Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafrat e Ishq (Episode 02)

Nafrat e Ishq by Mahra Shah

” افف وہ لڑکی کیوں میرے خیالوں میں آرہی ہے کیا وہ چور ہے “۔۔ حنان کل سے زافا کا سوچ رہا تھا اسے وہ پہلی نظر میں پسند آئی تھی پر وہ چور تھی یا کچھ اور اسکے بارے میں سوچ رہا تھا ۔۔

” حنان سر ڈی اے بلا رہے ہیں ۔۔ گارڈ ڈی اے کا حکم دے کر چلا گیا ۔۔

شٹ میں اس لڑکی کے چکر میں ڈی اے کے پاس جانا بھول گیا اب تو نہیں بچے گا حنان سلطان “۔۔۔ حنان خود سے بڑبڑایا ۔۔

” یس ڈی اے تمم۔۔حنان کے منہ پر پنچ پڑھنے سے اسکی بات منہ میں ہہ رہہ گئی ۔۔

کہا دھیاں ہے تمہارا بولو جانتے ہو ہم پاکستان کس لئے آئے تھے اور تم یہ سارے کام چھوڑ کر اپنی دنیا میں گم ہو ۔۔ وہ غصے میں دهاڑا ۔۔

حنان ایک نظر افسوس ڈال تا اپنے ہونٹوں سے خون صاف کرنے لگا ۔۔

” کل پارٹی ہے فرحان چودہری کے بیٹے عفان چودہری کے بزنس میں کامیابی کی اور وہاں سب ہونگے اور سب سے مطلب تو تم سمجھ گئے ہوگئے “۔۔ حنان لیپ ٹوپ پر ایمیلز چیک کرتا ہوا اسے بتانے لگا ۔۔

” حان کل کی تیاری کرلو ‘۔۔وہ ایک نظر اسے دیکھ کر روم سے نکل گیا حنان نے اپنی رکی ہوئی سانس لی ۔۔

ایک تو یہ منہ سے کم ہاتھوں سے زیادہ بات کرتا ہے کمینہ کہیں کا ۔۔ حنان نے غصے میں کہا ۔۔

★★★★

” دادو دادو مجھے جاب مل گئی ہے “۔۔ وہ خوشی سے دادا کے گلے لگ گئی ۔۔

” کس کمپنی کی قسمت خراب ہے “۔۔ دادا نے شرارت سے کہا ۔۔

” بس دادو آپ انکی کمپنی کے لئے دعا ہے کر سکتے ہیں “۔۔اسنے بھی شرارت سے کہا ۔۔

” دافی بیٹا جاب کرنا ضروری تو نہیں نہ ہم اچھا کھا پی رہے ہیں اچھا گھر چل رہا ہے پھر کیا ضرورت ہے جاب کی “۔۔دادا نے سمجھا تے ہوئے کہا ۔۔

” اففف میرے پیارے دادو میں صرف اپنے شوک کے لئے کر رہی ہوں نہ اور گھر میں بیٹھ کر بور ہو گئی ہوں ۔۔ اب وہ کیا بتاتی وہ کس لئے جاب کر رہی ہے ۔۔

” مجھے اچھا نہیں لگتا میرا بچا روز روز باہر کے دھکے کھاۓ “۔۔ دادا نے دکھ سے کہا ۔۔

پلیز دادو کچھ نہیں ہوتا آپکی دافيہ شہباز کمزور نہیں ہے ۔۔ دافيہ نے فخر سے کہا ۔۔

چلے اپکی دوائی کا ٹائم ہو گیا ہے ۔۔۔

★★★★★★

” ماشاءاللّٰه ہماری بیٹی تو بہت پیاری ہو گئی ہے “۔۔ فرحان صاحب نے پیار سے کہا ۔۔

” فرحان انکل ہم بچپن سے پیارے تھے “۔۔انعل نے شرارت سے کہا ۔۔

” فرحان اپنے شہزادے کو تو بلاؤ جس کے لئے پارٹی دی ہے وہ کہا ہے “۔۔ حیات صاحب نے کہا ۔۔

” کسی نے مجھے یاد کیا ۔۔ وہ نوجوان خوبصورت مرد انکے سامنے آتے ہوئے کہا ۔۔

” ہاہاہا لو یاد کیا عفان چوہدری حاضر “۔۔ فرحان صاحب نے بیٹے کو دیکھ کر کہا ۔۔

” السلام علیکم انکل کیسے ہے آپ اور یہ حسین لیڈی انعل حیات ہے “۔۔ ریان حیات صاحب سے ملتے ہوئے انعل کو دیکھ کر کہا ۔۔

” ہاہاہا بلکل سہی پچانا یہ ہماری پیاری پری ہے “۔۔ فرحان صاحب نے کہا ۔۔

” کیسی ہو خوبصورت لیڈی لگتا ہے کم بات کرتی ہے آپ “۔۔ عفان انعل کو گہری نظروں سے دیکھ کر کہا ۔۔

” ہم ٹھیک ہے آپ کو مبارک آپکی کامیابی کی اور ہم بہت باتیں کرتے ہیں بس پہلے اگلا بولتا ہے پھر ہم شروع ہو جاتے ہیں “۔۔ انعل مسکرا کر کہا ۔۔

ایک منٹ میں آتا ہوں آپ پارٹی انجونے کریں ۔۔عفان سامنے اسے آتا دیکھ کر انعل کو بول کر آگے بڑھ گیا ۔۔

★★★★★★

یہاں تمہارے ماما کی شادی ہو رہی ہے جو اتنا تیار ہو کر آئی ہوں ۔۔۔صدف اسکے خوبصورت چہرے کو دیکھ کر جل کر بولی ۔۔

” نہیں نہ ہمارے تو ماما ہی نہیں ہے اس لئے دوسروں کی شادی میں تیار ہوکے جاتے ہے “۔۔۔انعل پہلے اداسی پھر خوشی میں بولی ۔۔

” are you crazy look it یہاں پارٹی ہو رہی ہے شادی ۔۔۔ نہیں “۔۔صدف ناگواری سے بولی

” اچھا پر یہاں دیکھ کے لگتا ہے جیسے شادی ایونٹ ہوں پر بابا نے کہا تھا جیسا دل کریں ویسے تیار ہو کے چلو “۔۔۔انعل نے معصومیت سے کہا ۔۔

” یہ تو نہیں کہا نہ خود دلہن بن کر جاؤ ۔۔۔صدف اسکا مذاق اڑاتی ہوئی ہنسی انعل کو اسکی ہنسی زہر لگی اسکے آنکھوں میں نمی آگئی تھی وہ وہاں سے اٹھ کے ایک کونے والی ٹیبل پر آکر بیٹھ گئی اسکی آنکھوں سے ایک آنسو گرا اسنے جلدی سے صاف کر لیا آج تک کسی نے اس سے اس طرح سے بات نہیں کی تھی ۔۔۔

” ہم کیوں روۓ اس چڑیل کی باتوں سے بابا نے بھی نہیں بتایا تھا نہ یہاں پر منحوس پارٹی ہے یا اللّه ایسی جگاؤ پہ آگ لگ جاۓ جہاں پر بھی پارٹی ہوں وہاں سب جگہ پر آگ لگوا دے آپ کاش یہاں بھی آگ لگ جاۓ آمین “۔۔۔انعل اپنا رو منہ بھول کر اب ہاتھ اٹھا کر بد دعا دے رہی تھی اسکا بہت دل دکھا تھا ۔۔۔

” یا اللّه ہم اچھے ہیں نہ آپ ہماری دعا قبول کریں اور اور وہ صدف کسی گٹر میں گر جاۓ آمین “۔۔۔اسنے دعا مانگ کر دونوں ہاتھ اپنے منہ پر پھیر لیے ۔۔وہ ہمیشہ سے ایسا کرتی تھی اپنے ہر بات ہر دکھ اللّه سے کرتی تھی وہ اللّه سے باتیں کر کے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتی تھی۔۔۔۔

وہ سامنے بیٹھا کب سے اسکی باتیں سن رہا تھا جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔۔۔وہ اپنے خوبصورتی سے کسی کو بھی اپنا دیوانہ بنا سکتی تھی پر سامنے بیٹھے اس شخص کو شاید ہی دیوانہ کر پاتی ۔۔۔اور اس شخص کو اسکی خوبصورتی اسکی معصومیت اسے اور بھی غصہ دلا رہی تھی جو دنیا جہاں سے بےخبر اپنے خوبصورتی سے لوگوں کی توجہ اپنے طرح کھینچتی تھی ۔۔۔۔

” یہاں آگ لگوا دو ۔۔۔کان میں لگے بلوٹوتھ میں کسی کو بولا ۔۔۔۔ قریب سے کسی مرد کی روب دار آواز آئی انعل نے جلدی سے سر اٹھا کے سامنے دیکھا ۔۔۔

یہ تو وہی آنکھیں تھی انعل سن ہو کر اسے دیکھ رہی تھی ۔۔وہ اپنے سرخ آنکھوں سے اسے گھور رہا تھا جو بینا پلک جھپک کر اسے دیکھ رہی تھی ۔۔

اسکا دل بہت تیز رفتار سے چل رہا تھا سامنے بیٹھا وہ حسین مرد اسے اپنا دیوانہ بنا رہا تھا اسکی سرخ خالی آنکھیں میں وہ خود کو ڈوپتا ہوا محسوس کر رہی تھی ۔۔

وہ اسکے دیکھنے سے چڑ گیا تھا اور اٹھ کر آگے بڑھ گیا ۔۔اسکے اٹھ نے پر وہ ہوش میں آتی اسکے پیچھے بھاگی وہ تیزی سے اسکے سامنے آکھڑی ہوئی وہ اسکے تیزی سے سامنے آنے سے رک گیا ورنہ دونوں کی ٹکر ہو جاتی ۔۔

” آ آپ کون ہے مسٹر کہاں سے آئے ۔۔ انعل اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا آج بھی اسکے چہرے پر ماسک تھا ۔۔

” زہر لگتی ہے مجھے وہ لڑکیاں جو بلا وجہ ہر جگا قہقہے لگاتی ہیں “۔۔۔وہ اسے دیکھ کے غصے میں بولا جو تھوڑی دیر پہلے زور سے قہقہے لگا رہی تھی ۔۔۔

” ہمیں بھی زہر لگتے ہیں وہ مرد جو ہر جگہ کھڑوس بنتے پھر تے ہیں “۔۔وہ بھی اسکی آنکھوں میں دیکھ کے بولی۔۔۔

” وہ غصے سے آگے بڑھ کے اسکا چشمہ اتر کے لے گیا انعل کا تو صدمے سے منہ کھل گیا ہوش میں آتے ہی وہ اسکے پیچھے بھاگی ۔۔

” روکو مسٹر کھڑوس ہمارا چشمہ تو واپس کریں ہمیں کچھ نہیں دکھ رہا ہے یا اللّه “۔۔انعل چلا تی ہوئی بھاگ رہی تھی وہ آگے جا رہی تھی کے گارڈ نے اسکا راستہ روک دیا ۔۔

” میڈم آپ آگے نہیں جا سکتی “۔۔۔گارڈ راستہ رک تے ہوئے بولا ۔۔

” کیوں نہیں جا سکتے ہم اور وہ ہمارا چشمہ لے گئے ہیں “۔۔انعل گارڈ کو اسکی شکایات لگا تے ہوئے بولی ۔۔

” سوری میم پر آپ آگے نہیں جا سکتی “۔۔۔گارڈ اس بار سکتی سے بولا ۔۔

” کیوں یہ تمہارا روڈ ہے تمنے بنایا ہے “۔۔۔انعل اسکو گھورتے ہوئے کہا ۔۔

” جی بلکل یہ میرا روڈ ہے اب آپ جائے یہاں سے “۔۔۔گارڈ مزے سے بولا انعل کا تو صدمہ سے منہ کھل گیا اور اپنے بڑی بڑی آنکھوں کو اور بھی بڑی کر کے گارڈ کو اوپر سے لیکے نیچے تک دیکھا ۔۔

” اگر اتنے امیر ہو تو گارڈ کیوں بنے “۔۔۔ انعل حیرانی سے پوچھا ۔۔

” شوق تھا پورا کر رہا ہوں آپ کو کوئی مسئلہ ہے “۔۔۔گارڈ بھی کہا پیچھے رہتا ہر سوال کا جواب تیار تھا ۔۔۔

” ہیںںںں یہ کیسا شوق ہیں اور اگر گارڈ ہو تو ہم جیسے لوگوں کی باتیں مان نہ تمہارا فرض ہے نہ اب ہٹو “۔۔ انعل کو اب غصہ آگیا تھا ۔۔۔

” نہیں ہٹونگا آپ میرے سر کو تنگ کریں گی “۔۔۔گارڈ نے گھورتے ہوئے کہا ۔۔۔

” یا اللّه یہ کیسا منحوس گارڈ ہے منہ پے بول رہا ہے ہمیں ہے “۔۔انعل منہ کھولے حیرت سے بولی ۔۔

” آپ مجھے منحوس نہیں کہہ سکتی ہاں ہنڈسم ضرور بول سکتی ہے “۔۔۔گارڈ شرارت سے بولا ۔۔

” یا اللّه کیسا منہ پھٹ گارڈ ہے ہم سے فلرٹ کر رہا ہے رکو ابھی بلاتی ہوں اپنے گارڈ کو یہی رکنا “۔۔۔وہ اس کو گھورتی ہوئی بول کے چلی گئی ۔۔۔ پیچھے وہ گارڈ قہقہ لگاتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔۔

★★★★★★★

” السلام علیکم سر میں دافيہ شہباز اپکی سیکورٹی “۔۔ دافیہ نے مسکرا کر کہا بلیک جینس ریڈ شارٹ شرٹ گلے میں اسٹول سیاہ بال ٹیل پونی ۔۔

بیراج ایک پل کو اسے دیکھتا رہ گیا پر جلدی ہی خود کو سنجیدہ کر لیا ۔۔

” وعلیکم السلام تمہیں سارا کام شان نے سمجھا دیا ہوگا “۔۔ بیراج کام کی بات پر آیا ۔۔

” جی بی سر اور آج اپکی ایک میٹنگ ہے میں نے ساری تیاری کرلی ہے “۔۔ دافيہ نے جلدی سے اپنی پوری بات کہہ دی ۔۔

” بی سر ۔۔ جی وہ شان سر نے بولا آپکو اسی نام سے بلاؤں اگر آپکو برا لگا تو سوری “۔۔ دافیہ نے شرمندگی سے سر جھکا لیا ۔۔

” اٹس اوکے شان کو بھیجو اور یہ فائل لے جاؤ “۔۔ بیراج نے مسکرا کر اوکے جھکے سر کو دیکھا جو اتنی سی بات پر نظریں جھکا گئی تھی اسکی یہ ادا بیراج کو بہت پیاری لگی ۔۔

” اففف بچ گئی دیکھنے میں کتنے غصے سنجیدہ لگتے ہیں شکر بات نرمی سے کی ورنہ مجھے تو لگا بہت ہی کوئی کھڑوس سر ہونگے “۔۔ دافیہ خود سے بڑ بڑا آئی ۔۔

” شان سر آپکو بی سر بلا رہے ہے ۔۔

” سنو غصہ وغیرہ تو نہیں کیا نہ جیسا سمجھایا تھا ویسے ہے بات کی نہ “۔۔ شان جلدی سے پوچھا۔۔

” افف سر ٹینشن نہ لے سب اچھا ہوا اور بی سر تو اتنے بھی برے نہیں انہوں نے بہت اچھے سے بات کی “۔۔ دافیہ خوشی سے بتانے لگی ۔۔

” اوکے گود بیسٹ آف لاک “۔۔شان بولتا آگے بڑھ گیا ۔۔

یس پارٹنر ۔۔

شان رمشا کہاں ہے دس منٹ بعد میٹنگ ہے اور اس میڈم کا کچھ پتا نہیں ۔۔ بیراج نے غصے میں کہا ۔۔ بیراج شان رمشا تینو بیسٹ پارٹنر شپ تھے انہوں نے مل کر ایک ساتھ ایک پروجیکٹ سٹارٹ کیا تھا ۔۔

کیا اور تو اب بتا رہا ہے میں کال کرتا ہوں اسے ۔۔شان بولتا ہوا باہر چلا گیا ۔

★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★

” بابا ہم گھر چلے جائیں یہاں مزہ نہیں آرہا ہمیں “۔۔ انعل نے اپنے بابا کے پاس آکر کہا ۔۔

” کیا ہوا میرے بچے کو کسی نے کچھ کہا ہے کیا بتاؤ میری جان طبیعت تو ٹھیک ہے آپکی آپکے گلاسس کہاں ہیں “۔۔ حیات صاحب نے فکر مندی سے کہا ۔۔

” پتا نہیں وہ کون تھے انہوں نے میرے چشمہ لےلیا ہمیں بھوک لگی ہے “۔۔ انعل نے منہ بنایا ۔۔

” ہاہاہا اچھا میرے بچے کو بھوک لگی ہے چلو آؤ میں اپنی جان کو خود کھلاتا ہوں “۔۔ حیات صاحب ہنستے ہوئے اسے لیکے آگے بڑھ گئے۔۔

” ladies & Gentelmen have A Attention please

I have a announcement”

” جیسا کے سب کو پتا ہے آج میری کامیابی حاصل کرنے کے لئے پارٹی رکھی گئی ہے تو میں آپ سب کو ایک بہت ہی خاص شخص کے بارے میں بتاؤنگا جس کی وجہ سے میں آج یہاں پہنچا ہوں جس کے ساتھ مل کر میں نے بزنس سٹارٹ کیا اور آج یہاں آپ سب کے سامنے ایک کامیاب بزنس مین کھڑا ہوں اور وہ شخص ایک بزنس ٹائیکون ہے جسے کون نہیں جانتا ہوگا تو چلے میں آپکا انتظار ختم کرواتا ہوں اور جلدی سے اپنے بزنس پارٹنر کو بلاتا ہوں ۔۔”

” ویلکم ٹو دا بزنس ٹائیکون داريان حیدر خان “۔۔ عفان مسکراتا ہوا اپنے پارٹنر کا ویلکم کرنے لگا اور سب نے اسٹیچ کی طرف توجہ دی ۔۔

” جہاں وہ اپنی پوری شان سے چلتا ہوا آرہا تھا

سیاہ فور پیس ڈریس میں ملبوس لمبا چوڑا شگاف سفید رنگ سیاہ گھنے بال ماتھے پر جیل سے سیٹ ہلکی داڑھی گھنی موچھیں عنابی لب پیوست کیے مغرور ناک نیلی آنکھیں جو سرخ تھی جس میں ایک جنون تھا اپنی کامیابی حاصل کرنے کا وہ اپنی مغرور چال چلتا ہوا اسٹیچ پر آیا ۔۔”

” فرحان یہ سب کیا ہے “۔۔ حیات صاحب فرحان صاحب کے قریب آتے غصہ میں کہا ۔۔

” مجھے کچھ نہیں پتا لیکن یہ وہ نہیں ہے جو ہم سمجھ رہے ہیں کچھ سالوں سے ہم اس کا نام سنتے آئے ہیں تو آج کیسا شک “۔۔ فرحان صاحب پہلے گھبرا گئے پھر بات سنبھالتے ہوئے کہا ۔۔

” سنتے تو آئے ہیں پر اسکی آنکھیں اسکا چہرہ بہت کچھ یاد دلاتا ہے فرحان “۔۔ حیات صاحب نے ماضی کی باتیں یاد کرتے ہوئے دکھ سے کہا ۔۔

” ڈیڈ انکل ان سے ملے یہ داريان حیدر خان میرا بزنس پارٹنر “۔۔ عفان داريان کو ان سے ملوانے لے آیا۔۔

” السلام علیکم حیات صاحب کافی سنا ہے آپکے بارے میں “۔۔ داريان اپنی خوبصورت گمبھیر آواز میں بولا ۔۔

” وعلیکم السلام شکریہ بیٹا آپ جیسے بڑے بزنس ٹائکیون کو کون نہیں جانتا آپ نیو جنریشن ماشاءالله سے کافی اچھے سے کامیابی حاصل کر رہے ہیں “۔۔ حیات صاحب کافی خوش ہوئے داريان سے ۔۔

” بابا ہم بور ہو رہے ہیں “۔۔ انعل نے انکے پاس آتے پھر سے کہا اسے یہاں اب مزہ نہیں آرہا تھا ۔۔

” انعل حیات یہاں عفان چوہدری کی پارٹی میں بور ہو ایسا ہو نہیں سکتا چلے آئیں “۔۔ عفان نے شرارت سے کہا ۔۔

” یہ کون ہے ۔۔” انعل ریان کی آواز سن کر مڑی تو سامنے اس خوبصورت شخص کو دیکھ کر پوچھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔

” یہ میرا دوست اور بزنس پارٹنر داريان حیدر خان اور یہ میری پیاری سی دوست انعل حیات انکل حیات کی بیٹی “۔۔ ریان مسکراتا ہوا تعارف کروانے لگا ۔۔

” مل کر خوشی ہوئی “۔۔ انعل مسکراتی اپنا ہاتھ آگے بڑھ یا ۔۔

” می ٹو ۔۔ داريان نے نیلی آنکھوں سے پہلے اسکے چھوٹے سفید گلابی ہاتھ کو دیکھا پھر اسے جو سفید گھیر دار گاؤن میں تھی اسکے سیاہ لمبے بال کرل کیے ہوئے تھے جو آگے پیچھے سٹائل سے رکھے تھے لائٹ سا میکپ میں سیاہ گھنی پلکیں بری بری کالی آنکھیں وہ بہت خوبصورت دلکش لگ رہی تھی اور اپنا ہاتھ اسکے چھوٹے سے ہاتھ سے ملایا جس سے اسکا معصوم ہاتھ اسکے چوڑے ہاتھ میں چھپ گیا ۔۔انعل اس خوبصورت مرد کو دیکھتے ہی اسکی دل کی بیٹ مس ہوئی اور اسکا لمس اسکا دل دھڑکا گیا ۔۔

” چلو آؤ ڈانس کرتے ہیں “۔۔ عفان کی آواز پر وہ ہوش میں آئی ۔۔

” مم۔۔میں۔۔آا۔۔آپ کے ساتھ ڈانس کروں مم ۔۔ مطلب آپ ہمارے ساتھ ڈانس کریں گے ۔۔ انعل سے گھبراہٹ میں بولا نہیں گیا پتا نہیں کیوں اسکا دل اسکے ساتھ ڈانس کرنے کو نہیں کیا ۔۔

” اوکے داريان میری دوست کا دل مت توڑنا پھر میرے ساتھ “۔۔ عفان کو اسکا اگنور کرنا اچھا نہیں لگا ۔۔

وہ اسے لیکے اسٹیج پر آیا جہاں اور بھی کچھ کپلس ڈانس کر رہے تھے اسنے اسکا ایک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا دوسرا اپنے کندھے پر رکھا اور اپنا ایک ہاتھ اسکی کمر پر دوسرا اسکے ہاتھ میں اس دوران دونوں کی دل کی دھڑکن تیز رفتار سے دھڑکا۔۔

داريان نے اسے تھوڑا قریب کیا انعل کا دل اوچھل کر حلق میں آیا اسکے ہاتھ نم ہو گئے تھے وہ پہلی بار کسی مرد کے اتنے قریب کھڑی تھی اسکی دھڑکن مزید تیز تب ہوئی جب لائٹ بند ہوگئی پورے گرائونڈ کی اور صرف انکے اسٹیج کی جانب مہم سے روشنی ہوئی ڈی جے نے میوزک اون کیا ۔۔

I found a love, Darling just dive in

Follow my lead

وہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھے اب آہستہ آہستہ سٹیپس لینے لگا تھا ۔۔

I found a girl, beautiful and sweet

I never knew you were the someone waiting for me

” آ۔۔آپ کیا کرتے ہیں ۔۔”انعل کو ایک عجیب سی خوشی ہو رہی تھی اسکے ساتھ ڈانس کرتے ہوئے اسکا دل دھک دھک کر رہا تھا ۔۔

Cause we were just kids when we fell in love

Not knowing what it was

I will not give you up this time

” لگتا ہے آپکی یاداشت کمزور ہے ڈئیر ابھی آپکے سامنے میرا تعارف ہوا آئی ایم بزنس مین ۔۔”داريان اس معصوم دلکش کو دلچسپی سے دیکھتا ہوا سٹیپس لے رہا تھا انعل اپنے سوال پر شرمندہ ہوگی ۔۔

Darling just kiss me slow

Your heart is all I own

And in your eyes your holding mine…

” ہمیں لگتا ہے شاید ہم نے آپ کو دیکھا ہے پر یاد نہیں آرہا ۔۔”انعل کو وہ دنیا کا خوبصورت مرد لگ رہا تھا لمبا چوڑا اسکی نیلی سرخ آنکھوں میں کچھ تھا جو اسکی دھڑکن تیز کرنے لگا وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ نہیں پا رہی تھی اسنے اسے گول گھما کر پھر سے قریب کیا انعل نے نظریں جھکا دی ایک پل کو اسے لگا اسنے کہی دیکھا ہے اسے پر اسکی قریب ہوتے اسکی خوشبو اسکی ناتھنوں سے ٹکرائی وہ جیسے اسکے سحر میں کھو رہی تھی ۔۔

” ہو سکتا ہے پر میں نے آپ کو پہلی بار دیکھا ہے “۔۔ وہ اپنی گمبھیر آواز میں بولا ۔۔

Baby’ I am dancing in the dark

You between my arms, bare foot on the grass

Listening to our favourite song

When you said you looked a mess

I whispered underneath my breath,

But you heard it, darling you look

Perfect tonight….

” you look beautiful lady I want to Meet again “

اس نے جھک کر اسکے کان میں سرگوشی کی ۔۔اسکے ہونٹوں پر ایک پل کو مسکراہٹ آئی ۔۔

اسکی سرگوشی میں انعل کی دل کی بیٹ مس ہوئی مسکراتی ہوئی اسکی آنکھوں میں دیکھ کر اثبات میں سر ہلا یا انعل اپنی کیفیت سمجھ نہیں پا رہی تھی اسکا خود دل کر رہا تھا اسے دوبارہ ملنے کا وہ اسے لیکے نیچے اترا ۔۔

” مجھے دیر ہو رہی ہے اب انشاء اللّه پھر ملیں گیں “۔۔وہ اس سب سے کہتا ایک نظر انعل پر ڈالتا آگے بڑھ گیا اس کا ہر وقت قیمتی تھا جسے وہ ویسٹ کرنا پسند نہیں کرتا تھا ۔۔

” بابا ہم بھی چلتے ہیں ہم تھک گئے ہیں “۔۔ اچھا اپ اپنا بیگ لیکے آئیں اندر سے ہم یہی آپکا انتظار کرتے ہیں ۔۔ حیات صاحب اسکے تھکے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کہا ۔۔

” اوکے ہم آتے ہے ابھی “۔۔ انعل اندر کی طرف چلی گئی ۔۔

” حیات کچھ سوچا ہے انعل کے بارے میں “۔۔ فرحان صاحب انعل کے جاتے ہی اپنی بات کہی ۔۔

” کیا مطلب کیا سوچنا چاہیئے “۔۔ حیات صاحب نہ سمجھی سے کہا ۔۔

” ہاہاہا حیات تم بھی نہ میں انعل بیٹی کی شادی کے بارے میں پوچھ رہا ہوں “۔۔ فرحان صاحب ہنس پڑے انکی نہ سمجھی پر ۔۔

” ہاہاہا نہیں ایسا کچھ نہیں سوچا ابھی وہ بہت چھوٹی ہے اسے ان سب چیزوں کی سمجھ نہیں یار کبھی کبھی میں خود اپنی بیٹی کی معصومیت سے ڈر جاتا ہوں یہ دنیا ایسی نہیں جہاں ایسے معصومیت کو سمجھا جائے یار “۔۔ حیات صاحب انعل کی معصومیت کا سوچتے ہی ڈر جاتے تھے دنیا سے وہ جانتے تھے وہ کب تک اسے اپنے سینے میں چھپا کر رکھیں گے ۔۔

” میں جانتا ہوں یار وہ تمہاری زندگی ہے اور مجھے بھی بہت پیاری ہے اس لئے آرام سے سوچ کر جواب دینا “۔۔ فرحان صاحب عفان کی آنکھوں کی چمک سمجھ گئے تھے ۔۔

” اندر آگ لگ گئی ہے سب باہر نکل جاؤ آگ بہت تیزی سے پہیل رہی ہے “۔۔ گارڈ چلا تے ہوئے کہہ رہا تھا اور سب کو باہر نکل رہا تھا جو لوگ اندر تھے باقی کچھ باہر لان میں تھے ۔۔

” انعل ۔۔ فرحان انعل اندر ہے ۔۔ حیات صاحب کو انعل کا خیال آیا وہ تیزی سے اندر بھاگے فرحان صاحب بھی انکی بات سن کر پریشانی سے انکے پیچھے گئے عفان ان دونوں کو اندر جاتا دیکھ کر پیچھے گیا ۔۔

★★★★★

” بس یہی روک دیں “۔۔ دافیہ رکشہ سے نکل کر بیگ سے پیسے نکالے ۔۔

” کیا آپکے پاس کھلے ہیں میرے پاس فلال یہی ہے ہزار روپے کھلے نہیں ۔۔ نہیں میڈم میرے پاس کھلے نہیں آپ دیکھیں شاید ہو ۔۔” دافیہ ہزار روپے دیکھ کر پھر سے بیگ کھولا تھا کے کسی نے اسکے ہاتھ سے پیسے چھین کر آگے بھاگ گیا ۔۔

” یا اللّه میرے پیسے رک چور ورنہ میرے ہاتھوں سے نہیں بچو گے “۔۔۔ دافيہ صدمہ سے اس چور کو بھاگتی ہوئی دیکھ رہی تھی پھر اچانک رکشہ والے کو دیکھا اور کچھ سوچتے ہوئے اس چور کے پیچھے بھاگی وہ جانتی تھی وہ اس چور کو نہیں پکڑ پاۓ گی اور اسکے پاس اور پیسے بھی نہیں تھے رکشہ والے کو کیا دیتی دل میں اس چور کو بہت گالیوں سے نوازتی ہوئی بہت آگے نکل آئی اس رکشہ والے سے ۔۔

” یا اللّه اب آفس کیسے جاؤں نئی جاب ہے ابھی کچھ ہی دن ہوئے ہیں کیا سوچے گے دیر سے آئی ہے وہ چڑیل مس رمشا کو تو موقع چائیے مجھے نکالنے کے لیے اور اس چور کو کیڑے پڑیں “۔۔ دافيہ خود پر افسوس کرنے لگی اسکی جاب کو کچھ ویک ہوئے تھے اور اس میں اسے رمشا بلکل پسند نہیں تھی وہ ہمیشہ بیراج کے آگے پیچھے گھومتی پھر تی تھی دافیہ نے نوٹ کیا تھا وہ بیراج کو پسند کرتی ہے وہ اس کے ساتھ کسی لڑکی کو بھی برداشت نہیں کر پاتی لیکن وہ تو اسکی پرسنل سیکرٹری تھی دافيہ کو اتنے دنوں میں بیراج کے ساتھ کام کرتے ہوئے اچھا لگ رہا تھا یا شاید اسے بیراج پسند تھا وہ اپنی سوچوں کو جھٹک کر آگے بڑھی وہ تھوڑا ہی چلی تھی کی اسکے سامنے بلیک کار رکی دافيہ بھی رک گئی ۔۔

” آپ یہاں کیا کر رہی ہے “۔۔بیراج گاڑی سے نکلتا ہوا اسکے سامنے آیا اسنے سامنے دیکھا تھا دافیہ کو خود سے بڑبڑاتی پیدل جا رہی تھی ۔۔

دافیہ نےحیرت سے اسے دیکھا اسکا سامنے آنا سنجیدگی سے پوچھنا اسکا دل دھڑکا گیا وہ سیاہ سوٹ میں شہد رنگ آنکھیں پر گاگلز لگاۓ ہوئے بہت ہینڈسم لگ رہا تھا ۔۔

” مم۔۔میں یہاں سے آفس جا رہی تھی پر میرے پیسے چوری ہو گئے اور کوئی گاڑی نہیں لے سکتی تھی “۔۔ دافيہ شرمندہ ہوئی وہ کیا سوچتا ہوگا اتنی غریب لڑکی ہے جو ایک گاڑی تک نہیں کروا سکتی تھی ۔۔

” چلے آہ جائیں میں بھی آفس جا رہا تھا آگے سے خیال رکھنا چائیے آپکو مجھے لیٹ ورکر پسد نہیں “۔۔ بیراج وارننگ دیتا گاڑی میں بیٹھ گا دافیہ شرمندہ سی سر ہلا گئی ۔۔

★★★★★

” اپن کتنی بار بولے تجھے تھوڑا بڑا ہاتھ مارا کر اب یہ چھوٹے موٹے کام سے کچھ نہیں بنتا ہے دیکھا نہیں سرکار نے کتنی مہنگائی کردی ہے “۔۔ زافا نے سامنے کھڑے سترہ سال لڑکے سے کہا جو آج پھر کم پیسے چوری کر کے آیا تھا ۔۔

” اوے تو بھول گئی جب بڑا ہاتھ مارا تھا کیا ہوا تھا دو دن جیل میں رہا اپن “۔۔ مبشر نے غصے میں کہا ۔۔

” ہاں یاد آیا کمینہ پولیس والا میرے کو بھی ڈال نے والا تھا اپن صرف بات کرنے گیا تھا اور اس کمینے کی نیت ہی خراب تھی خیر اب کچھ سوچنا چاہیئے کوئی بڑا ہاتھ صاف کرنا چاہئے لیکن اس بار سنبھل کر “۔۔ زافا نے سوچتے ہوئی کہا ۔۔

” میرے لئے چوری کرو گی ۔۔ اسکے پیچھے بھاری مردانہ آواز آئی زافا نے گردن موڑ کر دیکھا تو ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *