Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj Readelle50296 Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 8)
Rate this Novel
Na Meharam Ki Muhabbat (Episode 8)
Na Meharam Ki Muhabbat By Saira Arooj
خوبصورت پھولوں کے درمیان ،وہ پری لال رنگ کی خوبصورت ساڑی میں ملبوس اپنے شہزادے کی بانہوں میں بانہیں ڈالے اس کے گلے کا ہار بنی ہوئی تھی۔۔
۔۔دائیں طرف آبشار بہہ رہی تھی۔۔پورے باغ میں تتلیاں اور پنچھی اڑتے ہوئے اپنا رقص دکھا رہے تھے۔۔
باغ میں رکھے مختلف اقسام کے پھول ،ان سے نکلتی مہک ان دونوں کو بہت بھا رہی تھی۔۔۔
وہ دونوں اس خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہوتے ایک دوسری کی محبت میں گم تھے۔۔۔
لیکن یہ کیا۔۔۔۔!!!
منظر ایک دم بدلنا شروع ہوا۔۔۔کسی نقاب پوش شخص نے اس شہزادے کے سینے میں تیز دھار والا چاقو پیوست کیا۔۔سفید رنگ کا کوٹ پینٹ لال رنگ میں تبدیل ہو گیا۔۔۔
نقاب پوش۔۔ اس معصوم شہزادی کا ہاتھ تھامے شہزادے سے دور لے جارہا تھا۔۔۔
وہ چیختے ہوئے اپنے شہزادے کو پکار رہی تھی۔۔لیکن وہ سن نہیں پا رہا تھا۔۔۔آہستہ آہستہ وہ اپنے شہزادے سے دور ہوتی گئ۔۔
سہانے موسم کی جگہ اب ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔۔۔پانی کی آبشار کی جگہ وہاں اب خون کی آبشار بہہ رہی تھی۔۔۔پھول ان دونوں کی جدائی پر مرجھا گئے تھے۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔۔
وہ ایک دم نیند میں سے گھبرا کر اٹھی اور اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں یہ جان کر شکر ادا کیا کہ وہ اس وقت اپنے کمرے میں موجود ہے۔۔
اس کا چہرا پورا پسینے میں بھیگ رہا تھا۔۔
نہیں۔۔۔میں ایسا نہیں ہونے دوں گی۔۔میں۔۔میں تمہاری زندگی سے بہت دور چلی جاوں گئی۔۔۔
وہ اپنا چہرا ہاتھوں میں بھرے روتے ہوئے بولی۔۔
______________________
آج زینب اور رحمت کی رخصتی تھی۔۔ہر طرف رونق ہی رونق تھی۔۔ہر کوئی اپنی باتوں میں مصروف تھا۔۔کچھ لوگ ڈانس کر رہے تھے ،جبکہ کچھ سیلفیاں لینے میں مگن تھے۔۔
لڑکیوں جلدی کرو کتنی دیر لگاو گی۔۔باہر سب انتظار کر رہے ہیں۔۔جی مما زیبی آپی تیار ہیں آپ انہیں لے جائیں۔۔
رحمت کو میں لاتی ہوں۔۔
زینب رانی بیگم کے ہمراہ نیچے گارڈن میں آئی جہاں تقریب منعقد کی گئی تھی۔۔۔حذیفہ جو اپنے کولیگ کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا اس دشمن ِ جان کو آتا دیکھ سِٹل ہوگیا۔۔۔پہلی بار اس نے زینب کو اتنے ڈارک میک اپ میں دیکھا تھا۔۔
ایک منٹ۔۔ایک ۔۔منٹ۔۔۔!!
رانی بیگم اور زینب کے اسٹیج پر بڑتے قدم تھمے۔۔۔جب ان کو اپنے پیچھے سے عیبا کی آواز آئی۔۔
ایسے کیسے آپ آپی کو اوپر لے کر جا رہی ہیں۔۔؟؟
ادھر آئیں بھائی۔۔۔
آپ آپی کا ہاتھ پکڑ کے اسٹیج پر بیٹھائیں۔۔
وہ حذیفہ کا ہاتھ پکڑ کے اس کو اسٹیج تک لائی اور کسی بڑی اماں کی طرح اس کو سمجھاتے ہوئے بولی۔۔
عیبا کی بات سن کر سب ہنسے تھے۔۔جبکہ ایک شخص عیبا کو چاہٹ لٹاتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
ارے ایسے کیسے؟؟
وہ جیسے ہی زینب کا ہاتھ پکڑنے لگا عیبا نے پھر سے چیخ کر سب کو اپنی جانب متوجہ کیا۔۔
اب کیا ہے میری ماں؟؟
وہ زیچ ہو کر بولا۔۔۔
پہلے 10,000 نکالیں۔۔۔؟؟
وہ اپنے حِنائی ہاتھ آگے کرتے بولی۔۔۔۔
کون سے 10,000 ؟؟وہ آئبیرو اچکاتے ہوئے بولا۔۔۔
یہ اسٹیج چڑھائی کی رسم جو آپ کر رہے ہیں ۔۔اس کے!!!!۔۔
او مطلب تم رومی بن رہی ہو؟؟؟
جی نہیں۔۔۔میں کوئی رومی(عشقکیا ڈرامے کی ہیروئین) نہیں بن رہی ۔۔۔چلیں اب جلدی دیں۔۔مجھے ابھی ایان بھائی کی بھی باری آنی ہے۔۔وہ اپنی دونوں آنکھیں پٹپٹا کر بولی۔۔
عیبا تم میری بہن ہو؟؟ اور جہاں تک میرا خیال ہے یہ رسم رحمت گڑیا کو کرنی چاہیے۔۔۔
حذیفہ اپنی بہن کی چالاکی پر اسے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے بولا۔۔
ہاں۔۔تو۔۔رحمو تو خود دلہن بنی ہے اسلیئے یہ کام میں سر انجام دے رہی ہوں۔۔
وہ شانوں سے اپنا ڈوپٹہ سیٹ کر کے ایک ادا سے بولی۔
اپنی بہن کی اس لوجیک پر اسٹیج پر کھڑا حذیفہ عش عش کر اٹھا۔۔۔
پندرا منٹ کی مزید بحث کے بعد حذیفہ نے عیبا کو اسکی مطلوبہ رقم دی۔۔جسے لیتے ہی اس نے خوشی کا نعرا مارا اور ساتھ ہی ایان کو بھی پیسے تیار رکھنے کا اشارا کرتی رانی بیگم کے پاس کھڑی ہو گئی۔۔
حذیفہ نے زینب کا مہندی لگا ہاتھ تھاما اور اسٹیج پر لا کر بیٹھایا جب کہ پیچھے سب بیٹھے ہوٹنگ کر رہے تھے۔۔
حذیفہ نے ایک نظر اپنی متاعِ جاں پر ڈالی جس کی پلکیں شرم اور جھجھک کے باعث جھکی ہوئی تھیں۔۔
عیبا جاو رحمت کو لے آو۔۔۔۔۔۔۔۔
او شٹ!
رانی بیگم کی بات سن کر اس نے زور سے اپنا ہاتھ اپنے ماتھے پر مارا۔۔۔
کیا ہوا؟؟
رحمو نے مجھ سے پانی مانگا تھا اور میں پاگل ان سب ڈراموں میں لگ گئی۔۔کہتے ہی اس نے کیچن میں دوڑ لگائی اور پانی لے کر اوپر کمرے کی جانب گئی۔۔
عیبا نے اندر جانے کے لئیے دروازے کا ناب گھمایا ۔۔۔وہ اندر سے لاک تھا۔۔۔
______________________
فارم ہاوس میں سب فنکشن انجوائے کرنے میں مصروف تھے۔۔پورا فارم روشنیوں اور پھولوں میں نہا رہا تھا۔۔
ایسے میں فارم ہاوس کی بیک سائڈ پر جہاں روشنی کم ہی آر ہی تھی۔۔
ایک ہیولہ کسی سے فون پر محو گفتگو تھا۔۔۔
کام ہو گیا ہے۔۔
اوکے گڈ۔۔
اسے سیدھا خفیا اپارٹمنٹ میں لے جاو۔اور دھیان رہے کسی کی نظروں میں مت آنا۔۔
جیسا آپ کا حکم۔۔بھروسہ رکھیں۔۔
فارم ہاوس کی بیک سائڈ میں ایک ہیولہ کسی سے فون میں محو گفتگو تھا۔۔۔۔۔۔۔
