Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296

Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296 Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 18)

63.3K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 18)

Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj

اس نے پیچھے سے عیبا کو گھیرے میں لیا ۔۔۔۔۔

اور اپنی تھوڈی اس کے کندھے پر ٹکائی۔تھی۔۔۔وہ جو اپنے خیالوں میں مگن تھی مقابل کو اپنے قریب محسوس کیے سانس اٹکا تھا اسکا۔۔

آ۔۔۔آپ۔۔۔ی۔۔یہ ک۔۔کیا کر ر۔۔رہے ہی۔۔ہیں؟؟؟

دور ہٹیں۔۔۔۔!!!!

اس کی سانسیں اپنی گردن پہ پڑتی دیکھ وہ گھبراتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔

م۔۔مجھے گھر چھوڑ آئیں ا۔۔اب۔۔۔۔

دو قدم کا فاصلہ بڑھایا تھا اس نے ۔۔۔جسے مقابل نے اسکو واپس اپنی جانب کھینچ کر مٹا دیا تھا ۔۔۔

کہاں جانا ہے؟؟

شہادت کی انگلی سے اسکا چہرا اوپر کیا ۔

گ۔۔گھر۔۔

مقابل کی جھلسا دینے والی تپش کے باعث بند آنکھوں سے جواب آیا۔

۔یہ بھی تو گھر ہے۔۔۔!؟؟؟

اپنے چہرے کے قریب اس کا چہرا کیا تھا اسنے جس سے عیبا کی پلکوں میں لرزش سی ہوئی تھی ،،،

ن۔۔نہیں۔۔۔میرے اپنے گھر۔۔۔۔

یہ تمہارا ہی گھر ہے ڈئیر وائف !!!

کیونکہ شادی کے بعد شوہر کا گھر ہی عورت کا گھر ہوتا ہے۔۔۔

اس کے بالوں کو کان کے پیچھے اڑستے ہوئے بولا۔۔

چلو شاباش۔۔۔اب فریش ہو جاو۔۔میں کچھ کام نمٹا کے آتا ہوں۔۔

وہ تسلی سے کہتا عیبا کا سکون غارت کر چکا تھا۔۔

زینب کیبنٹ میں برتن ترتیب سے رکھ رہی تھی کہ اسکو زور دار چکر آیا اور لہرا کر زمین بوس ہونے لگی تھی کہ دو مضبوط بازوں نے اس کو سنبھالا تھا۔۔

اس نے خوف سے بھینچی آنکھیں کھول کر دیکھا جہاں اس کا شوہر اس کو اپنی پناہوں میں لیے ہوئے تھا۔۔۔

زیب۔۔۔؟؟

کیا ہوا۔۔تمہیں۔۔۔۔

حذیفہ اس کو کرسی پہ بیٹھاتے ہوئے بولا تھا۔۔

کچھ نہیں بس کل سے چکر سے آر ہے ہیں۔۔۔۔

او۔۔۔گاڈ۔۔سیریسلی۔۔۔!!!

زینو۔۔۔اور تم اب بتا رہی ہو۔۔۔

وہ اپنے ماتھے کو دونوں ہاتھوں سے پکڑے ہنستے ہوئے بولا۔۔۔

آپ کیوں ہنس رہے ہیں۔۔۔؟؟

وہ برا سا منہ بنا کر بولی تھی۔۔۔

کیونکہ ہم مما پاپا بننے والے ہیں۔۔۔

حذیفہ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!وہ اس کے کندھے پر دھموکا رسید کرتے بولی۔۔

زیادہ فری نہ ہوئیں ایسا کچھ نہیں ہے وہ میں نے ناشتہ نہیں کیا تو بس۔۔۔

میری جان۔۔۔الو کسی اور کو بنانا۔۔میں ڈاکٹر ہوں۔۔

وہ اس کو آنکھ مارتے بولا۔۔

کیا ہوا بچوں سب خیریت تو ہے؟؟

رانی بیگم ان دونوں کو یوں بیٹھے دیکھ بولیں۔۔

مما مبارک ہو !!

آپ دادی بننے والی ہیں۔۔۔

وہ زینب کو ٹوکا دیے بولا جبکہ وہ سر جھکائے ہوئے تھی۔۔۔

سچ۔۔۔؟؟

وہ خوشی اور حیرت کی ملی جلی کیفیت میں بولیں تھیں۔۔۔

یس۔۔۔مام۔۔۔۔!!!!!

رانی بیگم نے پہلی فرست میں اسے زینب کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا کہا تھا۔ وہ جو تھوڑی کاہلی دکھا رہا تھا ان کی آنکھیں دکھانے اور گھورنے پر ہنستے ہوئے راضی ہوا تھا۔۔

مسکان جس نے برتن دھوئے تھے ۔۔۔پتی والا پانی باہر موجود درخت پر ڈالنا چاہا تھا اس نے جو عجلت میں پھینکے جانے کی بنا پر نیچے کھڑے شخص پر گرا تھا۔۔۔

روحان جو اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر سامنے موجود گراؤنڈ میں میچ کھیل رہا تھا۔۔تھوڑی دیر کے لئے آرام کی غرض سے درخت کے پاس کھڑا ہوا ۔۔

لیکن اپنے اوپر بن موسم برسات ہوتی دیکھ بھونچکا رہ گیا۔۔۔

اور اوپر بالکونی میں دیکھا جہاں مسکان حیرت سے اپنا منہ اور آنکھیں کھولے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔

روحان اس مال والی پٹاخہ کو دیکھ کر خوش ہوا تھا لیکن اپنی حالت کا سوچ اس کی خوشی ماند ہوئی اپنی حالت پر غور کیے۔۔۔

مسکان جلدی سے بھاگتے ہوئے نیچے آئی اور باہر کھڑے روحان کے پاس گئی۔۔

ائم سوری !!!

میں وہ یہ درخت کو دے رہی تھی۔۔پر غلطی سے آپ پر۔ ؟؟؟

وہ خجالت سے بولی تھی۔۔

اٹس اوکے۔۔۔

بٹ بہت مہربانی ہو گی اگر آپ یہ ۔۔۔۔۔ صاف کروا دیں گی۔۔۔!!!!

وہ سنجیدہ سے لہجے میں بولا ۔۔

جی۔۔۔جی آپ کر لیں ۔۔۔

وہ جلدی سے اس کو صحن میں موجود واشروم میں لے گئی جہاں اس نے اپنے آپ کو صاف کیا تھا۔۔ اور شکر ادا کرتا واپس گراؤنڈ میں ہو لیا۔۔

کہاں رہ گئے تھے۔۔۔؟؟

اس کے دوست اس کو واپس آتا دیکھ بولے۔۔۔

کہیں نہیں۔۔۔۔!!!

وہ نارمل انداذ میں بولا تھا لیکن ذہن پر ابھی بھی مسکان کا چہرا لہرا رہا تھا۔

کیا ہوا ایان آپ کچھ پریشان سے لگ رہے ہیں؟

ایان کو سر ہاتھوں میں گرائے دیکھ رحمت بولی تھی۔۔

کچھ نہیں۔۔۔میں ٹھیک ہوں تم اپنے کام سے کام رکھو۔۔۔

اس کو اگنور کیے وہ باہر کی جانب قدم بھرتے بولا لیکن اپنے پیچھے سے رحمت کی بات سن باہر بڑتے قدم تھمے تھے۔۔

ائم سوری ۔۔۔ایان۔۔!!!!!!!!!!!!!!

ایک نظر پیچھے مڑ دیکھا تھا ایان نے رحمت کو۔۔۔

اور طنزیہ مسکراہٹ سے اس کی جانب دیکھتا باہر نکل گیا تھا وہ۔۔

اس نے جن نظروں سے اس کو دیکھا تھا ۔۔۔ان میں ناراضگی، بے اعتباری اور غم صاف واضح تھا ۔۔۔

جو اس نے خود ان آنکھوں میں پیدا کیں تھیں جہاں کبھی اس کے لئے محبت کا جہان آباد ہوا کرتا تھا۔

پر وہ بھی خود سے فیصلہ کر چکی تھی ۔۔۔کہ اس کو منا کر رہے گی۔۔۔ ان آنکھوں سے بے اعتباری کو سراسر ختم کر دے گی۔۔ اور واپس سے ان میں اپنے لئے محبت اور اعتبار کو جگائے گی۔۔۔

کیا یہ اتنا ہی آساں تھا ؟؟

کیونکہ اعتبار ایک شیشے کی ماند ہوتا ہے جو ایک بار ٹوٹ جائے تو دوبارا جوڑا نہیں جاتا۔۔۔ اگر اس کو جوڑنے کی کوشش

کی بھی جائے تو زخموں کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔۔

اس کے جانے کے بعد عیبا نے فلیٹ کا مین ڈور کھول کر جانا چاہا لیکن اس میں لاک لگا دیکھ کر اس نے عجیب سے منہ بنایا تھا۔۔

پھر اپنی بوریت مٹانے کے لئے اس نے فلیٹ گھومنے کا ارادہ کیا جو کہ کافی بڑا تھا ۔۔۔

تین کمرے ، اوپن کیچن ، گیلری ، اور بڑا سا ٹی وی لاونچ پر مشتمل وہ ویل فیرنشڈ فلیٹ اس کو کافی اچھا لگا تھا۔۔۔

آدھے گھنٹے میں وہ پورے فلیٹ کا جائزہ لے چکی تھی وہ اور اپنی عادت کے بر عکس کچھ کھانے کی نیت سے کیچن میں گئی جہاں فریج میں پڑے پیزے کو دیکھ کر اس کے پیٹ میں چوہے دھوڑے تھے۔۔۔

آرام سے لاونچ میں اس نے پیزا رکھا اور مزے سے اورنج جوس کے ساتھ کھانے لگی ۔۔۔

کہاں مر گئے تھے تم لوگ؟؟

تمہاری زمے داری تھی وہ لڑکی۔۔۔۔

کیسے غائب ہو سکتی ہے وہ۔۔۔۔

اگر میرا کام خراب ہوا تو تم لوگوں کو زندہ نہیں چھوڑوں گی۔۔۔

وہ سامنے کھڑے لڑکے پہ برستے ہوئے بولی۔۔

تقریباً رات کو اپنے باہر کے کام نمٹا کر وہ فلیٹ میں داخل ہوا تو اس کی نظر لاؤنچ میں صوفے پر سوتی عیبا پر گئی جو معصومیت کا پیکر لگ رہی تھی۔۔۔

منہ اس کا ہلکا سا کھلا ہوا تھا بال جو اس کے پونی میں قید تھے اب الجھ کر چہرے پر بکھرے ہوئے تھے۔۔

اس کو ہنسی آئی تھی اس کے کھلے منہ کو دیکھ کر ۔۔۔

آگے بڑھ آرام سے اس کو آپنی بانہوں میں اٹھایا تھا اس نے ۔۔

اور کمرے میں لا کر آرام سے بیڈ پر لٹایا تھا ،

اس کے چہرے پر جھکے محبت سے بوسہ لئے پیچھے ہوا ۔

گہری نیند میں ہونے کے با وجود وہ ہلکا سا کسمسائی تھی۔۔۔

اس کی محبت ، پری آج اس کے پاس تھی یہ بات ہی اس کو سرشار کر رہی تھی۔۔

فریش ہونے کے بعد وہ اس کو اپنی پناہوں میں لیے لیٹ چکا تھا۔۔۔

اور خدا سے سب آسانیاں پیدا کرنے کی دعائیں مانگی تھی۔۔