Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296

Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296 Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 19)

63.3K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 19)

Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj

عیبا کے اٹھنے سے پہلے وہ صبح جا چکا تھا۔۔ اس کی آنکھ

کھلی تو اس نے کمرے کو ویران پا کر عجیب سا منہ بنایا تھا ۔۔۔

اسے اپنے کل بنے گئے شوہر پر بے حد غصہ آ رہا تھا۔۔

جس نے اس سے جھوٹا وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے گھر چھوڑ آئے گا۔۔مگر اب خود ہی غائب ہو چکا تھا۔۔

________💕__________💕

نواب ہاوس میں سب بے حد خوش تھے ۔۔ان کے گھر میں بھی کوئی چھوٹی دنیا آنے والی ہے۔۔۔۔ حذیفہ کے تو خوشی کے مارے

پیر زمین پر نہیں ٹک رہے تھے

۔۔ سب گھر والے زینب کو دعائیں دے رہے تھے۔۔۔ جبکہ رانی بیگم اور سونیا بیگم نے پیار کے ساتھ ساتھ ڈھیر ساری ہدایتیں کیں۔۔۔

ان سب کے جانے کے بعد حذیفہ نے کھینچ کر زینب کو شدت سے اپنے گلے لگایا تھا اور محبت کی کا لمس اس کی پیشانی پر دیا۔

اس کی محبت سے بھرے انداز میں وہ خود میں ہی سمٹی تھی۔۔

میں بہت بہت زیادہ خوش ہوں زیب۔۔ اب ہماری زندگی مکمل ہونے جا رہی ہے۔۔

۔اور میں چاہوں گا۔ آج کی زندگی کا آغاز ہم خدا کی بارگاہ میں ایک ساتھ حاصل ہو کر کریں۔۔۔

کہتے اس نے زینب کو پیار سے اپنی بانہوں میں اٹھایا تھا اور وضو کروانے لے کر گیا جبکہ وہ سٹپٹائی تھی۔۔

ح۔۔حز۔۔حذیفہ میں خود چل سکتی ہوں۔۔

گویا اس کو یاد دلایا گیا ہو میری ٹانگیں سلامت ہیں۔۔

جانتا ہوں بیگم۔

مگر جب تک میں گھر پہ ہوں۔۔ اتنا تو کر ہی سکتا ہوں۔۔

وہ محبت سے گویا ہوا تھا۔۔

وضو کے بعد دونوں نے ایک ساتھ مل کر نماز ادا کی تھی۔۔

اس کا مالک کا شکر ادا کیا جنہوں نے انہیں اتنی ڈھیروں خوشیاں دیں تھیں۔۔

___________💕_________💕

شہر کی مشہور یونیورسٹی میں آج چھاپا پڑا تھا ۔۔۔ہر طرف افراطفری چھائی ہوئی تھی۔۔

لائبریری کے اندر بنائے گئے خفیہ راستے کے زریعے میر اور اس کے کچھ ساتھی میڈیا اور پولیس کے ساتھ داخل ہوئے جہاں پر یونی کے ہی کچھ اسٹوڈنٹس کو قید کیا گیا تھا ۔۔۔

اور دوسری جانب بنے گواڈاون میں ڈرگس کی وافر مقدار رکھی گئی تھی جو منتخب اسٹوڈنٹس کو کینٹین کے لنچ میں ملا کر دی جاتی تھی۔۔۔ اور ان کو اس منحوس چیز کا عادی بنایا جاتا رہا۔۔۔۔

پرنسل ، لائبریرین اور کینٹین انچارج اور کچھ ٹریپرز کو اپنی ہراسات میں لے لیا گیا تھا۔

__________💕________________💕

عیبا بہت بور ہو رہی تھی۔۔۔ بھوک کے احساس سے اس نے کیچن کا رخ کیا تو خالی فریج کو دیکھ اس نے منہ بنایا تھا۔۔۔

بھوک کی وجہ سے اس کو چوہے گدھے گھوڑے سب پیٹ میں دھوڑتے محسوس ہوئے۔۔

اور وہ وہیں بیٹھ کر رونے لگی تھی۔۔۔

وہ جو ابھی فلیٹ کھول کر اندر داخل ہوا تھا کسی کے رونے کی آواز سنتا وہاں تک آیا جہاں عیبا پیٹ پکڑے اس کو روتی ہوئی نظر آئی۔۔

ہاتھ میں موجود سامان کو جلدی سے ٹائل پہ رکھا اور وہ پریشانی سے اس تک آیا تھا۔۔۔

کیا ہوا عیبا جان۔۔۔؟؟؟

ب۔۔بھوک لگی ہے۔۔ م۔۔مگر فریج میں کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔

وہ بہتی آنکھوں سمیت معصومیت سے بولی ۔۔

افف۔۔۔ اسلئے رو رہی ہو؟؟؟

ایم سوری۔۔ میرے ذہن میں نہیں رہا۔۔ پر میں باہر سے لے آیا ہوں۔۔۔

وہ اس کو اٹھائے اپنے ساتھ لاونچ میں لایا تھا۔۔

واو۔۔۔

حلوہ پوری کو دیکھ اس کی آنکھیں چمکی تھی جبکہ اس کی خوشی پہ اس کے لب مسکرائے تھے۔۔۔

ویسے آپس کی بات ہے۔۔

آپ اس فلیٹ میں اکیلے رہتے ہیں کیا؟؟

آپ کے مما بابا کہاں ہیں۔۔؟؟؟

تھوڑا سا اس کی جانب جھکے حلوہ پوری سے صحیح انصاف کرتے بولی تھی وہ۔۔

ہہہمم۔۔۔

میرے مما بابا تمہاری دادا دادی کے پاس ہیں۔۔

وہ سنجیدگی سے بولا تھا۔۔

ہیں۔۔۔ ؟

یہ کب ہوا۔۔؟؟؟؟

مطلب ان کے پاس ت۔۔۔

وہ اپنی دھن میں کہتی رکی تھی کچھ یاد آنے پر۔۔

میرے دادا دادی تو اللہ میاں کے پاس ہیں۔۔

اس کو گھوری سے نوازتے ہوئے کہا تھا اس نے جس پر ایک جاندار قہقہہ نکلا تھا اس کا۔۔عیبا کی حالت پر۔۔۔

ہاں تو یہ ہی سمجھ لو۔۔ میرے مما بابا بھی ان ہی کے پاس ہیں۔۔

مجھے گھر کب چھوڑ کے آئیں گے۔۔؟؟؟

اب چپ چاپ کھاو اور مجھے کام کرنے دو۔۔بنا اس کی بات کا جواب دیے وہ جا چکا تھا۔

کھڑوس۔۔

___________💕_____________💕

درمیانی عمر کی عورت ہاتھ میں موبائل لئے بے صبری سے دروازے کی جانب نگاہ کیے ہوئے تھیں۔۔ ایسے جیسے کسی کا انتظار کر رہی ہوں۔۔

کیا ہوا ماں۔۔ دروازے میں کیوں کھڑی ہو؟؟

وہ جو کال سن کر ابھی باہر آیا تھا اپنی ماں یو ٹہلتے دیکھ کر بولا۔۔

متہاہ ۔۔بیٹا ماریہ ابھی تک گھر نہیں لوٹی نجانے کہاں رہ گئی ہے۔۔؟؟؟

ورنہ اس وقت تک تو آ جایا کرتی ہے۔۔۔

وہ عورت پریشانی سے ٹہلتے ہوئے بولی تھیں۔۔

کچھ نہیں ہوتا آپ پریشان نہ ہو ۔۔ میں دیکھتا ہوں۔۔۔

وہ باہر جا چکا تھا۔۔۔

اپنے اسر و رسوخ سے معلوم کرنے کے باوجود بھی اس کو کچھ معلوم نہ ہوا تھا۔۔ وہ پریشانی سے یہاں وہاں کے چکر کاٹ رہا تھا۔۔۔

_____________💕_________💕

ایان جب شام کو گھر میں داخل ہوا تو معمول سے ہٹ کے خاموشی تھی۔۔۔

رحمت۔۔۔!!!

اسکو آواز لگائے وہ کمرے میں داخل ہوا جبھی کوئی موم سا وجود اس کے سینے سے لپٹا تھا۔۔۔ایان کا سانس تھما تھا لمحے کے لئے۔۔

رحمو۔۔۔

آئی لو یو پرنس۔۔۔۔

پلیز مجھے معاف کردیں۔۔۔

میں اب کبھی آپ کو تنگ نہیں کروں گی ۔۔

اس کے وجود سے لپٹی دھیمی سی آواز میں وہ اپنی محبت کا اظہار کیے۔۔ ساتھ کی گئی غلطیوں کی معافی مانگ رہی تھی۔۔

ایان کو ایک خوشگوار سی حیرت ہوئی تھی رحمت کے اس انداز پر۔۔۔

ہہممم۔۔۔

تو میری پرنسس مجھ سے معافی مانگ رہی ہیں۔۔۔

شہادت کی انگلی سے اس کا چہرا اوپر کیا۔۔۔

ج۔۔جی۔۔۔۔

معافی تو پھر سزا کے ساتھ دی جاتی ہے۔۔۔ بقول میرے۔۔

اندھیرے کمرے میں صرف موم بتیاں ہی جل رہی تھیں جو کہ رحمت کی خود کی کارستانی تھی۔۔۔

ک۔کیسی سزا۔۔؟؟

حیرانگی سے اس نے آنکھیں اٹھائی تھیں اپنی۔۔۔

نیم تاریک کمرے میں فسوں خیز سا منظر چھایا تھا۔۔ اوپر سے شور کرتی دونوں کی دھڑکنے۔۔۔

میری سزا۔۔۔۔

کہتے ہی خاموش کروا چکا تھا وہ رحمت کو اپنے طریقے سے ۔۔۔

حیرت کی زیاتی سے آنکھیں کھلی تھیں اسکی۔۔۔

رحمت کے لال ہوتے چہرے پر نظریں گاڑے پیچھے ہوا تھا وہ اور پر شوق نظروں سے دیکھتا آنکھوں کے رستے دل میں اتار رہا تھا۔۔۔

کیا میرا ساتھ قبول ہے تمہیں؟؟

بالوں کی لٹ کو کانوں کے پیچھے اڑسا تھا۔۔۔

ج۔۔جی۔۔

جھجھک کر کہتی اس نے ایان کے ماتھے پہ بوسہ لیا تھا۔۔

ایان کے پورے وجود میں ایک سکون سا اترا تھا اسے اس کی پرنسس اسے مل چکی تھی وہ لوٹ کر آ چکی تھی۔۔۔

نیچے جھک کر اس نے رحمت کو اپنی بانہوں میں اٹھایا تھا ۔۔۔

اس نے بھی مسکرا کر اپنا سر اسے کے سینے پر ٹکایا۔۔۔۔

وہ اپنے پیار ، اپنی محبت سب اپنی محرم پر ظاہر کر رہا تھا جو اس نے بچپن سے اس کے لئے سمیٹی ہوئی تھی۔۔۔

آسمان میں چمکتا چاند ، فضا میں چلتی ہوائیں سب ان دونوں محبت کرنے والے جوڑے کے ملن پر بے حد خوش تھے۔۔۔

اس نے پوچھا چاند خوبصورت ھے

❤یا۔۔۔۔تمھارا۔۔۔۔عشق❤

میں نے کہا میں۔۔نہیں جانتا مگر

تم کو۔۔۔۔دیکھتا۔۔۔۔ھوں تو

چاند۔۔۔بھول۔۔۔جاتا ھوں اور

چاند کو دیکھتا ھوں تو تم یاد آتے

______________💕_____________💕

چھوڑ رو مجھے پلیز جانے دو۔۔۔

آہہہہہ۔۔۔

بچاو۔۔۔۔مما ۔۔۔ بھائی۔۔۔۔

وہ لڑکی روتی خود کو ان حیوانوں سے بچانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔جو کہ کب سے اس کی عزت کو برباد کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

۔ جبکہ وہ اس لڑکی کی بے بسی کا مذاق اڑ رہے تھے۔۔۔

ہاہاہاہاہا۔۔۔

کوئی نہیں آئے گا۔۔۔۔۔۔ڈارلنگ۔۔۔

ن۔نہیں۔۔۔۔وہ دوسرے اوباش کو اپنے پاس آتے دیکھ نفی میں سر ہلاتے بولی۔۔ وہ نیم بے ہوش سی ہو گئی تھی۔۔۔چیخ چیخ کر اس کا گلا سوکھ چکا تھا۔۔۔

متہاہ جو اپنے دوستوں کے بلانے پر وہاں آیا تھا۔۔۔

کمرے سے آتی دلخراش چیخوں کی آواز سن کر وہاں گیا تھا

لیکن زلزلوں کی ضد میں آیا تھا وہ اندر پہنچتے ہی جب اس نے اپنی ہی بہن کی اجڑی ہوئی حالت دیکھی تھی۔۔۔۔

ب۔۔بھ۔۔۔بھائ۔۔۔بھائی۔۔۔۔

اٹ۔۔۔اٹک اٹک کر ک۔۔کہا تھا اس کی بہن نے جب متہاہ کو وہاں دیکھا تھا اس نے اور گردن اس کی ایک جانب لڑھک چکی تھی۔۔۔

وہ اپنے آنسوں کو روکتا اس تک آیا تھا بھاگ کر اور اس کے بر ہنا وجود جو ڈھکا تھا۔۔۔۔۔

کتنی ہی بہنوں ، بیٹیوں کی عزت اجاڑی تھی اس نے اور وہی سب تکلیف سے آج اس کی اپنی بہن گزری تھی۔۔۔

اس کے ناکردہ گناہوں کی سزا اس کی معصوم بہن کو ملی تھی جو معض ابھی پندرہ سال کی تھی۔۔۔۔

ر۔۔رف۔۔۔۔رفت۔۔۔۔۔۔۔گڑیا آ۔۔۔آنکھیں کھولو۔۔۔

آنسوں مسلسل اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔۔۔

وہ اس کا چہرا ہاتھوں میں بھرتے ہوئے بولا تھا۔۔

رفت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔اس کے وجود کو خود میں بھینچا تھا اس نے۔۔۔

آج اسے اس تکلیف کا احساس ہو رہا تھا ۔۔۔۔

تمہارے ہر ایک مجرم کو سزا ملے گی۔۔۔ ہر ایک کو۔۔

جن میں سے میں بھی ایک ہوں۔۔ یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔

وہ خود سے عہد کرتا بے دردی سے اپنے آنسوں پونچھ چکا تھا۔۔اور بہن کو لئے گاڑی میں ڈالا تھا۔۔

اس لمحے اس کو کسی چیز کو ہوش نہیں تھا ۔۔

جب وہ اپنی بہن کی لاش لئے گھر میں داخل ہوا تھا کہرام سا مچ گیا تھا پورے گھر میں اس کی ماں کی دنیا اجڑ چکی تھی اپنی بیٹی کی اجڑی حالت دیکھ۔۔۔

وہ کونے میں کھڑا خود کو اس سب کی وجہ گردان رہا تھا۔۔

وہ سب کچھ نظر انداز کرتا وہاں سے جا چکا تھا۔۔۔

______________💕____________💕

___________💕___________💕