Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafrat e Ishq (Episode 03)

Nafrat e Ishq by Mahra Shah

زافا نے گردن موڑ کر دیکھا تو سامنے وہی ایئر پورٹ والا وہ لڑکا کھڑا تھا لمبا چوڑا اور وہ ہمیشہ کی طرح لڑکوں والے کپڑوں میں تھی ۔۔

” اپن تیرے لئے کام کرے گی کیا سوچ کے تو اپن کے پاس آیا “۔۔ زافا نے تیکھے تیور لئے کہا ۔۔

” یہی کہ ایک چور کو بہت بڑی چوری کی ضرورت تھی ویسے میرا کام زیادہ مشکل نہیں ہے “۔۔ حنان نے مسکراتے ہوئے کہا پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے سکون سے اسکے غصے سے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔۔

” تو نہ اپن کو جانتا نہیں اپن کیا چیز ہے “۔۔زافا نے فخر سے کہا ۔۔۔

” چلوں پھر جان لیتے ہیں ایک دوسرے کو لیکن میں تم سے بھی بڑا ڈون ہوں “۔۔حنان ایک آنکھ دباتا بولا ۔۔

” نہیں کرتا اپن تیرا کوئی کام چل دفع ہو یہاں سے اس دن والی بےعزتی اپن بھولا نہیں ہے اور ہاں اپن جیسی بھی چوری کرتی ہے اس میں خوش ہے تیرے ساتھ کوئی کام نہیں کرنا سمجھے چل اب نکل پتلی گلی سے “۔۔ زافا نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا ۔۔۔ حنان ایک نظر اسے دیکھتا آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ پکڑ لیا زافا اسکی ہمت پر دنگ رہ گئی ۔۔

” چھوڑ اپن کو میں تیری جان لے لونگی کمینے انسان چھوڑ “۔۔ زافا چلاتی ہوئی کہہ رہی تھی وہ اسکو اپنے ساتھ گھسیٹتا ہوا لے جا رہا تھا ۔۔

” تم لوگ بچاؤ اپن کو میں تم لوگوں کی بوس ہوں “۔۔ زافا نے غصے سے گھورتے ہوئے کہا اپنی چھوٹی سی گینگ کو دو چھوٹے لڑکے اور ایک لڑکی تھی وہ بھی اسکی طرح چور تھے اسی کے محلے کے ۔۔

” نہیں بچوں ایسی کوئی غلطی مت کرنا ورنہ تمہاری بوس شہید ہو جاۓ گی “۔۔ حنان نے اپنی جیب سے گن نکالتے ہوئے کہا وہ سب گن دیکھ کر بھاگ گئے زافا غصے سے ان نمک کھوروں کو دیکھتی رہی پھر ایک نظر حنان کو دیکھتے ہوئے راضی ہوئی اسکی بات سننے کے لئے حنان مسکراتا ہوا اسے اپنی گاڑی میں لیکے گیا یہاں وہ بات نہیں کر سکتا تھا ۔۔

★★★★★★

ہر طرف آگ لگی ہوئی تھی آگ کے دہکتے ہوئے شعلے ہر ایک چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے سب لوگ باہر نکل گئے تھے اندر صرف وہ ایک تھی ۔۔

” گارڈز کہا مر گئے سارے جاکے سب دیکھو میری بیٹی کہاں ہے “۔۔ حیات صاحب غصے میں چلا رہے تھے ۔۔

” میں اندر جاؤنگا ہم اپنی بیٹی کو اکیلے نہیں چھوڑ سکتے “۔۔ حیات صاحب بیٹی کو بچانے کیلئے مچل رہے تھے انکی ایک ہی بیٹی تھی انکی زندگی وہ کیسے نہ تڑپتے ایک باپ اپنی بیٹی کو کیسے اس حال میں دیکھ سکتا ہے ۔۔

” انکل آپ خود کو سنبھالے میں دیکھتا ہوں کچھ نہیں ہوگا انی کو ڈیڈ آپ انکل کو سنبھالے “۔۔ عفان نے انکو سمجھاتے ہوئے کہا۔۔

آگ بہت تیزی سے پہل رہی تھی ایسا لگ رہا تھا کسی نے ہر جگہ اچھی طرح پیٹرول ڈالا تھا ۔۔ عفان بہت کوشش کر رہا تھا اندر جانے کی پر بہت مشکل تھا اندر جانا ۔۔

