Nafrat e Ishq by Mahra Shah NovelR50541 Nafrat e Ishq (Episode 04)
Rate this Novel
Nafrat e Ishq (Episode 04)
Nafrat e Ishq by Mahra Shah
” کیوں آئے ہو “۔۔ ڈی اے سامنے بیٹھے شخص سے بولا جو مزے سے بیٹھا ادھر ادھر دیکھ رہا تھا جیسے کچھ ڈھونڈ رہا ہو ۔۔
” کیا تم جانتے نہیں میں کیوں آیا چلو بتا دیتا ہوں وہ کیا ہے نہ میں چاہتا ہوں داريان کی کال سے پہلے میں اسکا کام کردوں آخر دوست کام نہیں آئے گا تو کون آئے گا “۔۔ اس شخص نے زور دار قہقہہ لگا یا ۔۔
” تم چاہتے ہو میں تمہارا خون کروں “۔۔ ڈی اے نے سرخ گرے آنکھوں سے گھورا ۔۔
” یار تم سوتے نہیں ہو کیا ہر وقت آنکھیں لال رہتی ہے اس معصوم سے دور رہنا ورنہ بیچاری ڈر جاۓ گی “۔۔اس شخص نے آگے جھک کر راز داری میں کہا ۔۔۔
” میرا آج موڈ ہے کسی کا مرڈر کرنے کا “۔۔ ڈی اے نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا جو بلیک سوٹ میں تھا خوبصورت سا پر ڈی اے کے آگے اسکی خوبصورتی تھوڑی کم تھی جو اسے ہمیشہ غصہ دلا تی تھی ۔۔
” چلوں سیریس بات کرتے ہے داريان چاہتا ہے ڈی اے اسے چھوڑ دے ۔۔۔”
‘” داريان کون ہوتا ہے ڈی اے پر حکم چلا نے والا لے جاؤ اسے ویسے ہی میرا دماغ خراب کر رکھا ہے اسنے “۔۔ ڈی اے نے بیزاری میں کہا ۔۔
” احسان کرنے کی وجہ “۔۔ وہ شخص اسکے اتنے جلدی ماننے پر حیران ہوا ۔۔
” اسکے باپ کو اتنی جلدی نہیں مرنا ابھی تو بہت حساب باقی ہے اتنی سزا کافی ہے باقی بعد میں اور الگ انداز میں “۔۔ وہ کہتا ہوا انعل کے روم کی طرف بڑھ گیا ۔۔
” تم یہاں کیوں آئے تھے “۔۔ حنان اندر آتا سامنے کھڑے شخص کو حیرت سے دیکھا ۔۔
” تمہاری لاش لینے آیا تھا پر ڈی اے نے کا ابھی ٹائم ہے سو جلدی آؤنگا تیری برات لینے “۔۔ اس شخص نے حنان کو گھور تے ہوئے کہا ۔۔۔
” اپن تیرے ہاتھ اتنی جلدی نہیں لگنے والا ہم مافیا ہیں ہمیں پکڑنا بہت مشکل ہے تیرے جیسے کے لئے ہاہاہا “۔۔ حنان نے اسکے سرخ چہرے کو دیکھتے ہوئے قہقہہ لگا یا ۔۔
” داريان نے حکم دیا ہے ڈی اے سے انعل حیات کو آزاد کیا جاۓ اور میں لیٹ ہو رہا ہوں تم اسے لیکے جاؤ اپنے اسکے باپ کے پاس “۔۔ وہ سنجیدگی سے بولتا آگے بڑھ گیا ۔۔۔
” سیریسلی ڈی اے اسے چھوڑ رہا ہے اور سن ڈی اے کے رائیٹ ہینڈ حنان سلطان کو پکڑنا بہت مشکل ہے اپنا وقت برباد مت کر میرے پیچھے جاکے اپنا کام کر “۔۔ اسے آگے بڑھتے ہوئے دیکھ کر حنان نے چلا کر کہا ۔۔۔
★★★★★
“اففف یا اللّه بہت بوکھ لگی ہے اس اچھے لڑکے نے بس ایک بار کھانا کھلا یا یہ نہیں دوبارہ پوچھ لو بوکھ لگی ہے یا نہیں گھر پر تو ہمیں بھوک نہیں لگتی یہاں بہت لگ رہی ہے بابا کے پاس بھی نہیں جانے دے رہے لگتا ہے بابا نے پیسے نہیں دیے ہے ورنہ چھوڑ دیتے “۔۔
انعل بیڈ پر بیٹھی ہوئی خود سے بڑبڑا رہی تھی آج دوسرا دن تھا رات حنان اسے کھانا کھلا کر گیا تھا صبح ناشتہ بھی کروا یا ملازما نے جسے حنان نے رکھا اسکے لئے وہ خود اسے نہیں کھلا سکتا تھا حنان کو لگتا تھا شاید ڈی اے کو یا بات نہیں پتا ہوگی وہ خود سے کھانا نہیں کھاتی وہ پھر سے گھٹنوں میں سر دیے پھر سے رو نے لگی جب دروازہ کھولنے کی آواز پر اسنے سر اٹھا یا تو سامنے وہی ماسک میں دہشت کے ساتھ کھڑا تھا اسکی سرخ آنکھیں اسے ہمیشہ ڈرا دیتی تھی وہ اسے قریب آتے دیکھ کر بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔
” ہہ۔۔ہمارے ۔۔پپ ۔۔پاس ۔۔مم ۔۔مت ۔۔آ ۔آئے “۔۔ انعل کو اسکا تھپڑ یاد آیا جس کے نشان ابھی تک تھے وہ بکھری ہوئی حالت میں تھی سفید گاؤں میں بکھرے بال رونے سے آنکھیں ناک لال تھی گلابی ہونٹھ کانپ رہے تھے وہ پیچھے ہوتی دیوار سے لگی ڈی اے چلتا ہوا اسکے قریب آکر رکا ۔۔
” اپنے باپ کے پاس جانا چاہتی ہوں”۔۔ اس نے جھک کر رعب دار آواز میں اسکے کان میں کہا انعل اسکی باہری خوبصورت آواز سے گھبراتی ہوئے ہاں میں سر ہلا یا ۔۔
” فریش ہو کر نیچے آؤ “۔۔ ڈی اے اسکی خوشبوں میں ایک گہرا سانس لیتا پیچھے ہوا ۔۔
” کک۔۔ کیا ۔۔ہہ ۔۔ہمارا ۔۔نن ۔۔نکاح ۔۔ ہو رہا ہے ۔۔انعل نے ڈرتے ہوئے اپنی بری بری آنکھوں سے اسکی گرے آنکھوں میں دیکھا “۔۔۔ڈی اے حیرت سے اس بیوقوف لڑکی کو دیکھا اسے اس حالات میں بھی لگا وہ نکاح کرے گا ۔۔
” تم راضی ہو تو کر لیتے ہیں۔۔”ڈی اے نے طنزیہ کہا ۔۔
” نن ۔۔نہیں بابا سے تو پوچھا نہیں پھر کیسے کر لے اور ہم تیار بھی تو نہیں ہے نہ حالت دیکھے ہماری ایسے نکاح نہیں ہوتا اچھے سے تیار ہوتے ہے نہ اور بابا بھی ساتھ ہوتے ہے سب کے پھر ہم تو بابا سے دور ہے نہ “۔۔ انعل اسکی ہاں پر اپنی عقل مندی ظاہر کی ڈی اے صحیح کہتا ہے وہ واقع ایک بیوقوف لڑکی ہے ۔۔
” سب تیاری ہو جائے گی نکاح کے بعد تمہارے بابا سے ملنے چلے گئیں “۔۔ ڈی اے کو اسکی بیوقوفی غصہ دلا رہی تھی ۔۔
” نن ۔۔نہیں پھر معاف نہیں کرتے ہم نے دیکھا ہے فلموں میں اور اور ہم ہم کّک ۔۔کسی کو پسند کرتے ہے “۔۔ انعل اسکے نرم رویہ پر ہمت سے بولی ۔۔
” کون ہے وہ “۔۔ ڈی اے کی آنکھیں ضبط سے سرخ ہوئی ۔۔
” وو ۔۔وہ ۔۔ بب ۔۔ بہت اا اچھے ہے ہم پارٹی میں ملے داريان حیدر خان ہے “۔۔ انعل نے ڈر تے ہوئے اپنی پسند کا اظہار کیا اسے لگا اسنے نکاح کرلیا تو وہ داريان سے کیسے مل پائے گی ۔۔
” مجھے وہ انسان پسند نہیں اور تم اب میرے ساتھ راضی ہو تو بہت جلدی آؤنگا پھر سے لینے تمہیں ابھی جاکے اپنے باپ کو زندہ کرو “۔۔ ڈی اے غصے سے اسکا بازو پکڑ کر بولتا اسے بیڈ پر دکھا دیتا روم سے نکل گیا ۔۔
” بب ۔۔ بابا ۔۔ بابا کو کیا ہوا ہے اسنے ایسا کیوں کہا ہمارے بابا کو کچھ نہیں ہوگا کچھ نہیں “۔۔ انعل اپنے باپ کا سنتے تڑپ گئی روتے ہوئے جلدی سے روم سے نکلی سامنے حنان سے ٹکر ہوئی اور روتے ہوئے اسے منت کرنے لگی حنان اسے چپ کرواتے ہوئے کہا اور اسے لیکے گاڑی میں بیٹھایا سامنے آتے صفر کی نظر اس حسینہ پر گئی جیسے دیکھ کر وہ كمینگی سے مسکرا یا لیکن اس بات سے انجان ڈی اے نے اسکی آنکھوں کی شیطانیات دیکھ لی ہے۔۔
★★★★★
” ڈی اے کے گھر میں ایک قاتل حسینہ کیا چکر ہے “۔۔ صفر نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔
اپنے کام سے کام رکھ ورنہ بہت برا وقت آئے گا تیرا ۔۔ڈی اے نے غصے میں کہا۔۔
کام بتاؤ اپنا ۔۔
اے اس پی بہت تنگ کر رہا ہے اسے راستے سے ہٹاؤ بوس کا آرڈر ہے ۔۔ ظفر غصے میں بولتا چلا گیا۔۔
پہلے تجھے راستے سے ہٹانا پڑے گا ۔۔
★★★★★
” نام کیا ہے تمہارا ” زافا سامنے بیٹھے لڑکے سے کہا ۔۔
” عمران خان “۔۔ لڑکا شرما کر بولا ۔۔
” اور میرا نواب شریف “۔۔ زافا جل کر کہا ۔۔
” جی یہ کیسا نام ہیں مطلب لڑکوں کا نام ہے “۔۔ لڑکا نہ سمجھی سے کہا ۔۔
” کیوں بے میرا نام ہے جیسا بھی ہو اور وہ کیا ہے نہ میری امی کو نواب بہت پسند تھا تو بیٹا ہوا نہیں اس لئے مجھ پر رکھ دیا “۔۔۔ زافا طنزیہ کیا ۔۔
” پر اپکا نام تو زافا طاہر ہے نہ “۔۔ لڑکے نے پریشانی سے کہا ۔۔
” وہ بھی ہے بابا نے رکھا تھا انکو بیٹی چائیے تھی اس لئے پورا نام زافا طاہر عرف نواب شریف “۔۔۔
” اچھا جی آپ کیا کرتی ہیں اور “۔۔ لڑکے نے نام والے سوال سے جان چھڑوائی ۔۔
” اپن دو کام کرتی ہے پورے دل سے میری جاب ہے یہ ایک چور ہوں دوسرا چوری کرتی ہوں تب سکون سے نیند آتی ہے اپن کو “۔۔ زافا فخر سے بولی ۔۔
” کّک۔۔کیا ۔۔مم۔۔مطلب۔۔اا۔۔آپ ۔۔اا۔ایسا کیوں کرتی ہیں ۔۔ لڑکے نے ڈر تے ہوئے کہا ۔۔
آج تک کسی میں ہمت نہیں ہوئی اپن سے ایسے سوال کرنے کی ۔۔وہ کیا ہے نہ مجھے نیند ہی نہیں آتی جب تک چوری نہ کردو ایک دو بس پھر سکون سے سوکے اٹھتی ہوں ۔۔۔یہ بولتے ہوئے اسکی آنکھوں کے سامنے اسکا چہرہ آیا پتا نہیں کیوں دل میں خیال آیا کاش وہ یہاں ہوتا ۔۔۔
” اا۔۔ایسا کیوں کرتی ہے آپ ۔۔” وہ گھبرا یا تھا ۔۔
” کہا نہ سکون سکون چاہئیے ۔۔” زافا نے چڑ کر کہا ۔۔
” اچھا تو شادی کے بعد آپ چھوڑ دینا “۔۔۔وہ بھی کوئی ڈھیٹ انسان تھا اتنے خوبصورت لڑکی کو جانے نہیں دینا چاہتا تھا ۔۔۔
” كياااا تم ابھی بھی شادی کرو گے اپن سے “۔۔۔وہ شاک میں چلائی۔۔
” جی آپ نہ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں مجھے آپ سے محبت ہوگئی ہے “۔۔۔لڑکا شرما تا ہوا بولا ۔۔اسے اب غصہ آنے لگا تھا اس ڈھیٹ لڑکے پر ۔۔۔ابھی وہ کچھ کہتی پیچھے سے ایک رعب دار آواز آئی زافا نے گردن موڑ کر دیکھا تو سامنے اپنی شاندار پرسنیلٹی سے وہ بھوری آنکھوں سے اسکی سرمئ آنکھوں میں دیکھ کر مسکرایا اور چلتا ہوا اسکے سامنے آیا زافا حنان کو دیکھتی ہی رہی اسکی دھڑکن نے تیز رفتار پکڑی زافا ڈرتی نہیں تھی پر حنان کو دیکھتے ہی اسے ایک خوف آتا تھا وہ لمبا چوڑا اس دیکھتے ہی زافا کا دل دھک دھک کرنے لگتا تھا ۔۔ زافا اس وقت اپنے گلی کے سستے چائے والے کے دکان پر بیٹھی تھی اسکے ساتھ وہ لڑکا جو اسکی ماں نے اسکا رشتہ کر واہ رہی تھی اسکی ماں چاہتی تھی وہ اپنے گھر کی ہو جاۓ اور یہ چوری وغیرہ چھوڑ دے اور وہ کسی کے گھر کام کے لئے وہی رہے اپنی جوان بیٹی کو لیکے ایسے موحلے میں رہنا بہت خطر ناک تھا یہ بھی زافا کی ہمت تھی وہ ایسے لوفر لڑکوں کو منہ توڑ جواب دیتی تھی ۔۔
” کیا ہو رہا ہے یہاں ۔۔” حنان ایک چیئر کھسکا کر زافا کے قریب بیٹھا ۔۔
” اپن کا رشتہ ہو رہا ہے ۔۔” زافا نے بیزاری سے کہا ۔۔
” یہاں چائے کی دکان پر امیزنگ ۔۔” حنان نے آئے برو اٹھا کر داد دی ۔۔
” اپن کے پاس دھود پتی تھا نہیں جو گھر میں بیٹھ کر چائے بنا کر تشریف لاتی اس لئے کام سے جان چھوڑوا کر یہاں آگئے “۔۔ زافا نے تفصیل دی
” سن تو کیا کہہ رہا تھا تجھے اتنی جلدی محبت ہوگی وہ بھی میری محبت سے “۔۔ حنان اس لڑکے کو گھور تا ہوا بولا ۔۔
” یہ یہ کیا بکواس ہے اپن کو کب ہوئی محبت تیرے سے “۔۔ زافا نے شاک میں کہا ۔۔
” مجھے ہوگئی ہے ہم دونوں کے لئے بہت ہے چلو نکاح کرتے ہیں “۔۔ حنان نے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا ۔۔ وہ لڑکا صرف گھور تا رہ گیا زافا کی تو دھڑکن تیز ہوگئی ۔۔
” یہ یہ کیا ہے چھوڑ اپن کو ورنہ اپن تیرا منہ توڑ دے گی “۔۔ زافا نے ہاتھ چھڑواتے غصے میں کہا ۔۔
” یہ یہ تت۔۔تم چھوڑو اسکا ہاتھ یہ میری ہے اب “۔۔ لڑکا غصے میں اٹھ کھڑا ہوا ۔۔
” میری چیز پر کوئی نظر رکھے مجھے پسند نہیں چل بتا کیسے مرنا ہے تیرے کو “۔۔ حنان نے جیب سے گن نکال کے اسکے آگے لہرا آئی لڑکے کی تو سانس ہی رک گئی ۔۔
” سس۔۔سوری ۔۔بب ۔۔باجی “۔۔ لڑکا تیزی سے بھاگا وہاں سے ۔۔
” ہاہاہاہا یہ میری اپن کو سنبھالتا “۔۔ حنان قہقہہ لگایا اس لڑکے کی بات پر زافا تو صدمہ میں چلی گئی۔۔
” اس نے اپن کو باجی بولا اس کی تو “۔۔زافا ہوش میں آتے ہاتھ چھڑوا کے آگے بڑھی تھی کے پھر سے حنان نے ہاتھ پکڑ لیا۔۔
” ہاتھ چھوڑو اپن کا “۔۔ زافا نے گھورا پر حنان نہ نفی میں سر ہلتا دیکھ کر اسکے چہرے پر خوبصورت مسکان آئی اور وہ آگے بڑھ کے اسکے قریب آئی حنان کی مسکراہٹ گہری ہوئی کے اچانک ۔۔
” اااہہہ ظالم لڑکی ۔۔” کرہ کر پیچھے ہوا اسکا ہاتھ بھی چھوڑ دیا زافا اسکے قریب آتے اپنا گھٹنہ اسکے پیٹ پر زور سے مارا حنان کی حالت دیکھنے جیسی تھی ۔۔
” اوہ ایک لات برداشت نہیں کر پاۓ اپن کے ہونے والے ڈون “۔۔زافا قہقہہ لگاتی ہوئی وہاں سے چلی گئی ۔۔
” ایک بار میری ہو جاؤ پھر بتاتا ہوں تم مہے “۔۔ حنان نے دانت پیسے ۔۔
★★★★★★
“کیا میں پوچھ سکتا ہوں مس دافیہ شہباز کس کی اجازت سے میرے ڈیزائن آپ نے چوری کی “۔۔ پورے آفس میں بیراج کی دھاڑ گونجی ۔۔
” بیراج ہم آرام سے بیٹھ کر بات کرتے ہے شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہو “۔۔ شان نے حالت سمجھتے ہوئے کہا ۔۔
” بب۔۔بی ۔۔سس ۔۔سر ۔۔مم ۔۔میں ۔۔سس۔۔سچ کہ رہی ہوں مینے اایسا۔۔ک کچھ نہیں کیا آپ میرا یقین کریں ۔۔”دافيہ نے روتے ہوئے اپنی صفائی پیش کی ۔۔
“مجھے یہ لڑکی شروع سے ٹھیک نہیں لگی تھی یہ ہمارے دشمنوں کے ساتھ ملی ہوئی تھی بتاؤ کتنے میں بیچی ہے بولو “۔۔ رمشا نے غصے میں اسکا بازو پکڑ کر پوچھا ۔۔۔
” رمشا یہ کیا بکواس ہے وہ کہہ رہی ہے اسنے نہیں کیا ہم بیٹھ کر آرام سے بات کرتے ہیں “۔۔ شان دافيہ کو چھڑوا کر پھر سے سمجھایا ۔۔
” اچھا اس نے نہیں کیا تو پھر کس نے کیا بولو وہ ڈیزائن میں نے صرف اسے دی تھی اور کسی کے پاس نہیں تھی اور اس کمینہ نے مجھے کال کر کے کہا یہ ڈیزائن میرے کسی آفس سے اسکو دی گئی ہے اب بولوں کیا ثبوت ہے “۔۔ بیراج کا غصے دافيا پر حد سے زیادہ تھا ۔۔
” بب ۔۔بی ۔۔سس سر ۔۔پپ ۔۔پلیز میری بات کا یقین کریں میں ایسا کیوں کروں گی میں تو جانتی بھی نہیں انکی کمپنی کو “۔۔ دافيہ نے آنسوں بھری آنکھوں سے دیکھا اس بےوفا انسان کو جس کی نرم مزاج اسکی شہد رنگ آنکھوں سے اسے عشق ہوا تھا اور آج وہ ہی سب کے سامنے اسکی تذلیل کر رہا تھا ۔۔۔
” بس بہت ہوا میرا بہت نقصان کیا ہے تم نے اب اور نہیں جاؤ یہاں سے نکل جاؤ ورنہ بہت برا ہوگا “۔۔ بیراج غصے میں سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتا وہاں سے چلا گیا ۔۔
” سنا نہیں تم نے جاؤ یہاں سے کیا میں پولیس کو کال کروں “۔۔ رمشا نے گھور تے ہوئے کہا ۔۔
” جا رہی ہوں پر اپنی بے گناہی ثابت کرنے آؤنگی “۔۔ دافیہ ایک نظر اس ستمگر کے آفس کے کیبن پر ڈالی اور اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے اپنا سامان لیا شان ایک افسوس نظر ڈالتا اپنے کیبن میں چلا گیا باقی سب بھی اپنے کام میں لگ گے رمشا کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آئی ۔۔
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
” یے۔یہاں کیوں آئے ہیں۔۔بب ۔۔بابا کو کیا ہوا ہے وہ ٹھیک ہے نہ ۔۔ گاڑی ہسپتال کے سامنے ركتی دیکھ کر ایک خوف سے بولی دل تو جیسے دھڑکنا بھول گیا اپنے بابا کا سوچتے اسے کل سے ہلکا بخار بھی تھا انعل کا سرخ چہرہ اس بات کی گواہی تھا ۔۔
” تم رو مت وہ ٹھیک ہے بس انکا بی پی لو ہوگیا تھا تمہاری پریشانی میں اب جاؤ جاکے بتاؤ انھیں تم ٹھیک ہو “حنان نے سمجھاتے ہوئے کہا اسکو اس معصوم پیاری لڑکی پر بہت ترس آیا تھا اسکی حالت ایک دن میں ہی کیسی ہوگئی تھی ۔۔
” ہم۔۔ہمارے۔۔بب ۔۔بابا کو کچھ نہیں ہوا نہ وہ ہمیں دیکھیں گے تو ٹھیک ہو جائیں گے “۔۔انعل آنسوں صاف کرتے ہوئے گاڑی سے باہر نکلی اور ہاسپٹل کے اندر گئی ۔۔
” بب۔۔ بیراج بھائی “۔۔ انعل بیراج کو دیکھتے ہی اسکی طرف بھاگی اسکی آواز پر بیراج نے بھی دیکھا ۔۔
” انی کیسی ہو میری جان آپ ٹھیک ہے نہ کہاں تھی آپ کس کے پاس تھی “۔۔ بیراج نے اسکی حالت دیکھتے ہوئے بے چینی سے پوچھا۔۔
” ہماری جان کیسی ہے “۔۔ حمدان صاحب نے اسے اپنے ساتھ لگا تے ہوئے پوچھا ۔۔
” بب ۔۔بابا کیسے ہے کہاں ہے کیا ہوا ہے انھیں “۔۔ انعل نے روتے ہوئے اپنے بابا کا پوچھا ۔۔
” بس روتے نہیں چلو بابا سے ملوں وہ آپکا انتظار کر رہے ہیں ۔۔ حمدان صاحب اسے لیکے روم میں گئے اور بیراج کو ابھی سوال کرنے سے منا کردیا ۔۔
” بب۔۔بابا بابا آ ۔آپ ٹھیک ہے نہ ۔۔” انعل بھاگتے ہوئے انکے سینے سے لگ کر ہچکیوں سے رونے لگی دو دن بعد اپنے بابا سے مل رہی تھی ان سے دوری کا کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہتے ہیں لڑکیاں ماں سے زیادہ قریب ہوتی ہے پر حقیقت میں وہ باپ سے زیادہ قریب ہوتی ہے باپ اپنے ہر بچے سے بہت محبت کرتا ہے پر بیٹی سے تو وہ بھی عشق کرتے ہیں وہ انکا مان انکی عزت انکی زندگی سب ہوتی ہیں ۔۔
” مم ۔۔ میری جان انی آپ ٹھیک ہے نہ آپکو کچھ نہیں ہوا نہ میرا بچہ کہاں تھا کیا حالت کی ہوئی ہے آپ نے ” ۔۔ حیات صاحب انعل کو پیار کرتے ہوئے فکر مندی سے پوچھ رہے تھے دو دن بعد وہ لوگ مل رہے تھے حیات صاحب کو لگا انکے بے جان جسم میں کسی نے جان ڈال دی ہوں اور ایسا ہی تو تھا انعل انکی سانسیں تھی پھر سے مل رہی تھی ۔۔
انعل کی طبیت ٹھیک نہیں لگ رہی گھر چلتے ہے بی جان بھی انتظار کر رہی ہوگی میں ڈاکٹر سے بات کر کے آتا ہوں ۔۔ بیراج نے انعل کا تھکا سرخ چہرہ دیکھ کر گھر جانے کا فیصلہ کیا وہ آرام کر پائے پھر آرام سے اس سے پوچھیں گے باقی سب کو بھی صحیح لگا ۔۔
★★★★
” میری دافی کو کیا ہوا ہے جاب پر نہیں جا رہی اداس کیوں ہے ” ۔۔ دادا نے اسکا اداس چہرہ دیکھا ۔۔
” نہیں دادا جان اداس نہیں ہوں تھک گئی ہوں “۔۔ دافيہ نے مسکرا کر تصلی دی ۔۔
” اچھا مان لیا جاب پر نہ جانے کی وجہ “۔۔ دادا جانتے تھے وہ اداس ہے پھر دوسرا سوال کیا ۔۔
” چھٹیاں ملی ہے کچھ دن آرام کرنے کے لئے اب آپ پھر سے کوئی سوال نہیں پوچھنا نئی جاب ہے اتنی جلدی کیوں یہ سب پلیز “۔۔ دافیہ نے انکے اگلے سوال سمجھتے ہوئے پہلے ہی کہہ دیا وہ نہیں بتانا چاہتی تھی دادا کو اس پر الزام لگنے کی وجہ سے نکال دیا ہے جو گناہ اسنے کیا بھی نہیں پھر بھی اس بے وفا نے سزا دی گواہی کا ایک موقع تک نہیں دیا ۔۔
” دادا ایک بات پوچھوں ۔۔ ہاں میرے جان کیا پوچھنا ہے ۔۔ دادا نے پیار سے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرا دافيہ نے مسکراتے ہوئے انکا ساتھ چوما ۔۔
” لوگ اتنے بے وفا ظالم کیوں ہے اپنی بول کر دوسروں کی کیوں نہیں سنتے انھیں کیوں لگتا ہے وہ ہر بار صحیح ہوتے ہیں اگلا بندا کیوں غلط لگتا ہے جب کے وہ بھی تو صحیح ہوگا نہ کیوں بے گناہ کو بھی سزا مل جاتی ہے لوگوں کو کیوں مزہ آتا ہے دوسروں کا دل توڑنے میں انکے دل میں کیوں خوف خدا نہیں ہوتا دادا ۔۔” دافیہ نے بولتے ہوئے انکی گود میں سر رکھ دیا اسکی آنکھوں میں نمی تھی ۔۔
” پتا ہے بیٹا ظالم بے وفا کوئی نہیں ہوتا یہ سب شیطان کا کام ہوتا ہے وہ لوگوں کے دلوں میں صرف نفرت ڈالتا ہے اپنا مقصد پورا کرنے کے لئے پر انسان کا نفس بہت کمزور ہے بہت جلد ہار جاتا ہے غصے جذبات میں وہ کیا بول جاتا ہے اسے سمجھ نہیں آتی لیکن جب وہ تنہا بیٹھ کر سوچتا ہے اسنے کیا کیا تو اسے اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوتا ہے پر افسوس وہ لوگ اپنی انا میں معافی مانگنا بھول جاتے ہے “۔۔دادا نے اسے سمجھایا ۔۔
” شاید میرا نصیب ہی ایسا ہے کچھ اچھا نہیں ہوتا “۔۔ دافيہ کو بیراج کا خیال آیا اسکی آنکھیں مزید نم ہوئی پر وہ دادا کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی ۔۔
” نہیں میرے بچے نصیب کو برا نہیں کہتے یہ تو اس پاک ذات نے خوبصورت سا لکھا ہے سب کا آزمائشیں خوشیاں یہ سب ایک امتحان ہے جیسے ہم انسان کو پاس کرنا چاہئے انسان بہت کمزور ہے وہ وقت حالات سے لڑ کر تھک جاتا ہے جلدی پر وہ رب اسکی جلدی ہار تھکاوٹ پر بھی اسے جیتوا دیتا ہے صبر بہت خوبصورت چیز ہے پر کرنا بہت مشکل لیکن جتنا صبر کریں گے اتنی ہی اچھے وقت کامیابی حاصل ہوگی میرا بچا “۔۔ دادا نے پیار سے اسکے سر پر بوسہ دیا ۔۔
” دادا جان آپ بہت اچھے ہیں میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں “۔۔ دافيہ نے انھے دیکھتے ہوئے محبت سے کہا ۔۔
” اللّه سوہنا میری بچی کا نصیب اچھا کریں آمین “۔۔دادا نے دعا دی ۔۔
★★★★
” بی جان ہم نے آپکو بہت یاد کیا اور ان ہاتھوں کو بھی جو ہمیشہ پیار سے کھلاتے ہیں “۔۔ انعل بی جان کے ہاتھوں کو پیار سے چوما اسے ڈی اے کا گھر یاد آیا کیسے دو دن اسنے وہاں گزارے تھے یہ وہ ہی جانتی تھی ۔۔
ہمیں سچ سچ بتائیں آپکے ساتھ کیا ہوا ہے اور آپکے ساتھ کچھ ۔۔ برا تو نہیں ۔”۔ بی جان نے جھجھکتے ہوئے پوچھا انھیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیسے پوچھیں وہ جانتی تھی انعل بہت معصوم ہے اسے نہیں پتا دنیا کیسی ہے ۔۔
بی جان وہ لوگ بہت برے ہیں ہمیں کھانا بھی نہیں کھلا تے تھے انہوں نے ہمیں روم میں قید رکھا پر پتا ہے وہ روم بہت خوبصورت تھا ہر چیز بلیک تھی لیکن بی جان وہ ماسک میں بہت برا ہے بہت انہوں نے ہمیں تھپڑ بھی مارا تھا “۔۔انعل بتاتے ہوئے رو پڑی ۔۔
نہیں میرے بچے روتے نہیں اب ہم ہماری جان کا بہت خیال رکھیں گے کہی نہیں جانے دیں گے آپ رونا بند کریں دیکھیں بخار تیز ہو گیا ہے آپکا چلیں دوائی لے اور آرام کریں “۔۔ بی جان نے پیار سے اسکے آنسو صاف کرتے ہوئے سمجھایا وہ ہاں میں سر ہلا کر آرام کے لئے لیٹ گئی ۔۔
★★★★★
” یار سیریسلی تم دافیہ پر شک کیسے کر سکتے ہو وہ ایسا کبھی نہیں کر سکتی “۔۔شان غصے میں ادھر سے ادھر ہو رہا تھا ۔۔
” تو کیا یہ سب میں نے کیا ہے وہ ڈیزائن صرف اسکے پاس ہی تھی میں نے ابھی تک کسی سے اسکا ذکر نہیں کیا تھا پھر کیسے وہ ڈیزائن زین انصاری نے لی بولو اس وقت میرا پہلے ہی بہت دماغ خراب ہے تم اور مت کرو “۔۔ بیراج غصہ میں دھاڑا زین اور وہ کالج میں ایک ساتھ پڑھے لکھے تھے پر بیراج کا سنجیدہ پن احترام سے لوگوں سے بات کرنا سب کو پسند تھا جب کے زین شروع سے بد تمیز لڑنا جھگڑنا اور لڑکیوں کو اپنے ساتھ گھمانس اسے پسند تھا جیسے بیراج کی اسکی کبھی نہیں بنی وہ لوگ ہمیشہ سے دشمن رہے اور آگے بزنس میں بھی ایک دوسرے کو مات دیتے تھے زین الیگل سے کام کرتا تھا اور بیراج ایمانداری سے ۔۔
” تمہارا دماغ ہے ہی خراب ایک بار سکون سے بیٹھ کر سوچو وہ ایسا کبھی نہیں کر سکتی اور ایک بات تمہارے اسی غصے کی وجہ سے میں نے ایک غلط کام کردیا ۔۔ شان بے بسی سے چلا یا ۔۔
کیسا کام کیا کیا تمنے ۔۔ بیراج نے چوک کر دیکھا اسے ۔۔
کوئی بھی سیکیورٹی تمہارے پاس ٹک نہیں پاتا تو اس لئے میں نے اس بار کے تمہارے پرسنل سیکرٹری کے لئے ایک کانٹریکٹ بنایا تھا جس میں لکھا تھا اگر وہ پانچ مہینے تمہارے ساتھ کام کر لیتا ہے تو اچھا ہے لیکن اس بیچ اگر وہ چھوڑ جاتا ہے یا اسے نکالا جاتا ہے تو اسے پانچ لاکھ دینے ہونگے ورنہ ہم کیس بھی کروا سکتے ہے پر اب اپنی ہی سوچ پر افسوس ہوتا ہے وہ بیچاری دافيہ کہاں سے دیگی اور وہ اتنی امیر بھی نہیں یار ۔۔شان غصے میں بول کر وہاں سے چلا گیا اسے اپنی بیوقوفی پر غصہ آرہا تھا اب ۔۔
” گڈ شان تم نے تو میرا کام آسان کردیا اسنے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا اب میں اسکے ساتھ کیا کرتا ہوں “۔۔۔ بیراج کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی اور اب وہ سوچنے لگا دافيہ کے ساتھ کیا کرے ایک پل کو تو اسے بھی یقین نہیں آیا یہ اسنے کیا ہے پر سچ جاننا اب ضروری تھا ۔۔
★★★★
” اللّه اماں چھوڑ کتنا مارے گی اب آہہہ “۔۔زافا نے خود کو چھڑواتے ہوئے کہا ۔۔
” شرم نہیں آئی تجھے اسے بولتی ہے تو چور ہے کتنی مشکل سے کوئی رشتہ ملا تھا وہ بھی تیرے کالے کرتوتوں کی وجہ سے چلا گیا اب کون کریگا شادی ایک چورنی سے “۔۔ زافا کی ماں غصے میں تیزی سے بولے جا رہی تھی بہت مشکلوں سے اسکا رشتہ کروا یا تھا اور زافا کے چور بتانے سے اور اس لڑکے کے ساتھ رہنے سے اس لڑکے نے رشتہ توڑ دیا تھا ۔۔
” اور کون ہے وہ جو اس دن تیرے ساتھ تھا جس کی وجہ سے یہ سب ہوا اب بول جاکے اسے آکر کریں شادی تیرے سے اتنا ہی شوک ہے تیرے ساتھ گھومنے کا تو “۔۔۔ اسکی ماں نے پھر سے چپل اتار لی ۔۔
اماں سانس تو لیلے کتنا بولتی ہے اور اپن اس ٹیپو سے شادی کریں گی اپن اور کون ماں ایسے رشتے لاتی ہے ۔۔ زافا نے بھی غصہ کیا ۔۔۔
اچھا تجھے بہت پتا ہے تو جا جاکے خود ڈھونڈ لے دفع ہو یہاں سے ۔۔ ماں غصے میں بول کر اندر چلی گئی ۔۔
اس کمینے مافيا کو اپن نہیں چھوڑے گی اب ۔۔ زافا غصے میں خود سے بڑ بڑائی۔۔۔
