Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296 Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 16)
Rate this Novel
Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 16)
Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj
یہ کہاں جارہی ہو تم؟
میرا گھر تو سیدھی طرف آتا ہے۔۔
وہ امبرین کو گاڑی الٹی جانب موڑتے دیکھ بولی۔۔
ہاں میری جان میں جانتی ہوں ۔۔
میں نے سوچا عیبا میڈم مشکلوں سے ہتھے چڑی ہیں کیوں نہ باجی سے تمہاری ملاقات کروا دوں؟؟؟
وہ آرام سے اسے جواب دیے ڈرائیونگ میں مصروف ہو گئی جب کے وہ پریشانی سے اس کی جانب جا رہی تھی۔۔لیکن کچھ بولی نہیں۔۔
لو ہم پہنچ چکے ہیں وہ اپنی گاڑی ایک شاندار گھر کی پارکنگ میں روکتے ہوئے بولی عیبا اس گھر کو بغور دیکھ رہی تھی جو دو منزلوں پر بنا تھا گھر میں ہی ایک چھوٹا سا پارک اور کونے میں پارکنگ ایریا بنایا گیا تھا ۔
کیسا لگا گھر۔۔؟؟
اندر کی جانب بڑھتی امبرین نے عیبا سے پوچھا۔۔
اچھا۔۔بلکہ بہت پیارا ہے۔۔
وہ دل سے تعریف کرتے بولی ۔۔
ہممم۔۔۔
تم یہاں بیٹھو میں باجی کو بلاتی ہوں۔۔
اس کو لانچ میں بیٹھا کر وہ اوپر بنے کمرے کی طرف گئی جبکہ عیبا گھر کی فینیشنگ دیکھ رہی تھی۔۔
تھوڑی دیر میں امبرین اسکو آتی دیکھائی دی ۔۔
کیا ہوا باجی نہیں آ رہیں کیا؟
اس کو اکیلے آتے دیکھ پوچھا
یار وہ اپنے روم میں نہیں ہیں میں فون کیا تو معلوم ہوا وہ اپنی فرینڈ کے گھر گئی ہیں ۔
او اچھا ۔
چلو کوئی بات نہیں ۔۔باجی تو ہیں نہیں اب تم مجھے گھر چھوڑ آو۔۔
یار عیبا اب تم یہاں تک آ ہی گئی ہو تو تھوڑی دیر رک ہی جاو۔
رکو یہیں بیٹھنا میں تمہارے لئے کچھ کھانے کو لاتی ہوں دوپہر ہو گئی ہے مجھے تو بہت بھوک لگ رہی ہے وہ کیچن کی جانب بڑتے ہوئی بولی جبکہ عیبا کی نہیں نہیں وہ یکسر فراموش کر گئی۔
وہ اس وقت کالی چادر سے خود کو ڈھانپے پارک کے مخصوص حصے میں کھڑی تھی اس کی آنکھوں کے نیچے سیاہ ہلکے رات بھر جاگنے کا سندیشہ دے رہے تھے۔۔
کل رات کو اس کے پاس رضا کی کال آئی تھی جس میں اس نے رقم جلد از جلد دینے کا حکم دیا تھا ۔۔لیکن اس کے پاس ابھی تک اتنے پیسوں کا انتظام نہیں ہوا تھا اس نے روتے ہوئے اس بے ضمیر سے مہلت مانگی تھی جس پر اس نے صاف ہری جھنڈی دیکھاتے ہوئے کہا یا تو رقم جمع کرواو ورنہ تم کل ہی نیٹ کی زینت بنی ہو گی۔جسے سن کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
ویسے تمہارے پاس ایک اور راستہ ہے۔۔
وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا۔۔
کی۔۔کیا؟؟؟
ایک امید کی کرن اس میں جا گی تھی۔
تم کل اس جگہ مجھے ملو پھر بتاؤں گا۔
کہتے ہی اس نے فون رکھ دیا تھا۔
جبکہ وہ آج اس سے ملنے پارک میں موجود تھی۔
چلو۔۔میرے ساتھ ۔۔
وہ اس کو اپنے ساتھ گاڑی میں لے جاتے بولا جبکہ مسکان نے ایک بھرپور نظر پارک پر ڈالی تھی۔یہی وہ جگہ تھی جہاں اکثر وہ اس سے اپنی جھوٹی محبت کا اظہار کیا کرتا تھا۔
ان کی گاڑی تنگ گلیوں میں سے ہوتی ہوئی ایک وسیع بنگلے کے سامنے رکی تھی وہ بغور اس جگہ کا معائنہ کرتے اس کے ساتھ اندر کی جانب بڑ رہی تھی وہاں کی ہر لڑکی سمیت ہر لڑکے کی نظروں کا مرکز بنی ہوئی وہ کنفیوز سی ہوتی ہوئی اپنی چادر کو صحیح کیا تھا ۔
اس کو کوفت سی ہو رہی تھی اس عجیب سے ماحول سے اس کا دل چا رہا تھا کہ اڑ کر یہاں سے چلی جائے ۔۔
کرشمہ میڈم کو بولو رضا آیا ہے۔
وہاں پر رکھے ایک سیٹر صوفے پر اکڑ کر بیٹھتے ہوئے اس نے وہاں موجود لڑکی سے کہا تھا۔جو اس کی بات سن اندر بنے مغصوص کمرے میں گئی تھی اور تھوڑی دیر میں ایک درمیانی عمر کی عورت مہنگی طرز کی ساڑھی اس پر آتشین میکاپ کیے وہاں آئی تھی۔
ہم بولو لڑکے میرا پیسہ چکانے کو لائے ہو کیا؟؟
وہ عورت اس کے سامنے والے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی۔۔
بس یونہی سمجھ لو !!
کہاں ہے پیسہ؟؟
وہ عورت خوشی سے چہکتے ہوئے بولی تھی۔۔
یہ رہے ..
وہ مسکان کا ہاتھ پکڑ کے اس کو عورت سامنے کرتے بولا تھا جبکہ وہ حیرت کا مجسمہ بنی اس کو دیکھ رہی تھی اس کے وہم و گمان میں ہی نہیں تھا کہ وہ ایسا کچھ کرے گا۔۔
یہ لڑکی میرے پیسے پورے کرے گی کیوں مسکان کرو گی نا؟
کرشمہ کو بولنے کے بات وارننگ دیتی آنکھوں کے ساتھ اس کو دیکھتے بولا تھا۔۔
م۔۔میں۔۔۔ک۔۔کیا۔۔مطل۔مطلب ک۔۔کیسے۔۔۔؟؟؟؟
بہتی آنکھوں کے ساتھ رک رک کر بولی تھی اس کے الفاظ ہی اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔
ویسے لڑکی تو بھی بڑی شاندار ہے وہ اس کے سراپے پر ایک بھرپور نظر ڈالتے بولی تھی۔
مرینہ اس لڑکی کو اندر لے جاو اور آج شام کی محفل کے لئے تیار کرو ۔
ن۔۔نہیں۔۔می۔۔میں ک۔کہیں۔۔نہیں جاونگی۔۔۔
اور تم دھوکے باز انسان پہلے میری تصاویر کو ایڈٹ کے کر لے بلیک میل کیا اور اب یہ۔۔۔
پلیز میں تمہارے پیسے لوٹا دوں گی پر مجھے یہاں چھوڑ کر مت جاو۔۔
وہ اس کے کالر کو دبوچے چنگھاڑتے ہوئے بولی تھی۔۔
آنہاں۔۔۔ڈارلنگ۔۔!!!!
اب پیسوں کی ضرورت مجھے نہیں ہے کیونکہ تمہارا یہ حسن مجھے پیسے دے چکا ہے۔۔
اور اگر اب تم نے کوئی بھی چوں چاں کی تو دوسرا حل تمہاری تصویریں بیچ کر پیسے وصول کرنے کا ہے۔
پہلے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرے یکدم اس کا منہ دبوچ کر بولا اور جھٹکے سے اس کو مرینہ کے پاس پھینک کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔
آج کی محفل میں تو تم دھوم ہی مچا دو گی
کرشمہ مسکان کا بغور معائنہ کیے بولی ۔جس نے لال آتشی فراک پہنا تھا پاوں میں پائل ہاتھوں میں چوڑیاں۔۔
ویسے کسی نے صحیح کہا ہے اوپر والا جب بھی دیتا ہے چھپڑ پھاڑ کے دیتا ہے ۔۔
وہ قہقہ لگاتے ہوئے بولی تھی۔
مسکان کی روئی آنکھوں نے نفرت سے اس عورت کو دیکھا تھا جو خود نمائش کا سامان بنی تھی اور دوسروں کو بھی اسی کام پر لگا رہی تھی۔
جب خدا چھپڑ پھاڑ کر دیتا ہے تو واپس لے بھی لیتا ہے وہ نفرت سے پھنکاری تھی ۔
اے لڑکی حد میں رہو اپنی ۔
وہ غصے سے بولی تھی ۔۔
ہنہہ۔۔۔جن کی کوئی حد نہ ہو۔۔وہ ہمیں حد بتائیں گی۔۔
وہ منہ میں بڑبڑائی تھی جسے کرشمہ دور ہونے کے بعض سن نہ سکی تھی۔
باجی بڑے صاحب لوگ آ گئے!!!!
کرشمہ کا چمچا وقار بھاگتے ہوئے اندر آیا اور ہانپتے ہوئے اس کو بتاتے ہوئے بولا۔ وہ مرینہ کو تنقید کرتی باہر کی جانب بڑی۔
آداب بڑے صاحب !
آج پہلی بار ہمارے اس غریب خانے تشریف لائیں ہیں۔چوہدری نعمت اور چوہدری حاشم اپنی مکمل وجاہت کے ساتھ وہاں بھری محفل کے شاندار حصے میں بیٹھے تھے۔
انہوں نے ایک نا گوار سی نظر اس پر ڈالی جو ان کو دیکھ آگے بچھی جا رہی تھی۔
رقص جلدی شروع کرواو ہمارے پاس وقت نہیں ہے حاشم بیزار سے انداز میں بولا تھا۔۔
ج۔۔جی صاحب۔۔۔۔!!!
تھوڑی دیر میں مسکان چھن چھن کرتی پازیب کے ساتھ وہاں داخل ہوئی اس کا چہرا لال چنری سے ڈھکا ہوا تھا ہر طرف کی لائٹیں بند تھیں صرف اسپوٹ لائین اون تھی جو کہ صرف اسے فوکس کیے ہوئے تھی۔
ماحول میں ایک شور سا اٹھا تھا اس کے رقص کے ساتھ سب کے رقص سے متاثر ہو رہے تھے کہ یکدم حال کی لائٹ بند ہونے کی وجہ سے سناٹا سا چھایا تھا کوئی ہیولہ سا آیا اور رضا کی مخصوص رگ دبا کر اسے بہوش کیے پیچھے کی جانب لے گیا۔ ۔پانچ منٹ کے بعد دوبارہ لائٹ اون ہونے پر وہ جیسے رقص کرنے لگی تھی پھر سے لائٹ چلی گئی تھی اب کے لوگوں نے شور کرنا شروع کر دیا تھا اور کرشمہ بھی بہت غصے میں تھی کیونکہ آج سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا وہ لوگوں کو شانت رکھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
جیسے ہی وہاں لائٹ اون ہوئی اپنے سامنے پولیس فورسز کو دیکھ سب چونک گئے تھے سب اپنا چہرا چھپا کر بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے جیسے ہی کرشمہ بھاگنے لگی تھی مسکان نے ایک ہی جست میں اسے پکڑا تھا اور کھینچ کر ایک کڑک تھپڑ لگایا تھا ۔اور حوالدار خواتین کے حوالے کیا۔
چہرا کیوں چھپا رہی ہو اب ؟
دکھاو نا دنیا کو اپنا چہرہ جب یہ غلیظ کام کرتے شرم نہیں آتی تو چہرہ دکھانے میں کیا شرم۔میں نے کہا تھا نا جب اوپر چھپڑ پھاڑ دیتا ہے تو لیتا بھی ہے۔۔مسکان نور اس کا منہ دبوچے بولی تھی ۔
تھوڑے ہی دیر میں پوری خالی ہو چکی تھی وہاں موجود کچھ لڑکیوں کو ان کے گھروں میں پہنچا دیا تھا اور کچھ کو دارالامان کیوں کہ ان کا کہنا تھا کہ ان کے گھر والے انہیں قبول نہیں کریں گے۔ اور وہ تینوں میڈیا سے بچتے اپنا کام کیے جا چکے تھے۔
نواب مینشن میں ہر کوئی پریشانی کے عالم میں گھوم رہا تھا حذیفہ ، ابرار اور کاشان صاحب تینوں عیبا کو ڈھونڈنے نکلے تھے لیکن ابھی تک کوئی سراغ ہاتھ نہیں لگا تھا جبکہ رانی بیگم نے رو رو گھر سر پر اٹھایا تھا زینب بھی کب سے انہیں دلاسہ دیے جارہی تھی البتہ یہ بات الگ تھی کہ فکر اسے بھی لاحق ہو رہی تھی ۔
اس کو جب ہوش آیا تو خود کو اندھیرے کمرے میں رسیوں سے جکڑے پایا تھا۔۔اپنے ذہن پر زور ڈال سوچنے کی کوشش کی تو یاد آیا وہ آخری دفع امبرین کے ساتھ اس کے گھر گئی تھی اور وہاں اس نے زبردستی اس کو پاستہ کھلایا تھا جسے کھانے کی کچھ دیر بعد وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گئی تھی۔۔