★★★★

انعل اپنے بابا کو انتظار میں بیٹھا کر اندر آئی بیگ لینے کیلئے جسے ہی وہ رک کر سوچنے لگی ۔۔

” افف اللّه ہم تو بھول گئے ہم نے کس روم میں رکھا تھا بیگ “۔۔ انعل سر پر ہاتھ مار کر خود سے بڑبڑائی اسکے سامنے دو روم تھے وہ کچھ سوچتی ہوئی ایک روم میں گئی ۔۔

” کّک۔۔کون ہے “۔۔ وہ جیسے ہی روم میں آئی کسی کو کھڑکی سے بھاگتے ہوئے دیکھ کر کہا پر وہ شاید اپنا کام کر کے بھاگ گیا اسنے کچھ آواز پر گردن موڑ کر دیکھا تو وہ جیسے اپنی جگہ ساکت رہ گئی پورے روم میں آگ پہل گئی تھی تیزی سے وہ ہر چیز کو اپنی لپٹ میں لے رہی تھی ۔۔

” آآہہہ ۔۔ انعل کراہ کر پیچھے ہوئی کیوں کے وہ کھڑکی کے پاس کھڑی تھی اور جیسے ہی پردے کو آگ نے لپٹ میں لیا جلن سے کراہ کے پیچھے ہوئی پورے روم میں دھواں پہل گیا تھا انعل کا سانس اکھڑنے لگا تھا ۔۔

“بچاؤ بابا “۔۔ وہ لمبی لمبی سانسیں لیتی ہوئی مشکل سے بول پائی تھی۔۔

آآہہہ۔۔ بابااا۔۔بابااا”۔۔ وہ روتی چلا تی ہوئے اپنے بابا کو بلا رہی تھی جیسے وہ ہمیشہ اپنی ہر تکلیف میں انھیں ہی بلاتی تھی اب اسے تکلیف کی وجہ سے اس پر غشی طاری ہورہی تھی وہ ہمت ہارتے ہوئے وہی پر گر گئی ۔۔۔

“آآاہہہ ۔۔” اس کو اپنا پورا بدن جلتا ہوا محسوس ہوا بال پورے چہرے پر بکھرے ہوئے دھوے کی وجہ سے وہ سانس تک نہیں لے پا رہی تھی اسکی آنکھیں کے سامنے وہ منظر لہرایا جب وہ باہر ٹیبل پر بیٹھی بد دعائیں دے رہی تھی تب کسی نے کہا تھا یہاں آگ لگوا دو وہ انہی سوچوں میں تھی جب کوئی دروازہ توڑ کر اندر آیا اسنے دھندلاتی ہوئی نظروں سے سامنے کھڑے وجود کو دیکھا جو ہڈی میں تھا اسکی آنکھیں فکھ رہی تھی انعل ان آنکھوں کو پیچان گئی تھی اسکی آنکھیں بند ہوئی اسنے جھک کر اسے اٹھایا اسنے محسوس کیا تھا وہ کسی کی مظبوط باہوں میں ہے اسنے ایک نظر اسکے بے ہوش وجود پر ڈالی اور اسے لیکے باہر نکلا ۔۔

” حان گاڑی سٹارٹ کروں جلدی ۔۔ ڈی اے اسے کیا ہوا اوکے جلدی کرو “۔۔ حنان ڈی اے کی باہوں میں انعل کو دیکھتا حیرت سے کہا انکے پلین میں تو یہ شامل نہیں تھا پر ڈی اے کی سرخ لال آنکھوں سے خود کو گھورتا پایا تو جلدی سے گاڑی سٹارٹ کی ۔۔

” اس بیوقوف لڑکی نے پورا پلین خراب کردیا شٹ “۔۔ڈی اے نے ایک نظر اسکے بےہوش وجود پر ڈالتے ہوئے کہا ۔۔

” ایسا مت کہو وہ بہت معصوم کیوٹ ہے ۔۔” حنان نے اسکی اور اپنی تھوڑی دیر پہلے والی بحث یاد کرتے ہوئے کہا جب وہ گارڈ بنا ہوا تھا اور وہ اس سے لڑائی کر رہی تھی ۔۔

★★★★★

” بس بہت ہوا فرحان میں یہاں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ سکتا میری بیٹی اندر ہے اور کوئی کچھ بتا نہیں رہا “۔۔ حیات صاحب غصے میں اندر کی طرف بڑھے ۔۔

” سر آپ اندر نہیں جا سکتے “۔۔ پولیس والے نے انکو روکتے ہوئے کہا ۔۔

” کیا بکواس ہے اندر میری بیٹی ہے کب سے آپ لوگوں کی بکواس سن رہا ہوں کوئی بھی نہیں بتا رہا میری بیٹی کہاں ہے اگر اسے کچھ بھی ہوا میں یہاں کسی کو بھی زندہ نہیں چھوڑو گا “۔۔ حیات صاحب غصے میں دھاڑے ۔۔

” سر ہم نے ہر جگہ دیکھ لیا ہے اندر کوئی نہیں ہے “۔۔ حیات کے گارڈ نے آکر کہا ۔۔

” ایسے کیسے ہو سکتا ہے میری بیٹی اندر گئی تھی وہ کہاں جا سکتی ہے “۔۔ حیات صاحب غصے میں پاگل ہو رہے تھے کوئی بھی انکو سہی سے کچھ نہیں بتا رہا تھا ۔۔

” انکل ریلکس ہم ڈھونڈ رہے ہے نہ “۔۔ عفان انکے سامنے آتے ہوئے کہا وہ خود انعل کے لئے پریشان ہو گیا تھا ۔۔

” سر یہ کوئی آپ کے لئے دے گیا ہے “۔۔ گارڈ نے حیات صاحب کے سامنے کاغذ پیش کیا عفان نے جلدی سے لیا اور کھول کر دیکھا بڑے حرف میں لکھا تھا

” you’re daughter saved with Me D.A “

حیات صاحب کو یہ جان کر سکون ہوا انکی بیٹی ٹھیک ہے پر دوسری بات پر وہ پریشان ہو گئے وہ کس کے ساتھ کون لیکے گیا ہے اسے اس بات نے ان سب کو پریشان کردیا تھا حیات صاحب گھر کے لئے نکل آئے انہے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا ہو رہا ہے انکے ساتھ انکی بیٹی کے ساتھ بہت ڈر گئے تھے وہ انعل کے لئے اب ۔۔

★★★★★

” چاچو یہ کیا کہہ رہے ہے انی کہاں ہے ” ۔۔بیراج نے پریشانی سے کہا گھر میں سب پریشان ہو گئے تھے حیات صاحب کی طبیعت خراب ہوگئی تھی بی جان رو کر رب سے دعا کر رہی تھی ۔۔

” مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے کون ہے وہ لوگ کیوں میری بیٹی کو لیکے گئے ہے وہ بہت معصوم ہے بیراج کچھ کرو ڈھونڈوں اسے کچھ نہیں ہونا چاہیے وہ تو کبھی میرے بغیر کہیں نہیں گئی وہ پتا نہیں میری بیٹی کے ساتھ کیا کریں گیں “۔۔ حیات صاحب نے روتے ہوئے کہا انکا بی پی لو ہو رہا تھا ۔۔

” حیات خود کو سنبھالو حوصلہ رکھو کچھ نہیں ہوگا ہماری بیٹی کو ہم ڈھونڈ لیں گے اسے وہ جو بھی ہے اسنے ہم سے ٹکڑ لیکے اچھا نہیں کیا “۔۔ حمدان صاحب نے انہے سمجھاتے ہوئے کہا ۔۔

” کیسے حوصلہ کروں حمدان صبح ہوگئی ہے اسے گم ہوئے دن کے دو بج رہے ہیں رات سے غائب ہے میری بیٹی “۔۔۔ حیات صاحب جب بھی انعل کا سوچتے انکا دل ڈوب جاتا تھا اور جاتا بھی کیسے نہ ایک ہی تو بیٹی تھی انکی پوری دنیا جسے دیکھتے ہوئے وہ اپنی زندگی گزارتے ہوئے آئے ہے ۔۔

” بیٹا جلدی کچھ کرو میری معصوم بچی کے ساتھ نہ جانے کیا کریں گے وہ لوگ اسے تو خود کھانا بھی نہیں کھایا جاتا پتا نہیں کس حال میں رکھا ہوگا اسے “۔۔ بی جان روتی ہوئی دعا کر رہی تھی اپنی معصوم بچی کے لئے جیسے دنیا کا ٹھیک سے پتا ہی نہیں تھا کیسے ظالم لوگوں سے بھری ہوئی ہے ۔۔

” میں نے پولیس میں رپورٹ لکھ وادی ہے لیکن ہم ایسے خالی ہاتھ نہیں بیٹھ سکتے کون ہے کیا دشمنی ہے اسکی ہمارے ساتھ کچھ سمجھ نہیں آرہا ایسا کون سا دشمن ہے “۔۔ بیراج سوچ میں پڑ گیا کون سا دشمن ہے جو ایسی حرکت کر سکتا ہے ۔۔

★★★★

” کیا ہوا پریشان لگ رہے ہو “۔۔ داريان عفان کو گہری سوچ میں کب سے دیکھ رہا تھا تو پوچھ بیٹھا ۔۔

” یار کچھ سمجھ نہیں آرہا اچانک کیا ہو گیا “۔۔ عفان نے گہری سانس لی ۔۔

” کیا مطلب ایسا کیا ہو گیا “۔۔ داريان نے نہ سمجھی سے کہا ۔۔

” یار تمہے انعل یاد ہے کل رات پارٹی میں ملایا تھا نہ “۔۔ عفان نے یاد دلا یا ۔۔

” انعل حیات “۔۔ داريان نے یاد کرتے ہوئے نام لیا ۔۔

” ہاں وہی یار کل رات تم پارٹی سے چلے گئے کچھ دیر بعد وہاں آگ لگ گئی کیسے کچھ نہیں پتا لیکن مجھے لگتا ہے کسی نے جان بوجھ کر کیا ہے یہ سب پر کسی نے انعل کو کڈنیپ کر لیا ہے “۔۔ عفان کو اب لگ رہا تھا آگ کسی نے تو لگوائی ہے اتنی سخت سیکریٹری میں یہ سب کیسے ہوا ۔۔

” واٹ آر یو سیریس مطلب ایسی کس کی دشمنی ہوگی جو انکی بیٹی کو کڈنیپ کر لیا “۔۔ داريان نے حیرت سے پریشانی میں کہا اسے انعل کے ساتھ اپنا ڈانس یاد آیا اور اسکا خوبصورت چہرہ اسکے سامنے لہرا یا سوچتے ہی اسکا دل دھڑک اٹھا ۔۔

” پتا نہیں یار کچھ سمجھ نہیں آرہا انکل کی طبیعت ہی خراب ہو گئی ہے اپنی بیٹی کا سوچتے ڈیڈ انکے پاس گئے ہے میں بھی وہاں جا رہا ہوں کچھ دوستوں کو کال کی ہے ہر جگا اچھی طرح چیک کریں “۔۔ عفان جانے کے لئے اٹھا ۔۔

” رکو میں بھی چلتا ہوں انکی طبیعت پوچھنے اور تم پریشان مت ہو میں بھی کچھ کرتا ہوں “۔۔ داريان بھی اسکے ساتھ چلا گیا ۔۔۔

★★★★★

” آپ اتنا روتی کیوں ہے “۔۔ وہ معصوم بچہ اس عورت کو کب سے روتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔۔

” یہ رونا میری قسمت میں لکھا ہے جیسے شاید ساری زندگی گزارنی پڑے لیکن ان دونوں کو نہیں بھول پاتی نہیں رہ سکتی میں انکے بغیر “۔۔ وہ عورت پھر سے تڑپ کر رونے لگی اور وہ معصوم بچہ کتنے دن سے اسکا یہ حال دیکھ رہا تھا اور اسے اب آہستہ آہستہ سمجھ رہا تھا اسکے ساتھ کیا ہوا ہے وہ دس سال کا بچہ تھا اتنا بھی نہ سمجھ نہیں کے سامنے اس عورت کے دکھ کو نہ سمجھ پاۓ ۔۔۔

” کیا میں اپکی مدد کر سکتا ہوں آنی “۔۔ وہ انتہائی سنجیدگی سے بولا ۔۔

” تم کیا کر سکتے ہوں تم خود ابھی بچے ہو اور میری جان ہو میں تمہیں خود سے دور نہیں کر سکتی “۔۔ وہ عورت اسکے معصوم سوال پر پیار سے اسکو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا ۔۔

” اسے ہوش آ گیا ہے ڈی اے “۔۔ حنان کی آواز پر وہ اپنے خیالوں سے واپس آیا وہ غصے سے سرخ ہوتا اپنی لال آنکھ سے حنان پر ایک نظر ڈالے اسٹڈی روم سے نکلا ۔۔

★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★

” ہم کہاں ہیں بابا “۔۔۔ انعل نے ہوش میں آتے ہی ایک انجان جگہ پر خود کو پایا وہ جہاز سائز بیڈ پر بیٹھی پورے روم کا جائزہ لے رہی تھی جو بہت بڑا اور ہر چیز اچھے سے سیٹ تھی پر اس روم میں ہر چیز بلیک تھی فرنیچر سے لے کر پردے دروازے تک روم میں ہر چیز بہت قیمتی تھی ۔۔

انعل گھبراتی ہوئی بیڈ سے اٹھتی ہوئی دروازے تک آئی اسکا ننھا سا دل بہت تیز رفتار سے چل رہا تھا وہ ہمت کرتی دروازہ کھولنے لگی پر دروازے کو لاک دیکھ کر بہت زیادہ گھبرا گئی پتا نہیں وہ کس جگہ تھی کیسے آئی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اسے ۔۔

” دروازہ کھولیں کوئی ہے پلیز کھولیں ہم ہے بابا کے پاس جانا ہے پلیز دروازہ کھولیں “۔۔ انعل روتے ہوئے دروازہ بجانے لگی اسے اپنے بابا کی یاد آرہی تھی وہ کبھی ان سے الگ نہیں رہی اور خود کو نئی جگہ پا کر بہت ڈر گئی تھی بھاری قدموں کی آواز قریب آتی سنائی دی وہ ڈر سے جلدی سے پیچھے ہوئی ۔۔

” کّک۔۔کون ہے ۔۔ہمیں ۔۔ بب۔۔بابا۔۔ کے پاس جانا ہے ۔۔ “انعل نے روتے ہوئی کہا کوئی دروازہ کھول کر اندر آیا اسے دیکھ کے تو انعل اپنی جگہ ساکت رہہ گئی وہی گرے آنکھیں ہمیشہ کی طرح چہرے پر ماسک جو لندن میں اور کل رات پارٹی میں بھی اسنے دیکھی تھی آگ لگوانے کا بھی اسی نے کہا تھا کسی کو انعل کو ساری باتیں یاد آرہی تھی ۔۔ وہ مظبوط بھاری قدم چلتا ہوا اسکے سامنے آیا اسکے قریب آنے سے انعل پیچھے ہوتی ہوئی دیوار سے لگی وہ تھوڑے فاصلے پر رک گیا ۔۔

” آآ۔۔آپ ۔۔کّک۔۔کون ۔۔ہے ہم ہم کہاں ہے ۔۔ انعل نے ڈرتے ہوئے کہا وہ اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے اسنے اس گرے لال آنکھوں میں دیکھا جیسے اسکی دہشت نے کانپنے پر مجبور کردیا ۔۔

” شش لٹل گرل روتے نہیں ابھی تو کچھ کیا ہی نہیں تمہارے ساتھ “۔۔ وہ اپنی بھاری گمبھیر آواز میں کہا ۔۔

” نن۔۔نہیں ۔۔ہہ۔۔ہم۔۔ہے۔۔بب۔۔بابا ۔۔کّک۔۔کے ۔۔پپ۔۔پاس ۔۔جج۔۔جانا ہے “۔۔ انعل نے روتے گھبراتے ہوئے کہا اسکو سامنے کھڑے شخص سے بہت خوف محسوس ہو رہا تھا اسکا ننھا سا دل بہت تیز دھڑک رہا تھا ۔۔

” جانتی ہو جب بھی تمہے دیکھتا ہوں میری نفرت بڑھ جاتی ہے اور دل کرتا ہے تمہارا قتل کردوں پر سوچتا ہوں اتنی آسانی سے موت کیسے دے دوں “۔۔ وہ نفرت سے بولتا اسکے قریب جھکا دونو طرف اپنے ہاتھ رکھ دیے انعل سانس روکے اسکی قید میں کھڑی تھی خوف سے اسکا دل کانپ رہا تھا ۔۔

بب۔۔بابا ۔۔ کے۔۔پپ ۔۔پاس۔۔جج ۔۔جانا ہے۔۔پپ ۔۔پلیز جانے دیں “۔۔انعل نے اس بار ہچکیوں سے روتے ہوئے کہا ۔۔

” انعل حیات اتنی کمزور بہت افسوس ہوا ۔۔ڈی اے نے جھک کر اسکے کان میں کہا وہ آرام سے اسکے خوف سے دھڑکتے دل کی آواز سن سکتا تھا ۔۔

ہم نے کیا بگاڑا ہے آپکا ہمیں کیوں نہیں جانے دے رہے ۔۔انعل نے ہمت کرتے ہوئے کہا ۔۔

تمہارے باپ نے بہت کچھ چھینا ہے میرا اب میں اس سے اسکی زندگی چھینوں گا ۔۔ ڈی اے غصے سے دھاڑا ۔۔

ہمارے بابا نے کچھ نہیں کیا آا ۔۔آپ برے ہیں۔۔انعل اپنے باپ کے بارے میں سن نہیں پائی اسکے منہ سے غصے میں وہ بھی چلائی ۔۔

” چٹاخ “۔۔آہہہ ۔۔ایک زور دار تھپڑ سے وہ کراہتی نیچے گری ۔۔

” دوبارہ مجھ پر چلایا تو بہت برا ہوگا یاد رکھنا “۔۔ اسکا غصے میں چلانا ڈی اے کو مزید غصہ دلا گیا اسنے اسے بازو سے پکڑ کر سامنے کھڑا کیا ۔۔اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھا آج تک اسے کسی نے ڈانٹا تک نہیں تھا تھپڑ تو اسے یاد نہیں کبھی زندگی میں پڑا ہو اسکا بھاری ہاتھ اس نازک حسینہ کا دماغ سن کر گیا وہ لہراتی اسکے بازوں میں جھول گئی ۔۔ ڈی اے سرخ آنکھیں سے اسکی بند آنکھوں کو دیکھتا اسے اٹھا کر بیڈ پر ڈالا ۔۔

★★★★

” شان سر بی سر نہیں آئے آج “۔۔ دافیہ کب سے بیراج کے انتظار میں تھی ۔۔

” ہاں وہ آج نہیں آئے گا اسکے گھر میں کچھ پرابلمز چل رہی ہے تم مجھے بتاؤ کچھ کام تھا “۔۔ شان نے بیراج کا بتایا ۔۔

” ہاں اس فائل پر بی سر کے سگنیچر چاہئیے تھے پر وہ تو آج آئے نہیں “۔۔دافيہ بیراج کی گھر میں پروبلم کا سن کر پریشان ہوئی خود سے سوچنے لگی جاؤں یا نہیں انکے گھر اور اگر گئی تو کیا سوچیں گے وہ۔۔

” یہ فائل مجھے دو میں ویسے بھی بیراج سے ملنے جا رہی ہوں تمہارا کام بھی کردوں گی “۔۔ دافيہ اپنی سوچوں میں تھی کہ رمشا نے اس سے فائل لی تو وہ ہوش میں آئی ۔۔

” نن۔۔نہیں میں خود چلی جاؤں گی ویسے بھی سر سے اور کام پوچھنے ہیں “۔۔ دافيہ غصے میں اپنی فائل لیتے ہوئے کہا اسکو رمشا کا بیراج کے پاس جانا اچھا نہیں لگا وہ ایک نظر اسے دیکھتی آگے بڑھ گی ۔۔

میم آپکو نہیں لگتا یہ کچھ زیادہ ہی بی سر کے پیچھے ہے مجھے تو کچھ اور ہی لگتا ہے ۔۔۔ شٹ اپ ۔۔ رمشا کی سیکرٹری کے بولنے پر رمشا نے غصے میں اسے چپ کروایا وہ خود کافی دنوں سے دیکھ رہی تھی بیراج کافی خوش نظر آتا تھا دافيہ کے کام سے اسے ہر جگہ اپنے ساتھ لے جانا اسے بلکل برداشت نہیں ہو رہا تھا اب وہ بیراج کو پسند کرتی تھی بیراج بھی جانتا تھا پر اسے اپنے لئے ایسی لڑکی نہیں چاہئے تھی اسنے رمشا کو بس دوستی کی حد تک ہی رکھا ۔۔

” دافيہ شہباز بہت جلد تمہے تمہاری اوقات پتا چلے گی “۔۔رمشا نفرت سے کچھ سوچتی ہوئی مسکرائی ۔۔

★★★★

” سر آپ پریشان نہ ہو میں نے اپنے دوست سے بات کی ہے وہ تھوڑا جانتا ہے ڈی اے کون ہے “۔۔ داريان خان حیات صاحب کی طبیعت پوچھنے ہسپتال آئے تھے حیات صاحب کی زیادہ طبیعت خراب ہونے سے ہسپتال میں ایڈمٹ کردیا تھا ۔۔

” آپ کو کسی پر شک ہے مطلب کوئی ایسا دشمن “۔۔داريان خان اپنی پوری خوبصورت وجاہت سے انکے سامنے کھڑا بھاری آواز میں بولا ۔۔

” نہیں بیٹا ہم تو ابھی لندن سے آئے ہیں ہم تو آتے رہتے ہیں میری بچی تو پہلی بار آئی پتا نہیں ایسا کون سا دشمن آگیا ہے جو میری معصوم بیٹی سے بدلہ لے رہے ہیں “۔۔۔ حیات صاحب نے نمی صاف کرتے ہوئے کہا پورا ایک دن ہونے کو تھا انکی بیٹی کا کسی کو بھی کچھ پتا نہیں چل رہا تھا ان سے کچھ کھایا پیا بھی نہیں گیا اور کیسے کھاتے بیٹی پتا نہیں کس حال میں ہوگی اسنے کچھ کھایا بھی ہوگا یا نہیں سوچ سوچ کر انکی آنکھوں سے آنسو نکل آتے ہیں وہاں بی جان کا بھی یہی حال تھا ۔۔

” دوست کی کال ہے آپ دعا کریں انعل مل جاۓ گی إنشاءاللّٰه میں چلتا ہوں پھر آؤنگا “۔۔ داريان اللّه حافظ کہتا ہوا وہا سے چلا گیا ۔۔

★★★★★

” سر آپکے آفس سے کوئی لیڈی آئی ہے “۔۔ ملازم روم میں آکر بیراج سے کہا وہ ابھی ہسپتال سے آیا تھا فریش ہونے پھر واپس جانا تھا ۔۔۔

“آفس سے اس وقت “صبح کے دس بھج رہے تھے بیراج حیران ہوا پھر رمشا کا سوچتے سمجھا شاید وہی ہوگی اسنے کہا تھا وہ آرہی ہے وہ تیار ہو کر نیچے آیا سامنے لاؤنج میں دافيا کو دیکھتا وہ حیرت پریشانی میں آگے بڑھا ۔۔

” تم یہاں کیا کر رہی ہوں ” بیراج سنجیدگی سے پوچھتا صوفہ پر بیٹھا ۔۔ رعب دار آواز پر دافیہ نے جھٹکے سے سر اٹھایا سامنے وہ تیار سا ڈارک میرون پینٹ کوٹ میں وہ فریش سا کھڑا تھا دافیہ اپنی دھڑکنوں کو سنبھالتی ہوئے بات شروع کی ۔۔

وو۔۔وہ ۔۔بی سر آ ۔آپ آفس نہیں آئے مطلب آ ۔ آج اپکی میٹنگ تھی اور میں نے سب تیاری کرلی ہے اور اس فائل پر آپکے سائن چاہئیے تھی ۔۔ دافيہ نے ایک سانس میں بات کہہ دی ۔۔

” اسکے لئے گھر آنے کی کیا ضرورت تھی کال کر کے نہیں پوچھ سکتی تھی اور شان سے کہہ دیا ہے میں نے وہ دیکھ لے گا میں آلریڈی بہت ٹینس ہوں اور تم آفس کا کام لیکے میرے سر پر پہنچ گئی “۔۔ پتا نہیں کس کا غصہ اسنے دافیہ پر نکال دیا وہ کل سے انعل کے لئے بہت پریشان تھے اور اپنے چاچا کی حالت پر وہ کل کا تھکہ ہوا پریشان تھا اور پولیس والوں پر الگ ہی غصہ تھا جو انعل کو نہیں ڈھونڈ پا رہے تھے اور ان سب میں دافيا کا آنا اسے اور غصہ دلا گیا ۔۔۔

” سس۔۔سوری سر “۔۔دافیہ نے سر جھکا کر اپنے آپکو رونے سے روکا وہ ہمیشہ اسکا دل توڑتا تھا وہ سنجیدہ کھڑوس انسان نے پتا نہیں کیسے اسکے دل میں جگہ بنا لی تھی وہ بیگ فائل اٹھاتی ہوئی باہر نکلی ۔۔

” واٹ دا ہیل “۔۔ بیراج کو اسکا سوری کرکے اس طرح جانا غصہ دلا گیا وہ بھی پیچھے گیا پر وہ جا چکی تھی پھر وہ سوچتا آفس میں دیکھ لونگا ۔۔

★★★★★

” کیا ہوا رو کیوں رہی ہوں یار “۔۔ حنان پریشان ہوا اسکے اچانک رونے سے ۔۔

” ہمیں بابا اور بی جان کھلا تے ہیں خود نہیں آتا کھانا “۔۔ انعل کو اس وقت اپنے بابا بی جان شدت سے یاد آئے اسے بی جان کی بات یاد آئی وہ ہمیشہ کہتی تھی خود کھانا سیکھلو کاش وہ سیکھ لیتی اس وقت تو آج یوں بےبس نہیں ہونا پڑتا اسے اپنی بےبسی پر بہت رونا آیا ۔۔

” دیکھو معصوم لڑکی تم اتنی بڑی ہوگئی ہو تو کھانا اپنے ہاتھ سے کھانا چاہیے نہ اور جلدی کرو ورنہ ڈی اے کو غصہ آگیا نہ پھر تمہاری خیر نہیں جانتی ہو نہ ” ۔۔ حنان نے اسے ڈی اے کا نام لیکے ڈرا یا اسکے چہرے پر ڈر کا سایہ لہرایا ڈی اے کا نام سن کر اسکا تھپڑ بھی یاد آیا ابی تک اسکے گلابی گال لال تھا اسکے انگلیوں کے نشان تھے ۔۔ حنان نے افسوس سے دیکھا اس معصوم کو اسے وہ معصوم پیاری لڑکی پر بہت ترس آیا پر ڈی اے کے راستے میں کون آئے ۔۔ اسے ہوش آیا تو وہ اس بار خاموشی سے پڑی چھت کو گھور رہی تھی جب حنان کھانا ل آیا انعل اسکے ہاتھ میں کھانا دیکھا تو اسے اپنی بھوک کا شدید احساس ہوا پر افسوس اسے کھانا ٹھیک سے نہیں آتا تھا ۔۔

” آ۔آپ ہمیں بب ۔۔بابا کے پاس چھوڑ آئے پلیز ہمیں یہاں نہیں رہنا بابا کے پاس جانا ہے اللّه کے لئے چھوڑ دیں “۔۔ انعل نے شدت سے رونا شروع کردیا تھا ۔۔

” دیکھو اگر تم کھانا نہیں کھاؤ گی تو ڈی اے تمہے واپس نہیں چھوڑ آئے گا پلیز آؤ کھالو تم ہے بھوک نہیں لگی کیا “۔۔ حنان نے سمجھاتے ہوئے کہا ۔۔

” بب ۔۔بہت لگی ہے پر بابا نے بھی نہیں کھایا ہوگا نہ وہ بھی ہمیں یاد کرتے ہوئے رو رہے ہونگے وہ جب تک ہمیں نہیں دیکھتے کھانا بھی نہیں کھاتے “۔۔انعل نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا پر اسکے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے ۔۔

اوکے تم کھانا کھاؤ پھر میں کچھ کرتا ہوں تم ہے یہاں سے نکالنے کے لیے پر پہلے کھانا کھالو پھر سوچتے ہیں ۔۔۔ پپ ۔۔پرومیس بابا کے پاس لیکے جائیں گے ۔۔ حنان نے اثبات میں سر ہلا یا انعل بیڈ سے اٹھتے صوفے پر بیٹھ گئی اور سوچنے لگی کیسے شروع کریں کھانا اسکے سامنے بریانی ایک پانی کا گلاس رکھا تھا انعل چمچ اٹھاتی بریانی میں ڈال کر جیسے اوپر کیا پر وہ چاول اسکے گود میں گر گئے اسے چمچ سہی سے پکڑا نہیں جا رہا تھا اسنے پھر سے کیا پر وہی حال انعل نے غصہ میں چمچ چھوڑ کر دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اسکو اپنے لاڈلے ہونے پر غصہ آرہا تھا حنان نے افسوس کرتے ہوئے چمچ اٹھایا اور چاول ڈال کر اسکے قریب کیا ۔۔

اچھا رونا بند کروں میں کھلاتا ہوں پر اگلی بار خود سیکھ لینا اوکے ۔۔ حنان کے نرم رویہ سے وہ چپ ہوئی اور ہاں میں سر ہلا تے ہوئے اسکی بات مان لی حنان نے اسکے کیوٹ سے چہرے کو دیکھا چھوٹی سی ناک رونے سے سرخ ہوگئی تھی آنکھیں بھی سرخ بال بکھرے ہوئے تھے وہ اس حال میں بھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی حنان نے مسکراتے ہوئے سوچا ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *