Nafrat e Ishq by Mahra Shah NovelR50541 Nafrat e Ishq (Episode 18)
Rate this Novel
Nafrat e Ishq (Episode 18)
Nafrat e Ishq by Mahra Shah
” کیا ہوا بھائی صاحب انعل کو آپ اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہے ۔۔؟ بی جان نے فکر مندی سے پوچھا انہوں نے حیات صاحب کو انعل کے لئے پریشان روتا ہوا دیکھ کر پوچھا تھا ۔۔
” بی جان اسنے میری بیٹی کو برباد کردیا ہے اسکی معصومیت چھین لی ہے اسے بہت تڑپا رہا ہے میری پھول جیسی بچی کو میں نے آج تک کانٹا تک چبھنے نہیں دیا اور وہ اسے کانٹوں پر چلا رہا ہے ۔۔!! حیات صاحب بے بس ہوتے ہوئے رو رہے تھے انکے سینے میں بہت درد ہو رہا تھا اپنی بیٹی کو تکلیف میں دیکھ کر وہ تڑپ رہے تھے ۔۔
” بھائی صاحب حوصلہ رکھیں کچھ نہیں ہوگا ہماری بچی کو آپ پلیز ہمیں انکے پاس لے جائیں میں بات کروں گی داريان سے اسے سمجھاؤں گی ۔۔!! بی جان نے روتے ہوئے کہا انکو انعل کی بہت یاد آتی تھی اتنے عرصے سے کسی نے بھی اس سے بات نہیں کی یہ دکھ تڑپ بہت تھی سب کو ۔۔
” ہاں میں آج ہی کرواتا ہوں ہم دونوں چلتے ہیں اپنی بچی کے پاس وہ مجھے بلا رہی تھی بی جان ۔۔!! حیات صاحب نے اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا اور فون ملا نے لگے تھے ۔۔۔
★★★★
” انعل نے دھیرے دھیرے سے آنکھیں کھولی آس پاس دیکھا تو داريان کو پایا وہ اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا اس پر ہونٹ رکھتا جھکا ہوا تھا اسکی آنکھیں بند تھی بکھرے بال ماتھے پر بلیک شرٹ میں شرٹ کی بازو کہنیوں تک موڑی ہوئی تھی سفید رنگ وہ بے حد خوبصورت تھا انعل اسے ہی دیکھ رہی تھی اپنے دھڑکتے ہوئے دل میں اسنے ماشاءالله کہا تھا داريان کو محسوس ہوا وہ اسکی نظروں کے حصار میں ہے اسنے سر اٹھا کر دیکھا اسکی نظریں انعل کی نظروں سے ملی داريان کو آج وہ الگ ہی لگ رہی تھی اسکی آنکھوں میں بہت سے سوال تھے جیسے ۔۔
” ٹھیک ہو درد تو نہیں ہو رہا کچھ چاہئیے ۔۔؟ داريان نے فکرمندی سے آگے جھک کر اس سے پوچھا تھا وہ خالی خالی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی اسکے پوچھنے پر وہ ہلکا سا ہنسی پھر درد سے کراہتے ہوئے آنکھیں زور سے میچ لی ۔۔
” کیا ہوا ہنسی کیوں طبیعت تو ٹھیک ہے نہ ۔۔؟ داريان نے نہ سمجھی سے اسے دیکھا ۔۔
” آپ چاہتے کیا ہیں ہم ٹھیک رہیں یا تکلیف میں پہلے سوچ لیں کیا چاہتے ہیں ہم سے ڈی اے ۔۔؟ انعل کے بولتے ہوئے آنسوں نکل آئے تھے اسنے آخری لفظ استعمال کرتے ہوئے گردن موڑ لی داريان حیرت شاک میں اسے دیکھ رہا تھا تو کیا اسے پتا چل گیا ڈی اے کا اسکے کام کا اسکا دل ایک خوف سے دھڑکا تھا ۔۔
” انع ۔۔ ہمارا بچا کہاں ہے ہمیں ان سے ملنا ہے پلیز ہمیں آپ سے کوئی بات نہیں کرنی ہمیں بابا کے پاس جانا ہے پلیز ہمارے بابا کو بلا دیں ۔۔!! انعل نے روتے ہوئے اپنے دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ یہ فیصلہ کیا تھا ۔۔
” تو تم مجھ سے دور جانا چاہتی ہو ۔۔۔؟ داريان زخمی سا ہلکا مسکرایا تھا ۔۔۔
” ہم قریب کب تھے آپ کے آپ نے تو ہمیشہ نفرت میں رکھا ہمیں کیا کبھی بھی ایک پل کو بھی آپ کو ہم سے محبت نہیں ہوئی داريان پلیز بتائیں صرف ایک بار ہم آپکے منہ سے سننا چاہتے ہیں اپنے لئے وہ لفظ جو ہماری روح کو سکون دے ۔۔!! انعل پانی بھری آنکھیں اسکی آنکھوں میں ڈال کر ایک امید سے پوچھ رہی تھی دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔۔
” محبت بیان نہیں کی جاتی وہ خاموش لفظ ہوتے ہیں وہ ایک خوبصورت احساس ہوتا ہے اسے صرف محسوس کیا جاتا ہے سمجھا جاتا ہے محبت کی حیا آنکھوں میں بیان ہوتی ہے عشق کی جگہ سجدوں میں ہوتی ہے وہ عشق صرف خدا سے ہوتا ہے اور انسان سے جو محبت ہوتی ہے نہ وہ آج کے دور میں ختم ہو چکی ہے یہاں سب مطلبی رہتے ہیں سچی محبت والے خاموش رہتے ہیں ۔۔؟ داريان ذرا جھک کر بول رہا تھا انعل اسکے باتوں کے سحر میں تھی جو دل پر بہت زور سے لگ رہی تھی اسے اسکا درد بڑھا رہی تھی ۔۔۔
” آپ ایسا کیوں کرتے ہیں کیا آپکو درد نہیں ہوتا ایسی باتیں کرتے ہوئے کیا آپ کو ہمارے درد کا احساس نہیں ہوتا کیوں ہمارے ساتھ ایسا مت کریں ہم بہت محبت کرتے ہیں آپ سے ہمیں مت جدا کریں خود سے ۔۔؟ انعل روتے ہوئے اسکا کالر پکڑ کر بول رہی تھی اور وہ صرف اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرا رہا تھا ۔۔
” آخری سفر عشق مبارک ہو جانے من ۔۔ وہ جھکتا اسکے ماتھے پر اپنی آخری نفرت عشق کی چھاپ چھوڑتا تھوڑی دیر سکون سے دونوں آنکھیں موند گئے تھے پھر وہ پیچھے ہوا ۔۔
” نن نہیں پپ پلیز ایسا مت کریں ہمارے ساتھ ہم مر جائے گیں پلیز ہمارے بچے سے دور مت کریں دد داريان نہیں نہ ۔۔ انعل نے روتے ہوئے اسکے کالر کو پکڑ لیا تھا وہ جھکا اسکی آنکھوں میں وہ درد وہ ممتا وہ عشق دیکھ رہا تھا پر اس پر رحم نہیں کھا رہا تھا ۔۔
” شش آرام سے تمہیں پتا ہے نہ مجھے تم روتے ہوئے بہت اچھی لگتی ہو تمہاری آنکھوں میں یہ آنسوں تمہاری چھوٹی سی سرخ ناک یہ بھیگی پلکیں میرا دل کرتا ہے ان میں ڈوب جاؤ میں بے انتہا نفرت کرتا ہوں تم سے تمہارے باپ سے لیکن ایک سائیڈ سے مجھے تم سے عشق ہے پتا ہے کیوں میری آنی کی وجہ سے یہ آنکھیں انکی ہے تم انکے وجود کا حصہ ہو اس لئے شاید ۔۔۔ وہ نرمی سے کہتا آرام سے اسکے ہاتھ ہٹا کر جھکا اسکی ناک اور آنکھیں چومتا پیچھے ہوا انعل خالی خالی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کس بات کی سزا دے رہا ہے اسے کیوں اسے تڑپا رہا ہے کیوں اس سے عشق بھی کرتا ہے نفرت بھی انعل کی آنکھیں بند ہو رہی تھی پھر بھی وہ اسے دیکھ رہی تھی اسے محسوس کر رہی تھی اور وہ وہی کھڑا اسے بے ہوشی میں جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا وہ اسے یہ سزا صرف اسکے باپ کی وجہ سے دے رہا تھا اسے اپنے قدم بھاری محسوس ہوئے وہ انھیں اٹھا نہیں پا رہا تھا لیکن خود پر ضبط کرتا وہ تیزی سے وہاں سے نکلا ۔۔۔۔
★★★★
” اسے لیکے جاؤ یہاں سے۔۔۔ کیا مطلب کہاں لیکے جاؤں اور یہ تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا ڈی اے تم جانتے ہو کیا کر رہے ہو کیوں اسے تڑپا تڑپا کر مار نہ چاہتے ہو اگر اتنی ہی نفرت ہے تو مار دو اپنے ہاتھوں سے ایک ہی بار اسے ۔۔۔؟ حنان غصے میں بھڑک اٹھا ڈی اے پر وہ اپنے بچے کو گود میں لیے پیار سے اسے دیکھ رہا تھا وہ سفید سرخ بچہ اس وقت بلکل انعل جیسا دکھ رہا تھا ڈی اے نے دل سے مسکراتے ہوئے اسے چوما ۔۔۔
” تمہاری بکواس سننے کا ٹائم نہیں ہے ابھی اسے جلدی سے یہاں سے لیکے جاؤ اور کرنل کو دینا وہ آگے تمہارا انتظار کر رہا ہے اب جاؤ جلدی سے ۔۔!! ڈی اے نے بچے کو حنان کے حوالے کرتا سختی سے کہا تھا ۔۔۔
” یہ سب ہو کیا رہا ہے مجھے بتاؤ گے پلیز ایک بار اسے دیکھنے تو دو یار کیوں ایسے کر رہے ہو پلیز ڈی اے ابھی بھی وقت ہے ایک بار اسے اپنے بچے سے ملنے دو ۔۔۔ حنان افسوس سے ڈی اے کو دیکھ رہا تھا جو اسکی بات اگنور کرتا وہاں سے چلا گیا تھا اس وقت رات کے دس بج رہے تھے حنان اس معصوم بچے کو افسوس سے دیکھا وہ شاید پہلا بچا تھا جو اپنی ماں سے ملنا بھی نصیب نہیں ہوا یا شاید اسکی ماں کے نصیب میں یہ بد قسمتی لکھی تھی ۔۔۔
★★★★
” بب ۔۔ بابا وو ۔وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے بب بابا انھیں روکے نہ انھیں وہ ہمارا بب ۔۔بچا لے گئے اسنے ہمیں دیکھنے بھی نہیں دیا تھا اااآہ ۔۔!! انعل شدت سے تڑپتے ہوئے رو رہی تھی حیات صاحب آج صبح ہی پہنچ گئے تھے ۔۔
” کچھ نہیں ہوگا میرا بچا ہم بات کرتے ہیں اس سے وہ مان جائے گا میں مناؤں گا بس آپ رونا بند کریں آپکی طبیعت خراب ہو جائے گی ہم آتے ہیں اس سے بات کرکے بی جان آپ انعل کے ساتھ رہیں ۔۔!! حیات صاحب کو اسکے آنسوں تڑپ اندر سے جھنجھوڑ کر مار رہی تھی ۔۔
” بس کرو انعل بہادر بنو بیٹا یہ وقت نہیں کمزور ہونے کا وہ ضرور آئیگا آپکے پاس آپکا بچا لیکے !! بی جان نے اسے سینے سے لگاتے ہوئے سمجھا رہی تھی ۔۔۔
” بہادر ہی تو نہیں بنایا آپ لوگوں نے ہمیشہ کمزور رکھا کبھی مضبوط نہیں ہونے دیا آج دیکھیں کیا ہو رہا ہے ہمارے ساتھ کسی خراب قسمت پائی ہے ہم نے کچھ اچھا نہیں ہوتا ااآہ ۔۔۔؟ وہ اپنے بچے کو دیکھنے کے لئے تڑپ رہی تھی ۔۔
” کیوں کر رہء ہو یہ سب کیوں میری بچی کو تکلیف دے رہے ہو تمہیں مجھے سزا دینی ہے نہ تو مجھے مار دو میری بچی کو بخش دو داريان اسے چھوڑ دو مت دو اسے تکلیف نہیں دیکھا جاتا مجھ سے اپنی بچی کی تکلیف وہ کبھی نہیں روئی اتنا تم نے بہت رلایا ہے اسے ۔۔۔؟ حیات صاحب روتے ہوئے ہاتھ جوڑ گئے تھے اسکے سامنے ۔۔
” یہی درد یہی تکلیف تھی میرے بابا کو سونا بھول گئے تھے جاگتے ہوئی راتیں گزرتی تھی انکی کیوں صرف آپکی وجہ سے آنی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے تھے وہ وہ بھی تو تڑپتی تھی اپنے بچے کے لئے دن رات ایک صرف ایک بار بھی خیال نہیں آتا تھا آپکو رحم نہیں آتا ان پر کیسے رہ رہی تھی وہ ہمارے ساتھ زندہ لاش بن گئی تھی پر آپکو کیا اب کیوں درد تکلیف میں ہے تب کیوں نہیں ہوتا تھا محسوس یہی درد میرے بابا نے سہا تھا اب خود پر آئی ہے تو ہار مان رہے ہے ۔۔؟ ڈی اے نفرت کی شدت میں غرایا تھا ۔۔۔
” مت کرو وہ مر جائی گی ۔۔ حیات صاحب نے التجا کی ۔۔
” وہ بھی درد سہتے ہوئے مر گئی تھی ۔۔ وہ تخلی سے ہنسا تھا ۔۔
” ہم دونوں ہی قاتل ہیں ہم دونوں ایک جیسے ہے داريان تم بھی وہی کر رہے ہو جو کچھ سال پہلے حیات نے کیا تھا اب تم بھی پچھتاؤ گے ساری زندگی تڑپو گے میری طرح ۔۔ حیات صاحب نفرت سے اسے دیکھتے ہوئے اندر چلے گئے تھے پیچھے اسکا دل خوف سے دھڑکا ضرور تھا ۔۔
★★★★
” پتا ہے زندگی بہت مشکل ہے بہت ہمیں جینے کا طریقہ نہیں آتا جب تک ہم کسی تکلیف سے نہیں گزرتے اور تب سہی راستہ ملتا ہے سکون سے جینے کا زندگی لفظ بہت آسان ہے پر حقیقت بہت تکلیف دہ ہے ہم نے بہت لاڈ میں زندگی گزاری ہے لیکن پتا ہے لاڈلوں کی زندگی ہی بہت مشکل ہوتی ہے بہت زیادہ جینا سب کو آتا ہے طریقہ کسی کو نہیں آتا اور جب خوش ہوتے ہیں تو وہ یاد نہیں آتا اور ہم اپنی ہی دنیا میں مگن رہتے ہیں لیکن جب دکھ تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے تو وہ ہر پل ہمارے آنسوں میں ہماری دعاؤں میں ہوتا ہے ہم خوشیوں کے ساتھ رہنا چاہتے ہے تکلیف کے ساتھ نہیں بی جان کیوں ہو رہا ہے ہمارے ساتھ ایسا ۔۔؟ وہ روتے ہوئے بول رہی تھی بی جان اسکے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی تھی پیار سے انعل کو آئے ہوئے ایک ہفتہ گزر چکا تھا وہ لوگ یہی لنڈن میں تھے حیات صاحب اسے پاکستان لیکے جانا چاہتے تھے پر انعل نہیں مانی وہ ایک بار اس ظالم انسان سے اپنے بچے سے ملنا چاہتی تھی جو شاید کہیں چھپ گیا تھا اسے ملنے نہیں آرہا تھا وہ روز اسکا انتظار کرتی دن رات تڑپ کر روتی تھی اسکا رونا بی جان حیات کو بھی رلا دیتا تھا ۔۔
” تم کیوں آئے ہو یہاں یہ مت سمجھنا میں خاموش ہو گیا ہو اب تم سے کوٹ میں ملاقات ہوگی میں اپنی بیٹی کا بچہ تم سے لیکے رہو گا ۔۔ حیات صاحب اسے اپنے گھر میں دیکھ کر غصے میں دھاڑ اٹھے ۔۔
” میرا بچہ مجھ سے کوئی الگ نہیں کر سکتا نہ ہی انعل کو مجھ سے دور لے جا سکتے ہیں آپ سمجھے ۔۔ داريان اسکی آنکھوں میں دیکھتا انعل کی روم کی طرف بڑھ گیا تھا وہ فل بلیک کپڑوں میں تھا سر پر ہڈی چہرے پر وہی ہمیشہ والا ماسک تھا لیکن وہ چھپ کر نہیں آیا تھا سیدھا دروازے سے آیا تھا ۔۔
” دد ۔۔! بی جان نے اسے دیکھتے ہوئے پکارا تھا کے داريان نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر انھیں خاموش کروایا بی جان اسکا اشارا سمجھ کر اٹھ کر باہر جانے لگی انعل آنکھیں موند کر لیتی ہوئی تھی وہ مہک وہ احساس وہ انسان وہ اپنے تیز دھڑکتے ہوئے دل سے اچانک جھٹکے سے آنکھیں کھول کر اٹھی اسے دشمن جان کو سامنے دیکھتے ہوئے وہ تیزی سے کھڑی ہونے کے چکر میں وہ لڑکھڑا آئی تھی کے اسنے تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے اسے سنبھال لیا وہ بھری بھری آنکھوں سے اسکی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی اسکا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے چہرے پر سے ماسک ہٹایا ۔۔
” دد ۔۔ داريان ہمیں پتا تھا آ ۔آپ ضرور آئے گے ۔۔ انعل اسے اپنے سامنے دیکھتے ہوئے اسکے گلے لگ کر شدت سے روتے ہوئے بولے جا رہی تھی وہ بس اسکے گرد اپنا حصار مضبوط کرتا اس میں گہرا سانس بھرا تھا ۔۔
” آپ نفرت کرتے ہیں تو کریں شدید کریں پر ہمیں ایسی سزا نہ دے ہمیں ہمارے بچے سے ملا دیں پلیز ہم مر جاۓ گیں ۔۔!! وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔۔وہ اسکے رونے میں وہ تڑپ وہ محبت سب وہ محسوس کر سکتا تھا پر شاید اسکا دل پتھر ہو گیا تھا جو اسکے تڑپنے پر بھی نہیں پگھل رہا تھا ۔۔
” انعل میری بات سنو رونا بند کرو ابھی تم نہیں مل سکتی بچے سے لیکن میں وعدہ کرتا ہوں تمہیں بہت جلد ملواؤں گا بس تھوڑا صبر کرو ابھی تمہیں اور ہمارے بچے کی جان کو خطرہ ہے میں تم دونوں کو نہیں کھو سکتا پلیز سمجھو بات کو اور یہ بات کسی سے بھی شیئر مت کرنا بس تھوڑا او ۔۔۔۔۔۔ بسسسس ااآہ ۔۔ داريان اسکے آنسوں صاف کرتے ہوئے اسے سمجھا رہا تھا انعل درد سے چیخ پڑھی تھی ۔۔
” انو ۔۔۔ مر گئی انعل بس بہت ہوا آپ نے ہمیں مار دیا ہے داريان مار دیا ہے ایسا کون سا خطرہ ہے جس نے ایک بچے کو ماں سے الگ کردیا ہے بولے یہ سب آپکا پلین ہے نہ ہمارے بابا سے بدلہ لینے کا اس لئے آپ انھیں سزا دینے کے لئے کر رہیں ہے ہمیں ہمارے بچے سے بھی الگ کردیا ہے جسے ہم نے محسوس تک نہیں کیا اسکا ہنسنا اسکا رونا تک نہیں دیکھا ارے ہمیں تو یہ بھی نہیں پتا ہمارا بیٹا ہوا ہے یا بیٹی آپ بہت ظالم ہیں داريان آپ بہت ظالم ہے اللّه کریں ہم مر جائیں ہم سے اور برداشت نہیں ہوتا ااآہ ۔۔۔۔!! انعل اسے خود سے دور کرتے ہوئے دھکہ دے کر پیچھے ہوتے ہوئے پھٹ پڑی تھی وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے نیچے بیٹھ گئی داريان میں تو جیسے ہمت ہی ختم ہوگئی تھی اسکا درد اسکی تڑپ اسے بھی تڑپا رہی تھی لیکن اسے بچانے کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتا تھا وہ جانتا تھا اسنے گینگ کے لوگوں کو مارا ہے وہ لوگ اسے زندہ نہیں چھوڑے گے لیکن اسکی وجہ سے انعل یا اسکے بچے کو کچھ بھی ہوا تو وہ برداشت نہیں کر پائے گا وہ اب ایک اور فیملی نہیں کھونا چاہتا تھا ۔۔۔
” انعل پلیز بات کو سمجھو وہ لوگ بہت خطرناک ہیں وہ لوگ ہمارے بیٹے کو مجھے تمہیں مارنا چاہتے ہیں تم پلیز واپس پاکستان چلی جاؤ میں بہت جلد آؤنگا تمہارے پاس ابھی میری بات سمجھو ۔۔ داريان نے اسکے آگے بیٹھ کر نم آواز میں کہا اسے تڑپا کر وہ خود کہاں سکون سے رہتا تھا ۔۔
” پپ ۔۔پلیز ۔۔ یہاں سے چلے جائیں ہم سے بہت دور چلے جائیں ہم سکون سے مر ا چاہتے ہیں آپ جائیں ۔۔۔۔ انو دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا ۔۔۔۔۔ ہاں ہو گیا ہے ۔۔۔!! وہ چلائی داريان سخت گھوری سے دیکھتا اسکے بازو اپنی گرفت میں لیے انعل سرخ آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی جو اسکی آنکھوں میں اپنے لئے نفرت نہیں دیکھ پا رہا تھا ۔۔
” تم مجھ سے نفرت نہیں کر سکتی ۔۔۔۔ سہی کہا نہیں کر سکتی یہ اختیار آپکے پاس ہے اسے آپ بہت اچھے سے نبھانا جانتے ہیں پلیز جائے یہاں سے چلے جائیں ۔۔۔؟انعل اس سے دور ہوتے ہوئے رو کر واش روم میں بند ہوگئی داريان نے زور سے آنکھیں بند کی گظرا سانس لیتا وہ نیچے آیا تھا ۔۔
” ابھی بھی کوئی کسر رہ گئی تھی اسے تڑپا نے میں جو پوری کرنے آگئے ۔۔۔!! حیات صاحب نے نفرت سے دیکھتے ہوئے کہا اسے ۔۔۔
” آپ لوگ پاکستان چلے جائیں کل انعل کو بھی لیکے جائیں اسکو یہاں خطرہ ہے ۔۔۔ داريان بولتا وہاں سے تیزی سے نکلتا چلا گیا تھا پیچھے حیات صاحب اسکی بات کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگے ۔۔
★★★★
” رات کے بارہ بج رہے تھے انعل کو نیند نہیں آرہی تھی اسے بہت گھبراہٹ ہو رہی تھی اس لئے وہ تازی ہوا کھانے کے لئے باہر نکل آئی تھی اسکے بابا کا روم بند تھا شاید وہ سو رہے تھے انعل نے دیکھا بی جان بھی سو رہی تھی تو وہ لانگ کوٹ پہن کر باہر آگئی تھی وہاں کا موسم بہت ٹھنڈا تھا آج سنوفال ہو رہی تھی انعل لونگ کوٹ میں ہاتھ ڈالے ہوئے سڑک پر چل رہی تھی اسے بال کھولے بکھرے ہوئے تھے سرخ ناک سرخ آنکھیں رونے کی وجہ سے سردی میں اسکے گال بھی گلابی ہو گئے تھے وہ اس وقت بہت حسین دلکش لگ رہی تھی وہ اپنی خوبصورتی سے کسی کو بھی متاثر کر سکتی تھی جس سے وہ انجان تھی اسے محسوس ہوا کوئی اور بھی اسکے ساتھ چل رہا ہے اسے پیچھے وہ مکمل سیاہ تھا وہ اداس سی مسکرائی آنسؤں ابھی بھی بہہ رہے تھے اس بے وفا کی وجہ سے ۔۔۔
” ہمارا پیچھا کرنے سے کیا ملتا ہے آپکو ۔۔۔؟ انعل نے آگے چلتے ہوئے اس سے پوچھا تھا جو اسکے پیچھے تھا ۔۔
” سکون بے حد سکون تمہیں کیا ملتا ہے مجھ سے دور جانے سے ۔۔۔؟ وہ اسکے محسوس کر جانے پر دل سے مسکرایا تھا ۔۔
” سکون ۔۔۔! ایک جواب آیا ۔۔
” اتنا روتی کیوں ہو ۔۔۔!! وہ اب اسکے ساتھ چلنے لگا تھا ۔۔
” یہ سوال رونے والو سے نہیں رلا نے والوں سے پوچھنا چاہیے تھا ۔۔اسکی آواز رونے سے بھاری ہوگئی تھی ۔۔
” میرے ساتھ چلو گی ۔۔۔ زید اب اسکے آگے آگیا تھا انعل نے تیزی سے خود کوروکا ورنہ دونوں کا ٹکراؤ ہو جاتا ۔۔۔
” کیا مسئلا ہے آپکا کیوں ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتے کیا آپ کو نہیں پتا ہم شادی شدہ ہے کیا آپ داريان کو نہیں جانتے کیوں آپ دونوں ہمیں صرف دکھ دینا جانتے ہیں کیوں ۔۔ انعل پھٹ پڑی اس پر اسے دھکہ دے کر خود پیچھے ہوتے گہرے گہرے سانس لینے لگی تھی ۔۔
” ااآہہ ۔۔ کیوں تمہیں صرف اسکی محبت دیکھتی ہے جب کے وہ تم سے بے انتہا نفرت کرتا ہے کیوں تمہیں میری محبت میرا عشق جنون نہیں دکھتا کیوں میرا قصور کیا ہے یہی کے میں تم سے عشق کر بیٹھا ہو بولو بس انعل بہت ہوا تم اب اس کے ساتھ نہیں رہو گی تم صرف میری ہو اور دیکھو اس نے تو تمہیں چھوڑ دیا اسکا بدلہ پورا ہوا اپنا مطلب نکال کر تمہیں زندگی سے نکال کر باہر پھینک دیا نہ تو کیوں ابھی بھی اسکی عشق میں خود کو جلا رہی ہو ۔۔ زید غصے میں آکر اسکے دونوں بازو پکڑتا اپنے قریب کرتے ہوئے غرایا تھا زید کی آنکھوں میں بھی پانی جمع ہو گیا تھا انعل حیرت سے اسکے جنون کو دیکھ رہی تھی ۔۔
” چچ ۔۔چھوڑے ہہ ۔۔ہمیں درد ہو رہا ہے ۔۔۔؟ انعل درد سے رو پڑی تھی ۔۔
” سوری لیکن پلیز مجھے مت تڑپاؤ انعل میں بہت زیادہ محبت کرتا ہوں تم سے پلیز مجھے اپنی زندگی میں آنے دو تم پلیز اب صرف میری بن جاؤ ۔۔ زید نے جنونی انداز میں کہا تھا انعل کو اب خوف آرہا تھا زید سے ۔۔
” انعللل انعل ۔۔۔!! داريان چلا تے ہوئے اسکا نام پکار رہا تھا جب سامنے دیکھا وہ اور زید دونوں قریب کھڑے تھے وہ صاف دیکھ سکتا تھا زید اسے ڈرا رہا ہے وہ تیزی سے انکی طرف بھاگا تھا اسے حیات صاحب کی فون آئی تھی انعل گھر پر نہیں ہے کیا وہ اسکے ساتھ ہے وہ ان سے جھوٹ بولتا انعل کو ڈھونڈنے نکل آیا تھا ۔۔
” دد ۔۔داريان ۔۔ انعل داريان کو دیکھتے اسکے پاس بھاگی تھی کے زید نے بازو سے پکڑ کر اس پر گن رکھ دی اس پر داريان انعل کو دیکھتا اسکے پاس آنے لگا تھا کے گن کو دیکھ کر رک گیا ۔۔
” اسے چھوڑ دو زید تم ایسا کچھ نہیں کروگے ورنہ ۔۔؟ ڈی اے غصے میں بولا تھا اسکی آنکھیں ضبط سے سرخ ہوگئی تھی ۔۔
” میں نہیں تم چھوڑو گے اسے ابھی کے ابھی آزاد کرو اسے یہ اب میری ہے صرف زید جعفری کی سمجھے تم ۔۔!! زید غصے کی شدت میں دھاڑا تھا وہ اب انعل کو اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتا تھا ۔۔
” اپنی بکواس بند کرو وہ صرف داريان حیدر خان کی ہے سمجھے تم اسے چھوڑدو ورنہ میں تمہاری جان لے لونگا ۔۔؟ ڈی اے کا بس نہیں چل رہا تھا وہ زید کا قتل کردے ابھی ۔۔
” بسسس بہت ہوا یہ جھوٹی محبت دکھانا بند کریں آپ لوگ محبت عشق کا مطلب بھی جانتے ہیں آپ لوگ نہیں صرف نفرت کا مطلب پتا ہے آپ لوگوں کو صرف نفرت عشق کرنا آتا ہے کبھی محبت کو محسوس کیا ہے کبھی محبت کی عزت کی ہے نہیں نہ صرف نفرت کی ہے آپ دونوں نے آپکے دل میں محبت نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے آپ دونوں کا دل سیاہ ہو چکا ہے بس بہت ہوا ہم نہیں ہے کسی کے ہم کسی کے قابل نہیں ہے اگر ہوتے تو یوں بے سہارا نہیں چھوڑے جاتے ہم ۔۔!! انعل پھٹ پڑی آج دونوں کو دیکھتے ہوئے وہ غصے غم میں بولے جا رہی تھی کہیں نہ کہیں ان دونوں کو بھی شرمندگی ہوئی تھی ۔۔
” کاش ہم مر جائے آپ لوگوں نے ہماری زندگی عذاب کر دی ہے دور رہیں ہم سے اا۔۔ اگر کوئی بھی ہمارے قریب آیا تو ہم خود کو ختم کردے گیں ۔۔؟ انعل نے خود کو چھوڑواتے ہوئے چلا کر کہا اور وہاں سے بھاگتی ہوئی گئی داريان زید کو نفرت سے گھورتا انعل کے پیچھے بھاگا زید بھی غصے میں اسکے پیچھے گیا تھا داريان جلد سے اس تک پہنچ کر بازو پکڑتا اسے روکنے لگا تھا ۔۔
” انعل میری بات سنں ۔۔۔۔ نہیں آپ ہماری بات سنیں آپ جانتے ہیں عشق کی منزل موت ہوتی ہے محبوب کے لئے تو تڑپنا پڑتا ہے نہ ہم آپ سے بہت محبت کرتے ہیں داريان ہم سے آپکی دوری برداشت نہیں ہوتی اور ہم آپکی بہت عزت کرتے ہیں آپکی محبت کی عزت کرتے ہیں پر ہم عشق کر چکے ہیں عشق صرف ایک بار ایک انسان سے ہوتا ہے اور وہ ہم کر چکے جیسے آپ کر چکے ہیں بس اب ہماری آخری خواہش ہے ہمارے بچے کا خیال رکھنا آپ دونوں اسے برا آدمی نہیں بنانا اور پلیز ہمارے بابا کو کوئی تکلیف مت دیں اسے معاف کردیں وہ بہت محبت کرتے تھے ماما سے وہ راتوں کو روتے ہے انکے لئے انسے معافی مانگتے ہیں ہم جانتے ان سے غلطی ہوئی ہے وہ شرمندہ ہیں غلطی تو انسان سے ہوتی ہے نہ آپ تو یہ سب بہت اچھے سے جانتے ہیں داريان آپ نماز پڑھتے ہیں آپ قرآن پڑھتے ہیں تو کیا آپ کو ان چیزوں کا مطلب نہیں پتا کسی کو معاف کرنے سے کوئی چھوٹا بڑا نہیں بنتا پھر کیوں آپ ایسے برے بنتے ہیں سب کی نظروں میں کیوں آپ ایسے کام کرتے ہیں جس میں سکون نہیں آپ ہمارے بابا کو سزا دے رہیں تھے نہ ہمیں تکلیف پہنچا کر اب تو خوش ہو جائے آپ ہم سے ہم سے ہمارا وجود کا حصہ چھین لیا آپ اور کیا چاہتے ہیں آپ پلیز ہمیں اکیلا چھوڑ دے ہمیں اب صرف سکون چاہئیے اب مزید ہمت نہیں ہے کچھ بھی سہنے کی اب بس کردے روک لے خود کو ۔۔!! انعل غصے میں اپنا بازو چھڑواہ کر اس پر چلا اٹھی تھی اسکی سانسیں پھول گئی تھی ۔۔
” انعللل آہہ ۔۔۔؟ انعل کو ہلکا سا چکر آگیا تھا وہ لڑکھڑا کر گرتی اس سے پہلے داريان نے اسے سنبھال لیا تھا انعل سر پر ہاتھ رکھ کر اسے اسکی آنکھوں میں دیکھا جہاں صرف محبت فکرمندی تھی اسکے لئے وہ زخمی سا مسکراتے ہوئے اسکے گلے لگا گئی زید تھوڑا دور کھڑا انھیں دیکھ رہا تھا انعل اپنی گرفت مضبوط بناتے سر رکھے ہوئے تھی داريان نے بھی اسکے ارد گرد اپنے حصار مضبوط کی ۔۔۔
” انو تم ٹھیک ہو پلیز بتاؤ ۔۔؟ داريان پریشانی سے اسکے کان میں سرگوشی کی تھی ۔۔
” ہم ٹھیک نہیں ہے ہم بلکل ٹھیک نہیں ہیں ہمیں بہت درد ہوتا ہے ہم بہت زخمی ہے داريان ہم سے ہمارے وجود کا حصہ لے کر آپ کیسے پوچھ سکتے ہیں ہم ٹھیک ہے آپ اتنے ظالم نہیں ہے جتنا بنتے ہیں پلیز ہمارے بچے کا خیال رکھنا اسے بہت اچھا نیک انسان بنانا اسکی زندگی میں کوئی انعل نہیں آنی چاہیے اسکی زندگی میں ایک خوبصورت مضبوط ہمسفر لانا آپ ۔۔۔!! انعل اس سے تھوڑا دور ہوتے ہوئے اسکے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیار نرمی سے کہا اسکی آواز رونے سے بھاری ہو گئی تھی آنسوں آبی بھی بہہ رہے تھے ۔۔
” سوری پلیز سچ تو یہ ہے میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا پلیز انو ایک موقع دو میں ہمیشہ تکلیف میں رہا ہوں تمہارے ہونے سے مجھے سکون ملتا ہے یہ سکون مت چھینو ۔۔۔داريان نے اپنا ماتھا اسکے ماتھے سے ٹکرایا دونوں نے آنکھوں موند لی تھی ۔۔
” ہمارے پاس اب کوئی سکون نہیں چھینے کا حق صرف آپ کے پاس ہیں ہمارے پاس ایسا کوئی حق نہیں ۔۔ انعل نے اس سے دور ہوتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا تھوڑا دور زید کو دیکھا اور مسکراتے ہوئے اسکے پاس گئی آج اسکا یہ انداز دونوں کو حیرت میں ڈال رہا تھا ۔۔
” ہم آپکی فیلنگ سمجھ سکتے ہیں کیوں کے ہم خود اس جگہ پر ہیں جہاں آپ ہیں بس بات صرف یہ ہے آپکا محبوب کوئی اور میرا کوئی اور ہے پتا ہے ہم نے کبھی باہر کی ایسی دنیا نہیں دیکھی ہمیشہ سے لاڈ پیار دیکھا صرف کبھی نفرت لڑائی جھگڑا نہیں دیکھا نہ ہی سمجھا اور آج ایسا لگتا ہے اس چیزوں سے ہمارا بہت گہرا رشتہ ہے ہمیں نہیں پتا آپکی محبت کیسی ہے ہمارے لئے لیکن محبت عشق میں کبھی محبوب کو تکلیف نہیں پہنچاتے اسے تکلیف میں نہیں دیکھا جاتا پر آپ دونوں کی محبت کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے آپ اسکی عزت نہیں کرتے اسکی توہین کرتے ہیں اسے سمجھتے نہیں ہے اسے محسوس نہیں کرتے صرف بولتے ہیں ہمیں نہیں پتا آپ دونوں کے بیچ کیا رشتہ ہے لیکن آپ دونوں دشمن سے زیادہ دوست اچھے لگتے ہیں اگر آپ ہماری عزت محبت کرتے ہیں تو پلیز ہمارے بچے کو کبھی تکلیف مت پہنچانا ایک دوسرے کی دشمنی میں پلیز وعدہ کریں پہلی بار کچھ مانگ رہی ہوں آپ سے کیا آپ نہیں دیں گے ۔۔۔؟ انعل بولتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا زید کی آنکھوں میں پانی تھا اسکا دل دھڑک رہا تھا اسکی باتوں سے شرمندگی بھی ہوئی تھی اسے دیکھ کر پھر اسکے ہاتھ کو دیکھتا وہ مسکراتے ہوئے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتا ہاں میں سر ہلایا انعل مسکراتے ہوئے اپنا سانس ہوا میں چھوڑتی وہاں سے جانے لگی تھی داريان آج اسے سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا آج وہ ان دونوں کی سمجھ سے باہر تھی اسکا ایک الگ ہی روپ تھا آج ۔۔
” انعل رکو کہا جا رہی ہو ۔۔۔ آپ سے بہت دور جانا چاہتی ہوں ۔۔۔ کیا تم ہمارے بچے سے نہیں ملنا چاہتی ۔۔۔داريان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا انعل اسکا ہاتھ چھوڑ کر آگے بڑھی تھی کے اس بات نے قدم روک دیے تھے اسنے آنکھیں بند کر کے اپنے آنسوں پر ضبط کیا ۔۔
” اسے اب آپکی ضرورت ہے ہماری نہیں ۔۔؟ یہ لفظ اسنے کیسے بولے تھے یہ صرف وہ جانتی تھی وہ تیزی سے آگے بڑھی تھی کے پیچھے سے داريان نے جلدی سے اسے اپنے حصار میں لیا وہ آنکھیں بند کر کے خود کو رونے سے روکا لیکن آنسوں پھر بھی بند نہیں ہوئے تھے داريان اسکے بالو میں منہ دیے اسے روکنے لگا تھا ۔۔
” پلیز مت کرو یار میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے عشق کرنے لگا ہوں مجھے یہ سزا مت دو میں تم سے تمہارے باپ سے کوئی بدلہ نہیں لونگا بس ایک بار تم واپس آجاؤ میرے پاس ورنہ مجھے مجبور مت کرو سختی کرنے میں کہاں سے آئی ہے تمہارے اندر آج یہ ہمت ۔۔۔؟ داريان گرفت سخت کرتا غصے میں اسکے کان میں بولا تھا ۔۔
” ہمت ایک عورت میں تب آتی ہے جب تک اسے کوئی توڑ کر نہیں جاتا جب تک ایک ماں کو اسکے بچے سے دور نہیں کیا جاتا جب تک ایک شوہر اپنی بیوی سے بےوفائی نہیں کرتا جب تک اسے کوئی محبت میں نہیں توڑ تا تب تک ہمت نہیں آتی جب تک ٹوٹی ہوئی نہ ہو بسسس بہت ہوا ہم نے کہا نہ ہم سے دور رہیں ۔۔انعل کا ضبط جواب دے گیا وہ خود کو چھوڑ وہ کر وہاں سے تیزی سے بھاگی تھی داريان زید دونوں خوف زدہ ہو گئے تھے اسکے اس طرح بھاگنے سے کیوں کے وہ آس پاس نہیں دیکھ رہی تھی وہ روتے ہوئے دیوانہ وار بھاگ رہی تھی لنڈن جیسا شہر روشنیوں سے بھرا ہوا انسانوں کی بھیڑ تیز رفتار سے چلتی ہوئی گاڑیاں ۔۔
” انعل رک جاؤ پلیز ۔۔۔؟داريان اسکے پیچھے بھاگتے ہوئے کہ رہا تھا زید بھی اسے آواز دے رہا تھا لیکن آج وہ شاید کسی کی نہیں سننا چاہتی تھی ۔۔۔
انو روک جاؤ پلیز ۔۔ زید اسکے پیچھے بھاگتے ہوئے کہہ رہا تھا لیکن وہ تو آج کسی بھی بات کو سن کہا رہی تھی ۔۔
انعل رک جاؤ ورنہ اچھا نہیں ہوگا میں نے کہا رکو ۔۔ داريان نے بھاگتے ہوئے کہا آج بھی وہ دھمکی دینے سے باز نہیں آیا ۔۔
پر انعل نے تو جیسے سوچ لیا تھا وہ ان دونوں سے بہت دور چلی جائے گی وہ اب خود کو بیوقوف نہیں ہونے دیگی انکے ہاتھوں سے خود کو بہت کچھ دیکھ لیا اسنے اپنی اتنی چھوٹی سی عمر میں اسکی آنکھیں پر دھند چھا بند رہی تھی سانسیں پھول گئی تھی پر اسنے آج ہمت نہیں ہارنی تھی وہ دوسرے سائیڈ مین روڈ پر بھاگنے لگی تھی یہاں گاڑیوں کا بہت شور تھا ۔۔
” ااآہہہ ۔۔ انعلللل ۔۔!! انعل تیزی سے بھاگ رہی تھی کے سامنے سے آتی گاڑی سے ٹکرا گئی تھی زید داريان حلق کے بل چلا اٹھے اپنی ہی آنکھوں کے سامنے اپنی محبت کو ایسا حال دیکھنا کسی کے بس کی بات نہیں داريان زید دونوں ہی اپنی جگہ بت بن کر کھڑے تھے دونوں کی دھڑکن چلنے سے انکار کر رہی تھی اب تو جیسے دل تھا ہی نہیں سینے میں ہر طرف خاموشی تھی وہ اداس ہوائیں وہ معصوم چہرہ انکی آنکھوں کے سامنے لہرا یا تھا ۔۔
” یہ سب تیری وجہ سے ہوا ہے تو جانتا تھا وہ لوگ تمہارے پیچھے ہے پھر بھی تو یہاں آیا تم نے مارا ہے اسے تم نے ۔۔ زید ہوش میں آتے داريان کا کالر پکڑتا اس پر دھاڑا تھا ۔۔۔
” انعل نہیں ۔۔!! اسنے خود کی آواز کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی تھی وہ ہوش میں آتے اسکی طرف بھاگا تھا وہ زمین پر اوندھے منہ گری ہوئی تھی داريان تیزی سے اسکی طرف گیا اسے سیدھا کرتے ہوئے اسکا چہرہ دیکھا جو خون سے بھرا ہوا تھا ۔۔
” انعل انعل آنکھیں کھولو تمہیں کچھ نہیں ہوگا انعل پلیز مجھ سے باتیں کرو انعل ۔۔ داريان جنونی انداز میں اسے پکار رہا تھا زید بھی بھاگتے ہوئے اسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسکا لال چہرہ دیکھا ان کے دل صرف خوف سے بے حد تیز دھڑک رہے تھے انعل اپنی کم ہوتی سانسوں سے ان دونوں کو دیکھا اسکی بہت ہلکی آنکھیں کھلی ہوئی تھی اسنے اپنی اکڑی ہوئی سانسوں سے بولنے کی کوشش کی ۔۔۔
” ہہ ۔۔ہمارے ۔۔بب ۔۔بچہ ۔۔کّک ۔۔کا ۔۔خخ ۔۔خیال رکھنا اا ۔۔اور ۔۔ہہ ۔۔ہمارے ۔۔بب ۔۔بابا ۔۔کّک ۔۔مم ۔۔معاف ۔۔کّک ۔۔کردے ۔۔ نہیں انعل پلیز رک جاؤ تمہیں کچھ نہیں ہوگا میرے ساتھ ایسا مت کرو مجھے معاف کردو مم میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا پلیز تمہیں کچھ نہیں ہوگا ۔۔ وہ اٹک کر سانس لیتے ہوئے بول رہی تھی داريان نے اسکے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے روتے ہوئے اس سے معافی مانگی تھی انعل پوری طرح اسکے بازو میں تھی اسکا ایک ہاتھ زید نے پکڑ رکھا تھا ۔۔
” اسے جلدی سے ہوسپٹل لیکے چلو اٹھاؤ اسے ۔۔زید چلا رہا تھا اس پر وہ اسکے معصوم چہرے خوبصورت آنکھوں میں دیکھ رہا تھا اسکے گرتے ہوئے آنسوں انعل کے چہرے پر گر رہیں تھے ۔۔
“ہہ۔۔ہمیں کہی نہیں جانا ہہ ۔۔ہمارے بچے کو آ۔۔اچھا آ۔ آدمی بب۔۔بنانا پپ۔۔پلیز اسے کبھی آپ دونوں جیسا نہیں بننے دینا ہہ ۔۔ہمیں اب اور ہمت نہیں جینے کی آ۔آپ لوگ پپ۔۔پلیز برا کام مم۔۔مت کریں ۔۔۔۔ انعل پلیز مت کہو ایسے ہم تمہیں کچھ نہیں ہونے دیگے اسے اٹھاؤ جلدی کرو ۔۔۔ انعللللل ۔۔۔۔ زید خوف سے دھڑکتے دل کے ساتھ بول رہا تھا اسکی آنکھیں بند ہوتا دیکھ کر دونوں چلا اٹھے انعل سانس لینے کی کوشش کرتے ہوئے انکا انداز روتا ہوا چہرہ دیکھتے ہوئے اداس مسکرائی دونوں کو اسکی مسکراہٹ نے مار دیا تھا ۔۔۔
” سکون چاہئیے ہم یہاں بہت تڑپ چکے ہیں وہاں نہیں تڑپنا چاہتے ۔۔پپ ۔۔پلیز ۔۔دد ۔۔داريان ۔۔ انعل نے اپنی آخری سانسیں لیتے ہوئے کہا وہ بہت آرام سے سانس لے رہی تھی اب ۔۔
” انو پلیز تمہیں میرے ساتھ رہنا تھا نہ پھر کیوں اکیلا چھوڑ نہ چاہتی ہو تم ایسا نہیں کر سکتی میرے ساتھ تمہیں کچھ نہیں ہوگا میں میں کچھ نہیں ہونے دونگا ۔۔ داريان جنونی ہو کر بولتا اسے وجود کو اٹھا کر گاڑی میں بیٹھایا زید نے جلدی سے گاڑی آگے بڑھا دی تھی ۔۔
