Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296

Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296 Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 1)

63.3K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 1)

Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj

چھوڑ۔۔دو مجھے۔۔۔پلیز رحم کرو مجھ پر۔۔۔جانے دو مجھے۔۔وہ لڑکی روتے ہوئے اس شیطان صفت انسان کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی۔۔

ایسے کیسے جانے دوں ؟

آخر اتنی مشکلوں سے تو چڑیا جال میں پھنسی ہے۔۔وہ مکرو ہنسی ہنستے ہوئے بولا۔۔اور اس کی جانب قدم بڑھائے ۔

جبکہ وہ لڑکی اپنے بچاؤ کے لئیے ادھر ادھر کوئی چیز ڈھونڈنے لگی۔جیسے ہی اس کی نظر شیشے کے جگ پر گئی ۔۔اس نے تیر کی تیزی سے وہ جگ اٹھا کر اپنی جانب بڑھتے اس لڑکے کے سر پر دے مارا۔اور دروازے کی جانب بھاگی۔۔اس سے پہلے کہ وہ دروازے کو کھولنے میں کامیاب ہوتی وہ اس تک پہنچا اس کا بازو پکڑ کے کھینچ کر ایک زور دار تھپڑ لگایا جس سے وہ نیچے گر گئ۔۔سالی تیری اتنی ہمت کہ مجھے مارے گی۔وہ اپنے سر سے نکلتے خون پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔۔قسم خدا کی تجھے اب ایسی جگہ پہنچاؤں گا ۔۔کہ تیری سات نسلیں یاد کریں گی۔وہ غصے کے عالم میں کہتا کمرے سے نکل چکا تھا اور جاتے جاتے دروازا لک کرنا نہیں بھولا تھا۔اس لڑکے کے جانے کے بعد اس نے آس پاس کو جگہ تلاشنی چاہی جس سے وہ باہر جا سکے پر اس کو ایسی کوئی جگہ نظر نہ آئی کیونکہ وہ ایک بند کمرا تھا۔جس میں اوپر کی طرف صرف ایک چھوٹا سا روشن دان تھا۔۔جس سے دن و رات کی خبر کا معلوم ہوتا تھا۔بھاگنے کی کوئی جگہ نا پاکر وہ لڑکی نیچے بیٹھی اپنی بے بسی پر آنسو بہا رہی تھی۔آج جو کچھ بھی تھا جن حالات سے وہ گزر رہی تھی اس سب کی وجہ وہ خود تھی۔یہ خاردار راہ اس نے خود چُنی تھی۔

________________________________

زینب یہ رحمت ابھی تک اٹھی کہ نہیں؟

سونیا بیگم نے کیچن میں کام کرتے ہوئے اپنی بڑی بیٹی زینب سے پوچھا۔۔

نہیں مما ۔۔وہ ابھی تک سو رہی ہے۔۔

ہائے اللہ میں اس لڑکی کا کیا کروں۔ہاتھ سے نکلتی جارہی ہے دن با دن۔۔

زیبی جاؤ ۔۔جا کر اس نالائق کو اٹھاو۔پھر شور مچائے گی۔۔وہ تووے سے پراٹھا اٹھاتے ہوئے بولیں ۔

جی مما۔۔!!

بیٹا۔۔

جی بڑی مما۔۔

وہ جانے لگی تھی کہ رانی بیگم نے اسے آواز دی۔۔یہ کافی حذیفہ کو دے دو گی بیٹا؟

جی۔۔لائیں میں دے دیتی ہوں۔وہ ان کے ہاتھ سے کافی لیتی حذیفہ کے کمرے کی جانب چل دی۔

زینب کافی لے کر حذیفہ کے کمرے میں داخل ہوئی ۔اسے حذیفہ کہیں بھی کمرے میں نظر نہ آیا۔۔واشروم کی جانب دیکھا اس کا دروازہ بھی کھلا تھا۔۔

پتہ نہیں کہا چلے گئے ہیں؟

چلو کوئی نہیں۔۔کافی یہاں رکھ دیتی ہوں۔۔خود ہی پی لیں گے۔وہ خود سے کہتی کافی رکھ کر دروازے کی طرف بڑھ گئی۔

زیبی۔۔۔تم یہاں؟؟

حذیفہ جو ڈریسنگ روم سے چینج کر کے آیا تھا اپنے کمرے میں زینب کو دیکھ کر کوفی حیران ہوا۔۔جبکہ وہ جو باہر جا رہی تھی ۔۔اپنے پیچھے حذیفہ کی آواز سن کر اس کے باہر کی جانب بڑھتے قدم تھمے۔۔

۔جی۔۔وہ آپ کو کوفی دینے آئی تھی۔

وہ حذیفہ کی جانب دیکھتے ہوئے بولی جو کہ گرے ڈریس پینٹ پر ڈارک بلو شرٹ پہنے اس پر ڈاکٹر کوٹ ویر کیے کافی وجیع لگ رہا تھا۔

میری مسسز مجھے کوفی دینے آئی ہیں۔۔

جی۔۔

پر مجھے تو مجھے تو کوئی کوفی نہیں ملی کہاں ہے؟ وہ انجان بنتا ہوا بولا۔۔

وہ وہاں ٹیبل پر رکھی ہے۔۔آپ یہاں نہیں تھے اس لئیے میں نے وہاں رکھ دی۔

اچھا۔۔۔۔۔پر اب میں آہ گیا ہوں۔۔تو کوفی لا کر دو۔وہ بظاہر سنجیدگی سے بولا۔۔

ہننہہہ!! مجھے تو ایسے بول رہے ہیں جیسے خود کے ہاتھ کہیں کرائے پر دے کے آئے ہوں۔۔وہ دل میں سوچتے ہوئے بولی۔۔اور ٹیبل سے کوفی کا کپ اٹھانے لگی۔

یہ لیں۔۔وہ حذیفہ کو کوفی کا کپ پکڑاتے ہوئے بولی۔کپ پکڑتے وقت خذیفہ کا ہاتھ زینب کے ہاتھ سے مس ہوا ۔۔زینب نے جلدی سے اپنا ہاتھ پیچھے کیا۔۔

چلو شکر ہے کوفی دینے ہی صحیح مسسز نے اپنا دیدار تو کروایا۔ورنہ نکاح کے بعد تو تم مجھ سے ایسے چھپتی پھرتی ہو ۔ جیسے میں نے تمہیں کھا جانا ہے۔۔وہ کوفی کا گھونٹ بھرتا اس پر گہری نظر ڈالتے ہوئے بولا۔۔جوکہ اس وقت گرے رنگ کی شلوار کمیز میں ملبوس تھی۔

نہیں۔۔ایسی بات نہیں ہے۔۔وہ دراصل گھر کے کام ہوتے ہیں۔۔ تو بس۔۔

اوو..!! مطلب بہت مصروف ہوتیں ہیں ہماری بیگم۔۔وہ اس کے قریب آتا ہوا بولا۔۔

زینب نے اپنے قدم پیچھے کی جانب لیے۔

وہ۔۔وہ۔۔!! میں جاؤں مجھے رحمت کو بھی اٹھانا ہے۔۔

وہ اس کو اپنے قریب آتے دیکھ گھبرا کر بولی۔۔

اتنی جلدی کیا ہے مسسز۔۔؟

ابھی تو میں نے اسٹارٹ کیا ہے۔۔وہ زینب کو شوخ نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔

بڑے آئے اپنی طرف سے ٹائیگر شروف بن رہے ہیں۔۔وہ دل میں سوچتے ہوئے مسکرانے لگی۔جس سے اس کے دائیں گال کا ڈمپل نمائیاں ہوا۔جو حذیفہ کے دل کی تاروں کو ہلانے کے لئیے کافی تھا۔

حذیفہ نے بے اختیاری طور پر جھک کر اس کے ڈمپل پر ہلکے سے اپنے لب رکھ دیے۔وہ جو اپنی سوچوں میں مگن مسکرا رہی تھی۔اس اچانک ہوئے حادثے پر ایک دم گھبرا گئی۔۔

حذ۔۔حذیفہ۔۔!!! جا۔نا ہے۔۔

جاؤ ۔۔ وہ اسے خود سے گھبراتے دیکھ جانے کی اجازت دیتے ہوئے بولا۔زینب اجازت ملنے پر سیکنڈوں میں وہاں سے غائب ہوئی۔۔۔۔جب کہ اس اچانک ہوئی بے اختیاری پر حذیفہ خود حیران تھا۔

نواب مینشن میں دو فیملیز آباد تھیں۔

نواب صاحب اور سمینہ بیگم کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔بڑا بیٹا ابرار ،چھوٹا بیٹا کاشان اور بیٹی ماہرہ تھیں۔ابرار صاحب جن کی شادی ان کی خالہ زاد رانی بیگم سے ہوئی ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔بڑے بیٹے کا نام حزیفہ تھا۔جوکہ ایک قابل ڈاکٹر کے عہدے پر فائز تھا۔۔

دوسرے بیٹے کا نام ایان تھا ۔جو اپنے شوق اور لگن کے تحت آرمی جوائین کر چکا تھا۔

ان کی بیٹی کا نام اریبہ ہے۔۔سب پیار سے اسے عیبا کہتے ہیں۔جو کہ یونی کی طالبہ ہیں۔۔اور ان دونوں بھائیوں کی جان اپنی جان سے بھی پیاری بہن اریبہ میں بستی ہے۔۔

نواب صاحب کا دوسرا بیٹا کاشان جن کی شادی سونیا بیگم سے ہوئی ۔ان کی دو بیٹیاں تھیں۔۔بڑی بیٹی کا نام زینب اور چھوٹی بیٹی کا نام رحمت تھا ۔ زینب کا نکاح تین مہینے قبل اس کے تایا زاد حذیفہ کے ساتھ ہوا تھا۔جبکہ رحمت کی تعلیم ابھی جاری تھی۔

نواب صاحب کی اکلوتی بیٹی ماہرہ جن کی شادی نواب صاحب کے دوست کے بیٹے محمود سے ہوئی ۔۔ماہرہ بیگم کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھیں۔بڑا بیٹا روحان تھا ۔اور بیٹی کا نام ہانیہ تھا۔

_________________________________

زیبی رحمت کے کمرے میں داخل ہوئی جو کہ دنیا اور جہاں سے بے خبر گھوڑے گدھے بیچ کر سونے میں مصروف تھی ۔

رحمت اٹھ جاؤ گڑیا ۔۔زینب اس کے اوپر سے کمبل کھینچتے ہوئے بولی۔۔

آپی سونے دیں نا۔۔۔

وہ کہتی کشن منہ پر رکھے دوبارہ کروٹ لے چکی تھی۔۔رحمت۔۔۔۔۔اٹھ جاؤ اب۔۔ بس بھی کرو اور کتنا سو گی۔۔ نو بج چکے ہیں پھر کہو گی ۔۔لیٹ ہو گئے۔۔

زینب رحمت کی نقل اتارتے ہوئے بولی۔۔

جبکہ زینب کے بولتے ہی رحمت ہڑبڑاہ کر اٹھی۔۔کیا۔۔۔؟؟

نو بج گئے ہیں۔۔ہائے اللہ آج تو سر چھوڑیں گے نہیں۔۔رحمت کہتے ہی واشروم میں جاکر بند ہو گئ۔۔تقریباً پندرہ منٹ کے بعد وہ فریش ہو کر نیچے آئی ۔جہاں عیبا بیٹھی مزے سے آلو کا پراٹھا کھانے میں مصروف تھی۔۔عیبا ۔۔۔!!

ہم لیٹ ہو رہے ہیں اور تم مزے سے بیٹھی پراٹھا کھا رہی ہو۔۔اسے کافی حیرت ہوئی تھی ۔عیبا کو ایسے بیٹھے دیکھ کر کیونکہ وہ ہمیشہ وقت پر تیار ہو جاتی تھی۔۔

کس نے بولا۔ابھی تو صرف آٹھ بجے ہیں۔۔

کیا ۔۔آپی نے بولا تھا نو بج گئے ہیں۔۔

ہاہاہہاہا۔۔۔زیبی آپی نے ضرور تمہیں اٹھانے کے لئیے کہا ہو گا۔۔

میں تو لیٹ ہونے کی وجہ سے صحیح سے تیار بھی نہیں ہوئی۔وہ اداس ہوتے ہوئے بولی۔۔

مما مجھے بھی دے دیں ناشتی۔وہ عیبا کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی۔یار تم میرے پراٹھے کو نظر لگا رہی ہو۔۔کھانا ہے صاف صاف بول دو۔

میں نہیں کھاتی یہ تم ہی کھاو۔میں نے بھلا تمہاری طرح موٹے تھوڑی ہونا ہے۔وہ شرارتی انداز میں مسکراتے ہوئے بولی۔۔

میں کہاں سے موٹی ہوں۔۔جاکہ آنکھیں چیک کرواؤ اپنی۔

یہ لو نالائق لڑکی خود بھی کبھی کچھ کر لیا کرو۔

سونیا بیگم اس کے آگے ناشتہ رکھتے ہوئے بولیں۔

مما۔۔یار کرتی تو ہوں۔۔صبح صبح دل نہیں چاہتا۔۔نا۔۔یہ کہہ کر وہ ناشتہ کرنے لگی۔

۔تھوڑی دیر میں ناشتہ کرنے کے بعد وہ دونوں گھر سے یونی کے لئیے نکل چکی تھیں۔

________________________________

مے آئے کم ان سر؟

یس کم ان۔

سر آپ نے بلایا۔۔

بیٹھیں میجر ایان ابرار۔

کیپٹن نے میجر ایان کو بیٹھنے کا کہا۔۔

میجر ایان آپ کو یہاں بلانے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کے تمام پچھلے ریکارڈز کو مدد ِ نظر رکھتے ہوئے میں آپ کو ایک کیس سونپنا چاہتا ہوں۔مجھے اس کیس کے لئیے آپ سے قابل بندہ کوئی نہیں لگا۔یہ فائیل ہے آپ اس کیس کو اسٹڈی کریں۔یہ اوپن ہینڈڈ کیس ہے۔۔آپ جس طرح بھی ڈیل کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔۔جس کو اپنے ساتھ رکھنا چاہیں رکھ سکتے ہیں۔

بٹ مجھے رزلٹ ہنڈریڈ پرسنٹ چاہیے ہے۔

یس سر میں ضرور آپ کی امیدوں پر پورا اتروں گا۔یہ کہہ کر وہ اپنے بھاری بوٹ اٹھاتے ہوئے آفس سے جا چکا تھا ۔