Nafrat e Ishq by Mahra Shah NovelR50541 Nafrat e Ishq (Episode 12)
Rate this Novel
Nafrat e Ishq (Episode 12)
Nafrat e Ishq by Mahra Shah
دافیہ دھڑکتے دل کے ساتھ خوبصورت سے سرخ پھولوں سے سجے کمرے میں بیڈ پر بیٹھی بیراج کا انتظار کر رہی تھی ایک نظر اٹھا کر پورے روم پر نظر ڈالی بیراج کا روم بہت اچھا سمپل تھا ہر چیز اپنے طریقے کی بنی ہوئی تھی اسنے کبھی نہیں سوچا تھا جسے محبت کی وہ اسے اتنی آسانی سے مل جائیگا آج وہ بیراج کے ساتھ مل کر اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہتی تھی جس نے اسکا نصیب اتنا اچھا لکھا اسے ایسا ہمسفر نصیب کیا جس سے اسنے محبت کی جو اس سے محبت کرتا ہے وہ اب کچھ نہیں چاہتی تھی بس بیراج سے عزت محبت کے سوا دروازے کھلنے کی آواز پر دافیہ نے نظر اٹھا کر سامنے دیکھا بیراج کی نظریں اسی پر ہی تھی بیراج سے نظریں ملتے اسنے جلدی سے نظریں جھکا دی دافیہ کی اسی ادا پر بیراج مسکراتا ہوا اسکے قریب گیا ۔۔
” السلام علیکم ماشاءاللّٰه بہت خوبصورت لگ رہی ہے ہماری بیگم ۔۔” بیراج نے شرارت سے تھوڑا جھکتے ہوئے کہا تھا ۔۔
” و۔وعلیکم السلام شکریہ آ ۔آپ بھی اچھے لگ رہیں ہیں ۔۔” دافیہ دھڑکتے دل سرخ چہرے کے ساتھ بولی ۔۔
” خوش ہو ۔۔” بیراج نے اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا محبت سے پوچھا ۔۔
” بب ۔بہت آپ سب بہت اچھے ہیں مجھے اتنا پیار دیا مجھے سنبھالا آپنے جو بھی میری لئے میرے دادا کے لئے کیا میں آپکی ساری زندگی شکر گزار رہونگی مجھے آپ سے صرف محبت عزت چاہئیے اور کچھ نہیں ہر عورت اپنے شوہر سے صرف عزت محبت چاہتی ہے مجھے بھی آپ سے یہی امید ہے کیا آپ میرے ساتھ ہمیشہ ایسے رہیں گے ۔۔” دافیہ نے اسکے ہاتھوں پر گرفت مضبوط بناتے ہوئے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
“ہمیشہ وعدہ پر رو کیوں رہی ہو اور دوبارہ کسی احسان کی بات مت کرنا ویسے تو میں بہت غصے والا ہوں پر شاید کسی نیکی کا صلہ ہو تم میرے لئے مجھے تم سے محبت نہیں عشق ہو گیا ہے دافیہ ہمیشہ میرے ساتھ رہنا ۔۔” بیراج نرمی سے اسکے آنسوں صاف کرتے ہوئے محبت سے چور لہجے میں بولا وہ مسکراتے ہوئے سر جھکا گئی ۔۔
★★★★
خوبصورت سے سرخ سفید گلاب کے پھولوں سے پورے روم کو اچھے سے سجا یا گیا تھا ہر طرف گلاب کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی انعل داريان کے ہاتھ میں ہاتھ دیے اسکے ساتھ چلتی ہوئی اس خوبصورت سے روم میں اندر داخل ہوئی ۔۔
” آپکا گھر بہت خوبصورت ہے ۔۔” انعل بے ساختہ اس کے خوبصورت گھر اور روم کو دیکھ کر بول اٹھی تھی ۔۔
” ہمارا گھر اب سے یہ ہم دونوں کا گھر ہے دوبارہ ایسا مت بولنا ۔۔” داريان پیچھے سے اپنے حصار میں لیتا اسکے کان میں سرگوشی میں بولا تھا ۔۔
اسکے قریب آنے سے انعل کا دل تیز دھڑک اٹھا تھا ۔۔
” گھبرا رہی ہو تمہاری تیز دھڑکن تو یہی بتا رہی ہے ۔۔” داريان نے گھمبیر لہجے میں سرگوشی میں پوچھا تھا ۔۔
” ہہ۔۔ہمیں چینج کرنا چاہیے ۔۔” انعل نے اپنی دھڑکنوں کے شور کو کم کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔
” اتنی جلدی کیا ہے گفٹ نہیں چاہئیے اچھا جاؤ چینج کرلو پھر دیتا ہوں ۔۔” وہ اسکی جھکی نظریں سرخ گال لرزتی پلکیں دیکھتا مبہوت سا بولا ۔۔
” گگ ۔۔گفٹ کس لئے ۔۔” گھنی پکلوں کی جھالر اٹھاتی کپکپاتی آواز میں بولی داریان کی آنکھوں کی تپش نے اسے دوبارہ آنکھیں جھکانے پر مجبور کردیا ۔۔
” چینج کرلو آرام سے بات کرتے ہیں ۔۔” داريان نرمی سے کہتا اسکے ماتھے پر بوسہ دیتا پیچھے ہوا
اسکے پیچھے ہوتے انعل نے آنکھیں کھولی ۔۔
★★★★
” داريان ہمیں ڈر لگتا ہے ۔۔” انعل نے داريان کے سینے پر سر رکھے خوف سے کہا تھا ۔۔
” کس بات کا ڈر میرے ساتھ ہوتے ہوئے تمہیں ڈر کیوں لگ رہا ہے ۔۔” داريان نے آہستہ آہستہ اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تھا ۔۔
” ہمیں آپکے ساتھ ڈر نہیں لگتا لیکن وہ ماسک مین وہ بہت برا ہے وہ ہمیں بہت ڈرا کتا ہے آج بھی پالر میں آیا تھا اور آپکے بارے میں بہت برا کہہ رہے تھے ۔۔” انعل نے معصومیت سے کہا تھا ۔۔
” اچھاا پھر میری معصوم سی بیوی نے کیا کہا ۔۔
” ہم نے انکی بات نہیں مانی وہ برے ہے آپ اچھے ہے بہت ہم آپ سے بہت محبت کرتے ہیں ہم ہمیشہ آپکے ساتھ رہیں گے آپ کبھی ہمیں مت چھوڑنا ۔۔” انعل نے شرماتے ہوئے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا ۔۔
” اور میں تم سے نفرت عشق کرتا ہوں تم ہمیشہ میری رہو گی اور اب میرے علاوہ کھبی کسی کے بارے میں سوچنا بھی مت جو چیز میری ہوتی ہے وہ صرف میری ہوتی ہے یاد رکھنا ۔۔” داريان اسکی طرف کروٹ بدلتے ہوئے اسکے چہرے سے بال ہٹاتے جھک کر اسکے ماتھے سے اپنا ماتھ ٹکاتے ہوئے کہا تھا دونوں کی آنکھیں بند تھی انکے بیچ خاموش تھی لیکن انکے دھڑکنے شور مچا رہی تھی ۔۔
★★★★
” اٹھو یار یہ کیا تماشا بنا رکھا ہے ۔۔
نہیں پہلے مجھے وہ لاکر دو پھر ہی اٹھوں گی ۔۔” ہر بات پر ضد اچھی بات نہیں اب چلو شاباش اٹھ جاؤ میری جان ۔۔ حنان پیار سے کہتا اسے نیچے سے اٹھانے کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا زافا نے غصے سے اسکا ہاتھ جھٹک دیا ۔۔
” اگر نہیں لیکے آئے تو میں یہی بیٹھی رہو گی ورنہ اس بیچ روڈ پر جاکے بیٹھ جاؤں گی ۔۔ زافا لنڈن کے خوبصورت شہر میں روڈ پر بیٹھی حنان کے ساتھ لڑائی کر رہی تھی اسے وہ سامنے شاپ پر رکھا ٹیڈی چائیے تھا پر حنان اسے لیکے دینے کے موڈ میں نہیں تھا ۔۔
” کیا پاگل ہو اٹھ رہی ہو یا میں اٹھاؤں پتا نہیں کس پاگل سے شادی کرلی ۔۔” حنان نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے غصے میں کہا ۔۔
” اگر تمنے اٹھایا تو میں چلاؤں گی تم نے اپن کو پاگل کہا میں رو رہی ہوں اب ۔۔” زافا ہونٹ باہر نکالتے ہوئے رونے کی تیاری کی ۔۔
” یہ اپن اپنے لئے نہیں تمہارے ہی بچے کے لئے لے رہی ہوں نہ اور تم کنجوس اتنے سارے پیسے قبر میں لیکے جاؤ گے ۔۔” زافا نے ڈبڈبائی آنکھوں سے کہا اسکے آنسوں گرنے والے تھے کے حنان جھکتا صاف کر گیا ۔۔
” اف اچھا بابا جا رہا ہوں رونا بند کرو اور ہاں مجھے میری زافا کبھی روتی ہوئی نہ دکھے پتا ہے کیوں ۔۔” مسکراہٹ دباتا بولا تھا ۔۔
” کیوں میں پیاری ہوں ۔۔
” نہیں کیوں کے تم روتے ہوئے چڑیل دکھتی ہو اور اگر یہاں کسی نے ایسی چڑیل دیکھ لی تو جیل میں ڈال دیں گے پھر میں بیچارہ اکیلا کیا کروں گا اتنے خوبصورت ملک میں ویسے یہاں کی لڑکیاں ہے بڑی خوبصورت دلکش کیا کہتی ہو آااااہہ پاگل عورت ۔۔” حنان جو مسکراہٹ دباتا مزے سے بول رہا تھا زافا کا پورا دھیان اسکی باتوں پر تھا لیکن جب اسکی آخری باتیں سنی اسکا تو پارا ہائی ہو گیا زور سے حنان کا بازو کھینچتے ہوئے ساتھ ہی بیٹھا دیا اسے ۔۔
” ایسا سوچا بھی نہ تو آج رات ہی زہر کھلا دونگی نہ تم ہونگے نہ تمہارے واہيات خواب مجھے ابھی کے ابھی وہ لاکر دو ورنہ یہیں پر تمہیں ماروں گی حانننن ۔۔” زافا غصے میں بولتی پھر سے اسکے بال کھیچنے لگی حنان بڑی مشکل سے خود کو چھڑواتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا ۔۔
” ایک بار میرے بچے کو آنے دو اس دنیا میں اسکے بعد تمہیں تمہاری دنیا میں بھیج دوں گا ۔۔” حنان گھور تے ہوئے بولتا آگے بڑھ گیا زافا اسے جاتا دیکھ کر مسکراتے ہوئے اٹھ کر اسکے پیچھے گئی ۔۔
★★★★
” آپکو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے بیٹا ۔۔” حیات صاحب سامنے بیٹھے نوجوان سے کہہ رے تھے ۔۔
” کس بات کی غلط فہمی میں یہاں آپ سے آپکی بیٹی کا رشتہ لینے آیا ہوں مجھے وہ پسند آگئی ہے اس لئے اسکا رشتہ مانگے سیدھا آپکے پاس آیا ہوں ورنہ میرے پاس بہت طریقے ہے اسے حاصل کرنے کے لئے ۔۔” زید ٹانگ پر ٹانگ چڑھاۓ مسکراتے ہوئے بولا تھا ۔۔
” میں آپ سے تمیز سے بات کر رہا ہوں بیٹا تو اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کے ہم اپنی بیٹی کے بارے میں کچھ بھی سنے یہ سب سجاوٹ دیکھ رہیں ہے آج میری بیٹی کی شادی تھی وہ بھی بہت بڑے بزنس مین داريان حیدر خان سے اب آپکو جواب مل گیا ہوگا تو آپ جا سکتے ہیں یہاں سے ۔۔” حیات صاحب غصے میں ضبط کرتے ہوئے زید کو سکون سے سمجھا یا ۔۔
” یہ کیا بکواس کر رہیں ہو وہ صرف اور صرف زید جعفری کی ہے وہ کسی کی نہیں ہو سکتی سمجھے تم مجھے وہ چاہئیے کہاں ہے وہ بولو ۔۔” زید حیات صاحب کا کالر پکڑ تے ہوئے غصے سے غرایا ۔۔
سب سونے کے لئے جا چکے تھے حیات صاحب جانے والے تھے کی ملازم نے آکر بتایا کوئی اسنے ملنا چاہتا ہے تو انہوں نے اجازت دے کر اندر بلایا لیکن اسکے منہ سے اپنی بیٹی کا نام سنتے انھیں غصہ آگیا ۔۔
” میری بیٹی کی شادی ہو چکی ہے جس کے ساتھ بھی ہے وہ بہت خوش ہے تم میری بیٹی کا پیچھا چھوڑ دو ورنہ تمہارے لئے اچھا نہیں ہوگا ۔۔” حیات صاحب نے غصے سے کالر چھوڑ واتے ہوئے کہا تھا ۔۔
” اتنی آسانی سے تو میں بھی نہیں چھوڑوں گا وہ جس کے پاس بھی ہے میں اسے حاصل کر کے ہی رہوں گا اور ہاں جاتے ہوئے تمہیں ایک گڈ نیوز تو دینی بنتی ہے مجھے بیڈ نیوز دی ہے تو تمہارے لئے بھی ہونی چاہیے ۔۔” زید طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بولا ۔۔
” کیا بکواس کر رہے ہوں جاؤ یہاں سے پتا نہیں کہا سے منہ اٹھا کر چلے آجاتے ہیں ۔۔” حیات صاحب غصے میں دھاڑے ۔۔
” آرام سے مجھے تیز آواز پسند نہیں اس کا بدلہ تو بعد میں لونگا بیڈ نیوز حیدر خان کا بیٹا زندہ ہے اور وہ تم سے چھپ چھپ کر بدلہ لہ رہا ہے حیدر خان کو تو جانتے ہونگے تم ۔۔” زید اپنی چال چلتا ہوا ایک نظر حیات صاحب کے سفید پڑتے چہرے پر ڈالتا آگے بڑھ گیا ۔۔
حیات صاحب چکراتے ہوئے سر کے ساتھ صوفہ پر گرتے ہوئے بیٹھ گئے انھیں یقین نہیں ہو رہا تھا جو انہوں نے سوچا کیا وہ سچ ہے اور اگر ہاں تو کیا وہ چپ بیٹھے گا یہ اسکی بیٹی کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے ہزاروں سوچوں میں وہ گرے ہوئے تھے اس وقت ۔۔
★★★★
” اب ہوگا میرا بدلہ شروع مسٹر حیات شیرازی تمہاری بیٹی تو واقعی بہت معصوم ہے اسکی معصومیت میں ختم کروں گا جیسے تم نے میری آنی کی کی تھی جتنا تم نے میری آنی کو تڑپایا ہے اس سے کہیں زیادہ تمہاری بیٹی کو تڑپاؤنگا ۔۔” وہ اندر بالكانی میں کھڑا چاند کی ہلکی روشنی اسکے خوبصورت چہرے پر پڑ رہی تھی سرخ آنکھیں چہرے پر نفرت ہی نفرت تھی ۔۔
” تم لوگوں کی مستی وہاں پر بھی ختم نہیں ہو رہی ۔۔” وہ فون پر دوسری طرف کو دبے غصے میں بولا تھا ۔۔
” ہماری خیر ہے تم بتاؤ اس معصوم کو کب برباد کر رہے ہو اور کب واپس آرہے ہو ۔۔” دوسری طرف افسوس سے بولا گیا تھا ۔۔
” کل آرہیں ہے تم نے اپنا کام کیا ۔۔” وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا ۔۔
” ہاں بس تمہارا انتظار ہے آکر اسکی بریانی بناؤ بہت شور کرتا ہے کان پک گئے میرے ۔۔” دوسری طرف منہ بناتے ہوئے کہا تھا ۔۔
” تم اسکے چمچے کو دفنانے کی تیاری کرو اس بار میں اسے جیتنے نہیں دونگا ۔۔” اسکے اندر نفرت غصے کی شدت تھی ۔۔
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
” گڈ مارننگ ۔۔” بیراج نے دافیا کو اٹھتے دیکھ کر کہا ۔۔
” آ۔آپ کب اٹھے میں اتنی دیر سے سو رہی تھی اور آپ نے مجھے اٹھایا نہیں ۔۔” دافیہ پریشان سی بولی ۔۔
” میری پیاری بیوی سوتے ہوئے بہت پیاری لگ رہی تھی دل نہیں کیا اٹھانے کو لیٹ نہیں ہوئی ٹائم سے اٹھی ہو میں بس تیار ہو کر آرہا تھا تمہارے پاس ۔۔” بیراج اسے کمر سے پکڑ کر قریب کرتے ہوئے اپنی محبت کی مہر اسکے ماتھے پر ثبت کی ۔۔
” مجھے نہیں پتا تھا آپ اتنے اچھے اور رومینٹک ہے میں نے تو ہمیشہ کھڑوس غصے کرنے والے کو دیکھا ہے ۔۔” دافیہ نے دونوں بازو اسکے گلے میں ڈالے شرارت سے کہا ۔۔
” اچھا کیا تم اس کھڑوس غصے والے کو مس کر رہی ہو کہو تو جگہ دوں ۔۔” بیراج نے جھکتے ہوئے سرگوشی کی تھی ۔۔
” جگا دیں میں اب نہیں ڈرتی اس سے میرا شوہر ہے میرے ساتھ اس سے بھی زیادہ ہینڈسم ۔۔” دافیہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔۔
” اچھا بعد میں رونا مت ۔۔” بیراج شرارت سے بولا تھا ۔۔
” آپ نے وعدہ کیا تھا آپ کبھی نہیں رلائیں گے ۔۔” دافیہ نے منہ بناتے ہوئے کہا تھا ۔۔
” کبھی نہیں بیراج شیرازی اپنے وعدے سے کبھی نہیں مکرتا تم اداس مت ہوا کرو ۔۔” بیراج محبت سے بولتا اسے گلے لگایا ۔۔
★★★★
” آپ ہمارا سامان کیوں پیک کر رہی ہے دد۔۔ داريان کہاں ہے ۔۔” انعل بیڈ سے اٹھی تو سامنے ملازمہ کو بیگ پیک کرتے ہوئے دیکھا ایک نظر پورے روم میں ڈالی داريان کو تلاش کیا پر وہ کہیں نہیں دیکھا اسکا دل خوف سے دھڑک اٹھا ۔۔
” میڈم صاحب جی باہر بیٹھے ہیں اپکا انتظار کر رہیں تھے اور مجھے کہا آپکا سارا سامان پیک کردوں ۔۔” ملازمہ بتا کر پھر اپنے کام میں لگ گئی انعل داريان کا سنتے باہر بھاگی ۔۔
” دد ۔۔داريان ہم ہم کہاں جا رہیں ہے ۔۔” انعل باہر گارڈن میں آتے ہوئے سامنے داريان کو بیٹھا دیکھا اسکی طرف بھاگتے ہوئے گئی وہ نائٹی ڈریس میں بکھرے بال نیند سے بوجھل ہلکی سرخ آنکھیں تیز دھوپ اسکے چہرے پر پڑتے ہوئے اسے اور بھی خوبصورت دلکش بنا رہی تھی داريان ایک نظر اسکے خوبصورت ہولیے پر ڈالتا آس پاس آیا گارڈ مالی کی موجودگی دیکھتا خود پر ضبط کرتا اسکے سامنے آیا ۔۔
” روم میں چل کر بات کرتے ہیں ۔۔” داريان سرد لہجے میں بولتا اسکا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھ گیا ۔۔
” کیا ہوا باہر کیوں آئی اس ہولیے میں ۔۔” داريان روم میں آتا ملازمہ کو اشارہ کرتا باہر جانے کا روم کا دروازہ بند کرتا اسے بازوؤں سے پکڑتا قریب کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا ۔۔
” وو ۔۔وہ ہم کہاں جا رہیں ہے اور سس ۔۔سوری ۔۔” انعل نے شرمندہ ہوتے ہوئے نم آواز میں کہا تھا ۔۔
” اگلی بار خیال رہے اب جاؤ تیار ہو جاؤ تمہارے گھر چلنا ہے اپنے بابا سے مل لو آخری بار ۔۔” داريان مسکراتے ہوئے اسکے چہرے سے بال ہٹاۓ ۔۔
” مم۔۔ مطلب آ ۔آخری بار کیوں ہم کہاں جا رہیں ہے ۔۔” انعل نے دھڑکتے دل کے ساتھ ڈر تے ہوئے پوچھا ۔۔
” تم ڈر رہی ہو مجھ سے ہم ہنی مون پر جا رہے ہے لنڈن آج شام کی فلائٹ ہے اب جلدی سے تیار ہو جاؤ تمہیں اپنے بابا سے بھی ملنا چاہیے کیوں کے ہم جلدی واپس نہیں آسکتے میرا کام وغیرہ وہیں پر ہے ۔۔” داريان اسکے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں لیتے آرام سے بتا رہا تھا ۔۔
” لیکن آپ تو یہی رہتے ہیں نہ کیا ہم کبھی واپس نہیں آئیں گے ۔۔” انعل نے نا سمجھی سے پوچھا تھا ۔۔
” یہاں میں کچھ کام سے آیا تھا اب وہ پورا ہو گیا ہے تو واپس جانا پڑیگا وہاں کام بہت رہ گیا ہے تم میرے ساتھ نہیں چلنا چاہتی ۔۔” داريان اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
” نن ۔۔نہیں ہم آپکے ساتھ ہے ہم یہاں آپکے بغیر کیسے رہیں گے ہم تیار ہو جائیں ۔۔” انعل نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔
” جلدی ہمیں دیر نہیں ہونی چاہیے ۔۔” داريان پیار سے کہتا اسکا ماتھ چوما انعل شرماتے ہوئے تیزی سے واش روم میں بند ہوگی ۔۔
★★★★
“جلدی پتا لگواؤ کون ہے وہ کمینہ جس نے میری محبت پر ہاتھ ڈالا ہے ااہاااہ۔۔” زید شراب پیتے ہوئے غصے میں ڈھاڑا ۔۔
” سر یہ رہی اسکی تصویر یہ ایک بہت بڑا بزنس مین ہے لنڈن میں اسکا اپنا بزنس ہے کل ہی حیات شیرازی کی بیٹی کے ساتھ اسکی شادی ہوئی ہے اور شاید کچھ دنوں میں واپس لنڈن چلا جاۓ ۔۔” اسکے ساتھی نے فل انفارمیشن دی ۔۔
” تو تم ہو وہ اچھا کھیل کھیلا ہے تم نے تم نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ اب میں تمہیں وہ سزا دونگا ساری زندگی یاد رکھو گے ۔۔” زید اسکی تصویر کو دیکھتا نفرت سے غرایا ۔۔
” اور اس ظفر کا پتا چلا کہاں ہے کمینہ یہاں سارے کام چھوڑ کر کہاں بھاگ گیا ڈھونڈو اسے ۔۔” زید کو ظفر کی اتنے دنوں سے غیر موجودگی پر غصہ آیا تھا ۔۔
★★★★
” السلام علیکم ۔۔” دافیہ بیراج کے ساتھ چلتے ہوئے نیچے آئی دھیرے سے سلام کیا دافیہ پیچ کلر کے سوٹ میں کھلے بال لائٹ میکپ میں سر پر دوپٹہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی بیراج بلیو فارمل سوٹ میں ہینڈسم لگ رہا تھا ۔۔
” وعلیکم السلام اللّه پاک خوش رکھے آپ دونوں کو ۔۔” حمدان صاحب دافیہ کے سر پر ہاتھ پھیر تے ہوئے دعا دی بی جان حیات صاحب نے بھی اسے پیار سے دعا دی تھی ۔۔
” انعل نہیں آئی ۔۔” دافیہ نے انعل کا پوچھا اسکے نام پر حیات صاحب دل خوف سے دھڑکا تھا باقی سب کو اسکی یاد آنے لگی تھی ۔۔
” انعل ہمارے گھر کی رونق تھی اسکے جانے کے بعد آپ ہے اب اس گھر کی رونق ۔۔” بی جان پیار سے بولتے ہوئے کہا ۔۔
” بابا بی جان ہم آگئے ۔۔” انعل اندر آتے ہوئے خوشی میں بھاگتے ہوئے حیات صاحب کے گلے لگی انعل نیٹ کے بلیک ڈریس میں ہلکے سے میکپ کھلے بال میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی داريان چلتا ہوا ان سب سے ملنے لگا اسنے بھی فل بلیک سوٹ پہنا ہوا تھا دونوں ہی بہت پیارے لگ رہیں تھے انکے سفید رنگ میں بلیک کلر دونوں کو بہت خوبصورت دلکش لگ رہا تھا بی جان حیات صاحب نے دل ہی دل میں انکی نظر اتری ۔۔
” ماشاءاللّٰه بہت پیارے لگ رہیں ہے آپ دونوں ۔۔” دافیہ نے مسکراتے دونوں کو دیکھ کر کہا ۔۔
” شکریہ آپ دونوں بھی بہت اچھے لگ رہیں ہے ساتھ میں ۔۔” انعل بیراج دافیہ کو ساتھ دیکھتے ہوئے خوشی سے کہا ۔۔
” چلے آجائیں پہلے ناشتہ کرلے پھر آرام سے بیٹھ کر باتیں کر لینا ۔۔” بی جان سب کو کہتی آگے بڑھ کر ناشتہ لگانے لگی سب نے بیٹھ کر خوش گوار ماحول میں ناشتہ کرتے ہوئے باتیں کی ۔۔
★★★★
” ہماری جان خوش ہے ۔۔” حیات صاحب انعل کو ساتھ لگاتے ہوئے کہا ۔۔
” ہم بہت زیادہ خوش ہے داريان بہت اچھے ہے اور آپ کو پتا ہے ہم آج رات کی فلائٹ سے جا رہے ہیں لنڈن ۔۔” انعل نے خوشی میں بولتے ہوئے کہا تھا ۔۔
” کیا مطلب بیٹا یہ کیا کہہ رہی ہے آپ لوگ کہاں جا رہیں ہے ۔۔” حیات صاحب کی مسکراہٹ غائب ہوگئی انعل کی بات پر وہ نا سمجھی سے داريان سے پوچھنے لگے سب حال میں بیٹھے ہوئے تھے داريان بیراج سے بات کر رہا تھا جب انہوں نے پوچھا وہ مسکراتے ہوئے بولنے لگا ۔۔
” انکل میں یہاں نہیں رہتا ہوں میرا سب کچھ ہر کام لنڈن میں ہے یہاں مجھے اپنے ایک بزنس ڈیل کی وجہ سے کچھ ٹائم رکنا پڑا تھا اور اس بیچ میری آپ لوگوں سے ملاقات ہوگئی اور اس لئے میں چاہتا تھا شادی جلدی ہو جائے تو میں انعل کو بھی ساتھ لے جاؤں اسے یہاں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا ہوں یہ بات آپ لوگوں کو بتانا چاہتا تھا پر موقع نہیں ملا پھر آج رات ہی فلائٹ ہے وہاں کام بہت پینڈنگ میں رہ گیا ہے ۔۔۔” داريان نے پوری بات سمجھاتے ہوئے کہا ۔۔
” بزنس کی بات ہے تو میں تمہارے ساتھ ہوں یہ بات میں بہت اچھے سے سمجھ سکتا ہوں ہاں بس ہماری ڈول کا بہت خیال رکھنا ۔۔” بیراج نے مسکراتے ہوئے داريان کا ساتھ دیا تھا ۔۔
” بیٹا آپ تھوڑا رک جاتے تو ہم اپنی بیٹی کو تھوڑا بہت گھر کا کچھ سکھا دیتے پر آپکا جانا ضروری ہے تو اللّه پاک آپ دونوں کو خوش رکھیں اپنے حفظ امان میں رکھیں آمین ۔۔” بی جان نث دعائیں دی حمدان صاحب بھی اسکی بات سمجھتے ہوئے کہا تھا حیات صاحب خاموش تھے انھیں سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا بولے کیسے اپنی زندگی کو اتنا دور بھیج دیں انکا دل گھبرا رہا تھا لیکن وہ انعل کے سامنے کمزور نہیں پڑھنا چاہتے تھے ۔۔
” ٹھیک ہے بیٹا آپ لوگ آرام سے جائے آپ سے بس ایک ہی امید ہے میری بچی کا بہت خیال رکھنا بیٹا آپ جانتے ہیں انعل کیسی ہے اسے اکیلا مت چھوڑے گا ۔۔” حیات صاحب دل پر پتھر رکھتے ہوئے بول رہیں تھے ورنہ ان میں ہمت نہیں تھی اپنی بیٹی کو اتنا دور بھیجنے کی دل تو بہت گھبرا رہا تھا زید کی باتوں نے بہت اثر چھوڑا ہوا تھا اپنا ۔۔
” انکل آپ نے کبھی بتایا نہیں انعل کی موم کی ڈیتھ کیسے ہوئی آئے نو یہ وقت نہیں بات کرنے کا پر کبھی انکے بارے میں سنا نہیں ۔۔” داريان کی تیز نظرے حیات صاحب کے گھبراتے ہوئے چہرے پر تھی اس بات پر سب خاموش ہو گئے تھے انعل نے اداسی سے اپنے بابا کو دیکھا ۔۔
” وو ۔ وہ بس ایک حادثہ تھا میری زندگی کا خوف ناک منظر تھا بس جو اللّه کو منظور ۔۔” حیات صاحب اپنی گھبراہٹ چھپاتے ہوئے کچھ مختصر لفظوں میں بولے تھے ۔۔
” اللّه انکی مغفرت فرماۓ اور آپ کو کبھی دوبارہ ایسے منظر نہ دیکھاۓ ۔۔” داريان سنجیدگی سے کہا تھا ۔۔
کچھ دیر بیٹھ کر وہ سب بہت باتوں کے بعد وہاں سے نکلے تھے حیات صاحب نے انعل کو بہت اچھے سے ہر چیز سمجھائی تھی بی جان نے بہت اچھے پیار سے اسے سمجھایا تھا سب نے پیار محبت دعاؤں میں اسے رخصت کیا اسے انعل پر ان سب کی باتوں نے بہت اثر کیا تھا ۔۔
★★★★
” دد ۔۔داريان ہم بابا سے ملنے آسکتے ہیں نہ ۔۔” انعل فلائٹ میں بیٹھی گھبرا رہی تھی ۔۔
” کیوں تمہیں میرے ساتھ رہنا اچھا نہیں لگتا ہے ۔۔” داريان سنجیدگی سے کہتا اسے دیکھا ۔۔
” نن ۔۔نہیں آ آپ ایسا کیوں کہتے ہیں ہمیں آپکے ساتھ بہت اچھا لگتا ہے ہم تو بابا سے ملنے کی بات کر رہے تھے ۔۔” داريان کا ایسا بولنا اسے اچھا نہیں لگا تھا ۔۔
” انعل میری بات سنو ہم یہاں سے بہت دور جا رہے ہے اب تمہاری شادی ہوگئی ہے تمہیں میرا خیال رکھنا چاہیے میرے بارے میں سوچنا چاہیے ہم یہاں بار بار نہیں آسکتے تم فون پر بات کر لینا اپنے بابا سے لیکن روز نہیں کبھی کبھی تمہارا سارا دھیان اب مجھے پر ہونا چاہیے سمجھ آئی میری بات ۔۔” داريان نرم اور تھوڑا سخت لہجہ اختیار کیا تھا ۔۔
” ہہ ۔۔ہم خیال رکھیں گیں ۔۔” انعل اسکی بات سمجھتے ہوئے ہاں میں سر ہلا یا ۔۔
” ڈر لگ رہا ہے ۔۔” داريان اسکے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے ۔۔
” بب ۔۔ بہت ہمیں گھبراہٹ ہوتی ہے بہت ۔۔” انعل نم آواز میں کہا اور اسکے ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا ۔۔
” شش گھبراؤ نہیں میں ہوں نا ساتھ ۔۔” داريان جھک کر بولتا اسے اپنے ساتھ لگاتا ماتھ پر بوسہ دیا انعل نے سکون سے آنکھیں بند کردی اسکے حصار میں ۔۔
