Nafrat e Ishq by Mahra Shah NovelR50541 Nafrat e Ishq (Episode 13)
Rate this Novel
Nafrat e Ishq (Episode 13)
Nafrat e Ishq by Mahra Shah
” دافیہ جلدی سے تیار ہو کر آؤ ہمیں چلنا ہے ۔۔” بیراج مصروف سا بولتا اپنی فائل میں لگا ہوا تھا ۔۔
” پر کہاں جا رہیں ہیں ہم ۔۔” دافیہ نے نا سمجھی سے کہا تھا ۔۔
” آفس جانا ہے آج میں اپنی بیوی سے ملوانا چاہتا ہو اپنے ورکرز کو اب کوئی سوال جواب نہیں پانچ منٹ میں ریڈی ہو جاؤ ۔۔!! بیراج اسکا گال تھپک کر آگے بڑھ گیا تھا دافیہ مسکراتے ہوئے تیار ہونے گئی ۔۔
” کیسی لگ رہی ہوں ۔۔” دافیہ سفید رنگ کی نیٹ کی ڈریس میں لائٹ میکپ کھلے بال وہ بہت پیاری لگ رہی تھی بیراج اسے مسکراتا دیکھتا اسکی طرف آیا ۔۔
” بہت پیاری خوبصورت بس یہ بال باندھ دو یہ صرف میرے سامنے کھلے اچھے لگتے ہیں سمجھی ۔۔” بیراج محبت سے بولتا اسکے ماتھے پر بوسہ دیتا پیچھے ہوا دافیہ شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ بال باندھنے لگی ۔۔۔
★★★★
” ماشاءالله ہماری بچی بہت خوش ہے اپنے گھر میں داريان بہت اچھا ہے اسکا بہت اچھے سے خیال رکھتا ہے ۔۔” بی جان خوشی سے بولی تھی حیات صاحب حمدان صاحب ساتھ بیٹھے ہوئے تھے بچے باہر گئے ہوئے تھے ۔۔
” ماشاءالله ہمیں بہت ڈر تھا انعل کے لئے لیکن اب تھوڑا سکون میں ہوں وہ خوش ہے داريان کے ساتھ اللّه پاک ہمیشہ خوش رکھیں میری بچی کو ۔۔” حیات صاحب کو تھوڑا ڈر ابھی تک تھا زید سے ملنے کے بعد وہ روز ڈر ڈر کر سوتے تھے ۔۔
” ہماری بچی ہے ہی بہت پیاری ماشاءالله سے سب کو اپنا کر دیتی ہے خوش رہیں اپنے گھر میں بات ہوئی ہے آپ لوگوں کی ۔۔” حمدان صاحب مسکراتے ہوئے دعا دینے لگے تھے ۔۔
” جی وہ لوگ آرام سے پہنچ گئے تھے اب تو داريان بھی اپنے کام میں بزی ہے انعل سے دن میں ایک بار بات ہو جاتی ہے ۔۔” حیات صاحب انعل کو یاد کرتے ہوئے اداس ہوگئے تھے ۔۔
” اداس نہیں ہونا بھائی صاحب ہماری بچی خوش ہے بس اسے دعاؤں کی ضرورت ہے ہماری ۔۔” بی جان کو بھی انعل کی بہت یاد آتی تھی پر وہ چاہتی تھی کہ انعل اپنے گھر چلانا سیکھ لے جب بھی انکی بات ہوتی ہے وہ بہت سمجھاتی ہے اسے ۔۔
★★★★
” حان وہ لڑکی بہت پیاری تھی نہ وہ کون ہے ۔۔” زافا نے جب سے انعل کو دیکھا تھا اسے بہت پیاری لگی تھی وہ ۔۔
” میری ساس مجھے کیا پتا کون ہے میں نے خود تمہارے ساتھ دیکھا اسے ۔۔” حنان نے نظریں چرا تے ہوئے کہا تھا ۔۔
” جانتے تو بہت کچھ ہو بس مجھ سے چھپائے ہوئے ہے بہت کچھ راز میں صرف تمہارے احسانوں کی وجہ سے چپ ہوں ورنہ مجھے راز اگلوانا آتا ہے ۔۔” زافا نے آئبرو اچکاتے ہوئے کہا ۔۔
” تم میرے احسان کب سے ماننے لگی تم میری زافا ہی ہو نہ پکا دیکھو تم جو بھی ہو سچی سچی بتاؤ میری بیوی کہاں ہے بس ایک بار میرے بچے کو آنے دو پھر تم اسکی جگا لے لینا میں کچھ نہیں کہوں گا ۔۔” حنان نے مسکراہٹ دبا تے ہوئے کہا تھا ۔۔
” حانننن ایک تو اپن جب بھی تجھ سے پیار نرمی سے بات کریں تجھے عزت راس نہیں آتی بھاڑ میں جاؤ تم اور تمہارے چھچھورے ارمان ۔۔ ہاہاہاہا میری جنگلی بلی مذاق کر رہا تھا یار تم تو کنٹرول سے باہر ہو جاتی ہو اچھا بابا سوری آرام سے بیٹھو ورنہ درد ہوگا ۔۔” زافا غصے میں اسے مارنے لگی تھی جب حنان ہنستے ہوئے اسکے ہاتھ پکڑ کر اسکی حالت دیکھتا اسے آرام سے اپنے پاس صوفہ پر بیٹھاتا اپنے حصار میں لیتا پیار سے بولا تھا ۔۔
” یار تم رو رہی ہو کیا ہوا درد ہو رہا ہے ۔۔” حنان اسے روتا دیکھتا پریشانی سے بولا تھا اکثر زافا کو درد ہونے لگا تھا اسکا پانچواہ مہینہ چل رہا تھا ۔۔
” تم کیوں آئے میری زندگی میں مجھے نہیں پتا تھا میں اتنی اچھی زندگی جیوں گی مجھے تم جیسے شوہر ملے گا لڑائی محبت کرنے والا میری اماں کا اتنا اچھا خیال رکھتے ہو مجھے یہاں اتنے بڑے شہر میں لاۓ میں کبھی زندگی میں اپنے گھر سے گلی سے باہر کی دنیا نہیں دیکھی تھی تم نے وہ سب کچھ دیا جو شاید مجھے کبھی نہ ملتا ۔۔” زافا کا آج دل بھر آیا تھا اسے حنان سے عشق ہو گیا تھا وہ اس سے لڑائی ضرور کرتی تھی کیوں کے اسے مزہ آتا تھا اسکے ساتھ لڑائی کرنے میں اسکی محبت دیکھتے ہوئے وہ خود کو بہت خوش نصیب سمجھتی تھی اسکی ماں سے ملنے کے بعد وہ حنان کو جب بھی دیکھتی اسے بہت پیار آتا تھا اس پر اسکی ماں نے سمجھایا تھا اسے ہر وقت اللّه کا شکر ادا کیا کرو جس نے ہم غریب لوگوں پر اپنا رحم کیا بےشک وہ رحمان ہے رحیم ہے ۔۔
” اچھا بس رونا بند کرو مجھے میری جنگلی بلی بہت پسند ہے یہ معصوم لڑکی نہیں سمجھی تم تو میری محبت ہو میرا عشق ہو یہ سب تمہارا حق تھا ۔۔” حنان اسکے آنسوں صاف کرتے ہوئے اسکا ماتھا چومتا ہوا بولا تھا ۔۔
” حان تمہیں بیٹی چاہئیے یا بیٹا ۔۔”
” جو وہ رب نوازے اسی میں شکر ادا کروں گا ۔۔” حنان نے مسکراتے ہوئے دل سے کہا تھا ۔۔
” پھر بھی تھوڑا بتاؤ نہ ۔۔” زافا نے ضد کی ۔۔
” میں چاہتا ہوں پہلے بیٹی ہو اسے میں بہت لاڈ سے پالوں اسے ایک بہت پیاری معصوم سچی لڑکی بناؤ بلکل میری جیسی ۔۔” حنان شرارت سے بولا تھا ۔۔
” حان کیا میں اچھی نہیں ہوں معصوم نہیں ہوں اور مجھے بیٹا چاہیے بلکل میرے جیسا بہادر ہینڈسم خوبصورت سا ۔۔” زافا نے منہ بناتے ہوئے کہا تھا پر اپنے بیٹے کی بات کرتے ہوئے دل سے مسکرائی ۔۔
” کیوں میں ہینڈسم نہیں ہوں دیکھنا بیٹی ہوگی میری معصوم پری آئے گی ۔۔” حنان نے فخر سے کہا تھا ۔۔
” جی نہیں بیٹا ہوگا بلکل میری طرح اگر بیٹی ہوئی وہ بھی میری طرح ہوگی ۔۔” حنان زافا کی پھر سے بحث شروع ہوگئی تھی انکی زندگی ہمیشہ ایسے گزرنے والی تھی ہمیشہ پیار محبت لڑائی میں ۔۔
★★★★
” داريان آپ کب آئیں گے ہم اکیلے ہیں ڈر بھی لگ رہا ہے ۔۔” انعل نے فون پر کہا تھا انھیں یہاں آئے کچھ دن ہو گئے تھے داريان اپنے کام میں بہت مصروف ہو گیا تھا وہ کبھی شام کبھی رات دیر سے گھر آنے لگا تھا انعل بہت پریشان ہوگئی تھی لیکن اس میں ہمت نہیں تھی وہ اپنے بابا سے کچھ کہے ۔۔
” کام بہت ہے دیر ہو جائے گی تم کھانا کھا کر سو جانا ۔۔” داريان کی مصروف آواز آئی ۔۔
” میڈ نہیں آئی ہے اور کھانا بھی نہیں بنا ہمیں بھوک لگ رہی ہے ہم کیا کریں ۔۔” انعل بھوک سے نڈھال ہو رہی تھی ۔۔
” کیا تم معصوم بچی ہو خود نہیں بنا کر کھا سکتی یا پھر اپنے گھر سے کچھ بھی سیکھ کر نہیں آئی اتنے دن سے تمہارے نخرے دیکھ رہا ہوں چپ چاپ جاکے کچھ پکا کر کھاؤ میں دیر سے کھا کر آؤنگا ۔۔” داريان غصے میں بولتا فون رکھ دیا تھا ۔۔
” دد ۔۔داريان ۔۔آ ۔آپ ایسے کیوں بات کر رہیں ہے ہمیں نہیں آتا کچھ بنانا ۔۔” انعل کو داريان کی بے رخی برداشت نہیں ہو رہی تھی آنسؤ تیزی سے اسکی آنکھوں سے بہہ رہیں تھے وہ کافی دیر موبائل کو گھورتی رہی اسے یقین نہیں آرہا تھا داريان نے اس طرح بات کی اس سے ۔۔
” داريان برے نہیں ہے وہ کام بہت ہوگا اس لئے پریشان ہیں ہاں ہم ہم باہر سے کچھ کھا کر آتے ہیں ۔۔” انعل اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے خود سے بڑبڑائی اور اٹھ کر بیگ لیا لمبا کوٹ پہنتے ہوئے بالوں کی ٹیل پونی بنائی خود کی تھوڑا فریش کرتے ہوئے باہر نکلی کیوں کے یہاں سردی کا ہی موسم ہوتا ہے اس لئے انعل خود کو اچھے سے کوور کئے ہوئے باہر آکر کیب بک کروائی ۔۔
★★★★
” تمہیں نہیں لگتا تم کچھ زیادہ روڈ ہو گئے تھے ۔۔” اسکے ساتھ بیٹھا شخص بولا تھا ۔۔
” تمہیں نہیں لگتا مجھے پیار سے پیش آنا نہیں تھا یہ تو ابھی چھوٹی سی شروعات ہے ۔۔” داريان خان نے مسکراتے ہوئے اپنی گن کو صاف کیا ۔۔
” جلدی کرو ویسے ہی اسکے پاس کم سانسیں بچی ہے تمہیں دیکھ کر خود ہی مر جائے گا ۔۔” وہ مسکراتے ہوئے اسے سٹور روم میں لے گیا پیچھے داريان خان ۔۔
” اوۓ اٹھ دیکھ کون آیا ہے تجھ سے ملنے ۔۔” حنان نے ظفر کو بالوں سے کھینچ کر اوپر کیا وہ درد سے کراہتا ہوا سامنے دیکھنے لگا ۔۔
” ڈڈ ۔۔ ڈی ۔۔ا ۔۔اے ۔۔ مم ۔۔مجھے ۔چچ ۔۔چھوڑ دو ۔۔” ظفر خوف سے کانپتے ہوئے بولا تھا ۔۔
” شش آرام سے نام لو میرا بول کیوں آئے تھے اسے لینے بول ۔۔” ڈی اے غصے میں دھاڑا تھا ۔۔
” مم ۔۔میں ۔۔سس ۔۔سچ بتاتا ہوں مجھے چھوڑ دو ۔۔” ظفر درد سے اٹک کر بولا تھا حنان نے بہت مارا تھا اسکے اوپر گرم پانی گرایا تھا ۔۔
” تو میرے پاس جاسوسی کرنے آتا تھا زید کے لئے کام کرتے تھے اب وہ کہاں ہے تجھے بچانے کیوں نہیں آرہا ہے بول ۔۔” ڈی اے غصے کی شدت میں غرا یا ۔۔
” مم ۔۔میں بتاتا ہوں اس دن جب میں تمہارے گھر آیا تھا تب میں نے ایک لڑکی کو تمہارے گھر دیکھا تھا اور وہ بات میں نے زید کو بتائی تھی تو اسنے مجھے تم پر اور اس لڑکی پر نظر رکھنے کو کہا تھا اور جب میں نے اس لڑکی کے بارے میں سب پتا لگوایا تو مجھے لگا میں اس لڑکی کو بھی اٹھا لوں زید خوش ہو جائے گا مجھے سے لیکن میرے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی ااہہہہہ ۔۔ ظفر اٹک کر بولتا گہرے سانس بھرنے لگا تھا کہ اچانک ڈی اے نے لات مار کر اسے گرا دیا وہ چیختا اپنی موت کی بھیک مانگنے لگا ۔۔
” تم نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کردی اس لڑکی کے بارے میں سوچا بھی کیسے تم کیا سمجھتے ہو میں آنکھیں بند کر کے چلتا ہوں نہیں تم لوگ مجھے ابھی اچھے سے جانتے نہیں ہو ۔۔” ڈی اے غصے کی شدت سے گھورتے ہوئے دھاڑا ۔۔
”بہت کھیل لیا میری زندگی کے ساتھ اب میں کھیلوں گا تو تمہاری نسلیں تک یاد رکھے گی کہ ڈی اے کون تھا۔۔۔۔۔ سب کو ایک موقع ملتا ہے اسکے بعد بھی سدھرنے کے بجاۓ دوبارہ غلطی کر بیٹھتے ہیں اس لئے میری پاس “۔۔۔۔ دوبارہ لفظ نہیں ٹهااااا ٹھااا ڈی اے نے ایک گولی اس کے ماتھے پر دوسری دل پر چلائی اور مسکراتے ہوئے باہر نکل گیا
” بتا کر چلاتے یار معصوم دل رکھتا ہوں اسکے اندر بھی دو پیارے لوگ رہتے ہیں ڈر جاتے تو کتنا برا مار کر گیا ہے اسے ۔۔” حنان منہ بناتے ہوئے ناک پر ہاتھ رکھ کر بولا تھا ۔۔
★★★★
” بہت سکون ہے یہاں کاش داريان بھی ساتھ ہوتے ہمارے ۔۔” انعل نے داريان کو یاد کرتے ہوئے گھرا سانس بھرا کھانا کھاتے ہوئے آس پاس ماحول انجوائے کرنے لگی تھی ۔۔۔
” انعل حیات کیسی ہو ۔۔” اچانک بھاری مردانہ آواز آئی اسکے پاس سے انعل تیزی سے سر اٹھا کر سامنے دیکھا اسکے آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھی ۔۔
” آ ۔آپ ۔۔ یي ۔۔یہاں کیسے آئے ۔۔” انعل نے حیرت اور ڈر سے پوچھا تھا اسے ڈر بھی تھا کہیں وہ ماسک مین بھی نہ آجاۓ ۔۔
” گھبراؤ مت یہ بتاؤ تم یہاں کیسے ۔۔” زید جانتا تھا وہ ڈر رہی ہے لیکن پہلے وہ اس سے سکون سے بات کرنا چاہتا تھا اتنا ڈھونڈ نے کے بعد آج اسے وہ مل ہی گئی تھی وہ یہاں اپنی میٹنگ کی وجہ سے آیا تھا جب اسکی نظر انعل پر پڑی وہ خود کو روک نہیں پایا تھا ۔۔
” ہماری شادی ہوگئی ہے اور ہم یہاں اپنے ہسبنڈ کے ساتھ رہتے ہیں یہاں پاس تھوڑا دور ہمارا گھر ہے آپ بھی یہاں رہتے ہیں ۔۔” زید کی نرمی سے بات کرنا اسے اچھا لگا وہ اب ڈری نہیں ۔۔
” بزنس کی وجہ سے آنا جانا لگا رہتا ہے یہاں ڈیڈ یہی رہتے ہیں میرے اچھا یہ بتاؤ کس سے شادی ہوئی تمہاری ۔۔” انعل کی معصومیت پر اسے بہت پیار آیا لیکن اسکی شادی کی بات پر بہت غصہ آیا تھا اسے ۔۔
” داريان حیدر خان وہ بہت بڑے بزنس مین ہے اور بہت اچھے ہے آپ ہمارے ساتھ چلے گھر ہم ان سے آپکو ملواتے ہیں ۔۔” انعل داريان کا ذکر دل سے خوش ہوتے ہوئے بتا رہی تھی ۔۔
” اب تو ملنق پڑیگا اتنی تعریف جو ہو رہی ہے اسکی چلو میرے ساتھ چلتے ہیں گاڑی میں ۔۔” زید ضبط کرتا ہوا اٹھا انعل نے نا سمجھی سے اسے دیکھا جب اسنے کہا وہ چھوڑ بھی دیگا داريان سے بھی ملے گا تو انعل خوشی سے اٹھ کر اسکے ساتھ جانے لگی ۔۔۔
★★★★
” کیا بکواس کر رہے ہو کہاں گئی انعل تمہیں اس پر نظر رکھنے کے ساتھ اسکا خیال رکھنے کو بھی کہا تھا ۔۔” داريان اپنے گارڈ پر دھاڑا ۔۔
” سس ۔۔سر میں میم کے پیچھے پیچھے تھا لیکن وہاں زید جعفری بھی آگیا تھا اور وہ کافی دیر میم کے ساتھ بیٹھا رہا اسکے بعد وہ میم کو اپنے ساتھ لیکے گیا میں پیچھے جانے والا تھا کے اسکے کچھ آدمی نے مجھ پر حملہ کردیا تھا تب تک وہ لوگ وہاں سے غائب ہو گئے تھے سوری سر ۔۔!! گارڈ پوری بات بتاتا شرمندگی سے معافی مانگنے لگا ۔۔
just shut up I will kill you Zaid!!!
” اس بار تم نے میری عزت پر ہاتھ ڈالا ہے میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑونگا ۔۔” داريان غصے میں آفس سے باہر کی جانب بھاگا ۔۔
” ہم کہاں جا رہے ہیں ہمارا گھر اس سائیڈ نہیں ہے آ ۔آپ کہاں لیکے جا رہیں ہے ۔۔!! انعل گھر کو بہت پیچھے دیکھ کر خوف سے بولی تھی ۔۔
” خاموشی سے بیٹھی رہو ہم اپنے گھر جا رہیں ہے ۔۔؟ زید مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔
” اا۔آپ ایسے کیوں کہہ رہے ہے ہمارا گھر یہاں نہیں ہے آ اپ پلیز ہمیں چھوڑ دے ہم ہم خود چلے جاۓ گے آ ۔آپ پلیز ہمیں جانے دے ۔۔؟؟ انعل نے روتے ہوئے التجا کی زید خاموش رہا ۔۔
” بب۔۔بابا داريان کہاں ہے آپ لوگ پلیز آجائیں ۔۔!! انعل روتے ہوئے انھیں پکار رہی تھی
★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★
” اااااہہ ۔۔ ہم کہاں ہے ۔۔؟ انعل سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اٹھ کر آس پاس دیکھا تو خود کو انجان جگہ پایا ۔۔
” یہ یہ ہم ہم کس کے گھر میں ہے دد ۔۔ داريان کہاں ہے آپ کوئی ہے دروازہ کھولو کوئی ہے ۔۔!! انعل تیزی سے بیڈ سے اٹھی دروازہ کی طرف بھاگی چلاتے ہوئے وہ بار بار ہاتھ سے دروازہ بجا رہی تھی ۔۔
” بب ۔۔بابا داريان کہاں ہے آپ لوگ کوئی ہے یہاں کون ہمیں لیکے آیا ہے ۔۔؟ انعل چلاتے ہوئے تھک ہار کر نیچے بیٹھ کر رونے لگی تھی تھوڑی دیر میں کچھ قدموں کی آواز سنائی دی وہ اسی سمیت آرہی تھی انعل جلدی سے اٹھ کھڑی دور ہوئی ۔۔
” کیا ہوا ڈارلنگ کیوں چلا رہی تھی آپ کو پتا نہیں ہمیں آپکے آنسؤں کتنا درد دیتے ہیں ۔۔!! زید نے اندر آتے انعل کے قریب جاتے ہوئے کہا تھا ۔۔
” آ ۔آپ اا۔ ایسا کیوں کر رہیں ہیں ہمیں جانے دے ہمیں یہاں نہیں رہنا پلیز ۔۔؟ انعل نے روتے ہوئے التجا کی لیکن شاید آج زید جعفری رحم کھانے کے موڈ میں نہیں تھا ۔۔
” پلیز ایسے رو مت ایک بار بیٹھ کر بات کرتے ہیں پھر کچھ فیصلہ کرتے ہیں آؤ بیٹھو یہاں ۔۔!! زید پیار سے کہتا اسکے قریب گیا انعل خوف سے دو قدم پیچھے ہوئی ۔۔
” نن ۔۔ نہیں ہمیں نہیں کرنی کوئی بات آپ پلیز جانے دے داريان کو بلائیں ۔۔!! انعل روتے ہوئے نفی میں سر ہلاتے پیچھے ہوئی ۔۔
” دارياننن داريانننن کون ہے وہ کمینہ بولو پیار سے کہہ رہا ہوں میری بات سنو لیکن تمہیں صرف وہ چاہئیے میری بات غور سے سنو تم صرف اور صرف میری ہو میرے علاوہ کسی اور کا نام بھی نہ آئے تمہاری زبان پر سمجھی ہم نے تمہیں دیکھا تھا ہمیں تم سے محبت نہیں عشق ہو گیا ہے ہم تمہیں کسی اور کا ہونے نہیں دینگے یاد رکھنا تم صرف زید جعفری کی ہو اسکا عشق ہو سمجھی ۔۔؟ زید غصے میں اسکا بازو پکڑتا اپنے قریب کرتے ہوئے غرایا تھا اسکے منہ سے داريان کا نام سنتے ہی اسے غصے آگیا تھا انعل حیرت بھری نظروں سے اسے دیکھے جا رہی تھی ۔۔
” ہہ ۔۔ہم آ ۔آپ سے مم ۔۔ محبت نہیں کرتے ہم داريان سے ۔۔ چپ بلکل چپ تم ہم سے محبت کرو یا نہیں ہمیں فرق نہیں پڑتا بس ہمارے پاس رہو ہمارے ساتھ رہو ۔۔!! زید اسکے چہرے کے قریب جھکا ہوا سرخ آنکھیں ڈالتا ہوا کہہ رہا تھا انعل کو اس سے بہت خوف آرہا تھا ۔۔
” شش رونا بند کرو یار مجھے تمہارا رونا نہیں پسند بلکل دیکھو کیا حال کردیا ہے ۔۔!! زید مسکراتا ہوا اسکے آنسؤں صاف کرنے لگا تھا انعل نے غصے میں اسکے ہاتھ جھٹک دیئے ۔۔
” ہہ ۔۔ہم ہمارے قریب مت آئے ہمیں اچھا نہیں لگتا آپکا ہمیں چھونا یہ حق صرف داريان کو ہے آپکو نہیں اس لئے ہمارے قریب مت آیا کریں ہمیں نہیں پسند ۔۔!! انعل غصے میں چلائی اسے زید کا قریب آنا چھونا اچھا نہیں لگا تھا نفرت سے دیکھتے ہوئے وہ دور ہوئی اس سے اسے زید سے نفرت ہونے لگی تھی اب جسے اتنا اچھا سمجھا تھا لیکن وہ بھی ایسا نکلا ۔۔
” انعلللل ۔۔ دد ۔۔داريان ۔۔!! انعل داريان کی پکار سنتی خوشی سے نیچے بھاگی زید مٹھی بھینچتا ہوا اسکے پیچھے گیا تھا ۔۔
” دد ۔۔ داريان ہمیں یہاں سے لے جائے پلیز یہ بہت برا ہے اسنے ہمیں دھوکہ دیا ہے اا۔اور ہمیں بازو سے پکڑا بھی تھا بہت درد ہو رہا ہے ۔۔!! انعل بھاگتے ہوئے داريان کے گلے لگی تھی روتے ہوئے اسکے سینے سے لگی زید کے بارے میں بتا رہی تھی داريان اسکے ارد گرد اپنا حصار باندھتا غصے کی شدت سے زید کو گھور رہا تھا جو سیڑھیوں پے کھڑا جیب میں ہاتھ ڈالے سکون سے مسکراتا ہوا اسکے پاس آنے لگا تھا ۔۔
” بس رونا بند کرو جاؤ گاڑی میں بیٹھو میں آتا ہوں ۔۔۔”
” نن ۔۔ نہیں یہ یہ بہت برا ہے ہم ہم ساتھ چلتے ہیں جلدی سے پپ ۔۔ پلیز چلے یہاں سے ۔۔” انعل اسکے کوٹ کو مظبوطی سے پکڑتی ہوئے نفی کی آنسوں تیزی سے اسکی آنکھوں سے بہہ رہے تھے داريان ایک نظر اس پر ڈالتا سامنے زید کی سرخ آنکھوں میں اپنی سرخ آنکھوں سے وارننگ دے رہا تھا جیسے ۔۔
” حنان انعل کو گھر لے جاؤ میں آتا ہوں ۔۔ نن ۔۔ نہیں داريان ہم ۔۔ مینے کہا جاؤ تو جاؤ ۔۔ چلوں آؤ میں چھوڑ دیتا ہو اسے اور غصہ مت دلاؤ آجاؤ ۔۔ ؟ داريان نے غصے میں کہا انعل سے لیکن وہ اکیلے جانے کو تیار نہیں تھی پر داريان کی سرخ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ڈر گئی تھی اسے کہاں عادت تھی ان سب چیزوں کی وہ خاموشی سے حنان کے ساتھ باہر نکل آئی ۔۔
” بول کمینے کیا مسئلا ہے تیرا میرے ساتھ ۔۔؟ داريان نے آگے بڑھتے غصے میں زید کے منہ پر پنچ مارا ۔۔
” تو بول تجھے کیا مسئلا ہے کمینے اور یہ کون سا روپ ہے تیرا اسکے سامنے داريان حیدر خان ارف ڈی اے صاحب ہاہاہا واہ کیا کھیل کھیلا ہے واہ بہت اچھے پلینر ہو پر تو جانتا ہے تونے ایک غلطی کردی تو اسے حاصل کر بیٹھا جو میری محبت تھی ۔۔ چپ دوبارہ اسکا نام تمہارے منہ سے ادا نہ ہو ورنہ بہت برا ہوگا وہ میری عزت ہے میری غیرت کو مت جگاؤ ورنہ تڑپا ترپا کر ماروں گا تمہیں ۔۔ ” دونوں پھر سے ایک دوسرے کو مارنے لگے تھے انکے کچھ لوگ آکر دونوں کو الگ کیا تھا ۔۔
” کیا ہو گیا ہے پاگل ہو گئے ہو دونوں دماغ خراب ہو گیا ہے دونوں کا کس بات پر لڑائی ہو رہی ہے ۔۔” جعفری صاحب نے دونوں کے بیچ میں آکر غصے میں کہا تھا ۔۔
” یہ سوال آپ اپنے بیٹے سے پوچھے یہ میری بیوی کے پیچھے کیوں پڑ گیا ہے جانتا نہیں یہ وہ میرے نکاح میں ہے میری بیوی ہے لیکن پھر بھی یہ اسکے پیچھے پڑا ہے کیوں پوچھے اس سے ۔۔؟ ڈی اے غصے میں دھاڑا تھا ۔۔
” نہیں ہے وہ تمہاری بیوی وہ صرف تمہاری نفرت ہے لیکن میرا عشق ہے میں اسے تم سے حاصل کر کے رہوں گا یاد رکھنا چھوڑونگا نہیں تمہیں میں ۔۔” زید غصے کی شدت میں چلا تے ہوئے اپنے روم میں گیا ۔۔
” تم غصہ مت کرو میں اسے سمجھاؤ گا تم اپنا کام کرو ۔۔” جعفری صاحب نے ڈی اے کو ٹھنڈا کرنا چاہا ۔۔
” یہ آخری بار تھا اگلی بار میں اسکے ساتھ کیا کرونگا یہ آپ بہت اچھے سے جانتے ہیں ۔۔!! ڈی اے جعفری صاحب کی آنکھوں میں اپنی سرخ آنکھیں ڈالتا اسے بہت اچھے سے سمجھا گیا تھا وہ غصے سے وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا ۔۔
” یہ لڑکا پتا نہیں اور کتنا ذلیل کرواۓ گا مجھے جانتا نہیں ہے وہ کتنا غصے والا ہے کیا کر سکتا ہے یہ سب اس لڑکی کی وجہ سے ہوا ہے ایک بار اسکا کام ہو جاۓ اسکے بعد اس لڑکی کو میرے پاس لانا ۔۔!! جعفری صاحب اپنے مینیجر کو بولتا زید کی روم کی طرف بڑھ گیا ۔۔
★★★★
” کیوں اکیلی گھر سے باہر نکلی تھی بولو ۔۔؟ داريان بےحد غصے میں تھا اسکا بازو پکڑتا خود کے بے حد قریب کرتے سرخ آنکھیں اس پر گاڑھتے ہوئے بولا تھا ۔۔
” دد ۔۔داريان ہمیں بب ۔۔بھوک لگی تھی اس لئے ہم باہر گئے تھے اا ۔۔اور ہمیں نہیں پتا تھا وہ اتنے برے ہیں ۔۔!! انعل روتے ہوئے اٹک اٹک کر بول رہی تھی اسے داريان کے غصے سے خوف آرہا تھا ۔۔
” تمہارا دماغ بہت خراب ہوتا جا رہا ہے کیوں اتنی بیوقوف معصوم بنتی ہو بولو کیوں ۔۔؟ داريان کی غصے کی شدت میں رگیں تن گئی تھی ۔۔
” ہہ ۔۔ہم ۔۔مم ۔۔معاف ۔۔ بسسس انعل میں اب مزید تمہاری بیوقوفی معصومیت برداشت نہیں کر سکتا ابھی بھی وقت ہے خود کو میچور کرنا سیکھو ورنہ تم میرے ساتھ رہنے کے لائق نہیں ہو سمجھی ۔۔!! داريان غصے میں اسے دھکہ دیتا باہر نکل گیا انعل زمین پر بیٹے گہری سانس لیتے شدت سے رونے لگی تھی اسے نہیں سمجھ آرہی تھی داريان کیوں اتنا غصہ کر گیا تھا اسکی آنکھوں میں اسے کیوں اپنے لئے نفرت نظر آئی تھی وہ داريان کہاں گیا جسے اسنے محبت عشق کیا تھا وہ کہاں گیا جو اسکا اتنا خیال رکھتا تھا کیا ہو رہا تھا اسکے ساتھ وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔۔
★★★★
” کیسے ہو بی کوئی خاص بات ہے جو سب کو یہاں بلوایا ہے ۔۔؟ رمشا نے بیراج سے ملتے ہوئے سب کو وہاں دیکھ کر کہا تھا ۔۔
” ایک خاص بات کرنی تھی سب سے کسی خاص انسان کو ملوانا تھا آپ لوگوں سے ۔۔!! بیراج نے مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔۔
” اچھا ایسا کون خاص ہے جس کے ذکر پر تم اتنا خوبصورت مسکرا رہے ہو ۔۔؟ رمشا نے طنزیہ انداز میں کہا تھا ۔۔
” Iam introducing you my lovely wife today “
” what seriously B “
رمشا شاک میں چلائی ۔۔
” ریلیکس رمشا تمہیں نہیں پتا بیراج کی شادی ہو چکی ہے دو مہینے ہو چکے ہیں اس بات کو تم باہر تھی اور آج آئی ہو تو تمہیں شاک لگنا تو بنتا ہے ہاہاہاہا ۔۔!! شان شرارت سے رمشا کے غصے سے چہرہ کو دیکھتا ہوا مزید بولا تھا ۔۔
” شی از مائے وائف مائے لائف مسز بیراج ۔۔!! بیراج دافیہ کو سب کے سامنے پیش کرتے ہوئے پیار بھری نظروں سے دیکھتا ہوا سب سے ملوایا تھا سب ہی حیرت سے انھیں دیکھنے لگے تھے وہاں کی لڑکیوں کو تو دافیہ پر رشک آرہا تھا رمشا اپنی پھٹی پھٹی آنکھوں سے دافیہ کے خوبصورت چہرے کو دیکھ رہی تھی جو بیراج کے بازوں میں ہاتھ ڈالیے خوشی سے سب سے مل رہی تھی ۔۔
” نہیں یہ یہ نہیں ہو سکتا یو میں تمہیں نہیں چھوڑو گی تمہاری ہمت کیسے ہوئی بیراج پر اپنا حق جتانے کی وہ صرف میرا ہے سمجھی تم تمہیں بیراج سے دور کرنے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا تھا میں نے اور تم پھر سے اسکی زندگی میں آگئی میں تمہاری جان لی لوں گی ۔۔!! رمشا اپنا آپا کھوتی غصے میں دافیہ کی طرف بڑھتے ہوئے چلائی شان نے جلدی سے اسے پکڑ کر پیچھے کیا تھا ۔۔
” تم پاگل ہو گئی ہو وہ میری بیوی ہے میری عزت ہے دوبارہ اگر تم نے اس طرح بات کرنے کی کوشش کی تو میں تمہیں مار دونگا یاد رکھنا وہ اب میری بیوی ہے میری محبت میرا عشق ہے سمجھی اور کیا کیا ہے تم نے اسکے ساتھ بولو چپ کیوں ہوگئی ۔۔؟ بیراج غصے میں دھاڑا ۔۔
” تت ۔۔تم بھول گئے اسنے ہمارے ساتھ کیا کیا تھا اسنے تمہارے دشمن کے ساتھ مل کے ہماری ڈیزائن ۔۔ شٹ اپ جسٹ شٹ اپ یور مائوتھ کیا ثبوت ہے تمہارے پاس اسنے یہ سب کیا ہے بولو ہے کوئی ثبوت تو لاؤ میرے پاس دوبارہ اگر میری بیوی پر کوئی بھی جھوٹا الزام لگایا تو بہت برا ہوگا ۔۔!! بیراج نے انگلی اٹھا کر اسے وارننگ دی تھی ۔۔
” بیراج تم اس کے لئے مجھے سے کیسے بات کر رہے ہو اور تم نے کیسے یقین کیا اس پر بولو تمہارے پاس کیا ثبوت ہے یا پھر اس نے تمہیں اپنے پیار کے جال میں پھنسا لیا اس لئے تمہیں کچھ نہیں دکھ رہا ہے نہ بولو اس (گالی) چٹاااخ ۔۔ بیراج کا ہاتھ اٹھا تھا اس پر اسکے منہ سے دافیہ کے لئے گالی سنتے اسکی برداشت ختم ہوگئی تھی ۔۔۔
” بسس بہت ہوا تمہارا تماشا یہ لو دیکھ لو کسنے کس کو دھوکہ دیا ہے خود ہی دیکھو میرے پیٹھ پیچھے مجھے پر ہی وار کرتی جا رہی تھی تم تمنے ہمارے بیچ اس دوستی کے خوبصورت رشتے کو ہی بیچ دیا رمشا تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں چلو دافیہ ۔۔!! بیراج اسے وہ ثبوت جو دافیہ نے اسے دیا تھا دیکھاتا ہوا غصے میں بولا تھا اور دافیہ کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکل گیا تھا رمشا اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے شرمندگی سے رو پڑی تھی شان ایک افسوس بھری نظر ڈالتا آگے بڑھ گیا ۔۔
★★★★
” بب ۔۔بیراج آپ ٹھیک ہے ۔۔؟ دافیہ نے فکرمندی سے پوچھا تھا ۔۔
” پتا نہیں مجھے یقین نہیں آتا رمشا نے مجھے دھوکہ دیا اور آج جس طرح اسے تم سے بات کی مجھے بہت برا لگا سوری ۔۔!! بیراج آج بہت ہرٹ ہوا تھا رمشا کی باتوں سے ۔۔
” پلیز بیراج آپ سوری مت کریں اس میں آپکی غلطی نہیں ہے یہ سب ہونا تھا اب بھول جائے ۔۔!! دافیہ نے ہلکی مسکراہٹ سے اسے سمجھا تے ہوئے کہا تھا ۔۔
” میرے ساتھ چلو گی کہیں دور جہاں بہت سکون ہو خاموشی ہو ۔۔؟ بیراج اسے اپنی طرف کھینچتا ہوا سرگوشی میں بولا ۔۔
” میں آپکے ساتھ کہیں پر بھی چلوں گی بس آپکا ساتھ میرے پاس ہونا چاہئیے ایک جگہ بتاؤں جہاں بہت سکون ہو ۔۔!! دافیہ نے دل سے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔
” بتاؤ کہاں چلنا چاہیے ہمیں ۔۔ مجھے لگتا ہے ہمیں عمرے پر جانا چاہیے ہمیں اس پاک ذات کا شکر ادا کرنا چاہیے جس نے ہمارا اتنا خوبصورت نصیب لکھا ہمیں وہاں سکون مل سکتا ہے بہت زیادہ میری خواہش ہے میں اپنے ہم سفر کے ساتھ اس خوبصورت سفر پر جاؤ ۔۔!! دافیہ جھکی پلکوں سے اسکے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا تھا بیراج اسکی بات سے دل کھول کر مسکرایا تھا جھک کر اسکا ماتھ چومتا ہوا ہاں میں سر ہلا یا ۔۔
★★★★
” حان کیا میں موٹی ہوگئی ہوں ۔۔؟ زافا اپنے آپکو آئینے میں دیکھتے ہوئے حنان سے پوچھا تھا ۔۔
” موٹی ارے نہیں میری جان تم تو بہت کمزور ہوگغی ہو دیکھو ۔۔!! حنان مسکراہٹ دباتا ہوا اسکے بھرے ہوئے جسم کو دیکھتا بولا تھا ۔۔
” حانننن آہہہہ ۔۔ زی پاگل ہو کتنی بار منا کیا ہے چلایا مت کرو ہوا نہ درد ۔۔!! حنان پریشانی سے بھاگتا ہوا اسکے پاس آیا ۔۔
” مجھے ڈانٹو مت اور مجھے اس نے مارا ۔۔!! زافا کی آنکھوں میں پانی بھر گیا تھا وہ معصومیت سے کہتی اپنے پیٹ پر حنان کا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
” سچ اپنے معصوم باپ کا بدلہ لے رہا ہے دیکھا میری تو آج تک ہمت بھی نہیں ہوئی تمہیں آنکھیں دیکھانے کی اور یہ دیکھو کیسے میری معصوم بیوی کو مار رہا ہے آنے دو باہر پھر دیکھتا ہو اسے میں ۔۔!! حنان شرارت سے بولتا اسے اپنے ساتھ لگایا تھا ۔۔
” اچھا سنو ہمیں اب ڈی اے کے ساتھ رہنا ہوگا میرا کچھ کام ہے اس لئے ہم وہاں رہیں گے کچھ دن اسکے گھر پھر ہم واپس آجائیں گے اوکے ۔۔!! حنان کو ڈی اے کے پاس جانا تھا اس لئے وہ زافا کو بھی ساتھ لیکے جانا چاہتا تھا اسے اکیلا تو چھوڑ نہیں سکتا تھا اس حالت میں ۔۔
” اس کھڑوس کے ساتھ مجھے نہیں رہنا ۔۔ وہاں وہ معصوم پیاری لڑکی بھی ہے تمہیں تو وہ پسند ہے نہ ۔۔ کیا سچ میں وہ بھی ہمارے ساتھ ہوگی پھر ٹھیک ہے ۔۔” زافا نے خوش ہوتے ہوئے کہا ۔۔
