Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafrat e Ishq (Episode 05)

Nafrat e Ishq by Mahra Shah

” کیااا۔۔مم۔۔میں کہاں سے لاؤں اتنے پیسے “۔۔وہ شاک میں بولی ۔۔

” یہ میرا مسئلہ نہیں ہے پانچ لاکھ دو اور یہاں سے

جاؤ “۔۔۔سکون سے کہا گیا ۔۔

” میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں آپ چاہتے ہیں میں چوری کروں ۔۔۔دافیہ حیرت میں کہا ۔۔

” یہ تمہارا مسئلہ ہے میرا نہیں میرا جو نقصان ہوا ہے مجھے وہ ٹھیک کرنا ہے حالانکہ اس سے کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔ بیراج نے اپنی بات ختم کی ۔۔

” جی نہیں یہ آپکا مسئلا ہے پیسے آپکو چاہئیے جب کے میں نے کچھ کیا بھی نہیں پھر بھی اتنا بڑا نقصان اٹھاؤں مجھے ایسی جگہ جاب نہیں کرنی جہاں مجھے کچھ بولنے کا موقع بھی نہ دیا جائے “۔۔ دافیہ نے غصے اور غم سے کہا ۔۔

” ٹھیک ہے میں آج رات کو کسی بینک میں جاتی ہوں لوٹنے اوکے “۔۔۔دافیہ چڑ کر بولی ۔۔

” چوری کرنے والے بتا تے نہیں ہے “۔۔۔ بیراج نے جلا نے والی مسکراہٹ سے کہا ۔۔

” وہ اصلی چور ہے اور میں آج بنی ہوں تو میرا طریقہ تھوڑا الگ ہوگا نہ “۔۔۔وہ چڑ کر بولی ۔۔۔

” اوکے تمہے آرام سے جانا چاہیے اگر جیل چلی گئی تو میرا بہت نقصان ہوگا اب سمجھ تو گئی ہوگی “۔۔ بیراج نے اٹھ کر اسکے سامنے آتے کہا ۔۔

” بی سر پلیز میں نے وہ چوری نہیں کی ہے مجھے نہیں پتا وہ ڈیزائن کس نے کیسے میرے آفس سے چوری کرلی اور اور مم ۔۔میرے پاس پانچ لاکھ نہیں ہے اگر میں اتنی ہی امیر ہوتی تو چوری کرتی کیا “۔۔ دافیہ نے اسکو سامنے دیکھ کر التجا کی ۔۔۔

” تم اتنی لاپرواہ کیسے ہو سکتی ہو جانتی ہو میرا لاکھوں کا نقصان ہوا ہے اور ایک بات تم نے یا جس نے بھی یہ کام کیا ہے وہ کسی کو بھی بھیج دیتا مجھے اتنی تکلیف نہیں ہوتی جتنی اس زین انصاری کے نام سے ہوتی ہے جانتی ہو وہ میرا سب سے بڑا دشمن ہے وہ چاہتا ہے میں برباد ہو جاؤں وہ خود دنیا کا بیسٹ بزنس مین بن جائے “۔۔ بیراج نےغصے میں دافيہ کا بازو پکڑ کر قریب کیا دافيہ کی تو سانس ہی رک گئی اسکو اتنا غصے میں دیکھ کر اور اپنے اتنے قریب اسکا دل بہت تیزی سے دھک دھک کر رہا تھا ۔۔۔

” مم ۔۔ میں ۔۔ سس۔۔ سچ ۔۔کہ رہی ہوں ۔۔ بب بی ۔۔سس ۔۔سر ۔۔مم ۔۔میں نے نہیں کیا ۔۔آ ۔آپ یقین کریں میرا “۔۔ دافیہ کی آنکھیں نم ہوگی تھی اسکی پکڑ سے ۔۔

جس دن مجھے پتا چلا تم نے کیا ہے نہ تو میں خود تمہے سزا دونگا ۔۔ بیراج غصے میں کہتا اسے چھوڑ کر روم سے نکل گیا ۔۔

” میں نے نہیں کیا ہے آپکو کیوں یقین نہیں آتا ۔۔دافيہ اسکے جاتے ہی خود کے آنسوؤں کو روک نہیں پائی ۔۔

★★★★

” میں حنان سلطان ہوں ایک چھوٹا سا اچھا بزنس مین ہوں مجھے آپکی بیٹی بہت پسند ہے اس لئے میں رشتہ لیکے آیا ہوں میرا کوئی نہیں ہے اس دنیا میں اکیلا ہوں ایک دوست بھائی ہے اسکے ساتھ رہتا ہوں بس وہ تھوڑا غصے اور اپنی دنیا میں رہنے والا ہے اس لئے اسے ساتھ نہیں لایا اب آپ بتائیں آپکو رشتہ منظور ہے “۔۔ حنان نے ایک ہی بار میں اپنی بات ختم کی زافا کی ماں تو کھلے منہ سے سامنے بیٹھے لمبے چوڑے خوبصورت انسان کو دیکھ رہی تھی انہیں اپنی بیٹی کی قسمت پر رشک آیا کیا ایسے بھی نصیب کھلتے ہیں ۔۔

” بیٹا مجھے بھلا کیا اعترض ہوگا پر کیا آپکو زافا کا پتا ہے مطلب وہ کیا کرتی ہے اور ہم بہت غریب انسان ہے میں اپنی بیٹی کو اتنا کچھ دے بھی نہیں پاؤنگی “۔۔ زافا کی ماں بہت خوش ہوئی تھی ۔۔

” نہیں اماں جی مجھے صرف آپکی بیٹی چاہیے اور کچھ نہیں اس لئے میں خود آیا ہوں آپ سے بات چیت کر پاؤں مجھے بس سمپل نکاح کرنا ہے اور کچھ نہیں “۔۔ حنان سنجیدگی سے بولا وہ چاہتا تھا زافا کے آنے سے پہلے وہ اسکی ماں کو راضی کرلے بعد میں اسے دیکھ لے گا اس لئے وہ اسکے گھر سے نکلتے پھر آیا اور وہ جانتا تھا اسکی ماں ضرور راضی ہوگی اسے رجیکٹ کیا نہیں جا سکتا اور سچ بھی تھا وہ واقعی لڑکیوں کا کرش تھا ۔۔

” ٹھیک ہے بیٹا وہ تمہاری امانت ہے جب چاہو اسے لے جاؤ مجھ غریب عورت کی اور کیا خوش قسمتی ہوگی جس کے در پر چل کر ایسا رشتہ آیا ہوں یہ تو اللّه سوہنے کا کرم ہے بیٹا “۔۔زافا کی ماں نے دل سے دعا دی ۔۔

” طوفاں آنے سے پہلے میں چلتا ہوں اور جمعہ کو ایک طوفان کے ساتھ آؤ گا آپکے گھر تیار رہنا آپ سب “۔۔ حنان نے مسکراتے ہوئے کہا زافا کی ماں اسکی بات پر ہنس کر ہاں میں سر ہلا یا اسے صرف اپنی بیٹی کے نصیب سے مطلب تھا وہ جانتی تھی وہ گھروں میں کام کرتی ہے اسکی بیٹی کے لئے بہت مشکل ہے کوئی اچھا رشتہ وہ بھی تو چوری کرتی ہے کون کرتا ہے آج کے زمانہمے میں ایک چور سے شادی یہ تو اسکی خوش نصیبی تھی اسکی ماں اتنے میں خوش تھی اسکی بیٹی کو ایک اچھا شوہر مل رہا ہے جس کا اپنا کاروبار ہے پھر تو اسے چوری کی ضرورت ہی نہیں دل میں بہت سی دعا کی وہ جانتی تھی زافا کو راضی کیسے کرنا ہے ۔۔

★★★★★

” انو داريان آیا ہے آپ سے ملنے “۔۔ بی جان نے روم میں آتے ہوئے کہا وہ جو بیڈ پر لیتی ہوئی تھی اپنے خیالوں میں ایک جھٹکے سے سیدھی ہوئی ۔۔

” کّک ۔۔کیا ۔۔آ ۔آپ سچ کہہ رہی ہے بی جان وہ ہم سے ملنے آئے ہیں “۔۔ انعل کو بے انتہا خوشی ہوئی اسکا سن کر اسکا دل داريان کے نام سے دھڑک اٹھا اسے تھوڑا بخار بھی تھا پر وہ اس وقت سب بھول گئی بلکل فریش ہوگئی تھی ۔۔

” ہاں میری جان وہ آپکی طبیعت کا پوچھنے آئے ہیں نیچے بیٹھے ہیں چلو آؤ “۔۔ بی جان نے پیار سے اسکا ماتھث چوما ۔۔۔

” نہیں بی جان ہم اس حالت میں نہیں جائے گے آپ چلے ہم تیار ہو کر آتے ہیں “۔۔ انعل بی جان کا گال چوم کر ڈریسنگ روم میں بھاگی بی جان اسکی جلد بازی پر مسکرائی ۔۔

★★★

” آپکی طبیت کیسی ہے اب “۔۔ داريان خان نے حیات صاحب سے کہا ۔۔

” الحمدللّٰه بیٹا اب ٹھیک ہوں میری زندگی میری جان واپس میرے پاس ہے سہی سلامت اللّه پاک کا شکر ہے ان لوگوں نے میری بچی کے ساتھ کچھ برا نہیں کیا ورنہ میری تو جان ہی نکل گئی تھی “۔۔ حیات صاحب پہلے اداسی ڈر سے پھر خوشی سے اظہار کیا ۔۔

” جی سہی کہا شکر ہے رب پاک کا اب آپ پریشان نہیں ہونا کچھ نہیں ہوگا انعل کو ہم سب آپکے ساتھ ہے اور کیا انعل نے کچھ بتایا کیا ہوا تھا کون تھے وہ لوگ “۔۔ داريان کو جاننا تھا کیا ہوا تھا ۔۔

” نہیں بیٹا اس نے کہا وہ اسے نہیں دیکھ پائی تھی اسکا چہرہ ماسک میں تھا اور ان لوگوں نے صرف اسے روم میں بند رکھا تھا پر یہ سمجھ نہیں آیا ان لوگوں نے کیسے چھوڑا اسے اگر ایسا کچھ کرنا تھا تو کڈنیپ کیوں کیا “۔۔حیات صاحب سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے وہ لوگ کیسے تھے انہوں نے کوئی ڈیمانڈ بھی نہیں کی کیا چاہتے ہیں آخر ۔۔

” کیا یہ سب تم نے کیا ہے مطلب انعل کو وہاں سے چھڑوانا آپ نے کہا تھا آپکا کوئی دوست ہے “۔۔ حیات صاحب نے کہا ۔۔

” میں نے صرف کوشش کی تھی میرے ساتھی نے ہیلپ کی وہ بھی ان لوگوں کو پکڑ نہیں پایا تھا جب اسے پتا چلا انعل کی لوکیشن کا تو وہ فورن وہاں پہنچا پر شاید ان لوگوں کو پتا چل گیا تھا تبھی بھاگ نکلے “۔۔ داريان نے سنجیدگی سے کہا اسکی نیلی آنکھیں سرخ تھی ایسا لگا جیسے وہ ضبط کر رہا تھا ۔۔

” بہت بہت شکریہ بیٹا آپ نہیں جانتے آپ نے میری زندگی میری سانسیں لوٹا دی ہے ہمیں ملے ہوئے ابھی تھوڑا ہی ٹائم ہوا ہے پر آپ نے مدد کر کے ایک بہت اچھے نیک انسان ہونے کا ثبوت دیا ہے کون کرتا ہے آج کل کسی کے لئے آپ کا بہت شکریہ “۔۔ حیات صاحب نے دل سے اسکا شکریہ ادا کیا اسے داريان بہت پسند آیا تھا وہ واقعی ایک اچھا انسان تھا انکے لئے ۔۔

” اب آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہے آپ بڑے ہیں بس اب اور شکریہ مت کہیں اور انعل کی طبیعت کیسی ہے اگر آپ اجازت دے تو کیا میں انہیں باہر لے جاؤں آپ بے فکر رہیں میں انکی اپنے جان سے بھی زیادہ حفاظت کروں گا “۔۔ داريان نے انکے چہرے پر پریشانی دیکھتے ہوئے کہا وہ انعل سے اکیلے میں ملنا چاہتا تھا ۔۔

” مجھے آپ پر یقین ہے بیٹا آپ لے جائیں ” حیات صاحب نے اجازت دی وہ تھوڑے فکر مند ہوئے تھے ابھی تو انکی بیٹی انکے پاس آئی تھی اب وہ اسے کہیں بھی اکیلے نہیں جانے دینا چاہتے تھے پر داريان نے انہیں یقین دلا یا تو وہ مان گئے ۔۔

” لو آگئی میری پیاری بیٹی ماشاءاللّٰه میرا بچہ بہت پیارا لگ رہا ہے ۔۔ حیات صاحب انعل کو آتے دیکھ کر اسکی نظر اتری دل میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی داريان نے بھی اسکی جانب دیکھا ایک پل کو تو وہ بھی کھو گیا اسکے دلکش حسن میں وہ چلتی ہوئی انکے سامنے سفید رنگ کی پٹیالا شلوار پنک رنگ کی شارٹ شرٹ سفید دوپٹہ کندھوب پر پھیلا ہوا تھا لمبے بال کھلے کمر پر کچھ آگے تھے سٹائل سے بنے ہوئے لائٹ میکپ میں اسکا گلابی رنگ معصومیت وہ بے انتہا خوبصورت دلکش لگ رہی تھی اسکی خوبصورتی لوگوں کو اپنی طرف موتوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔۔

” السلام علیکم کیسے ہے آپ “انعل نے داريان کے سامنے مسکرا کر اپنا گلابی ہاتھ آگے بڑھا یا ۔۔

” وعلیکم السلام الحمدللّٰه آپ کی طبیعت کیسی ہے “۔۔ داريان ہلکا مسکرایا اور اسکا ہاتھ تھام لیا اسکے لمس سے انعل کی دل کی دھڑکن تیز ہوئی ۔۔

” آ ۔آپ بیٹھے نہ “۔۔ انعل نے کہا ۔۔

” نہیں اب چلتے ہیں مطلب آپ میرے ساتھ چلے گی باہر بے فکر رہیں انکل سے اجازت لی ہے “۔۔ داريان کے پوچھنے پر انعل نے اپنے بابا کو دیکھا جس نے اثبات میں سر ہلا کر اجازت دی انعل مسکراتی اسکے ساتھ جانے کو راضی ہوئی داريان نے اجازت لی اور باہر نکل آئے ۔۔

★★★★★

” یہاں کیا کر رہی ہو “۔۔ وہ گاڑی سے نکل کے اسکے سامنے آیا ۔۔

” بھیک مانگ رہی ہوں اور تو کوئی راستہ نہیں ہیں میرے پاس یا تو پھر بھیک مانگنے بیٹھ جاؤں یا وہ سامنے جو پل ہے نہ وہاں سے کود جاؤں “۔۔ اس نے طنزیہ مسکرا کر کہا۔۔

” پھر کتنی بھیک ملی ہے “۔۔ اسنے بھی دل جلانے والی مسکراہٹ سے کہا ۔۔۔

” جو ملی تھی وہ بھی چوری ہوگئی پر آپکو کیا کون سا یقین ہے مجھے پر جو ابھی کرلیں گے “۔۔ دافیہ نے غصے میں کہا ۔۔

” یقین تو تم نے میرا توڑا ہے محترمہ اتنی جلدی بھول گئی یا پھر پانچ لاکھ کا صدمہ لگ گیا ہے “۔۔ بیراج نے طنزیہ کہا ۔۔

” سمجھ نہیں آتا اتنی امیر بھی نہیں ہوں پھر بھی لوگ مجھے ہی لوٹنے آتے ہیں پتا نہیں کیوں بس اللّه پاک کا شکر ہے خوبصورت بہت ہوں اور تو زیادہ کچھ نہیں ہے “۔۔ دافیہ کو خود پر بہت افسوس ہوا ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی پھر سے اسی چور نے اسکا بیگ لیکے بھاگ گیا اور وہ خالی ہاتھ دیکھتی رہی غصے میں وہی سڑک کے کنارے پر بیٹھ گئی بیراج گھر جا رہا تھا پر اسکی نظر دافیہ پر گئی تو وہ خود کو روک نہیں پایا اسکے سامنے گاڑی روک دی اب اسکو غصے میں دیکھ رہا تھا جو واقعی غصے میں بھی بہت خوبصورت لگی بیراج کو لگا اسے صحیح کہا اسکے پاس خوبصورتی بہت ہے وہ آسمانی رنگ کے سوٹ میں تھی سر پر سیاہ چادر چڑھائی رکھی تھی ۔۔

” یہاں کیوں بیٹھی ہو اور چلوں اٹھوں پانچ لاکھ کا انتظام گھر جاکے کرنا ابھی چلو یہاں سے “۔۔ بیراج کو اسکا یہاں بیٹھنا اچھا نہیں لگا ۔۔

” مم ۔۔میرے پیسے چوری ہوگئے پورا بیگ اور میرے پاس گھر جانے کے لئے پیسے نہیں تھے اس لئے یہاں بیٹھ گئی “۔۔ دافيہ نے شرمندگی سے بتایا پتا نہیں کیا سوچتا ہوگا اسکے بارے میں دافیہ کو لگا ۔۔

” اس چور کو تم سے کچھ زیادہ محبت نہیں جب دیکھو تم ہی اسکا شکار بنتی ہو چلو آؤ چھوڑ دیتا ہوں “۔۔ بیراج ایک افسوس بھری نظر ڈالتا آگے بڑھا اسکو غصہ بہت آیا شام کا ٹائم تھا تھوڑی دیر میں رات ہو جاتی تو کیا وہ اسی طرح اپنے بیگ پیسوں کا افسوس کرتی یہی اکیلی بیٹھی رہتی کیا اس بیوقوف کو آج کل کے حالت کی خبر نہیں تھی ۔۔ دافيہ سوچ میں پڑھ گئی کیا کریں جائے یا نہیں اگر انا میں آکر انکار کرتی تو اسکو پوری رات یہی سڑک پر رہنا پڑتا جس کا سوچتے ہی سانس رک جاتا وہ اللہ یہاں کچھ غلط ہو جائے توبہ کرتی اس لیے آگے بڑھ کر گاڑی میں بیٹھی ۔۔

★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★★

” کیااااا۔۔ اپن کی شادی کس سے اماں اور ایسے کیسے کسی سے کردے گی میں تیری بیٹی ہوں اماں پوچھ تو لیتی سیدھا حکم دے رہی ہو جمعہ کو شادی ہے تیری ۔۔زافا غصے صدمے میں چلا اٹھی اسے یقین نہیں آرہا تھا اسکی ماں نے اسکا کسی کے ساتھ رشتہ پکا کردیا ہے اس دن ایک سے تو اچھے سے جان چھڑائی تھی اب یہ کون آگیا تھا سیدھا نکاح کرنے ۔۔

” بس چپ بہت کرلی بکواس میں نے تیرا رشتہ پکا کردیا ہے اچھا لڑکا ہے اچھا کما تا ہے اب اچھے سے رہنا یہ چوری کرنا چھوڑ دے ورنہ سچ میں کسی دن جیل میں پڑھمی ہوگی کوئی نہیں آئے گا بچانے یاد رکھنا میرے الفاظ “۔۔ اسکی ماں نے غصہ کرتے ہوئے کہا ۔۔

” اماں میں جیل چلی جاؤ گی پر شادی نہیں کرونگی یاد رکھنا اور پتا نہیں کس ٹھرکی سے شادی کر رہی ہے اپن کی “۔۔ غصے میں بول کر باہر نکلی ۔۔

“شادی تو تیری ہوگی دیکھتی ہوں کیسے نہیں کرتی تو اسی دن نکاح کروا کر رخصحت ہوگی میری جان عذاب میں ڈال رکھی ہے “۔۔اسکی ماں اسے جاتے دیکھ کر کہا وہ ان سنا کرتی باہر چلی گئی پھر سے کسی کو لوٹنے شاید ۔۔

★★★★★

“ظفر پر نظر رکھو اسکے ارادے کچھ ٹھیک نہیں “۔۔ ڈی اے نے لیپ ٹوپ پر تیزی سے انگلیاں چلا تے ہوئے کہا ۔۔

” میں نے پہلے ہی کہا تھا اس کمینے کو ٹپکا دیتے ہیں ویسے کرنے کیا والا ہے “۔۔ حنان نے ظفر کے ذکر پر نا گواری سے کہا حنان کو ظفر بلکل پسند نہیں تھا وہ بھی انکی طرح مافیا تھا انکی ہی ٹیم سے پر اسکے کام الگ تھے وہ گندے کاموں میں بہت پڑھمتا تھا حنان ڈی اے کو صرف اپنے کام سے مطلب ہوتا تھا جب کے ظفر دوسروں کے کاموں میں بھی ٹانگ اڑاتا تھا یہی بات حنان کو زہر لگتی تھی ۔۔

” اسکی نظر انعل حیات پر پڑ گئی ہے ۔۔۔۔ كياااا کب کیسے مجھے کیوں نہیں بتایا ” ۔۔ حنان ڈی اے کی بات کاٹ کر تیزی سے بولا۔۔

” اس دن جب تم انعل کو یہاں سے لے جا رہے تھے اب اس پر اچھے سے نظر رکھوں زید جعفری کو ضرور بتائے گا اسکے بعد تم جانتے ہوں “۔۔ ڈی اے غصے میں غرایا ضبط سے اسکی گرے آنکھیں لال تھی ۔۔

” اوکے اور مجھے کچھ کہنا تھا جانتا ہوں غصہ کرو گے اور اپنی اس خوبصورت لال آنکھوں سے گھورو گے بھی اور ۔۔ بربادی مبارک “۔۔ ڈی اے نے اسکی بات کے بیچ میں کہا حنان کھلے منہ سے اسے دیکھتا رہ گیا اسے کیسے پتا چلا وہ اب برباد ہونے والا ہے مطلب شادی کرنے والا ہے ۔۔

” تم نے میرے پیچھے بھی جاسوس چھوڑے ہیں تمہیں اپنے حنان پر یقین نہیں “۔۔ حنان نے افسوس سے اسے دیکھا ۔۔۔

” یاد رکھنا مجھے شور کی آواز پسند نہیں “۔۔ ڈی اے اسے اپنی باتوں سے اچھے سے سمجھاتا ہوا بولا ۔۔۔

شادی کر رہا ہوں بچہ گود نہیں لے رہا جو ہر وقت شور ہوتا رہے گا اور تم بھی شادی کرلو سچ کہہ رہا ہوں تمہیں بیوی کی ضرورت ہے اب “۔۔ حنان قہقہ لگاتے ہوئے بھاگ گیا جانتا تھا ڈی اے شادی کے نام سے کتنا چڑتا ہے کہیں پھر سے پنج نہ مار دے ۔۔

★★★★

” اب طبیعت کیسی ہے آپکی “۔۔ داريان نے بات کا آغاز کیا وہ جو اسے ریسٹورنٹ میں لے آیا تھا تھوڑا وقت اسکے ساتھ گزارنے کے لئے پر جب سے آئے تھے وہ لوگ خاموش بیٹھے تھے آج انعل کچھ بول نہیں رہی تھی پتا نہیں کیوں اسے لگا اسکی طبیت خراب ہونے کی وجہ سے شاید وہ خاموش ہے ۔۔۔

” ہہ۔۔ ہم ٹٹ۔۔ ٹھیک ہیں آ ۔آپ کیسے ہے “۔۔ اسکے پوچھنے پر انعل نے گھبراہٹ میں کہا پتا نہیں کیوں وہ جب بھی اسے دیکھتی تھی اسکا دل زور سے دھک دھک کرتا تھا ایک ڈی اے دوسرا یہ شخص دونوں کے سامنے اسکی حالت نازک ہونے لگتی تھی لیکن اسے داريان کے ساتھ رہنا بھی اچھا لگتا تھا گھبراٹ بھی ہوتی پھر بھی ایک الگ خوبصورت فیلنگ ہوتی تھی ۔۔

” اگر میں آپ سے کچھ پوچھوں تو کیا آپ مجھے سچ سچ بتائیں گی “۔۔ داريان نے اپنی نیلی آنکھوں سے اسکی کالی آنکھوں میں دیکھ کر کہا ۔۔

” جج ۔۔ جی پوچھیں ہم سچ بتائیں گے “۔۔ انعل سے اگر کوئی پوچھتا اسے داريان میں کیا اچھا لگتا تو وہ صرف یہ کہتی ایک اسکی سحر انگیز آواز دوسری اسکی آنکھیں جن سے وہ بے انتہا محبت کر بیٹھی ہے وہ شروع سے آنکھوں کی دیوانی تھی اسے نیلی گرے اور خوبصورت آنکھیں اٹریکٹ کرتی تھی ۔۔

” مجھے یقین ہے آپ سچ بتائیں گی تو یہ بتاؤ جس نے کڈنیپ کیا وہ کون تھا کیا اسکے بارے میں کچھ جانتی ہیں آپ “۔۔ داريان نے ہلکی مسکراہٹ سے پوچھنا اسکا نرم انداز انعل کو بہت پیارا لگا اس کڈنیپیگ کا پوچھنا اسے ڈی اے کا تھپڑ اسکا قید یاد آیا اسا رنگ سفید مانند پڑ گیا ۔۔

” پپ ۔۔ پتا نہیں وو ۔۔وہ لوگ کون ہے پر وہ ماسک مین بہت برا ہے انہوں نے ہمیں بہت زیادہ ٹورچر کیا اور آپکو پتا ہے ہم نے پہلے بھی انہیں لنڈن میں دیکھا تھا اور افان کی پارٹی میں بھی اور انہوں نے ہی وہاں آگ لگوائی تھی ہم نے خود سنا دیکھا تھا وہ کسی سے کہہ رہے تھے “۔۔ اسکا صرف پوچھنا تھا انعل کا ڈر اسکے ساتھ ہوتے ہوئے جیسے ختم ہو گیا اور پٹر پٹر کر کے سارا سچ بول دیا بنا اپنے انجام کا سوچے اگر ڈی اے کو پتا چل گیا اسے سب سچ داريان کو بتا دیا ہے تو وہ کیا کرے گا اسکا وہ آج پھر ایک بیوقوفی کر بیٹھی ۔۔۔

” اتنا سب کچھ ہو گیا کیا آپ نے کسی کو بتایا ہے یہ نہیں “۔۔ داريان کو اسکا سچ بولنا بہت اچھا لگا وہ جانتا تھا وہ ضرور اسے سچ بتائے گی جھوٹ نہیں بولے گی اس سے کچھ سوچتے اسکی آنکھوں میں ایک چمک آئی ۔۔

” نہیں بابا کو بتانا تھا پر موقع نہیں ملا تو ہم نے ابھی تک کسی کو نہیں بتایا صرف آپ جانتے ہیں “۔۔ انعل نے انتہائی معصومیت سے کہا ۔۔

آپ کو لگتا ہے کیا وہ پھر سے آپکے پیچھے آئے گا کیا آپ اسکا نام جانتی ہیں ۔۔ داريان نے آرڈر دیتے ہوئے اس سے پوچھا ۔۔

” ہاں سب اسے ڈی اے کہتے ہیں نام نہیں پتا بس یہ پتا ہے اور اور انہوں نے کہا وہ ہم سے نکاح کریں گے پر ہمیں ان سے شادی نہیں کرنی وہ برا ہے “۔۔ انعل نے پریشانی میں کہا جیسے کل ہی اس سے نکاح ہونے والا ہوں ۔۔

” آپ پریشان نہ ہوں میں آپکے ساتھ ہوں کچھ نہیں ہونے دونگا ویسے کیا آپ کسی کو پسند کرتی ہے “۔۔داريان نے سنجیدگی سے کہا ۔۔

“پپ ۔۔پسند وہ نہیں نہیں ہم ہم کسی کو نہیں “۔۔ اسکے سوال پر وہ بہت زیادہ گھبرا گئی اسے کچھ سمجھ نہیں آیا کیا کہیں کیسے بتاۓ وہ اسے پسند کیا محبت کرنے لگی ہے جب سے اسکو پارٹی میں دیکھا تھا تب سے وہ اسکے ہر خواب خیال میں آتا ہے اسکے ایسے اچانک سوال پر وہ بوکھلا گئی ۔۔

” اچھا یہ تو بہت اچھی بات ہے آپ تو بہت اچھی پیاری لڑکی ہے پھر چلے کھانا شروع کریں “۔۔ اسکے سرخ چہرے گھبراہٹ میں بولنے پر داريان نے لب دبا کر مسکراہٹ روکی ۔۔

” وو ۔۔وہ ہمیں بھوک نہیں ہے ہم جوس پئیں گے ” انعل نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا اب کیا کہتی اسے کھانا کھانا صحیح سے نہیں آتا اسے وہ دن یاد آیا ڈی اے کے گھر حنان کے سامنے اس سے کھایا نہیں گیا جو کھاتی گر جاتا تھا اور یہ حرکت وہ داريان کے سامنے نہیں کر سکتی تھی اسے بھوک تو لگی تھی پر خود کو سمبھال لیا ۔۔

داريان نے بس تھوڑا کھایا دونوں کے بیچ ہلکی باتیں ہوئی اسکے بعد داريان نے اسے تھوڑی شوپنگ کروائی پھر دوبارہ ملاقات کا کہتے اسے گھر چھوڑا انعل آج بہت خوش تھی اسے داريان کے ساتھ گھومنا بہت اچھا لگ رہا تھا ۔۔

★★★★

” مجھے لگتا ہے ڈی اے آپ سے کچھ چھپا رہا ہے “۔۔ ظفر نے كمینگی سے ہنستے ہوئے کہا ۔۔

” کیا چھپا رہا ہے ڈی اے ایسا کیا جانتے ہو تم ۔۔ زید جعفری نے گھور تے ہوئے کہا ۔۔

” جانتے تو بہت کچھ ہے اسکا پاکستان آنا اسکے گھر میں ایک خوبصورت نازک حسینہ کا ملنا کچھ تو دال میں کالا ہے آپ کو نہیں لگتا بوس “۔۔

لگتا تو بہت ہے ڈی اے اس طرح یہاں آنا کچھ تو ہے ورنہ وہ لنڈن میں اپنا بزنس بند کر کے یہاں کیا لینے آیا ہے اور وہ لڑکی کون ہے ۔۔ زید جعفری کچھ سوچتے ہوئے کہا ۔۔

پتا نہیں میں ٹھیک سے دیکھ نہیں پایا لیکن اب ایک اور چکر لگاؤ گا ڈی اے کے گھر ۔۔ ظفر یاد کرنا چاہا پر اسے کچھ صاف یاد نہیں آیا ۔۔

” مجھے اس لڑکی کا ڈیٹا چاہئیے پیسے تمہیں مل جائیں گے اب ڈی اے کے ساتھ گیم کھیلنے میں اور بھی مزہ آئے گا ۔۔ زید جعفری نے قہقہہ لگایا ساتھ ظفر کا بھی زور دار قہقہہ تھا پر وہ لوگ بھی شاید بھول گئے تھی کہ ڈی اے کون ہے ۔۔

★★★★

” اب بس بہت ہوا جلد ہی میں آپکا بدلہ لونگا آنی جس طرح آپ تڑپی تھی اسی طرح ان لوگوں کو تڑپاؤنگا یہ میرا وعدہ ہے آپ سے خود سے بابا سے بہت جلد اپنے ہر دکھ کا حساب لونگا حیات شیرازی تم سے تمہاری بربادی کا وقت آگیا ہے “۔۔ وہ پورے روم میں اندھیرا کئے بیٹھا تھا اسکے ہاتھوں میں ایک خوبصورت نوجوان لڑکی کی تصویر تھی جس سے وہ ہمیشہ باتیں کیا کرتا تھا ۔۔

” آنی آپ نہ مجھے بہت اچھی لگتی ہے “۔۔ وہ دس سالہ بچہ اسکے پیچھے گلے لگتے ہوئے محبت سے کہا ۔۔

” اچھا پر مجھے تو یہ نیلی آنکھوں والا بلا بہت پیارہ لگتا ہے میرا دل کرتا ہے میں ایسے کھا جاؤں “۔۔ آنی نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا اور سچ ہی کہا تھا اس میں سب کی جان بستی تھی وہ تھا ہی بہت خوبصورت لڑکا دس سال کا تھا پر وہ لمبا تھا جسے وہ اپنی عمر سے بڑا لگتا تھا ۔۔

” آنی آپ مجھے کبھی چھوڑ کر نہیں جائے گی نہ اگر آپ نے سوچا بھی نہ تو میں آپ سے ناراض ہو جاؤنگا “۔۔ اسنے ناراضگی کا اظہار کیا ۔۔

” آنی اپنے شہزادے کو کبھی نہیں چھوڑ کر جائے گی ۔۔ پرومس “۔۔اس لڑکے نے اپنا ہاتھ آگے کیا آنی نے مسکراتے ہوئے تھام لیا ۔۔

” آنی آپنے پرومیس کیا تھا پر آپنے توڑ دیا اپنا وعدہ آپ چھوڑ گئی مجھے اکیلے “۔۔ اسنے درد سے آنکھیں بند کی ایک آنسو نکل کر باہر آیا ۔۔

★★★★

” یا اللّه میری مدد کریں میں کیا کروں کہاں سے لاؤں اتنے پیسے کیسے ثابت کروں خود کو افف کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے “۔۔ دافیہ نے روم میں چکر کاٹتے ہوئے خود سے کہا ۔۔

” یہ سب اس چڑیل کمینی رمشا نے کیا ہے میرے ساتھ اللّه کرے اسکے ساتھ بھی کوئی ایسا کرے کیوں میرے پیچھے پڑی ہے وہ چڑیل بیراج سر کو بھی پتا نہیں کیا دکھتا ہے اس میں میری بات کا یقین ہی نہیں کرتے افف ” ۔۔ وہ بے بسی سے کہتی بیڈ پر گر گئی ۔۔

” محبت کرنی ہی نہیں چاہئیے انسان کو بہت تڑپاتی ہے پتا نہیں کیوں ایسا ہوتا ہے محبت بھی ایسے انسان سے ہوجاتی ہے جو صرف تڑپانا جانتا ہے ۔۔ دافیہ بیراج کا سوچتی خود سے کہہ رہی تھی آنکھوں میں نمی تھی ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *