Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296

Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296 Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 2)

63.3K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 2)

Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj

متہا کتنے دنوں بعد آئے ہو۔۔کہاں غائب تھے؟ تمہارا موبائیل بھی اوف جا رہا تھا۔؟

۔کلاس ختم ہونے کے بعد متہا اور رحمت دونوں گراؤنڈ کی پچھلی طرف گھنے درخت کے سائے کے نیچے بیٹھے تھے ۔۔کہ رحمت نے پوچھا۔۔

یار امی کی طبعیت صحیح نہیں ہے اس لئیے گاؤں گیا تھا۔اور میرا فون بھی راستے میں چوری ہو گیا تھا۔

او۔۔کیا ہوا آنٹی ہو؟ وہ پریشان ہوتے ہوئے بولی۔

یار امی کو دمے کی بیماری ہے۔۔وہ چہرے پر اداسی تاری کرتے ہوئے بولا۔۔

کیا !! تو علاج کیوں نہیں کروارہے۔

ڈاکٹر کے پاس تو لے کر گیا تھا۔انہوں نے فلحال کچھ دوائیاں دیں ہیں ابھی بہتر ہیں۔۔

چلو۔۔اللہ سب بہتر کرے گا۔۔

اچھا تم۔بتاو تمہاری وہ کھڑوس کزن کیوں نہیں آئی۔۔

اس کے سر میں درد تھا اس لئیے۔۔

اوو۔۔اچھا ہی ہے نہیں آئی۔۔ورنہ وہ ہمیں ساتھ وقت بھی گزارنے نہیں دیتی۔۔

وہ اس کی ناک دباتے ہوئے بولا۔۔

تم میرے سامنے میری ہی کزن + دوست کی برائی کر رہے ہو۔

۔

وہ آئیبرو اچکاتے ہوئے بولی۔۔

ہاں ٹھیک ہی تو بول۔رہا ہوں۔۔ورنہ وہ تو مجھ سے جلتی ہے۔۔وہ عیبا کے بارے میں سوچتے دانت پیستے ہوئے بولا۔۔

متہا۔۔وہ ایسی نہیں ہے۔۔وہ دل کی بہت اچھی ہے۔وہ اس کو صفائی پیش کرتے ہوئے بولی۔

خیر چھوڑو اسے تم اس وقت اپنی اور میری بات کرو۔۔وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولا۔۔اور اس کی گود میں سر رکھے لیٹ گیا۔

کافی دیر اس گھنے شجر کی ٹھنڈی چھاؤں تلے ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد وہ دونوں واپس کلاس میں جا چکے تھے۔

________________________________

زیبی آپی یہ لیں۔

زینب جو لون میں بیٹھی ناول پڑھ رہی تھی ۔اپنے چہرے کے آگے سے کتاب ہٹاتے ہوئے عیبا کی جانب دیکھا ۔۔۔جو اس کو تیل کی بوتل پکڑا رہی تھی ۔۔

یہ کس لئیے۔۔

بتاتی ہوں۔۔وہ زینب کی کرسی کے آگے دو زانوں ہو کر بیٹھی اور پونی سے اپنے بال آزاد کرتے ہوئے بولی۔۔

میرے سر میں بہت درد ہے ۔۔دوائی سے بھی آرام نہیں مل رہا ۔۔اس لئیے آپ میرے سر کی مالش کریں ۔۔

او۔۔اچھا۔۔!!

زینب کہتے ہی اپنے ہاتھوں میں تیل نکال کر عیبا کے سر کی مساج کرنے لگی۔۔

آپی۔۔آپ کے ہاتھوں میں کتنا سکون ہے۔۔

وہ آنکھیں بند کرتے ہوئے بولی۔۔

واؤ یہاں تو ہیڈ مساج چل رہی ہے۔ناجانے وہ دن کب آئے گا جب ہمیں بھی کوئی اپنے ان خوبصورت ہاتھوں سے سر کی مساج کر کے سکون پہنچائے گا۔

بھائی بھول جائیں ابھی وہ دن بہت دور ہے۔

زیبی اس کے بعد میری باری پلیز۔۔

کس خوشی میں ۔۔کوئی نہیں ۔

عیبا احتجاج کرتے ہوئے بولی۔

جس خوشی میں تمہاری ہو رہی ہے اسی خوشی میں ۔۔کیوں بولو زینو کرو گی نا۔

زینب جو ان دونوں بھائی بہن کی لڑائی سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔حذیفہ کے زینو کہنے پر یکدم اس کی جانب دیکھا۔

میں۔۔وہ۔

ایک منٹ میری بہن ہیں وہ اسی خوشی میں کر رہی ہیں۔

عیبا زینب کی بات کاٹتے ہوئے بولی۔

۔بتائیں آپ کی بھی بہن ہیں کیا۔۔

وہ مسکراہٹ دبائے بولی۔۔

استغفر اللہ۔۔!!

زینب اور حذیفہ یکدم بولے۔

عیبا کی بچی تم انسان بن جاو۔زیبی نے

عیبا کے ہاتھ میں پکڑے بال کھینچے۔

آہہہ۔۔۔آپی۔۔!!

تمہیں تو رکو میں بتاتا ہوں۔۔حذیفہ اس کو مارنے کے لئیے اٹھا۔۔وہ اٹھ کر دوسری طرف بھاگنے لگی۔۔بھاگتے بھاگتے سامنے سے آتے وجود سے ٹکرائی۔۔مقابل اس سب کے لئیے تیار نا تھا اس لئیے اس کے ہاتھ میں پکڑا بیگ زمین بوس ہوا۔عیبا نے جب اپنے سے ٹکرائے جانے والی ہستی کو دیکھا تو خوشی اور شاکٹ کے مارے اس کے منہ سے چیخ نکلی۔۔

۔۔۔۔بھیا۔۔۔

وہ منہ پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے چیخی اور فوراً سے ایان کے گلے لگی۔۔

ارے بڈی۔۔کیسا ہے تو۔۔؟

حذیفہ بھی اس سے گلے ملتے ہوئے بولا۔

ٹھیک ہوں بھائی آپ سنائیں۔۔ہم بھی بالکل ٹھیک ہیں ۔۔سامنے ہیں تیرے

۔۔وہ دونوں ہاتھوں کو کھڑا کرتا ہوا بولا۔۔

اسلام وعلیکم۔۔بھائی کیسے ہیں؟زینب نے بھی ملتے ہوئے کہا۔۔

الحمداللہ۔۔

تم سناؤ گڑیا کیسی ہو۔؟

جی شکر ہے۔۔۔وہ اندر جاتے ہوئے بولی۔۔

مما ۔۔چاچی دیکھیں بھیا آئے ہیں۔

عیبا شور مچاتے ہوئے بولی۔

آسلام علیکم۔۔وہ سب بڑوں سے ملتے ہوئے بولا۔۔رانی بیگم تو رو ہی پڑی تھیں آخر ان کا بیٹا تین سال بعد جو لوٹا تھا۔ارے مما آپ رو کیوں رہی ہیں۔۔

پگلے۔۔یہ خوشی کے آنسوں ۔۔ہیں۔۔اتنے سال بعد دیکھ رہی ہوں۔۔وہ اس کے چہرے پر پیار کرتے ہوئے بولیں۔۔

بھائی آپ کی نظریں جس کو ڈھونڈ رہی ہیں۔۔وہ یہاں نہیں ہے۔یونی میں ہے۔۔

عیبا نے اسے اِدھر اُدھر نظر گھماتے دیکھ کہا۔

میں وہ تو میں سیٹینگ دیکھ رہا ہوں کافی بدل گئی ہے۔۔

وہ ایک دم گڑبڑا کر بولا۔۔

جب کے اس کی بات سن کر عیبا کی ہنسی نکل گئی۔

بس کر دیں بھائی۔بہن ہوں آپ کی سب جانتی ہوں۔

بیٹا فریش ہو جاؤ میں کھانا لگاتی ہوں۔

رانی بیگم نے ایان سے کہا۔۔

نہیں مما۔۔کھانا نہیں۔۔میں بس ابھی سوں گا۔۔کھانا رات کو کھاؤں گا۔وہ کہتا سب سے ملتا کمرے میں چلا گیا۔

_________________________________

وہ کمرے کا دروازا کھول کر اندر داخل ہوا۔آج پورے تین سال بعد وہ اس کمرے میں داخل ہوا تھا۔جسے اس کو اپنے شوق اور لگن اپنے جنون کو پورا کرنے کے لئیے چھوڑنا پڑا۔

آج بھی وہ کمرا بالکل ویسا ہی تھا جیسا وہ تین سال پہلے چھوڑ کر گیا تھا۔کمرے میں داخل ہوتے ہی ایک خوبصورت سا بیڈ ،بیڈ کی دونوں طرف خوبصورت ڈیزائن والے سائیڈ ٹیبل جن پر رکھے واس اس کی خوبصورتی کو مزید بڑھا رہے تھے۔

پورے کمرے میں اس کی بچپن سے لے کر یونی تک کی تمام تصویریں موجود تھیں ۔

بیڈ کی دائیں طرف اسٹڈی اور اسٹڈی کے ساتھ چینج روم تھا۔

بیڈ کے بالکل سامنے صوفے موجود تھے۔۔

کمرے کی بائیں جانب ایک چھوٹی مگر خوبصورت بالکنی تھی جس میں ایک لکڑی کی خوبصورت سی کرسی رکھی گئی تھی۔

کمرے میں آنے کے بعد ایک لمبا سانس ہوا میں خارج کیا۔اور اپنے بیگ سے فریم نکال کر دیوار کی زینت بنایا۔

دیوار سے تھوڑا دور ہو کر اس نے ہاتھ باندھ کر دیوار کی جانب دیکھا جس میں اس کی فوجی یونی فارم کی تصویر تھی۔

گندمی رنگت، کالی گہری آنکھیں، کھڑی ناک ہلکی ہلکی بیرڈ ،مونچھوں تلے کٹاؤ دار لب ۔۔اس کی شخصیت میں ایک کشش تھی۔جو دوسروں کو اپنی جانب متوجہ کرتی تھی۔

تصویر لگانے کے بعد الماری میں کپڑے رکھے اور ایک سوٹ لئیے فریش ہونے چلا گیا۔۔

تھوڑی دیر میں فریش ہونے کے بعد بستر پر لیٹتا اپنے عزم کے بارے میں سوچتا آہستہ آہستہ نیند کی آغوش میں چلا گیا۔

_________________________________

مما۔۔مما

ایمرجنسی کیس آیا ہے مجھے ہسپتال جانا پڑے گا میرا سوٹ ریڈی کر دیں ۔

حذیفہ کچن میں آیا جہاں رانی بیگم، سونیا بیگم اور زینب رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھیں۔۔

بیٹا میں تو کھانا کی تیاری کر رہی ہوں۔۔

تھوڑی دیر صبر کر جاو۔ یا پھر عیبا کو بول دو۔۔

مما۔۔عیبا کو بولا ہے وہ اسٹڈی کر رہی ہے۔

آپ کو پتا ہے اگر تنگ کیا تو اس نے سوٹ جلا دینا ہے۔۔

ایسے کیسے۔۔جلا دے گی۔۔رانج بیگم غصّہ کرتے ہوئے بولیں ۔

بھابھی فکر نا کریں پڑھنے دیں بچی کو ۔۔

زینب جاؤ جاکر حذیفہ کو ڈریس ریڈی کر دو۔

زینب جو پیاز کاٹ کر رہی تھی ۔۔ہاتھ روک کر اپنی ماں کی جانب دیکھا۔پھر حذیفہ کی جانب۔جو مسکراہٹ دبائے اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔حذیفہ کی کل کی گئی حرکت یاد کر کے یک دم اس کا دل تیز رفتار سے دھڑکا۔

میں جا رہا ہوں ۔جس نے بھی کرنا ہے پلیز جلدی کر دیں۔۔وہ کہتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔

کیا ہوا تم ابھی تک ہوں ہی مراقبے میں کھڑی ہو ۔۔بچے کو دیر ہو رہی ہے۔۔جکدی جاو۔۔

سونیا بیگم نے اس کو جھڑکا۔۔

جی جارہی ہوں۔۔وہ اپنے دل کی دھڑکنوں پر قابو پاتی اوپر اس کے کمرے کی جانب چل دی۔

کمرے میں داخل ہوئی تو وہ اسے کہیں نظر نا آیا واشروم کی جانب دیکھا جس کا دروازا بند تھا۔وہ شکر کا سانس بھرتی ڈریسنگ روم میں گئی۔وہاں سے بلیک رنگ کی شرٹ نکال کر آئرن اسٹینڈ پر لاکر انہیں آئرن کرنے لگی۔

ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی زینب کو اپنے کندھے پر پانی گرتا محسوس ہوا۔

اس نے اوپر کی جانب دیکھا پھر دماغ میں یک دم کچھ کلک ہوا اور وہ فوراً پیچھے مڑی جہاں حذیفہ اپنی چوڑی جسامت کے ساتھ وائیٹ بنیان مسٹرڈ پینٹ پہنے گلے میں تولیا ڈالے کھڑا تھا۔

آپ کو زرا شرم نہیں ہے۔لڑکی کمرے میں ہے اور آپ یوں باہر آہ گئے ہیں۔وہ اس سے نظریں چراتے ہوئے بولی۔

لو بھلا بیوی سے کون پاگل شرمائے گا۔

وہ اس کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے بولا۔

اور تھوڑا سا اس کی جانب جھکا۔

اس کو یوں خود پر جھکتا دیکھ کر اس کی دل کی دھڑکنوں نے سپیڈ پکڑی تھی۔۔

حذیفہ نے ہلکا سا جھک کر سٹینڈ سے اپنی شرٹ اٹھائی اور پہنے لگا۔

وہ اس کو شرٹ اٹھائے واپس اپنی جگہ پر دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی۔

کیا ہوا تم اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو؟

وہ اس کی حالت سے انجان بنتے ہوئے بولا۔

نہی۔۔نہیں تو۔۔میں بالکل ٹھیک ہوں آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ۔

سائیکٹریس ہوں دیکھ کر پہچان لیتا ہوں۔

وہ کلائی پر گھڑی بانھتے ہوئے بولا ۔

جلد ہی رخصتی ہونے والی ہے۔اپنا ۔ماینڈ ریڈی کر لو۔۔اور مجھ سے گھبرایا نا کرو۔۔

ابھی لیٹ ہو رہا ہوں آہ کر بات کرتا ہوں۔

وہ کہتا کوٹ لئیے ۔۔ اس کے ماتھے پر پیار کر کے ہاتھ سے اس کے گال کو سہلا کر جا چکا تھا۔

جب کہ زینب کا دماغ ابھی تک رخصتی پر ہی اٹکا تھا۔