Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296 Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 14)
Rate this Novel
Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 14)
Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj
مسکان کہاں رہتی ہو آج کل ؟؟
اپنی دادی کو تو مکمل فراموش کر چکی ہو تم؟
مسکان کی دادی صوفے پر بیٹھی مسکان سے شکوہ کیے بولی ۔۔
کہیں نہیں میری پیاری دادو آپ کو میں کیسے بھول سکتی ہوں۔۔
آپ تو میری جان ہیں۔۔وہ ان کی گود میں سر رکھے بولی ۔۔
بس ذیادہ مکڑیاں مت کرو۔۔
سب پتا ہے مجھے دو پل تو ساتھ بیٹھتی نہیں ہو۔ جس دن میں بوڑھی جان چلی گئی نا تو بہت یاد کرنا ہے تم نے۔۔۔
وہ اپنا عینک درست کیے بولیں تھیں جبکہ ان کی بات پر مسکان نے تڑپ کر ان کی جانب دیکھا تھا۔۔
دادو ایسے تو نہ بولا کریں مما بابا کے بعد آپ ہی ہیں جن سے میرا دلی لگاؤ ہے۔۔اگر آپ بھی ایسے کریں گی تو میں کبھی بات نہیں کروں گی آپ سے۔۔
وہ بچوں کی سی معصومیت کے ساتھ روٹھ کر بولی تھی۔۔کہ دادی کو یکدم اس پر پیار آیا تھا۔
بچھڑ گیا ہے تو اب اس کا ساتھ کیا مانگو![]()
ذرا سی عمر ہے اب غم سے نجات کیا مانگوں![]()
وہ ہوتا تو ہوتی ضرورتیں بھی بہت![]()
اکیلی ذات کے لیے میں کائنات کیا مانگوں![]()
مس نور آپ نے کل کیا کیا تھا پبلک پلیس پر؟
سر۔۔ایک نیچ لڑکے کی دھلائی۔
وہ دانت کچکچا کر بولی جیسے وہ لڑکا اس کے سامنے ہو اور اس کا اب بھی بھرتا بنا دے۔
وہ مجھے بھی پتا ہے۔۔بٹ آپ کو دھیان رکھنا چاہیے ہم میشن پر ہیں بہت سے دشمن ہماری تاک میں بیٹھے ہیں۔۔آپ کو اپنا فیس ایسے شو نہیں کرنا ورنہ نظروں میں آئیں گی آپ۔۔
سوری سر اگر میں اس کو سبق نہ سیکھاتی تو اس نے ہر کسی کو ایسے تنگ کرنا تھا اور ہم لڑکیاں کھلونا تو نہیں۔۔جس کا دل چاہے کھیل لیا۔۔۔اینڈ میں نے ماسک ویر کیا تھا۔۔
اوکے گڈ تھینکنگ بٹ آئندہ دھیان رکھیے گا کیونکہ ایک چھوٹی سی غلطی ہماری ٹیم کا بنا بنایا کام بگاڑ دے گی۔۔
انڈراسٹینڈ۔۔؟؟
یس سر۔۔
اوکے گڈ۔۔۔
یہ جو آنکھوں کے گرد ہالے ھیں![]()
ہجر کے مستند حوالے ھیں![]()
تیری آنکھیں تو دیکھتی ہوں گی![]()
میری آنکھوں نے خواب پالے ھیں![]()
ایان کے حکم کے مطابق آج وہ مشین لگا کر بیٹھی کپڑے دھو رہی تھی بیچاری دوپہر کی لگی ابھی شام ہونے والی تھی مگر ابھی تک اس سے صحیح سے کپڑے نہیں دھل پائے تھے۔۔
وہ دل ہی دل میں ایان کو بھی کئی القبات سے نواز چکی تھی اور ساتھ ہی ساتھ متہاہ کو بھی کوس رہی تھی جسکی وجہ سے آج اسکا یہ حال تھا۔۔نہ وہ گھر سے بھاگتی اور نہ اس کو یہ دن دیکھنے پڑتے۔۔
ایان جو تھوڑی دیر پہلے گھر لوٹا تھا رحمت کو کپڑے دھوتا دیکھ کونے میں کھڑا فرست سے اسکا جائزہ لے رہا تھا جو کپڑوں کے ساتھ خود بھی دھل رہی تھی۔۔۔اس کو رحمت کی حالت دیکھ کر ہنسی آ رہی تھی لیکن وہ کمال مہارت سے ضبط کر گیا۔۔
آ۔۔۔چھوں۔۔۔۔آ۔۔۔آ چھوں۔۔۔!!!!
اس کے چھینکنے پر وہ جلدی سے آ گے بڑا تھا ذیادہ دیر پانی میں رہنے کی وجہ سے اس کو ٹھنڈ لگ چکی تھی ۔۔چھینکنے کی وجہ سے اس کی کانچ سی آنکھوں میں پانی آ گیا تھا چھوٹی سی ناک لال سرخ ہو رہی تھی۔۔
چھوڑو اسے۔اور جاو فریش ہو جاو۔۔۔۔اس کے ہاتھ سے کپڑے لے کر بالٹی میں ڈالتے ہوئے بولا۔۔
پر ابھی تو دھلے ہی نہیں۔۔۔
وہ معصومیت سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولی تھی۔۔
بعد میں دھو لینا ، کل بھی ہونی ہے ۔۔۔
بیمار ہو جاو گی تو میری لئے مصیبت ، اپنی پریشانی چھپاتا وہ تلخی سے بولتے ہوئے سامنے کھڑی رحمت کی خوش فہمی ہوا کر چکا تھا۔
رحمت شاور لے کر باہر نکلی تو اتنی دیر میں وہ بھی کافی اور فروٹ کیک بنا کر لاچکا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا ان میڈم نے کپڑے دھونے کے چکروں میں کچھ بنایا نہیں ہونا۔۔۔
یہ لو کافی!! پیو بستر میں بیٹھی رحمت کے آگے چائے کرتے بولا تھا۔۔۔جو اس نے بنا کچھ کہہ تھام لیا۔۔
وہ کافی کے سپ لیتے لیتے اس کے وجیع چہرے کا معائنہ کر رہی تھی۔۔کتنا خوبصورت تھا اس کا پرنس جس کی وہ قدر نہ کر سکی۔۔وہ خود کو ایان کے قابل نہیں سمجھتی تھی۔کاش وہ تلخ لمحات اپنی زندگی سے نکال پاتی ۔۔وہ دونوں آج مکمل زندگی جی رہے ہوتے۔۔
کیا دیکھ رہی ہو؟؟
خود پر رحمت کی نظریں محسوس کیے بولا تھا۔۔
ک۔۔کچھ ن۔۔نہیں !!
وہ گڑبڑا کر بولی تھی جبکہ دل اس کا رونے کو بے تاب تھا۔
ڈین تم مجھے تھوڑا سا وقت دو میں تمہیں مال لوٹا دوں گا۔
نہیں۔۔۔کنگ تم ویسے ہی میرا بہت وقت لے چکے ہو۔۔
اب تمہارے پاس صرف ایک ہفتے کا وقت ہے یا تو مال لوٹا دو یا پھر میری قیمت مجھے بھیجو ورنہ ایک ہفتے بعد تم ہر نیوز پر اپنا چہرہ دیکھو گے جو کہ دنیا سے چھپا ہوا ہے۔۔۔
یاد رکھنا صرف ایک ہفتہ۔۔۔!!!
کہتے ہی ڈین نے فون بند کر دیا تھا۔۔۔
کنگ اب سے تمہارا زوال شروع ہو چکا ہے۔۔
نفرت سے کہتے اس نے فون کو دیکھا تھا۔۔
عیبا کی آنکھ رات کو کوئی چیز گرنے کی آواز سے کھلی اس نے بوجھل آنکھیں کھول کر دیکھا تو ٹیبل پر رکھی کھڑی نیچے گری ہوئی تھی۔۔
وہ سستی سے کھڑی ہوئی اور گھڑی اٹھا کر واپس ٹیبل پر رکھ کر پلٹی ہی تھی کہ سامنے صوفے پر بیٹھے اس نقاب پوش کو دیکھ اس کے حواس صحیح معنوں میں بیدار ہوئے تھے۔
عیبا کی خوف سے جان جانے لگی تھی رات کے اس پہر اجنبی شخص اس کے روم میں۔۔۔
اس کو خود سے یوں خوف زدہ ہوتا دیکھ مقابل کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔
ت۔۔ت۔۔تم ۔۔ی۔۔یہاں ۔ک۔۔کیوں آ۔۔آئے ہ۔۔ہو؟؟
خوف سے کانپتی وہ اٹک اٹک کر بول رہی تھی۔۔
میرے منع کرنے باوجود تم اس لڑکی کے ساتھ پائی گئی۔۔اس کی بات کو یکسر فراموش کیے اس کے گرد گول دائرہ بناتے ہوئے بولا۔۔
میں نے تمہیں وارن کیا تھا کہ اگر اب تم مجھے اس کے ساتھ دیکھائی دی تو اچھا نہیں ہوں گا۔۔
شائد تم نے میری بات کو مزاق میں لیا ہے۔۔
وہ اس کو دیوار کے ساتھ پین کیے بولا
جبکہ عیبا کی زبان کو قفل لگ چکا تھا ۔۔وہ صدمے میں گھری کھڑی تھی کہ ایک نا محرم اس کی کمرے میں ۔۔۔۔۔
جواب دو۔۔۔۔!!!!
انگلی سے اس کا چہرا اوپر کرتے بولا
جو کہ ڈر سے اپنے نین کٹوروں کو جھکائے کھڑی تھی۔۔
جب کوئی کسی کام سے بار بار منع کرے تو سن لیا کرتے ہیں۔ نا فرمانی نہیں کرتے ۔۔
ویسے بھی مجھے فرمانبردار بیوی پسند ہیں۔۔
وہ اس کے چہرے کو نظروں سے دل کی دنیا میں اتارتے بولا۔۔
م۔۔میں۔۔ک۔کب ۔۔بی۔۔ی بیوی۔۔؟؟؟؟
وہ حیرت سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولی۔
ہاہاہاہا۔۔۔ہو۔ نہیں تو بن جاو گی۔۔۔
وہ اس کو بلینک چھوڑے جس راستے سے آیا تھا اسی راستے سے واپس چلا گیا جبکہ وہ پیچھے ابھی تک سن تھی۔۔
