Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafrat e Ishq (Episode 17)

Nafrat e Ishq by Mahra Shah

اس دن کے بعد حیات صاحب انعل سے نہیں ملے نہ ہی انعل نے کوشش کی اس نے سوچ لیا تھا وہ داريان کا غصہ جلد ہی ختم کروا دے گی پھر اپنء بابا کو معافی دلا دے گی اب یہ تو وقت بتاۓ گا کیا ہوتا ہے ان سب کی زندگی میں انعل زافا اور اسکی بیٹی کے ساتھ سارا دن اچھا وقت گزارتی تھی داريان اب اس سے نرمی سے پیش آتا تھا اسکے ساتھ کیوں کے انعل کی طبیعت خراب رہنے لگی تھی وہ پھر بھی بہت کوشش کرتی تھی کبھی کبھی کھانا بنانے کی لیکن داريان اسے اب کام کرنے نہیں دے رہا تھا رات کا کھانا بھی وہی اسے کھلانے لگتا تھا لیکن انعل کو اب خود سے کھانا کھانے پینے آرہا تھا وہ بہت سمجھ دار اور مضبوط بن رہی تھی جو اسکے لئے مشکل تھا پر ناممکن نہیں داريان اسے بہت پیار سے سمجھاتا تھا وہ نماز قرآن میں اپنا دل لگایا کرے اور انعل وہی کرتی تھی اسے بہت سکون ملتا تھا ان سب کے لئے ہی تو وہ داريان سے عشق کرنے لگی تھی جو اسنے اسے رب سے قریب کیا داريان پوری کوشش کرتا تھا انعل سے پیار نرمی سے پیش آئے لیکن جب اسکے باپ کا چہرہ اسکے سامنے آجاتا تھا تو وہ انعل پر کبھی غصہ بھی کر جاتا تھا انعل سمجھ جاتی تھی وہ ایسا کیوں کرتا ہے وقت کا کام ہے گزرنہ وہ گزر رہا تھا جیسے وقت گزر رہا تھا انعل کا جسم بھاری ہوتا جا رہا تھا وہ اس روپ میں مزید خوبصورت حسین لگنے لگی تھی ۔۔۔

★★★

” کیسی ہو کھانا کھایا کہیں درد تو نہیں ہو رہا ہے ۔۔!! داريان نے روم میں آتے ہوئے پوچھا تھا وہ بیڈ سے ٹیک لگا ئے ہوئے بیٹھی تھی اسکا ساتواں ماہ چل رہا تھا ۔۔

” کھانا کھانے کو دل نہیں کر رہا ہے ۔۔!! انعل نے اداسی سے کہا پتا نہیں کیوں وہ اب اداس رہنے لگی تھی کبھی کبھی اسکا دل بہت گھبرا جاتا تھا ۔۔

” دل کو کیا ہوا ۔۔۔۔ دل کو تو بہت کچھ ہوا ہے پر آپ سمجھنا نہیں چاہتے ۔۔ داريان کے سوال پر انعل نے مسکراتے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا اسکی بات پر داريان کے ہونٹوں پر بھی ہلکی مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔

” اچھا پھر آج سمجھا دو تمہارے دل کو کیا ہوتا ہے ۔۔؟ داريان اسکے ساتھ سامنے بیٹھ کر اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیتا ذرا اسکے آگے جھکتے ہوئے کہا تھا انعل مسکراہٹ سے سرخ پڑتے چہرے کو جھکا گئی اسکی دھڑکنوں کا شور داريان با آسانی سن سکتا تھا ۔۔

” ہم آپ کے ساتھ پوری زندگی گزارنا چاہتے ہیں پر ڈر لگتا ہے اب پتا نہیں کیوں ہم جانتے ہیں آپ ہم سے نفرت کرتے ہیں لیکن ہم آپ سے کبھی نفرت نہیں کر سکتے ہیں کیوں کے ہمیں آپ سے عشق ہوا ہے عشق میں تو نفرت نہیں ہوتی ہیں نہ ہمیں آپکے غصے سے بھی محبت ہے پر آپکی ناراضگی سے بہت ڈر لگتا ہے ۔۔!! انعل نے دھڑکتے ہوئے دل سے اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” مجھے نہیں پتا مجھے تم سے محبت ہے یا نہیں لیکن اتنا جانتا ہوں میں تم سے نفرت عشق کرتا ہو نفرت تمہارے باپ کی وجہ سے ہوتی ہے عشق آنی کی وجہ سے اور وہ بچپن والا داريان ہوتا تو شاید ہی تم سے محبت کرتا یہ داريان بہت اکیلا ہے ٹوٹا ہوا انسان ہے جیسے اس دنیا کے ظالم لوگوں نے ہی سنبھالا تھا وہ بھی اب انکے جیسے بن گیا ہے مجھ سے اچھے کی امید کم رکھا کرو ۔۔!! داريان سنگدلی سے بولا تھا انعل کے اندر کچھ ٹوٹا تھا اسے ہمیشہ سے خواہش تھی وہ کبھی تو اسے اپنی محبت عشق کا اظہار کرے گا وہ خود کو کتنا خوش نصیب سمجھے گی اس دن پر شاید ہی وہ دن آئے ۔۔۔

” باہر چلیں آئس کریم کھانے کا دل کر رہا ہے اور تھوڑا واک کرنے کا پلیز ۔۔!! انعل نے نم آواز میں کہا داريان جانتا تھا وہ اداس ہوگئی ہے اسکی باتوں سے وہ آگے بڑھ کر اسکا ماتھا چومتا پیچھے ہوا اور پھر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا انعل نے مسکراتے ہوئے ہاتھ تھام لیا تھا ۔۔

★★★★

” آپ بہت برے ہیں گندے ہیں ۔۔؟ انعل نے اسکے ساتھ باہر سڑک پر چلتے ہوئے ہلکی آواز میں کہا تھا اسکے ہاتھ داريان کے بازو میں تھے داريان کے دونوں ہاتھ اپنی پینٹ کی جیب میں تھے دونوں آرام آرام سے قدم اٹھا رہے تھے اپنے گھر سے تھوڑا آگے نکل آئے تھے ۔۔

” ہاں ہوں میں برا ۔۔!! داريان نے ہلکی مسکراہٹ سے بولا تھا ۔۔

” ہم آپ سے نفرت نہیں کر سکتے پر آپ بہت اچھے ہیں ۔۔!! انعل کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ آئی تھی ۔۔

” مت کرو یہ کام میں بہت اچھے سے کروں گا ۔۔!! داريان نے ایک نظر اسکے مسکراتے ہوئے چہرے پر ڈالی تھی ٹھندی ہوا چل رہی تھی خوبصورت رات لنڈن جیسا شہر رات میں بھی ایک خوبصورت منظر رکھتا تھا روشنیوں سے بھرا دونوں نے لونگ کوٹ پہنا ہوا تھا انعل نے شال اچھے سے اوڑھ رکھی تھی آگے سے دونوں ہی بے حد خوبصورت پیارے لگ رہے تھے ۔۔

” ہم نے آپ سے عشق کیا ہے داريان کیا آپکو ایک بار بھی ہم سے محبت نہیں ہوئی ہمیں تڑپا کر آپکو سکون ملتا ہے ۔۔!! انعل جب بھی اس سے باتیں کرتی یہی سوال کرتی تھی جس پر داريان کا جواب وہی ۔۔۔

” تمہاری تڑپ تمہارے باپ کو تڑپاتی ہے اور یہی میرے لئے سکون ہے محبت عشق یہ لفظ تمہارے باپ سے پوچھنا وہ تمہیں بتاۓ گا کیسے اسنے کسی بے گناہ کو سزا دی تھی ۔۔؟ داريان نے سنجیدگی سے کہا تھا ۔۔

” آ ۔آپ ہمیں وہ سزا مت دیں ہم بے قصور ہیں ہمیں اس گنہغہ کی سزا مت دیں جو ہم نے نہیں کیا داريان پلیز میرے ساتھ ایسا مت کریں ۔۔!! وہ پھر سے رونے لگی تھی ۔۔

” باپ کے گناہ کی سزا بیٹی کو ہی ملتی ہے یاد رکھنا ۔۔!! وہ بولتا آگے بڑھ گیا تھا کے اسکی بات نے اسکے قدم روک دئیے ۔۔

” دعا کریں آپکی بیٹی نہ ہو ورنہ اسے بھی اپنے باپ کی سزا ملے گی ۔۔ پانی بھری آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔

” آااہہہ ۔۔ دوبارہ اگر ایسا بولا تو جان لے لوں گا تمہاری شروعات تمہارے باپ نے کی تھی میں تو صرف انھیں انکی غلطی یاد دلا رہا ہوں ۔۔اسکے بولنے پر داريان نے تڑپ کر اسکا بازو کھینچتا سخت گرفت میں لیتا بولا تھا انعل ہلکا سا مسکرائی داريان نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اسکا بازو چھوڑ دیا تھا ۔۔

” آپ ہم سے نفرت کرتے ہیں ۔۔؟ پانی سے بھری آنکھوں میں ایک امید تھی شاید وہ انکار کردے ۔۔

” بے انتہا نفرت عشق کرتا ہوں ۔۔!! وہ ذرا جھک کر مسکراتے ہوئے بولا ۔۔

” نہیں نفرت آپکی ہے عشق میرا نفرت کو عشق سے ملا کر اسکی توہین مت کریں ۔۔!! انعل نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” اسکی توہین تم کر رہی ہوں میں تو اسے نبھا رہا ہوں ۔۔ داريان نے جھکتے ہوئے اسکی ناک سے ناک ملاتے ہوئے کہا انعل کی بند آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے ۔۔

” کیسے ہو لو برڈز سڑک پر رومانس نہیں کیا جاتا کیا تم نہیں جانتے ۔۔؟ ایک بھاری مردانہ آواز آئی انکے قریب سے داريان انعل سے دور ہوتے ہوئے سامنے دیکھا اسکی آنکھوں میں غصہ آگیا تھا اسے یہاں دیکھ کر انعل اسکو دیکھتے ہوئے ڈر سے داريان کا بازوں مضبوطی سے پکڑ لیا تھا زید اسکے خوبصورت چہرے پے اپنے لئے خوف دیکھتا ہنسا تھا ۔۔

” کیا تم ڈر رہی ہو مجھے سے یار میں تو ڈر ختم کرنے آیا تھا ۔۔؟ زید نے مسکراتے ہوئے کہا تھا وہ وائٹ شرٹ بلیک پینٹ بلیک لونگ کوٹ میں بہت ہینڈسم لگ رہا تھا ۔۔

” تم یہاں کیوں آئے ہو ۔۔۔ بیٹھ کر بات کرتے ہیں انعل بھی تھک گئی ہوگی اب آؤ پاس والے ریسٹورنٹ میں چل کر بیٹھتے ہے ۔۔!! زید مسکراتے ہوئے آفر دیتا اندر چلا گیا پیچھے داريان گہرا سانس لیتا انعل کا ہاتھ پکڑ کر اندر چلا گیا تھا ۔۔

” ہر ہیرو ولن کی ایک داستان ہوتی ہے ہر نفرت کی ایک کہانی ہوتی ہے اور محبت کا ایک راز ہوتا ہے ہر انسان بے آواز ہوتا ہے ۔۔!! زید مسکراہٹ سے بولتا ان دونوں کو دیکھا جو اسے ہی گھور رہے تھے ۔۔

” تمہاری اس بکواس کا مطلب ۔۔؟ داريان نے اسے دیکھتے ہوئے غصے میں کہا تھا ۔۔

” مطلب ہی تو نہیں ہے اس میں یہاں انعل سے ملنے آیا تھا کافی عرصے سے نہیں دیکھا تھا دل بہت بے چین ہو رہا تھا اب عشق کیا ہے اس میں دیدارے یار نہ ہو تو تڑپ بڑھ جاتی ہے یہ بات تم دونوں بہت اچھے سے سمجھ سکتے ہو ۔۔!! زید طنزیہ بولا تھا داريان کا بس نہیں چل رہا تھا اسکا خون کردے اسکے سامنے عشق کی باتیں کر رہا تھا اسکی بیوی سے انعل کو اسکی بات اچھی نہیں لگی تھی ۔۔

” ہہ ۔۔ہمیں گھر جانا ہے ۔۔!! انعل نے داريان کو دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” ابھی تو آیا ہوں یار اور تم جانے کی بات کر رہی ہو بیٹھو کچھ کھاتے ہیں تمہارے لئے آئس کریم آرڈر کرتا ہوں تمہیں پسند آئی گی ۔۔۔ زید نے اسکے خوبصورت چہرے پر نظر ڈالتے ہوئے پیار سے کہا تھا انعل حیرت سے اسے دیکھا اسکو کیسے پتا چلا اس کا آئس کریم کھانے کا دل کر رہا تھا داريان تو بس گھور تا رہ گیا تھا اسے وہ انعل کے سامنے خود پر ضبط کرتا ہوا بیٹھا تھا ۔۔۔

” یہ تو ڈی اے زید ہیں نہ یہ لوگ کس لڑکی کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں ۔۔!! وہاں ان سے بیٹھا دور ایک آدمی ان دونوں پر نظر رکھتے ہوئے کہا تھا اسکی آنکھوں میں شیطانی چمک تھی وہ سیگریٹ سگارتا دلچسپی سے انھیں دیکھ رہا تھا ۔۔

” اس لڑکی کی وجہ سے ان دونوں کا دماغ خراب ہو گیا ہے ڈی اے تو اپنے ہاتھوں سے نکل چکا ہے اب زید بھی نکل رہا ہے اس لڑکی پر اف تک برداشت نہیں کرتے یہ دونوں ڈی اے نے کہا تھا وہ صرف بدلہ لے رہا ہے لیکن اب لگتا ہے وہ بہت آگے نکل چکا ہے ۔۔!! جعفری صاحب سامنے ان تینوں پر نظر رکھتے ہوئے کہا تھا انعل پر نظر پڑتے ہوئے وہ نفرت سے اسے دیکھنے لگے تھے ۔۔

” تو انکی کمزوری یہ ہے اب آئیگا مزہ اب میں لونگا اپنے بھائی کےقاتل سے بدلہ ڈی اے اب تجھے تڑپنا ہوگا ۔۔!! وہ شراب پیتے ہوئے ان کو نفرت غصے میں دیکھ رہا تھا ۔۔

” میرے ساتھ ڈیل کروگے میں جانتا ہوں یہ کیسے ہوگا ۔۔۔ ڈیل ۔۔ !! جعفری صاحب نے اس شخص سے ڈیل کی دونوں نے قہقہہ لگایا تھا ۔۔

” آ ۔آپ دونوں دوست ہیں کیا ۔۔۔!! انعل کب سے حیران تھی یہ لوگ آرام سے بات کر رہے تھے ایک دوسرے سے آج داريان نے غصہ بھی نہیں کیا اسے یہاں دیکھ کر زید کا نرم رویہ اسے یہ سب سوچنے پر مجبور کیا تھا تو اسنے پوچھ لیا تھا اس بات پر دونوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی دونوں ہے بے حد خوبصورت تھے مسکراتے ہوئے تو اور بھی زیادہ ہینڈسم لگتے تھے ۔۔

” تمہیں کیا لگتا ہے دوست کا تو پتا نہیں دشمن بہت اچھے ہیں دوستی کے تھوڑے چانسس تھے افسوس تمہارے وجہ سے وہ بھی ختم ہو گئے ۔۔!! زید نے اپنی مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” آپ ہمارا نام مت لیا کریں ہم نے کچھ نہیں کیا آ ۔آپ دونوں ہی برے ہیں ۔۔!! انعل انھیں گھور تے کہا اور اٹھ کر باہر جانے لگی ۔۔

” تم چاہتے ہو میں تمہارا قتل کروں ۔۔۔ نہیں یار میں چاہتا ہوں تم خود کشی کرو میں سکون سے رہوں اسکے ساتھ ہاہاہا ۔۔!! زید بولتے ہوئے ایک آنکھ دبا کر باہر بھاگا داريان دانت پیستے ہوئے اسکے پیچھے گیا تھا ۔۔۔

” پتا نہیں ہم کہاں پھنس گئے ہے یہ لوگ کتنے عجیب ہے کبھی دوست بن جاتے ہیں کبھی دشمن ہم دونوں سے ناراض ہے اب آپ بھی بات نہیں کرنا ان سے اوکے ۔۔!! انعل خود سے بڑبڑا کر باہر آکے کھڑی ہوگئی تھی اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر اسے بھی سمجھا رہی تھی پھر خود ہی مسکرانے لگی ۔۔

” ہیلو بیوٹیفل لیڈی ۔۔۔ آہ آ ۔آپ کّک ۔۔کون ۔۔؟ ایک شخص اچانک سامنے آگیا تھا انعل ڈر سے ایک قدم پیچھے ہوتے زید سے لگی تھی ۔۔

” آرام سے مائے لیڈی ایسے فضول لوگوں سے ڈرتے نہیں ہے ۔۔!! زید اسے پیچھے سے پکڑتا نرمی سے بولا تھا سامنے اس شخص کو خون خوار نظروں سے دیکھ رہا تھا جو اسے دیکھتا مسکرایا تھا ۔۔

” سامنے سے ہٹ جاؤ ورنہ اچھا نہیں ہوگا ۔۔ زید اسکے سامنے آتے غصے میں بولا تھا ۔۔

” واہ یار تم لوگوں نے تو بہت بڑا ہاتھ مارا ہے ۔۔!! وہ شخص کمینگی سے بولا تھا ۔۔

” تیری تو ۔۔ آہہہ د۔۔داريان ۔۔ انعل تم ٹھیک تو ہو ۔۔ دد ۔۔داريان کہاں ہے ہمیں درد ہو رہا ہے ۔۔!! زید غصے میں اس شخص کو مارنے لگا تھا کے پیچھے سے انعل درد سے کراہ اٹھی زید جلدی سے اسکے پاس گیا اور نظر آس پاس پھیری داريان کی تلاش میں جب سامنے دیکھا اس کو فل ہڈی میں اسکی آنکھوں کا اشارہ سمجھتا وہ سر ہلا کر انعل کا ہاتھ پکڑتا اسکی مدد کرنے لگا گاڑی میں بیٹھانے کی وہ بار بار داريان کا پوچھ رہی تھی پر زید نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔

” آہہہ ۔۔ دد ۔۔داريان کہاں ہے آپ انھیں کیوں نہیں بلا رہیں ہے آ ۔آپ ہمیں پھر سے کڈنیپ کر رہیں ہے نہ ۔۔!! انعل نے درد سے روتے ہوئے معصومیت سے کہا تھا ۔۔

” ہاہاہا یار تم بھی نہ کمال ہو سچ میں اتنی معصوم پیاری ہو سب کو اپنی طرف کھینچتی ہو سیریسلی اس وقت تم یہ سوچ رہی ہو میں ہوسپٹل چھوڑ کے کڈنیپ کرونگا ۔۔؟ زید نے اسکی معصوم بات پر دل کھول کر قہقہہ لگایا تھا انعل نے غصے میں اسے دیکھا تھا ۔۔۔

” اب بول کیا چاہئیے تجھے کیوں پیچھا کر رہا ہے تو ہمارا ۔۔۔؟ ڈی اے نے اسکے سامنے آتے ہوئے کہا وہ شخص اسکے چہرے پر چٹانوں جیسی سختی دیکھتا ڈر سے ایک قدم پیچھے ہوا تھا اسکی دہشت ہی اتنی پہیلی ہوئی تھی سب کو اس سے خوف آتا تھا ۔۔

” مم ۔۔میں بس ایسے دیکھنے آیا تھا وہ تم لوگوں کو بہت کم دیکھا تھا کسی لڑکی کے ساتھ بس ۔۔۔ شش خاموش اندر جا اپنے بھائی کی لاش اٹھا کر جانا ۔۔!! ڈی اے نے اسکی طرف جھک کر راز داری میں کہا تھا ۔۔

” یہ یہ کیا بکواس کر رہے ہو تمہاری ہمت کیسے ہوئی اسے ہاتھ لگانے کی میں تمہاری جان لے لونگا میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا ۔۔!! وہ شخص اپنے آپے سے باہر نکلتا ڈی اے پر دھاڑا تھا وہ ڈی اے کو مارنے لگا تھا کے اسکے آدمیوں نے اسے پکڑ لیا تھا ۔۔

” اسنے ایک گستاخی کرلی تھی میری بیوی کے بارے میں سوچنے کی اب انجان بننے کی کوشش مت کرنا میرے سامنے مت آنا ورنہ اگلا نشانا تم ہوگے ۔۔ڈی اے اسے وارننگ دیتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا پیچھے وہ شخص بھوکے شیر کی طرح اسے گالياں دے رہا تھا ۔۔۔

” یہ تم نےاچھا نہیں کیا ڈی اے اب دیکھنا میں تمہارے دل پر وار کرونگا تمہیں تڑپایا نہیں تو میرا نام بھی ارشد جتوئی نہیں ااآہہہ ۔۔!! ارشد غصے میں چیخ رہا تھا اپنے بھائی کی لاش دیکھ کر جسے بے رحمی سے مار کر چلا گیا تھا ۔۔

★★★★

” انعل کیسی ہے اب ۔۔؟ ڈی اے ہوسپٹل میں آتے سامنے زید کو دیکھتے ہوئے فکرمندی سے پوچھا تھا ۔۔

” مجھ سے خفا ہے یار بول کیسے مناتے ہو اسے ۔۔؟ زید نے منہ بناتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” اپنی بکواس بند کر ۔۔!! ڈی اے نے اسے گھوری سے نوازا تھا ۔۔

” مار دیا اسے ویسے مارا کیوں ڈرا دیتے ۔۔۔ زندہ رہنے کا لائق نہیں تھا ۔۔؟ اسنے غصہ میں کہا تھا ۔۔

” جو میری بیوی پر گندی نظر رکھتا ہے اسکا یہی حال ہوتا ہے ۔۔ ڈی اے اسے دیکھ کر طنزیہ بولا تھا ۔۔

” دھمکی دے رہے ہو ویسے یار میری نظر بری تو نہیں ہے وہ نظریں بہت پاک ہوتی ہے جس میں عشق ہوتا ہے یاد رکھنا ۔۔۔!! زید مسکراتے ہوئے بولتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔

کمینہ انسان ۔۔!! ڈی اے اسے گھور تا اندر چلا گیا ۔۔

★★★★

” حاننن ۔۔ کیا ہوا یار چلائی کیوں میری معصوم بچی ڈر جاتی تو ۔۔۔ یہ معصوم ہے اسکو بھی اپنے باپ کی طرف مجھے تنگ کرنا آتا ہے یہ دیکھو ابھی اسکا پیمپر چینج کیا تھا اور پھر سے خراب کردیا اس نے آہ ۔۔!! غصے تھکاوٹ سے بولتے ہوئے حنان کو گھورا جو اپنی بیٹی کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھا اسکی بات تو جیسے سنی ہی نہیں زویا آٹھ ماہ کی ہوگئی تھی بہت پیاری گول مٹول سی گلابی بچی تھی جو اب حنان زافا دونوں کے جیسی دکھتی تھی ۔۔

” حاننن ۔۔۔ اچھا بابا غصہ کیوں کر رہی ہو پھر سے چینج کردو ورنہ میں کر دیتا ہوں بس یہ اپنی آواز کو تھوڑا کم کرو میری معصوم بچی ڈر جاتی ہے یار کچھ تو خیال کرو ۔۔!! حنان نے تھوڑے سخت لہجے میں اس سے کہا زافا کو کہاں عادت تھی اسکے سخت لہجے کی اسکی آنکھیں میں پانی جما ہو گیا تھا ۔۔

” سنبھالو اپنی معصوم بچی کو اور خود کو اپن جا رہی ہے یہاں سے ۔۔ !! غصے غم میں بولتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھی تھی کے حنان تیزی سے آکر اسے روکا تھا ۔۔

” اچھا یار سوری اب نہیں کرونگا ایسے بات بس غلطی ہوگئی معاف کردو پلیز نہ میری پیاری زافہ میری جان میری معصوم بچی کی اما جان معاف کردو اپنے ناکام شوہر کو ۔۔۔!! حنان اسکے آگے آتے ہوئے کان پکڑ کر معصوم منہ بناتا ہوا بولا تھا ۔۔

ایک شرط پر ۔۔۔منظور ہے بس تم کہیں مت جاؤ مجھے چھوڑ کر ۔۔!! حنان اسکی بات سنے بغیر ہی اپنا فیصلہ سنادیا تھا زافا نے آبرو اٹھا کر اسے داد دی ۔۔

” اوکے تو پھر ابھی جاؤ پہلے زویا کا پیمپر چینج کرو اسکے بعد اسکے کپڑے دھو کر آؤ ورنہ اپن ابھی یہاں سے چلی جائے گی سوچ لے ۔۔!! زافا ہاتھ اٹھا کر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئی ۔۔۔

” تمہاری تو چڑیل کہیں کی ۔۔!! حنان ڈانٹ پیستے ہوئے بڑبڑا کر اپنے کام میں لگ گیا زافا دلچسپی سے اسے دیکھ رہی تھی اور چھپ کر اسکی ویڈیو بنا رہی تھی تاکے ڈی اے کو بھیجے اسے بتاۓ شوہر کیسے ہوتے ہیں اسنے تو بس اس معصوم کا جینا دوبھر کردیا ہے ۔۔۔

” حان تمہیں ایسی روتی ہوئی شکل نہیں بنانی چاہیے یہ سب تو تم اپنی پیاری سی بیٹی کے لئے کر رہے ہو نہ ویسے بھی بیٹیاں باپ کو لاڈلی ہوتی ہے ۔۔!! زافا نے حنان کو اسکی پیاری معصوم ڈول کے کپڑے دھوتے ہوئے دیکھ کر کہا تھا ۔۔

” اچھا تو کیا ماں کا کوئی فرض نہیں ہوتا جب دیکھو میری ڈول کے پیچھے پڑی رہتی ہوں اب بتاتا ہوں حانننن نہیں حا ہاہاہاہا اب کرو مستی میرے ساتھ ہاہاہا ۔۔۔!! زافا اسے چڑا رہی تھی جب حنان کچھ سوچتا ٹپ سے پانی نکالتا اس پر پھینکتا ہوا اسکی حالت پر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا زافا غصے میں گھورتے ہوئے اسی ٹپ سے پانی نکال کر اس پر پھینکنے لگی تھی اپنی مستی میں جب انہوں نے دیکھا سامنے انکی بیٹی چھوٹے ہاتھوں سے تالياں بجا کر ہنس رہی تھی دونوں اسے دیکھ کر مسکرائے تھے انکی محبت عشق انکی زندگی اب زویا میں تھی وہ لوگ اپنی چھوٹی سی زندگی میں بے حد خوش تھے ۔۔۔

★★★★

” بیراج ایک بات کہوں ۔۔ ہاں بولو یہ پوچھا مت کرو جو کہنا ہے بول دیا کرو ۔۔!! دافیہ کے پوچھنے پر بیراج نت محبت سے کہا تھا ۔۔

” آپ رمشا کو معاف کردیں جو بھی ہوا لیکن وہ آپکی دوست ہے پلیز میرے لئے ۔۔؟ دافیہ کو اچھا نہیں لگ رہا تھا اب اسکی وجہ سے رمشا نے کیا تھا انکی دوستی تو پورانی تھی ۔۔

” اوکے صرف تمہارے لیے ورنہ اسنے جو بھی کیا ہے معافی کے قابل نہیں اب یہاں بیٹھو میرے ساتھ ۔۔!! بیراج نے کچھ سوچ کر ہاں کہا پھر اسے اپنے پاس بٹھایا ۔۔

” کیا ہم انعل سے نہیں مل سکتے کافی عرصہ ہو گیا ہے اسے ملے ہوئے اور وہ معصوم تو فون پر بھی بات نہیں کرتی انکل بہت پریشاں رہنے لگے ہیں ۔۔!! دافیہ نے اسکے سینے پر سر رکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” ہمم میں بھی سوچ رہا تھا لیکن چاچو نے منع کردیا وہ نہیں چاہتے ہماری وجہ سے انعل کو کچھ بھی ہو اسے کوئی تکلیف پہنچے داريان کے ساتھ بھی بہت برا ہوا پر شاید یہی نصیب میں لکھا تھا انکے ۔۔!! بیراج گہرا سانس لیتا ہوا بولا تھا اسے انعل بہت یاد آتی وہ لوگ ملنے والے تھے اس سے پر حیات صاحب نے سب سچ بتا دیا تھا وہ انعل کی خوشی کی خاطر وہاں نہیں جا رہے تھے لیکن وہاں انعل انکے بغیر اپنے دل کو کیسے سمجھا رہی تھی یہ کوئی نہیں جانتا تھا سواۓ اس رب کے ۔۔

” اچھا جاؤ میرے لئے چائے بنا کر لاؤ ۔۔ بیراج نے اسے دیکھا جو مزے سے آنکھیں موند کر اسکے سینے سے لگی ہوئی تھی ۔۔

” نہیں ہم باہر چلے دل کر رہا ہے باہر جانے کو ۔۔ دافیہ نے لاڈ میں کہا بیراج اسے دیکھتا مسکرایا تھا اسنے جیسی ہمسفر سوچی تھی دافیہ بلکل ویسی ہی تھی وہ اپنے رب کا بہت شکر گزار تھا جس نے اسکے نصیب میں ایسی ہمسفر دی دونوں ہی بے حد محبت کرتے تھے ایک دوسرے سے یہی انکے لئے بہت تھا کیوں کے انکے بیچ محبت عزت عشق تھا ۔۔

★★★

” ڈی اے کہاں ہو تم داريان حیدر خان اا ۔۔؟ جعفری صاحب اسکے گھر میں آتے ہی چلا کر اسکا نام پکارا تھا اس وقت گھر میں کوئی نہیں تھا صرف داريان انعل تھے داريان اپنی سٹڈی میں تھا جب کے انعل اپنے روم میں سو رہی تھی اس دن طبیعت خرابی کی وجہ سے ڈاکٹر نے اسے آرام کرنے کو کہا تھا اس بات کو دو ماہ ہو گئے تھے جو کے اب انعل کی طبیت کبھی بھی خراب ہو سکتی تھی اس لئے داريان اسے اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا جعفری صاحب کی آواز سنتا داريان نیچے آیا تھا ۔۔۔

” آرام سے بات کریں یہ میرا گھر ہے اور ہاں میری بیوی سو رہی ہے اٹھ جاۓ گی اس لئے آرام سے بات کریں جو بھی کرنی ہے ۔۔؟ داريان نے اپنے ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالتے ہوئے سرد لہجے میں کہا تھا انھیں جعفری صاحب تو غصے میں گھورتے ہی رہ گئے ۔۔

” یہ تم نے کیا حرکت کی ہے ارشد جتوئی کے بھائی کو مار دیا تھا تو سکون سے بیٹھ جاتے انکے کلب میں آگ کیوں لگوائی پھر سے کیا تمہیں اپنی جان پیاری نہیں ہے اگر نہیں ہے تو اپنی بیوی کا سوچو وہ اب انکی نظروں میں آچکی ہے اب کیا کرو گے ۔۔۔؟ جعفری صاحب نے غصے میں سرخ پڑتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔

” یہ میرا مسئلا ہے اس سے تم دور رہو میری بیوی کا نام بھی نہیں آنا چاہئیے ورنہ انجام بہت برا ہوگا جہاں اتنے لوگوں کا خون کیا ہے وہا ایک اور صحیح ۔۔۔ ڈی اے نے اسے دھمکی دی تھی ۔۔

” تم تم مجھے دھمکی دے رہی ہو اور میں تمہیں ہر جگہ سے بچاتا آیا ہوں ۔۔۔ وہ ڈیل کس نے کی تھی اسی وجہ سے وہ شخص مارا گیا تھا اور مجھے کیوں بچاتے ہو بہت اچھے سے جانتا ہوں یاد رکھنا اگر میری بیوی بچے کو کچھ بھی ہوا تو میں تو ویسے بھی دوسرا موقع نہیں دیتا یہ بات تو بہت اچھے سے جانتے ہیں لیکن اس بار زید بھی کیا کرے گا یہ بھی آپ بہت اچھے سے جانتے ہیں ۔۔۔!! ڈی اے کی آنکھیں ضبط سے سرخ ہوگئی تھی ۔۔

” تمہاری بیوی جانتی نہیں ہے تم کون ہو جب اسے پتا چلے گا وہ ایک مونسٹر کے ساتھ ہے ایک خونی کے ساتھ جس نے آج تک نا جانے کتنے قتل کئے ہے جو اسکے باپ کو بھی مارنا چاہتا ہے جو اسے مارنا چاہتا ہے تم وہی ہو نہ جو اسے ڈرانے جاتے ہو اپنی پہچان بھی چھپا رکھی ہے بہت زبردست گیم پلینر ہو ۔۔۔!! جعفری صاحب جان کر یہ سب باتیں کر رہے تھے کیوں کے انہوں نے دیکھ لیا تھا انعل کو اوپر بیک سائیڈ کی وجہ سے ڈی اے نہیں دیکھ پایا نہ ہی جعفری صاحب کی چال سمجھ پایا تھا وہ دونوں غصے میں ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے انعل کی جو شور کی وجہ سے آنکھیں کھل گئی تھی دیکھنے آئی تھی باہر لیکن جب ان دونوں کی باتیں سنی تو اسکا تو جیسے جسم ہی سن ہو گیا تھا وہ سقکت سی ڈی اے کی پیٹھ دیکھ رہی تھی اسے یقین نہیں ہو رہا تھا یہ سب داريان نے کیا ہے وہ سچ میں ماسک مین تھا جس کے خوف سے وہ اب جاکے نکلی تھی اب جاکے خوشی سے زندگی گزرانے لگی تھی ۔۔

” آااآہہہ ۔۔ بب ۔۔بابا ۔۔دد ۔۔داريان ۔۔!! انعل درد سے کراہتے ہوئے اندر روم میں گئی ہمت کر کے اسنے سامنے سے اپنا موبائل اٹھایا جلدی سے اپنے بابا کا نمبر ملانے لگی روتے ہوئے وہ کانپتے ہاتھوں سے فون ملا رہی تھی درد بڑھتا جا رہا تھا ۔۔

” آہہہ ۔۔ بب ۔۔بابا ۔۔۔ ہیلو انعل میرا بچا کیا ہوا آ ۔آپ ٹھیک تو ہے نہ انعل کچھ بتاؤ میری بچی میرا دل گھبرا رہا ہے ۔۔!! انعل کا فون اٹھا کر حیات صاحب بیچنی سے تڑپ اٹھے تھے اسکی درد سے کراہتی ہوئی آواز نے انکو تڑپا دیا تھا ۔۔

” بب ۔۔بابا ۔۔ہہ ۔۔ہمیں ۔۔بب ۔۔بچا لے وو ۔وہ مار دیگا بب ۔۔بابا واپس آجاۓ ۔۔ہہ ہمارا ۔۔پپ ۔۔پاس اااہہہ بابااا آہہہ دد ۔۔دارياننن اااہہ ۔۔ انعل کانپتے ہوئے ہاتھ سے فون پر جلدی سے اپنے بابا سے بولی جتنا بولا گیا اس سے اسے بہت درد ہو رہا تھا وہ چیخ رہی تھی تڑپ رہی تھی درد سے داريان اسکی آواز سنتا جلدی سے اوپر بھاگا سامنے اسے دیکھا اسکا دل خوف سے دھڑک اٹھا تھا ۔۔۔

” اانو کیا ہوا انو ۔۔۔ آہہہ دد۔۔داريان ۔۔بب ۔۔بہت درد ہو رہا ہے ااآہہہ ہمیں درد ہو رہا ہے ۔۔۔ بس ہمت کرو کچھ نہیں ہوگا ہم چل رہیں ہے رونا بند کرو کچھ نہیں ہوگا انو میری بات سنو آنکھیں بند مت کرنا میں ہوں تمہارے ساتھ ۔۔۔ااآہہہ ۔۔بب ۔۔بابا ۔۔۔دد ۔۔دار ۔۔آہ ۔۔۔!! انعل کا درد بڑھتا جا رہا تھا وہ بہت تڑپ رہی تھی درد سے داريان آج بے حد ڈر گیا تھا اسکی حالت دیکھتے ہوئے وہ اپنے دھڑکتے دل کے ساتھ اسے اٹھا کر لے گیا ہوسپٹل جلدی سے ریش ڈرائیونگ کرتا وہ جلدی سے ہوسپٹل پہنچا اسے جلدی سے آپریشن روم میں لے گئے داريان باہر کھڑا انعل اور اپنے بچے کے لئے دعا کرنے لگا پھر جلدی سے وہاں کی مسجد میں گیا وہ پہلے ہی بہت کچھ کھو چکا تھا اسکے اندر کہیں نہ کہیں ابھی ڈر تھا بہت وہ انعل کو نہیں کھونا چاہتا تھا نہ ہی اپنے بچے کو آج انعل کو اتنا تڑپتا دیکھتا خود بھی تڑپ گیا تھا وہ ان سب کے لئے بہت چھوٹی تھی پھر بھی اسنے بہت درد تکلیف سہی تھی ۔۔

” مبارک ہو بیٹا ہوا ہے ۔۔۔!!نرس باہر آتے ہوئے اسے سفید کمبل میں اس خوبصورت بچے کو اسکے حوالے کیا داريان اس بچے کو اپنی گود میں لیتا اسے سینے سے لگایا تھا ۔۔۔

” میری بیوی کیسی ہے اب ۔۔۔ وہ ٹھیک ہے بس تھوڑی کمزوری ہوگئی ہے انھیں آپ انکا بہت اچھا خیال رکھیں تھوڑی دیر میں انھیں روم میں شفٹ کردیا جاۓ گا ۔۔!! داريان بےچین سا ہوا اسے انعل کو دیکھنا تھا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *