Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296 Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 7)
Rate this Novel
Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 7)
Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj
مسکان ریسٹورنٹ میں بیٹھی بے صبری سے رضا کے آنے کا انتظار کر رہی تھی۔۔اس کا دل زور و شور دھڑک رہا تھا۔۔آج پہلی بار وہ اس سے برائے راست ملنے والی تھی۔
______________________
نواب ہاوس کے تمام مکین کاشان صاحب کے فارم ہاوس میں موجود فنکشن کی تیاریاں کر رہے تھے۔۔
ابرار صاحب اور کاشان صاحب نے مل کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ شادی کے تمام فنکشن اِدھر ہی ہونگے۔
پورے فارم ہاوس کو مہندی مایوں کے لحاظ سے بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا،ہر طرف موتیے اور گیندے کے پھول بیلوں کی صورت میں لگائے گئے تھے۔۔ گارڈن میں جگمگاتی لائٹیں دن کا منظر پیش کر رہی تھیں۔۔پیچھے سے چلتے مایوں سے سونگس (song) ۔۔ماحول کو اور دلفریب بنا رہے تھے۔۔
استغفر اللہ!! لڑکی تم نے یہ کمرے کا کیا حال بنایا ہوا ہے ۔۔رانی بیگم عیبا کے کمرے کی حالت دیکھ اپنا ماتھا پیٹتے ہوئے بولیں۔۔جس نے پورے کمرے میں کپڑے اور میکاپ پھیلایا ہوا تھا۔۔
مما میرا جھمکا کھو گیا ہے۔۔مل نہیں رہا۔۔
وہ رونے جیسے تاسرات چہرے پر سجا کر بولی۔۔
وہ ملنا بھی نہیں ہے۔۔وہ عیبا کو گھورتے ہوئے بولیں۔۔
کیوں؟؟
کیونکہ جس جھمکے کو تم ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہو وہ تمہارے ڈوپٹے پر اٹکا ہے۔۔
انہوں نے عیبا کے ڈوپٹہ کی جانب اشارا کیا جہاں اس کا جھمکا ڈوپٹے میں لٹکا ہوا تھا۔۔
ہائے اللّٰہ یہ نواب زادے یہاں ہیں میں تو کب سے ڈھونڈ ڈھونڈ پاگل ہو رہی تھی۔۔
اب اپنے یہ ڈرامے بند کرو اور جلدی نے نیچے پہنچو بہت کام ہے۔۔۔وہ اس کو نیچے پہنچنے کا حکم دیے جا چکیں تھیں۔
وہ بھی اپنی تیاری پر آخری نظر ڈالے ان کے حکم کی تعمیل کرتی نیچے آئی۔۔
______________________
ایکسکیوز می۔۔۔!!!
مسکان جو کب سے بیٹھی رضا کا انتظار کر رہی تھی اپنے عقب سے آتی خوبرو نوجوان کی آواز پر مڑ کے دیکھا جہاں لگ بھگ تیئیس سال کی عمر کا نوجوان کھڑا تھا۔۔اس حسین لڑکے کو دیکھ وہ محبوت سی رہ گئی۔۔اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ حقیقت میں اتنا خوبصورت ہو گا۔۔
آپ مسکان ہیں نا؟
اس کے چہرے کی طرح آواز میں بھی ایک کشش تھی۔۔
ج۔۔جی۔۔۔وہ تھوڑا نروس ہوتے ہوئے بولی۔۔
جبکہ وہ سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ چکا تھا۔۔
کیسی ہیں؟
وہی اپنے مخصوص انداز میں سوال کیا گیا۔۔جس کی مسکان دیوانی تھی۔۔
ٹھیک۔وہ سر جھکائے بولی۔جبکہ مسکان کے سر جھکانے پر اس لڑکے کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔۔
نروس کیوں ہو رہی ہیں؟وہ اس کا بغور جائزہ لیتے ہوئے بولا۔
ن۔۔نہیں تو!!
میں نروس نہیں ہورہی۔وہ اپنے دھڑکتے دل پر قابو پاتے ہوئے بولی تھی۔
______________________
عیبا یہ پھولوں کی ٹوکرہ باہر رکھ آو ۔۔
سونیا بیگم نے اس کو آواز دیتے ہوئے کہا جو کہ اپنے پراندے کو لہراتی ہوئی باہر گارڈن میں ہی جارہی تھی۔۔
جی۔۔چاچی لائیں۔۔
آہہہ۔۔وہ جو پھولوں کا ٹوکرا ہاتھ میں پکڑے باہر جا رہی تھی سامنے سے آتے میر سے ٹکرائی جس سے اس کے ہاتھ میں موجود ٹوکری اچھل کر نیچے گری تھی اور اس ٹوکرے میں موجود تمام پھول ان دونوں پر۔۔۔۔۔۔
ہائے اللہ جی۔۔۔اب یہ کون سی نئی آفت ہے۔۔۔
وہ اپنا ماتھا سہلاتے ہوئے بولی۔
آپ کو نظر نہیں آتا ۔۔۔
میرا سر پھوڑ دیا اور تو اور یہ سارے پھول تباہ کر ڈالے۔
اللہ پوچھے آپ کو۔۔۔۔وہ کہتی تن فن کرتی وہاں سے نکل چکی تھی۔۔
جبکہ میر ابھی بھی اس چھوٹی سی پٹاخہ کو جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔۔جو پٹر پٹر بولی جارہی تھی۔ اس کو بولنے کا موقع بھی نہیں دیا۔۔۔۔پانچ فٹ نکلتا قد،ہرے رنگ کی پٹیالہ میں ملبوس، گوری رنگت پر کیا گیا ہلکا میکاپ ،بالوں میں ڈالے گئے پراندے کو سلیقے سے کندھے کی دائیں جانب ڈالا گیا تھا۔۔
انٹرسٹنگ!! وہ ہنستے ہوئے بولا ۔۔
______________________
کنگ تہہ خانے میں موجود لڑکیاں بہت شور کر رہی ہیں۔۔
ساحل نے کنگ کے کمرے میں داخل ہو کر کہا جہاں وہ اپنے مخصوص انداذ میں بیٹھا سگار پی رہا تھا۔۔
کون شور کر رہا ہے۔۔ہمارے پاس لے کر آو۔۔ویسے بھی
کافی دن بیت چکے ہیں۔۔شباب کا مزا لیے۔۔
وہ کمینی ہنسی ہنستا ہوا بولا۔۔
جی کنگ۔۔
نہیں۔۔مجھے۔۔کہیں ۔۔نہیں جانا۔چھوڑے م۔۔مجھے ۔۔
چھوڑو۔۔۔!!
رح۔۔رحم کو مجھ پر۔۔۔۔وہ لڑکی روتے ہوئے بولی ۔۔جب کے کنگ کا آدمی اسے گھسیٹتے ہوئے ۔۔کنگ کے پاس لے کر گئے اور اس کے قدموں میں پھینکا ۔۔
یہ لیں سر۔۔
کیا مسلہ ہے لڑکی۔اتنا واویلہ کیوں مچا رہی ہو؟
وہ اس کے چہرے کو چھوتے ہوئے شیطانیت سے بولا۔۔
م۔۔مجھے جانے۔۔۔جانے دو۔۔۔وہ پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ بولی جو کہ کافی دیر سے چیخنے اور رونے کی وجہ سے پھول چکیں تھیں۔۔
ارے اتنی جلدی کیا ہے ابھی تو ہم نے آپ کے حسن کو خراج پیش کرنا ہے۔۔
وہ اپنی غلیظ نظریں اس کے وجود پر گاڑتے ہوئے بولا۔۔
ن۔۔نہیں۔۔۔وہ بندھے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی۔۔
جب کہ کنگ اس کی بے بسی پر ہنستا اس کی روح، اس کے وجود کی دھجیاں اڑا گیا۔اس لڑکی کی چیخیں پورے بنگلے میں گونج رہی تھیں۔۔لیکن وہاں اس کی التجائیں سننے والا کوئی نہیں تھا۔۔سب بے ضمیر لوگ تھے۔۔آج اس بنگلے میں ایک اور لڑکی کی عزت اجاڑی گئی تھی۔
______________________
مایوں کا فنکشن اپنے عروج پر تھا۔سب بہت انجوائے کر رہے تھے۔۔حذیفہ زینب کے ساتھ جھولے پر بیٹھا کافی دیر سے اسے تنگ کر رہا تھا۔
جب کے ایان میر سے باتوں میں مصروف تھا۔یہ اس کا رحمت سے ناراضگی کا اظہار تھا۔وہ اس رات والے واقعے کے بعد رحمت سے بات نہیں کر رہا تھا اور نا رحمت نے بات کرنے کی کوشش کی تھی۔۔
عیبا ایان کی جگہ خالی دیکھ خود رحمت کے ساتھ جھولے پر بیٹھ گئی اور ہاتھ میں موجود آئس کریم کا کپ پکڑ کے مزے لے کھانے لگی۔۔
کھاو گئی۔۔؟؟
عیبا رحمت کو صلح مارتے ہوئے بولی۔۔
نہیں۔۔بہن تم ہی کھاو آگے اتنی مٹھایاں کھا کے میرا جی متلا رہا ہے۔۔
وہ برا سا منہ بناتے ہوئے بولی۔۔
ہاہاہا!!!
عیبا ہنستے ہوئے آئس کریم کا چمچ منہ میں ڈالنے لگی۔
اس پہلے کہ آئس کریم کا چمچ اس کے منہ میں جاتا کوئی برق رفتاری سے آیا اور چمچ پکڑ کے اپنے منہ میں ڈالا۔۔
بدتمیز ٹینڈے یہ کیا حرکت تھی۔۔تم نے میری آئس کریم کیوں کھائی۔۔وہاں سے لے نہیں سکتے تھے۔۔
یار تم کچھ بچاو گی تو کھائیں گے نا میں گن رہا تھا یہ دسواں کپ تھا تمہارا۔
اوئے ٹینڈے۔۔۔خبردار جو میرے کھانے پر نظر لگائی دو۔۔
اوڑا دوں گی۔۔
آفٹر آل میجر کی بہن ہوں۔۔
وہ ہاتھ سے بندوق بنائے اپنے فرضی کالر جھاڑتے ہوئے بولی۔۔
یار سب باتوں کو چھوڑو سیلفی لیتے ہیں۔۔ہماری بکری تو بندی ہے ۔۔ہم ہی چلتے ہیں۔۔
روحان چہرے پر افسردہ تاثرات سجائے بولا جب کہ چہرے پر شرارت نمایاں تھی۔
رحمت نے کھا جانے والی نظروں سے دونوں کو گھورا تھا۔۔
جب کہ وہ دونوں اس کی حالت کا مزا لیے ہنستے ہوئے نیچے آ گئے۔۔اور ایک ساتھ مل کر سیلفیاں بنانے لگے۔۔
جب کہ اس منظر کو کسی نے غصے اور حسد سے دیکھا تھا۔۔
______________________
کنگ کے آدمی اس لڑکی کے نیم بہوش وجود کو واپس تہہ خانے میں پھینک کر جا چکے تھے۔چہرے اور جسم پر موجود زخم اس کے ساتھ کی گئی درندگی کا منہ بولتا ثبوت تھے۔وہ بیچاری اکھڑ اکھڑ کر سانس لے رہی تھی۔
۔اس کی ایسی حالت دیکھ وہاں پر موجود لڑکیاں کانپتے ہوئے رونے لگیں تھیں،بعض خدا سے رہائی کی دعا مانگ رہی تھیں اور بعض موت کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
______________________
یا اللہ یہاں تو کتنا اندھیرا ہے۔۔اور پتہ نہیں سوئچ کہاں چلا گیا ہے۔۔
عیبا جو سونیا بیگم کے کہنے پر اسٹور روم میں رکھی اوبٹن کا ڈبہ لینے آئی تھی۔۔اندھیرا دیکھ کر چڑ گئ ۔۔سونے پر سہاگا اسے سوئچ بھی نہیں مل رہا تھا۔
وہ بورڈ ڈھونڈ رہی تھی کہ اندھیرے میں کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ کے اس کو اپنی جانب کھینچا۔اور دیوار کے ساتھ پین کیا۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ چیخ کر پورا محلہ اکٹھا کرتی مقابل نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کے اس کی کوشش کو ناکام بنایا۔۔
کھڑکی سے آتی چاند کی روشنی سے وہ سہمی ہوئی آنکھوں سے اپنے سامنے کھڑے مال والے ناقاب پوش شخص کو دیکھ رہی تھی۔جس کی آنکھوں کے علاوہ کچھ بھی واضع نہیں ہو رہا تھا۔۔
چیخنا مت۔۔!!ہاتھ ہٹا رہا ہوں۔
اپنی گہری گرے رنگ کی آنکھوں سے اس کو وارننگ دیتے ہوئے بولا۔۔
میرا دیا ہوا پھول تم نے بین میں کیوں پھینکا؟
دونوں ہاتھ دیوار پر رکھے اس کے رائے فرار کے تمام راستے بند کرتا ، اپنی پراسرار آنکھیں اس کی نشیلی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے بولا۔۔۔۔
می۔۔میں اجنبیوں سے چیزیں نہیں لیتی۔۔۔
وہ اپنے ڈر پر قابو پاتی اعتماد سے بولی۔۔
جبکہ عیبا کی بات سن کر مقابل کے چہرے پر جاندار مسکراہٹ آئی تھی جسے نقاب ہونے کے باعث وہ دیکھ نا سکی۔۔
گڈ۔۔۔یہ بہت اچھی بات ہے۔۔
کہ تم اجنبیوں سے کچھ نہیں لیتی۔
پر میں اجنبی نہیں ہوں۔۔پل میں اس کے چہرے کے تاثرات غصے میں ڈھلے تھے جسے دیکھ کر عیبا کی ہوا شنٹ ہوئی تھی۔۔اس کا خوف سے برا حال تھا گھر مہمانوں سے بھرا تھا اگر کوئی اس کو یوں کسی غیر کے ساتھ دیکھ لیتا تو قیامت برپا ہو جانی تھی ۔یہی سوچ کر اس کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے۔۔
اس کی خوبصورت آنکھوں سے بہتے آنسوں کو دیکھ کر مقابل کے غصے میں اضافہ ہوا تھا۔۔
ڈونٹ کرائے۔۔۔عیبا۔۔
آئے ہیٹ آہ گرل ہوز کرائے۔۔۔
آئے لائک بریو گرل۔۔۔
وہ اس کے آنسوں کو صاف کرتے ہوئے بولا تھا۔
پر آئندہ میری کسی تحفے کو ریجکٹ مت کرنا۔۔
وہ اپنی گہری آنکھوں سے اسے ڈراتے ہوئے بولا۔۔
جاو اب فوراً۔۔
اس سے آذادی ملتے وہ دونوں ہاتھ دیوار پر رکھے اس کے رائے فرار کے تمام راستے بند کرتا
فنکشن تقریباً اپنے اختتام کو پہنچ چکا تھا۔۔آدھے سے ذیادہ مہمان جا چکے تھے۔فارم میں صرف نواب مینشن کے لوگ اور رحمت کی پھوپھو لوگوں کی فیملی تھی۔۔
سنڈریلا تمہارے ہاتھوں میں مہندی بہت اچھی لگتی ہے۔۔آو میں تمہیں مہندی لگاوں۔۔ایان چھوٹی سی رحمت کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا۔۔
وہ واش بیسن کے سامنے کھڑی اپنی مہندی لگے ہاتھوں کو دیکھ کر ماضی میں کھوئی تھی۔۔اس کو اپنے چہرے پر کچھ نم سا محسوس ہوا۔۔غور کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ رو رہی ہے۔۔تمام سوچوں کو جھٹکے مہندی اتار کر باہر آئی تھی ۔۔
اس کی مہندی کا کلر کتنا ڈارک آیا تھا۔ایک اداسی سے بھری مسکان اس کے چہرے پر آئی تھی۔۔
دروازے پر ہوتی دستک سے وہ ہوش میں آئی ۔۔گہری سانس بھر کے خود کو کمپوز کیا اور دروازا کھولا۔۔
سامنے ہی ایان اپنی مکمل وجاہت کے ساتھ کھڑا تھا ۔۔
وہ اس کی نظروں کا اشارا سمجھتی سائڈ پر ہوئی ۔۔
وہ اپنی شاہانہ چلتا اندر آیا ۔۔، اور بغور اسکا جائزہ لینے لگا جو سمپل سے سوٹ میں ملبوس بالوں کو بے ترتیب جوڑے میں قید کیے۔۔لال سوجی ہوئی آنکھیں جو اس کے روئی کی چغلی کھا رہے تھے۔۔
رنگ تو بہت گہرا آیا ہے۔وہ۔اس کے مہندی لگے ہاتھوں کو تھام،کر اسکی خوشبو اپنے اندر اتارتے ہوئے بولا۔۔
اپنی دائیں پاکٹ میں ہاتھ ڈالے ایک خوبصورت سی انگوٹھی نکال کر اس کے خوبصورت ہاتھوں کی زینت بنائی۔۔یہ اترنی نہیں چاہیے۔۔کہتے ہی اس نے اپنے لب رحمت کے ہاتھوں پر رکھے تھے۔۔
