Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafrat e Ishq (Episode 07)

Nafrat e Ishq by Mahra Shah

” گھبرانے کی بات نہیں ہے وہ ڈر خوف سے بے ہوش ہوئی ہے خیال رکھیں میں کچھ دوائی لکھ دی ہے آپ انہیں کھلا دینا بخار بھی اتر جائے گا إنشاءاللّٰه “۔۔ ڈاکٹر نے باہر نکلتے ہوئے کہا ۔۔

” جی بہت شکریہ آپکا میری بیٹی ٹھیک تو ہے نہ “۔۔ حیات صاحب نے بے چینی سے کہا ۔۔

” شکریہ کی بات نہیں یہ میرا کام ہے آپ بس انکا زیادہ خیال رکھیں ماشاءاللّٰه سے بہت معصوم پیاری بیٹی ہے آپکی “۔۔ ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے ہاتھ ملایا پھر باہر چلے گئے ۔۔

” بھائی صاحب انعل کو ہوش آگیا ہے وہ آپکو بلا رہی ہے آپ جائے میں اسکے لئے کچھ بنا کر لاتی ہوں “۔۔ بی جان نے روم سے باہر آتے حیات صاحب کو وہاں کھڑا دیکھ کر کہا جو اسکے ہوش آنے کا سنتے اسکے روم میں گئے تیزی سے ۔۔۔

” بابا ۔۔ بابا ۔۔ میرا بچہ ٹھیک ہے نہ “۔۔ انعل نے حیات صاحب کو اندر آتے ہی رو کر پکارا حیات صاحب نے بھاگتے ہوئے اسے اپنی آغوش میں لیا پیار سے اسکا ماتھا چوما جو بخار کی وجہ سے گرم تھا اسکا سفید چہرہ گلابی سرخ ہو گیا تھا بخار میں ۔۔

” بس رونا نہیں بابا ہے نہ ساتھ کچھ نہیں ہوگا آپ رونا بند کریں بابا کا بہادر بچہ ہی نہ آپ “۔۔ حیات صاحب کو اسکا رونا تڑپا رہا تھا ۔۔

” بب ۔۔ بابا ۔۔وو ۔۔وہ وہ ہمیں مار دیگا اا۔۔اسنے کہا ہے وہ ہمیں نہیں چھوڑے گا بب ۔۔بابا وہ کّک ۔۔کون ہے “۔۔انعل نے خوف سے روتے ہوئے کہا ۔۔

” کچھ نہیں ہوگا میرے بچے کو بابا ہے نہ ساتھ کوئی بھی آپکو ہاتھ نہیں لگا سکتا ہم اپنے بچے کو کچھ نہیں ہونے دیں گے بابا پر یقین ہے نہ “۔۔ حیات صاحب کے سمجھانے پر اسنے سر ہلا یا حیات صاحب اس سے پوچھنا چاہتے تھے کون ہے کیسے دیکھتا ہے پر اپنی بیٹی کی حالت دیکھتے ہوئے انہوں نے کچھ نہیں کہا بس اب اسکا بہت خیال رکھنا تھا وہ سمجھ گئے تھے جو بھی ہے وہ اسکا دشمن ہے جو اسکی بیٹی کو تکلیف دے کر اس سے بدلہ لینے کا سوچ رہا ہے ۔۔

★★★★★

” یہ یہاں کیا کر رہی ہے “۔۔دافيہ نے دور سے رمشا کو کسی کے ساتھ اندر ریسٹورنٹ میں جاتے دیکھا ۔۔

” جو بھی کرے مجھے کیا آفس سے نکال کر ضرور خوش ہوتی ہوگی بی سر سے جو چپکی رہتی ہے ہونہہ “۔۔ دافيہ منہ بنا تے ہوئے خود سے بڑبڑائی ۔۔

” یہ یہاں کیا کر رہی ہے ویسے تو ہمیشہ بی سر کے ساتھ چپکی رہتی ہے پھر ابھی آفس میں نہیں ہونا چاہیئے تھا “۔۔ دافيہ کو تجسس ہو رہا تھا اسکے یہاں پر کسی کے ساتھ ہونے پر وہ کچھ سوچتی اندر گئی ریسٹورنٹ میں آج تھوڑا کم رش تھا اس لئے دافيہ کو وہ لوگ آرام سے دکھ گئے وہ لوگ دوسری سائیڈ پر بیٹھے ہوئے تھے دافيہ آرام سے چلتی ہوئی دوسری ٹیبل پر بیٹھ گئی جہاں اسکی اور رمشا کی پیٹھ تھی وہ آرام سے انکی باتیں سن سکتی تھی وہ لوگ شاید بحث کر رہے تھے کسی بات پر دافيہ نے غور سے سننا چاہا ۔۔

” تم میرے ساتھ دھوکہ نہیں کر سکتے ہماری ڈیل ہوئی تھی ہم ففٹی ففٹی لیں گیں “۔۔ رمشا نے غصے میں دانت پیستے ہوئے کہا ۔۔

” میں تمہارے ساتھ کام کرکے اور نقصان نہیں اٹھا سکتا تم صرف تھوڑا کام کرتی ہو آگے تو سب مجھے ہینڈل کرنا پڑتا ہے “۔۔ زین انصاری نے غصے میں کہا اسے رمشا کی ہر وقت پیسے لینے پر اب غصہ آگیا تھا ۔۔

” تم مجھے دھوکہ نہیں دے سکتے تم جانتے ہو میں کیا کر سکتی ہو “۔۔ رمشا اسکے انکار پر آگ بگولا ہوگئی ۔۔

” ہاہاہا دھوکہ رئیلی یہ لفظ تمہارے منہ سے اچھا نہیں لگتا مس رمشا دھوکہ تو تم دیتی ہو وہ بھی بہت خوبصورت انداز میں لوگوں کو بھول گئی اپنے دوستوں کو ان بیچاروں کے ساتھ کتنا دھوکہ کر چکی ہو “۔۔ زین انصاری نے طنزیہ قہقہہ لگایا ۔۔۔

” تم جانتے ہو یہ سب میں نے تمہاری ۔۔۔ بس بس بہت بار سن چکا ہوں محبت افف یہ لفظ نہ بہت ہی زہر لگتا ہے تم جانتی ہو

مجھے اور مجھے صرف خوبصورتی اٹریکٹ کرتی ہے “۔۔ زین نے اسے دیکھتے ناگواری سے کہا رمشا دیکھنے میں بہت خوبصورت تھی اسکا سٹائل موڈلنگ زین کو اچھا لگا تھا تبھی سے وہ اسکو اپنے جال میں پھنسا چکا تھا پر رمشا کو اس سے محبت ہوگئی تھی اسی بات سے زین فائدہ اٹھاتا تھا ۔۔

” تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے زین انصاری تمہارے لئے میں نے بیراج شیرازی کی ڈیزائن چوری کی اور تمہیں دی تم میرے محبت کا یہ سلا دے رہے ہو “۔۔ رمشا غصے میں چیخی ۔۔

دافيہ جو کب سے انکی باتوں پر صدمہ میں تھی اسکی آخری بات چوری پر شاک میں آگیا اسے یقین نہیں ہوا یہ سب اسنے کیا ہے وہ لوگ کتنا ٹرسٹ کرتے تھے اس پر وہ مزید کچھ نہیں سن سکی اسنے جلدی سے موبائل کی ریکارڈنگ اوف کی اور باہر کی جانب بھاگی آنسو اسکی آنکھوں سے بہہ رہے تھے شاید اس ظالم کو یاد کرتے یا اپنی بے گناہی کا ثبوت تھا اسکے پاس ۔۔۔

★★★★★

” حان اٹھو اپن کو بھوک لگی ہے “۔۔ زافا کب سے حنان کو جگا رہی تھی پر وہ تو گھوڑے گدھے بیچ کے سو رہا تھے اپنی میٹھی نیند میں زافا کو جلدی اٹھنے کی عادت تھی اس لئے وہ فریش ہو کر حنان کے ہی کپڑے پہنے ہوئے تھے اسے یاد آیا وہ تو اپنے گھر سے کچھ بھی نہیں لائی ویسے ہی اسے حنان کی سمجھ نہیں آرہی تھی اسنے کیوں شادی کی اس سے وہ بھی اتنی جلدی اسکے پاس تو کچھ بھی نہیں تھا وہ تو غریب تھی چور تھی پھر کیوں اسکو محبت ہوئی اس سے وہ صرف کل سے انہی سوچوں میں تھی اتنا تو وہ اب جان گئی تھی حنان کو محبت ہے اس سے تبھی اتنا خیال رکھ رہا تھا کل سے رات بھی بہت لڑنے کے بعد اسنے پیار محبت بھرے لہجے میں سمجھایا اسکو کیسے وہ پہلی نظر میں اسکو پسند آئی اور وہ اسکے ٹائپ کی ہے اس لئے اسنے شادی کی زافا کو بھی حنان اچھا لگتا تھا لیکن محبت وہ تو شاید اب ہو جائے اسنے سوچا ۔۔۔

” حنان اٹھو ورنہ میں تمہاری جان لیلونگی اپن یہاں بھوک سے مر رہی ہے تمہاری نیند نہیں ختم ہوتی “۔۔ زافا نے غصے میں اسے جھنجھورا ۔۔

” سونے دو یار مجھے بھوک نہیں لگی آجاؤ تم بھی سو جاؤ بعد میں اٹھیں گیں “۔۔ حنان نے ایک آنکھ کھولتے ہوئے کہا اور اسے بھی اپنی طرف کھینچا وہ لہراتی ہوئی اسکے اپر آ گری ۔۔

” حان ااا چھوڑوں اپن کو میں نے کہا بھوک لگی ہے سونا نہیں ہے تم اٹھ رہے ہو یا نہیں میں نہیں چھوڑوں گی تمہیں اب “۔۔ زافا غصے شرم میں سرخ ہوتے اسکے حصار میں نکلنا چاہا ۔۔

” ااہہہہ ظالم لڑکی چھوڑو یار اٹھ رہا ہوں ۔۔”

” نہیں تمہیں عزت راس نہیں آتی اب بتاتی ہوں ۔۔”

” زافی یار چھوڑو اچھا ظالم رکو سانس تو لو یار میری ہی سانسیں بند کردو گی تمہاری تو “۔۔ زافا غصے میں اسکے حصار کو توڑ کر اسکے اپر چڑھ گئی اور تکیہ اٹھا کر اسے مارنے لگی حنان خود کو چھوڑواتا بولے جا رہا تھا کبھی ایک ہاتھ پکڑتا تو وہ دوسرے ہاتھ سے وار کرتی ۔۔

” ااہہہ ۔۔ حاننن کمینے چھوڑو “۔۔ اچانک حنان نے اسے پکڑتے ہی بیڈ پر گرایا اور خود اسکے اوپر آگیا زافا اسکی چلاکی پر غصے میں دانت پیسے ۔۔

” اب آگئی نہ جنگلی بلی شیر کی قید میں اب بتاؤ کیا کہہ رہی تھی میری بلی “۔۔حنان نے اسکے ہاتھوں پر اپنی گرفت مضبوط کی اور جھک کر اپنی محبت کی مہر ثبت کی اسکے ماتھے پر زافا نے سرخ پڑھتے دھک دھک دل کے ساتھ آنکھیں موند لی حنان نے پیچھے ہوتے اسکی بند آنکھوں کو دیکھا جھک کر کان میں سرگوشی کی ۔۔

” تم بہت خوبصورت ہو اور سب سے زیادہ تمہاری ناک بہت پیاری ہے جس میں یہ پیاری سی نوز پن ہے میرے نام کی “۔۔ اسکی تعریف پر اس کو رات کی بات یاد آئی جب اسنے منہ دکھائی میں اسے نوز پن پہنائی تھی حنان کو شروع سے نوز پن پسند تھی اسنے ہمیشہ سے سوچا تھا وہ اپنی بیوی کو یہی گفٹ دیگا ۔۔

” اپن کو بھوک لگی ہے ناشتہ کرنے دو “۔۔ زافا نے معصومیت سے آنکھیں ٹپکا کر کہا ایسے کرتے ہوئے وہ حنان کو بہت پیاری لگی اسنے جھک کر اسکے گال کو چوما ۔۔

” میری بلی بہت پیاری ہو قسم سے دل ہی نہیں کرتا تمہیں چھوڑوں ۔۔كياااا “۔۔ حنان کے بولنے پر وہ زور سے چیخی مطلب وہ کب سے کہہ رہی ہے ببھوک کا کیا اسے سمجھ نہیں آرہی غصے میں آتے ہی اسنے زور سے دھکہ دیا حنان دھڑام سے نیچے گر گیا ۔۔

” ااہہہ جنگلی بلی بول نہیں سکتی تھی کیا “۔۔ حنان نیچے گرا کمر پکڑ کر کراہ رہا تھا ۔۔

” کب سے اپن تیرے کو بول رہی ہے پر تیرے سر پر عشق کا بھوت سوار ہے یہاں میری بھوک سے حالت خراب ہو رہی ہے “۔۔ غصے میں کہتی واش روم میں گھس گئی پھر تیزی سے واپس آئی اور سوچنے سمجھنے کا موقع دیے بغیر حنان کے سر پر پانی کی بالٹی الٹ دی اور تیزی سے باہر بھاگی جانتی تھی حنان نہیں چھوڑے گا اب ۔۔

” اااا زافی کیا بدتیمزی ہے تمہیں تو میں نہیں چھوڑونگا کب سے بدلے پے بدلے لے جا رہی ہو کچھ کہہ نہیں رہا تو فائدہ اٹھا لیا “۔۔ حنان غصے میں کہتا باہر کی جانب ہوا صبح جلدی اٹھا یا اور مارا اور پانی اب اسکی برداشت نے جواب دے دیا ۔۔

” شٹ ڈی اے گھر پر ہے زافییی تمہارے علاوہ بھی وہ ہے میرے خون کا پیاسہ اف میری قسمت سارے لوگ دشمن ہے میرے کوئی میری طرف نہیں “۔۔ حنان دروازے تک پہنچا تو اسے یاد آیا ڈی اے گھر پر ہے اور زافا اور اسکی لڑائی شور اف سوچتے ہی خود پر غصہ آیا اسے ۔۔

” ایک تو یہ رائیٹر کے ریڈز بھی ڈی اے داريان کے دیوانے مجال ہے کوئی میری طرف بھی ہو ہنڈسم ڈون ہوں اچھا دکھتا ہوں پر نہیں بس ڈی اے کا پوچھتے ہیں “۔۔ حنان خود سے بڑبڑا یا ۔۔

★★★★

” فرحان میں بہت ڈر گیا ہوں مجھے اپنے ماضی سے بہت ڈر لگتا ہے میری بیٹی کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے کون ہے وہ لوگ کیوں کر رہیں ہے “۔۔حیات صاحب پریشان سے فرحان سے بولے دونوں اس وقت آفس میں تھے انعل کی اب طبیعت بہتر تھی تبھی وہ آفس آئے ہوئے تھے ۔۔

” تم کیوں ماضی کی باتیں یاد کرتے ہو بھول جاؤ وہ سب ختم ہو گیا ہے ایسا کچھ نہیں جسے تمہیں ڈر لگے اور رہی بات انعل کے ساتھ کیا ہو رہا ہے تو یہ کوئی آج کا دشمن ہوگا تم جانتے ہو بزنس میں تو ہمارے بہت دشمن ہیں “۔۔ فرحان صاحب نے سمجھا یا ۔۔

” پتا نہیں فرحان بہت ڈرتا ہوں اپنی بیٹی کے نصیب سے اللّه پاک اسکے نصیب اچھے کریں وہ ہمیشہ خوش رہے میرے لئے یہی بہت ہے وہ میری زندگی ہے “۔۔حیات صاحب انعل کے لئے بہت ڈر گئے تھے اب ۔۔

” ڈرو مت یار ہماری بیٹی ہے ہی بہت پیاری کیوں نہیں ہوگے اچھے نصیب اسکے میں نے تم سے کچھ کہا تھا کچھ سوچا اسکے بارے میں “۔۔ فرحان صاحب نے اپنی بات یاد دلائی ۔۔

” ہاں میں نے سوچا بھائی صاحب بیراج سے بھی بات کی پر “۔۔ حیات صاحب بات کرتے ہوئے رک گئے ۔۔

” پر کیا میرے بیٹے میں کیا کمی ہے “۔۔ فرحان صاحب اسکے رک جانے پر غصے میں کہا انہیں لگا انکے بیٹے میں کوئی کمی ہو ۔۔

” فرحان ایسی بات نہیں ہے پر انعل کی آنکھیں کچھ اور کہتی ہیں اور میں اپنی بیٹی کو رلا نہیں سکتا وہ بہت خوش ہوتی ہے جو اسے پسند ہوتا ہے “۔۔ حیات صاحب کو سمجھ نہیں آیا کہاں سے بات شروع کریں ۔۔

” کیا مطلب کیا کہنا چاہتے ہوں کھل کر کہو کیا انعل کسی کو پسند کرتی ہے “۔۔ فرحان صاحب نے انکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا ۔۔

” ہاں وہ داريان کو پسند کرنے لگی ہے مجھے یقین ہے داريان بھی کرتا ہوگا وہ کافی بار ہماری مدد کر چکا ہے اسکی آنکھوں میں دیکھتا ہے وہ انعل کی فکر کرتا ہے انعل بھی کافی اٹیج ہوگئی ہے اسکی باتیں کرتی ہے مجھے سے اس لئے مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا میں کیا کرو عفان بہت پیارا بچہ ہے مجھے کوئی مسئلہ نہیں اس سے پر میں اپنی بیٹی کو خوش دیکھنا چاہتا ہو “۔۔ حیات صاحب نے گہرا سانس بھرا ۔۔

” ٹھیک ہے اگر ہماری بیٹی خوش ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن کیا داريان خان نے کچھ کہا ہے ایسا کچھ رشتے کے بارے میں “۔۔ فرحان صاحب نے بظاہر تو مسکرا کر کہا پر اندر سے وہ بےانتہا غصے میں تھے ۔۔۔

” نہیں ابھی تک تو کچھ نہیں کہا پر اسکی آنکھیں یہی کہتی ہیں خیر تھوڑا انتظار کرتے ہے وہ کیا کہتا ہے مجھے انعل سے بھی پوچھنا ہے اگر اسے عفان سے مسئلہ نہیں تو پھر ہم سوچے گیں “۔۔ حیات صاحب نے مسکرا کر انکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا جو بھی تھا وہ انکے بہت پرانے دوست تھے ۔۔

★★★★

” تمہیں اب بات کر لینی چاہیے “۔۔ عفان نے اسے کام میں مصروف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔

” ہمم کس بارے میں “۔۔ مصروفیت سے کہا ۔۔

” تمہاری شادی کی بات کر رہا ہوں اگر اب کچھ نہیں کیا تو میرا باپ میرا رشتہ لے جائے گا پھر بیٹھے رہنا یہیں “۔۔ عفان نے چڑ کر کہا اور آگے بڑھ کر اسکا لیپ ٹاپ بند کردیا ۔۔

” ہاہاہا تمہیں لگتا ہے میں تمہیں دولہا بننے دونگا کیوں ایسے خواب دیکھ رہے ہو جو پورے نہیں ہو سکتے “۔۔۔ داريان نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ۔۔

” غلط فہمی ہے تیری میں بہت کچھ کر سکتا ہوں اتنا تو مجھے بھی جانتا ہے داريان خان “۔۔ عفان طنزیہ مسکرایا ۔۔

” انعل حیات صرف اور صرف داريان خان کی ہے اسکے جانب کسی نے بھی آنکھ اٹھا کر دیکھا تو اسکی آنکھیں نکالنا بہت اچھے سے آتی ہیں “۔۔ داريان نے ایک دم سنجیدگی سے کہا ۔۔۔

” ہاہاہا اور وہ جو ڈی اے اسے اٹھا لے جاتا ہے بار بار اسکی آنکھیں کیوں نہیں نکالی “۔۔ عفان اسکی دھمکی پر قہقہہ لگایا ۔۔

” مجھے جلد بازی کا کام پسند نہیں وقت ہوتا ہے ہر چیز کا اور میرا وقت اب شروع ہوگا جسٹ ویٹ اینڈ واچ “۔۔۔ داريان نے سوچ لیا تھا اب وقت آگیا ہے اسے آگے بڑھنا ہوگا ۔۔۔

★★★★

” میم رکے آپ اندر نہیں جا سکتی “۔۔ سیکریٹی نے دافيہ کو میٹنگ روم میں جانے سے روکا ۔۔

” جسٹ شٹ اپ مجھے بی سر سے بات کرنی ہے بہت ضروری ہے ہٹو “۔۔ دافیہ اسے سائیڈ پر کرتی اندر گئی ۔۔

” جیسے کہ آپ جانتے ہیں ہم اس بار “۔۔بیراج بولتے رک گیا سامنے دروازہ کھلنے پر اسکی آنکھوں میں غصہ اتر آیا دافيہ کو اس طرح میٹنگ میں آکر ۔۔۔

” سوری ایوریون لیکن بی سر مجھے آپ سے بات کرنی ہے پلیز “۔۔ دافیہ کو پہلے نہیں پر اب واقع شرمندگی ہوئی اس طرح سب کے بیچ اور اب بیراج کی سرخ آنکھیں ۔۔

” یہ کیا بدتمیزی ہے مس دافیہ شہباز آپ میں کوئی مینرز نہیں “۔۔ بیراج غصے میں دھاڑا دافيہ کو امید نہیں تھی وہ اتنا غصہ ہوگا وہ پیچھے ہوئی ایک قدم ۔۔

” ببی ۔۔سس ۔۔ سر ۔۔”

” شٹ اپ جسٹ شٹ یو ار مائوتھ گیٹ آوٹ رائٹ ناؤ ۔۔ بیراج سرخ آنکھوں سے غصے میں دھاڑا پتا نہیں کیوں اسے آج بے انتہا غصہ آیا دافيہ پر “۔۔اسکی دھاڑ پر سب ڈر گئے تھے دافیہ کو تو اسکے غصے کا سمجھ نہیں آیا سب کے سامنے اپنی اتنی تذلیل ہوتے دیکھ آنسوں بہاتی ہوئے بھاگی باہر اس بے وفا ظالم نے آج پھر اسکا معصوم دل توڑ دیا تھا وہ تو اپنی بے گناہی ثابت کرنے آئی تھی پر یہ کیا ہوا اسکے ساتھ کچھ سمجھ نہیں آیا اسے ۔۔

★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★

” تم نے اچھا نہیں کیا بیراج ” ۔۔ شان نے افسوس سے دیکھا اسے ۔۔

” اچھا اور جو اسنے کیا وہ اچھا تھا “۔۔ بیراج نے غصے میں گھورا اسے ۔۔

” وہ بات کرنے آئی تھی کچھ تو ضروری بات ہوگی نہ جو وہ اس طرح آئی ورنہ تم میں اور سب جانتے ہیں وہ ایسی نہیں ہے اور تم نے اسے سب کے سامنے بیعزت کردیا “۔۔ شان کو اب فکر ہو رہی تھی دافيہ اس طرح تو نہیں کرتی کبھی ۔۔

” اور اس نے سب کے سامنے میری انسلٹ کروائی اسکا کیا اور ایسی بھی کیا بات تھی جو ویٹ تک نہیں کر سکتی تھی کیا میں بھاگا جا رہا تھا نہیں نہ اسے صرف بدلہ لینا تھا “۔۔ بیراج کی بد گمانی بڑھ گئی تھی اب دافيہ کے لئے ۔۔

” بدلہ کیسے بدلہ یار وہ ایسی نہیں ہے تم کیوں اتنی نفرت کرنے لگے ہو “۔۔ شان کو اب غصہ آرہا تھا اس پر ۔۔۔

” ہاں بدلہ تا کہ وہ پیسے نہ بھرے اور تمہیں بہت فکر ہے اسکی لگتا ہے بہت اچھے سے جانتے ہو “۔۔ بیراج طنزیہ مسکرایا ۔۔

” تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا بس دماغ خراب ہو گیا ہے میری ہی غلطی تھی جو اس بیچاری کو یہاں جاب دی “۔۔ شان غصے میں کہتا باہر نکل گیا ۔۔

” آآاا ۔۔ دافيہ شہباز تمہیں میں نہیں چھوڑوں گا بہت کرلی میری انسلٹ تم نے میرے ہی دوست کو اپنی جال میں پھنسا لیا “۔۔ بیراج غصے میں ٹیبل سے چیزیب نیچے پھینک دی اسکی سرخ آنکھوں میں دافيا کا چہرہ لہرا یا ۔۔

★★★★

” زافی بلی رک جاؤ ہاتھ لگی تو بہت برا ہوگا “۔۔حنان اسکے پیچھے بھاگتے ہوئے بول رہا تھا ۔۔

” اچھا کیا کرو گے تم بھول جاتے ہو اپن کو تم سے نپٹنا بہت اچھے سے آتا ہے حنان صاحب “۔۔ زافا نے مسکراتے ہوئے ایک آنکھ دبائی۔۔

” دیکھو یار یہاں پر شور مت کرو روم میں چل کر لڑتے ہیں آؤ شاباش ورنہ بیوہ ہو جاؤ گی “۔۔ حنان نے یہاں وہاں دیکھتے ہوئے اس سے پیار سے کہا ۔۔

” کیوں یہ تو اپن کا گھر ہے نہ سارا پھر یہیں لڑتے ہیں پر پہلے بھوک لگی ہے کچھ کھلاؤ ورنہ اپن تیرے خون پی لے گی بیوہ ہونے کو اپن کو کوئی غم نہیں “۔۔زافا نے کندھے اچکائے جیسے اسے کوئی پرواہ نہیں۔۔

” دھیج میں لائی ہو گھر جو پورا تمہارا ہو گیا تمہاری تو “۔۔ اسکی بات پر حنان کو غصہ آگیا وہ پھر سے اسکو پکڑنے کے لئے بھاگا تھا کے ایک گهمبیر آواز پر رک گئے اسکے قدم ۔۔

” حان ۔۔” ایک رعب دار آواز گونجی ۔۔

” شٹ مر گیا میں “۔۔ حنان نے سختی سے آنکھیں میچی ۔۔

” یہ کون ہے اتنا حسین مرد “۔۔ زافا نے حنان کے قریب آتے سرگوشی میں کہا ۔۔

” شرم نہیں آتی اپنے شوہر کے سامنے دوسروں کی تعریف کرتے ہوئے “۔۔ حنان نے جھٹکے سے آنکھیں کھولی اور زافا کو غصے میں گھورا ۔۔

” کیا ہو رہا تھا یہاں “۔۔ ڈی اے نے دونوں کو گھورتے ہوئے کہا ایک نظر زافا کے ہلیے پر ڈالی جو حنان کے ٹی شرٹ کھلی جینز چھوٹے کندھوں تک کھلے بھکرے بال دیکھنے میں وہ بہت پیاری تھی ڈی اے کو حنان کی پسند اچھی لگی کیوں کے وہ بھی اسکی طرح حنان کا سکون جو برباد کرنے آئی ہے ۔۔

” پیار ۔۔۔ لڑائی “۔۔ زافا حنان دونوں ایک ساتھ بولے پھر ایک دوسرے کو گھورتے ہوئے دیکھا ۔۔

” یہ دونوں چیزیں یہاں کرنے کی وجہ “۔۔ ڈی اے پینٹ کی جیب میں دونوں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا وہ فل بلیک پینٹ کوٹ میں تھا اسکی گرے آنکھیں ہمیشہ کی طرح سرخ تھی جو اسکو بے حد خوبصورت بنا رہی تھی ۔۔

” سنو لڑکی تم جانتی ہو جسے تم مار رہی تھی اسے مارنے کا حق صرف میرا ہے “۔۔ ڈی اے نے زافا کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا ۔۔

” ہاہاہا اچھا اب یہ اپن کو بھی حق ہے چلوںل ڈیل کرتے ہے دونوں مارنے کا حق رکھتے ہیں اس پر “۔۔زافا نے ایک نظر حنان کو دیکھتے ہوئے ڈی اے سے کہا اسے ڈی اے اچھا لگا تھا مطلب کوئی اور بھی تھا جو حنان سلطان کو سیدھا کرتا ہے یہ بات اسکے لئے بہت خوشی کی تھی ۔۔

” شرم نہیں آتی دونوں کو مجھ معصوم کو مارنے کے منصوبے بنا رہیں ہیں میری بھی بد دعا لگے گی “۔۔ حنان تو صدمہ سے نکل کر چلایا ۔۔

” اچھا یہ بتاؤ یہ کون ہے “۔۔ زافا پھر حنان سے مخاطب ہوئی ۔۔

” تم جاؤ بھوک لگی تھی نہ وہ رہا کچن جاؤ میں آتا ہوں پھر بتاتا ہوں تمہیں سب “۔۔ حنان نے ایک نظر اس پر ڈالتے ہوئے کہا حنان کے بولنے پر اسے اپنی بھوک کا احساس ہوا تو سیدھا کچن میں بھاگی حنان سنجیدہ ہوتے ڈی اے کی طرف بڑھا وہ پہلے ہی وہاں سے اسٹڈی روم میں چلا گیا تھا ۔۔

★★★★

” تم نے زید جعفری کو کیوں چھیڑا ہے اب جانتے نہیں وہ اب سکون سے نہیں بیٹھے گا “۔۔۔ حنان نے غصے میں کہا جب سے اسے پتا چلا تھا وہ اسی بات کے ڈر میں تھا ویسے تو وہ لوگ ڈرتے نہیں تھے لیکن انکے کام کے بیچ تو وہ آسکتا تھا ۔۔

” اگر اسنے کچھ کیا تو کیا ہم خاموش بیٹھیں گے اور ہاں اس فرحان صاحب پر نظر رکھو “۔۔ ڈی اے دروازے کی طرف بڑھا پھر رک کر حنان سے کہا ۔۔

” اور ہاں آج شور برداشت کرلیا دوبارہ ایسا نہیں ہونا چاہیے “۔۔ ڈی اے نے وارن کیا ۔۔

” تم پھر سے اس معصوم کا سکون برباد کرنے جا رہے ہو ایک ہی بار میں کیوں نہیں کر دیتے اسکا سکون برباد کبھی ایک روپ تو کبھی دوسرا ایسے تڑپانے سے اچھا ہے ایک ہی بار میں تڑپا دو “۔۔ حنان غصے میں کہتا باہر نکل گیا اسے انعل کے لئے بہت افسوس ہوتا تھا وہ معصوم جس کی کوئی غلطی نہیں پھر بھی ایک نفرت میں بدلے کا شکار ہو رہی تھی ۔۔

” تو وقت آگیا ہے تم سے بدلہ لینے کا حیات شیرازی میں تمہیں بتاؤنگا درد تکلیف کیا ہوتی ہے تڑپانا کیا ہوتا ہے “۔۔ڈی اے کی آنکھیں سرخیوں سے بھر گئی تھیں ۔۔

★★★★

” نہیں شان سر میں یہ کیسے لے سکتی ہوں آپکی کوئی غلطی نہیں ہے یہ سب میرا نصیب تھا “۔۔ دافيہ نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا ۔۔

” نہیں دافیہ یہ میری غلطی ہے مجھے وہ کانٹریکٹ بنانا ہی نہیں چاہئیے تھا بیراج کے اسی غصے کی وجہ سے میں نے کیا کوئی بھی اسکے ساتھ زیادہ تر کام نہیں کر پاتا “۔۔ شان اسکی مدد کے لئے یہاں آیا تھا وہ جانتا تھا بیراج اسے نہیں چھوڑے گا ۔۔

” اگر میں پیسے نہیں دیتی تو کیا کرنا پڑے گا مجھے “۔۔ دافیہ نے کچھ سوچ کر کہا ۔۔

” پھر یا تو پیسے نہ دینے پر جیل جاؤ گی یا پیسے دے کر اپنی جان چھوڑوالو یا پانچ مہینے تک جاب کرکے اس کنٹریکٹ کا ٹائم ختم کرو اور اس بیچ تمہیں بیراج کی ہر بات بدتمیزی برداشت کرنی پڑے گی “۔۔ شان اسکا ارادہ سمجھ گیا مسکراتے ہوئے بولا ۔۔

” ٹھیک ہے پھر میں تیار ہوں میں آپکی بہت شکر گزار ہوں پر پیسے نہیں لے سکتی اور اب میں بھی اپنا بدلہ لینے آؤنگی بہت زیادہ بیراج سر کو تنگ کروں گی اب “۔۔ دافيہ نے ہنستے ہوئے کہا اسنے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا تھا ۔۔

★★★★

” بابا ہمیں بہت مزہ آرہا ہے یہاں کتنی اچھی جگا ہے نہ “۔۔۔ انعل اپنے بابا حیات صاحب کے ساتھ باہر پارک میں واک کر رہی تھی ۔۔۔

” میرا بچا خوش ہے کبھی کبھی تازی ہوا کھا لینی چاہیے صحت کے لئے بہت اچھی ہوتی ہے “۔۔ حیات صاحب آج صبح اسے واک کے لئے لائے تھے وہ چاہتے تھے وہ انکے ساتھ کھل کر بات کرے ڈاکٹر نے بھی کہا تھا وہ انہیں خوش رکھیں ۔۔

” بابا آپ بہت اچھے بابا ہے ہم آپ سے بہت بہت زیادہ پیار کرتے ہیں “۔۔ انعل رک کر انکے سینے سے لگتے ہوئے کہا وہ دنیا میں سب سے زیادہ باپ سے محبت کرتی تھی اسکے لئے اسکے بابا اسکے آئیڈیل تھے ۔۔

” بابا بھی بہت پیار کرتے ہیں اپنی گڑیا سے اچھا بابا کچھ پوچھیں گیں تو آپ کو سچ بتانا ہے اوکے “۔۔ حیات صاحب نے محبت سے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا ۔۔

” اوکے آپ پوچھے انعل حیات سچ بتاۓ گی ہم جھوٹ نہیں بولتے آپکو پتا ہے “۔۔ انعل نے لاڈ سے کہا ۔۔

” کیا میرا بچا بابا کے علاوہ کسی سے پیار کرتا ہے کسی کو پسند “۔۔ حیات صاحب نے مسکراتے ہوئے اسے خوبصورت معصوم چہرے کو دیکھا ۔۔

” ہممم ہاں پہلے آپ پھر بڑے بابا بیراج بھائی بی جان فرحان انکل اور عفان بھی اچھے ہیں اور اور ہاں داريان وہ ۔۔ وہ بہت اچھے ہیں “۔۔ انعل اپنی ٹون میں بولتے ہوئے رک گئی پھر داريان کا نام لیتے اسکی آنکھوں میں جو چمک تھی وٹ حیات صاحب سے چھپی نہیں ۔۔

” اچھا میری گڑیا تو بہت لوگوں سے پیار کرتی ہے پھر ۔۔۔

ہاں نہ سب بہت اچھے ہیں بابا “۔۔ وہ معصومیت سے بولی حیات صاحب مسکرا دیہ ۔۔

” فرحان انکل چاہتے ہیں میری گڑیا انکی بیٹی بنے ۔۔۔ لیکن ہم تو انکی بیٹی ہے نہ بابا “۔۔ انعل انکی بات کاٹ دی اور خود نہ سمجھی سے بولی ۔۔

” ادر آئے بیٹھے ہم آپکو سمجھاتے ہیں اور آپکو بیچ میں نہیں بولنا جب تک بابا کی بات ختم نہ ہو جائے اوکے “۔۔ حیات صاحب نے پیار سے سمجھا تے ہوئے اسے بیٹھا یا بینچ پر انعل نے معصومیت سے سر ہلا یا ۔۔

” اب آپ بڑی ہوگئی ہے اس لئے لوگ آپکو پسند کرتے ہیں آپکے لئے رشتہ بھیجتے ہیں جیسے فرحان انکل کو آپ انکے بیٹے عفان کے لئے اچھی لگتی ہیں انہوں نے کہا ہے آپکی شادی عفان سے کروا دیں ہم لیکن ہم نے کہا ہم اپنی بیٹی سے پوچھے گیں پھر آپ کو اگر عفان نہیں پسند تو ہم کوئی اور ڈھونڈے گیں آپ جانتی ہے ہم دوست بھی ہے نہ تو آپکو ہم سے ہر بات شیئر کرنی چاہیے ہم آپکو پہلے بھی سمجھا چکے ہیں لڑکی جب بڑی ہوتی ہے پھر اسکی شادی ہوتی ہے اور وہ اپنے شوہر کے گھر چلی جاتی ہے بی جان نے بھی بتایا تھا نہ آپکو “۔۔ حیات صاحب بہت پیار محبت میں اسے ہر ایک بات سمجھا رہیں تھے جسے وہ بہت غور سے اپنی معصومیت سے سن رہی تھی ۔۔

” کیا آپ کو کوئی پسند ہے یا ہم آپکی عفان سے بات پکی کردیں بولیں “۔۔حیات صاحب نے اسے خاموش دیکھتے ہوئے کہا ۔۔

” اب ہم بول سکتے ہیں “۔۔ انعل کے معصومیت پر حیات صاحب نے ہنستے ہوئے سر ہلا یا ۔۔

” بابا فرحان انکل اچھے ہے عفان بھی اچھے ہے پر ہمیں انکے ساتھ اچھی والی فیلنگ نہیں آتی وہ نہ ہمیں داريان کو دیکھ کر آتی ہے وہ ہمیں بہت بہت اچھے لگتے ہے آپکو پتا ہے ہمیں انہیں دیکھتے ہے ہمارا دل زور سے دھڑک تا ہے اور انکے ساتھ گھمنے میں بھی مزہ آتا ہے کیا ہم ان سے شادی کرلے “۔۔ انعل نے بولتے ہوئے اچانک زور سے کہا شادی کا اسنے اپنی فیلنگ بھی بتادی اپنے بابا کو ۔۔

” ہاہاہا آپ بہت معصوم ہے میری گڑیا داريان تو ہمیں بھی اچھے لگتے ہے پر ۔۔۔ نہیں آپ ان سے شادی نہیں کریں گے بابا وہ ہمارے ہے نہ “۔۔ انعل پھر سے انکی بات بیچ میں کاٹ دی اور اپنی عقل مندی ظاہر کی صحیح کہتا ہے ڈی اے وہ واقعی بیوقوف ہے ۔۔۔

” ہاہاہا ایسے نہیں کہتے پہلے ہمیں یہ تو پتا چلے داريان خان کیا سوچتے ہیں ہماری بیٹی کے بارے میں “۔۔ حیات صاحب نے اسکی بات پر قہقہہ لگایا ۔۔

” بہت معصوم ہے آپکی بیٹی خیال رکھیں کہیں نظر نہ لگ جائے “۔۔ پاس بیٹھے ایک وجود کی گمبھیر آواز گونجی حیات صاحب نے گردن موڑ کر پاس بیٹھے اس شخص کو دیکھا جو شاید واک آؤٹ کرتے ہوئے وہاں تھک کر بیٹھا تھا اور انکی باتیں بھی سن رہا تھا شاید ۔۔

” ہاں بہت معصوم ہے ماشاءاللّٰه بہت لاڈ سے پالا ہے ہم نے اللّه نظر بد سے بچاۓ گا آمین “۔۔ حیات صاحب انعل کو دیکھتے دل میں نظر اتاری وہ سامنے تھوڑی دور بیٹھی اس عورت کو دیکھ رہی تھی جو ایک لڑکی کا ہاتھ دیکھ رہی تھی ۔۔

” بابا چلیں وہاں چلتے ہیں ۔۔ کہاں گھر نہیں جانا کیا ۔۔ نہیں چلتے ہے پہلے وہاں پلیز چلے نہ ۔۔ ہاہاہا اچھا بابا کی جان چلو “۔۔ انعل حیات صاحب کا ہاتھ پکڑتے ہوئے آگے بڑھ گئی اس عورت کی طرف ۔۔

” انوسینٹ بیوٹی آئے لائک اٹ “۔۔ وہ وجود اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا اسکی نظروں میں پسندگی تھی انعل کے لئے ۔۔

” وہ معصوم چہرہ ایک پل میں دل دھڑکا گیا “

” پہلو کے بھاگ میں وہ مہکتا گلاب رہ گیا “وہ وجود دلکشی سے مسکرایا ۔۔

★★★

” بابا ہم بھی ہاتھ دکھانا چاہتے ہیں ” ۔۔ انعل اس عورت کے سامنے رکتے اپنے بابا سے کہا ۔۔

” میری جان ہم ایسی باتوں پر یقین نہیں کرتے “۔۔ حیات صاحب کو اب سمجھ آئی وہ اسے یہاں کیوں لائی ۔۔

” لیکن ہم دیکھانا چاہتے ہے پلیز بابا پلیز “۔۔ انعل نے معصومیت سے آنکھیں جھپکائی ۔۔

” اچھا چلیں پر اسکی باتوں پر یقین نہیں کریں گے ہم “۔۔ حیات صاحب نے ہار مانتے ہوئے کہا ۔۔

وہ اس عورت کے سامنے بیٹھ گئی اور اپنا ہاتھ آگے کیا اس عورت کے ۔۔وہ عورت ایک نظر اسے دیکھ کر پھر اسکے ہاتھ کو دیکھنے لگی اور پھر سے اسکے معصوم چہرہ کو جہاں جاننے کی بے تابی تھی ۔۔

” تمہاری زندگی بہت مشکل ہے لڑکی تجھے وہ تکلیف ملے گی جو تو برداشت نہیں کر پائی گئی جا یہاں سے جا بہت دورر چلی جا ورنہ مر جاۓگی تو جا “۔۔ وہ عورت کہہ کر پاگلوں کی طرح تیز رفتار سے بھاگی وہاں سے اور انعل وہی اپنی جگا کھڑی انکی باتیں سمجھ نے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔

” بابا اس عورت نے ایسا کیوں کہا ہم مر جاۓ گے “۔۔ انعل کی آواز پر حیات صاحب ہوش میں آئے ۔۔

” کّک۔۔کچھ نہیں میری جان آپکو کچھ نہیں ہوگا بابا ہے نہ آپکے ساتھ آپکو کچھ نہیں ہونے دیں گے “۔۔ حیات صاحب اسے گلے لگا کر اسے سمجھا رہے تھے یا خود کو انکو اس عورت کی بات نے پریشان کردیا تھا وہ اس بات پر تڑپ گٹے تھے انعل میں انکی جان تھی اسنے بہت لاڈ پیار سے پالا تھا وہ کیسے برداشت کر سکتے تھے اپنی بیٹی کے لئے ایسی باتیں انعل کو تو اس عورت کی بات سمجھ ہی نہیں آئی لیکن کیا وقت اسے یہ بات بہت اچھے سے سمجھا دے گا کیا ہونے والا تھا اس معصوم کی زندگی میں کس بات کی سزا ملنے والی تھی اسے ۔۔

★★★

” بیراج آپکو اب شادی کر لینی چاہیے “۔۔ حمدان صاحب نے بیٹے سے کہا ۔۔

” پلیز بابا ابھی نہیں اور یہ انعل کہاں ہے “۔۔ بیراج نے ناشتہ کرتے ہوئے کہا ۔۔

” حیات بھائی کے ساتھ واک پر گئی ہے اتنے دن سے طبیعت خراب تھی اسکی تھوڑا فریش ہو جائے گی اس لئے حیات بھائی لیکے گئے “۔۔ بی جان نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔

“یہ اچھا کیا بھائی صاحب نے پتا نہیں کس کی نظر لگ گئی ہے ہماری بچی کو “۔۔ حمدان صاحب نے گہرا سانس بھرا ۔۔

” میں پتا لگوا رہا ہوں پر سمجھ نہیں آتا چاچو سے کس کی دشمنی ہے ایسا بھی کیا ہو گیا ہے کہ وہ انعل کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں پر میں چھوڑوں گا نہیں انہیں “۔۔ بیراج نے سوچتے ہوئے کہا ۔۔

” اپنی شادی کے سوال کا جواب دو بڑے ہو گئے ہو تم اس گھر کو بھی رونق کی ضرورت ہے بیراج “۔۔ حمدان صاحب پھر سے اسکی شادی پر آئے بی جان نے بھی ساتھ دیا ۔۔

” ہماری رونق ہے نہ انعل پھر کسی اور کی کیا ضرورت ہے “۔۔بیراج نے پھر سے جان چھڑوائی ۔۔

” وہ تو ہے پر وہ بھی جلد اپنے گھر کی ہو جائے گی بیٹیاں جلد ہی چلی جاتی ہے اور ہمارے انعل کے بھی اللّه نصیب اچھے کریں ” ۔۔ بی جان نے بیراج سے کہا ۔۔

” اچھا بتاؤ کوئی پسند ہے یا پھر یہ کام ہم کریں “۔۔ حمدان صاحب نے شرارت سے کہا ۔۔

” ہاہاہا بابا آپ کو یہ کرنے کی ضرورت نہیں خود ہی ڈھونڈ لونگا “۔۔ انکے پسند سوال پر اسکے سامنے دافیا کے چہرہ لہرا یا پر دوسرے پل اسنے نفرت سے جھٹک دیا اپنا کوٹ اٹھا کر باہر چل دیا ۔۔

” بھائی صاحب آپکو نہیں لگتا جب گھر کی رونق گھر میں ہو تو باہر دیکھنے کی کیا ضرورت ہے “۔۔ بی جان کے بات پر حمدان صاحب نے نہ سمجھی سے دیکھا جب بات سمجھ آئی تو کھل کر مسکرا دیا ۔۔

” یہ بات تو ہمارے خیال میں آئی نہیں یہ تو بہت خوشی کی بات ہے پر بیراج پتا نہیں مانے گا یا نہیں وہ اسے ہمیشہ سے چھوٹی بہن کی طرح سمجھتا ہے “۔۔ حمدان صاحب خوش تو بہت ہوئے پر بیراج کی سوچ کا خیال آتے چپ ہو گٹے ۔۔

” یہ سب باتیں ہے بعد میں سب صحیح ہو جاتا ہے بھائی صاحب حیات بھائی آئے تو آپ بات کرکے دیکھ لیں “۔۔ بی جان نے مشورا دیا وہ نہیں چاہتی تھی انعل باہر جائے انہیں پتا تھا وہ جس لاڈ پیار میں پلی ہے باہر کے لوگ اسکی معصومیت چھین لےگیں ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *