Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafrat e Ishq (Episode 09)

Nafrat e Ishq by Mahra Shah

” کیا بیراج سر سمجھ جائیں گے میں نے کچھ نہیں کیا کیا مجھے انہیں ثبوت دینے چاہئیے افف کیا کروں کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے ۔۔” دافیہ بیڈ پر لیٹی چھت کو گھورتے ہوئے خود سے کہا ۔۔

” دافیہ بی بی بڑے صاحب کی طبیعت خراب ہوگئی ہے جلدی چلیں وہ بہت لمبے لمبے سانس لے رہے ہیں ۔۔” ملازم نے روم میں آتے ہی پریشانی سے کہا ۔۔

” کک۔۔كياااا۔۔ دد ۔۔دادا کو کیا ہوا۔۔تت ۔۔تم جاؤ اینبولنس کو کال کرو میں دادا کے پاس جاتی ہوں ۔۔ دافیہ پریشانی سے بھاگتی ہوئی دادا کے روم میں گئی ۔۔

دادو دادو پلیز آنکھیں کھولے آپکو کیا ہوا دادا ۔۔ دافیہ روتے ہوئے دادا کو کہہ رہی تھی دادا کی طبیت خراب ہونے کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو گئے تھے ۔۔

★★★★

” کیا آپکو پتا ہے ہمارا گھر کہاں ہے ۔۔” انعل نے پریشانی میں کہا ۔۔

” مجھے کیسے پتا ہوگا آپکو ہی یاد نہیں اڈریس پھر ہم تو کبھی آئے نہیں آپکے گھر ۔۔” وہ شخص بھی اسی کی طرح بولا ۔۔

” ہاں آپکو بھی نہیں پتا اور ہمیں بھی نہیں یاد اب ہم گھر کیسے جائیں گے ہم آپکو کیا بلائے آپکا نام کیا تھا ۔۔” انعل نے بولتے ہوئے پھر سے اسے دیکھا۔۔

” زید جعفری ۔۔” زید نے مسکراتے ہوئے کہا اسے انعل اور اسکی معصوم باتیں بہت اچھی لگ رہی تھی وہ تو اسے پہلے ہی پسند کر چکا تھا پارک میں ۔۔

” آپکے پاس اتنے گارڈ ہے آپ اتنے امیر ہے نہ پلیز پتا لگوائے نہ ہمارا گھر کہاں ہے ہمیں بابا کے پاس جانا ہے “۔۔ انعل پھر سے رونے جیسی ہوگئی تھی وہ اسکے آگے پیچھے گاڑی اسکے گارڈ دیکھتے ہوئے کہا شاید وہ لوگ پتا لگوائے ۔۔

” اوکے پھر جب تک میرے گارڈ آپکا گھر ڈھونڈیں تب تک ہم کہیں بیٹھ کر چائے پیتے ہیں “۔۔ زید نے اپنے دل کی بات رکھی وہ اسکے ساتھ تھوڑا ٹائم گزارنا چاہتا تھا وہ چاہتا تو اسے اپنے ساتھ لے جاتا پر وہ اتنا بیوقوف نہیں تھا وہ جانتا تھا اسے کیسے جیتنا ہے ۔۔

” ہاں یہ ٹھیک ہے ہمیں بھوک بھی لگی ہے آپ ہمیں کھانا بھی کھلا دے پھر چائے پیئے گیں “۔۔ انعل کو اپنی بھوک کا احساس ہوا تو اس نے کھانے کا کہا زید اسے لیکے ایک ریسٹورینٹ پہنچا اسنے ایک کونے والی سکون سی جگہ بک کروائی وہ آرڈر دیتا وہی بات کر انعل کو دیکھ رہا تھا جو کب سے وہاں کے ماحول کو دیکھ رہی تھی خوبصورت سا ماحول ہلکے سے سونگ چل رہے تھے انعل انھیں دیکھ رہی تھی ۔۔

” آپ کو پسند آئی یہ جگہ “۔۔ زید نے اسکو خوش دیکھتے ہوئے کہا ۔۔

” ہاں بہت یہاں کتنا سکون ہے اور یہ میوزک بہت خوبصورت لگ رہا ہے سب آپ یہاں آتے ہیں “۔۔ انعل نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ۔۔

” ہاں بہت یہ میری پسندیدہ جگہ ہے یہاں پر بہت اچھی خوبصورت یادیں وابستہ ہیں “۔۔ زید نے مسکراتے ہوئے کہا اسکی بہت اچھی یادیں تھی اس جگہ سے ۔۔

” اچھا کس کے ساتھ کیا وہ آپکی بیوی ہے “۔۔ انعل کو لگا شاید اسکی بیوی کے ساتھ وہ یہاں آتا ہو ۔۔

” ہاہاہا نہیں ایک دوست تھا میری تو ابھی تک شادی نہیں ہوئی “۔۔ زید اسکی بات پر ہنس پڑا ۔۔

” اچھا پھر کیا ہوا وہ کہاں گیا ۔۔” انعل کو افسوس ہوا اسے لگا تھا کا مطلب شاید مر گیا ہو ۔۔

کچھ نہیں بس اب بہت دور ہو گیا ہے دشمن بن گیا ہے خیر چھوڑو آپ بتاؤ اپنے بارے میں ۔۔ زید اپنے دوست کی بات نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔

ہم اپنے بابا کے ساتھ رہتے ہیں بی جان بیراج بھائی بڑے بابا ہم ساتھ رہتے ہیں سب ہم سے بہت پیار کرتے ہیں کیوں کے ہم بہت پیارے ہیں ہاہاہا ۔۔ انعل اپنے بارے میں بتاتے ہوئے ہنسی ۔۔

” صحیح کہا آپ بہت خوبصورت دلکش ہیں ۔۔” زید اسکی معصومیت خوبصورتی میں ہی کھو گیا اسکے دل کی بیٹ مس ہوئی اسکے بولنے اور پیارے سے منہ بناتے ہوئے کہنے کے انداز میں ۔۔

★★★★

” ڈاکٹر کیا ہوا میرے دادا کو ووہ ۔۔وہ ٹھیک تو ہو جائے گے نہ پلیز بتاۓ ۔۔” دافیہ نے آنسوں صاف کرتے ہوئے ڈاکٹر سے پوچھا جو آپریشن روم میں جانے والے تھے ۔۔

” آپ دعا کریں اور میں نے آپ سے پہلے بھی کہا تھا انکی آپریشن جلدی کروادے جتنی دیر ہوگی اتنا خطرہ ہے آپ اللّه سے دعا کریں إن شاءاللّٰه بہتر ہوگا سب ۔۔” ڈاکٹر نے اپنی بات سمجھائی ۔۔

” میری غلطی ہے مجھے سب جلدی کرنا چاہئے تھا آ۔آپ پلیز انھیں بچالیں ۔۔” دافیہ کو لگ رہا تھا یہ سب اسکی وجہ سے ہوا ہے وہ پہلے ہی اتنے پیسوں کا انتظام کر لیتی تو آج وہ ٹھیک ہوتے ۔۔

” آپ یہاں سائن کریں اور یہ فیس جما کرلے پھر آپریشن شروع کریں گے ۔۔ “ایک نرس نے آکر اسے پیپرز دیئے ۔۔

” یہ۔۔یہ۔۔اتنے۔۔پپ۔۔پیسے۔۔میں کہاں سے لاؤں یا اللّه میری مدد کریں ۔۔ دافیہ پریشان ہوگئی تھی اسکے پاس اتنے پیسے نہیں تھے وہ کہاں سے لاتی پانچ لاکھ ۔۔

” میم پلیز جلدی کریں انکی طبیعت ویسے ہی بہت خراب ہے ۔۔” نارس بول کر چلی گئی ۔۔

” نن ۔۔نہیں ۔۔مم ۔۔میرے دادا کو کچھ نہیں ہوگا مم ۔۔میں انتظام کرونگی سنیں آپ لوگ پلیز آپریشن کا انتظام کریں مم ۔۔میں پیسے لاتی ہوں تب تک آپ میری یہ چین بھی رکھیں ۔۔” دافیہ کاؤنٹر پر آکر اپنے گلے سے چین نکال کردی جو اسکی امی کی تھی اسے وہ بہت عزیز تھی پر ابھی دادا کی جان کے آگے کچھ نہیں تھا اسکے لئے وہ بیراج سے مدد کا سوچتی ہوئی باہر بھاگی ۔۔

★★★★

آاہہہہ بب ۔۔

شش آواز نہیں آنی چاہیے ورنہ یہی جان سے مار دو گا ۔۔

انعل جیسے ہی واش روم سے اپنی ڈریس صاف کرکے باہر نکلی کسی نے بہت بے دردی سے اسکا بازو دبوچا اور گھسیٹتے ہوئے اسکو اسٹور روم میں لے جا کر اپنا بھاری ہاتھ اسکے منہ پر رکھ کر غرایا تھا

انعل جو ابھی اس حملے سے سنبھلی نہیں تھی جیسے ہی وہ جانی پہچانی بھاری سرد آواز اسکے کانوں میں گونجی اور اس شخص کو اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر انعل کی روح تک کانپ گئی ۔۔

” مم ۔۔”

اسکے بھاری مظبوط ہاتھ کے دباؤ سے اسکا منہ سرخ ہو گیا تھا وہ روتے ہوئے بولنے کے لئے اسکا ہاتھ ہٹا نے کی کوشش کر رہی تھی

پر مقابل بے حد غصے میں سرخ انگارہ آنکھیں لئے اسے گھور رہا تھا

انعل کو یاد آیا یہ تو وہی ماسک مین تھا جس سے اسکو بہت ڈر لگتا تھا پر اس وقت اسکی سرخ گرے آنکھوں میں میں ایک وحشت سی تھی ۔

” تمہاری بیوقوفی اور اس معصومیت سے مجھے بے انتہا نفرت ہوتی ہے اتنا بھی کوئی معصوم نہیں ہوتا جتنا تم بنتی ہو کیا تم عقل سے پیدل ہو کہ کسی کے ساتھ کہیں بھی چلی جاؤ ؟

“‘ بولو ۔۔”

غصے کی شدت سے وہ تیز دھاڑا تھا جس پہ اس معصوم کا ننھا سا دل سہم سا گیا تھا

اس وقت اس شخص کا دل کر رہا تھا اسکے باپ کا خون کردے جس نے اسے اتنے لاڈ اور معصوم پال رکھا ہے کہ اسے اچھے برے کی سمجھ دینا بھول گیا تھا

کیا اسے معلوم نہیں ہے کہ دنیا کیسی ہے یہاں کے لوگ کیسے بھوکے بھیڑیا بنے بیٹھے ہیں ۔۔

اسکے مضبوط بھاری ہاتھ اپنے نشان اسکے چہرے پہ چھوڑ چکے تھے جس وجہ سے انعل کا پورا چہرہ سرخ ہو چکا تھا

پر وہ اپنے درد کو نظرانداز کرتی روتے ہوئے اس سے دور ہونے کی کوشش میں تھی ساتھ ہی اسکا دل خوف سے کانپ بھی رہا تھا ۔۔

” تمہیں نہیں لگتا تم کچھ زیادہ غصہ کر رہے ہو اس معصوم پری پر ۔۔”

اس روم میں کسی تیسرے کی آواز نے ان دونوں کی توجہ اپنی کھینچی تھی

” میرے بیچ میں مت آؤ ورنہ انجام بہت برا ہوگا ۔۔” آنے والے کی آواز کو پہچان کر ابکہ بار ڈی اے اسکی جانب پلٹ کر غصے میں دھاڑا تھا جو سامنے دروازے سے ٹیک لگائے سکون سے کھڑا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا

” غلط بول رہے ہو تم بیچ میں تم آرہے ہو میں نہیں اور دیکھو اس وقت بھی تم یہاں موجود ہو ۔۔”

زید نے اسکے یہاں ہونے پہ طنز کیا تھا

جبکہ اس دوراں انعل ان دونوں کی باتیں سنتی بری طرح خوفزدہ ہو چکی تھی

” میں تمہیں لاسٹ وارننگ دے رہا ہوں دوبارہ تم مجھے اسکے ساتھ دیکھے تو یاد رکھنا میں کیا کر سکتا ہوں یہ تو تم بھی بہت اچھے سے جانتے ہوں ۔۔” اس بار وہ انعل کو اپنی گرفت سے آزاد کرتا زید کی جانب لکپا اور غصے کی شدت سے اسکا کالر پکڑ کر اسکو وارننگ دینے والے انداز میں بولا تھا

انعل جو وہیں دیوار کے ساتھ لگی کھڑی رو رہی تھی ان دونوں کو یوں لڑتا ہوا دیکھ کر اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔

” میری بھی لاسٹ وارننگ ہے اس سے دور رہو یہ اب میری ہے جو چیز مجھے پسند آتی ہے اسے میں شیئر نہیں کرتا ۔۔”

زید نے غصے سے اسکے ہاتھ سے اپنا کالر چھوڑوایا ۔۔

” تمہیں صرف دوسروں کی چیزیں ہی پسند آتی ہے ۔۔” ڈی اے نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا ۔۔

” تمہاری تو ۔۔” زید غصے سے سرخ ہوتا اسکی طرف بڑھا تھا کے انعل کی چیخ سنتے رک گیا جو ان دونوں کو لڑتے دیکھ کر چیخ پڑی تھی ۔۔

” ہمیں بابا کے پاس جانا ہے پلیز ہمیں چھوڑ دے ہمیں بابا کے پاس جانا ہے ۔۔”

انعل دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر شدت سے رونے لگی خوف کے مارے اسکا چہرہ سفید پڑ چکا تھا ۔۔۔

” چھوڑو اسے ۔۔” زید آگے بڑھ کر ڈی اے کے ہاتھ سے اسکا ہاتھ نکالنے لگا تھا کے ڈی اے نے اسے دھکہ دے کر پیچھے کیا ۔۔

” دور رہو اس سے اور مجھ سے ۔۔” ڈی اے بولتا انعل کا ہاتھ پکڑ تا آگے بڑھ گیا ۔۔انعل روتے ہوئے اپنا ہاتھ چھوڑوانے لگی جاتے ہوئے پیچھے زید کو دیکھا جیسے اپنی نظروں سے اس سے مدد مانگ رہی ہو ۔۔

” تمہیں میں نہیں چھوڑو گا انعل حیات صرف میری ہے صرف زید جعفری کی ۔۔” زید غصے میں بولتا باہر نکل کر اپنے باپ کو کال ملا نے لگا ۔۔

★★★★

” ہمیں بابا کے پاس جانا ہے ہم آپکے ساتھ نہیں جائیں گے پلیز ہمیں بابا کے پاس چھوڑ دیں ۔۔” انعل مسلسل روتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔۔

” خاموش بیٹھو رونا بند کروں ورنہ یہیں سے باہر پھینک دونگا ۔۔” ڈی اے غصے میں تیز رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا آج زید نے اسکا دماغ گرم کردیا تھا اسے جس چیز کا ڈر تھا وہی ہوا وہ نہیں چاہتا تھا زید کی نظر انعل پر پڑے پر وہ کیسے بھول گیا وہ زید تھا جو اس پر نظر رکھے بیٹھا تھا دوسری یہ بیوقوف لڑکی ۔۔

” یي۔۔یہاں ۔۔گگ ۔۔گاڑی ۔۔کّک ۔۔کیوں ۔۔روکی ہے ہمیں بابا کے پاس جانے دیں ۔۔ گاڑی کو ایک کچی سڑک پر روکتے دیکھ کر انعل نے ڈر خوف سے کہا ۔۔

” تمہارے علاج کیلئے اگر تم نے کسی کو بھی میرے بارے میں بتایا تو میں تمہاری جان لے لوں گا اور ساتھ میں تمہارے باپ کی بھی ۔۔” ڈی اے غصے میں اسکی سائیڈ جھک کر اسے دھمکا رہا تھا جسے سنتے انعل خوف سے کانپ اٹھی ۔۔

” ہہ ۔۔ہم ۔۔کّک ۔۔کسی کو ۔۔نن ۔۔نہیں ۔۔بب ۔۔ انعل اسکے قریب ہونے کی وجہ سے ڈر سے آنکھیں بند کر کے اٹک اٹک کر کہا ابھی وہ کچھ کہتی ڈی اے نے اسکے منہ پر رومال رکھ کر بیہوش کردیا وہ رونے کی وجہ سے سرخ سی اسکے پھولے ہوئے گال اسکی معصومیت بہت کیوٹ لگ رہی تھی اسے گہری دلچسپی سے دیکھتا وہ جلدی سے پیچھے ہوا اور اسکے گھر کی طرف گاڑی کردی ۔۔

★★★★

” بیراج انعل کا کچھ پتا چلا ۔۔” حیات صاحب پریشانی سے بیراج کو باہر سے آتا دیکھ کر بولے ۔۔

” نہیں پتا نہیں انی کس کے ساتھ چلی گئی ہے ۔۔” بیراج نے تھکاوٹ سے کہا اسے چہرہ سے صاف لگ رہا تھا وہ بہت تھک گیا ہے ۔۔

” کیا مطلب کس کے ساتھ گئی ہے وہ یہاں تو کسی کو جانتی نہیں ہے ۔۔” حیات صاحب نے حیرت سے کہا انعل کس کے ساتھ جا سکتی ہے ۔۔

” پتا نہیں چاچو مال کی سی سی ٹی وی سے پتا چلا انعل وہاں کسی لڑکے کے ساتھ جاتی ہوئی دیکھی اور اس لڑکے کو کبھی دیکھا بھی نہیں ہے ہم لوگوں نے شاید ۔۔” بیراج نے سوچتے ہوئے کہا وہ یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا شاید کہیں دیکھا ہو اسے انعل اسکے ساتھ کیوں گیا کیا وہ جانتی ہے اسے ۔۔

” ہم لوگ جب سے پاکستان آئے ہے ہماری بچی کے ساتھ کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے ہمیں نہیں آنا چاہئے تھا حیات بھائی آپ اسکے لئے سیکورٹی گارڈ رکھ لیں اب ہمیں ڈر لگتا ہے ہماری بچی کے لئے شام سے رات ہونے والی ہے ابھی تک اسکا پتا نہیں چل رہا ۔۔” بی جان نے روتے ہوئے کہا ۔۔

حیات صاحب بھی بہت پریشان ہو گئے تھے انہیں اب ڈر لگنے لگا تھا انکی بیٹی کے ساتھ آخر ایسا کیوں ہو رہا تھا وہ خود کو رونے سے روک رہے تھے ۔۔

★★★★

” دافیہ تم آج آفس کیوں نہیں آئی ۔۔” رمشا نے اسے آفس میں آتے دیکھ کر کہا ۔۔

” مم ۔۔مجھے ۔۔بب ۔۔بی سر سے بات کرنی ہے ووہ کہاں ہے ۔۔” دافیہ بے حد پریشانی کی حالت میں پوچھا اور یہاں وہاں دیکھا شاید کہی پر بھی اسے بیراج نظر آجائے ۔۔

” تمہیں کیا کام ہے اور جو میں نے پوچھا اسکا جواب دو ۔۔” رمشا اپنے سوال کو اگنور ہوتے غصے میں کہا ۔۔

” پلیز رمشا میم بتادے میرے دادا کی طبیعت بہت خراب ہے مجھے سر سے بات کرنی ہے پلیز ۔۔” دافیہ نے روتے ہوئے التجا کی جسے رمشا مجھے نہیں پتا کہہ کر آگے بڑھ گئی دافیہ اسکے گھر کا سوچتی باہر بھاگی اسکے پاس ٹائم نہیں تھا زیادہ ۔۔

★★★★

” بب ۔۔بابا ۔۔آہہہ ۔۔” انعل دھیرے دھیرے ہوش میں آتے اپنے بابا کو بلایا کراہتے ہوئے اٹھنے لگی رونے کی وجہ سے اسکے سر میں شدت سے درد ہو رہا تھا ۔۔

” میری جان ہم یہیں ہیں آرام سے آپ ٹھیک تو ہے نا ۔۔” حیات صاحب اسکے سامنے بیٹھے محبت سے بولے انکی سانس میں جیسے سانس آگئی اپنی بیٹی کو سہی سلامت دیکھتے ہوئے ۔۔

” بب ۔۔بابا ۔۔بابا ہمیں چھوڑ کر مت جائے ہمارے ساتھ رہیں ہمیں اکیلا مت چھوڑیں بابا ۔۔” انعل بچوں کی طرح اپنے بابا کے گلے لگ کر ہچکیوں سے رو رہی تھی ۔۔

” بس میرا بچہ روتے نہیں بابا ہے نا آپکے پاس بابا کہیں نہیں جائیں گے اپنی انی کو چھوڑ کر کبھی بھی اب سے بابا آپکے ساتھ ہی رہیں گے رونا بند کریں ورنہ اور درد ہوگا سر میں ۔۔” حیات صاحب نے اسکے بال سہلاتے ہوئے پیار سے سمجھایا انہوں نے سوچ لیا تھا وہ اب اسے اکیلا نہیں چھوڑے گیں انکی بیٹی کے ساتھ ایسا بار بار کیوں ہو رہا ہے جسے وہ خوف زدہ ہو جاتی ہے ہر بار ۔۔

” بابا ہم یہاں کیسے آئے ۔۔” انعل تھوڑی دیر خاموشی کے بعد بولی ۔۔

” اپکوں داريان لیکے آیا تھا انہوں نے بتایا کے آپ انھیں ملی تو بہت روئی اور کھونے کے ڈر سے بیہوش ہوگئی تھی۔۔” حیات صاحب کو یاد آیا جب داريان اسے اٹھا کر لیا تھا تب اسے بیہوش دیکھتے ان سب کی جان نکل گی تھی پھر داريان نے بتایاکے وہ شاپنگ مال کے باہر اسے ملی تھی ۔۔

” دد ۔۔داريان پر وہ ۔۔

بس بہت باتیں ہوگئی اب آپ یہ سوپ پئیے اور دوائی کھا کر تھوڑا آرام کریں پھر باقی کی باتیں بعد میں ۔۔” بی جان اندر آتے اسکی بات کاٹ دی اور اسے سوپ پلا نے لگی انعل اپنی ہی سوچوں میں گم ہوگئی وہ یاد کرنے لگی وہ کب داريان سے ملی اسکے ساتھ جو بھی ہوا وہ سب ڈی اے کی وارننگ یاد آتے وہ چپ ہوگئی بی جان کے بہت پوچھنے پر بھی اسنے نہیں بتایا یہی کہہ دیا وہ کھونے کے ڈر سے بہت روتے ہوئے داريان سے ملی پھر اسکے بعد اسے یاد نہیں بی جان نے باقی سب نے اسکی بات کا یقین کرتے ہوئے اسے آرام کرنے کو کہا بی جان نے دعائیں پڑھ کر اس پر دم کیا ۔۔

★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★

” دافیہ آفس آئی تھی کیا ہوا تھا ۔۔” بیراج فون پر شان سے پوچھ رہا تھا اسنے کال کر کے بتایا کے دافیہ آئی تھی پھر روتے ہوئے چلی گئی کسی نے وہا دیکھا اور جاکے شان کو بتایا ۔۔

” پتا نہیں یار مجھے خود یہاں کے ایک ورکر نے بتایا ہے وہ تمہارا ہی پوچھ رہی تھی مجھے لگا شاید تم سے کچھ بات ہوئی ہو ۔۔” شان دافیہ کے لئے پریشان ہوا ۔۔

” اوکے میں دیکھتا ہوں ۔۔” بیراج فون رکھتے فرش ہونے گیا ۔۔

” سر آپ سے کوئی لڑکی ملنا چاہتی ہے ۔۔” ملازم نے آکر اطلا دی ۔۔

” لڑکی نام بتایا اسنے ۔۔” بیراج فرش ہوتا باہر نکلا جب ملازم نے آکر بتایا کسی کا پہلا خیال اسے دافیہ کا ہی آیا وہ اسکا سوچتا اس طرح یہاں آنا پھر شان کی باتیں پریشان ہوتا جلدی سے نیچے بھگا ۔۔

” کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے ۔۔” بیراج نیچے آتے ہی دافیہ کو دیکھتا سکت رہ گیا اسکا ہولیا رات والا لگ رہا تھا آدھے بند بل تو آدھے کھلے ہوئے آنکھیں رونے کی وجہ سے سرخ سوجی ہوئی تھی اسکی حالت سے ہی لگ رہا تھا وہ ٹھیک نہیں ۔۔

” بب ۔۔بیراج ۔۔سس ۔۔سر ۔۔پپ ۔۔پلیز میری ہیلپ کریں ۔۔مم ۔۔مجھے پیسوں کی بہت ضرورت ہے ۔۔” دافیہ بیراج کو دیکھتے روتے ہوئے جلدی میں بولی اسے ابی صرف اپنے دادا کی زندگی چائیے تھی اسکے لئے کچھ بھی نہیں تھا ابی اپنی آنا کو مارتے ہوئے وہ سیدھا پیسے مانگنے آئی ۔۔

” کیا ہوا ہے دافیہ بتاؤ سب خیر تو ہے نہ تم رو کیوں رہی ہوں اور پیسوں کی ضرورت کیوں ہے پلیز آرام سے بتاؤ بیٹھ کر آرام سے بات کرتے ہے ۔۔” بیراج اسکی حالت سمجھ نے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔

” نن ۔۔نہیں ۔۔مم ۔۔میرے پاس ٹائم نہیں ہے میرے دادی کی حالت بہت خراب ہے انہیں کینسر ہے اور اور ڈاکٹر آپریشن نہیں کر رہیں کہتے ہیں پہلے پیسے جما کرواؤ پر میرے پاس پیسے نہیں ہے پلیز میری ہلپ کریں میں آپکو بعد میں دادو گئی ۔۔” دافیہ نے اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے امید بری نظروں سے بیراج کو دیکھا ۔۔

” کون سے ہسپتال میں ہے تمہارے دادا ہم وہی چلتے ہے چلوں ۔۔”دافیہ کی سرخ پانی بری آنکھوں میں دیکھتے ہی بیراج کے دل کی بٹ مس ہوئی اسکی کی فیلنگ کو سائیڈ پر کرتے ہوئے اسے لکے باہر گیا ۔۔

★★★★

” یا اللّه ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے ہمیں کچھ یاد کیوں نہیں آرہا ہے ہم کب ملے داريان سے ہمیں تو کچھ یاد نہیں آرہا ہے ۔۔” انعل کل سے یاد کرنے کی کوشش میں تھی وہ داريان سے کب ملی ۔۔

مال میں تو ہم زید ہاں یہی نام تھا شاید انسے ملے تھے اسکے بعد تو ہم ماسک مین سے ملے جو اتنے برے ہے ڈائیوسول ہے خون پینے والا برا انسان ہمارے ہی پیچھے پڑھ گیا ہے ہم کیسے بتاۓ کیا کریں ۔۔” انعل دونوں ہاتھ بالوں میں ڈال کر ٹھک ہار کر خود سے بڑبڑائی ۔۔

” بس بہت ہوا ہم داريان سے پوچھے گئے ہم کیسے ملے انھیں اور کہا ملے ہم انہیں سب بتا دے گے ۔۔” انعل خود سے فیلہ کرتی گہرا سانس لیا ۔۔

★★★★

” زافی کی بچی تمہیں میں نہیں چھوڑوں گا ۔۔” حنان دانت پس تا ہوا غصے میں روم میں آیا ۔۔

” آااہہہ حان کیا بدتمیزی ہے ۔۔” حنان نے اسے بازوں سے پکڑ کر کھڑا کیا زافا غصے سے گھور تے ہوئے چلائی ۔۔

” تمہیں مینے کتنی بار کہا ہے پیسے چائیے تو بولا کروں اس طرح میرے بٹوۓ سے چوری کرنا چاہئے ۔۔” زافا اسکے ساتھ ہمیشہ ایسا کرتی تھی آج تو حنان نے سوچ لیا اسکا دماگ ٹھیک کرنے کا ۔۔

” چھوڑو اپن کو اور اپن نے کوئی چوری نہیں کی سمجھے یہ پیسے یہ پیسے والا دونوں اپن کا پھر میری میری کیسے بھی نکالو پیسے ۔۔” زافا اپنا بازوں چروا کر غصے میں کہا ۔۔

” کیا تم میں اچھی بیوی نہیں بن سکتی ۔۔” حنان نے افسوس سے دیکھا اسے ۔۔

” ہاہاہا تمنے دیکھ کر شادی کی تھی نہ اپن سے پھر کیسے پتا نہیں چلا تو کیا میں اچھی نہیں ہوں ۔۔” دونوں بازوں اسکے کنڈوں پر رکھ کر زافا معصوم بچوں کی طرح منہ بنا کر کہا ۔۔

” یہ کب کہا اچھی نہیں بس تمہیں تھوڑی ترینگ کی ضرورت ہے میری جان ۔۔” حنان نے اسے قریب کرتے ہوئے کہا زافا شرم سے سرخ ہوتے دور ہونا چاہا پر حنان کی گرفت مضبوط تھی ۔۔

” کیا تم اپن سے مار کھانا چاہتے ہوں ۔۔ ہاہاہا اس بار نہیں میری جنگلی بلی ۔۔” زافا نے اسے مار نہ چاہا پر حنان نے اسے روک کر زور سے پکڑ لیا ۔۔

★★★★

” ڈیڈ آپ ڈی اے کو سمجھا دے وہ میرے راستے میں آنے کی نہ کریں ورنہ اس بار میں اسے نہیں چھوڑوں گا ۔۔” زید شدید غصے میں آپنے ڈیڈ سے فون پر ڈھارا ۔۔

” زید اپنے غصے کو کنٹرول کرنا سیکھوں میں پہلے ہی تم دونوں کی نادانیوں سے پریشان ہوں ایک دوسرے سے دوشمنی ختم کیوں نہیں کر لیتے ۔۔” جعفری صاحب غصے میں کہا ۔۔

دشمنی کی شروت وہ کرتا ہے کمینہ جو چیز مجھے پسند آتی ہے وہی چیز اسے چائیے ہوتی ہے پر اس پر نہیں ڈیڈ وہ لڑکی صرف میری ہے اونلي مائن ۔۔” زید گہری مسکراہٹ سے بولا ۔۔

★★★★

” انعل کی طبیت کیسی ہے اب ۔۔”داريان سامنے بیٹھے حیات سے انعل کا پوچھا ۔۔

” الحمدللّٰه اب ٹھیک ہے آپکا بہت شکریہ بیٹا اپنے میری بیٹی کی بہت مدد کی ہے ہمیں سمجھ نہیں آتا ہم آپکا کیسے شکریہ ادا کرے ۔۔” حیات صاحب دل سے بولے وہ واقعی داريان کو ایک فرشتہ سمجھتے ہیں اپنے بیٹی کی اتنی پر مدد کرنے پر ۔۔

“نہیں انکل آپ شرمندہ مٹ کریں یہ میرا فرض تھا اور میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں اگر اپکی عجزات ہو تو میں آپ سے کچھ مانگ نہ چاہتا ہوں ۔۔” داريان خان نے بات کا آغاز کیا ۔۔

” جی جی بیٹا کہے کیا چائیے آپکوں ہمارے بس میں جو ہوگا ہم حاضر ہے ۔۔” حیات صاحب مسکراتے ہوئے دل سے کہا انھیں داريان بہت اچھے لگتے تھے نرم مزاج عزت احترام سے پیش آنا اسکا ۔۔

” میں جانتا ہوں ہم ایک دوسرے کو اتنے اچھے سے تو نہیں جانتے پر میں جتنی بار بھی آپسے اور انعل سے ملا ہوں مجھے آپ لوگوں میں ہمیشہ اپنایت ملی ہے اور مجھے انعل بہت پسند ہے اور میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں میرے ماں باپ نہیں ہے اس دنیا میں میں اکیلا ہوں اس لئے یہ بات میں خود آپ سے کر رہا ہوں باکی جو آپکا فیصلہ ہوگا مجھے منظور ہوگا ۔۔” داريان خان نے نرمی سے اپنی بات ختم کی اور سر جھکا کر اب انکی بات سن نے کو تیار تھا ۔۔

تھوڑی دیر خاموشی کے بعد حیات صاحب نے بات کا آغاز کیا ۔۔

” بیٹا ہر باپ کے لئے یہ فیصلہ لینا تھوڑا مشکل ہوتا ہے لیکن آپ بہت اچھے پڑھے لکھے نوجوان ہے یہ فیصلہ انعل کے ہاتھ میں ہے ہم نے اسے بہت لاڈ پیار سے پالا ہے میرے لاڈ نے اسے بہت معصوم بنا دیا ہے اسے دنیا میں رہنے والے لوگوں کی سمجھ نہیں آتی اتنی جلدی وہ ہر کسی کو اچھا سمجھ کر یقین کر لیتی ہے ہم اس کھبی باہر اکیلے نہیں جانے دیا اتنا لوگوں میں اٹھا بیٹھنا نہیں سکھایا اور آج مجھے اس بات کو اب افسوس ہوتا ہے آپ دیکھ چکے ہیں اسکے ساتھ کیا کیا ہو رہا ہے اور کیوں مجھے خود سمجھ نہیں آتی پر آپ مجھے اپنی بیٹی کے لئے اچھے لگتے ہیں آپ کی آنکھوں میں انعل کے لئے چمک دیکھ چکے ہیں بس ایک بات کہو گا اس میری بیٹی کا بہت بہت خیال رکھنا بیٹا وہ بہت معصوم ہے بہت نازک ہے وہ جن سے پیار کرتی ہے انکے لئے وہ کچھ بھی کر سکتی ہے اسکی ایک عادت ہے وہ بہت شدت پسند ہے اور آپکے ماں باپ کا بہت افسوس ہے اگر آپ بتانا چاہتے ہیں تو ۔۔” حیات صاحب انعل کی باتیں کرتے ہوئے انکی آنکھیں نم ہوگی تھی وہ اپنی بیٹی سے بہت محبت کرتے ہیں اور اب اسے اپنے سے دور کیسے جانے دے یہ سوچتے ہی انھیں گھبرات ہونے لگی ۔۔

“جی انکل میں اپکی فیلنگ سمجھ سکتا ہوں اور کوئی جلدی نہیں ہے آپ آرام سے جواب دے انعل سے بھی پوچھ لے اپکی بیٹی بہت پیاری معصوم ہے مجھے اسکی معصومیت سے ہی محبت ہوئی ہے ۔۔” داريان خان نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔

” ہاں بہت معصوم ہے وہ میری زندگی ہے پوری دنیا ہے اللّه پاک اسکے نصیب بہت اچھے کریں آمین ۔۔” حیات صاحب بیٹی کو دعا دے رہے تھے ۔۔

“انکل میں اپنے ماں باپ کا ذکر زیادہ نہیں کرنا چاہتا وہ ایک حادثہ تھا شاید انکے نصیب میں یہی لکھا تھا میرا اس دنیا میں انکے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ۔۔” داريان خان گھبیر آواز میں کہا ۔۔

” کیا میں انعل سے مل سکتا ہوں ۔۔” داريان کھڑے ہوتے ایک نظر اپر ڈال کر بولا ۔۔

” ہاں بیٹا کیوں نہیں جاؤ وہ اپر روم میں ہے ۔۔” حیات صاحب مسکراتے ہوئے اجازت دی حیات صاحب نے داريان کو اپر جاتے ہوئے دیکھ رہیں تھے انھیں کھبی کھبی داريان میں دونوں لوگوں کی جلک دیکھتی تھی پھر وہ اپنی سوچوں کو جتک دیتے تھے ۔۔

★★★★

” اجائیں ۔۔” دروازے پر دستک دیتے داريان اپنے بھاری قدم لکے اندر آیا انعل بیڈ پر بیٹھی فون دیکھ رہی تھی جب کسی کو اندر آتے دیکھ کر نظرے اٹھا کر سامنے وجود کو دیکھتے ہی وہ سکت ہوگی اسے لگا وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے وہ سامنے اپنی خوبصورت واجات سے کھڑا دونوں ہاتھ پیٹ کی جیب میں ڈالے ایک نظر اسے دیکھتے جو فل پنک ہی شارٹ توزر میں تھی پورے روم کا جائزہ لینے لگا جو پورا پنک وائٹ کلر کا تھا خوبصورتی سا سجہ یہ گیا تھا ۔۔

” آآ ۔آپ ۔۔سس ۔۔سچ میں ہے ۔۔” انعل ہوش میں آتے جلدی سے کھڑی ہوئی اسے یقین نہیں آرہا تھا وہ سچ میں سامنے ہے ۔۔

” مجھے آپ کو یقین کیسے دلانہ پڑیگا ۔۔” داريان خان کی بھاری گهمبیر آواز گونجی ۔۔

” نن ۔۔نہیں آ ۔آپ سچ میں ہے کّک ۔۔کیسے ہے آپ ۔۔” انعل نے دھیمی آواز میں اپنی تیز ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالتے ہوئے جواب دیا ۔۔

” بیٹھ کر بات کریں ۔۔”

” جج۔۔جی آ آپ بیٹھے ۔۔” داريان چلتا سامنے صوفہ پر بیٹھ گیا دوسرے پر انعل اپنی دھڑکن کو سنبھالتے ہوئے ۔۔

” آ۔آپ سے ایک بات پوچھنی تھی ہم ہم اپکو کہاں سے ملے تھے ۔۔” انعل اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا اسکا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا روم کی خاموشی میں اسکی دھڑکتے دل کی آواز بلند تھی ۔۔

” پہلے آپ مجھے بتاۓ آپکے ساتھ کیا ہوا تھا ۔۔” داريان نے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔

” ہم کہو گے تھے پھر ہمیں ایک اچھے انسان ملے انہوں نے کہا وہ ہمارا گھر ڈھونڈے گے تو ہم انکے ساتھ چلے گئے تھے پر وہاں ماسک مین بھی آیا تھا اور ہم پر غصہ کر رہے تھے انہوں نے ہمیں زبردستی اپنے ساتھ لے گے تھے اور جگہ پر گاڑی روک کر ہمیں دھمکی دی اسکے بعد ہم بیہوش ہوگئے تھے پھر ہم آپکو کیسے ملے ہمیں یاد نہیں ۔۔” انعل پوری بات بتاتے ہوئے گہرا سانس بھرا اور سوالیہ نظروں سے سامنے داريان کو دیکھا ۔۔

” کون سی دھمکی دی اسنے ۔۔” داريان جانتا تھا وہ اس سے کبھی جھوٹ نہیں بولے گی ۔۔

” ہمیں بہت ڈر لگ رہا ہے ہم نے کسی کو نہیں بتایا انہوں نے کہا ہم کسی کو بھی نہ بتاۓ اور ہم کسی کے ساتھ بھی نہ چلے جائیں ۔۔” انعل نے ڈرتے ہوئے بتایا اسے اب ڈی اے سے بہت خوف آتا تھا ۔۔

” آپ ڈرے مت میں آپکے ساتھ ہوں اسے میں خود دیکھ لونگا آپ خود کا خیال رکھیں اور ایک بات آپکے بابا آپ سے کچھ پوچھے گئے دل سے جواب دینا انھے ۔۔” داريان کھڑا ہوتے آخری بات کہتا وہاں سے جانے لگا ۔۔

انعل سرخ پڑھتے ہی نظریں جھکا دی اسکے ساتھ ہوں الفاظ پر لیکن اسکی آخری بات وہ سمجھ نہیں پائی ۔۔

” ارے انہوں نے ہماری بات کا تو جواب نہیں دیا ہم کیسے کہاں ملے ہونہہ پیارے کھڑوس ۔۔” انعل منہ بناتی ہوئے خود سے بڑبڑائی پھر مسکراتے ہوئے داريان کا سوچنے لگی ۔۔

★★★★

” دافیہ رونا بند کرو دعا کرو سب ٹھیک ہوگا ۔۔” بیراج کب سے اسے روتا دیکھتا بول رہا تھا جو صرف سامنے آپریشن ٹھیٹر کو دیکھ رہی تھی جہاں اسکے دادا کا آپریشن چل رہا تھا ۔۔

” بب ۔۔بیراج سر میرے دادا ٹھیک ہو جائے گے نہ میرے پاس انکے علاوہ کوئی نہیں ہے میں انکے بغیر کیسے جیوں گی ۔۔” دافیہ نے روتے ہوئے بیراج کو دیکھ کر کہا ۔۔

“ایسے رونے سے کچھ نہیں ہوگا خود کو سنبھالو نماز پڑھو دعا کرو دیکھنا وہ ٹھیک ہو جائے گے إن شاءاللّٰه ۔۔” بیراج نے سمجھا تے ہوئے کہا دافیہ اسکی بات مانتی اٹھ کھڑی ہوئی اور وضو کرنے چلی گئی ۔۔

★★★★

” حیات بھائی مجھے لگتا ہے یہ بات آپکو خود کرنی چاہیے انعل سے وہ آپ سے ہر بات شیئر کرتی ہے اس بار بھی وہ آپ کو صحیح جواب دے گی ۔۔” بی جان چاہتی تھی حیات صاحب خود اپنی بیٹی سے مرضی پوچھے ۔۔

” اپکی بات صحیح ہے بی جان اور میں اسکا جواب بھی جانتا ہوں بس اسکی شادی کی بات نے اداس کردیا ہے اور اب تو ڈر لگنے لگا ہے ۔۔” حیات صاحب کو اب ڈر لگ رہا تھا انہوں نے کبھی انعل کو اکیلا نہیں چھوڑا اور اب اسکا دور جانے کا سوچتے ہے گھبراہٹ ہونے لگتی تھی باپ تھے ایک ہی بیٹی تھی جسے بے حد لاڈ پیار میں پالا انہوں نے ۔۔

” ڈر تو مجھے بھی بہت لگتا ہے ہم نے انعل کو بہت ہی لاڈ محبت میں پالا ہے اسے اتنا معصوم رکھا ہے کے اسے دنیا کی کچھ خبر نہیں وہ کیسے دوسرے گھر جائے گی کیا کرے گی اسکا ہمسفر اسکا ہماری طرح خیال رکھیں گا یا نہیں ہم نے کبھی سوچا نہیں اب اگر ایسا کچھ سوچتے ہیں تو ڈر جاتے ہیں ۔۔” بی جان نے اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا ۔۔

” اسی بات کا ڈر ہے بی جان لیکن داريان خان بہت اچھا لڑکا ہے وہ انعل کو بہت اچھے سے سمجھتا ہے اسکا خیال رکھنا سکے لئے پریشان ہونا مجھے ایک امید دیتا ہے وہ ہماری انی کا خیال رکھے گا اسے خوش رکھے گا ۔۔” حیات صاحب داريان کا انعل کے لئے فکر مند ہونا دیکھتا تھوڑا پرامید ہوا ۔۔

” کیا باتیں ہو رہی ہے ہمیں بھی بتاۓ ۔۔” انعل نیچے آتے لاڈ سے حیات صاحب کے گلے لگا کر کہا ۔۔

” آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے بیٹھے یہاں ۔۔ آپ لوگ باتیں کریں میں اپنی جان کے لئے دودھ لاتی ہوں ۔۔” بی جان بولتے وہاں سے گئی حیات صاحب نے اسے ساتھ بیٹھا کر خود سے لگا تے ہوئے بات شروع کی ۔۔۔

” بیٹا آپکے لئے ایک پرپوزل آیا ہے سوچ سمجھ کر آرام سے جواب دینا آپ کوئی زور زربدستی نہیں ہے ۔۔” حیات صاحب نے انعل کا ماتھا چومتے ہوئے نرمی سے کہا ۔۔

” ہم آپ کو چھوڑ کر نہیں جائے گے بابا ہمیں آپکے اور بی جان کے ساتھ رہنا ہے ۔۔” انعل منہ پھولاتی ہوئی بولی ۔۔

” پہلے سن تو لے پھر کیا پتا آپ ہمیں چھوڑ کر بھی جائے ۔۔نہیں ہم آپکو نہیں چھوڑ کر جائے گے اور اگر گئے تو آپکو بی جان کو ساتھ لیکے جائیں گے ۔۔ ” انعل نے حیات صاحب کی بات کاٹتے تیزی سے کہا ۔۔۔

” ہاہاہا اچھا بعد میں دیکھے گئے ابھی بات تو سن لے ۔۔”، حیات صاحب اسکی معصومیت پر ہنس پڑے ۔۔

” آج داريان آیا تھا آپکے لئے رشتہ لیکے وہ چاہتے ہیں آپ پہلے پوچھ کر پھر انھیں جواب دے پھر بتاۓ اب کیا جواب دے ہم انھیں ۔۔” حیات صاحب کی بات نے اسے پورا سرخ کردیا ۔۔

” یہی کے ہماری بیٹی تو اکیلی نہیں آنا چاہتی اپنے بابا اور بی جان کو بھی ساتھ لانا چاہتی ہے پھر آپ آکے لے جائے انعل حیات کو ۔۔” انعل حیات صاحب کے سینے سے لگے ہوئے کہا اسکی بات سن کر بی جان حیات دونوں ہنس پڑے اسکا جواب بھی ہاں میں سن کر دونوں بہت خوش بھی ہوئے پر ڈر بھی رہے تھے بی جان حیات صاحب اسکے نصیب کے لئے اللّه سے بہت دعا کرنے لگے اب یہ تو وقت بتاۓ گا اسکے نصیب میں کیا لکھاہے خوشیاں یہ پھر ایک نئی داستان نفرت عشق کی جس میں جل کر یا تو عشق رہے جائے یا صرف نفرت ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *