھایا اسکے بہت اسرار پر تھوڑا کھانا کھایا رونا تو وہ بند کر چکی تھی لیکن پھر بھی دادا تو اسکی زندگی تھے انھیں یاد کرتے اسکے پھر سے آنسوں نکل آتے تھے ۔۔

★★★★

” بی جان اس پیاری لڑکی نے کھانا کھایا وہ بہت رو رہی تھی بی جان ہمیں بھی رونا آتا ہے اسے دیکھ کر اسکے پاس صرف اسکے دادا تھے اب کوئی نہیں ہے اسکے پاس وہ اکیلی ہوگئی ہے ہم اسے اپنے ساتھ رکھ لیں بی جان ۔۔” انعل بی جان کے ساتھ لیٹتے ہوئے بول رہی تھی اسکو دافیہ کے لئے بہت برا لگ رہا تھا ۔۔

” بیراج نے اسے کھلا دیا تھا اسکے لئے دعا کرو اللّه پاک اسے صبر عطا کریں اور وہ اکیلی کہاں ہے ہم سب ہے نہ اسکے ساتھ وہ پیاری لڑکی ہمارے ساتھ رہے گی نہ ہم بیراج سے بات کریں گے ۔۔” بی جان اسکے بالوں میں پیار سے ہاتھ پھیر رہی تھی اسے وہ نیند میں جاتے ہوئے بھی تھوڑی تھوڑی باتیں کر رہی تھی ۔۔

★★★★

” سر وہ کچھ دنوں سے گھر سے باہر نہیں نکلی ہے اسکے باپ نے گھر کے باہر سکیورٹی فورس لگائی ہوئی ہے شاید اسے کوئی ڈر ہے ۔۔” زید کے آدمی نے آکر اسے اطلا دی ۔۔

” شٹ کیسے ملوں میں اسے یہ سب اس ڈی اے کی وجہ سے ہوا ہے اسے تو میں نہیں چھوڑوں گا انعل حیات صرف میری ہے صرف میری اس سے ملنے کا کوئی راستہ اختیار کرنا پڑے گا ۔۔” زید گہری مسکراہٹ سے بولا تھا ۔۔

” آج کل داريان حیدر خان کا کافی آنا جانا ہے وہاں مجھے کچھ اور بات لگتی ہے تم سمجھ رہے ہو نہ میں کیا بولنا چاہ رہا ہوں ۔۔” ظفر نے شیطانی مسکراہٹ سے کہا ۔۔

” داريان حیدر خان وہ کون ہے اب پتا لگواؤ اسکا کیوں ہو رہا ہے اتنا آنا جانا وہاں اور انعل کیا کر رہی ہے آج کل اسکی روٹین کیا ہے ۔۔” زید سوچ میں پڑ گیا داريان کا سنتے وہ بےچین ہو گیا تھا ۔۔

★★★★

” کیا کھا رہی ہو چڑیل ۔۔” حنان باہر سے تھکہ ہوا آیا تھا اسکے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔

” کھا نہیں پی رہی ہوں وہ بھی یہ ملک شیک تم پیؤ گے ۔۔” زافا نے منہ بناتے ہوئے کہا پھر کچھ سوچ کر حنان کی طرف اپنا ملک شیک کیا ۔۔

” اس مہربانی کی وجہ پوچھ سکتا ہوں اس دن بڑی مشکل سے زندہ بچ کر آیا ہوں اب تم سے ڈر لگتا ہے جنگلی چڑیل ۔۔” حنان نے آئبرو اچکاتے اسکی طرف دیکھا تھا۔۔

” کیا تم سچ میں مجھے سے ڈرنے لگے ہو واہ یہ میرے لئے کچھ نیا ہے بہت خوشی ہوئی سن کر اپن سے بھی کوئی ڈرتا ہے اب ۔۔” زافا نے خوشی سے خود کو داد دی ۔۔

” واٹ دا ہیل از دس ۔۔” حنان اسے دیکھتا جیسے ہی اسکے ہاتھ سے ملک شیک لیا تھا پورا اسکے منہ پر آلگا کیوں کے زافا نے جان کر وہ سائیڈ اسے سامنے کیا جو آگے سے کھلا ہوا تھا جیسے حنان نے پکڑا زافا نے زور دیا اور اس بیچارے کا منہ کپڑے خراب ہوگئے ۔۔

” what the hell is this Zafa ..”

حنان غصے میں اٹھ کھڑا ہوا ۔۔

” this is you’re eyes i am you’re wife & look it you’re face my tom “

زافا ہسنتے ہوئے اپنی ٹوٹی پھوٹی انگلش میں بولی جو اسنے حنان کے ساتھ رہتے تھوڑی بہت سیکھ لی تھی ۔۔

” ہاہاہا حان بہت پیارے لگ رہے ہو ۔۔” زافا کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا تھا حنان غصے میں سرخ پڑھتا اسے گھور رہا تھا ۔۔

” تمہاری تو روکو اب میں بتاتا ہوں تمہیں کون پیارا لگ رہا ہے ۔۔” حنان تیزی سے اسکی طرح بھڑا زافا اسے اپنی طرح حملہ کرتے دیکھ کر بھاگی وہاں سے ۔۔

” حنان زافا اسٹاپ ۔۔” بھاری گهمبیر آواز پر دونوں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہوئے ایک دم رک گئے حنان نے تیزی سے اپنی آنکھیں بند کرتا خود کی بیعزت ہونے کے لئے تیار کرنے لگا زافا بھی شرمندہ ہوتی اپنی جگہ سیدھی ہوئی تھی ۔۔

” تم دونوں کے ساتھ مسئلا کیا ہے جب دیکھو ٹام جیری بنے ہوئے ہو ایک ساتھ خوش نہیں ہو تو الگ ہو جاؤ بہت بار وارننگ دے چکا ہوا لیکن تم دونوں بیوقوف انسان نہیں شیطان ہو دفع ہو جاؤ میرے گھر سے حنان کل تم دونوں کی فلائٹ ہے جاؤ یہاں سے سکون برباد کیا ہوا ہے ۔۔” ڈی اے نے غصے سنجیدگی سے بولا تھا ۔۔

” کیوں کیوں ہم دونوں کیوں جائیں یہ اپن کا بھی گھر ہے جیسے دل کرت گا ویسے رہیں گے آپکی طرح نہیں ہر وقت غصہ غصہ افف کبھی ہنس بھی لیا کریں ۔۔” زافا نے منہ بنا تے ہوئے کہا ابھی اور بھی کچھ کہتی ڈی اے کو غصے میں دیکھتا حنان اسے وہاں سے لے گیا روم میں اسے روم میں بند کرتا خود اسکے سامنے آیا ۔۔

” کیا کرنے والے ہو تم اور ہمیں کیوں بھیج رہے ہو پلین کیا ہے ۔۔” حنان اسے گہری نظروں سے دیکھتا ہوا بولا ۔۔

” وہاں کا کام بہت پینڈنگ میں ہے تم وہاں جاؤ یہاں کا کام اب میرا ہے فکر مت کرو تم سے جلد رابطہ کرونگا ابھی جاؤ یہاں سے تمہاری زافا کو خطرہ ہے اور اگر اپنی بیوی کی جان پیاری ہے تو جاؤ اگر نہیں گئے تو مجھے تمہیں بھیجنا آتا ہے ۔۔” ڈی اے نے سرد لہجے میں کہا ۔۔

” تم اچھا نہیں کر رہے ہو میں تمہیں اکیلا چھوڑ کر کیسے جاؤنگا کیا تمہیں نہیں لگتا یہاں میرے کم تمہارے زیادہ دشمن ہے ۔۔” حنان پریشان ہوا تھا اسکے فیصلے سے ۔۔

” وہ میرے دشمن ہے مجھے انھیں ڈیل کرنا آتا ہے تم جاؤ یہاں سے ورنہ بہت برا ہوگا ۔۔” ڈی اے اسکے انکار پر بھڑک اٹھا ۔۔

” ٹھیک ہے جو کرنا ہے کرو لیکن پلیز اس معصوم کو اتنی تکلیف بھی مت دینا جو وہ برداشت بھی نہ کر پائے بعد میں خود ہی پشتاتے پھرو گے ۔۔” حنان افسوس سے بولا تھا ۔۔

” تکلیف تو اسکی قسمت میں لکھی ہے برداشت تو کرنی چاہیے جیسے اس معصوم دس سال کے بچے نے کی تھی برداشت ۔۔” ڈی اے نفرت سے بولتا چلا گیا وہاں سے حنان انعل کے لئے دعا کرتا اپنے روم کی جانب چلا ۔۔

★★★★

” کیا اس بچی کے رشتے دار وغیرہ کوئی ہے ۔۔” حمدان صاحب نے بیٹے سے پوچھا تھا ۔۔

” مجھے نہیں پتا پر شاید نہ ہو ورنہ وہ دونوں اکیلے کیسے رہتے تھے ۔۔” بیراج دافیہ کو اتنا نہیں جانتا تھا پر اسے اب ہر چیز جانی تھی اسکے بارے میں ۔۔

” میرا نہیں خیال ہم اس بچی کو واپس اپنے گھر بھیج دے اکیلے آج کل کے حالت آپ سب جانتے ہیں ایسے میں کسی بھی لڑکی کو اکیلے چھوڑ نہ صحیح نہیں بے ۔۔” حیات صاحب نے اپنی راۓ دی وہ خود ایک باپ تھے وہ دافیہ کے دکھ کو سمجھ سکتے تھے ۔۔

” بیراج بیٹا آپ خود اس سے بات کریں انھیں بولے وہ یہاں محفوظ ہیں اسے ہم اکیلا نہیں چھوڑ سکتے آپ کے ساتھ تو وہ کام کر چکی ہے بہت پیاری بچی ہے دیکھنے میں بھی کوئی چلاک یا بری لڑکی نہیں لگتی بہت معصوم پیاری ہے ۔۔” بی جان نے بھی مشورہ دیا ۔۔

” ہم آپ سب سے کچھ کہنا چاہتے ہیں اور میں چاہتا ہوں آپ سب میرے اس فیصلے میں میرا ساتھ دیں ۔۔” بیراج نے کچھ سوچتے ہوئے کہا وہ جانتا تھا دافیہ کبھی اسکے گھر میں رہنے کے لئے نہیں مانے گی پر وہ اسے اب اکیلے کہیں پر بھی نہیں رہنے دینا چاہتا تھا اس لئے اسنے بہت سوچ کر اپنے دل کی بات مان لی جو ہمیشہ سے اپنے دل کی بات کو جھٹکتا ہوا آیا تھا ۔۔

” مجھے تمہارا فیصلہ منظور ہے ہم جانتے ہیں ہمارا بیٹا کبھی کوئی غلط فیصلہ نہیں کرے گا ہمیں وہ بچی پسند ہے اپنے بیٹے کے لئے لیکن آپ کو اسے تھوڑا ٹائم دینا چاہیے وہ یہ سب اتنی جلدی قبول نہیں کر پاۓ گئی ۔۔” حمدان صاحب بیٹے کی دل کی بات سمجھ گئے تھے ۔۔

” بہت شکریہ ڈیڈ پر میں جلد ہی اسے نکاح کرنا چاہتا ہوں وہ بہت ضدی ہے یہاں ایسے نہیں رہنے والی کچھ تو انتظام کرنا چاہیے اسکا یہاں رہنے کے لئے ۔۔” بیراج نے مسکراتے ہوئے کہا تھا اسکی بات پر ان سب کے چہرے پر مسکراہٹ آئی ۔۔

” انعل جب سنے گی اسکے تو پاؤث نہیں ٹیکے گے زمین پر وہ تو پورا سر گھر پر اٹھا لے گی ایک بات بتاؤں اسے دافیہ بہت پسند ہے ۔۔” بی جان نے ہنستے ہوئے کہا تھا انکی بات پر سب ہنس پڑھے رات کا ٹائم تھا سب ایک ساتھ بیٹھ کر باتیں کر رہیں تھے ۔۔

” داريان بھی بات کرنا چاہ رہا تھا لیکن گھر کے ماحول کی وجہ سے وہ اس دن کر نہیں پایا تھا اسکا ارادہ جلدی شادی کا ہے لیکن آپ سب کو پتا ہے ہماری انعل ابھی چھوٹی ہے اسے دنیا کا اٹھنا بیٹھا نہیں آتا ٹھیک سے ہم ایک باپ ہے اسے نصیب سے بہت ڈرتا ہوں ۔۔” حیات صاحب اداسی سے بولے تھے وہ داريان کی باتوں سے سمجھ گئے تھے وہ جلدی چاہتا تھا ۔۔

” ہم سب جانتے ہیں ہماری بچی تھوڑی نادان ہے اس میں بھی ہماری غلطی ہے ہمارے لاڈ پیار نے اسے ایسا بنا دیا ہے اب اس بات کی سزا تو ہم اسے نہیں دینگے نہ بیٹیوں کے نصیب کے لئے دعا کرو اللّه تعالیٰ سے اس طرح ڈرنے سے کچھ نہیں ہوگا لیکن داريان بچے کی بات بھی ٹھیک ہے وہ بھی اب اپنی زندگی میں کسی ہمسفر کا ساتھ چاہتا ہے تو ہم اسے انکار نہیں کر سکتے ہمیں لگتا ہے ہمیں انعل کو تیار کرنا چاہیے شادی کے لئے بیٹی کا نصیب خود چل کر آیا ہے تو اسے ٹھکرانہ نہیں چائیے ۔۔” حمدان صاحب کو جو صحیح لگا انہوں نے بول دیا تھا ۔۔

” مجھے بھی لگتا ہے داريان اچھا لڑکا ہے ہماری انی کو خوش رکھے گا ویسے بھی وہ جانتا ہے انعل کو کچھ نہیں آتا وہ کتنی معصوم ہے تو میرا نہیں خیال آپکو پریشان ہونا چاہیے ۔۔” بیراج نے بھی اپنی بات رکھی تھی سب کی باتوں میں ہاں تھی حیات صاحب کو پتا نہیں کیوں گھبراہٹ ہونے لگی تھی جیسے ہی وہ انعل کی شادی کی بات کرتے یہ سوچتے تھے باپ تھا اپنی پوری زندگی کو ایسے تو نہیں جانے دے گا نہ پھر داريان کا سوچتے ہوئے انھیں لگتا تھا شاید وہ صحیح ہمسفر ہے انکی بیٹی کے لئے وہ ہر بار انکی مدد کرتا اسکی بیٹی کا خیال رکھتا سب سوچتے تھوڑا سکون میں آجاتے تھے ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *