Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafrat e Ishq (Episode 08)

Nafrat e Ishq by Mahra Shah

” السلام علیکم سر “۔۔ دافيہ نے آفس میں آتے سامنے بیراج کو دیکھ کر سلام کیا ۔۔

” وعلیکم سلام شان آج کا مینیو سمجھا دو رمشا تم میرے ساتھ آؤ “۔۔ بیراج اسے اگنور کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔۔

” تم پریشان نہ ہو وہ خود ہی صحیح ہو جائیگا آؤ میں آج کا تمہیں بتاؤں “۔۔ شان نے اسکی آنکھوں میں نمی دیکھ کر کہا ۔۔

” کیا سچ میں بہت مبارک ہو “۔۔ دافيہ نے بات سنتے خوشی میں کہا ۔۔

” تھینک یو پر اب جلدی سے جاؤ وہاں تیاری پوری کرنا بہت اچھا انتظام کرنا آج ہماری اتنی بڑی ڈیل ہوئی ہے اسی خوشی میں بیراج نے پارٹی رکھی ہے وہاں سب بڑے لوگ ہونگے تو سب اچھا ہونا چاہیے اوکے “۔۔شان نے آج کا پروگرام بتایا ۔۔

” آپ بےفکر رہیں آج میں بہت اچھا انتظام کرونگی کوئی شکایت کا موقع نہیں دونگی “۔۔ دافیہ نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔

” یہ ہوئی نہ بات بیسٹ آف لک اور ہاں تم وہاں سے کام ختم کر کے گھر چلی جانا وہاں سے تیار ہو کر جلدی پہنچ جانا اوکے اب میں چلتا ہوں مجھے لیٹ ہو رہا ہے اور ہاں بیراج اسی سائیڈ جا رہا ہے تم کہہ دو ساتھ چھوڑ دیگا “۔۔ شان جلدی میں کہتا باہر نکل گیا ۔۔

” وہ مجھے چھوڑیں گیں ہونہہ “۔۔ دافیہ نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔

یس کم ۔۔

” وہ۔وہ بب ۔۔بی سر آ۔آپ جا رہے تھے وہثی تو کیا آپ مجھے چھوڑ دیں گے وثہا “۔۔ دافیہ نے اندر آتے گھبراہٹ میں کہا ۔۔

” کیوں تم خود نہیں جا سکتی ابھی میں اور بیراج کسی کام سے جا رہے ہیں خود چلی جاؤ “۔۔ رمشا نے طنزیہ کہا ۔۔

” کم اون بی ہم لیٹ ہو رہیں ہیں “۔۔ رمشا بولتے باہر نکلی پیچھے بیراج بھی ۔۔

دافيہ کو خود کی بیعزتی پر بہت رونا آیا جو وہ ضبط کر کے کھڑی تھی اسنے بیراج کی آنکھوں میں دیکھا پر وہ تو جیسے اسے جانتا ہی نہیں ہو ۔۔

★★★★

” مجھے نہیں لیکے گئے اللّه کرے انکی گاڑی خراب ہو جاۓ آمین “۔۔ گہری سانس لیکے غصے میں کہا ۔۔

مجھے بھی شوق نہیں تھا انکی کھٹارا گاڑی میں جانے کا وہ تو شان سر کے کہنے پر آئی افف یا اللّه اس رمشی تمشی کی ٹانگے ٹوٹ جائے ۔۔ دافيہ غصے میں خود سے بڑبڑا رہی تھی کے پیچھے سے آتی آواز پر اچھل پڑی ۔۔

” ہو گیا یا ابھی کچھ باقی ہیں بد دعائیں “۔۔ بیراج دروازہ پر کھڑا اسے کب سے سن رہا تھا ۔۔

” آ آپ۔۔۔گگ۔۔گے۔۔نہیں۔۔کک۔۔کیوں “۔۔دافيا کی دھڑکن تیز رفتار سے چل رہی تھی اسے لگا آج وہ گئی ۔۔

” کوئی مجھے بد دعا دے رہا تھا نہ اس لئے “۔۔بیراج نے سنجیدگی سے طنزیہ کہا ۔۔

” مجھے یقین نہیں ہو رہا میری بد دعا جلدی لگ جاتی ہیں “۔۔ وہ خوشی میں جلدبازی میں بولی پھر جلدی سے زبان دانتوں تلے دبا دی ۔۔

” سس۔۔سوری ۔۔وو ۔وہ ۔۔مم ۔۔”

” چلوں اب “

بیراج سنجیدگی سے کہتا باہر چلا گیا پیچھے دافيہ گھبراتی ہوئی گئی ۔۔

آج تم گئی پکا جاب سے ۔۔دافیہ دل میں کہتی اسکے ساتھ باہر آئی ۔۔

” بیٹھو جلدی ۔۔” بیراج کے بولنے پر دافيہ حیرت سے اسے دیکھا وہ کیا کرنے والا ہے کہاں چھوڑے گا اسے وہ اندر اسکی باتوں پر غصہ بھی نہیں کیا ۔۔

” کیا تمہیں اٹھا کر بیٹھانا پڑے گا۔۔” بیراج نے طنز کیا ۔۔

” نن ۔۔نہیں ۔۔مم ۔۔میں آرہی ہوں ۔۔” دافيہ گھبرا تے ہوئے پیچھے بیٹھ گئی سوچ رہی تھی اسکے ساتھ کیا ہوا یہ سب کچھ ۔۔

★★★★

” السلام علیکم دادا “۔۔دافيہ سلام کرتے ہوئے اندر آئی ۔۔

” آج جلدی آگئی بیٹا “۔۔ دادا نے کہا ۔۔

” ہاں دادو خیر ہے وہ آج آفس میں پارٹی تھی تو وہی کام کر رہی تھی سب کچھ اچھے سے ہو گیا ہے بس میں تیار ہونے آئی ہوں پھر واپس جانا ہے اور ہاں میں لیٹ ہو جاؤنگی تو آپ کھانا کھا لینا دوائی لیکے ٹائم سے سو جانا میں نے رضیہ ماسی کو بول دیا ہے “۔۔ دافيہ گھر آتے ہی اپنے کام کے ساتھ دادا کو سمجھا بھی رہی تھی دادا اسکے انداز کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے ۔۔

” دادو میں کیا پہنوں کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے “۔۔دافیہ نے روم میں آتے ہی اپنے سب کپڑے بیڈ پر پھیلا دیئے۔۔

میری دافی جو بھی پہنے گی اس میں پیاری لگے گی یہ پنک پہن لو بہت اچھا لگے گا ۔۔ دادا نے بہت خوبصورت پنک کلر کا سوٹ نکالا ۔۔

” کیا سچ میں اچھے لگے گے نہ ۔۔ ” دافیہ نے ایک نظر ڈریس کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔

★★★★

” واہ دافیہ نے یہاں بہت اچھا انتظام کیا ہے تمہیں کیسا لگا رمشا “۔۔ رمشا کی دوست نے پورے ہال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ۔۔

” بہت زیادہ بکواس “۔۔ رمشا نے نفرت سے دیکھتے ہوئے کہا اسے دافیہ سے جلن ہونے لگی تھی وہ ہر کام اچھے سے کرتی تھی بیراج کو جیسا چاہئیے تھا اور آج کا انتظام بھی اسنے بہت اچھا خوبصورت سے ہر چیز کو کیا ہوا تھا ۔۔

” بیوٹیفل ۔۔” رمشا کی دوست نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔

” تھینک یو یار ۔۔” رمشا نے مسکراتے ہوئے کہا پر جب اپنی دوست کی نظروں کو سامنے دیکھا تو پیچھے مڑ کے دیکھا سامنے سے دافیہ چلتی ہوئی آرہی تھی پنک گھیردار انار کلی فراک میں لائٹ سے میکپ میں کھلے بال ایک سائیڈ دوپٹہ سیٹ کیا ہوا تھا اوپر شال اچھے سے ڈال رکھی تھی وہ بہت حسین لگ رہی تھی رمشا کو اسکی خوبصورتی سے جلن نفرت ہونے لگی تھی ۔۔

” السلام علیکم آپ بہت اچھی لگ رہی ہیں “۔۔ دافیہ نے قریب آتے سلام پیش کیا پھر رمشا کی تعریف کی جو فل بلیک ساڑی میں تھی آگے پیچھے سے بہت گہرا گلہ تھا اسکا دافیہ کو اسکی ڈریس اچھی نہیں لگی یہاں سب کو دیکھتے ہوئے اسے شرمندگی ہو رہی تھی لیکن یہ اسکا کام تھا بھی نہیں اور کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی ۔۔

” کیا تم شادی میں آئی ہو “۔۔رمشا نے غصے میں کہا ۔۔

” جی مطلب میں سمجھی نہیں “۔۔ دافیہ نہ نا سمجھی سے کہا ۔۔

بہت معصوم بنتی ہو لیکن ہو نہیں تمہیں نہیں پتا یہاں پارٹی ہے کسی کی شادی نہیں سمجھی اپنی ڈریس دیکھو کیا سوچیں گے یہ لوگ کیسے بزنس مین بیراج کا ٹیسٹ ہے کیسے لوگوں کے ساتھ ڈیل کی ہے اگر اچھے کپڑے نہیں تھے تو آنے کی ضرورت نہیں تھی اور اگر تمہارے پاس سٹائیلش ڈریس ہو تو پلیز جاؤ چینج کرو ورنہ تمہاری ضرورت نہیں ہے ویسے بھی یہاں ۔۔ رمشا نفرت غصے میں بہت کچھ بول کر چلی گئی دافیہ کو لگا اسنے کچھ بھی نہیں چھوڑا اسنے آنکھیں بند کر کے ایک گہرا سانس لیا پر اسکی آنکھوں سے آنسو نکل آئے وہ اپنا گال صاف کرتے ہوئے باہر بھاگی ۔۔

★★★★

” ہاں یار آرہا ہوں تم لوگ پارٹی شروع کرو “۔۔ بیراج نے ڈرائیوینگ کرتے ہوئے فون پر کہا ۔۔۔

” اوکے جلدی آؤ یہاں سب پوچھ رہے ہیں اور دافیہ بھی ابھی تک نہیں آئی پتا نہیں کیوں ورنہ وہ تو کبھی لیٹ نہیں ہوتی اور یہاں کا انتظام بھی بہت اچھا کیا ہے اسنے “۔۔شان دوسری طرف فون پر بول رہا تھا دافيا کے نام پر بیراج خاموش ہو گیا اوکے کہتا کال کاٹ دی ۔۔

★★★★

” یا اللّه اس چڑیل کا کچھ کردے ورنہ میں سچ میں اسکا خون کردونگی افف مجھے کہتی ہے چینج کرو خود کو دیکھا ہے پوری میکپ کی دکان اور اس چڑیل کے کپڑے جسے آدھے گھر بھول آئی ہوں ہونہہ ۔۔” دافيہ سڑک پر چلتے ہوئے اپنا غصہ نکل رہی تھی ۔۔

” اب کیا کرو کوئی گاڑی نہیں مل رہی گھر کیسے جاؤ ڈر بھی لگ رہا ہے ۔۔” دافیہ نے پریشانی سے آگے پیچھے دیکھتے ہوئے کہا سنسان سڑک پر تھی کوئی بھی نہیں تھا وہاں کے اچانک سامنے سے ایک گاڑی نظر آئی دافيہ کو ایک امید ہوئی شاید لفٹ مل جائے وہ آگے بڑھی ۔۔

” پلیز رک جائیں سٹوپ ۔۔” وہ دونوں ہاتھ ہلا کر بول رہی تھی ۔۔

” دافیہ یہاں پر کیا کر رہی ہے پاگل لڑکی ۔۔” بیراج سامنے لڑکی کو دیکھ رہا تھا جب تھوڑا قریب ہوا تو دیکھا سامنے دافيہ تھی دانت پیستے ہوئے خود سے کہا اور گاڑی روک دی ۔۔۔

” بب۔۔بیراج سر مر گئی ۔۔” گاڑی رکتے ہی بیراج باہر نکلا اور چلتا ہوا اسکے سامنے آیا اس گاڑی سے بیراج کو نکلتے دیکھ کر دافیہ گھبرا گئی خود سے بڑبڑائی وہ جانتی تھی پوچھے گا اور واپس پارٹی میں لے نہ جائے ۔۔

” تم یہاں کیا کر رہی ہوں ۔۔” دونوں ہاتھ پینٹ کی جیپ میں ڈال کر روب دار آواز میں بولا وہ بلیک سوٹ میں بہت ہنڈسم لگ رہا تھا ۔۔

” مم میں گھر جا رہی رہی تھی ۔۔”اسکے بولنے اور سامنے دیکھتے ہی اسکی دھڑکن تیز رفتار سے چل رہی تھی ۔۔

” پھر آئی کیوں تھی اگر جانا تھا تو ۔۔” بیراج نے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔

” آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں جا کے مس رمشا سے پوچھے انہوں نے کہا میں ان کپڑوں میں نہیں آ سکتی وہاں جاکے چینج کرو پھر واپس آؤ تو اس لئے میں واپس جارہی ہوں کیوں کے میرے پاس ایسے واہيات کپڑے نہیں جو میں پہن کر وہاں کے لوگوں کا دل خوش کروں “۔۔وہ غصے میں بول کر آگے بڑھی اسکے اس طرح پوچھنے پر اسے غصہ آگیا ۔۔

” رکو کیا میں نے کہا تم سے چینج کرنے کو یہ پارٹی میری ہے رمشا کی نہیں ۔۔” بیراج ایک نظر اسکے ہولیے پر ڈالتا ہوا بولا جو آج بہت خوبصورت لگ رہی تھی پنک کلر کے ڈریس میں ۔۔

” بیٹھو ۔۔” اسے بت بنا دیکھ کر وہ پھر سے بولا ۔۔

” پر مم میں وہاں نہیں جاؤ گی ۔۔” وہ پھر سے وہاں جا کر اپنی بیعزتی اور پارٹی خراب کرنا نہیں چاہتی تھی ۔۔

” چپ چاپ بیٹھو گاڑی میں ۔۔” اسکی رعب دار آواز پر اسنے ایک نظر آس پاس ڈالی پھر سوچنے لگی جائے یا نہیں اگر نہیں تو یہاں اکیلے رہنا پڑیگا اور اگر گئی تو پھر سے وہاں سے بیعزت ہو کر آئی تو وہ اپنی سوچوں میں تھی کے بیراج آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کا دروازہ کھولا اور اسے بیٹھا دیا یہ سب اتنی جلدی میں ہوا کے دافيہ کی سمجھ میں بھی نہیں آیا ۔۔

” ہم ہم کہاں جا رہے ہیں ۔۔” گاڑی کو واپس پیچھے موڑ تے دیکھ کر اسنے پوچھا ۔۔

” تم سے خاموش نہیں بیٹھا جاتا ۔۔” بیراج نے غصے میں کہا ۔۔

” ہاہاہا نہیں نہ مجھے نہ پیٹ میں درد ہوتا ہے جب نہ بولو تو سوری “۔۔وہ اسکی بات پر ہنس پڑھی اور بولتے بولتے رک گئی شرمندگی سے ۔۔

اسنے سمندر کے سامنے جاکے گاڑی روکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی دونوں کے اندر سکون کی ایک لہر دوڑ گئی ۔۔

“افف کتنی خوبصورت رات ہے اور یہ ٹنڈثی ہوائیں ” ۔۔ وہ محسوس کرتی باہر نکلی اور اسکی سامنے آئس کریم والے پر نظر گئی وہ سیدھی وہاں بھاگی ۔۔وہ بھی گاڑی سے نکل کر اسکے پیچھے گیا ۔۔

” چاچا مجھے نہ ایک آئس کریم دے دیں پر میرے پاس پیسے نہیں ہیں لیکن میں پکا دے دوں گی کل یہاں آکے “۔۔ دافيہ یہ خوبصورت رات ماحول دیکھ کر تو بھول ہی گئی تھی کے وہ اس کھڑوس کے ساتھ آئی ہے اور جلد بازی غصے میں وہ پارٹی میں سے آئی تھی اپنا بیگ بھی وہی بھول آئی جو اسے ابھی یاد آیا ۔۔

” تو بیٹا آپ اپنے شوہر سے لے لیں پیسے ۔۔” آئس کریم والے نے پیچھے بیراج کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔

” کیااا مم میرااا شوہر وہ کہاں سے آگیا میری تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی ۔۔۔وہ شاک میں چلائی آئس کریم والا شرمندہ ہو گیا اور اسکے پیچھے دیکھنے لگا وہ بھی پیچھے دیکھنے لگی ایک پل کو تو وہ بھی شرمندہ ہوئی پر آئس کریم کو وہ اب نہیں چھوڑ سکتی تھی ۔۔

” آا۔۔آپ یہاں کیوں آئے ۔۔”

” تم کیوں آئی ۔۔”

” یہ لینے پر پیسے گھر بھول گئی میں یا شاید پارٹی میں “۔۔آئس کریم کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی ۔۔۔

” گلہ خراب ہو جائے گا چلو ۔۔” بیراج بولتا آگے بڑھا ۔۔

” نہیں پلیز ایک لیکے دیں میں آپکو گھر چل کر پیسے دے دوں گی پلیز “۔۔دافیہ آگے بڑھتی اسکا ہاتھ پکڑ کر معصومیت سے بولی بیراج نے گہری سانس لی دافیہ نے جلدی سے آگے بڑھ کر اپنی پسند کی آئس کریم لی ۔۔

” آپ کھائیں گیں “۔۔اسنے بیراج سے پوچھا پر اسکا سر نفی میں ہلتا دیکھ کر منہ بنایا ۔۔

” چاچا دو دے دیں ۔۔۔دو کیوں ایک لو طبیعت خراب ہو جائے گی ۔۔” بیراج اسکے دو لینے پر سنجیدگی سے بولا ۔۔

” اف کچھ نہیں ہوتا میں کھاتی ہوں اتنی سردی میں بھی پر ابھی تو سردیاں شروع ہونے والی ہے ابھی اتنی بھی نہیں ہوئی ” ۔۔اسنے سر جھٹک کر پیسے دیے اور آگے بڑھا جانتا تھا وہ پاگل کسی کی نہیں سنتی جب اپنے بول لے تو ۔۔

دونوں ایک بینچ پر آکے بیٹھے ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اسکے کھلے لمبے بل ہوا میں اڑ رہے تھے بار بار اسکے منہ کو چھو رہے تھے اسے یہ لمحہ بہت خوبصورت اچھا لگ رہا تھا اور وہ اپنی آئس کریم کھاتی ہوئے بھی باتیں کر رہی تھی وہ بس اسکے چہرے کو دیکھ رہا تھا تو کھبی اسکی نوز پن جو اسے اور بھی خوبصورت بناتی تھی آج وہ اپنے دل میں اطراف کر رہا تھا وہ لڑکی واقع ایک خوبصورت کشش رکھتی تھی ۔۔۔

” بہت خوبصورت رات ہے نا ۔۔۔”دافيہ نے آئس کریم کھاتے ہوئے ان ٹھنڈی ہواؤں کو محسوس کرتے ہوئے کہا بیراج نے بھی ایک سکون سی سانس لی اپنے اندر ۔۔

” ایک بات پوچھوں سچ بتاؤ گی “۔۔۔ بیراج نے آج سوچ لیا تھا وہ ایک بار سکون سے اسکی بات بھی سن لے ۔۔

” اگر میں کہوں میں سچ بولتی ہوں اور آپ یقین نہیں کرتے تو ۔۔” دافيہ نے مسکراتے ہوئے کہا اسکی بات کا اچھے سے مطلب سمجھ گیا تھا بیراج ۔۔

” اگر میں کہوں اس بار یقین کرنے کو دل کر رہا ہے تو “۔۔بیراج بھی مسکرایا ۔۔

” تو میں ایک جھوٹ ایک سچ کہوں گی اور پھر وہ آپ پر ہے آپ میری کس بات پر یقین کرتے ہے “۔۔ دافیہ نے ہنستے ہوئے شرارت سے کہا آج اسے بیراج کے ساتھ مزہ آرہا تھا بات کرنے میں ۔۔

” ٹیسٹ لے رہی ہو میرا ۔۔ کبھی کبھی بڑے بزنس مین کے بھی ٹیسٹ لینے چاہئیے ۔۔” دافیہ نے آگے تھوڑا جھکتے ہوئے راز داری سے کہا ۔۔

کیا تم نے سچ میں وہ ڈیزائن زین انصاری کو دی تھی یا پھر ۔۔ بیراج نے سر جھکا کر اپنے ہاتھ اپس میں ملا کر کہا اسکی نظرے نیچے جھکی ہوئی تھی دل زور سے دھڑک رہا تھا اسکے دل میں بار بار ایک ہی آواز آرہی تھی کاش وہ کہہ دے وہ بے قصور ہے ۔۔

★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★

” ہاں وہ ڈیزائن میں نے کسی کو دیئے تھے لیکن میں بے قصور ہوں لیکن ایک بات کہوں انسان بہت بیوقوف ہے وہ بنا سوچے سمجھے ہر انسان پر یقین کر لیتا ہے پھر وہ آگے والا بندا چاہے آپکا فائدہ اٹھا رہا ہو یا نہیں کچھ بھی ہو سکتا ہے کبھی بھی بس ہم جانتے نہیں کب کیا ہونے والا ہے ۔۔” دافيا ایک گہری سوچ میں جواب دے رہی تھی بیراج اسکے جواب کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔

” آپکو نہیں لگتا آپکو دیر ہو رہی ہے وہاں پارٹی میں آپکا سب انتظار کر رہیں ہے آپکو جانا چاہیے میں چلی جاؤنگی ۔۔” دافيا نے ایک نظر اسکے فون پر ڈالتے ہوئے کہا جو کب سے بج رہا تھا وہ اسکے سامنے کمزور نہیں بننا چاہتی تھی وہ خود کو رونے سے روک کر بیٹھی تھی ۔۔

رکو میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں ۔۔ اسکو آگے بڑھتے دیکھ کر بیراج بولا ۔۔

” نہیں میں چلی جاؤنگی آپ لیٹ ہو گئے ہے پہلے ہی ۔۔ “

تمہیں نہیں لگتا کچھ زیادہ بول رہی ہو آئس کریم لینے کے پیسے تو تھے نہیں تمہارے پاس گھر کیسے جاؤ گی شش کوئی سوال نہیں آؤ ۔۔ اسے پھر سے بولتا دیکھ کر بیراج چپ کرواتا آگے بڑھ گیا ۔۔

★★★★

یہ تم کیا کہہ رے ہو میں نے حیات سے تمہارے لئے بات کی ہے تم جانتے ہو اور تم بھی یہی چاہتے ہو نہ اب کیا ہو گیا ۔۔ فرحان صاحب سختی اور غصے میں کہا ۔۔

بابا میں جانتا ہوں پر مجھے خود کل ہی داريان نے بتایا ہے کے وہ انعل کو پسند کرتا ہے اور وہ رشتہ لیکے جانا چاہتا ہے ۔۔ عفان کو انعل اچھی لگتی تھی پر وہ جانتا تھا داريان کو جو چیز پسند آجاۓ وہ اسے حاصل کرتا ہے ۔۔

کیا انعل بھی اسے پسند کرتی ہے ۔۔ فرحان صاحب چاہتے تھے انعل انکے بیٹے کو ملے پر وہ جانتے تھے وہ اپنے دوست کے راستے میں نہیں آئیگا ۔۔

شاید ہاں انکی کچھ ملاقاتیں بھی ہوئی ہے بابا میں جانتا ہوں آپ چاہتے ہیں انعل ہمارے گھر آئے پر میں داريان کے بیچ نہیں آنا چاہتا وہ میرا بہت اچھا دوست ہے میں اسکے ساتھ ہوں ۔۔ عفان بولتا اٹھ کر باہر نکل گیا پیچھے فرحان صاحب بس غصہ میں گھورتے رہ گئے ۔۔

★★★★

” بابا کہیں باہر چلے جائیں ہم پلیز ۔۔” انعل نے حیات صاحب سے کہا ۔۔

” بابا کی جان کہاں جانا ہے آپ نے “۔۔حیات صاحب پیار سے بولے ۔۔

” بابا ہم بور ہو رہے ہیں ہم شاپنگ پر جائے “۔۔ انعل نے سوچتے ہوئے کہا ۔۔

” اچھا ٹھیک ہے آپ بی جان کے ساتھ جائے اور بیراج سے بولے وہ آپکو لیکے جائیگے آپکو یہاں کے راستے نہیں پتا میری جان خیال رکھنا چاہیے ‘۔۔ حیات صاحب نے پیار محبت سے سمجھایا ۔۔

” اوکے ہم سمجھ گئے ہم انکے ساتھ ہی رہے گیں “۔۔ انعل نے لاڈ میں منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔

★★★★

” حنان تم کیا کام کرتے ہو “۔۔ زافا حنان کے ساتھ صوفے پر بیٹھی ہوئے کہا ۔۔

” بتایا تو تھا لوگوں کا دماغ ٹھکانے پر لگاتا ہوں “۔۔ حنان نے ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے کہا پھر لہپ ٹاپ پر جھک گیا ۔۔

” کبھی خد کا بھی لگایا ہے دماغ ٹھکا

نے پر “۔۔زافا نے گھورتے ہوئے کہا ۔۔

” لگایا ہے نہ دماغ دل دونوں ایک ہی جگہ لگادیا ہے “۔۔ حنان نے شرارت سے کہا۔۔

” بہت ہی کوئی فضول آدمی ہو “۔۔

“ہاہاہا سوچ لو تمہارا ہی ہوں “۔۔حنان نے قہقہہ لگایا ۔۔

” حنان ایک بات بتاؤ ڈی اے کو وہ لڑکی کیوں چاہئیے “۔۔ زافا نے سوچتے ہوئے کہا حنان نے اسے اتنا تو بتا دیا تھا ڈی اے کو انعل حیات چاہئیے ۔۔

” یہ میں نہیں بتا سکتا یہ ایک راز ہے ڈی اے کا اور اب چپ کوئی بات چیت نہیں کام کرلوں پھر آرام سے بیٹھ کر لڑتے ہے ابھی جاؤ میرے لئے چائے بنا کر آؤ ” ۔۔ حنان جانتا تھا وہ بات کو ختم نہیں کریگی اس لئے اسے چپ کروا دیا ۔۔

” زہر ملا کر پلاؤنگی “۔۔ زافا غصہ میں کہتی باہر نکل گئی ۔۔

★★★★

” ہمیں بھوک لگی ہے اب “۔۔ انعل شاپنگ کرتے ہوئے تھک چکی تھی بھوک سے پیٹ پکڑ کر بیٹھی تھی ۔۔

ہم آپکو کہتے ہیں صبح ناشتہ کرلیا کریں پر آپکو تو اس وقت بھوک لگتی نہیں ۔۔ بی جان نے کہا ۔۔

” اچھا بس کوئی بحث نہیں آؤ کینٹین چلتے ہے “۔۔ بیراج نے پیار سے اسکی ناک کو پکڑ تے ہوئے کہا ۔۔

” پہلے ہم واش روم سے ہوکر آتے ہیں ۔۔

ہم بھی چلتے ہے آپکے ساتھ یہاں بہت رش ہے آپ کہیں کھو نہ جائیں “۔۔ بی جان نے فکر مندی سے کہا ۔۔

” کچھ نہیں ہوتا بی جان آپ چلے ہم آگے جاکے بیٹھ جاتے ہیں یہ خود یہاں آجاۓ گی سیدھا تھوڑا خود بھی سیکھلو تمہارا لئے آسانی ہوگی سمجھی پگلی “۔۔ بیراج بولتا بی جان کو لیکے آگے بڑھ گیا ۔۔

” یہ سب پہلے سیکھا نا چاہئیے تھا نہ اب سیکھا رہے ہیں افف اگر ہم سچ میں کھو گے تو “۔۔ انعل خود سے بڑبڑائی ۔۔

★★★★

” پپ ۔۔پلیز سر ہمیں معاف کردیں ہم آگے سے خیال رکھیں گے اب کوئی شکایت کا موقع نہیں دیں گیں “۔۔ وہ دکان دار اسکے قدموں میں گڑگڑایا ۔۔

” موقع ہاہاہا یہ لفظ مجھے بلکل پسند نہیں “۔۔ اس شخص نے قہقہہ لگایا اسکی آنکھوں میں ایک دہشت تھی وہاں سب کا خوف سے حال برا تھا ۔۔

نن ۔۔نہیں ۔۔سس ۔۔سر ۔۔پپ ۔۔پلیز ۔۔مجھے معاف کردیں “۔۔ اس آدمی نے ڈر خوف سے روتے ہوئے کہا ۔۔

اسے موقع دو ۔۔ وہ شیطانی مسکراہٹ سے اپنے آدمی کو بولتا آگے بڑھ گیا وہ لمبا چوڑا خوبصورت انگیز مرد تھا اپنی وجاہت حسین سے سب کو متاثر کرتا ہوا اس شاپنگ مال میں چل رہا تھا آتے جاتے لوگ اس خوبصورت مرد کو دیکھ رہے تھے ۔۔

” آہہہ اللّه میرا سر “۔۔انعل تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی کے سامنے والے سے زور سے ٹکرائی ۔۔

” دیکھ کر نہیں چل سکتے ہیں آپ ہمارے سر پر چوٹ لگ گئی “۔۔ انعل نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے معصومیت سے کہا ۔۔

” سوری ہماری وجہ سے آپکو چوٹ لگی اگر زیادہ لگی ہے تو ڈاکٹر کے پاس چلیں “۔۔ اس مغرور شخص کے منہ سے سوری کہنا اس کے سب آدمی حیرت میں پڑ گئے وہ جو کبھی کسی کو ایک موقع نہیں دیتا دوبارہ بولنے کا وہ اس لڑکی سے معافی مانگ رہا ہے اور مسکرا کر بات کر رہا ہے ۔۔

” ڈاکٹر کے پاس نہیں جانا اب ٹھیک ہے ہم آپ موٹے ہیں اور پتھر بھی شاید ہمارا سر ابھی تک گھوم رہا ہے کیا کہتے ہے افف یا اللّه ہم تو بھول گئے ہمیں بھوک لگی تھی اور ہم تو بیراج بی جان کے پاس جا رہے تھے افف “۔۔ انعل بولتے ہوئے کہاں پہنچ گئی پھر یاد آتے ہی سر پر ہاتھ رکھ کر تیزی سے بولی ۔۔

” آپکا نام کیا ہے “۔۔ اسنے ہلکی مسکراہٹ سے پوچھا اسکی آنکھوں میں ایک چمک تھی انعل کے لئے ۔۔

” انعل حیات اور آپکا “۔۔انعل نے مسکراتے ہوئے کہا اسے لوگوں کی پہچان نہیں تھی اس لئے وہ ہر ایک سے بات کر لیتی تھی ۔۔

” میرا ز ۔۔ یا اللّه ہم تو پوچھنا بھول گئے بیراج بھائی بی جان والے کون سی جگہ پر بیٹھے ہیں یہاں رش بہت ہے ہم کیسے ڈھونڈے گیں انھیں کہیں ہم گم تو نہیں ہو گئے نہ “۔۔ انعل اسکی بات کاٹتے ہوئے خود سے بڑبرائی ۔۔

” ریلیکس انو آپکی فیملی مل جائے گی “۔۔ وہ بہت نرمی پیار سے کہہ رہا تھا اس وقت وہ لگ ہی نہیں رہا تھا وہ ایک خوف ناک دہشت برا شخص ہے ۔۔

” نہیں نہیں ہم ہم گم ہو گئے ہے ہمیں راستہ بھی نہیں پتا اپنے گھر کا ہم کیسے جائیں گے “۔۔ انعل نے روتے ہوئے کہا ۔۔

” شش پیاری لڑکی رونا بند کریں ہم آپکو چھوڑ دیں گے پہلے ہم چل کر انکو ڈھونڈتے ہے اوکے “۔۔ اسنے پیار سے کہا انعل اسکی بات سن کر رونا بند کرتے ہوئے ہاں میں سر ہلا یا ۔۔

★★★★

” بیٹا انعل کو کافی دیر ہوگئی ہے ابھی تک آئی نہیں “۔۔ بی جان انعل کے اتنی دیر سے اب پریشان ہو رہی تھی ۔۔

” جی بی جان میں دیکھ کر آتا ہوں “۔۔ بیراج کو بھی بی جان کی بات نے پریشان کردیا تھا۔۔

” ہم بھی چلتے ہے ۔۔ جی چلے ۔۔” بی جان بیراج دونوں اسی جگہ پہنچے جہاں انعل کھڑی تھی بی جان واش روم میں بھی دیکھ آئی انھے وہاں بھی نہیں ملی ۔۔

” بیراج بیٹا انعل یہاں بھی نہیں ہے وہ کہاں گیا یہاں رش بہت زیادہ ہے اب ہم کیسے ڈھونڈے گے یا اللّه میری بچی کی حفاظت کرنا “۔۔ بی جان پریشانی میں روتے ہوئے کہا ۔۔

” آپ پریشان نہ ہو بی جان یہیں ہوگی وہ بھی ہمیں ڈھونڈ رہی ہوگی چلے آگے بڑھ کر دیکھتے ہیں إن شاءاللّٰه مل جائے گی دعا کریں “۔۔ بیراج کو فکر ہو رہی تھی وہ جانتا تھا اسکے اور اسکے چاچا کے دشمن بہت ہے ایک تو انعل کو یہاں کے راستے بھی نہیں پتا دونوں بہت پریشانی کے عالم میں اسے ڈھونڈ رہے تھے وہ لوگ اب دوسری سائیڈ کی جانب گئے ۔۔

★★★★

” یہاں تو کوئی نہیں ہے ہم یہی روکے تھے پھر بیراج بھائی نے کہا وہ یہیں پر آگے جاکے بیٹھ گٹے لیکن اب یہاں بھی نہیں کہیں وہ لوگ ہمیں ڈھونڈ تو نہیں رہیں نہ “۔۔ انعل نے اس ٹیبل پر آکے دیکھا تو کوئی نہیں تھا آگے پیچھے ہر جگہ دیکھا وہ لوگ نہیں ملے اسے ۔۔

” چلے ہم باہر دیکھتے ہے کیا پتا وہ آپکو باہر دیکھنے گئے ہو “۔۔ اس شخص نے سامنے دیکھتے ہوئے انعل سے کہا اسکی آنکھوں میں ایک چمک تھی ایک مسکراہٹ تھی ۔۔

” ہاں شاید وہی گئے ہو ہم نے تو سوچا نہیں چلے پھر جلدی چلے ورنہ وہ لوگ ہمیں چھوڑ کے نہ جائے “۔۔انعل کو اس آدمی کی بات صحیح لگی وہ اسکے ساتھ باہر کی جانب نکل گئی اس شخص نے ایک نظر پیچھے دیکھتے ہوئے مسکرایا ۔۔

★★★★

” پھر تم کیا کہتے ہو “۔۔ حمدان صاحب نے کہا ۔۔

” بھائی صاحب مجھے تو بہت خوشی ہوئی لیکن آپ جانتے ہیں انعل بیراج کو بھائی دوست مانتی ہے اور اسنے کبھی اس طرح نہیں سوچا نہیں بیراج نے تو مجھے نہیں لگتا ہمیں ان پر زور دینا چاہیے “۔۔ حیات صاحب نے اپنے خیالات کااظہار کیا ۔۔

” ہاں کہہ تو تم صحیح رہے ہوں حیات پر میں چاہتا تھا ہماری بیٹی گھر میں ہی رہے تو اچھا ہے ایک بار بچوں سے پوچھ لینا چاہیے ہمیں “۔۔ حمدان صاحب کو حیات صاحب کی بات صحیح لگی لیکن وہ ایک بار کوشش کرنا چاہتے تھے ۔۔

” ہمیں نہیں لگتا اسکی ضرورت پڑے گی فرحان بھی عفان کے لئے بات کر چکا ہے مجھ سے “۔۔ حیات صاحب جانتے تھے انعل نہیں مانے گی ۔۔

” کیا سچ میں کب بات کی مجھے بتایا بھی نہیں “۔۔ حمدان صاحب نے ناراضگی کا اظہار کیا ۔۔

” جی اپنی پارٹی میں بات کی تھی اسنے ہم بتانے والے تھے کی پھر بات نہیں ہو پائی اور ہم نے انعل سے بھی پوچھا تھا اس بارے میں “۔۔ حیات صاحب نے پوری بات بتائی پارٹی والی ۔۔

” پھر انعل نے کیا کہا “۔۔ حمدان صاحب نے پوچھا ۔۔

” وہ داريان حیدر خان کو پسند کرتی ہے اور عفان نے بھی باتوں باتوں میں کہا ہے داريان انعل کو پسند کرتا ہے اور وہ آنا چاہتا ہے گھر “۔۔ حیات صاحب نے اپنی اور عفان کی بات بتائی کل وہ لوگ میٹنگ کے بعد ملے تھے تب عفان نے باتوں میں ہی کہہ دیا تھا جس پر فرحان صاحب بہت غصہ بھی ہوئے تھے اس پر ۔۔

” ٹھیک ہے پھر جس میں ہماری بیٹی کی خوشی ہے ہم وہیں کریں گے ہم زربدستی کے قائل نہیں ویسے بھی وہ رشتے نہیں چلتے جس پر دل راضی نہ ہو ۔۔حمدان صاحب نے طنزیہ انداز میں کہا جس کا مطلب حیات صاحب بہت اچھے سے سمجھ گے ۔۔

★★★

” ہیلو ہاں بولو کیا بات ہے “۔۔فون کے دوسری طرف بات سن کر اس شخص کی آنکھیں مزید لال ہوگئی ماتھے کی سلوٹیں مزید بڑھ گئیں ۔۔

” کہاں دیکھا اسے اور کہاں ہے وہ لوگ “۔۔ غصے میں ہاتھوں کی مٹھی بھینچ لی ۔۔

” ان پر کڑی نظر رکھو میں آرہا ہوں ایک پل کے لئے بھی نظر نہ ہٹے تمہاری ورنہ جان سے جاؤ گے “۔۔ وہ غصے میں گاڑی میں بیٹھتا تیزی سے گاڑی آگے بڑھا دی اسکا آج غصہ بے انتہا تھا اسکی آنکھوں میں خون تھا کس کا یہ تو وقت بتائے گا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *