Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafrat e Ishq (Episode 11)

Nafrat e Ishq by Mahra Shah

” آپکی طبیعت کیسی ہے اب ۔۔” انعل نے دافیہ کے روم میں آتے ہوئے کہا ۔۔

” میں ٹھیک ہوں اب آپ کیسی ہیں۔۔” دافیہ اب پہلے سے بہتر تھی اسکے دادا کو ایک مہینہ ہو گیا تھا کچھ دنوں پہلے وہ جانا چاہتی تھی پر سب کے بہت اسرار پر وہ رک تو گئی تھی پر اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا آج اسنے سوچ لیا تھا وہ بیراج سے بات کرے گی اسے جاب پر بھی رکھے اور اپنے گھر جانے دے یہاں رہتے اسکی انعل کے ساتھ کافی اچھی دوستی ہوگئی تھی اسکی معصومیت اسکا پیار دافیہ کو وہ لڑکی بہت اچھی لگی انعل میں واقع کوئی کشش تھی جو ہر کسی کو اپنی طرف توجہ دیتی تھی ایسا دافیہ کو لگتا تھا ۔۔

” آپ بیراج بھائی کے ساتھ کام کرتی تھی نہ پہلے آپکو میرے بیراج بھائی کیسے لگتے ہیں ۔۔” انعل کو سب سے پتا چلا تھا بیراج دافیہ کو پسند کرتا ہے اسکی خوشی کا اظہار کرنا مشکل تھا وہ بے حد خوش تھی ان دونوں کے لئے لیکن بیراج نے اسے منع کردیا تھا وہ فلحال دافیہ سے اس بارے میں بات نہ کرے ابھی وہ اپنے دادا کے لئے اداس ہے ۔۔

” جج ۔۔جی میں انکے آفس میں کام کرتی تھی ووہ اچھے انسان ہیں ۔۔” اسکے سوال پر دافیہ کا دل تیز دھڑک اٹھا تھا وہ سرخ گالوں سے ہلکی آواز میں بولی تھی اب اسے کیا بتاتی وہ شخص اسے کتنا اچھا لگتا ہے کتنی بار اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر بھی اسکی ہر ڈانٹ سہی تھی ۔۔

” آپکو پتا ہے ہم نہ انکے لئے کوئی لڑکی ڈھونڈ رہیں ہے پر کوئی اچھی پیاری لڑکی مل نہیں رہی کیا آپ کسی کو جانتی ہے ۔۔” انعل نے شرارت سے کہا تھا اسکی جھکی نظریں دیکھتے ہوئے وہ مسکرائی ۔۔

” مم ۔۔مجھے نہیں پتا آپ لوگ خود اچھی لڑکی ڈھونڈ لیں انکے لئے وہ ایک بہت اچھی لڑکی ڈیزرو کرتے ہیں ۔۔” دافیہ خود کو اسکے قابل نہیں سمجھتی تھی خود کو رونے سے روکتے ہوئے کہا تھا اسنے اور تیزی سے واش روم میں چلی گئی ۔۔

” ارے اسے کیا ہوا کیا ہم نے کچھ غلط بولا نہیں تو ہم تو صرف مذاق کر رہے تھے نہ ۔۔” انعل کو اسکا تیزی سے اٹھ کر جانا سمجھ نہیں آیا ۔۔

” کیا ہوا تمہیں منہ کیوں بنایا ہوا ہے ۔۔” بیراج اسے سامنے سے آتا دیکھ کر بولا جو الٹے سیدھے منہ بنا کر آرہی تھی ۔۔

” کچھ نہی وہ ہم دافیہ سے کہہ رہے تھے آپ کوئی اچھی لڑکی بتاؤ ہمارے بیراج بھائی کے لئے ۔۔” انعل نے منہ بناتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” اچھا پھر کیا کہا اسنے کیا آپکو نہیں پتا میرے لئے کون سی لڑکی اچھی ہے ۔۔” آئبرو اچکاتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” انہوں نے کہا آپ کو کوئی اچھی لڑکی ملنی چاہیے پھر ہم نے کہا کوئی ڈھونڈ کر دو تو غصے میں واش روم چلی گئی یہ بھی کوئی بات ہوئی اب ہم انھیں بتادیں گے ہم سب نے انکو آپکے لئے پسند کیا ہے ۔۔” انعل نے منہ بناتے ہوئے خوشی سے کہا تھا ۔۔

” آپ رہنے دے ہم خود بتا دیتے ہے اسے ویسے بھی میں بات کرنے والا تھا اچھا آپ جاؤ داريان آیا ہے آپکو لینے ۔۔” بیراج مسکراتے ہوئے بولتا آگے بڑھ گیا انعل داريان کا نام سنتی دھڑکتے دل کے ساتھ آگے بڑھی ۔۔

★★★★

” آجاۓ ۔۔بیراج سر آ ۔آپ آئے ۔۔” دافیہ بیراج کو دیکھتے تیزی سے کھڑی ہوئی ۔۔

” مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے بیٹھو ۔۔” بیراج صوفہے پر بیٹھتا ہوا بولا دوسرے سائیڈ دافیہ بھی خاموشی سے بیٹھ گئی ۔۔

” مم ۔۔مجھے بھی آ ۔آپ سے بات کرنی تھی مم ۔۔میں اپنے گھر واپس جانا چاہتی ہوں اور میں چاہتی ہوں آپ مجھے واپس جاب پر بھی رکھیں ۔۔” دافیہ نے گھبراتے ہوئے نظریں جھکا کر اپنی بات کی ۔۔

” اور اگر میں کہوں میں جانے نہیں دونگا تو کیا کرو گئی ۔۔” بیراج اسے دلچسپی سے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” میں آپکی بہت شکر گزار ہوں اپنے میری بہت ہیلپ کی ہے لیکن میں اب اور نہیں رک سکتی یہاں پلیز مجھے جانے دیں ۔۔” دافیہ نظریں اٹھا کر اسکی آنکھوں میں دیکھا کچھ تو تھا اسکی نظروں میں جیسے دافیہ نے تیزی سے اپنی نظریں جھکا لی تھی ۔۔

” تم یہاں سے کہیں نہیں جاؤ گی اور اگر گئی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا تم اب یہیں رہو گی وہ بھی ہمیشہ کیلئے ۔۔” بیراج سنجیدگی سے بولا تھا ۔۔

دافیہ نظریں اٹھا کر نا سمجھی سے دیکھا تھا اسے ۔۔

” میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں اور یہ بات میں اپنے گھر والوں کو پہلے ہی بتا چکا ہوں انعل بھی جانتی ہے اس لئے وہ تمہیں تنگ کر رہی تھی ۔۔” بیراج نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا ۔۔

” مم ۔۔مطلب میں سمجھی نہیں آ ۔آپ نے مجھے سے پوچھا بھی نہیں اور ڈیٹ بھی رکھ دی ۔۔” دافیہ غصے میں کھڑی ہوگئی اسے برا تو لگا تھا بیراج کا نہ پوچھنا سیدھا اسنے حکم سنا دیا تھا ۔۔

” اوکے پھر میں تم سے پوچھتا ہوں کیا تم مجھ سے نکاح کروگی جواب ہاں میں ہونا چاہئے نہ سننے کی عادت نہیں میری ۔۔” بیراج نے اسکے قریب آتے ہوئے کہا تھا دافیہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ اسے شکوہ کن نظروں سے دیکھا جو پوچھ کم حکم زیادہ دے رہا تھا ۔۔

” مم ۔۔میں جانتی ہوں آ ۔آپ مجھ پر یہ احسان کیوں کر رہیں ہے پر مجھے اسکی ضرورت نہیں ہے آپ کسی اچھی لڑکی سے شادی کرلے مم ۔۔مجھے جانے دے یہاں سے ۔۔” دافیہ نم آواز میں بولی تھی اسے لگا بیراج اس پر رحم کھا رہا ہے وہ یہ فیصلہ دل سے نہیں لے رہا ہے ۔۔

” آہ ۔۔ شش دوبارہ اگر ایسی بکواس کی تو جان سے مار دونگا یہ فیصلہ میرا اپنا ہے تم پر رحم کھا کر نہیں کیا دل لگا کر کیا ہے مجھے تم اچھی لگنے لگی ہو اور ایک بات جس چیز پر میرا دل آتا ہے وہ صرف میری ہوتی ہے اور اب تم صرف اور صرف میری ہو خود کو تیار کر لو نکاح کے لئے کل ہمارا نکاح ہے بہت سن لی تمہاری بہت ٹائم دے دیا تمہارے دادا کی روح کو بھی سکون چائیے اپنی پوتی کی خوشی دیکھ کر ۔۔” بیراج اسے بازو سے پکڑ کر جھٹکے سے اپنی طرف کھینچتا ہوا غصے میں بولا تھا ۔۔

اسکے قریب آنے سے دافیہ کا دل بری طرح دھڑکا تھا بیراج اسے چھوڑتا غصے سے باہر نکل گیا دافیہ کی باتوں نے اسے غصہ دلا دیا تھا اور ادھر دافیہ اسکے غصے اور باتوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔

★★★★

” چائے پی لو ٹھنڈی ہو جائے گی ۔۔” حنان زافا کے آگے چائے دیکھتا ہوا بولا تھا ۔۔

” وہ کیا ہے نہ اپن ٹھنڈی چائے پیتی ہے اگر گرم چائے پی تو جو دل میں لوگ رہتے ہیں وہ جل جائے گے نہ اور اپن اتنی ظالم نہیں جو انھیں جلا دے ۔۔” زافا مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” یہ خود کو مظلوم سمجھنا چھوڑ دو تم کتنی ظالم ہوں یہ مجھ سے بہتر کون جانتا ہے اور پتا ہے میں گرم چائے پیتا ہوں کیوں کے جو میرے دل میں رہتے ہیں وہ جل جائے ۔۔” حنان بھی کہاں پیچھے رہتا ۔۔

” بہت افسوس ہوا میرا شوہر بہت بیوقوف ہے اپن تو مذاق میں دل جلا رہی تھی تم تو سچ میں جلا رہے ہو اور چائے دل میں نہیں جاتی پیٹ میں جاتی ہے میدے میں ہاہاہا ۔۔” زافا اسکی بیوقوفی پر ہنسی حنان غصے میں اٹھ کر روم میں چلا گیا مجال ہے جو دونوں کبھی سکون سے بیٹھ کر باتیں کرلے ۔۔

” الے میرے حان کو غصہ آگیا ۔۔” زافا اسکے پیچھے آتے ہی پھر سے شروع ہوگئی حنان غصے میں گھورتا اسکی طرح بڑھا ۔۔

” حان نہیں آہہہ ۔۔۔ زافااا کیا ہوا تم ٹھیک تو ہو ۔۔۔ حح۔۔ حنان مجھے چکر آرہیں ہے ۔۔ یہاں آؤ بیٹھو کتنی بار کہا ہے لڑائی جھگڑا مت کیا کرو ہر وقت لیکن تمہارے دماغ میں کوئی بات نہیں بیٹھتی ۔۔” حنان جیسے اسکے قریب گیا زافا نے بھاگنا چاہا پر اسے چکر آگیا حنان نے اسے سر پر ہاتھ رکھتے دیکھا اسکے گرنے سے پہلے اسے تھام لیا پھر اسے ڈانٹتے ہوئے بیڈ پر بیٹھایا ۔۔

” صرف میں لڑائی جھگڑا نہیں کرتی تم بھی شروعات کرتے ہو اور اب مجھے ایسے مت ڈانٹو ورنہ میں رونے لگونگی ۔۔” زافا نے منہ بناتے ہوئے کہا تھا حنان کا ڈانٹنا اسے برا لگا تھا ۔۔

” حد ہے بیمار ہو پھر بھی باز نہیں آنا تمہیں اب بتاؤ کیا ہوا تھا ڈاکٹر کے پاس چلیں ۔۔” وہ فکر مند سا بولا ۔۔

” پتا نہیں کل سے طبیعت خراب ہو رہی ہے دل بھی خراب ہو رہا تھا کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا کھانے میں بھی ہاں ڈاکٹر کے پاس چلو ۔۔” زافا کو کل سے اپنی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی حنان کی بات مانتی اسکے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جانے لگی ۔۔

★★★★

” انکل میں جانتا ہوں آپکی ایک ہی بیٹی ہے اور اسکے لئے اپنے بہت اچھے خواب دیکھے ہوگے پر میں چاہتا تھا سمپل نکاح ہو جائے لیکن اب جو کے بیراج کا بھی اسی دن نکاح ہے تو میرے خیال سے ایک ہی بڑا فنکشن ہونا چاہیے صرف نکاح کا اسی میں ہی رخصتی ہو جائے ۔۔” داريان نے اپنا فیصلہ سنایا تھا ۔۔

” آپکی بات بھی سہی ہے بیٹا ویسے تو ہم سب نے بہت کچھ سوچا تھا پر دافیہ بچی کا دکھ بھی ابھی تازہ ہے تو اس وجہ سے ہم صرف نکاح کا انتظام بہت اچھا کرنا چاہتے ہیں اب ۔۔” حیات صاحب کو بھی داريان کی بات سہی لگی اور بیراج کا بھی کہنا تھا دافیہ کی وجہ سے سمپل ہو سب کچھ ۔۔

” اگر آپکی اجازت ہو تو میں انعل کو شاپنگ پر لے جاؤں ۔۔” داريان نے سامنے آتی انعل کو دیکھتے ہوئے کہا تھا حیات صاحب خوش ہوتے انھیں اجازت دی انعل بھی خوش ہوتے داريان کے ساتھ چل پڑی ۔۔

★★★★

” ہمیں ڈر لگ رہا ہے ۔۔” انعل نے گھبراتے ہوئے کہا تھا اسے پھر سے شاپنگ مال میں جانے سے ڈر لگ رہا تھا ۔۔

” ڈر کس بات کا ہم تو نکاح کی ڈریس لینے جا رہے ہیں ۔۔” داريان ایک نظر اسکے گھبراتے ہوئے چہرے پر ڈالتا ہوا بولا تھا پھر اپنا دھیان ڈرائیونگ پر کیا ۔۔

” ہہ۔۔ہم پہلے بھی کھو گئے تھے ا۔اور ہم جب بھی باہر نکل تے ہیں وو ۔۔وہ آ ۔جاتا ہے ۔۔” انعل بمشکل خود کو رونے سے روکا اسے ڈی اے کا ڈر تھا کہیں پھر سے نہ آجاۓ ۔۔۔

” رئیلکس ہم ہے ساتھ آپکے کچھ نہیں ہوگا کوئی نہیں آئیگا ڈرو مت آرام سے بیٹھو میں ہوں آپکے ساتھ ۔۔” داريان اپنی خوبصورت گھمبیر آواز میں بولا تھا ۔۔

” آجاؤ ۔۔ دد۔۔ داريان ۔۔ وو ۔۔وہ ۔۔آ ۔آگیا تو ہم ہم نہیں جانا جاتے اسکے پاس وہ بہت برا ہے ہمیں ہرٹ کرتا ہے ۔۔” انعل ڈرتے ہوئے رو پڑی تھی اسکے دل میں ایک خوف بیٹھ گیا تھا ڈی اے کا جسے وہ سوچتے محسوس کرتے ہی کانپ جاتی تھی ۔۔

داريان خاموشی اسے اسے ڈر اور روتے ہوئے دیکھ رہا تھا جو بہت معصوم پیاری لگ رہی تھی اسے دیکھتے ہوئے داريان کی دل کی بیٹ مس ہوئی تھی اسنے دھیرے سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور اسکے بہتے ہوئے آنسوں کو صاف کیا تھا اسکے لمس سے انعل حیا سے سر جھکا گئی ۔۔

” آجاؤ میں ساتھ ہوں آپکے بس میرا ہاتھ مت چھوڑنہ اوکے ۔۔” داريان نے اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا تھا ۔۔

انعل نے پہلے اسے پھر اسکے ہاتھ کو دیکھا اور ایک امید دھڑکتے دل کے ساتھ اپنا سفید روئی جیسا ہاتھ اسکے ہاتھ میں دیا جسے داريان نے مضبوطی سے پکڑ لیا تھا انعل کو اسکے ساتھ چلتے ہوئے خود کو محفوظ لگا اسنے سہی کہا وہ اسکے ساتھ ہے پھر اسے ڈر نہ نہیں چائیے ۔۔

★★★★

” افف میں کہاں جاؤ کیا کروں کچھ سمجھ نہیں آرہا بیراج سر کیوں کر رہیں ہے ایسا کیا وہ سچ میں مجھے پیار کرتے ہیں یا پھر یہ صرف ایک ہمدردی ہے انکی میرے لئے اور کچھ نہیں ۔۔ دافیہ کب سے خود کو سمجھا رہی تھی اسے بیراج کی سمجھ نہیں آ رہی تھی پل میں وہ اسے اتنا سمجھتا ہے تو پل میں وہ اسے جیسے جانتا نہیں دافیہ کو نکاح والی بات پر دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا ۔۔

” کل نکاح ہے اور مجھ سے پوچھا نہیں سیدھا حکم دیا ہے افف اللّه یہ بندہ اتنا کھڑوس ہے میں کیا کروں کچھ سمجھ نہیں آرہا کاش میرے پاس کوئی رشتہ کوئی بڑا ہوتا جو مجھے سمجھاتا آج دادا آپ کیوں چلے گئے مجھے چھوڑ کر کیوں اس دنیا میں اکیلا تنہا چھوڑا ہے آپ نے مجھے ۔۔” دافیہ خود سے باتیں کرتے ہوئے دادا کی یاد میں رو پڑی تھی ۔۔

باہر بیراج کھڑا اسکی باتیں سن رہا تھا اسے روتا دیکھتا وہ اندر آگیا اسکی برداشت ختم ہوگئی تھی اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا اسکا رونا ۔۔

” بب ۔۔ بیراج ۔۔سس ۔۔سر آ ۔آپ اس وقت یہاں ۔۔” دافیہ اسے دیکھتے ہوئے گھبرا گئی تھی رات کے دو بج رہے تھے اسے نیند نہیں آرہی تھی اس لئے وہ دادا کو یاد کرتے بیراج کی باتیں سوچ رہی تھی ۔۔

” بیٹھو آرام سے بات کرتے ہیں ۔۔” بیراج نرمی سے بولا بیٹھا دافیہ بھی اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بیٹھ گئی ۔۔

” دیکھو دافیہ میں سیدھا بندہ ہوں مجھے جو کہنا تھا میں بول چکا ہوں تم یہ مت سمجھو کہ میں تم پر رحم کھا کر یا تمہیں اکیلا سمجھ کر نکاح کر رہا ہوں نہیں یہ میرے دل کی بات ہے ہاں میں جانتا ہوں میں پہلے تمہیں پسند نہیں کرتا تھا لیکن آہستہ آہستہ تم مجھے اچھی لگنے لگی تھی اور اس دن جب ہم بیچ پر تھے تب میرا دل تمہیں دیکھ کر تیزی سے دھڑکا تھا اور اس دن میرا دل کر رہا تھا تمہاری ہر بات پر یقین کروں تمہیں اپنی دل کی بات بتاؤں لیکن موقع نہیں ملا اسکے بعد میں تم سے بات کرنا چاہتا تھا اور تمہارے گھر آنا چاہتا تھا تمہارے دادا سے خود بات کرنے پھر جو ہوا وہ اللّه کو منظور تھا شاید اور اب میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا میں اب کوئی دیر نہیں کرنا چاہتا ہوں پلیز مان جاؤ میں جانتا ہوں میں بہت کھڑوس ہوں شادی کے بعد سارے بدلے لے لینا ۔۔” بیراج اٹھ کر اسکے قدموں کے آگے بیٹھتا اسے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا اپنی ہر بات دل سے کہہ رہا تھا وہ اب دافیہ کو کھونا نہیں چاہتا تھا اس لئے اسے راضی کرنے آیا تھا ۔۔

اسکے پاس آنے سے اسکے ہاتھوں میں خود کا ہاتھ دیکھتے ہوئے دافیہ کا دل زور سے دھڑک رہا تھا اسکی ہر بات اسے سچی لگ رہی تھی دافیہ کا دل چیخ چیخ کے کہہ رہا تھا اسکی محبت کو عزت دو اسے ہاں کہ دو بیراج اسکے آنسو صاف کرتے ہوئے اسکی ہاں کے انتظار میں تھا ۔۔

” اا۔۔آپ مم ۔۔مجھے کبھی ڈانٹے گے نہیں اور غصہ بھی نہیں کریں گے مجھے پر یقین کریں گے ہمیشہ اور میرا خیال بھی رکھیں گے اور ۔۔۔۔۔ بس بس یار باقی باتیں بعد کے لئے رکھ دو یہ بھی تو یاد رہیں نہ اگر بھول گیا تو تمہیں ہی مسئلا ہوگا ۔۔” دافیہ نے مسکراہٹ دباتے ہوئے اپنی فرمائش کی تھی بیراج اسکی باتیں سنتا اسے چپ کروایا اور خود معصومیت سے بولنے لگا اسکی باتوں پر دافیہ کو ہنسی آگئی اسے مسکراتا دیکھتا بیراج بھی مسکرایا ۔۔

” یہ کیا ہے ۔۔” بیراج نا سمجھی سے بولا تھا ۔۔

” یہ میری بے گناہی کا ثبوت ہے میں چاہتی ہوں آپ اسے ایک بار دیکھ لیں میں چاہہ

تی ہوں آپ مجھے پر پورا یقین کریں میں اب ہمارے بیچ کوئی غلط فہمی نہیں چاہتی ۔۔” دافیہ اسے اپنا موبائل فون دیتے ہوئے کہا تھا جس میں اسکی بے گناہی کا ثبوت تھا اور وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھنے سے پہلے سب ٹھیک کرنا چاہتی تھی آج وہ خود کو بہت خوش نصیب سمجھ رہی تھی جس کو اسنے چاہا جس سے محبت کی آج اللّه پاک نے اسکے نصیب میں لکھ دیا تھا وہ آج بہت شکر گزار تھی اللّه تعالیٰ کی دافیہ بیراج کے جانے کے بعد شکرانے کے نفل پڑھتی اللّه پاک سے اپنے نصیب کے لئے دعا کرتی اپنے دادا کے لئے دعا کرنے لگی بےشک وہ کسی کو بھی تنہا نہیں چھوڑتا تو اسے کیسے چھوڑ دیتا ۔۔

★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★

عروسی لباس گولڈن ہاف وائٹ ڈریس میں بے حد حسین دلکش لگ رہی تھی برائیڈل میکپ میں خوبصورت سی گول نازک نتھ ناک میں بالوں کا جوڑا بناۓ ہوئے سر پر اچھے سے دوپٹہ سیٹ کیا ہوا تھا ۔۔

” ماشاءاللّٰه آپ تو بہت حسین لگ رہی ہیں آپ تو سمپل میں ہی بہت پیاری تھی اس روپ کے بعد تو بے حد دلکش حسینہ لگ رہی ہے آپکے دولہے صاحب تو آپ کو دیکھتے ہی رہ جائے گیں ۔۔” پالر والی اسے فل تیار کرتے ہوئے ایک نظر اسکے خوبصورت سے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا تھا جو آج واقعی بے حد خوبصورت حسین لگ رہی تھی اسکی بات سنتے انعل ایک نظر خود کو آئینے میں دیکھا شرما گئی تھی ۔۔

” کّک ۔۔کیا یہ سچ میں ہم ہے ہم ہم اتنے اچھے لگ رہیں ہے اللّه اور اگر ہمیں نظر لگ گئی تو کیا ہم داريان کو اچھے لگے گیں ۔۔” انعل دھڑکتے دل کے ساتھ خود کو دیکھتے ہوئے بڑ بڑا رہی تھی اسے ڈر بھی تھا اگر اسے نظر لگ گئی تو وہ بہت تعریف سن چکی تھی اپنے حسن کے بارے میں وہ بیمار نہیں ہونا چاہتی تھی اس لئے پالر والی سے کہہ کر خود کی نظر اتر وائی ۔۔

” میم آپ تیار ہیں میں آپکے ڈیڈ کو کال کر کے آتی ہوں ۔۔”

” ہاں جلدی کرو ہم تھک گئے ہیں ۔۔” انعل نے تھکاوٹ سے کہا وہ صبح کی آئی ہوئی تھی اب بیٹھ کر تھک گئی تھی دافیہ کو بہت کہا لیکن وہ نہیں آئی اس نے کہا وہ گھر پر ہی تیار ہوگی وہ پالر نہیں آنا چاہتی تھی اسکے دادا کا غم اسکے لئے ابھی تازہ تھا یہی بات سوچتے ہوئے کسی نے زور نہیں دیا بیراج نے اسکا گھر پر ہی انتظام کروا دیا تھا اسکا ڈریس بھی بیراج نے خود پسند کیا تھا انعل اپنے بھاری شرارے کو اٹھا کر کھڑکی کی طرف بڑھی باہر سے آتی ٹھنڈی ہوا کو خود میں محسوس کرتے ہوئے اسنے ایک گہرا سانس بھرا تھا ۔۔

” تمہارا نکاح تو ڈی اے کے ساتھ ہونا چاہیے تھا نہ ڈارلنگ پھر ہمارے بیچ داريان حیدر خان کیوں آرہا ہے ۔۔” انعل کے قریب ایک سرد گھمبیر آواز گونجی اچانک آواز پر وہ اچھل پڑی اسکی چیخ اسکے بھاری ہاتھ نے حلق میں دبا دی وہ خوف تیز دھڑکتے دل سے کانپتے ہوئے خود کو چھوڑوانا چاہ رہی تھی ڈی اے نے پیچھے سے اسے پوری طرح اپنے حصار میں لےلیا تھا ایک ہاتھ اسکے منہ پر دوسرا اسکے کمر پر اسنے اپنی گرفت مضبوط بنالی تھی اسکے آنسوں تیزی سے بہنے لگے ۔۔

” رو کر اپنا میکپ کیوں خراب کر رہی ہو ڈارلنگ ابھی تو ہمارا نکاح بھی نہیں ہوا تم داريان سے کیسے نکاح کر سکتی ہو جانتی نہیں وہ میرا دوست ہے تمہارا نکاح تو میرے دشمن کے ساتھ ہونا چاہیے یعنی میرے ساتھ ڈی اے کے ساتھ سمجھی انعل حیات ۔؟ ڈی اے غصے میں دھاڑا اسکے کان کے قریب انعل اسکی دھاڑ سے خود کو سن ہوتا ہوا محسوس کر رہی تھی ۔۔

” ہمم ۔۔” انعل تڑپتے ہوئے اسکا حصار توڑنہ چاہتی تھی لیکن اسکی گرفت مضبوط ہوگئی تھی اسکی چوڑیوں کی خنک کی آواز اس خاموش کمرے میں گونج اٹھی ۔۔

” آرام سے میری جان ورنہ چوٹ لگ جائے گی آج شادی ہے ہماری میری دلہن کو سب سے اچھا لگنا چاہئیے نہ ۔۔” ڈی اے آرام سے بولتا اسے آزاد کیا تھا ۔۔

” بب۔۔بابا بابااا کوئی ہے ۔۔” اسکے حصار سے آزاد ہوتے ہی وہ دروازے کی طرف بھاگی پر دروازہ بند ہونے کی وجہ سے وہ چلا تے ہوئے پکار رہی تھی اسکے آنسوں تیزی سے بہہ رہے تھے ۔۔

” کوئی نہیں آئیگا ڈارلنگ تمہیں بچا نے یہاں ہم دونوں کے علاوہ کوئی نہیں ہے اس لئے خاموشی سے میرے ساتھ چلوںل ورنہ اٹھا کر لےجاؤنگا ۔۔؟ ڈی اے پینٹ کی جیب میں دونوں ہاتھ ڈالے سکون سے کہتا چلتا ہوا اسکے قریب آیا انعل ڈرتے ہوئے پیچھے ہونے پر دروازے سے لگی وہ روتے ہوئے سر نفی میں ہلا رہی تھی ۔۔

” ہہ۔۔ ہمیں چچ ۔۔چھوڑ دے ہم ہم آ ۔آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتے پلیز ہمیں جانے دے اللّه کا واسطہ ہے ۔۔” انعل نے ڈرتے ہوئے کہا اور دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر شدت سے رونے لگی تھی ۔۔

” لیکن مجھے تو تم سے شادی کرنی ہے داريان بلکل بھی اچھا نہیں ہے کیا تمہیں نہیں پتا وہ کتنا برا انسان ہے ۔۔” ڈی اے اسکے قریب جھکتے ہوئے کہا تھا انعل اپنا رونا بند کرتے سوں سوں کے ساتھ اسے گھور رہی تھی اسکا داريان کو برا کہنا پسند نہیں آیا تھا ۔۔

” وہ برے نہیں ہے آپ برے بہت برے بہت گندے ہے ہمیں نفرت ہے آپ سے ہم کبھی شادی نہیں کریں گے آپ سے ہم داريان سے محبت کرتے ہیں ہم صرف انکے ہے سمجھے آپ ” اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر حلق کے بل چلائی ۔۔

اسکے انداز پر ڈی اے کے چہرے پر ایک پل کے لئے مسکراہٹ آئی اسکی گرے آنکھوں میں ایک چمک سی آئی اسکے چھرے پر ماسک کی وجہ سے صرف آنکھیں ہی دیکھ رہی تھی وہ فل بلیک ہوڈی میں تھا ۔۔

” You are very beautiful Seeing you gives a beautiful feeling your innocence turns people on You are only mine, I will not let you belong to anyone else i will wait see you very soon my innocent girl ۔۔”

تم بہت خوبصورت ہو تمھیں دیکھ کر خوبصورتی جا احساس ہوتا ہے تمہاری معصومیت لوگوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے تم صرف میری ہو میں تمہیں کسی اور کا نہیں ہونے دوں گا میں انتظار کروں گا بہت جلد تمہیں دیکھوں گا میری معصوم لڑکی ۔۔

” ہم آپ سے نفرت کرتے ہیں آپ کا انتظار کبھی پورا نہیں ہوگا ۔۔” ڈی اے جھک کر اسکے کان میں بولتا پیچھے ہوا تھا انعل نفرت سے اسے دیکھتے ہوئے بولی تھی وہ مسکراتا دوسری کھڑکی سے چھلانگ لگا گیا انعل روتے ہوئے زمیں پر بیٹھ گئی تھوڑی دیر میں حیات صاحب آگثے تھے اسکی حالت دیکھ کر وہ بہت پریشان ہوئے انکے بہت پوچھنے پر وہ بس ان سے دور ہونے کا بولتے ہوئے رو پڑی تھی وہ آج انھیں پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے وہ خود پر ضبط کرتے ہوئے ان سے دور جانے کا بول کر رو پڑی حیات صاحب بہت پیار سے اسے سمجھا نے میں کامیاب ہوئے تھے انعل کو آج اپنے باپ سے دور ہونے پر بے حد خوف آرہا تھا پتا نہیں کیوں آج اسکا بے حد دل گھبرا رہا تھا ڈی اے کی باتیں اسکے کانوں میں گونج رہی تھی ۔۔

★★★★

حیات صاحب نے گھر کے باہر لان میں ہی انتظام کیا تھا نکاح کا جو کے ایک ہی فنکشن تھا تو انہوں نے بہت بڑا اچھا انتظام کیا تھا ہر طرف خوبصورت انگیز پھول سفید گلابی لگے ہوئے تھے باہر لان کو بے حد خوبصورتی سے سجایا گیا تھا پہلے بیراج دافیہ کا نکاح ہونا تھا اسکے بعد داريان انعل کا لان میں ہی پھولوں کی لڑی بیچ میں تھی بیراج دافیہ کے بیچ ایک خوبصورت سے پھول کی جالی تھی دونوں دلہن کو تیار ہو کر آگئی تھی پہلے دافیہ بیراج کا نکاح ہونا تھا ۔۔

بیراج سفید کرتے میں وہ آج بے حد ہینڈسم لگ رہا تھا ماتھے پر جیل سے سیٹ کئے بال اسکی آنکھوں میں خوشی کی چمک اسکی محبت کا اظہار کر رہی تھی

دافیہ سرخ جوڑے میں ہلکے سے میکپ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی اسکا دل زور سے دھڑک رہا تھا آنے والے وقت کا سوچتے ہی آج اسے اپنے دادا ماں باپ کی شدت سے کمی محسوس ہو رہی تھی دافیہ نے ہونٹ بھینچ کر بمشکل خود کو رونے سے روکا تھا ۔۔

کچھ ہی دیر میں نکاح خواہ نے نکاح پڑھوانا شروع کیا۔۔ بیراج اور دافیہ کے نکاح ہوتے ہی سب ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے تھوڑی دیر میں انعل داريان کا نکاح شروع ہوا ۔۔

داريان حیدر خان آج سفید شیروانی کے ساتھ واسکٹ پہنے ہوئے ماتھے پر اچھے سے سیٹ کئے ہوئے بال اسکی نیلی آنکھیں میں چمک اور چھرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ تھی وہ سب سے اچھے سے ملتا بیراج کو مبارک باد دیتا اب مولوی کے ساتھ آکر بیٹھا عفان بھی اسکے ساتھ تھا تھوڑی دیر میں انعل کو لایا گیا دافیہ بھی اسکے ساتھ ہی بیٹھی تھی انعل داريان کے بیچ خوبصورت سے سرخ پھولوں کی جالی بنی ہوئی تھی انعل آنکھیں جھکائے دھڑکتے دل کے ساتھ بیٹھی تھی داريان نے ایک نظر اسکے گھونگٹ جھکے سر کو دیکھا اسکا بھی آج دل دھڑک رہا تھا یہ پھر یہ وقت ہی ایسا تھا سب کے دل کی دھڑکنے ایک خوبصورت احساس کے ساتھ دھڑک رہا تھا ۔۔

” انعل ولد حیات شیرازی کیا آپ داريان خان ولد حیدر خان سکہ رائج الوقت اپنے نکاح میں قبول ہیں۔۔؟

” قق۔۔ قبول ہے۔۔۔قبول ہے۔۔قبول ہے۔۔” انعل دھڑکتے دل کے ساتھ مولوی صاحب کے تین بار پوچھنے پر دل سے قبول ہے کہا تھا ۔۔

“ادھر سائن کردیں بیٹا اللّه پاک آپکے نصیب اچھے کریں ۔۔” مولوی صاحب دعا دیتے ہوئے پیپرز انعل کے سامنے رکھے ۔۔

انعل نے کپکپاتے ہاتھوں سے پین پکڑا اور پیپرز پر سائن کردیے اسکا دل بہت گھبرا رہا تھا ۔۔

“مبارک ہو میری جان اللّه تمہیں ڈھیروں خوشیاں نصیب کریں آمین ۔۔” بی جان نے انعل کا سر چومتے ہوئے کہا دافیہ نے بھی اسے گلے لگا کر مبارک باد دی تھی ۔۔

“اللہ پاک ہماری بچی کا نصیب بہت اچھا کریں بہت خوشیاں نصیب ہوں آپکو میری جان ۔۔” حیات صاحب نے اسے سینے سے لگاتے ہوئے بہت سی دعا دی انعل انکے گلے لگ کر رونے لگی حیات صاحب نے اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوئے داريان کے پاس گئے ۔۔

” داريان خان ولد حیدر خان آپ کا نکاح انعل ولد حیات شیرازی سے سکہ رائج الوقت اپنے نکاح میں آپ کو قبول ہے ۔۔؟ مولوی صاحب نے مائیک پر پوچھا ۔۔

” جی قبول ہے ۔۔” داريان خان نے ایک نظر حیات صاحب اور انعل دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے قبول ہے کہا تھا ۔۔

“مبارک ہو بیٹا میں نے آج اپنی زندگی آپکو دی ہے اسکا بہت خیال رکھنا اللّه اپ دونوں کو بہت سی خوشیاں نصیب کریں آمین ۔۔” حیات صاحب نے اسے گلے لگاتے نم آواز میں کہا اور پھر باری باری سب اسے مبارک باد دینے لگے

حمدان صاحب حیات نے دونوں کے سروں پر ہاتھ رکھ کے دُعائیں دے کر سر پر پیار دیا۔۔

انعل حیات صاحب کے سینے سے لگی سسکیاں لینے لگی تھی ۔۔

” بس میرا بچہ روتے نہیں ہم ہے نہ آپکے پاس ۔۔” حیات صاحب نے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا اس نے ڈبڈباتی نظریں اٹھا کر دیکھا ۔۔

” ہم آپکے بغیر کیسے رہیں گے آ ۔آپ بب ۔۔بی جان بھی ہمارے ساتھ چلیں ۔۔” انعل نے معصومیت سے کہا اسکی بات پر حیات صاحب بی جان مسکرائے تھے ۔۔

” نکاح مبارک پرنسس اور ہاں داريان کو بلکل تنگ مت کرنا اب ہم نہیں چاہتے ہماری لڑکی روز روز شکایات لیتی آئے گھر ۔۔” بیراج اسکا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے شرارت سے بولا تھا ۔۔

” ہم اچھے ہے ہم لڑائی نہیں کرتے لیکن آپ بہت غصے والے ہے آپ میری پیاری بھابی کو تنگ کریں گے بہت دیکھنا لیکن بی جان بڑے پاپا آپ بیراج بھائی پر نظر رکھنا کہیں وہ ہماری پیاری بھابی کو رلاۓ نہ ۔۔” انعل نے بیراج کو گھورتے ہوئے کہا تھا اسکی بات سنتے بیراج دافیہ کو دیکھا جو انعل کی بات پر مسکرا رہی تھی وہ تھوڑا اسکی طرف جھکا ۔۔

” ہنس لوں تمہیں تو میں بعد میں بتاؤں گا ۔۔” سر گوشی میں بولا دافیہ سرخ پڑتی سر جھکا گئی ۔۔

سب سے ملنے کے بعد دونوں کپلسز کا فوٹو شوٹ ہوا انعل دافیہ دھڑکتے دل کے ساتھ اپنے ہمسفر کے ساتھ فوٹو کھینچوا رہی تھی اسکے بعد کھانے کا دور چلا

★★★★

” انعل بیٹا ہم جانتے ہیں ہم سب نے بہت آپکو بہت لاڈ پیار میں پالا ہے لیکن بیٹا آگے کا سفر لمبا اور بہت مشکل ہے اور آپکو اکیلے چلنا ہے ہمیشہ اپنے باپ کی عزت کا مان رکھنا بیٹا کھبی میری تربیت پر کسی کو انگلی مت اٹھا نے دینا گھر ہمیشہ عزت اور محبت سے چلتا ہے آپ اس چیز کا خیال رکھنا کبھی چھوٹی باتوں پر لڑائی جھگڑا کر کے اپنا گھر مت چھوڑنا سمجھے بیٹا اپنے شوہر کی عزت کرنا ان سے محبت کرنا آپکا فرض ہے اب آپ تھوڑی میچور ہو جائے داريان کی ہر بات مان نہ آپنے اور اسکا خیال رکھنا ہوگا آپکو ایک بات یاد رکھنا بیٹا کبھی ایسا موقع آئے آپکو کام کرنا پڑیگا تو ہمت سے کرنا کسی چیز سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہماری جب بھی یاد آئے ہمیں فون کر دینا یا داريان سے کہنا وہ آپکو ہم سے ملوانے لاۓ ۔۔” حیات صاحب بہت پیار نرمی کے ساتھ اسے ہر ایک بات اچھے سے سمجھا رہیں تھے انعل انکے سینے سے لگے انکی باتیں دھیان سے سن رہی تھی اسکے بعد کچھ باتیں بی جان نے بھی اسے اچھے سے سمجھائی سب کے پیار محبت دعاؤں کے سائے میں اسے رخصت کیا بی جان دافیہ کو بیراج کے روم میں چھوڑ آئی تھی سب انعل کے لئے اداس تھے پر انکے گھر سے ایک بیٹی گئی دوسری آئی یہ سوچتے ہوئے خوش بھی ہوئے حیات صاحب روم میں بیٹھے اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے ایک تصویر نکال کے دیکھ رہے تھے جو بہت خوبصورت سی پیاری لڑکی تھی اسکے نین نکش کسی سے بہت ملتے تھے یہ بات حیات صاحب کو تھوڑی پریشان کر رہی تھی

★★★★

” آہہہ ۔۔ زافااا یہ کیا تھا ۔۔” نیند سے چیختے ہوئے اٹھا ۔۔

” یہ چائے ہے وہ میں چیک کر رہی تھی گرم تو نہیں زیادہ ۔۔” زافا نے معصومیت سے بولتے ہوئے کہا تھا حنان نے گھور تے ہوئے اپنے ہاتھ کو دیکھا اسکی انگلی لال ہوگئی تھی ہوا یہ تھا حنان صاحب سو رہے تھے مزے سے زافا کب سے بور ہو رہی تھی تو اسنے سوچا وہ حنان کو جگا دے لیکن اسے سیدھے سے کوئی کام ہو تو نہ گرم چائے بنا کر بیڈ پر بیٹھتے ہوئے حنان کا ہاتھ آگے کرتے اسکی انگلی کو غرم چائے کے کپ میں ڈال دیا تھا اور اس بیچارے کی نیند برباد ہوگئی وہ لوگ جب سے لنڈن آئے تھے تب سے زافا نے بہت تنگ کیا ہوا تھا اسے حنان صبر کے گھونٹ پی لیتا تھا صرف اپنے آنے والے بچے کے لئے ورنہ وہ بھی کہاں پیچھے رہتا ۔۔

” ایک بار میرے بچے کو سکون سے اس دنیا میں آنے دو پھر تمہیں دیکھتا ہوں ۔۔” حنان ڈانٹ پیستے ہوئے بولتا واش روم میں بند ہو گیا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *