Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafrat e Ishq (Episode 14)

Nafrat e Ishq by Mahra Shah

” میم یہ کیا کر رہی ہیں آپکے ہاتھ سے خون نکل رہا ہے پلیز میم ہمیں صاف کرنے دیں آپکو تکلیف ہوگی ۔۔!! ملازمہ انعل کے ہاتھ سے خون نکلتا دیکھ کر گھبرا کے کہا پر انعل تو جیسے اسے سن ہی نہیں رہی تھی ۔۔

” تکلیف ہمیں تکلیف ہو رہی ہے یہ نئی بات ہے ہمیں تکلیف ہونی چاہیے پتا ہے پتا ہے ہمیں کھبی تکلیف نہیں ملی کبھی چوٹ لگی تو جلدی سے اسکا علاج کروا دیا کبھی تکلیف محسوس کرنے کا موقع نہیں ملا کبھی دکھ تکلیف اپنی زندگی میں دیکھی نہیں ہم نے اور آج ہاہاہا دیکھیے ہم محسوس کر رہیں ہیں ہمیں تکلیف ہو رہی ہے یہ یہ ہاتھ پر کم ہمارے دل میں زیادہ ہو رہی ہے ۔۔!! انعل اپنے ہاتھ سے بہتے اس خون کو دیکھتے ہوئے بولے جا رہی تھی کبھی ہنستی تو کبھی روتے ہوئے آنسوں تیزی سے بہہ رے تھے ملازم کو وہ کوئی پاگل ہی لگ رہی تھی جو خود سے باتیں کرتی جا رہی تھی وہ جلدی سے بھاگتی ہوئی داريان کے پاس گئی اس دن کے بعد انعل خاموشی سے سارے کام سیکھنے لگی تھی پھر بھی داريان کا غصہ کم نہیں ہو رہا تھا وہ اس سے بے رخی سے بات کرتا تھا انعل سے برداشت نہیں ہو رہی تھی داريان کی ناراضگی وہ اپنی پوری کوشش کر رہی تھی اسے منانے کی ۔۔

” سس ۔۔سر۔۔وو ۔۔وہ نیچے میم کے ہاتھ سے ۔۔خخ ۔۔خون ۔۔نکل رہا ہے میم اپنے آپ سے باتیں کر رہی ہے وہ مجھے ہاتھ صاف کرنے نہیں دے رہی ۔۔!! ملازمہ نے جلدی سے اپنی بات کہہ دی

” واااٹ تمہیں میں نے اسکا خیال رکھنے کو کہا تھا آرام سے سیکھاؤ اسے یہی کہا تھا نہ ۔۔!! داريان غصے میں بولتا نیچے بھاگا ۔۔

” انو پاگل ہوگئی ہو یہ کیا کیا ادھر دکھاؤ ۔۔!! داريان کچن میں آتا اسے سامنے زمین پر بیٹھا ہاتھ پکڑے دیکھتا پریشانی سے اسکے پاس گیا اسکا ہاتھ پکڑتا دبے غصے میں کہا م ۔۔

” آ ۔آپ جھوٹ بول رہیں ہے آپکو ہماری فکر نہیں ہے ہم برے ہیں ہمیں کچھ نہیں آتا ہمیں کچھ نہیں آتا ہمیں بابا کے پاس جانا ہے آپ ہمارے ساتھ نہیں رہنا چاہتے ہیں آپ ہمیں چھوڑ دیں گے آپ ہم سے ناراض ہیں آاااا۔۔۔۔ بس خاموش کچھ نہیں ہوا مجھے صاف کرنے دو رونا بند کرو ۔۔!! داريان اسکی شکایات سنتا اسے نرمی سے خاموش کروایا جانتا تھا اس وقت غصہ کرے گا تو وہ نہیں سمجھے گی ۔۔

” چلوں اٹھو ۔۔ نن ۔۔نہیں ہم ہمنے آ ۔آپ کا ناشتہ نہیں بنایا آ ۔آپ پھر غصہ کریں گے ہم ہم ابھی بناتے ہے آپ غصہ نہیں کرنا پپ۔۔ پلیز آ ۔۔ بسسس خاموش تمہیں میری بات سنائی نہیں دے رہی انو انو کیا ہوا ۔۔!! داريان نے اسے کھڑا کرتے ہوئے باہر لے جانے لگا تھا کے انعل پھر سے اسکے غصے کے خوف سے انکار کرتی ناشتہ بنانا چاہا لیکن داريان کی ایک دھاڑ نے اسے اور خوف زدہ کر دیا وہ خوف درد سے بے ہوش ہوتے اسکے باہوں میں جھول گئی داريان خود پر ضبط کرتا اسے اٹھا کر روم میں لےگیا اسکے ہاتھ پر بینڈیج کی کٹ کافی گہرا لگ گیا تھا اسے ۔۔

” اا آااہ کیا کروں جتنی تم سے نفرت کرتا ہوں تم اتنی میرے قریب آتی ہو کیوں کیوں نہیں میں اپنا مقصد نہیں بھول سکتا تمہارے باپ کو سزا دے کر رہوں گا ۔۔!! داريان اپنے بالوں میں ہاتھ ڈالتا غصے میں غرایا وہ اپنی فیلنگس سمجھ نہیں پا رہا تھا وہ اپنی نفرت بدلے میں اسے جتنی تکلیف دیتا جا رہا تھا اسے بھی برا لگ رہا تھا کہیں نہ کہیں ۔۔

★★★★

” یہ تو بہت اچھی بات کی آپ لوگوں نے ہمیں بہت خوشی ہوئی ہے آپکے فیصلے سے ۔۔!! حمدان صاحب بیٹے کے فیصلے پر بہت خوش ہوئے تھے ۔۔

” جی لیکن ہم دونوں چاہتے ہیں آپ لوگ بھی ہمارے ساتھ چلیں ایک فیملی گروپ ماشاءالله سے بہت مزہ آئیگا ۔۔!! بیراج نے سب کو کہا تھا وہ سب اس وقت رات کا کھانا کھا رہے تھے ۔۔

” ماشاءالله بیٹا یہ تو بہت خوشی کی بات ہے آپ لوگ عمرے پر جا رہیں ہے اللّه پاک سب کو یہ نصیب کریں آمین ہم سوچ رہیں تھے ہم انعل سے مل کر آئیں کافی دن سے بات نہیں ہوئی ہے آپ لوگ آرام سے جائے ان شاءلله اگلی بار ساتھ چلیں گے سب ۔۔!! حیات صاحب مسکراتے ہوئے انھیں دعا دی جانے کی ۔۔

” ٹھیک ہے پھر بابا اور بی جان ہمارے ساتھ چلیں گے اوکے ۔۔!! بیراج نے فیصلہ کرتے ہوئے کہا تھا سب نے مسکراتے ہوئے ہامی بھری سب نے کافی باتوں کے بعد کھانا کھا کر سونے چلے گئے تھے حیات صاحب وہیں بیٹھے اپنی سوچوں میں گم تھے ۔۔

ماضی

” حیات ہماری ایک خواہش ۔۔!! وہ کھڑکی کے پاس کھڑی باہر دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” اور وہ کیا ہے جو ہمیں نہیں پتا ۔۔!! حیات نے پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے محبت سے کہا تھا ۔۔

” ہم چاہتے ہیں ہمارے بےبی کے آنے کے بعد ہم عمرے پر چلیں ہماری چھوٹی سی پیاری فیملی کے ساتھ کتنا سکون ہوگا وہاں ہم جائیگے نہ ۔۔!! اس نے پیار سے کہتے ہوئے حیات سے پوچھا تھا ۔۔

” ان شاءاللّه ہماری بیٹی آجائے خیر سے پھر ہم چلیں گے ۔۔!! حیات سکون سے کہتا اسکا ماتھا چوما ۔۔

” بھائی صاحب آپ یہاں کیا کر رہیں ہے گئے نہیں سونے ۔۔!! بی جان حیات صاحب کو باہر اکیلے سوچوں میں گم دیکھتے ہوئے کہا تھا بی جان کی آواز پر حیات صاحب حال میں آئے آس پاس دیکھتے ہوئے جیسے تصدیق چاہی ۔۔

” ہاں بس جا رہا تھا کچھ یادوں نے اپنی سوچوں میں لیا تھا آپ بھی سو جائیں ۔۔!! حیات صاحب بولتے آگے بڑھ گئے بی جان انھیں جاتے ہوئے دیکھتے خود بھی چلی گئی سونے ۔۔

★★★★

” انعل نے ہوش آتے ہی اٹھ کر آس پاس دیکھا تو سامنے ہی داريان نماز پڑھتا ہوا دکھائی دیا انعل نیم مسکراہٹ سے سامنے داريان کو نماز پڑھتا ہوا دیکھ رہی تھی وہ سلام پھیرتا دعا مانگنے لگا وہ محسوس کر سکتا تھا وہ اسکی نظروں کے حصار میں ہے ۔۔

” اٹھو کھانا کھا لو ۔۔!! وہ بہ ظاہر بے رخی سے بولا تھا لیکن اسے فکر ہو رہی تھی اسکی وہ جتنا ظالم بننے کی کوشش کرتا پر کر نہیں پا رہا تھا ۔۔

” تم نے سنا نہیں میں نے کیا کہا ۔۔؟ وہ اسے ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھتا دبے غصے میں بولا تھا اسنے معصومیت سے نفی میں سر ہلا یا ایسا کرتے ہوئے وہ بہت کیوٹ لگی داريان کو وہ گہرا سانس لیتا تھوڑی دیر اسکی آنکھوں میں دیکھتا پھر اسکے پاس گیا ۔۔

” اپنے بابا کے پاس جانا چاہتی ہو۔! اسنے پانی بھری آنکھوں سے نفی میں سر ہلا یا ۔۔

” انعل مجھے غصہ مت دلاؤ بات کرو کیا چاہتی ہوں ۔۔!! داريان کو اسکی خاموشی اچھی نہیں لگ رہی تھی اور غصہ دلا رہی تھی ۔۔

” آ ۔آپ ۔۔ہہ۔۔ہمیں ۔۔نن ۔۔نماز پڑھائیں گے ہہ ۔۔ہمیں ۔۔سس ۔۔سکون چاہئیے ۔۔؟ اسنے آج اپنے دھڑکتے دل کے ساتھ دل کی بات کہہ دی وہ روز داريان کو نماز پڑھتا دیکھتی تھی وہ کبھی مسجد میں لیٹ ہو جاتا تو ہمیشہ گھر پر پڑھ لیتا تھا یہ عادت اسکی انعل کو بہت پسند تھی اسے شرمندگی ہوتی تھی وہ کبھی جمعہ کے علاوہ نہیں پڑھتی تھی اسے تو ٹھیک سے پڑھنے بھی نہیں آتی تھی وہ داريان سے سیکھنا چاہتی تھی اسے داريان سے ایسے تو عشق نہیں تھا کچھ تو خاص بات تھی اس میں داريان خاموش ہو گیا تھا اسکے سوال سے اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کہے اتنا تو وہ جانتا تھا انکار تو وہ نہیں کر سکتا تھا کسی کو سیکھانہ تو ثواب کا کام ہے ۔۔

” کل سے پڑھاؤنگا ابھی اٹھو کھانا کھا لو ۔۔!! داريان دھڑکتے دل کے ساتھ بولا تھا ۔۔

” قق ۔۔قرآن پاک بھی وہ وہ ہمیں صحیح سے پڑھنا نہیں آتا ہم بہت شرمندہ ہیں ہمیں کچھ نہیں آتا ۔۔!! انعل بولتے ہوئے دونوں ہاتھ منہ پر رکھتے ہوئے شدت سے رونے لگی تھی اسے اب غصے آتا تھا خود پر کیوں اسے کچھ نہیں آتا کیوں ۔۔

” تمہارے باپ کا قصور ہے اس نے تمہیں ایسا بنایا ہے اب خاموش ہو جاؤ ۔۔!! داريان اسے دیکھتا قریب ہوتے اسے اپنے حصار میں لیتا چپ کروانے لگا بے خودی میں اپنے لب اسکے بالوں پر رکھے ۔۔

★★★★

” کب تک ڈیڈ کب تک وہ اسے چھوڑے گا کب اسکا بدلہ پورا ہوگا مجھے وہ چاہئیے مجھ سے برداشت نہیں ہوتا میری محبت اسکے پاس ہے ۔۔!! زید غصے میں پاگل ہوتا ہوا غرایا ۔۔

” بس کچھ وقت صبر رکھو وہ جلد ہی اپنا بدلہ پورا کر لیگا اسکے بعد وہ اس لڑکی کو ضرور چھوڑ دیگا پھر تمہیں جو کرنا ہے کرنا میں کچھ نہیں کہوں گا لیکن ابھی تم اسکے راستے میں آئے تو وہ تمہیں زندہ نہیں چھوڑے گا اسکے غصے کو تم بھی اچھے سے جانتے ہو ۔۔!! جعفری صاحب اپنے بیٹے کے پاگل پن سے پریشان ہو رہے تھے اب اسکا جنون اس لڑکی کے لئے اسے اور بھی غصہ دلا رہا تھا ۔۔

” انعل حیات صرف زید جعفری کی ہے صرف میری اسے کچھ بھی نہیں ہونا چاہیے ورنہ آپ مجھے بہت اچھے سے جانتے ہیں میں انتظار کرونگا اسکا ۔۔!! زید غصے میں بولتا اپنے روم میں چلا گیا جاتے ہوئے اپنے باپ کو دھمکی دینا نہیں بھولا وہ جانتا تھا اسکا باپ کچھ بھی کر سکتا تھا ۔۔۔

” دونوں بھوکے شیروں کی طرح پڑے ہیں اس لڑکی کے پیچھے میں کچھ کر بھی نہیں سکتا شٹ ۔۔!! جعفری صاحب غصے میں گلاس دیوار پر مارا ۔۔

★★★★

” انعل سے بات ہوئی آپکی بیٹا ۔۔؟ حیات صاحب بیراج سے پوچھا فکر مندی سے کچھ دنوں سے انکی بات نہیں ہو رہی تھی انعل کا فون بند جا رہا تھا ۔۔

” نہیں چاچو میں خود چاہتا ہوں اس سے بات ہو جاتی تو اچھا تھا ہم جا رہیں ہے اور اس سے بات ہی نہیں ہو پا رہی داريان کا فون بھی اوف ہے ۔۔!! بیراج پریشانی سے کہا تھا ۔۔

” میرا بھی بہت دل کر رہا تھا انعل سے بات ہو جاتی شاید وہ لوگ بھی بزی ہو کہیں گھومنے نہ گئے ہو ۔۔!! دافیہ نے اپنی سوچ ظاہر کی ۔۔

” آپ لوگ پریشان نہ ہو سب خیر سے جاؤ میں کچھ دن میں لندن جاؤنگا تو انعل سے بات ہوگی پھر آپ لوگوں کی کرواؤں گا آپ لوگ خیر سے جائے بہت سی دعا کرنا ہمارے لئے انعل کے لئے ۔۔!! حیات صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا وہ انھیں پریشان نہیں بھیجنا چاہتے تھے وہ سب لوگ اس وقت ایئر پورٹ پر تھے آج بیراج والوں کی فلائٹ تھی ۔۔

” بھائی صاحب میری بچی سے بات ضرور کروائیے گا اپنی بچی سے ملے بغیر جا رہی ہوں اسکی بہت یاد آئیگی ۔۔!! بی جان دکھی ہوگئی تھی پھر کچھ باتوں کے بعد سب کی دعاؤں سے وہ لوگ رخصت ہوئے حیات صاحب یہاں سے سیدھا آفس گئے وہ کچھ کام جلدی سے ختم کرتے ہوئے لندن جانا چاہتے تھے انعل کے پاس انھیں آج کل بہت برے خیالات آرہے تھے ۔۔۔

” ہیلو کون بات کر رہا ہے ۔۔؟ حیات صاحب ان جان نمبر دیکھتے ہوئے بولے تھے ۔۔

” تیرا باپ اتنی جلدی بھول گئے اپنے دوست کو بہت افسوس ہوا ویسے حیات شیرازی ۔۔!! دوسری طرف افسوس بھری آواز آئی تھی ۔۔

” کیا بکواس کر رہے ہو کون ہو تم مجھے کیسے جانتے ہو ۔۔؟ حیات صاحب بھڑک اٹھے ۔۔

” آرام سے اتنا غصہ کس بات کا اپنی بیٹی پیاری نہیں تجھے ۔۔!! فون پر غصے میں طنزیہ آواز آئی ۔۔

” کک ۔۔کیا مطلب ۔۔مم ۔۔میری بیٹی کہاں ہے کون ہو تم بولو میری بیٹی کے ساتھ کیا کیا ہے بول کمینے میں تجھے چھوڑوں گا نہیں میری بیٹی کو کچھ بھی ہوا نہ میں تیری جان لے لونگا ۔۔!! حیات صاحب غصے میں بھڑے ہوئے بھڑک اٹھے ۔۔

” اوہ اتنا غصہ اتنی تڑپ بہت سکون مل رہا ہے تمہارے اندر کی تڑپ کو جگہ کر لیکن آج کے لئے اتنا کافی ہے باقی اگلی بار ویسے میرا نام ڈی اے ہے اگلی بار نام سے بلانا ۔۔!! وہ وارننگ دیتا کال کٹ کر گیا تھا حیات صاحب غصے میں پاگل ہوتے جا رہے تھے انھیں سمجھ نہیں آرہا تھا کیا ہو رہا ہے انکے ساتھ وہ اپنی بیٹی کو کھونا نہیں چاہتے تھے بہت بار وہ داريان انعل کا نمبر ملا کر چیک کر چکے تھے لیکن کوئی جواب نہیں وہ پریشان ہوتے ہوئے رو پڑے تھے کچھ گناہوں کی سزا آپکو اسی دنیا میں مل جاتی ہے ۔۔

★★★★

” کیا چاہتے ہو کیوں بلایا ہے ۔۔؟ زید نے ڈی اے کو غصے میں دیکھتے ہوئے کہا تھا اسے ۔۔

” تم کیا چاہتے ہو کیوں میری بیوی کے پیچھے پڑے ہو میں یہاں آج تمہیں لاسٹ وارننگ دینے آیا ہوں اب تم مجھے اسکے آس پاس بھی نظر نہ آؤ ۔۔!! ڈی اے نے سرد لہجے میں کہا تھا ۔۔

” ہاہاہا کمال کے بندے ہو بیوی سیریسلی بدلہ لے رہے ہو نہ تم چھوڑ دوگے اسے پھر کیوں ہو رہی ہے تکلیف تمہیں ۔۔!! زید نے قہقہہ لگایا تھا اسے جلانے کے لئے ۔۔

” تمہیں کس نے کہا میں اسے چھوڑ دونگا اس کا مطلب تم انتظار میں بیٹھے ہو ہاہاہا پھر یاد رکھنا اسے تو میں اپنی آخری سانس تک نہیں چھوڑوں گا جب تک ڈی اے ہے تب تک انعل داريان خان ہے اسے حاصل کرنے کے خواب دیکھنے چھوڑ دو ۔۔!! ڈی اے طنزیہ ہنستا اسے مزید جلایا تھا ۔۔

” تمہارا یہ پلین نہیں تھا تم اسے چھوڑ نے والے تھے میں اسے تمہارا ہونے نہیں دونگا وہ صرف میر ۔۔۔ کمینے دوبارہ اگر بولا تو جان لے لونگا تمہاری وہ صرف میری ہے سنا میری ہے ڈی اے داريان حیدر خان کی ہے وہ ۔۔!! زید غصے میں بولتا آگے کچھ لیکن ڈی اے نے آگے بڑھ کر اسکے منہ پر پنچ مارا بدلے میں زید نے بھی وار کیا دونوں پھر سے لڑنے لگے تھے لیکن انکے آدمیوں نے آکر انھیں الگ لیا ۔۔

” تو کیا سمجھتا ہے تو اسے تکلیف دیگا وہ پھر بھی تیرے ساتھ رہے گی نہیں دیکھنا وہ بھاگ جاۓ گی تیری قید سے میں اسے حاصل کر کے ہی رہوں گا پر سہی وقت پر ابھی کر لے جو کرنا چاہتے ہو میں واپس آؤں گا ۔۔!! زید اپنی آخری بات کہتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔

” ااااآہ شٹ کیوں کیا انعل حیات ایسا کیوں آنییییییی ۔۔!! ڈی اے غصے میں ٹیبل سے چیزے پھینکتا غصے میں ہاتھ اپنے بالوں میں پھیرنے لگا تھا ۔۔

★★★★

ماضی ؛

” یار حیدر کہاں رہ گئے تھے کب سے تجھے پوری یونی میں ڈھونڈ رہا تھا ۔۔؟ حیات حیدر کے گلے لگتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” یار وہی کام لیکن تمہیں تو کوئی پروا نہیں ہے تم جانتے ہو ہم سب نے مل کر یہ کام سٹارٹ کیا ہے اب سیریس ہو کر ساتھ دو ۔۔!! حیدر ناراضگی سے بولا تھا ۔۔

” اچھا میرے باپ کرتے ہیں سیریس ہو کر کام اب پڑھائی کے ساتھ کام سٹارٹ تو کیا ہے لیکن ہم جلدی نہیں کر رہے ۔۔!! حیات کو لگا پڑھائی کے بیچ ان لوگوں نے جو بزنس سٹارٹ کیا ہے وہ صحیح نہیں ۔۔

” تجھے نہ کوئی مسئلہ ضرور ہے جب سے کام سٹارٹ کیا ہے نخرے نہیں ختم ہوتے بیٹا ہم سب نے ملکر کام میں پیسے لگاۓ ہیں اگر ہم پڑھائی کے ساتھ ابھی اپنا بزنس سٹارٹ کریں گے سوچو کس بلندیوں پر پہنچ جائے گے ۔۔ مصطفیٰ نے پوری بات سمجھائی وہ ان چار دوستوں میں سمجھدار پڑھائی میں سیریس تھا حیدر بھی اسکی طرح تھا بس حیات اور فرحان مستی مذاق بہت کرتے تھے یہ ان چاروں کا گروپ تھا یہ لوگ بزنس پڑھ رہے تھے چاروں نے سوچا پڑھائی کے ساتھ کیوں نہ کچھ کام شروع کریں جو وہ لوگ ساتھ مل کر چلائیں ۔۔۔

” یہ لوں ۔۔ یہ کیا ہے ۔۔ مجھے بھی دکھاؤ ۔۔ پر یہ ہے کیا بتا تو صحیح فرحان ۔۔؟ فرحان نے کچھ پیپرز آکر انھیں دے سب اسے ہی دیکھ رہے تھے ۔۔

” یہ ہمارے بزنس کھولنے کے لئے جگہ ہے یہاں ہم شام کے ٹائم اپنا کام کریں گے چلو کوئی اچھا سا نام سوچتے ہیں ۔۔۔ واہ یار یہ تو کمال کردیا ۔۔ پہلے کلاس لیتے ہیں اسکے بعد سوچتے ہیں باقی چیزیں چلو شاباش ۔۔ حیات سب کو بولتا آگے بڑھ گیا وہ لوگ بھی ہنستے ہوئے پیچھے گئے چاروں کی دوستی سکول ٹائم سے تھی اس لئے وہ لوگ ایک دوسرے کو بہت اچھے سے سمجھتے تھے ۔۔

★★★★

حال ؛

” حان ہم صبح بھی تو آسکتے تھے ابھی رات کو آنا ٹھیک تھا ۔۔ زافا کو اچھا نہیں لگا تھا رات کو آنا وہ بھی اس کھڑوس کے گھر ۔۔

” میری جان صبح مجھے جلدی نکلنا ہے اس لئے ہم ابھی آئے ہیں اب چلو آؤ آرام کرو صبح بات کرنا ۔۔!! حنان اسے لیکے اپنے روم میں چلا گیا ۔۔۔

★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★

ماضی ؛

” فائنلی آج ہم کامیاب ہو گئے ہم چاروں نے مل کر اپنا وعدہ پورا کیا ایک ساتھ بزنس سٹارٹ کرنے کا ۔۔” حیات نے مسکراتے ہوئے خوشی سے کہا تھا ۔۔

” ماشاءاللّٰه بہت خوشی ہو رہی ہے آج سے ایک اور وعدہ کرتے ہیں ہم ایک دوسرے کے ساتھ ایمانداری سے کام کریں گے ایک دوسرے کو کبھی دھوکہ نہیں دینگے ۔۔؟ حیدر نے اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” وعدہ آگے بھی ساتھ کام کرتے رہیں گے ۔۔!! چاروں نے مل کر وعدہ کرلیا تھا پر یہ وعدہ کب تک چلنے والا تھا یہ تو وقت بتاۓ گا ۔۔

” وقت کا کام تھا گزرنہ اور اسی تیزی سے وقت گزرتا رہا سب نے مل کر پڑھائی کے بعد کام شروع کردیا تھا حیدر فرحان نے یونیورسٹی میں ہی اپنی لائف پاٹنر پسند کر کے شادی کرلی تھی حیات مصطفیٰ نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی ان سب کا بہت اچھا کام جا رہا تھا وہ لوگ ایک دوسرے کے گھر فیملی کو بہت اچھے سے جانتے تھے آتے رہتے تھے فرحان حیدر حیات مصطفیٰ کو بہت تنگ کرنے لگے تھے وہ لوگ بھی اب شادی کرلے لیکن وہ ابھی اپنے کام پر دھیان دینا چاہتے تھے ۔۔

★★

السلام علیکم بھابی کیسی ہیں آپ اور یہ حیدر کہاں ہے کال کر رہا تھا میں اسے اٹھا نہیں رہا تھا ۔۔؟ حیات حیدر سے ملنے اسکے گھر آیا تھا کچھ کام سے ۔۔

” ہاں وہ جلد بازی میں اپنا فون یہی بھول گئے ہے ۔۔۔ کیوں کہاں جا رہا تھا ۔۔۔۔ وہ اپنی بہن کو لینے گئے ہے آج پڑھائی کے لئے باہر گئی تھی آج واپس آرہی ہے اس لئے حیدر خوشی میں بھاگے چلے گئے تھے ۔۔!! مسز حیدر نے ہنستے ہوئے کہا تھا ۔۔

” اچھا داريان بھی ساتھ گیا ہوگا اوکے میں چلتا ہوں آپ اسے بتا دینا مجھے کال کرے کچھ کام تھا ۔۔!! حیات بولتا جانے لگا مسز حیدر نے بہت کہا رک جاؤ پر اسے جلدی تھی واپس جانے کی اس لئے باہر نکل گیا تھا سامنے ہی حیدر کی گاڑی نظر آئی ۔۔

” حیات تم یہاں ۔۔۔ ہاں تم سے ملنے آیا تھا کچھ کام تھا خیر پھر ملتے ہیں ۔۔۔ ارے رکو کہاں جا رہے ہوں آؤ اندر بات کرتے ہیں ۔۔۔ انعم بچے آجاؤ اب تم بھی آجاؤ ۔۔!! حیدر بولتا اندر بڑھ گیا تھا پیچھے حیات تو سامنے انعم کو دیکھتا وہی رک گیا تھا انعم بلی کے بچے کے ساتھ کھیلتے ہوئے آرہی تھی سفید رنگ خوبصورت نین نکش فل سفید سوٹ میں کندھوں تک کھلے بال وہ بہت خوبصورت دلکش لگ رہی تھی حیات تو جیسے کھو گیا تھا اسکے خوبصورت چہرے کی مسکراہٹ میں ۔۔

” السلام علیکم آپ کون ۔۔۔۔ مم میں حیدر کا دوست آپ ۔۔۔ اچھا ہم انکی چھوٹی بہن انعم خان ۔۔ !! انعم کے سوال پر حیات نے ہوش کی دنیا میں آتے جواب دیا تھا انعم مسکراتے ہوئے جواب دے کر آگے بڑھ گئی ۔۔

” السلام علیکم چاچو کیسے ہیں آپ ۔۔۔ وعلیکم السلام ٹھیک آپ سناؤ کیسے ہو ماشاءالله بہت بڑے پیارے ہو گئے ہو ۔۔!! حیات داريان کو پیار کرتا اندر گیا داريان نو سال کا خوبصورت گول مٹول بلکل اپنے باپ جیسا تھا ۔۔

★★

” حیات تمہیں نہیں لگتا حیدر کچھ زیادہ ہی کثم میں سیریس ہوتا جا رہا ہے ۔۔!! فرحان کو حیدر کا بہت کام کرنا اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔۔

” ہاں یہ تو اچھی بات ہے پھر ہمیں بھی بہت دھیان دینا چاہیے جو کے ہم بہت کم دے رہے ہے کتنا کہتے ہیں مصطفیٰ حیدر ہمیں لیکن ہم ہے گم نہ پھر نہ بس ۔۔!! حیات انعم کے بارے میں سوچ رہا تھا کے فرحان کے بولنے پر اسنے اپنی سوچ حاضر کی وہ اور فرحان بہت گم ہوتے تھے کام پر دونوں کا دھیان بہت کم ہونے لگا تھا ۔۔

وقت گزر رہا تھا حیات انعم کی وجہ سے بہت جانے لگا تھا حیدر کے گھر اسے انعم پہلی نظر میں ہی بہت پسند آگئی تھی اب اسے انعم کے دل میں اپنے لئے جگا بنانی تھی اسکا زیادہ جانا انعم سے تھوڑی بہت بات ہو جانا ایسے میں دونوں کی کافی اچھی بات چیت ہونے لگی تھی انعم کو بھی حیات پسند آنے لگا تھا اس وقت حیات کا کام پر توجہ دینا بہت کم ہو گیا تھا لیکن حیدر اور مصطفیٰ بہت محنت کر رہے تھے کام پر اپنے ایک دن حیات نے اپنے ماں باپ کو انعم کے گھر بھیج دیا اس بات سے سب بہت خوش ہوئے تھے دونوں فیملی ایک دوسرے کو بہت اچھے سے جانتی تھی اس لئے کسی کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا کچھ دن بعد انکی شادی کی ڈیٹ رکھ دی تھی ۔۔

★★

” تم جانتی ہو تمہیں پانے کے لئے کتنی محنت کی ہے میں نے ۔۔!! حیات انعم کو پیچھے سے حصار میں لیتا محبت سے بولا تھا ۔۔

” اچھا جناب آپ نے اکیلے نہیں کی ہماری ہاں کی وجہ سے بھی ہوا ہے کچھ ورنہ بھائی نے تو بتایا تھا آپ بہت مستی کرتے ہے سیریس بندے نہیں ہے ۔۔؟ انعم نے مسکراہٹ دبا کر کہا تھا ۔۔

” اس کمینے کو تو میں نہیں چھوڑو گا میری تعریف کرنی نہیں آتی تو بیعزتی تو نہ کریں وہ بھی میری محبت سے ۔۔!! حیات نے ہلکے غصے میں کہا تھا ۔۔

” اچھا بس ہمیں داريان کی یاد آرہی ہے چلے ملنے اور میرا دل بھی کر رہا ہے کچھ اچھا کھانے کو ۔۔۔ اوکے جناب چلتے ہیں اب تو میری پیاری بیوی کی فرمائش جو ہے اب ۔۔!! انہوں نے ہنستے ہوئے کہا تھا ۔۔

وقت کے ساتھ انکی محبت اور گہری ہوتی جا رہی تھی انعم تو حیات سے عشق کرنے لگی تھی اسے حیات کی عادت ہوگئی تھی حیات اب اس پر کام پر دھیان دینے لگا تھا چاروں کی دوستی بہت اچھی تھی انکی بیویا بھی اچھی تھی بس فرحان کی بیوی کو لالچ ہونے لگی تھی وہ دن رات فرحان سے کہنے لگی تھی اسے اپنا بزنس الگ کر دینا چاہیے کیوں کے اسے لگتا تھا وہ لوگ اور بھی زیادہ کامیاب ہو سکتے ہیں فرحان بھی اسکی باتوں میں آنے لگ گیا تھا آئے دن وہ ان سب سے روڈ بات کرنے لگا تھا ایک دن اسکی لڑائی ہوگئی تھی حیدر سے تب سے اسے حیدر پر اور بھی غصہ آنے لگا تھا حیات حیدر کے بہت قریب ہو گیا تھا یہ بات اسے برداشت نہیں ہو رہی تھی اس لئے اسنے سوچ لیا تھا حیات کو حیدر سے دور کرنے کا ویسا ہی ہوا وہ حیات سے بہت ملنے لگا اسے حیدر کے خلاف بھڑکانے لگ گیا تھا تھوڑا تھوڑا کر کے حیات بھی حیدر سے بیحث کرنے لگا تھا گھر آکر وہ انعم سے کہتا تھا انعم پریشان ہوگئی تھی ایسا کیوں ہو رہا تھا انکے ساتھ ان سب کے بیچ اتنی اچھی دوستی تھی پھر کس کی نظر لگ گئی تھی انھیں انعم اپنے بھائی سے کچھ کہتی تو وہ ہمیشہ اسکے لئے حیات سے جھگڑا ختم کر لیتا کیوں کہ اسے اپنی بہن بہت عزیز تھی ایک ہی بہن تھی اسکی جان تھی وہ ۔۔۔

★★

” مجھے لگتا ہے ہمیں اب اپنا بزنس الگ کر دینا چاہیے ۔۔؟ حیات کو یہ بات فرحان نے کہی تھی اسے لگا وہ صحیح کہہ رہا ہے روز روز کے جھگڑوں سے اچھا ہے ایک ہی بار میں الگ ہو جاۓ ۔۔

” یہ کیا کہہ رہے ہو پاگل ہو گئے ہو ہم سب نے مل کر کتنی محنت سے یہ بزنس ایک ساتھ سٹارٹ کیا ہے اب الگ ہو جائیں فرحان بھی لڑ کر اپنا حصہ لیکے الگ ہو گیا تھا اور اب تم ۔۔!! مصطفیٰ نے غصے میں کہا تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی یہ لوگ ایسا کیوں کر رہیں ہے ۔۔۔

” تمہیں یہ سب فرحان نے کہا ہے نہ تم اسکی وجہ سے کر رہے ہو نہ کیا ملے گا تمہیں یہ سب کر کے بولو ۔۔!! حیدر کی آج بس ہوگئی تھی اتنے دنوں سے اسکے نخرے برداشت کر رہا تھا صرف اپنی بہن کی وجہ سے ۔۔

” کیوں میرے پاس کوئی دماغ نہیں ہے میں خود کچھ سوچ نہیں سکتا اور کیا ہو گیا اگر الگ اپنا کچھ کرنا چاہتا ہوں تو کیوں تم یہ سب اکیلے لیکے بھاگنا چاہتے ہو مت بھولو ہم بھی حصہ دار ہیں ۔۔!! حیات نے غصے میں آگے بڑھ کر کہا تھا ۔۔

” اگر مجھے بھاگنا ہوتا تو بہت پہلے ہی لیکے بھاگ جاتا لیکن تم نے کیا کیا ہے بولو یہاں جتنی محنت میں نے اور مصطفیٰ نے کی ہے اس حساب سے ہم دونوں کا بہت بڑا حصہ ہوتا ہے تم نے کیا کیا ہے کبھی کبھی آفس آکر احسان کرتے تھے ہم پر اور اب بار بار کا حصہ کبھی نہیں ملے گا تم نے فرحان نے بہت دھوکہ دیا ہے مجھے اب نہیں تمہیں تمہارا حصہ چاہئے مل جاۓ گا جتنا ہے برابر کا کبھی نہیں ۔۔۔حیدر نے بے حد غصے میں فیصلہ سنایا تھا دونوں غصے میں دیکھتے ہوئے چلے گئے تھے انکے جاتے فرحان آیا تھا ۔۔

” دیکھا میں نے کہا تھا نا وہ سب کچھ خود لینا چاہتا ہے اب دیکھ لیا نہ یہ سب ہم نے بھی محنت کی لیکن اسے نظر نہیں آئی میں تو تھوڑے حصے میں خاموش ہو گیا تھا تم اپنا پورا حصہ لینا مت بھول نہ ۔۔!! فرحان شیطانی مسکراہٹ سے بولا تھا ۔۔

” وہ کمینہ کبھی نہیں مانے گا وہ بول کر گیا ہے نہیں دیگا لیکن میں بھی اسے نہیں چھوڑونگا لیکن میں کیا کروں وہ اپنا فیصلہ بدل دے ۔۔!! حیات نے غصے میں ٹیبل پر سے ساری چیزیں گرا دی تھی ۔۔

” ایک راستہ ہے لیکن پلیز آرام سے سن نہ غصہ مت کرنا اوکے میں بھابی کو نہیں لانا چاہتا بس تم انکے علاوہ کسی اور کے ذریعے یہ کام نہیں کر سکتے ہو ۔۔!! فرحان بہت سے غلط راستے اسے دکھاتا ہوا بولا وہ اپنے پلین میں کامیاب ہو رہا تھا اسے صرف حیدر سے بدلہ لینا تھا اپنی بیعزتی کا ۔۔

★★

” حیات یہ آپ کیا کہہ رہے ہے آپ ایسے تو نہیں تھے اب کیوں ایسا کر رہے ہیں ۔۔!! انعم نے نم آنکھوں سے کہا ۔۔

” دیکھوں انعم میرا دماغ پہلے ہی بہت خراب ہے اب تم مت کرو تم میرے ساتھ رہنا چاہتی ہو تو جاؤ بولو اپنے بھائی کو برابر کا شیئر دے ورنہ میں تمہیں چھوڑ دونگا ۔۔۔!! حیات غصے میں اس معصوم کو سزا دے رہا تھا جس کی کوئی غلطی نہیں تھی ۔۔

” یہ یہ کیا کہہ رہے ہے آپ پلیز ایسا مت کریں ہماری بیٹی کا سوچیں وہ بہت چھوٹی ہے ایک سال کی ہے حیات کیوں ہمیں بیچ میں لا رہے ہیں یہ آپکا اور بھائی کا مسئلا ہے نہ پلیز ۔۔!! انعم نے روتے ہوئے بہت سی التجا کی تھی ۔۔

” تمہیں نہیں تمہارے بھائی کو سزا دے رہا ہوں جب تمہاری آنکھوں میں آنسو دیکھے گا تو خود ہی پیچھے ہٹ جاۓ گا جب تمہاری آنکھوں میں میرے لیے ہماری بیٹی کے لئے تڑپ دیکھے گا تو ۔۔۔۔ نن ۔۔نہیں ایسا مت کریں حیات یہ غلط ہے ہمیں وہ سزا مت دیں جو ہم نے نہیں کی ہمیں مت الگ کریں آپ سے ہماری بیٹی سے پلیز مت کریں ایسا ۔۔۔!! انعم نے روتے ہوئے اسے بہت روکا لیکن اس بار شیطانی غصہ حاوی تھا اس وقت وہ اپنے حساب سے صحیح فیصلہ کرنے جا رہا تھا لیکن یہ صحیح تھا یا نہیں یے تو وقت بتاۓ گا اسے ۔۔

” جاؤ اور بول دو اپنے بھائی کو اب مجھے ایک پرسنٹ زیادہ چاہیے اسے منا کر پھر آنا ورنہ تم جانتی ہو میرے غصے کو ترسا دونگا تمہیں میری انعل کی شکل دکھانے کے لئے اگر تم ایسے واپس گھر آئی تو میں تمہیں طلاق دیدوں گا اب سوچ کر پھر آنا ہمیشہ کے لئے یہیں رہنا چاہتی ہو یا میرے ساتھ جاؤ اب ۔۔۔!! حیات غصے میں بولتا اسے دھکا دیتا گاڑی میں بیٹھ کر تیزی سے لے گیا انعم روتے ہوئے بہت کہہ رہی تھی اسے رک جانے کا پر وہ کہاں سن رہا تھا اس وقت داريان کھڑکی سے کھڑا سب دیکھ سن رہا تھا اسے حیات پر بہت غصہ آیا پر وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا وہ اپنی آنی کو گرتا دیکھتا چلاتے ہوئے نیچے بھگا ۔۔۔

★★

” یہ کیا بکواس کی ہے اسنے ایسے چھوٹی چھوٹی باتوں پر رشتے ٹوٹتے ہیں اسکا دماغ خراب ہو گیا ہے اور کچھ نہیں افسوس ہوتا ہے اسکی دوستی پر ۔۔!! حیدر کو بہت غصہ آرہا تھا حیات پر ۔۔

” پلیز بھائی اسکی بات مان لے میرے لیے ورنہ وہ ہمیں چھوڑ دینگے ہماری بیٹی سے بھی ملنے نہیں دینگے بھائی پلیز ہم انکے انعل کے بغیر مر جاۓ گیں۔ بھائی پلیز ۔۔۔ انعم انعم کیا ہوا تمہیں ۔۔!! انعم روتے ہوئے بےہوش ہوگئی تھی حیدر نے پریشانی سے اسکو جلدی سے اٹھایا ۔۔

★★

” آنی انو کہاں ہے آپ رو کیوں رہی ہیں ۔۔؟ وہ نو سالہ بچا کل سے اپنی جان سے پیاری پھوپھو کو روتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔۔

” انعل انعل کہاں ہے اسے لے آؤ نہ داری مجھے میری بیٹی چاہئیے پلیز اپنے بابا کو بولوں نہ اسے لے آئے ہم مر جائیں گے انکے بغیر ۔۔!! وہ شدت سے روتے ہوئے بولی ۔۔

” آنی آپ رونا بند کریں میں لے آؤں گا اسے آپ پلیز رونا نہیں میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں آپ ایسے مت روئے ۔۔!! داريان سے اپنی آنی کا رونا برداشت نہیں ہو رہا تھا وہ خود سے عہد کرنے لگا وہ اپنے بابا سے بات کرے گا ۔۔

” بابا آپ آنی کی بات کیوں نہیں مان رہیں ہے وہ بہت رو رہی ہے انو کو لے آئے نہ ۔۔!! داريان نے روتے اپنی آنی کے لئے بولا تھا ۔۔

” کچھ سمجھ نہیں کیا کروں میں ہر بار اسکی ضد کو پورا کرنا کون سی سمجهداری ہے بولو آج یہ کیا ہے کل کچھ اور کرے گا پھر کیا کرونگا میں بولو تم لوگ ۔۔!! حیدر پریشانی میں بولا تھا اسکی بیوی اور داريان کو اسکی بات بلکل صحیح لگی تھی پورے گھر میں پریشانی کا عالم تھا ۔۔

★★

” میں یہ نہیں کرنا چاہتا ہوں ان سب میں انعم کی کوئی غلطی نہیں لیکن حیدر کی وجہ سے میں اسے وہ سزا دے رہا ہوں جس کی وہ حقدار نہیں ہے ۔۔!! حیات انعم کے لئے بہت پریشان ہو رہا تھا غصے میں تو اسنے فیصلہ لے لیا تھا پر اب وہ پچھتا رہا تھا پر اپنی ضد سے پیچھے بھی نہیں ہٹ رہا تھا ۔۔۔

” دیکھ تو پریشان مت ہو کچھ غلط نہیں کیا تونے جو بھی ہوا ہے صحیح ہوا ہے اور بس دیکھ کیا کرتا ہے وہ ابھی تو زیادہ پریشان مت ہو ۔۔!! فرحان مسکراتے ہوئے اسے سمجھا رہا تھا جس میں وہ کافی کامیاب بھی ہو گیا تھا پھر سے اسے بھڑکانے میں ۔۔

” مجھے لگتا ہے ہمیں کچھ اور بھی کرنا چاہیے ۔۔۔ کیا مطلب کیا کرنا چاہیے اب ۔۔۔ دیکھ میری بات غور سے سن ہمیں اسے تھوڑا دھمکانہ چاہیے کیوں کے تم اور میں جانتے ہیں وہ اتنی جلدی راضی نہیں ہوگا ہماری بات ماننے کے لئے ایک ہفتہ ہو گیا ہے لیکن وہ ابھی تک خاموش ہے ۔۔!! فرحان بہت برین واش کرنے لگا تھا حیات کا وہ بھی اسکی باتوں میں آنے لگا تھا پھر دونوں نے مل کر ایک پلین بنایا تھا ۔۔۔

★★

” آنی پلیز چلیں باہر ہم گھومے گے بہت مزہ آئیگا پلیز میرے لیے چلے نہ ۔۔!! داريان بہت محبت سے اسے منا رہا تھا وہ ہمیشہ سے اس سے زیادہ قریب تھا انعم کو ایک ہفتہ ہو گیا تھا یہاں آئے ہوئے اب وہ تھوڑی خاموش ہوگئی تھی اپنے بھائی سے وہ ناراض تھی بات نہیں کرتی تھی روز رات کو وہ اس رب کے سامنے روتی تھی داريان اسکے ساتھ رہتا تھا وہ دن رات اپنی آنی کو تڑپتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔۔۔

” آنی مجھے حیات چاچو اچھے نہیں لگتے ہیں وہ بہت رولاتے ہے آپ کو ۔۔!! داريان کو حیات کا اس دن انعم کے ساتھ رویہ یاد آیا ۔۔

” ایسے نہیں کہتے آپ چھوٹے ہے نہیں سمجھتے کچھ وہ اچھے ہے بس وقت حالت انسان کو بدل کر رکھتے ہیں اچھا چلو کہاں جانا ہے ۔۔!! انعم داريان کی خاطر اسکے ساتھ باہر جانے کے لئے راضی ہوئی تھی وہ سب گاڑی میں بیٹھ کر باہر جانے لگے تھے آج تھوڑا موڈ اچھا تھا سب کا کیوں کے داريان کی برتھڈے تھی آج تو وہ لوگ باہر جا رہے تھے حیدر نے سختی سے کہہ دیا تھا وہ اتنی جلدی حیات کی بات نہیں مانے گا اس وجہ سے خاموشی ہوگئی تھی انعم نے بات کرنی بند کردی تھی حیدر اسکا خیال بہت اچھے سے رکھ رہا تھا وہ جانتا تھا یہ باتیں کچھ ٹائم کے لئے ہے پھر سب صحیح ہو جاۓ گا حیات اپنی غلطی مان لیگا جلدی ہی وہ اسکی بہن کو لے جاۓ گا وہ اپنی ہی سوچ میں تھا کے سامنے ۔۔

“۔ڈیڈ سامنے دیکھے بھائی حیدر ٹھااااا ۔۔۔!! سب کی چیخ سے ایک زور دار دھماکہ ہوا تھا سامنے سے آتی ٹرک نے زور سے وار کیا گاڑی جو کہ جنگ کی سائیڈ تھی اس پار ہوئی تھی گاڑی کے الٹ ہونے سے داريان اپنی سائیڈ سے گر چکا تھا اس جنگل میں باقی سب بیلٹ کی وجہ سے اس گاڑی میں ہی تھے وہ سیدھی کھائی میں گری ایک زور دار دھماکے کے ساتھ داريان کا بیلٹ کھولا ہونے کی وجہ سے وہ گر گیا تھا ۔۔

★★

” یس کام ہو گیا ہے ۔۔۔!! فرحان فون پر دوسری طرف خبر سنتا خوش ہوا تھا ۔۔

” پتا نہیں کیوں میرا دل گھبرا رہا ہے زیادہ چوٹ تو نہیں آئی نہ اسے تم نے کہا تھا ہم چھوٹا سا ایکسیڈنٹ کروائے گیں ۔۔

” تم پریشان مت ہو کچھ نہیں ہوا ہے بس اسکا دماغ ٹھکانے لگانا تھا ۔۔۔

” ہاں بولو کیا ہوا كياااا یہ یہ کیا بکواس کر رہے ہوں اا۔ایسا ۔۔کّک ۔۔کچھ نہیں ہو سکتا آ ۔انعم نہیں ۔۔۔ کیا ہوا حیات کس کا فون تھا ۔۔۔۔ تم تم نے کہا تھا چھوٹا سا صرف حیدر کا لیکن اسکی پوری فیملی کے ساتھ تونے میں نے یہ کیا کردیا ۔۔۔!! حیات فون پر دوسری طرف خبر سنتا غصے میں فرحان پر چلا یا تھا انکی ایک غلطی نے انکی پوری زندگی برباد کردی تھی ۔۔

★★

” کون ہو تم ۔۔!! جعفر نے سامنے اس نو سالہ بچے کو دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” مم ۔۔میں داريان حیدر خان ہوں مجھے اپنے بابا کے پاس جانا ہے میں کہاں ہوں ۔۔۔!! داريان نے ڈرتے ہوئے کہا اسے سامنے بیٹھے شخص سے خوف آرہا تھا ۔۔

” تمہارے ماں باپ مر گئے ہے کیا تمہیں یاد نہیں تم لوگوں کے ساتھ کیا ہوا تھا تمہیں وہاں سے میرے ایک آدمی نے ہسپتال پہنچایا تو تم بچ گئے ہو اب تمہاری زندگی ہماری ہے تو آج سے تم ہمارا کام کروگے ۔۔!! جعفر نے مسکراتے ہوئے سخت لہجے میں کہا تھا ۔۔

” نہیں تم جھوٹ بول رہے ہو میرے بابا والے زندہ ہے ہم لوگ گھومنے جا رہے تھے میں یہاں نہیں رہونگا بھاگ جاؤنگا ۔۔۔!! داريان کو غصے آیا تھا اس سامنے بیٹھے شخص پر ۔۔

” ابھی کمزور بچا ہے اسے مضبوط بناؤ پھر بات کریں گے بچے ۔۔!! جعفر بولتا اسے اندر لے جانے کا حکم دیا تھا داريان ایک گنگ کے ہاتھوں لگ چکا تھا اس پر دن رات ظلم کرتے اسے اور بھی زیادہ مضبوط بناتے تھے وقت کے ساتھ وہ خاموش ہو گیا تھا اسکا غصے بہت تیز تھا وہ بہت کم اپنا غصہ ظاہر کرتا تھا جعفر نے اسکے بارے میں بہت کچھ پتا لگوایا تھا اسے جب معلوم ہوا اسکے ماں باپ کا قتل ہوا ہے تو اسنے اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے داريان کو بہت کچھ سمجھایا اسے اپنے بدلے کے لئے تیار کیا داريان کو جب پتا چلا یہ سب کس نے کیا ہے تب اسے حیات شیرازی سے بےانتہا نفرت ہونے لگی تھی اسے جعفر سے کہا وہ پڑھنا چاہتا ہے ساتھ اسکے کام میں بھی ہاتھ بڑھائے گا وقت گزرتا جا رہا تھا داريان نے اپنی پہچان چھپانے کا سوچا اور اپنا نام اس گینگ میں ڈی اے رکھ دیا ڈی اپنا اور اے حیات شیرازی کی بیٹی انعل کا رکھا تھا اسنے اسے جب بھی کوئی ڈی اے بولتا اسے اپنا آپ یاد آتا اسے اپنی نفرت بدلہ یاد آتا تھا وہ جعفر کے ساتھ رہنے لگا تھا جعفر کا بیٹا زید دونوں کے بیچ بہت لڑائی جھگڑے ہونے لگتے تھے پھر دھیرے دھیرے انکی دوستی ہونے لگی ساتھ پڑھنا لکھا شروع ہوا تھا لیکن جب بھی گینگ میں ڈی اے کو زیادہ عزت مان دیا جاتا تھا اسے اور بھی غصہ آنے لگا تھا اس طرح زید پھر سے اس سے دور ہو گیا تھا اور اب تو انکے بیچ ایک لڑکی آگئی تھی جس سے ایک کو تو نفرت تھی تو دوسرے کو عشق ہو گیا تھا داريان انکی گینگ کا آدمی ضرور تھا وہ صرف بڑی ڈیل کرتا تھا اسکے ساتھ اسنے اپنا ایک بزنس سٹارٹ کردیا تھا حنان اسی دوران اسے ملا تھا جب وہ جعفر کے قید میں گیا تھا وہ بھی اٹھایا گیا تھا داريان لڑکیوں والے نشے میں کام نہیں کرتا تھا وہ صرف بزنس ڈرگ ڈیلنگ کرتا تھا ۔۔

★★★★

حال ؛

” تت ۔۔تم کون ہو اور مجھے یہاں کیوں لاۓ ہو ۔۔!! فرحان صاحب اس بند روم میں قید سیاہ فام نوجوانوں کو دیکھتا خوف سے بولا تھا ۔۔

” ہم کون ہے بہت جلد بتادیں گے تجھے اتنی جلدی بھی کیا ہے ۔۔!! وہ شخص قہقہہ لگا اٹھا اس کے خوف سے چہرے کو دیکھتے ہوئے ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *