Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafrat e Ishq (Episode 15)

Nafrat e Ishq by Mahra Shah

” یہ ہے حنان اور یہ زافا اسکی بیوی حنان میرے بھائی کی طرح ہے مطلب بھائی سمجھو اور یہ انعل داريان خان میری بیوی ۔۔!! ڈی اے نے حنان زافا سے انعل کو ملاتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” تم بہت پیاری ہو اپن مم مطلب مجھے بہت اچھی لگی تم ۔۔!! زافا نے انعل کے معصوم خوبصورت چہرے پر نظر ڈالتے ہوئے کہا ۔۔

” آپ بھی بہت پیاری ہو ۔۔!! انعل نے اسکے بھرے ہوئے جسم کو دیکھتے ہوئے کہا اسے زافا بہت پیاری لگی تھی خوبصورت نین نقش والی بھرا ہوا جسم وہ بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔

” اچھا اب چلیں دیر ہو رہی ہے ہمیں ڈی مم مطلب داريان چلو ۔۔!! حنان نے جلدی میں بولتے ہوئے کہا ڈی اے وہ انعل کے سامنے نہیں بول سکتا تھا ڈی اے کی گھوری سے وہ جلدی سے باہر بھاگا ۔۔

” آ ۔آپ بیٹھیں کیا آپ کچھ کھائیں گی ۔۔۔ نہیں تم بیٹھو میرے پاس ویسے ایک بات بتاؤ تمہیں اس کھڑوس میں ایسا کیا دکھا جو شادی کرلی ۔۔!! زافا نے منہ بناتے ہوئے کہا تھا اسے داريان بہت کھڑوس لگتا تھا۔۔

” نہیں وہ کھڑوس نہیں ہے وہ بہت اچھے ہیں یہ بےبی کب آئیگا ۔۔!! انعل نے مسکراتے ہوئے کہا اسے داريان کو کھڑوس کہنا اچھا نہیں لگا تھا ۔۔

” یہ دعا کرو جلدی آجائے بہت تنگ کر رکھا ہے اسنے اور اسکے باپ نے بھی ۔۔!! زافا نے مسکراتے ہوئے منہ بنا کر کہا ۔۔

” ہاہاہا یہ تو ابھی آیا ہی نہیں آپ نے ایسا کیوں کہا ۔۔!! زافا کی بات پر انعل نے قہقہ لگایا زافا نے اسکی معصوم چہرے پر خوبصورت ہنسی دیکھتے ہوئے دل میں ماشاءالله کہا تھا وہ واقع بہت پیاری تھی ۔۔

” آپ لوگ اب یہاں رہیں گے نہ ہم روز بات کریں گے اوکے دوست ۔۔!! انعل نے مسکراتے ہوئے دوستی کے لئے ہاتھ بڑھایا اسے زافا بہت اچھی لگی تھی ۔۔

” ہمیں کہاں جانا ہے اب تمہارے ساتھ ہی رہیں گے پیاری ڈول ہاہا ۔۔!! زافا کو اسکی معصومیت پر بہت پیار آیا تھا ۔۔

” آپ بیٹھیں ہم نماز پڑھ کر آتے ہیں ایک بات بتائیں آپکو ہمیں نماز قرآن پڑھانا داريان سکھا رہے ہیں ہمیں اتنا نہیں آتا تھا اب بہت سکون ملتا ہے ہم بہت کچھ سیکھ گئے ہیں داريان کے ساتھ رہ کر اس لیے تو ہمیں اس سے عشق ہے وہ بہت اچھے ہے ۔۔

” کاش وہ بھی تم سے اتنی محبت کرے جتنی تم کرتی ہو معصوم لڑکی ۔۔!! زافا نے اسے جاتے ہوئے دیکھتے کہا تھا ۔۔

★★★★★

” دد ۔۔ داريان ہمیں بب ۔۔بابا سے بات کرنی ہے بہت دن ہو گئے ہے ہمیں ان سے ملنا ہے پلیز ۔۔!! انعل نے نم آنکھوں سے کہا تھا ۔۔

” نہیں کروا سکتا اب جاؤ یہاں سے ۔۔!! داريان سرد لہجے میں کہتا لیپ ٹاپ میں جھک کر کام کرنے لگا ۔۔

” پپ ۔۔پلیز آ ۔آپ ایسے کّک ۔۔کیوں کر رہیں ہے ۔۔!! انعل کی آنکھ سے آنسوں نکلے تھے اسکی بے رخی سے بات کرنے پر ۔۔

” کیوں کر رہا ہوں ( داريان ہنسا تھا ) سزا دے رہا ہوں تمہارے باپ کو تم کو تمہارے پورے خاندان کو جس نے ایک معصوم کا گھر برباد کردیا تھا کسی کو بھی اس پر رحم نہیں آیا تھا ایک ماں کو اسکے بچے سے الگ کرتے ہوئے بولو آااہہہ ۔۔!! داريان غصے کی شدت میں دھاڑا تھا انعل کا بازو اپنی سخت گرفت میں لیا ۔۔

” یی ۔۔یہ آ ۔آپ کّک ۔۔کیا کہہ رہے ہیں ہمارے بابا برے نہیں ہے آپ ہم سے ناراض ہیں اس لئے ایسا کہہ رہیں ہے نہ ۔۔!! انعل اسکی آنکھوں میں نفرت دیکھتے ہوئے تڑپ گئی تھی ۔۔

” سچ کہہ رہا ہوں مجھے نفرت ہے تم سے تمہارے باپ سے اسے سزا دینے کے لئے ہی تم سے شادی کی تھی یہاں تم تڑپو گی وہاں تمہارا باپ پھر اسے پتا چلے گا کسی کو سزا دینا کیسے لگتا ہے کسی کو تڑپانا کیسے لگتا ہے ۔۔!! داريان اسے قریب کرتے نفرت سے اسکی آنکھوں میں دیکھتے کہا تھا ۔۔

” نن ۔۔نہیں یہ سچ نہیں ہے آپ ایسا کیوں بول رہے ہیں داريان مت کریں ایسا ہمارے ساتھ ہم مر جاۓ گیں ہمیں ایسی سزا مت دیں جو ہم سے برداشت نہ ہو پلیز ۔۔!! انعل روتے ہوئے اسکے سینے سے لگی تڑپ کر بولی تھی داريان نے غصے سے آنکھیں بند کرتا گہرا سانس بھرا تھا ۔۔

★★★★

” فرحان کہاں ہے اسکا فون بند آرہا ہے ۔۔؟ حیات صاحب نے فرحان صاحب کے مینیجر سے پوچھا تھا وہ کل لنڈن آچکے تھے ان سے پہلے ایک دن فرحان بھی نکل چکا تھا ۔۔

” پتا نہیں سر نے کہا تھا وہ آرہے ہیں لیکن جب میں ایئر پورٹ پر گیا تو وہ نہیں تھے وہاں انکا فون بھی نہیں لگ رہا ہے سر میں پتا لگوا رہا ہوں کچھ پتا چلا تو آپکو بتاؤں گا ۔۔!! مینیجر نے کہا تھا ۔۔

” اوکے کچھ پتا چلے مجھے فورن بتانا ۔۔۔ اوکے سر ۔۔!! مینیجر بول کر چلا گیا تھا حیات صاحب بہت پریشان ہو گئے تھے وہ گھر میں بھی کسی کو بتا نہیں سکتے تھے انھیں انعل کے لئے بہت ڈر لگ رہا تھا پورے تین مہینے گزر چکے تھے انکی بات نہیں ہوئی تھی انعل سے کل بیراج والوں کی واپسی تھی وہ لنڈن آئے تھے تو انعل سے ملے بغیر نہیں جانا چاہتے تھے ۔۔

” یہ یہ کیا ہے کّک ۔۔کون ہے کیوں کر رہا ہے ایسا میرے ساتھ ۔۔!! حیات صاحب کے پاس ایک میسج آیا انہوں نے کھول کر دیکھا تو سامنے ایک تصویر تھی جس میں فرحان صاحب کرسی پر بندھے ہوئے تھے حیات صاحب بہت ڈر گئے تھے ۔۔

★★★★

” کّک کون ہو تم لوگ کک۔۔کیا چاہتے ہو چھوڑ دو مجھے پلیز جانے دو ۔۔۔!! فرحان صاحب نے سامنے دو ماسک مین سے کہا تھا ۔۔

” تمہاری موت لیکن مرنے سے پہلے تمہیں یہ تو پتا ہونا چاہیے میں ہوں کون دیکھنا چاہو گے ۔۔؟ ڈی اے نے اسکی طرف جھک کر سختی سے کہا تھا ۔۔

” کّک ۔۔کون ہو اور مجھے کیوں یہاں رکھا ہے کیا چاہتے ہوں پیسے چاہئیے نہ تمہیں مم ۔۔میں دونگا پپ ۔۔پلیز چھوڑ دو مجھے ۔۔!! فرحان صاحب خوف سے پسینے میں شرابور تھے ۔۔

” میں ہوں داريان حیدر خان جانتے تو ہوگے یا پھر بھول گئے بیس سال پہلے والے بچے کو یا پھر حیدر خان کو جو تمہارا بہت اچھا دوست تھا جسے تم نے تمہارے دوست نے مل کر مار دیا تھا ایک دوست کو جس نے تم لوگوں سے کبھی بے وفائی نہیں کی جس نے تم لوگوں کا ہر حال میں ساتھ دیا جس نے تم لوگوں کے ساتھ اپنا وعدہ ہمیشہ نبھایا پھر کیا دیا تم لوگوں نے اسے بولو ایک بزنس کی خاطر تم لوگوں نے اپنے دوست کو اسکی فیملی کو مار دیا یہ ہے تم لوگوں کی انسانیت یہ تھی دوستی ایسی دوستی ہوتی ہے بولو ۔۔؟ ڈی اے دھاڑتے ہوئے شدت سے غصے میں چلایا تھا فرحان تو سکتے میں تھا اسے یقین نہیں آرہا تھا حیدر خان کا بیٹا زندہ ہے۔۔

” میں ہوں ڈی اے گینگ کا آدمی جانتے تو ہوگے سنا تو ہوگا نہ یاد ہے ایک ڈیل کرنے آئے تھے وہ میں نے ہی کروائی تھی تمہاری اور ایک اور بات میں تو حیات شیرازی کا داماد ہوں یاد آیا تمہارے بیٹے کو بیوقوف بنا کر تم لوگوں کے سامنے آیا تھا میں تب بھی نہیں پہچانا ویسے تو بہت بڑی گیم کھیلتے ہو یہاں تو بیوقوف بن گئے ۔۔۔!! ڈی اے نے افسوس سے کہا ۔۔

” تت ۔تم کیسے بچ گئے تھے تم نے حیات کی بیٹی سے شادی کیوں کی یہ سب تم نے بدلہ لینے کے لئے کیا ہے ۔۔۔!! فرحان صاحب نے غصے میں کہا تھا ۔۔۔

” یہ میرا اور اسکا مسئلا ہے اب تم سے بہت بات ہوگی میں بہت کم بات کرتا ہوں صرف اپنا کام کرتا ہوں سو تمہیں کیسی سزا ملنی چاہیے بولو پاکستان ہوتا تو تمہیں وہی اسی جگا سزا دیتا جہاں تم نے ایک معصوم فیملی کا قتل کیا تھا اب بسسس ٹھااا ٹھااا ۔۔!! ڈی اے غصے میں بولتے ہوئے اسے بنا معافی مانگنے کا موقع دیئے بغیر اسے گولی مار دی ۔۔

” ڈی اے کی گن سے صرف دو نشانے ہوتے ہیں ایک دل دوسرا دماغ یہ دو چیزیں انسان کے لئے بہت خطرناک ہے جس سے وہ سوچتا ہے پیار کرتا ہے ۔۔!! ڈی اے مسکراتے ہوئے ایک نظر اس لاش پر ڈالتے ہوئے باہر نکل گیا حنان گہرا سانس بھرتا اپنے آدمیوں سے بولتا اسکی لاش کو ٹھکانے لگانے کا حکم دیا تھا ۔۔۔۔

” ڈی اے ایک بات کہوں ۔۔!! حنان نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” نہیں جانتا ہوں کیا بولو گے میں کچھ نہیں سننا چاہتا ۔۔!! ڈی اے نے سنجیدگی سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” تم اس معصوم کو سزا مت دو جس کی وہ حق دار نہیں ہے پلیز یار تمہیں اسکے باپ کو سزا دینی ہے تم اسے دو اسکو نہیں اس سے پیار سے بات کرو غصے کرو گے تو باغی ہو جاۓ گی وہ ۔۔!! حنان ہمیشہ کی طرح پھر سے اسے سمجھانے لگا تھا جیسے وہ اسے سن کر ان سنا کر رہا تھا حنان نے افسوس سے دیکھا اسے ۔۔

★★★★

” نماز پڑھ لی کھانا کھایا ۔۔؟ داريان نے روم میں آتے اسے بیڈ پر بیٹھا دیکھتے ہوئے پوچھا تھا نماز پر اسنے اثبات میں سر ہلا یا کھانے پر اسنے کوئی جواب نہیں دیا تھا وہ جان گیا تھا وہ صبح اسے ڈانٹنے کی وجہ سے روئی ہوگی پورا دن ۔۔

” اوکے جو کرنا ہے کرو باہر جانا ہے جاؤ اپنے بابا کے پاس جانا ہے نہ تو جاؤ واپس مت آنا میرے پاس کھانا نہیں کھانا مت کھاؤ بھوکی مرنا ہے مرو بلکے میں جا رہا ہوں مجھے سے شکایت ہے نہ اب نہیں آؤنگا ۔۔ داريان غصے سے روم سے نکل گیا ۔۔

انعل اسکا جانے کا سن کر ہی تڑپ گئی حواس بحال کرتے ہوئے اسکے پیچھے بھاگی وہ تو صبح سے اسکی بات سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی داريان کیوں اسکے باپ سے نفرت کرتا ہے وہ کیوں کر رہا ہے اسکے ساتھ ایسا

داريان سیڑھیوں تک پہنچا تھا کہ پیچھے سے انعل نے اسکے بازؤں کو اپنی مضبوط گرفت میں لیا اور روتی ہوئی نفی کرنے لگی انعل اپنے ہوش میں نہیں تھی اسکے بال بکھرے ہوئے تھے دوپٹہ بھاگتے ہوئے وہیں گر گیا تھا سرخ آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے ۔۔

“نن ۔۔نہیں نہیں ہم آ۔۔اپکو نہیں جانے دینگے ہم نہیں رہ سکتے آپکے بغیر ہم ہم آ۔۔اپکی بات مانتے ہیں نہ اور اب ضد نہیں کریں گے آپکی ہر بات مان لے گیں پپ۔۔پر آپ ہمیں چھوڑ کر نہیں جاۓ گے نہ پلیز ۔۔ انعل نے ہچکیوں سے روتے ہوئے کہا ۔۔

حنان زافا پریشانی سے باہر نکل آئے تھے انہیں انعل کی حالت دیکھتے ہوئے بہت افسوس ہو رہا تھا وہ تو فل پاگل تھی اس پتھر دل شخص کے عشق میں دیوانی تھی زافا کو غصہ آیا ڈی اے پر وہ آگے بڑھی ہی تھی کے حنان نے اسے روک دیا تھا ۔۔

داريان غصے سے اپنا بازو چھوڑوہ کر اپنے آفس میں چلا گیا وہ جانتا تھا وہ جاۓ گا تو وہ بیوقوف لڑکی اسکے پیچھے ہی بھاگ آئے گی ۔۔ انعل روتی ہوئی وہی زمین پر بیٹھ گئی حنان ایک دکھ بھری نظر ڈالتا ہوا اندر چلا گیا زافا اسکے قریب آئی اسے بازو سے پکڑ کر زمین سے اٹھا کر روم میں لے گئی بیڈ پر بیٹھا کر اسکے لئے پانی لائی ۔۔

” کیوں تڑپا رہی ہو خود کو اس پتھر دل کے پیچھے روک لو خود کو انعل زندگی بہت لمبی ہے اسے برباد مت کرو ۔۔!؟ زافا نے افسوس کرتے ہوئے اسے سمجھانا چاہا ۔۔

” نہیں روک سکتے ہم خود کو ہم بہت آگے نکل چکے ہے اگر رک گئے تو شاید مر جاۓ گیں ہم عشق کرتے ہے اس سے اور عشق کی منزل موت ہوتی ہے اور ہم تو اسکے عشق میں پہلے ہی مر گئے ہیں ہمارے پاس اب کچھ نہیں رہا ۔۔!! انعل واش روم کا دروازہ بند کرتے ہوئے زمیں پر بیٹھ کر منہ پر ہاتھ رکھ کر شدت سے رونے لگی تھی اسے داريان کی باتیں اسکا نفرت بھرا لہجہ مار رہا تھا آج اسکو داريان حیدر خان کے ہر الفاظ مار رہے تھے اندر ہی اندر وہ شدت سے روتے ہوئے وہی زمیں پر بیٹھ گئی ۔۔

★★★★

” انعل کہاں ہے ۔۔؟ داريان گھر میں آتے انعل کو نہ پایا تو سامنے بیٹھی زافا سے پوچھا ۔۔

” اسکی طبیعت خراب ہے شاید اس لئے روم میں چلی گئی ہے ایک بات کہوں آپ اچھا نہیں کر رہے اسکے ساتھ اسکی معصومیت پر ترس نہیں آتا ایک بار بھی اس سے محبت نہیں ہوئی میں مان نہیں سکتی ۔۔!! زافا نے مسکراتے ہوئے اس سے کہا تھا وہ ایک نظر اسے گھورتا ہوا اوپر چلا گیا روم میں ۔۔۔

” اس لڑکی کو بھاگ جانا چاہیے یہاں سے پتا نہیں کیوں خود کو برباد کر رہی ہے اسکے پیچھے ۔۔!! زافا منہ بناتے ہوئے ٹی وی دیکھنے لگی تھی ۔۔

” کیا ہوا ہے تمہیں ۔۔!! داريان روم میں آتا اسکے سامنے صوفے پر بیٹھا دیکھتا اسکے پاس گیا انعل اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے واپس نظر جھکا گئی داريان سمجھ گیا وہ کل سے رو رہی ہے ۔۔

” کیا چاہتی ہو تم کس بات کا سوگ منا رہی ہو کیا میں مر گیا ہوں ۔۔۔ اللّه نہ کریں آ۔آپ ایسا کیوں کہتے ہیں کیوں ہمیں تکلیف دیتے ہیں ہے کیوں ۔۔!! انعل چیخی تھی آج وہ اپنے دل کا غبار نکالنا چاہتی تھی آج وہ اسے ہر بات پوچھ لینا چاہتی تھی آنسو تیزی سے اسکی آنکھوں سے بہہ رہے تھے وہ کھلے شرٹ ٹائوزر میں بھکرے ہوئے بال کل سے رونے کی وجہ سے سرخ سوجی ہوئی آنکھیں سرخ ناک اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے دیکھ رہی تھی آنسو تھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے وہ بس اسے دیکھتا رہا اسکا دل دھڑک رہا تھا اسے اس حالت میں دیکھ کر ۔۔۔

” تم جاننا چاہتی ہو میں یہ سب کیوں کر رہا ہوں تو سنوں میں یہ سب تمہارے باپ کو سزا دینے کے لئے کر رہا ہوں اسے تڑپانا چاہتا ہوں ۔۔۔!! داريان نے غصے میں آگے بڑھتا اسکو کھینچ کر قریب کرتے ہوئے کہا تھا وہ لب دبا کر اسے پانی بھری آنکھوں سے دیکھ رہی تھی اسکا دل دھک دھک کر رہا تھا وہ کچھ ایسا نہ کہہ دے اسے وہ برداشت نہ کر پاۓ ۔۔

” تمہارا باپ ایک قاتل ہے اس نے میری آنی کو میری پوری فیملی کو مارا ہے انہوں نے خون کیا ہے بے گناہ معصوم لوگوں کا اور جانتی ہوں انہیں ایک معصوم بچا بھی تھا وہ میں تھا جس کی قسمت میں موت نہیں لکھی تھی وہ بچ گیا تمہارے باپ نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی کسی کو بھی مارنے کی اسنے میری آنی میری جان سے پیاری پھوپھو تمہاری ماں کو تڑپانے کی جانتی ہوں صرف ایک بزنس کی وجہ سے انہوں نے تمہیں چھین لیا میری آنی سے انکو بلیک میل کیا انھیں چھوڑ دیا اپنے بھائی کے در پر ایک سال کی معصوم بچی کو اسکی ماں سے دور کردیا جب کچھ اور نہیں کر سکتا تھا تو انکا اکسیڈنٹ کروا کر جان سے مروا دیا اس لئے میں تمہارے باپ سے نفرت کرتا ہوں اگر تمہیں مجھے سے تھوڑی بھی محبت ہے اپنی ماں کے لئے عزت ہے تو تم کبھی انکے پاس جانے کا نہیں کہو گی سمجھی ورنہ میں تمہیں بھی جان سے مار دونگا ۔۔۔!! داريان کی غصے کی شدت سے آنکھیں سرخ ہوگئی تھی اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ کچھ کر دے ۔۔

” اا۔۔ ایسا۔۔نن ۔۔نہیں۔۔ہہ ۔ہو سس ۔۔!! انعل نفی کرتے ہوئے اٹک کر بولتے ہوئے اسکے باہوں میں جھول گئی اسکی کل سے طبیعت خراب ہو رہی تھی سر چکرا رہا تھا ۔۔

” انو اٹھو انو آنکھیں کھولو انعل شٹ ۔۔؟ داريان اسے اٹھا کر بیڈ پر لیٹا کر اسے ہوش میں لانے لگا لیکن آج تو شاید وہ ہوش میں آنا نہیں چاہتی تھی وہ جلدی سے اسے اٹھا کر باہر بھاگا ۔۔۔

” ڈی اے انعل کو کیا ہوا ڈی آہ آہہہ حاننن مم ۔۔مجھے درد ہو رہا ہے ااہہہ زافا کیا ہوا ہمیں ہمیں ہسپتال چلنا چاہیئے آؤ چلوں آرام سے اہہہ حانن ۔۔!! حنان ڈی اے کی بازوں میں انعل کو دیکھتا پریشانی سے پوچھا تھا کے پیچھے زافا کی طبیعت خراب ہونے لگی تھی وہ اسے لیکے جلدی سے گیا ۔۔۔

★★★★

” کانگریچولیشن شی از پریگنٹ لیکن انھیں کسی بھی سٹریس سے دور رکھیں وہ بہت کمزور ہے اپنی مسز کا بہت خیال رکھیں ۔۔!! ڈاکٹر اپنی ھدایت دیتا آگے بڑھ گیا داريان اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہی بینچ پر بیٹھ گیا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے اب وہ اپنے بچے کو نہیں کھو سکتا تھا اور انعل کی حالت کچھ سوچتے ہوئے اسنے کسی کو فون لگایا تھا ۔۔۔

” ڈی اے یار میں باپ بن گیا ۔۔۔!! حنان بھاگتے ہوئے آکر خوشی میں گلے لگا کر کہا تھا وہ بھی اسی ہسپتال میں تھے ۔۔

” وہ تو مجھے پہلے سے ہی پتا ہے انعل بھی ایسپیکٹ کر رہی ہے ۔۔!! ڈی اے نے بھی اسے بتایا ۔۔

” كياااا سچ میں تو بھی باپ بن گیا واہ یار بہت مبارک ہو ۔۔۔!! حنان نے گلے لگاتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا تھا ڈی اے نے بھی اسے مبارک باد دی تھی کچھ باتوں کے بعد وہ زافا کے پاس چلا گیا اور ڈی اے انعل کے پاس گیا تھا ۔۔۔

★★★★

” آپ بہت بےوفا ہیں ۔۔!! اسنے اداس مسکراہٹ سے کہا ۔۔

” میں نے وفا کا وعدہ کب کیا ہے تمہارے ساتھ ۔۔؟ اسنے بھی سکون سے جواب دیا ۔۔۔

” یہی تو بےوفائی کی ہے ایک بھی وفا کا وعدہ نہیں کیا ۔۔!! اسکی آنکھوں میں نمی آئی تھی اسکی بات پر ۔۔

” اب کیسے فیل ہو رہا ہے ۔۔؟ داريان نے اسکی سوجی ہوئی آنکھوں کو دیکھتے کہا تھا وہ لوگ ابھی تک ہسپتال میں تھے ۔۔

” بہت پین فیل ہو رہا ہے ۔۔!! انعل نے آنکھیں موڑ کر کہا تھا اسکی بند آنکھوں سے آنسوں نکلے تھے ۔۔

” اب نہیں ہوگا حنان کا بےبی دیکھنا ہے ۔۔؟ داريان اسکے کو دیکھتا جھک کر ماتھے پر بوسہ دیتا نرمی سے بولا انعل آنکھیں کھولے حیرت سے اسے دیکھا پھر ہاں میں سر ہلا متے ہوئے کہا ۔۔۔

” کیا سچ میں انکا بےبی آگیا ۔۔؟ انعل نے مسکراتے ہوئے خوشی سے پوچھا تھا داريان اسے لیکے حنان والوں کے روم کی طرف بڑھ گیا تھا ۔۔۔

” میری پیاری ڈول دیکھو بلکل مجھے پر گئی ہے اسے میں بہت پیاری معصوم شہزادی بناؤں گا دیکھنا ۔۔!! حنان اپنی بیٹی کو گود میں لیتا اسے پیار کرتے ہوئے کہا تھا وہ گلابی سرخ سفید پیاری بچی اس وقت بلکل حنان کے جیسی دیکھ رہی تھی ۔۔۔

” حاننن وہ میری جیسی ہے اسے اپن اپنی جیسی بناۓ گی بہادر مضبوط معصوم نہیں کوئی بھی آکر اسکی معصومیت کا فائدہ اٹھائے ۔۔!! زافا کی بات میں طنز تھا جو اسنے آخری بات ڈی اے کو اندر آتے دیکھ کر کہی تھی اس بات پر انعل نے بھی زافا کی طرف دیکھا تھا لیکن اسنے جلدی سے نظریں چرا لی ۔۔

” آپ دونوں کو بہت بہت مبارک ہو کیا ہم اسے اٹھائیں ۔۔!! انعل دل سے انھیں مبارک باد دیتی حنان کی گود میں اس گلابی ڈول کو دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” ہاں کیوں نہیں یہ لو ۔۔!! حنان نے مسکراتے ہوئے اسکے گود میں دی تھی داريان ایک نظر اس معصوم بچی پر ڈالتا انعل کو بولتا باہر نکل گیا تھا حنان بھی اسکے پیچھے گیا انعل آگے بڑھتے ہوئےزافا کے پاس بیٹھ گئی تھی ۔۔۔

” تمہیں بھی مبارک ہو ۔۔۔ نام کا سوچا ہے آپ لوگوں نے ۔۔۔!! زافا اسے مبارک باد دی حنان نے اسے بتایا تھا انعل اس بچی کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے کھیل رہی تھی اسکے چہرے پر بہت خوبصورت مسکراہٹ تھی ۔۔

” ایک بات کہوں اسے بہت مضبوط ہمت والی بنانا اسے کبھی کمزور نہیں پڑنے دینا اسے ہر تکلیف دکھ سہنا سیکھانا اسے اتنا مضبوط بناؤ یہ کبھی محبت میں کمزور نہ پڑے اسے لاڈ دینا لیکن ایک حد تک لڑکیوں کو اتنا بھی لاڈ نہیں دینا چاہیے جو آگے اسکا لاڈ اسکی معصومیت ہی ختم کردے پتا ہے لاڈلوں کو زندگی کا تھپڑ بہت زور سے لگتا ہے ۔۔۔ پلیز رک جاؤ ۔۔!! انعل اس بچی کو دیکھتے ہوئے بولے جا رہی تھی اسے اب پتا چل رہا تھا زندگی کیسی ہوتی ہے دنیا کیسی ہے اسکے لاڈ میں پلنے کی وجہ سے اسنے کچھ نہیں دیکھا کچھ نہیں سہا اب وہ ہر تکلیف جانتی تھی جیسے اسے پتا چل رہا تھا وہ اپنی عمر سے بڑی لگنے لگی تھی اپنی باتوں میں اسکا ایک الگ ہی روم ہوتا تھا وہ اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے باہر نکل آئی داريان سامنے گاڑی میں بیٹھا اسکا انتظار کر رہا تھا وہ خاموشی سے آکر بیٹھ گئی داريان بھی کچھ نہیں بولا تھا دونوں کے بیچ خاموشی تھی بہت گہری ۔۔

★★★★

” اس گھر کے اندر جاؤ میں کل آؤنگا تمہیں لینے ابھی جاؤ ۔۔!! داريان نے ایک گھر کے سامنے گاڑی روکتے ہوئے کہا تھا اسے جو ایک نظر پاس والے گھر پر ڈالتے داريان کی طرف حیرت خوف سے دیکھا وہ کیا کرنے والا تھا ۔۔

” ہہ ۔۔ ہم ۔۔کّک ۔۔کیوں جائے آ ۔آپ ہمیں یہاں کیوں چھوڑ کے جا رہیں ہے ۔۔؟ انعل کا دل تیز دھڑک رہا تھا داريان نے سنجیدگی سے اسے دیکھا تھا وہ اب رونے کو تیار تھی آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا اسکے داريان کو وہ اس وقت بہت ہی پیاری لگی تھی ۔۔

” کیا تم مجھے چھوڑ کے نہیں جانا چاہتی ۔۔۔ نن ۔۔نہیں آ ۔آپ کیوں ہمیں چھوڑ رہیں ہے ہم ہم سوری بولتے ہیں ہم کبھی زور سے نہیں چلائیں گے ۔۔!! داريان کے پوچھنے پر وہ تیزی سے نفی میں سر ہلا کر بولی آنسو پھر سے بہنے لگے تھے اسکی آنکھوں سے داريان اسکی طرف جھکا انعل نے آنکھیں بند کرلی تھی داريان نرمی سے اسکے آنسو صاف کرتا اسکا ماتھا چومتا پیچھے ہو گیا انعل نے سکون سا سانس بھرا تھا وہ ڈر گئی تھی داريان کے پھر سے غصہ نہ کر لے ۔۔۔

” مجھ پر یقین ہے ۔۔۔ ہاں لیکن ہم نہیں جائیں گے آپ ہمیں چھوڑ کے چلے جائیں گے ۔۔۔ انعللل بس بہت ہوا کیوں غصہ دلاتی ہو ۔۔!! داريان آرام سے اسے سمجھانے لگا تھا کے انعل پھر سے ضد میں رو پڑی تھی داريان نے سختی غصے میں کہا تھا انعل اسے دیکھتے غصے میں گاڑی سے نکل کر آگے بڑھنے لگی تھی وہ اس گھر میں نہیں گئی داريان ضبط سے آنکھیں بند کرتا جلدی سے گاڑی سے نکلتا اسکے پیچھے بھاگ کر اسکا بازو پکڑتا اپنی طرف کھینچا اسکے پکڑ سے انعل سیدھی اسکے سینے سے لگی تھی لنڈن کے شہر میں اس وقت بھی بہت خوبصورت سی لائٹیں چلتی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھی بہت خوبصورت منظر عالم تھا اس وقت دونوں اس گلی میں کھڑے ایک دوسرے کے قریب دھڑکتے ہوئے دلوں کے ساتھ ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بہت پیارے حسین دلکش لگ رہے تھے ۔۔

” کہاں جا رہی تھی ۔۔۔آپ سے بہت دور آپنے کہا نہ جاؤ نہیں رہنا آپ کو ہمارے ساتھ اس لئے ہمیں دور بھیجنا چاہتے تھے نہ ۔۔!! داريان اسکے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے پیار نرمی سے پوچھا انعل روتے ہوئے اسکے سینے سے لگ گئی پیچھے سے اسکی شرٹ کو مضبوطی سے پکڑ لیا تھا ہچکیوں سے روتے ہوئے گلہ کرنے لگی تھی ۔۔۔

” آ ۔آپ بہت برے ہیں بہت برے ہمیں چھوڑ نہ چاہتے ہیں نہ ہم کہی نہیں جاۓ گے ہمیں آپکے پاس رہنا ہے ہمیں آپکے ساتھ رہنا اچھا لگتا ہیں ہم آپ سے عشق کرتے ہیں ہم نہیں رہ سکتے آپکے بغیر ہمیں دور مت کریں داريان پلیز ہمیں مت چھوڑیں ۔۔!! انعل اسکے سینے سے لگی روتے ہوئے بولے جا رہی تھی داريان نرمی سے اسکے بال سہلاتا ہوا اسکی باتیں سنتا ہلکا سا مسکرایا تھا ۔۔۔

” ششش بس بہت رو لیا اب چپ میں تمہیں یہاں کسی سے ملوانے لایا تھا اور تمہاری یہ ٹنکی کبھی خالی نہیں ہوتی کیا اب اگر روئی تو تھپڑ مارون گا چپ ۔۔ داريان اسے خود سے الگ کرتا تھوڑا سختی اور سنجیدگی سے بولا تھا انعل نے سوں سوں کرتے ہوئے حیرت سے اسے دیکھا ۔۔

” کک ۔۔کس سے ملنا ہے ۔۔۔ چلو آؤ ۔۔داريان اسکا ہاتھ پکڑتا ہوا آگے بڑھ گیا اس گھر میں ۔۔

” بب ۔۔بابا ۔۔ انعل میرا بچا ۔۔!! انعل داريان کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے اس گھر کے اندر گئی سامنے ہی حیات صاحب کو دیکھتے ہوئے خوشی سے انکی طرف بھاگتے ہوئے سینے سے لگی حیات صاحب بھی حیرت سے انعل کو دیکھتے ہوئے پیار سے اسکا ماتھا چوم

تے ہوئے اپنی بیٹی کو سہی سلامت دیکھتے ہوئے خوشی سے آنکھوں میں پانی آگیا تھا انکے داريان دور سے انکا پیار محبت والا سین دیکھتا بیزار ہوا تھا ۔۔

” انعل آپ ٹھیک ہے نہ آپ کو کچھ ہوا تو نہیں ہے نہ میرا بچہ ٹھیک ہے ۔۔؟ حیات صاحب نے نم آواز میں پوچھا تھا ۔۔

” بب ۔۔بابا آپ ہم سے ملنے آئے ہے نہ ۔۔؟ انعل نے خوشی سے مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” تم تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی کو تکلیف دینے کی ہو کون تم سچ بتاؤ ۔۔؟ حیات صاحب کی نظر داريان پر پڑتے ہی وہ اسکے طرف بڑھتے ہوئے اسکا کالر پکڑتے ہوئے غصے میں کہا تھا داريان خاموشی سے کھڑا تھا جیسے پہلے سے ہی تیار تھا اسنے اپنے ہاتھوں کی مٹھی بھینچ لی ۔۔

” بب ۔۔بابا یہ آپ کیا کر رہیں ہے چھوڑے انھیں ۔۔؟ انعل نے گھبراتے ہوئے اپنے باپ کو پیچھے کیا تھا داريان ضبط سے سرخ آنکھوں سے حیات صاحب کو گھورتا رہا ۔۔

” انعل میرا بچہ ہم ہم آپ کو لینے آئے ہیں آپ ہمارے ساتھ چلیں یہ اچھا انسان نہیں ہے اس نے دھوکہ دیا ہمیں میں اسے زندہ نہیں چھوڑونگا ۔۔!! حیات صاحب بے حد غصے میں پھر سے داريان کی طرف بڑھے تھے کے انعل نے انکا بازو پکڑ کر روک دیا تھا ۔۔۔

” بسس بہت ہوا آپکا دھوکہ میں نے دیا ہے ہاہاہا یہ لفظ تو آپ پر بہت اچھا سوٹ کرتا ہے مسٹر حیات شیرازی بہت اچھے سے دھوکے کا مطلب آتا ہے آپ کو تو ۔۔!! داريان غصے میں غرایا تھا پھر قہقہ لگاتے ہوئے بے حد غصے میں آیا تھا اسکی بات پر حیات صاحب خاموش ہو گئے تھے انہوں نے انعل کی طرف دیکھا جو ڈر خوف سے انھیں ہی دیکھ رہی تھی اسکا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔۔

” کیا ہوا خاموش کیوں ہو گئے بتاۓ نہ دھوکہ کیسے دیتے ہیں آپ سے بہتر کون جانتا ہوگا یہ بات ۔۔؟ داريان نے سنجیدگی سے کہا تھا اسکو بہت غصہ آرہا تھا ان پر ۔۔

” انعل بیٹا آ ۔آپ اندر جائیں اور تم ہو کون سچ سچ بتاؤ کیوں کر رہے ہو میری بیٹی کے ساتھ ایسا ۔۔۔!! حیات صاحب انعل سے نظریں چرا تے ہوئے داريان سے پوچھا تھا ۔۔

” بب ۔۔بابا آ ۔آپ لوگ ایسے کیوں بات کر رہیں ہے ۔۔؟ انعل دھڑکتے دل سے پوچھا تھا ان دونوں کو دیکھتے ہوئے وہ انکے بیچ تھوڑے فاصلے پر تھی وہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے تھے ایک کی آنکھ میں غصہ تھا دوسرے کی نفرت ۔۔

” آپ بھول گئے آپنے بھی کسی کی بیٹی کے ساتھ کچھ ایسا یا شاید اس سے بھی بہت برا کیا تھا بھول گئے ایک چیپ سی ڈیل کے لئے ایک بچے کو اسکی ماں سے دور کیا تھا ایک بیوی کو اسکے شوہر سے دور کیا تھا ایک بہن کو اسکے بھائی سے دور کیا تھا بھول گئے اتنا سب کچھ بھول گئے کیسے ایک معصوم فیملی کا قتل کیا تھا تھوڑا سا صرف تھوڑا سا بھی رحم نہیں آیا اپنے آپ پر اپنی دوستی پر اپنی محبت پر کیسے انسان تھے آپ کوئی بھی انسانیت نہیں بچی تھی آپ میں یہ سب کرتے ہوئے خدا کا خوف نہیں آیا دل میں اس فیملی کو ایک ہی وار میں ختم کردیا تھا میں ہوں وہ بد نصیب جو اس دن اتنے بڑے حادثے سے بچ گیا تھا میں ہوں داريان حیدر خان کا بیٹا یاد تو ہوگا آپکو داريان آنی کا داريان جسے چھوڑتے ہوئے شرم بھی نہیں آئی آپکو کیسے انکو اپنی بچی سے دور کیا تھا آپ نے اب میں آپ کو بتاؤنگا یہ سب کیسے محسوس ہوتا ہے جب اپنے ہی دل جگر پر کوئی وار کرتا ہے کیسے میرا باپ تڑپا تھا دن رات اپنی بہن کو روتا ہوا دیکھتے اب تمہیں بتاؤنگا میں تڑپ کیا ہوتی ہے جب اپنا کوئی تکلیف میں ہو کیسا محسوس ہوتا ہے ۔۔!! داريان غصے کی شدت میں دھاڑ رہا تھا اسکی آنکھیں سرخ ہوگئی تھی ان میں پانی آگیا تھا اپنے گھر والوں کی یاد میں انکی باتیں کرتے ہوئے حیات صاحب سکتے کی کیفیت میں اسے دیکھے جا رہے تھے انعل بت بن کر کھڑی داريان کی طرف شاک میں دیکھ رہی تھی ۔۔۔

” تت ۔۔تم ز۔زندہ ہو ۔۔۔ ہاں ہوں میں زندہ مار نے میں تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی آپنے ۔۔۔!! حیات صاحب نےصدمہ سے نکلتے ہوئے پوچھا تھا داريان نے غصے میں انھیں جواب دیا تھا ۔۔

” د ۔داريان بیٹا دیکھو میری بات سنو وہ سب میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا مم ۔۔مجھے تو یہ بھی نہیں پتا تھا اس دن آپ سب لوگ ساتھ تھے کیا ہوا تھا میں ٹھیک سے نہیں جانتا تھا وہ سب فرحان کا پلین تھا مم ۔۔مجھے معاف کردو میری غلطی کی سزا میری بیٹی کو مت دو داريان اسے یہ سب مت دکھاؤ مم ۔۔۔ بسسس بہت اچھا ناٹک کرتے ہیں آپ یہ سب کرتے ہوئے تو اس وقت خوف نہیں آیا آج کیوں آرہا تھا اپنی بیٹی بہت عزیز ہے نہ آپکا ویسے ہی آنی ہمیں میرے بابا کو بہت عزیز تھی اس پر رحم کیوں نہیں آیا تھا بولو کیوں نہیں آیا آپ کو ۔۔!! حیات صاحب روتے ہوئے معافی مانگنے لگے تھے داريان غصے کی شدت میں پھر سے دھاڑا تھا انعل کا سکتا ٹوٹا وہ تیزی سے حیات صاحب کے سامنے آئی اسے یقین نہیں آرہا تھا اسکے باپ نے کیا کیا ہے اسکی ماں سے اسکو الگ کیا اور یہ سب وہ سوچتے ہوئے کانپ گئی تھی وہ اپنے بابا سے نفرت نہیں کر سکتی تھی کیوں کے وہ اسکی زندگی تھے اسکا آئیڈیل تھے ۔۔

” بب ۔۔بابا یہ یہ جھوٹ ہے نہ بب ۔۔بولے نہ یہ جھوٹ ہے سب ۔۔!! انعل نے روتے ہوئے ایک امید سے اپنے باپ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا حیات صاحب اسکی آنکھوں میں دیکھتے نظریں جھکا گئے دونوں کی آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے انعل کی طبیعت ویسے ہی صبح سے خراب تھی اسکا سر چکرا رہا تھا ۔۔

” انعلللل میرا جان میرا بچہ کیا ہوا داريان داريان دیکھو نہ اسے کیا ہوا ۔۔۔ آپنے میری آنی کو دیکھا تھا اسکے آنسوںدیکھے تھے اس پر رحم کھایا تھا بولے بولے نہ چپ کیوں ہے ۔۔!! داريان غصے میں دھاڑا تھا حیات صاحب روتے ہوئے انعل کو دیکھا جو نیچے زمین پر انکی گود میں بے ہوش تھی ۔۔

” تمہیں جو سزا دینی ہے مجھے دے دو اسے مت دو یہ سہہ نہیں پاۓ ئی میری بیٹی بہت معصوم ہے داريان اس پر رحم کھاؤ اسے یہ سزا مت دو وہ بے قصور ہے ۔۔۔!! حیات صاحب روتے ہوئے منت سماجت کرنے لگے تھے ۔۔

” وہ بہت معصوم تھی اسکی بھی کوئی غلطی نہیں تھی اسے کس بات کی سزا دی تھی بولو آپ کی بیٹی کے ساتھ تو پھر بھی میں نے کچھ برا نہیں کیا ہے کل آؤنگا اسے لینے اگر چاہتے ہیں یہ میرے ساتھ خوش رہے تو دوبارہ اپنی بیٹی سے ملنے کا سوچنا بھی مت یہ بات اپنی معصوم بیٹی کو سمجھا دینا اچھے سے ۔۔!! داريان سرخ آنکھوں میں نفرت لیے غصے سے بولتا لمبے لمبے دگ بڑھتا ہوا وہاں سے تیزی سے نکل گیا تھا وہ انعل کو نہیں دیکھ پا رہا تھا اس حال میں خود بار بار ضبط کرتا وہاں سے چلا گیا تھا پیچھے حیات صاحب ماضی میں کی گئی غلطی پر آج بے حد پچھتا رہے تھے ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *