Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296 Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 9)
Rate this Novel
Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 9)
Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj
رحمت۔۔۔
رحمت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہاتھ میں گلاس تھامے ، دوسرے ہاتھ سے دروازا کھٹکھاتے ہوئے عیبا نے رحمت کو پکارا۔۔۔
لیکن۔ جواب نادارا۔۔
کیا ہوا؟ بیٹا۔۔۔
چاچی یہ رحمت دروازا نہیں کھول رہی پتہ نہیں کیا ہوا ہے۔عیبا پریشان ہوتے ہوئے بولی۔۔
تم ایک کام کرو کیچن سے دوسری کیی لے کر آو۔۔اور کسی کو کچھ مت بولنا۔۔
جی چاچی۔۔۔
یا اللّٰہ رحم۔۔۔عیبا کے جانے کے بعد وہ دل میں خدا سے رحم کی اپیل کرتے ہوئے بولیں۔۔
چابی لانے کے بعد اس نے جلدی سے دروازہ کھولا ۔۔۔۔۔
وہ جو دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئیں تو خالی کمرہ منہ چڑا رہا تھا اس نے جلدی سے واشروم میں چیک کیا لیکن اسے وہاں بھی نہ پا کر کر وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔
اس کے جب حواس بیدار ہوئے تو اس نے خود کو ایک انجان کمرے میں پایا۔وہ مندی مندی آنکھوں سے اپنے ارد گرد کی جگہ کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہی تھی۔
اس کو اپنا سر گھومتا محسوس ہو رہا تھا۔۔
اسے یاد آیا آخری ٹائم وہ متہاہ کے ساتھ اس کے فلیٹ میں گئی تھی۔۔۔پھر یہاں کیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ یہ وہ جگہ نہیں تھی جہاں وہ اس کے ساتھ تھی یہ تو کوئی عالیٰ طرز پر بنا ایک کمرا تھا۔۔جس کے بیچ میں رکھے جہازی سائز بیڈ پر وہ اپنے دلہن کے جوڑے میں ملبوس تھی۔۔۔۔
ابھی وہ ماحول کو سمجھ ہی رہی تھی اس کو بھاری بوٹوں کی آواز سنائی دی۔۔کوئی کلک کی آواز کے ساتھ دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا۔۔
اس الجھی نگاہوں کے ساتھ اندر داخل ہونے والے شخص کو دیکھا۔۔۔جو کہ کوٹ سوٹ میں ملبوس بھاری بھاری قدم اٹھاتا اس تک آ رہا تھا۔۔۔۔
ک۔۔۔۔کون ہ۔ہو ت۔۔تم۔۔۔؟؟
وہ خوف ذدہ نگاہوں کے ساتھ اس کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔
دلاور خان۔۔۔۔۔وہ سگار جلائے اس کی جانب قدم بھرتے اپنا نام بتاتے ہوئے بولا۔
متہاہ کہاں ہے؟؟؟ ا۔۔اور م۔میں یہاں کیسے آئی؟؟؟
متہاہ۔۔۔۔۔ہاہاہہاہاہاہاہہا۔۔
وہ تو میرا وفادار کتا ہے ۔۔۔جو کہ تم جیسی پریوں کو اپنی محبت کے جھوٹے جال میں پھنسا کر لاتا ہے۔۔۔۔
وہ اس کو حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔
جھ۔۔جھوٹ بول رہے ہو تم۔۔۔۔۔
وہ لڑکھڑاتی زبان کے ساتھ بے یقینی سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولی۔اس کے لئے یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ متہاہ اس کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے۔۔۔
م۔۔مجھے جانے دو۔۔۔خدا کے لئے۔۔۔وہ اس کو اپنی جانب بڑتے دیکھ کر بولی۔۔۔۔
کہاں جاو گئی۔۔۔بیبی۔۔۔
تم جیسی لڑکیوں کے صرف دو ہی ٹھکانے ہوتے ہیں۔۔۔
ایک ہم اور دوسرا کوٹھا۔۔۔۔
کیونکہ اپنے پاوں پر کلہاڑی تم لوگ خود مار کر سارے راستے اپنے لئے بند کر آتی ہو۔۔۔۔
وہ شیطانی مسکراہٹ چہرے ہر سجائے اس کا مزاق اڑاتے ہوئے بولا۔۔۔۔
چھوڑ۔۔دو مجھے۔۔۔پلیز رحم کرو مجھ پر۔۔۔جانے دو مجھے۔۔وہ روتے ہوئے اس شیطان صفت انسان کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی۔۔
ایسے کیسے جانے دوں ؟
آخر اتنی مشکلوں سے تو چڑیا جال میں پھنسی ہے۔۔وہ مکرو ہنسی ہنستے ہوئے بولا۔۔اور اس کی جانب قدم بڑھائے ۔
جبکہ وہ اپنے بچاؤ کے لئیے ادھر ادھر کوئی چیز ڈھونڈنے لگی۔جیسے ہی اس کی نظر شیشے کے جگ پر گئی ۔۔اس نے تیر کی تیزی سے وہ جگ اٹھا کر اپنی جانب بڑھتے اس شخص کے سر پر دے مارا۔اور دروازے کی جانب بھاگی۔۔اس سے پہلے کہ وہ دروازے کو کھولنے میں کامیاب ہوتی وہ اس تک پہنچا اس کا بازو پکڑ کے کھینچ کر ایک زور دار تھپڑ لگایا جس سے وہ نیچے گر گئ۔۔سالی تیری اتنی ہمت کہ مجھے مارے گی۔وہ اپنے سر سے نکلتے خون پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔۔قسم خدا کی تجھے اب ایسی جگہ پہنچاؤں گا ۔۔کہ تیری سات نسلیں یاد کریں گی۔وہ غصے کے عالم میں کہتا کمرے سے نکل چکا تھا اور جاتے جاتے دروازا لاک کرنا نہیں بھولا تھا۔اس شخص کے جانے کے بعد اس نے آس پاس کوئی جگہ تلاشنی چاہی جس سے وہ باہر جا سکے پر اس کو ایسی کوئی جگہ نظر نہ آئی کیونکہ وہ ایک بند کمرا تھا۔جس میں اوپر کی طرف صرف ایک چھوٹا سا روشن دان تھا۔۔جس سے دن و رات کی خبر کا معلوم ہوتا تھا۔بھاگنے کی کوئی جگہ نا پاکر وہ نیچے بیٹھی اپنی بے بسی پر آنسو بہا رہی تھی۔آج جو کچھ بھی تھا جن حالات سے وہ گزر رہی تھی اس سب کی وجہ وہ خود تھی۔یہ خاردار راہ اس نے خود چُنی تھی۔
جس گھر میں تھوڑی دیر پہلے شہنایاں بج رہی تھیں ۔۔۔اب وہاں ہر طرف سوگ کا سا سماں تھا۔۔باہر اس بات کی خبر سںب کو ہو چکی تھی کہ دلہن اپنے کمرے میں نہیں ہے،سونیا بیگم کا رو رو کر برا حال تھا۔۔
کاشان صاحب کا سر خود اپنے بڑے بھائی کے سامنے شرمندگی سے جھکا تھا۔۔۔۔
لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے۔۔
ایان غصے کے عالم میں گھر سے نکل گیا۔۔۔
وہ چہرہ گھٹنوں میں دیے رو رہی تھی کہ باہر سے اسے کچھ شور سنائی دیا۔۔۔
کیونکہ تمام پولیس فارسز آ چکی تھیں۔۔
ایان نے رحمت کو جو انگوٹھی پہنائی تھی اس میں پہلے سے ہی ایک ڈیوائس فٹ تھی جس سے پہنے والے کی لوکیشن معلوم کی جا سکتی تھی۔۔۔
اسے شک تھا کہ وہ ایسا کوئی کام ضرور کرے گی۔۔۔اس لئے اس کی گمشدگی کی خبر سن کہ وہ سیدھا۔اپنے اور میر کے مشترکہ فلیٹ پر آیا تھا اور وہاں سے پولیس فارسز کو اپنے ساتھ لئے اس لوکیشن کو ٹریس کرتا پہنچا۔۔۔۔
کنگ !!!کنگ!!!….
اب کیا موت آ گئی ہے؟؟؟
کنگ جو ابھی اپنے سر پر پٹی کر کے ہٹا تھا اپنے بندے کی آواز پر غصے سے اس کی جانب دیکھ ناگواری سے کہا۔۔
کنگ ۔۔۔پولیس فارسز نے اٹیک کیا ہے۔۔
کیا۔۔۔۔اب کون سی نئی مصیب ہے۔۔۔۔
تیش کے عالم میں اس نے ہاتھ ۔یں موجود باکس اٹھا کر نیچے پھینکا۔۔۔۔
صاحب آپ یہاں سے نکل جائیں ہم یہاں دیکھ لیں گے۔۔۔۔اگر آپ ان کے ہاتھ لگ گئے تو سب گڑ بڑ ہو جائے گی۔۔۔۔
وہ اسے ڈراتے ہوئے بولا۔۔۔
ہاں۔۔ہاں۔۔۔کھولو دروازا ۔۔۔۔جلدی کرو۔۔۔۔۔
وہ اپنے آدمی کو حکم دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔
وہ اپنی گن تھامے سامنے کا نشانہ لگائے آہستہ آہستہ چل رہا تھا ۔۔۔کہ ایک کمرے سے اسے رونے کی آواز آئی۔۔۔لاک کی جانب اس نے نظر دوڑائی جو کہ بند تھا۔۔۔
دروازہ کھولا تو سامنے کی وہ دشمنِ جاں سر جھکائے رونے میں محو تھی۔۔۔
رحمت۔۔۔۔۔
اس نے غصے سے بھری آواز میں اس کو پکارا تھا۔۔رحمت نے اپنی روئی روئی آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
ایان قدم بھرتا اس تک آ رہا تھا کہ اس کی نظر یکدم اس کی آستین پر گئی جو کہ کنگ سے کھینچا تانی میں پھٹ چکی تھی۔۔۔ڈوپٹہ اس کے وجود سے ڈھلکا ہوا تھا۔۔۔اس کو اس حلیے میں دیکھ اس کے غصے کو مزید ہوا ملی تھی۔۔
وہ منٹ میں فاصلہ طے کرتا اس تک پہنچا اور بازو سے کھینچ کر بنے کچھ کہے باہر لے جانے لگا تھا کہ دروازے تک پہنچ کر پھر رکا۔۔۔۔
ڈوپٹہ کوور کرو۔۔۔۔وہ اس پر نظریں جمائے حکم صادر کرتے ہوئے بولا۔۔۔
اس کی بات کی تائید کرتی کانپتے ہاتھوں سے اس نے اپنے آپ کو کوور کیا تھا۔۔۔
ایان نے باہر جھانک کر دیکھا جہاں کوئی بھی نہیں تھا مطلب راستہ صاف تھا۔۔اس کا ہاتھ پکڑے اس کو گاڑی میں لا کر پٹکا۔۔۔
اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر بیٹھا ،
میں گھر جا رہا ہوں۔۔فلیٹ میں ملتے ہیں۔۔۔
بلو توتھ پر وہ میر کو آگاہ کیے گاڑی زن سے بھگاتا ہوا لے گیا۔۔۔جبکہ وہ ابھی تک آنسوں بہا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
ایان نے گاڑی جنگل کی طرف بنے ایک مینی بنگلے میں روکی اور اسے کھینچتا ہوا اندر لے کر گیا۔۔۔۔۔
