Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafrat e Ishq (Episode 16)

Nafrat e Ishq by Mahra Shah

” آہ نہیں ہو رہا مجھ سے آنی نہیں ہو رہا میں کیا کروں وہ بلکل آپکی طرح روتی ہے آنی آپکی طرح تکلیف میں ہے مجھ سے نہیں ہوتا میں اسے دیکھتا ہوں تو مجھے اسکے باپ کی بےوفائی یاد آتی ہے پر میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں میں اسے دور نہیں رکھ سکتا ہوں میں اس سے نفرت بھی کرتا ہو تو مجھے اس سے عشق بھی ہے وہ کیوں ہے آپکی جیسی وہ کیوں ہے اتنی معصوم کیوں آہ ۔۔۔!! داريان گھر آتے ہی خود کو روم میں بند کرتا ہر چیز توڑتا ہوا چیخ رہا تھا وہ رو رہا تھا وہ مضبوط مرد آج وہ دس سالہ بچا بن کر رو رہا تھا اپنوں کی یاد میں انھیں کھونے سے وہ کس درد میں تھا آج وہ زخم تازہ ہو گئے تھے حیات صاحب کو دیکھتے ہوئے وہ انعل سے محبت کرنے لگا تھا پر اسکے باپ کی وجہ سے وہ اپنی نفرت بھی نبھا رہا تھا وہ روتے ہوئے وہیں زمین پر بیٹھ گیا آج وہ اپنی نفرت میں رو رہا تھا آج وہ اپنے عشق میں رو رہا تھا آج وہ اپنے بدلے میں رو رہا تھا وہ انعل کو تکلیف دیتا تو خود بھی اسے محسوس کرتا تھا وہ ظالم مرد نہیں بننا چاہتا تھا وہ اس پر ظلم نہیں کرنا چاہتا تھا پر وہ مجبور تھا اسکے باپ کو سبق سیکھانے کے لئے اسے بتانے کے لئے کسی کی بیٹی کو تکلیف دینا کیسا ہوتا ہے ۔۔

” لیکن نہیں میں اتنی دور آکر تھک نہیں سکتا اسکے لئے اسکی بیٹی سب کچھ ہے وہ اپنی بیٹی کو تڑپتا ہوا نہیں دیکھ سکتا اور میں اسے یہی سزا دے سکتا ہوں ۔۔۔ داريان اپنی سرخ آنکھیں ضبط سے بند کرتا گہرا سانس لیتا آنکھیں کھول کر اس بار اسکی آنکھوں میں نفرت تھی ایک بدلے کی نفرت حیات صاحب کو تڑپانے کی نفرت تھی ۔۔۔

★★★★

” انعل بچہ آپ ٹھیک ہے نہ آپ کچھ کھا کیوں نہیں رہی مجھے سے بات کرو پلیز جان مجھے تڑپاؤ مت ہم تھک چکے ہیں ۔۔!! حیات صاحب انعل کے ساتھ بیڈ پر بیٹھے کب سے اپنے کیے کی مافی مانگ رہے تھے اسے کھانا کھلانے کی کوشش کر رہے تھے انعل جب سے ہوش میں آئی تھی وہ خاموش ہو گئی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے اسکے ہی بابا نے اسکی ماں کے ساتھ جو کیا وہ سب سمجھ نہیں آرہا تھا اسے وہ نفرت بھی نہیں کر پا رہی تھی وہ اپنے باپ سے بہت محبت کرتی تھی نفرت کرتی بھی کیسے جس نے اسے کبھی چوٹ لگنے نہیں دی اسکے آنسو بہنے نہیں دیے وہ تو زندگی تھے انعل کی اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے حیات صاحب ست کہا تھا ۔۔

” ہم ٹھیک نہیں ہے بابا ہم ٹھیک نہیں ہے ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہا بابا ہمیں کچھ سمجھ نہیں آتا کیوں کیوں آپنے ہمیں ایسے پالا کیوں ہمیں کبھی رونے نہیں دیا کیوں ہمیں کوئی تکلیف محسوس کرنے نہیں دی کیوں بابا کیوں آج بہت درد ہو رہا ہے بہت تکلیف ہو رہی ہے پر برداشت نہیں ہو رہا بابا کیوں کیا ایسا ہمارے ساتھ کیوں کاش ماما ہوتی وہیں کچھ سیکھا دیتی وہیں ڈانٹتی وہیں سکھاتی لڑکیوں کو لاڈلہ نہیں ہونا چاہیے آگے کی زندگی بہت مشکل ہوتی ہے بابا وہ ہم سے ناراض ہیں وہ نفرت کرتے ہیں ہم سے بابا ۔۔!! انعل بے حد روتے ہوئے بولے جا رہی تھی حیات صاحب اسے چپ کروانا چاہتے تھے پر انکے پاس کچھ نہیں تھا بولنے کو آج وہ انکے سینے سے لگی اپنی تکلیف بتا رہی تھی ان تین ماہ میں اسنے کیا کچھ نہیں سہا وہ بہت میچور ہوگئی تھی ۔۔

” نہیں میری جان یہ ہماری غلطی ہے یہ سب کچھ میری وجہ سے ہوا ہے کاش میں اس وقت اتنا لالچی نہیں ہوتا فرحان کے ساتھ ہاتھ نہ ملاتا انعم کو نہیں چھوڑتا تو یہ سب نہیں ہوتا مجھے معاف کردو میرا بچہ مجھے معاف کردو ۔۔!! حیات صاحب اس سے معافی مانگنے لگے تھے وہ انکے سینے سے لگی روتی جا رہی تھی آنسوں تھے کے تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔۔

” میرا عشق خاموش ہے بابا اس میں کوئی شور نہیں ہے وہ خاموش ہو گیا ہے بابا ۔۔۔وہ تڑپ کر رو رہی تھی حیات صاحب کا دل کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو جیسے وہ اپنی بیٹی کو تڑپتا نہیں دیکھ سکتے تھے ۔۔

” بس کرو انعل مت رو اس ظالم کے لئے اسنے یہ سب مجھ سے بدلہ لینے کے لئے کیا ہے اب اور نہیں ہم آپ کو بچائیں گے آپ ہمارے ساتھ چلیں گی ہم اس پتھر دل شخص کے ساتھ آپکو نہیں رہنے دیں گے اسنے بہت غلط کیا ہے آپ کے ساتھ آپکی معصومیت ہی چھین لی ہے میں نہیں چھوڑونگا اسے اسکو سزا دینی ہے مجھے دیگا آپکو نہیں ۔۔!! حیات صاحب اسے اپنے سے الگ کرتے ہوئے محبت سے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا تھا انعل نے نفی میں سر ہلا یا تھا ۔۔

” ہم ان سے نفرت نہیں کر سکتے ہمیں تو عشق ہے ان سے وہ نفرت کر سکتے ہیں ہم نہیں ہمارے بیچ نفرت عشق ہے بابا وہ اپنے ارادے نہیں بدل سکتے ہیں نہ تو کرنے دو انہیں نفرت اور ہمیں عشق ہم ان سے الگ نہیں ہونا چاہتے ہیں بابا ہمیں انکے ساتھ رہنا ہے ہم دوسری انعم خان نہیں بن سکتے ہم ایک بچے کو اسکے باپ سے الگ نہیں کر سکتے ہیں بابا ہمیں مجبور مت کریں انھیں بلائے وہ ہمیں چھوڑ کر نہیں جا سکتے ہیں ۔۔!! انعل نے روتے دھڑکتے دل کے ساتھ کہا تھا وہ داريان سے الگ نہیں ہونا چاہتی تھی وہ بہت محبت کرنے لگی تھی اس سے ۔۔۔

” نہیں کرو اپنے ساتھ ایسا وہ تمہیں صرف تکلیف دیگا وہ میری نفرت کا بدلہ آپ سے لیگا میری جان سمجھو اس بات کو وہ نفرت کرتا ہے آپ سے یہ سب بدلہ لینے کے لئے کیا ہے اس بے ۔۔!! حیات صاحب نے سمجھانا چاہا تھا۔۔

” پتا ہے ہم ان سے نفرت نہیں کر سکتے بابا کوئی اپنے استاد سے نفرت کر سکتا ہے نہیں نہ پھر ہم کیسے کریں ہمیں تو نماز قرآن سکھایا پڑھایا ہے انہوں نے پھر ہم ایسے شخص سے کیسے نفرت کر سکتے ہیں بولیں ۔۔؟ انعل نے زخمی مسکراہٹ سے کہا تھا اسے وہ دن یاد آئے جب وہ اسے پیار سے سیکھاتا تھا پڑھاتا تھا حیات صاحب اس بات پر خاموش ہو گئے تھے کہیں نہ کہیں وہ شرمندہ ہو رہے تھے لاڈ پیار دنیا کی چیزوں میں وہ انعل کو دین کے بارے میں آخرت کے بارے میں پڑھانا سیکھانا بھول گئے تھے ۔۔

★★★★

” ڈی اے انعل کہاں ہے زافا جب سے آئی ہے اسکا پوچھ رہی ہے اور وہ گھر میں بھی نہیں تم یہاں ہو تو وہ کہاں ہے ۔۔؟ حنان نے پریشانی سے پوچھا تھا ۔۔

” اپنے باپ کے پاس ہے اسے لینے جا رہا ہوں ۔۔!! ڈی اے سنجیدگی سے بولتا آگے بڑھ گیا بنا حنان کی بات سنے ۔۔

” حان یہ بہت رو رہی ہے کیا کریں ۔۔۔ میری پیاری جنگلی بلی اسے بھوک لگی ہے ویسے تو بہت کچھ سمجھ آتا ہے تمہیں بچے کا رونا سمجھ نہیں آیا محترمہ کو ۔۔!! زافا کو بچے سنبھالنے نہیں آتے تھے اس لئے ڈرتے ہوئے اپنے بچے کو اٹھا رہی تھی حنان نے ہنستے ہوئے اسکے خوبصورت چہرے کو دیکھا تھا جو ماں کے روپ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔

” حان اس کا نام رکھو ۔۔۔ میں کیوں تمہیں رکھنا تھا نہ ۔۔؟ حنان نے حیرت سے اسے دیکھا جو کچھ دن پہلے اس سے نام پر لڑ رہی تھی ۔۔

” ہاں لیکن بیٹے کا سوچا تھا نہ اب انعل کے بیٹے پر رکھوں گی اس پر تم رکھو ۔۔!! زافا نے مسکراتے ہوئے کہا تھا حنان اٹھ کر اسکے ساتھ برابر بیٹھ گیا تھا اپنا ایک بازو اسکے گرد حائل کیا دوسرا اپنی پیاری سے بیٹی کو دیکھا چھوٹی گلابی سی پیاری بچی انکے بیچ بہت پیاری فیملی لگ رہی تھی انکی حنان نے مسکراتے ہوئے زافا کے ماتھے پر بوسہ دیا پھر اپنی بیٹی کو چوما تھا ۔۔

” اس کا نام ہے زویا فاطمہ ۔۔!! حنان نے پیار کرتے ہوئے اذان دے کر اسکا نام رکھا تھا زافا نے مسکراتے ہوئے دیکھا ان کو ۔۔

★★★★

” کیوں بلایا مجھے یہاں ۔۔؟ زید کا لہجہ بے زار سا تھا ۔۔

” انعل کا پیچھا چھوڑ دو ۔۔۔۔ ڈی اے نے سرد لہجے میں کہا تھا ۔۔

” محبت ہوگئی ہے ۔۔؟ زید نے مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” نہیں عشق ہو گیا ہے ۔۔ ڈی اے نے گہری دلچسپ مسکراہٹ سے کہا تھا ۔۔

” اتنی جلدی ہار مان لی اپنی نفرت بدلہ بھول گئے ۔۔؟ زید نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا تھا ۔۔

” ڈی اے کبھی ہار نہیں مانتا یہ تم اچھے سے جانتے ہو بدلہ نفرت کیسے کرنا چاہیے یہ میرا کام ہے نن اوف یور بزنس ۔۔؟ ڈی اے نے دل جلانے والی مسکراہٹ سے کہا تھا ۔۔

” اسے چھوڑنے کے لئے کیا لو گے ۔۔؟ تمہاری جان ۔۔۔ ہاہاہا تم نے کہا تھا تم بدلہ لے کر چھوڑ دوگے ۔۔؟ کس سے کہا تھا ۔۔؟ ڈی اے نے آبرو اٹھا کر کہا تھا زید نے ضبط سے مٹھی بھینچ لی تھی ۔۔

” اوکے تو تم اسے نہیں چھوڑ سکتے اور میں بھی نہیں وہ میری پہلی اور آخری محبت ہے اسکے جیسی معصوم حسین دلکش آج تک نہیں دیکھی اور تم کیا کرو گے اسکی معصومیت چھین لوگے ۔۔؟ زید نے غصے میں کہا تھا ۔۔

” میں اسکے ساتھ کیا کرونگا یہ میرا مسئلا ہے تمہارے منہ سے اب کوئی بھی لفظ نہ نکلے اسکے لئے ورنہ اچھا نہیں ہوگا اور اگر تم واقع اسکا بھلا چاہتے ہو تو اسے سکون سے رہنے دو اسکی طبیعت صحیح نہیں ہے ڈاکٹر نے اسے پریشانی تکلیف سے دور رکھنے کو کہا ہے اس لیے تمہیں بلایا تھا اگر تمہارے دل میں اسکے لیے عزت ہے تو اسکا خیال کرنا تمہارا فرض ہے ۔۔!! ڈی اے کو غصہ تو بہت آیا زید کے منہ سے انعل کے لئے ایسے لفظ سنتے ہوئے پر خود پر ضبط کرتے ہوئے کہا تھا وہ جانتا تھا زید انعل کو تکلیف تو نہیں دیگا ڈاکٹر کی بات نے اسے تھوڑا خوف زدہ کردیا تھا وہ اپنے بچے کو نہیں کھونا چاہتا تھا ۔۔

” کیا کیا ہے تم نے اسکے ساتھ بولو کیا ہوا ہے اسے وہ ٹھیک ہے نہ کیوں کر رہے ہو اسکے ساتھ ایسا ۔۔!! زید دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ غصے میں بولا تھا اسکی محبت انعل کے لئے سچی تھی وہ کبھی اسے تکلیف دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا بس وہ چاہتا تھا وہ اسکی ہو جاۓ ۔۔

” وہ ٹھیک ہے اب میں بس تمہاری ہیلپ چاہتا ہوں تم جانتے ہو اسے کبھی بھی کوئی بھی تکلیف نقصان دے سکتا ہے تمہاری میری دشمنی اپنی جگہ لیکن میں جانتا ہوں تم بھی اسے کچھ نہیں ہونے دوگے اسکی جان کو خطرہ ہے وہ بھی تمہارے باپ سے اگر میرے بچے کو کچھ بھی ہوا تو تم جانتے ہو میں کیا کچھ کر سکتا ہوں ۔۔؟ ڈی اے کے لہجے میں سخت وارننگ تھی جسے زید اچھے سے سمجھ گیا تھا دونوں بچپن سے ساتھ تھے ایک دوسرے کو بہت اچھے سے جانتے تھے ۔۔

” تم چاہتے ہو اتنا عرصہ میں دور رہوں اس سے یہ بہت مشکل ہے میرے لئے تم جانتے ہو اسے میں کچھ نہیں ہونے دونگا لیکن اسے دیکھے بغیر میں رہ نہیں سکتا پہلے بتا رہا ہوں ۔۔؟ زید کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ آئی تھی وہ دیکھنے میں بھی بہت ہینڈسم خوبصورت مرد تھے ڈی اے زید دونوں فل بلیک سوٹ میں تھے بہت ہی پیارے ڈیشنگ لگ رہے تھے ۔۔

” وہ نہیں جانتی ڈی اے کون ہے وہ صرف داريان حیدر خان کو جانتی ہے اور زید جعفری کو جانتی ہے ۔۔؟ ڈی اے بولتا اٹھ کر باہر نکل گیا پیچھے زید ہلکی مسکراہٹ سے اسکی پشت دیکھتا رہا ۔۔

★★★★

” بب ۔۔بابا ۔۔دد ۔۔داريان آئے کیوں نہیں ہمیں لینے اا۔۔انھیں فون کریں نہ ہم ہم معافی مانگ لیں گے ان سے بس وہ ہمیں چھوڑیں نہیں ہم ایک اور انعم ماما نہیں بنا چاہتے ہیں پلیز بابا ۔۔انعل نے روتے ہوئے کہا ہر لمحہ گزرتا ہوا دل پر بڑا گہرا گزر رہا تھا ۔۔

” وہ ضرور آئیگا بیٹا اسنے کہا تھا وہ حیات نہیں بنے گا دیکھنا وہ آئیگا ہم معافی مانگ لیں گے وہ آپ کے ساتھ کچھ نہیں کرے گا اب کچھ کھا لو اءسے کرو گی تو طبیعت خراب ہو جاۓ گی آپ اس ننھی سی جان کو کیوں سزا دے رہیں ہے ۔۔۔؟ حیات صاحب کا دل تو تڑپ رہا تھا اپنی بیٹی کی ایسی حالت دیکھتے ہوئے ان سے انعل کا دکھ برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔۔

” ہم نہیں وہ دے رہیں ہے سزا ہمیں اپنے بچے کو انہیں کیوں ہم پر رحم نہیں آتا بابا کیوں آہ ۔۔ انعل تڑپتے ہوئے رو رہی تھی اس ظالم انسان کے لئے جس سے وہ عشق کر بیٹھی تھی ۔۔

” میری جان آپ مضبوط بن جاؤ آپ ایک نہیں ہے اب آپکو ہمت کرنی ہوگی آپ اسکو محبت سے جیتیں گی اس طرح ہار کر نہیں اب کوئی حیات انعم نہیں بنے گا آپ سمجھ رہی ہے ہماری بات ۔۔!! حیات صاحب پیار سے اسے سمجھانے لگے تھے وہ نہیں چاہتے تھے کہ پھر سے انکی کہانی شروع ہو وہ انعل کو مضبوط بنانا چاہتے تھے ۔۔

” چلیں اٹھیں آپ کو نماز ادا کرنی چاہیے وہی آپ کو سب دیگا جو آپ اس رب سے دل سے مانگے گی آپ جانتی ہے نہ اسکے سوا کوئی نہیں ہے جو مشکل وقت میں بھی ساتھ چھوڑے وہ ہمیشہ اپنے بندے کے ساتھ رہتا ہے ۔۔؟ حیات صاحب کے بہت سمجھانے کے بعد وہ اٹھ کر وضو کرنے گئی تھی ۔۔

‏” رَبِی اَنّیِ مَغلُوبٌ فَانْتَصِرْ-“

اے میرے رب! میں بے بس ہوں تو میری مدد فرما

انعل دعا کے لئے ہاتھ اٹھا کر آیت پڑھتے ہوئے بے بسی سے روتے ہوئے اپنے رب سے دعا کرنے لگی تھی اسکا معصوم چہرے پر حجاب اسکا معصوم خوبصورت چہرہ بہت زیادہ پیارا لگ رہا تھا وہ دل سے عبادت کرنے لگی تھی اسکے چہرے پر نور آیا تھا بیشک رب کی عبادت کرتے ہوئے چہرے پر خوبصورت سا نور آتا ہے جو آج انعل کے معصوم چہرے پر تھا ۔۔

★★★★

” بیراج ایسا کیوں ہے وہاں جا کر واپس کیوں آنا پڑتا ہے ہم اپنی روح دل وہیں چھوڑ کے آتے ہیں ساتھ صرف اپنا وجود لیکے آتے ہیں میرے آنکھوں کے سامنے وہی منظر بیت رہا ہے کعبتہ اللہ شریف روزہ رسول ﷺ کے آگے بیٹھ کر کتنا سکون آتا ہے وہاں ایک ایسا سکون ہے جس کے لئے ہم یہاں تڑپتے ہیں ۔۔۔!! دافیہ ان منظر میں کھو گئی تھی وہ لوگ کل ہی واپس آئے تھے عمرے سے حیات صاحب سے کل رات ہی بات کی تھی انعل کی بھی بات ہوگئی تھی انعل سے وہ بہت خوش تھی انکے لئے یہاں بھی سب اس سے بات کرتے ہوئے بہت خوش ہوئے بہت سی دعا سب نے اسے دی ۔۔

” صحیح کہا دل روح تو وہیں چھوڑ کے آئے ہے اللّه پاک پھر ہم سب کو یہ سعادت نصیب کرے آمین ۔۔۔!! بیراج نے مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” بیٹا کیا انعل پاکستان آئے گی ۔۔؟ بی جان نے روم میں آتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔

” نہیں بی جان چاچو نے کہا داريان اسے اس حالت میں پاکستان لیکے نہیں آنا چاہتا اس لئے آپ بے فکر رہیں ہم کچھ دن میں چلیں گے اس سے ملنے ۔۔!! بیراج نے مسکراتے ہوئے بی جان سے کہا تھا وہ مسکراتی انعل کے لئے دعا کرنے لگی ۔۔۔

” اللّه آپ دونوں کو بھی نیک صالح اولاد نصیب کرے آمین ۔۔!! بی جان انھیں دعا دینے لگی بیراج دافیہ نے بھی آمین کہا تھا ۔۔۔

★★★★

” کیا تم مجھے معاف نہیں کر سکتے ۔۔؟ حیات صاحب نےبے بسی سے کہا تھا ۔۔

” کیا آپ نے میری آنی کو معاف کیا تھا ۔۔؟ داريان انکے سامنے تھا اسکی آنکھوں میں وہی نفرت تھی ۔۔

” انعل کو لینے آیا ہوں اسے میرے ساتھ بھیجو ورنہ آپ نہیں جانتے میں کیا کچھ نہیں کر سکتا ۔۔؟ داريان کو لگا شاید وہ انعل کو نہیں جانے دیگا ۔۔

” میں اسے روکوں گا نہیں کیوں کے میں اب ایک اور انعم حیات نہیں چاہتا بس ایک گزارش ہے میری بیٹی کو میرے گناہ کی سزا مت دینا پلیز داريان وہ سہہ نہیں پائے گی وہ بہت معصوم ہے اسکی معصومیت مت چھین نہ پلیز بیٹا میں آپکے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں میری بچی کو کوئی تکلیف مت دینا میں جی نہیں پاؤں گا اب اور بوج نہیں لے سکتا میں پہلے ہی بہت شرمندہ ہوں خود کی غلطی پر ۔۔!! حیات صاحب نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا تھا وہ بہت پچھتا رہے تھے اتنے سالوں سے خود کو کیسے زندہ رکھا تھا یہ ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا ۔۔

” یہی تڑپ دیکھنا چاہتا ہوں یہی شرمندگی سے جھکا سر دیکھنا چاہتا ہوں آپکا یہی درد دل میں دیکھنا چاہتا ہوں جو میرے باپ کے اندر تھا میری آنی کے پاس تھا لیکن آپ وہ درد کبھی محسوس نہیں کر سکتے ہیں جو میرے اندر ہے کیسے اپنے ہی ملک سے اپنے ماں باپ آنی کا آخری بار بھی چہرہ دیکھ نہیں پایا میں جانتے ہیں کیسا درد ہوتا ہے جو درد دیتے ہیں وہ درد محسوس نہیں کر پاتے لیکن آپ کو تو میں ساری زندگی تڑپائونگا اپنی بیٹی کو دیکھنے کے لئے تڑپیں گے لیکن اگر اس سے آج کے بعد ملنے کا سوچا بھی تو میں اسے کیا کرونگا یہ بات آپ بہت اچھے سے جان جائیں گے جاکے دیکھ لیں اپنے دوست کی لاش کو بھیج دی ہے اسکی لاش کو دل تو آپکے ہزار ٹکڑے کرنے کو کر رہا ہے پر صرف اپنی آنی کی وجہ سے چھوڑا ہے آپ کو لیکن یہ مت سمجھنا معاف کردیا میں نے آپکو اب تو جب تک سانس لے رہیں تب تک تڑپیں گے ۔۔۔!! داريان بے حد سرخ چہرے سے حیات کی آنکھوں میں دیکھتا غصے میں غرایا تھا ۔۔۔

” دد۔۔داريان پپ ۔۔پلیز آ ۔۔۔۔۔ چپ ایک دم چپ تم بیچ میں نہیں بولو گی یہ میری جنگ ہے میری تکلیف ہے اسکے بیچ مت آؤ مجھے نفرت ہے ان لوگوں سے جو دوسروں کے درد کو نہیں سمجھتے اپنی لالچ میں جیتے ہیں اور اگر تم سچ میں میرے ساتھ رہنا چاہتی ہو تو آخری بار مل لو اپنے باپ سے یہ انکے لئے سزا ہے جیسے میری آنی کو دی تھی نہ انکے بچے شوہر سے الگ کر کے چلو اب ۔۔۔!! داريان غصے میں دھاڑتے ہوئے آگے بڑھ کر انعل کا ہاتھ پکڑتا آگے بڑھا تھا انعل نے روتے ہوئے پیچھے اپنے باپ کو دیکھا جو اسے اداس سی مسکراہٹ اور نم آنکھوں سے دیکھ رہے تھے وہ روتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگی تھی داريان بے حد غصے میں تھا اسکے آنسؤں بھی اس پر کوئی اثر نہیں کر رہے تھے ۔۔۔

★★★★

” االسلام علیکم انعل کیسی ہو پتا ہے زافا آپکا کب سے انتظار کر رہی ہے ۔۔!! حنان داريان کے ساتھ اندر آتی انعل کو دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” وعلیکم السلام جی ہم بعد میں آکے ملتے ہیں ۔۔! انعل حنان کو جواب دیتے داريان کے پیچھے روم میں گئی جو اسے اگنور کیے اوپر روم میں چلا گیا تھا حنان اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اپنے روم میں چلا گیا تھا ۔۔

” آ ۔آپ ہم سے ناراض ہیں پپ ۔۔پلیز بب ۔۔بابا کو معاف کردیں وہ بہت شرمندہ ہے آ ۔آپ سے بھی معافی مانگ چکے ہیں ۔۔ انعل نے ڈرتے ہوئے کہا تھا داريان غصے میں اپنی فائل ڈھونڈ رہا تھا وہ اس وقت انعل پر غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن شاید وہ چاہتی تھی وہ غصہ کرے وہ ضبط کرتا باہر جانے لگا تھا کے انعل پھر بول پڑی تھی ۔۔۔

“کّک ۔۔کہاں جا رہے ہے آپ ۔۔؟ اسکا ہاتھ پکڑ کر روکتے ہوئے پوچھا تھا اس نے ۔۔

” مرنے جا رہا ہوں چلو گی ۔۔؟ داريان نے غصے میں گھور کر کہا تھا ۔۔

” اللّه نہ کریں ایسے نہیں کہتے ۔۔!! انعل نے دھڑکتے دل کے ساتھ اسکے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” اچھا پھر کہو مرے آپکے دشمن بولو ۔۔؟ وہ طنزیہ مسکراہٹ سے بولا ۔۔۔

” ہہ ۔۔ہم ایسا بھی نہیں کہیں گے آپ کیوں ایسا بول رہیں ہے ۔۔!! وہ نم آواز میں بولی تھی ۔۔

” کیوں نہیں کہو گی کیا مجھے ایسا نہیں بولنا چاہئیے !! داريان اسکا ہاتھ ہٹا کر اس پر گرفت مضبوط بناتے بولا تھا ۔۔۔

” ہہ۔۔ہم جانتے ہیں آپ کسے اپنا دشمن سمجھتے ہیں ۔۔!! انعل نے پانی بھری آنکھوں سے کہا تھا ۔۔

” پھر تو تمہیں کہنا چائیے تمہارے شوہر کے دشمن ہے کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔۔!! داريان نے اسے اپنے قریب کرتے ہوئے کہا ۔۔

“آ ۔آپ واپس کب آئیں گے کّک ۔۔کیا جانا ضروری ہے پلیز داریان کیا آپ ہمارے ساتھ خوش نہیں رہ سکتے ہیں ہم آپ کے بغیر نہیں رہنا چاہتے ہیں پلیز ۔۔۔!! انعل نے بات بدلتے ہوئے اسے روکنا چاہا بولتے ہوئے اسکے آنسو بہنے لگ گئے ۔۔

” پتا ہے اس دنیا کے لوگ بہت ظالم ہے لیکن اس دنیا کو بنانے والا بہت رحمٰن رحیم ہے وہ کسی بھی بندے کو اکیلا نہیں چھوڑتا میں اسکے سامنے پتا ہے کیوں جھکتا ہوں کیوں کوئی نشہ وغیرہ نہیں کرتا کیوں کے اسنے مجھے سنبھالا ہے اسنے مجھے زندہ رکھا ہے اسنے مجھے دنیا کے یہ ظالم لوگ دیکھاۓ ہیں اسنے اپنی رحمت دکھائی ہے اسکی راہ میں چلنے سے کتنا سکون ملتا ہے یہ مجھ سے پوچھو اسکے ذکر میں کتنا آرام آتا ہے یہ میں جانتا ہوں جب مجھے کوئی سنبھالنے والا نہیں تھا تو اسے سنبھالا اسے مجھے روزی دی بھوکا سونے نہیں دیا وہ تو رب ہے ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت دینے والا وہ کسی کو بھی تنہا نہیں چھوڑتا جو لوگ کہتے ہیں نہ ہم ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے وہ لوگ رہ لیتے ہے جب وہ اسکی راہ میں جاتے ہیں جب وہ سکون کی تلاش میں نکلتے ہے ۔۔

” اِنَّ مَعَ ال٘عُس٘رِ یُس٘رًا بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے ” اور وہ میرے لئے آسانی پیدا کرتا ہے انسان تو صرف مشکلیں پیدا کرتا ہے میں صرف اسکی ذات سے ڈرتا ہوں مجھے صرف اس سے خوف آتا اسکے جلال سے آتا ہے تمہیں بھی سکون کی تلاش ہے انعل تمہیں مجھ سے نہیں اسکی راہ میں سکون ملے گا تم انکے آگے جھکو اس سے مانگو خود کو مجھے صرف وہی دیتا ہے انسان کچھ نہیں ہوتا وہ صرف اسکا وسیلہ بنتے ہیں میں نے صرف ایک ہی دعا مانگی ہے اس سے وہ مجھے انصاف دلا دے میرے ماں باپ آنی کی روح کو سکون دے میں غلط کام نہیں کرنا چاہتا لیکن میں مجبور ہوں میرے پاس کچھ نہیں ہے میں جو کام کرتا ہوں میں جانتا ہوں اسے کیسے کرنا ہے اس لئے وہ مجھے غلط راہ پر چلنے سے روکتا ہے اور ایک بات میں تمہارے باپ کو کبھی معاف نہیں کر سکتا اگر تم میری جگا ہوتی شاید تم بھی یہی کرتی میں اسکے ساتھ جو بھی کروں تم میرے بیچ میں مت آنا یہاں میں تمہیں تکلیف دیتا ہوں تو وہاں اسے تکلیف ہوگی لیکن میں اپنے بچے کو تکلیف نہیں دے سکتا اس لئے جب تک یہ نہیں آتا اس دنیا میں تب تک میرے ساتھ رہو خوش رہو اپنے باپ سے ملنے کی کوشش مت کرنا میں برداشت نہیں کروگثا انعل ۔۔!! داريان اسکا منہ اپنے ہاتھ کے پیالوں میں لیتا بہت نرمی سے اسے سمجھا رہا تھا وہ روتے ہوئے اسکے سینے سے لگ گئی تھی داريان نے اسکے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھ دیے ۔۔

” ہمیں نہیں پتا ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے پر ہم اپنا نصیب سمجھ کر خاموش ہیں شاید یہی سب لکھا تھا ہماری قسمت میں ۔۔!! انعل نے اسکے سینے سے لگ کر روتے ہوئے کہا تھا داريان خاموش رہا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *